قرآن کی تفسیر کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 43 · 445 hadiths · Page 8 of 22

3091Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت التوبہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ وَأَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، ثُمَّ أَتْبَعَهُ عَلِيًّا، فَبَيْنَا أَبُو بَكْرٍ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ إِذْ سَمِعَ رُغَاءَ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَصْوَاءِ، فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَزِعًا فَظَنَّ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ عَلِيٌّ فَدَفَعَ إِلَيْهِ كِتَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ عَلِيًّا أَنْ يُنَادِيَ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، فَانْطَلَقَا فَحَجَّا، فَقَامَ عَلِيٌّ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ، فَنَادَى ذِمَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ بَرِيئَةٌ مِنْ كُلِّ مُشْرِكٍ، فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَلَا يَحُجَّنَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلَا يَطُوفَنَّ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَكَانَ عَلِيٌّ يُنَادِي فَإِذَا عَيِيَ قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَنَادَى بِهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ابوبکر ؓ کو (مکہ) بھیجا کہ وہاں پہنچ کر لوگوں میں ان کلمات (سورۃ التوبہ کی ابتدائی آیات) کی منادی کردیں۔ پھر (ان کے بھیجنے کے فوراً بعد ہی) ان کے پیچھے آپ نے علی ؓ کو بھیجا۔ ابوبکر ؓ بھی کسی جگہ راستہ ہی میں تھے کہ انہوں نے اچانک رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی قصویٰ کی بلبلاہٹ سنی، گھبرا کر (خیمہ) سے باہر آئے، انہیں خیال ہوا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لا رہے ہیں، لیکن وہ آپ کے بجائے علی ؓ تھے۔ علی ؓ نے آپ ( ﷺ ) کا خط انہیں پکڑا دیا، اور (آپ نے) علی ؓ کو حکