مناقب کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 45 · 359 hadiths · Page 2 of 18

3625Sunan At-Tirmidhi

نبی اکرم ﷺ کے معجزات اور خصوصیات کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَدَاوَلُ فِي قَصْعَةٍ مِنْ غَدْوَةٍ حَتَّى اللَّيْلِ يَقُومُ عَشَرَةٌ، وَيَقْعُدُ عَشَرَةٌ، قُلْنَا: فَمَا كَانَتْ تُمَدُّ، قَالَ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَعْجَبُ مَا كَانَتْ تُمَدُّ إِلَّا مِنْ هَاهُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى السَّمَاءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو الْعَلَاءِ اسْمُهُ: يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ.

سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک بڑے برتن میں صبح سے شام تک کھاتے رہے، دس آدمی اٹھتے تھے اور دس بیٹھتے تھے، ہم نے (سمرہ سے) کہا: تو اس پیالہ نما بڑے برتن میں کچھ بڑھایا نہیں جاتا تھا؟ انہوں نے کہا: تمہیں تعجب کس بات پر ہے؟ اس میں بڑھایا نہیں جاتا تھا مگر وہاں سے، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی جانب اشارہ کیا ١ ؎۔

Sayyidina Samurah ibn Jundub narrated: We were with the Prophet ﷺ once. We ate from a bowl from morning to night, ten would get up and ten would take the seat. The narrator said that they asked Samurah, “Was not the bowl replenished?” He said, “With what are you surprised? It was not replenished but from here,” and he pointed to the heaven. [Ahmed 201551]

صحيح، المشکاة (5958)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3625
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ کی طرف سے معجزانہ طور پر کھانا بڑھایا جاتا رہا، یہ آپ ﷺ کے نبی ہونے کی دلیل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف: ٤٦٣٩) (صحیح)
3626Sunan At-Tirmidhi

نبی اکرم ﷺ کے معجزات اور خصوصیات کے متعلق

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، فَخَرَجْنَا فِي بَعْضِ نَوَاحِيهَا، فَمَا اسْتَقْبَلَهُ جَبَلٌ وَلَا شَجَرٌ إِلَّا وَهُوَ يَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، وَقَالُوا: عَنْ عَبَّادٍ أَبِي يَزِيدَ، مِنْهُمْ فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مکہ میں تھا، جب ہم اس کے بعض اطراف میں نکلے تو جو بھی پہاڑ اور درخت آپ کے سامنے آتے سبھی السلام علیک یا رسول اللہ کہتے۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib narrated: I came forth with the Prophet ﷺ through the suroundings of Makkah. Every rock and tree welcomed him, saying, “Peace be on you, O Messenger of Allah.” --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، المشکاة (5919 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3626
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- کئی لوگوں نے یہ حدیث ولید بن ابی ثور سے روایت کی ہے اور ان سب نے «عن عباد أبي يزيد» کہا ہے، اور انہیں میں سے فروہ بن ابی المغراء بھی ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: فروہ بن ابی المغراء معدی کرب، کندی، کوفی استاذ امام بخاری، امام ابوحاتم رازی، امام ابوزرعہ رازی، متوفی ٢٢٥ ھ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠١٥٩) (ضعیف) (سند میں عباد بن یزید مجہول، اور ولید بن ابی ثور ضعیف اور سدی متکلم فیہ راوی ہیں)
3627Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ إِلَى لِزْقِ جِذْعٍ وَاتَّخَذُوا لَهُ مِنْبَرًا، فَخَطَبَ عَلَيْهِ فَحَنَّ الْجِذْعُ حَنِينَ النَّاقَةِ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَّهُ فَسَكَنَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ، عَنْ أُبَيٍّ، وَجَابِرٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأُمِّ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ أَنَسٍ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، پھر لوگوں نے آپ کے لیے ایک منبر تیار کردیا، آپ نے اس پر خطبہ دیا تو وہ تنا رونے لگا جیسے اونٹنی روتی ہے جب نبی اکرم ﷺ نے اتر کر اس پر ہاتھ پھیرا تب وہ چپ ہوا ١ ؎۔

Sayyidina Anas ibn Maalik reported that Allah’s Messenger ﷺ used to deliver sermon reclining on the trunk of a palm tree. The sahabah (RA) chose a pulpit for him and he delivered a sermon from it, but the trunk wept like the weeping of a she-camel. So, he descended and stroked it and it ceased to weep.

صحيح، ابن ماجة (1415)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3627
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس والی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں ابی، جابر، ابن عمر، سہل بن سعد، ابن عباس اور ام سلمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ آپ کے نبی ہونے کی دلیلوں میں سے ایک اہم دلیل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٩٤)، و مسند احمد (٣/٢٢٦، ٢٩٣) (صحیح)
3628Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: بِمَ أَعْرِفُ أَنَّكَ نَبِيٌّ ؟ قَالَ: إِنْ دَعَوْتُ هَذَا الْعِذْقَ مِنْ هَذِهِ النَّخْلَةِ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَنْزِلُ مِنَ النَّخْلَةِ حَتَّى سَقَطَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: ارْجِعْ ، فَعَادَ فَأَسْلَمَ الْأَعْرَابِيُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا: کیسے میں جانوں کہ آپ نبی ہیں؟ آپ نے فرمایا: اگر میں اس کھجور کے درخت کی اس ٹہنی کو بلا لوں تو کیا تم میرے بارے میں اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دو گے؟ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا تو وہ (ٹہنی) کھجور کے درخت سے اتر کر نبی اکرم ﷺ کے سامنے گر پڑی، پھر آپ نے فرمایا: لوٹ جا تو وہ واپس چلی گئی یہ دیکھ کر وہ اعرابی اسلام لے آیا ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that a villager came to Allah’s Messenger ﷺ and asked, “How do I know that you are a Prophet?” He said, “If I summon this bunch from this date tree, asking if it testifies that I am Allah’s Messenger?” So, he summaned it. It come down from the tree, dropped before the Prophet ﷺ . Then he commonded it, “Return.” So it returned and the villager submitted in Islam. [Ahmed 1954] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، المشکاة (5926 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3628
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٤٠٧) (صحیح) (لیکن ” فأسلم الأعرابي “ کا لفظ ثابت نہیں ہے، سند میں محمد بن اسماعیل سے مراد امام بخاری ہیں، اور محمد بن سعید بن سلیمان الکوفی ابو جعفر ثقہ ہیں، لیکن شریک بن عبداللہ القاضی ضعیف ہیں، شواہد کی بنا پر حدیث صحیح ہے، فأسلم الأعرابي یعنی اعرابی مسلمان ہوگیا، کا جملہ شاہد نہ ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، الصحیحة ٣٣١٥)
3629Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بُنُ بَشَارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا عَلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدِ بْنُ أَخْطَبَ، قَالَ: مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى وَجْهِي وَدَعَا لِي ، قَالَ عَزْرَةُ: إِنَّهُ عَاشَ مِائَةً وَعِشْرِينَ سَنَةً وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ إِلَّا شَعَرَاتٌ بِيضٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو زَيْدٍ اسْمُهُ: عَمْرُو بْنُ أَخْطَبَ.

ابوزید بن اخطب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے چہرے پر پھیرا اور میرے لیے دعا فرمائی، عزرہ کہتے ہیں: وہ ایک سو بیس سال تک پہنچے ہیں پھر بھی ان کے سر کے صرف چند بال سفید ہوئے تھے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Zayd ibn Akhtab (RA) narated: Allah’s Messenger ﷺ stroked my face with his hand and prayed for me. Azrah reported that he went on to live for a hundred and twenty years and there were not on his head but a few white hair. [Ahmed 22953] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3629
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- ابوزید کا نام عمرو بن اخطب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسا آپ ﷺ کے ابوزید کے چہرے پر اپنا دست مبارک پھیرنے اور دعا کی برکت سے ہوا، یہ آپ ﷺ کے نبی ہونے کی دلیل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٦٩٧) (صحیح)
3630Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: عَرَضْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ: لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ، فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ، ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ فِي يَدِي، وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَيْهِ، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ، قَالَ: فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ ؟ ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بِطَعَامٍ ؟ ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ: قُومُوا ، قَالَ: فَانْطَلَقُوا، فَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ، وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ، قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ ؟ ، فَأَتَتْهُ بِذَلِكَ الْخُبْزِ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُتَّ وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ بِعُكَّةٍ لَهَا فَآدَمَتْهُ، ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ، فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ، فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ أَوْ ثَمَانُونَ رَجُلًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ ؓ نے ام سلیم ؓ سے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز سنی، وہ کمزور تھی، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آپ بھوکے ہیں، کیا تمہارے پاس کوئی چیز کھانے کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے جو کی کچھ روٹیاں نکالیں پھر اپنی اوڑھنی نکالی اور اس کے کچھ حصہ میں روٹیوں کو لپیٹ کر میرے ہاتھ یعنی بغل کے نیچے چھپا دیں اور اوڑھنی کا کچھ حصہ مجھے اڑھا دیا، پھر مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا، جب میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا تو مجھے رسول اللہ ﷺ مسجد میں بیٹھے ملے اور آپ کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے، تو میں جا کر ان کے پاس کھڑا ہوگیا، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: کھانا لے کر؟ میں نے کہا: جی ہاں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان تمام لوگوں سے جو آپ کے ساتھ تھے فرمایا: اٹھو چلو ، چناچہ وہ سب چل پڑے اور میں ان کے آگے آگے چلا، یہاں تک کہ میں ابوطلحہ ؓ کے پاس آیا اور انہیں اس کی خبر دی، ابوطلحہ ؓ نے کہا: ام سلیم! رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے ہیں، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ہیں اور ہمارے پاس کچھ نہیں جو ہم انہیں کھلائیں، ام سلیم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو خوب معلوم ہے، تو ابوطلحہ ؓ چلے اور آ کر رسول اللہ ﷺ سے ملے، تو رسول اللہ ﷺ آئے اور ابوطلحہ ؓ آپ کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ دونوں اندر آ گئے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ام سلیم! جو تمہارے پاس ہے اسے لے آؤ، چناچہ وہ وہی روٹیاں لے کر آئیں، رسول اللہ ﷺ نے انہیں توڑنے کا حکم دیا، چناچہ وہ توڑی گئیں اور ام سلیم نے اپنے گھی کی کُپّی کو اس پر اوندھا کردیا اور اسے اس میں چیپڑ دیا، پھر اس پر رسول اللہ ﷺ نے پڑھا جو اللہ نے پڑھوانا چاہا، پھر آپ نے فرمایا: دس آدمیوں کو اندر آنے دو ، تو انہوں نے انہیں آنے دیا اور وہ کھا کر آسودہ ہوگئے، پھر وہ نکل گئے، پھر آپ نے فرمایا: دس کو اندر آنے دو ، تو انہوں نے انہیں آنے دیا وہ بھی کھا کر خوب آسودہ ہوگئے اور نکل گئے، اس طرح سارے لوگوں نے خوب شکم سیر ہو کر کھایا اور وہ سب کے سب ستر یا اسی آدمی تھے ١ ؎۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported: Abu Talhah (RA) said to Umm Sulaym , “I heard the voice of Allah’s Messenger and it was weak. I know that it is from hunger, So, do you have anything (to eat)?” She said, “Yes,” and she brought some loaves of barley bread. Then she took out her scarf and wrapped the bread in some of it and put it in my hand and covered my head with the rest of it (the searf). She sent me to Allah’s Messenger ﷺ went to him with it and found him sitting in the mosque with some men. I stood by them. He said, “Did Abu Talhah send you?” I said, “Yes,” He asked, “With food?” I answered, “Yes.” Allah’s Messenger ﷺ said to those with him, “Stand up!” They walked along and I walked ahead of them till I came to Abu Talhah . and informed him. He exclaimed, “O Umm Sulaym, Allah’s Messenger ﷺ has come with some men and we do not have anything to serve them.” She said, “Allah and His Messenger know best.” So, Abu Talhah went forward and met Allah’s Messenger Li and they entered the house. Allah’s Messenger ﷺ said, “Bring here whatever you have.” O Umm Sulaym So she brought that bread, Allah’s Messenger ﷺ instructed her that the bread should be crushed and Umm Sulaym poured butter oil over it. Then Allah’s Messenger ﷺ prayed on the mixture what Allah willed that he pray. Then he said “Call ten men.” They came in and ate to their full and went out. Then he said, “Call ten.” They came and ate and went out. Then he said, “Call ten.” They came in, ate, and went out. So, all of them ate till they were satiated. They numbered seventy or eigthty men. [Ahmed 13427, Bukhari 422, Muslim 2040, Ibn e Majah 3342] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3630
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ کی دعا کی برکت سے کھانا معجزانہ طور پر اتنا زیادہ ہوا کہ ستر اسی لوگوں نے اس سے شکم سیر ہو کر کھایا، یہ معجزا تھا جو آپ ﷺ کے نبی ہونے کی ایک اہل دلیل ہے، نیز اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آپ ﷺ کو بھی بھوک لگتی تھی، کیونکہ آپ بھی فطرتاً انسان تھے، بعض علماء کا یہ کہنا بالکل یہ درست نہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کھلاتا پلاتا تھا اس لیے آپ کو بھوک نہیں لگتی تھی، کبھی ایسا بھی ہوتا تھا، اور کبھی بھوک بھی لگتی تھی، ورنہ پیٹ پر پتھر کیوں باندھتے، آواز کیوں نحیف ہوجاتی؟
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٤٣ (٤٢٢)، والمناقب ٢٥ (٣٥٧٨)، والأطعمة ٦ (٥٣٨١)، والأیمان والنذور ٢٢ (٦٦٨٨)، صحیح مسلم/الأشربة والأطعمة ٢٠ (٢٠٤٠) (تحفة الأشراف: ٢٠٠)، وط/صفة النبی ﷺ ١٠ (١٩) (صحیح)
3631Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، وَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ، قَالَ: فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ، فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَجَابِرٍ، وَزِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ، وَحَدِيثُ أَنَسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، عصر کا وقت ہوگیا تھا، لوگوں نے وضو کا پانی ڈھونڈھا، لیکن وہ نہیں پا سکے، اتنے میں رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ وضو کا پانی لایا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس برتن میں اپنا ہاتھ رکھا اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس سے وضو کریں، وہ کہتے ہیں: تو میں نے آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پانی ابلتے دیکھا، پھر لوگوں نے وضو کیا یہاں تک کہ ان میں کا جو سب سے آخری شخص تھا اس نے بھی وضو کرلیا۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) narrated: I saw Allah’s Messenger ﷺ while the time of the salah of asr had approached. People searched for water to perform ablution but could not find it. They brought (some) water to Allah’s Messenger ﷺ for ablution. He put his hand on the vessel and instructed the men to perform ablution. I saw water springing out from under the fingers of the Prophet ﷺ ‘ And, the men performed ablution with it till the last of them. [Ahmed 1235, Bukhari 169, Muslim 2279, Nisai 76] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3631
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمران بن حصین، ابن مسعود، جابر اور زیاد بن حارث صدائی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣٢ (١٦٩)، و ٤٥ (١٩٥)، و ٤٦ (٢٠٠)، والمناقب ٢٥ (٣٥٧ ¤ ٢- ٣٥٧٥)، صحیح مسلم/الفضائل ٣ (٢٢٧٩)، سنن النسائی/الطھارة ٦١ (٧٦) (تحفة الأشراف: ٢٠١)، وط/الطھارة ٦ (٣٢)، و مسند احمد (٣/١٤٧، ١٧٠، ٢١٥) (صحیح)
3632Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْعُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَوَّلُ مَا ابْتُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النُّبُوَّةِ حِينَ أَرَادَ اللَّهُ كَرَامَتَهُ وَرَحْمَةَ الْعِبَادِ بِهِ أَنْ لَا يَرَى شَيْئًا إِلَّا جَاءَتْ، مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، فَمَكَثَ عَلَى ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ، وَحُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلْوَةُ، فَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَخْلُوَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ پہلی وہ چیز جس سے رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی ابتداء ہوئی اور جس وقت اللہ نے اپنے اعزاز سے آپ کو نوازنے اور آپ کے ذریعہ بندوں پر اپنی رحمت و بخشش کا ارادہ کیا وہ یہ تھی کہ آپ جو بھی خواب دیکھتے تھے اس کی تعبیر صبح کے پو پھٹنے کی طرح ظاہر ہوجاتی تھی ١ ؎، پھر آپ کا حال ایسا ہی رہا جب تک اللہ نے چاہا، ان دنوں خلوت و تنہائی آپ کو ایسی مرغوب تھی کہ اتنی مرغوب کوئی اور چیز نہ تھی۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated. In the beginning of prophethood when Allah intended to make clear to the people his wonders and mercies, he saw dreams that came true like the bright gleam of dawn. This contimed as long as Allah willed. Solitude was dear to him and nothing was dearer to him than being alone.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3632
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو خواب بھی آپ دیکھتے وہ بالکل واضح طور پر پورا ہوجاتا تھا، یہ آپ ﷺ کی نبوت کی ابتدائی حالت تھی، پھر کلامی وحی کا سلسلہ «اقراء باسم ربک» سے شروع ہوگیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٦٦١٢) (حسن صحیح)
3633Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّكُمْ تَعُدُّونَ الْآيَاتِ عَذَابًا، وَإِنَّا كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرَكَةً، لَقَدْ كُنَّا نَأْكُلُ الطَّعَامَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ، قَالَ: وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهِ، فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَيَّ عَلَى الْوَضُوءِ الْمُبَارَكِ، وَالْبَرَكَةُ مِنَ السَّمَاءِ حَتَّى تَوَضَّأْنَا كُلُّنَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ تم لوگ اللہ کی نشانیوں کو عذاب سمجھتے ہو اور ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اسے برکت سمجھتے تھے، ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کھانا کھاتے تھے اور ہم کھانے کو تسبیح پڑھتے سنتے تھے، نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک برتن لایا گیا اس میں آپ نے اپنا ہاتھ رکھا تو آپ کی انگلیوں کے بیچ سے پانی ابلنے لگا، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آؤ اس برکت پانی سے وضو کرو اور یہ بابرکت آسمان سے نازل ہو رہی ہے، یہاں تک کہ ہم سب نے وضو کرلیا ۔

Sayyidina Abdullah (RA) said, “You people reckon the signs (of nature) as punishment, while in the times of Allah’s Messenger ﷺ we took them as blessings. We would eat food with the Prophet ﷺ and hear the tasbih of the food (that is, its glorifying Allah). The Prophet ﷺ was given a utensil in which he put his hand water poured forth through his fingers. He said, “Come to perform the blessed ablution,” the blessing was from the heaven and we all performed ablution. [Ahmed 4393, Bukhari 3579] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3633
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٥ (٣٥٧٩) (تحفة الأشراف: ٩٤٥٤)، وسنن الدارمی/المقدمة ٥ (٣٠)، و مسند احمد (١/٤٦٠) (صحیح)
3634Sunan At-Tirmidhi

نزول وحی کی کیفیت کے متعلق

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ، وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِيَ الْمَلَكُ رَجُلًا، فَيُكَلِّمُنِي، فَأَعِي مَا يَقُولُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي الْيَوْمِ ذِي الْبَرْدِ الشَّدِيدِ، فَيَفْصِمُ عَنْهُ، وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

آتی ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کبھی کبھی وہ میرے پاس گھنٹی کی آواز ١ ؎ کی طرح آتی ہے اور یہ میرے لیے زیادہ سخت ہوتی ہے ٢ ؎ اور کبھی کبھی فرشتہ میرے سامنے آدمی کی شکل میں آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے، تو وہ جو کہتا ہے اسے میں یاد کرلیتا ہوں، عائشہ ؓ کہتی ہیں: چناچہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سخت جاڑے کے دن میں آپ پر وحی اترتے دیکھی جب وہ وحی ختم ہوتی تو آپ کی پیشانی پر پسینہ آیا ہو۔

Sayyidah Ayshah reported that Harith ibn Hisham asked the Prophet ﷺ how he received the revelatjoin. He said, “Sometimes, I hear the sound of bells and this is hard for me. And sometimes the angel comes to me in human form and speaks to me and I remember what he says.” Sayyidah Ayshah (RA) said, “Even on a day of sever cold, I saw that when revelation came down on him and ended, perspiration poured on his forehead.” [Ahmed 35307, Bukhari 2, Muslim 2333, Nisai 932] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3634
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کہتے ہیں: یہ آواز جبرائیل (علیہ السلام) کی آواز ہوتی تھی جو ابتداء میں غیر مفہوم ہوتی تھی، پھر سمجھ میں آ جاتی مگر بہت مشکل سے، اسی لیے یہ شکل آپ پر وحی کی تمام قسموں سے سخت ہوتی تھی کہ آپ پسینہ پسینہ ہوجایا کرتے تھے، بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ جبرائیل (علیہ السلام) کے پروں کی آواز ہوتی تھی، جو اس لیے ہوتی کہ آپ ﷺ وحی کے لیے چوکنا ہوجائیں۔ ٢ ؎: سب سے سخت ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس کے سمجھنے میں دشواری ہوتی تھی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الوحی ٢ (٢)، وبدء الخلق ٦ (٣٢١٥)، صحیح مسلم/الفضائل ٢٣ (٢٣٣٣)، سنن النسائی/الافتتاح ٣٧ (٩٣٤، ٩٣٥) (تحفة الأشراف: ١٧١٥٢)، وط/القرآن ٤ (٧)، و مسند احمد (٦/١٥٨، ١٦٣، ٢٥٧) (صحیح)
3635Sunan At-Tirmidhi

نبی اکرم ﷺ کی صفات کے متعلق

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ بَعِيدُ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، لَمْ يَكُنْ بِالْقَصِيرِ وَلَا بِالطَّوِيلِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

براء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کو جس کے بال کان کی لو کے نیچے ہوں سرخ جوڑے ١ ؎ میں رسول اللہ ﷺ سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا، آپ کے بال آپ کے دونوں کندھوں سے لگے ہوتے تھے ٢ ؎، اور آپ کے دونوں کندھوں میں کافی فاصلہ ہوتا تھا ٣ ؎، نہ آپ پستہ قد تھے نہ بہت لمبے ٤ ؎۔

Sayyidina Bara (RA) narrated: I have never seen anyone with long hair wearing a red robe looking more beautiful than Allah’s Messenger ﷺ . His hair touched his shoulders. He was broad-shouldered, neither short nor tall. [Ahmed 18582]

صحيح ومضی (1794)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3635
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ کے بالوں کی مختلف اوقات میں کئی حالت ہوا کرتی تھی، کبھی آدھے کانوں تک، کبھی کانوں کے لؤوں تک، کبھی آدھی گردن تک، اور کبھی کندھوں کو چھوتے ہوئے۔ ٢ ؎: مردوں کے لال کپڑے پہننے کے سلسلے میں علماء درمیان مختلف روایات کی وجہ سے اختلاف ہے، زیادہ تر لوگ کہتے ہیں کہ آپ کا یہ جوڑا ایسا تھا کہ اس کا تانہ لال رنگ تھا، یہ بالکل خالص لال نہیں تھا، کیونکہ آپ نے خود خالص لال سے مردوں کے لیے منع کیا ہے، ( دیکھئیے کتاب اللباس میں مردوں کے لیے لال کپڑے پہننے کا باب )۔ ٣ ؎: یعنی آپ کے کندھے کافی چوڑے تھے۔ ٤ ؎: ناٹا اور لمبا ہونا دونوں معیوب صفتیں ہیں، آپ درمیانی قد کے تھے، عیب سے مبرا، ماشاء اللہ۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٧٢٤ (صحیح)
3636Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ الْبَرَاءَ: أَكَانَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ السَّيْفِ، قَالَ: لَا مِثْلَ الْقَمَرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابواسحاق کہتے ہیں کہ ایک شخص نے براء سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ چاند کی مانند تھا۔

Abu Ishaq (RA) reported that someone asked Sayyidina Bara (RA) if the face of Allah’s Messenger ﷺ was like a sword. He said, “No. (But,) like the moon.

صحيح مختصر الشمائل (9)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3636
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٥٢) (تحفة الأشراف: ١٨٣٩) (صحیح)
3637Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ، شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، ضَخْمَ الرَّأْسِ ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ، طَوِيلَ الْمَسْرُبَةِ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ تَكَفُّؤًا كَأَنَّمَا انْحَطَّ مِنْ صَبَبٍ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نہ لمبے تھے نہ پستہ قد، آپ کی ہتھیلیاں اور پاؤں گوشت سے پُر تھے، آپ بڑے سر اور موٹے جوڑوں والے تھے، (یعنی گھٹنے اور کہنیاں گوشت سے پُر اور فربہ تھیں) ، سینہ سے ناف تک باریک بال تھے، جب چلتے تو آگے جھکے ہوئے ہوتے گویا آپ اوپر سے نیچے اتر رہے ہیں، میں نے نہ آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد کسی کو آپ جیسا دیکھا۔

Sayyidina Ali (RA) narrated : The Prophet ﷺ was neither tall nor short. His palms and feet were hard and thick and he had a large head and large joints. The hair on his breast was a fine, long line (to his navel). When he walked, he bent forward as though he descended down a slope. I did not see anyone like him before him or afterwards . [Ahmed 1122]

صحيح مختصر الشمائل (40) صحيح مختصر الشمائل (40)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3637 ہم سے سفیان بن وکیع نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے میرے باپ وکیع نے بیان کیا اور انہوں نے مسعودی سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3637
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٢٨٩) (صحیح) انظر ماقبلہ (صحیح)
3638Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي حَلِيمَةَ مِنْ قَصْرِ الْأَحْنَفِ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى غُفْرَةَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ وَلَدِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا وَصَفَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَمْ يَكُنْ بِالطَّوِيلِ الْمُمَّغِطِ وَلَا بِالْقَصِيرِ الْمُتَرَدِّدِ، وَكَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ، وَلَمْ يَكُنْ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبِطِ، كَانَ جَعْدًا رَجِلًا وَلَمْ يَكُنْ بِالْمُطَهَّمِ وَلَا بِالْمُكَلْثَمِ، وَكَانَ فِي الْوَجْهِ تَدْوِيرٌ أَبْيَضُ مُشْرَبٌ، أَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ أَهْدَبُ الْأَشْفَارِ، جَلِيلُ الْمُشَاشِ وَالْكَتَدِ أَجْرَدُ ذُو مَسْرُبَةٍ، شَثْنُ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، إِذَا مَشَى تَقَلَّعَ كَأَنَّمَا يَمْشِي فِي صَبَبٍ، وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ مَعًا بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ، وَهُوَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، أَجْوَدُ النَّاسِ كَفَّا، وَأَشْرَحُهُمْ صَدْرًا، وَأَصْدَقُ النَّاسِ لَهْجَةً، وَأَلْيَنُهُمْ عَرِيكَةً، وَأَكْرَمُهُمْ عِشْرَةً، مَنْ رَآهُ بَدِيهَةً هَابَهُ، وَمَنْ خَالَطَهُ مَعْرِفَةً أَحَبَّهُ، يَقُولُ نَاعِتُهُ: لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: سَمِعْتُ الْأَصْمَعِيَّ يَقُولُ فِي تَفْسِيرِهِ صِفَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُمَّغِطُ الذَّاهِبُ طُولًا، وَسَمِعْتُ أَعْرَابِيًّا يَقُولُ: تَمَغَّطَ فِي نُشَّابَةٍ أَيْ مَدَّهَا مَدًّا شَدِيدًا، وَأَمَّا الْمُتَرَدِّدُ: فَالدَّاخِلُ بَعْضُهُ فِي بَعْضٍ قِصَرًا، وَأَمَّا الْقَطَطُ فَالشَّدِيدُ الْجُعُودَةِ، وَالرَّجِلُ الَّذِي فِي شَعْرِهِ حُجُونَةٌ أَيْ يَنْحَنِي قَلِيلًا، وَأَمَّا الْمُطَهَّمُ فَالْبَادِنُ الْكَثِيرُ اللَّحْمِ، وَأَمَّا الْمُكَلْثَمُ فَالْمُدَوَّرُ الْوَجْهِ، وَأَمَّا الْمُشْرَبُ فَهُوَ الَّذِي فِي نَاصِيَتِهِ حُمْرَةٌ، وَالْأَدْعَجُ الشَّدِيدُ سَوَادِ الْعَيْنِ، وَالْأَهْدَبُ الطَّوِيلُ الْأَشْفَارِ، وَالْكَتَدُ مُجْتَمَعُ الْكَتِفَيْنِ وَهُوَ الْكَاهِلُ، وَالْمَسْرُبَةُ هُوَ الشَّعْرُ الدَّقِيقُ الَّذِي هُوَ كَأَنَّهُ قَضِيبٌ مِنَ الصَّدْرِ إِلَى السُّرَّةِ، وَالشَّثْنُ الْغَلِيظُ الْأَصَابِعِ مِنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، وَالتَّقَلُّعُ أَنْ يَمْشِيَ بِقُوَّةٍ، وَالصَّبَبُ الْحُدُورُ، يَقُولُ: انْحَدَرْنَا فِي صَبُوبٍ وَصَبَبٍ وَقَوْلُهُ: جَلِيلُ الْمُشَاشِ يُرِيدُ رُءُوسَ الْمَنَاكِبِ، وَالْعِشْرَةُ الصُّحْبَةُ، وَالْعَشِيرُ الصَّاحِبُ، وَالْبَدِيهَةُ الْمُفَاجَأَةُ يُقَالُ بَدَهْتُهُ بِأَمْرٍ أَيْ فَجَأْتُهُ.

ابراہیم بن محمد جو علی بن ابی طالب ؓ کی اولاد میں سے ہیں ان سے روایت ہے کہ علی ؓ جب نبی اکرم ﷺ کا حلیہ بیان کرتے تو کہتے: نہ آپ بہت لمبے تھے نہ بہت پستہ قد، بلکہ لوگوں میں درمیانی قد کے تھے، آپ کے بال نہ بہت گھونگھریالے تھے نہ بالکل سیدھے، بلکہ ان دونوں کے بیچ میں تھے، نہ آپ بہت موٹے تھے اور نہ چہرہ بالکل گول تھا، ہاں اس میں کچھ گولائی ضرور تھی، آپ گورے سفید سرخی مائل، سیاہ چشم، لمبی پلکوں والے، بڑے جوڑوں والے اور بڑے شانہ والے تھے، آپ کے جسم پر زیادہ بال نہیں تھے، صرف بالوں کا ایک خط سینہ سے ناف تک کھنچا ہوا تھا، دونوں ہتھیلیاں اور دونوں قدم گوشت سے پُر تھے جب چلتے زمین پر پیر جما کر چلتے، پلٹتے تو پورے بدن کے ساتھ پلٹتے، آپ کے دونوں شانوں کے بیچ میں مہر نبوت تھی، آپ خاتم النبیین تھے، لوگوں میں آپ سب سے زیادہ سخی تھے، آپ کھلے دل کے تھے، یعنی آپ کا سینہ بغض و حسد سے آئینہ کے مانند پاک و صاف ہوتا تھا، اور سب سے زیادہ سچ بولنے والے، نرم مزاج اور سب سے بہتر رہن سہن والے تھے، جو آپ کو یکایک دیکھتا ڈر جاتا اور جو آپ کو جان اور سمجھ کر آپ سے گھل مل جاتا وہ آپ سے محبت کرنے لگتا، آپ کی توصیف کرنے والا کہتا: نہ آپ سے پہلے میں نے کسی کو آپ جیسا دیکھا ہے اور نہ آپ کے بعد۔ ﷺ ۔

Sayyidina Ali (RA) described the Prophet ﷺ saying: He was neither very tall nor very short, but was of average height. His hair were neither very curly nor very straight, but slightly curly. He was not very fat. His face was not very round but had a roundish appearance. He was reddish-white with wide black eyes, long eye lashes. He had large joints and broad shoulders, fleshy between shoulders. He was not hairy except for a fine line of hair from his chest to navel. His palms and feet were hard and thick. When he walked, he put his feet down firmly on the ground raising them as though he walked down a slope. If he looked at anyone, he turned completely (not with a side glance). Between his shoulders was the seal of prophet hood, He was the seal of the Prophets and the best of men at heart (free from jealousy), truer speaker than all men, of mildest nature and noblest company. If, anyone saw him suddenly, he would be overcome with awe and he who chose his company, loved him. One who describes him admits, “I have never seen anyone like him before or [Ahmed 944] --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف مختصر الشمائل (5)، المشکاة (5791)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3638
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، اس کی سند متصل نہیں ہے، ٢- ( نسائی کے شیخ) ابو جعفر کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کے حلیہ مبارک کی تفسیر میں اصمعی کو کہتے ہوئے سنا کہ «الممغط» کے معنی لمبائی میں جانے والے کے ہیں، میں نے ایک اعرابی کو سنا وہ کہہ رہا تھا «تمغط فی نشابة» یعنی اس نے اپنا تیر بہت زیادہ کھینچا اور «متردد» ایسا شخص ہے جس کا بدن ٹھنگنے پن کی وجہ سے بعض بعض میں گھسا ہوا ہو اور «قطط» سخت گھونگھریالے بال کو کہتے ہیں، اور «رَجِل» اس آدمی کو کہتے ہیں جس کے بالوں میں تھوڑی خمید گی ہو اور «مطہم» ایسے جسم والے کو کہتے ہیں جو موٹا اور زیادہ گوشت والا ہو اور «مکلثم» جس کا چہرہ گول ہو اور «مشدب» وہ شخص ہے جس کی پیشانی میں سرخی ہو اور «ادعج» وہ شخص ہے جس کے آنکھوں کی سیاہی خوب کالی ہو اور «اہدب» وہ ہے جس کی پلکیں لمبی ہوں اور «کتد» دونوں شانوں کے ملنے کی جگہ کو کہتے ہیں اور «مسربة» وہ باریک بال ہیں جو ایک خط کی طرح سینہ سے ناف تک چلے گئے ہوں اور «شثن» وہ شخص ہے جس کے ہتھیلیوں اور پیروں کی انگلیاں موٹی ہوں، اور «تقلع» سے مراد پیر جما جما کر طاقت سے چلنا ہے اور «صبب» اترنے کے معنی میں ہے، عرب کہتے ہیں «انحدر نافی صبوب وصبب» یعنی ہم بلندی سے اترے «جلیل المشاش» سے مراد شانوں کے سرے ہیں، یعنی آپ بلند شانہ والے تھے، اور «عشرة» سے مراد رہن سہن ہے اور «عشیرہ» کے معنیٰ رہن سہن والے کے ہیں اور «بدیھة» کے معنی یکایک اور یکبارگی کے ہیں، عرب کہتے ہیں «بَدَهْتُهُ بِأَمْرٍ» میں ایک معاملہ کو لے کر اس کے پاس اچانک آیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٠٢٤) (ضعیف) (سند میں ابراہیم بن محمد اور علی ؓ کے درمیان انقطاع ہے، ابراہیم کی ملاقات علی ؓ سے نہیں ہوئی)
3639Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْرُدُ سَرْدَكُمْ هَذَا وَلَكِنَّهُ كَانَ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ بَيْنَهُ فَصْلٌ يَحْفَظُهُ مَنْ جَلَسَ إِلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، وَقَدْ رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تمہاری طرح جلدی جلدی نہیں بولتے تھے بلکہ آپ ایسی گفتگو کرتے جس میں ٹھہراؤ ہوتا تھا، جو آپ کے پاس بیٹھا ہوتا وہ اسے یاد کرلیتا۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated : Allah’s Messenger ﷺ did not speak rapidly like this, but he spoke with pauses so that those who sat with him could retain what he said. [Ahmed 24919, Bukhari 3568, Muslim 2493, Abu Dawud 3655] --------------------------------------------------------------------------------

حسن المختصر (191)، المشکاة (5828)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3639
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف زہری کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- اسے یونس بن یزید نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ٢١ (٤٨٣٩) (نحوہ) سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١٣٩ (٤١٢) (تحفة الأشراف: ١٦٤٠٦)، و مسند احمد (٦/١١٨، ١٣٨) (حسن)
3640Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعِيدُ الْكَلِمَةَ ثَلَاثًا لِتُعْقَلَ عَنْهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (بسا اوقات) ایک کلمہ تین بار دہراتے تھے تاکہ اسے (اچھی طرح) سمجھ لیا جائے۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA)reported that Allah’s Messenger Th repeated his words three times that they may be understood. --------------------------------------------------------------------------------

حسن صحيح وقد مضی نحوه (2879)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3640
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن مثنیٰ کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٧٢٣ (حسن صحیح)
3641Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ تَبَسُّمًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.

عبداللہ بن حارث بن جزء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر مسکرانے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔

Sayyidina Abdullah ibn Harith ibn Jazz narrated. I did not see anyone smiling more than Allah’s Messenger ﷺ [Ahmed 17720]

صحيح مختصر الشمائل (194)، المشکاة (5829 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3641
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٢٣٤) (صحیح) (تراجع الألبانی ٦٠٢)
3642Sunan At-Tirmidhi

وَقَدْ رُوِيَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ، مِثْلُ هَذَا. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق السَّيْلَحِينِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ، قَالَ: مَا كَانَ ضَحِكُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا تَبَسُّمًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عبداللہ بن حارث بن جزء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ہنسی صرف مسکراہٹ ہوتی تھی ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah ibn Harith ibn Jazz narrated: Allah’s Messenger’s ﷺ laugh was only a smile.

صحيح مختصر الشمائل (195)، المشکاة أيضاصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3642
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے لیث بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے کہ قہقہہ معزز آدمی کے وقار کے خلاف ہے، اور آپ سے بڑھ کر معزز کون ہوگا؟۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح)
3643Sunan At-Tirmidhi

مہر نبوت کے متعلق

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ الْجَعْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَال: سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ يَقُولُ: ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ فَمَسَحَ بِرَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، وَتَوَضَّأَ فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ فَقُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَنَظَرْتُ إِلَى الْخَاتَمِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَإِذَا هُوَ مِثْلُ زِرِّ الْحَجَلَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: الزِّرُّ يُقَالُ بَيْضٌ لَهَا، وَفِي الْبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ، وَقُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ الْمُزَنِيِّ، وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، وَأَبِي رِمْثَةَ، وَبُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، وَعَمْرِو بْنِ أَخْطَبَ، وَأَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.

سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں کہ میری خالہ مجھے نبی اکرم ﷺ کے پاس لے کر گئیں، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا بھانجہ بیمار ہے، تو آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی، آپ نے وضو کیا تو میں نے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی پی لیا، پھر میں آپ کے پیچھے کھڑا ہوگیا، اور میں نے آپ کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی وہ چھپر کھٹ (کے پردے) کی گھنڈی کی طرح تھی ١ ؎۔

Sayyidina Sa’ib ibn Yazid (RA) narrated : My aunt took me to the Prophet ﷺ and said, “O Messenger of Allah, this the son of my sister is sick.” He stroked my head and prayed for me for blessing. He performed ab’ Lion and I drank the residue water. Then I stood behind him and saw the seal between his shoulders. It was like Zirril hajalah. [Bukhari 190, Muslim 2345]

صحيح مختصر الشمائل (14)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3643
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
کبوتر کے انڈے کو «زر» کہا جاتا ہے ٢ ؎۔ ١- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں سلمان، قرہ بن ایاس مزنی، جابر بن سمرہ، ابورمثہ، بریدہ اسلمی، عبداللہ بن سرجس، عمرو بن اخطب اور ابو سعید خدری ؓ سے احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پردوں اور جھالروں کے کنارے گول مٹول گھنڈی ہوا کرتے ہیں، ان کو دوسرے کپڑے کے کناروں میں جوڑتے ہیں، یہی یہاں مراد ہے۔ ٢ ؎: بعض علماء لغت نے «زر الحجلۃ» کی تفسیر ایک معروف پرندہ چکور کے انڈہ سے کیا ہے، وہی مؤلف بھی کہہ رہے ہیں، مگر جمہور اہل لغت نے اس کا انکار کیا ہے اس لفظ کہ «زر الحجلۃ» سے حجلہ عروسی کی چاروں کی گھنڈی ہی مراد ہے، ویسے مہر نبوت کے بارے میں اگلی حدیث میں کبوتری کے انڈے کی مثال بھی آئی ہے، دونوں تشبیہات میں کوئی تضاد نہیں ہے، ایک چیز کئی چیزوں کے مثل ہوسکتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٤٠ (١٩٠)، والمناقب ٢٢ (٣٥٤٠، ٣٥٤١)، والمرضی ١٨ (٥٦٧٠)، والدعوات ٣١ (٦٣٥٢)، صحیح مسلم/الفضائل ٣٠ (٢٣٤٥) (تحفة الأشراف: ٣٧٩٤) (صحیح)
3644Sunan At-Tirmidhi

مہر نبوت کے متعلق

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ خَاتَمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ غُدَّةً حَمْرَاءَ مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی مہر نبوت یعنی جو آپ کے دونوں شانوں کے درمیان تھی کبوتر کے انڈے کے مانند سرخ رنگ کی ایک گلٹی تھی۔

Sayyidina Jabir ibn Samurah (RA) reported that the seal of Allah’s Messenger ﷺ between his shoulders was a red mole like a pigeon’s egg. [Ahmed 20879]

صحيح مختصر الشمائل (15)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3644
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢١٤٢) (صحیح)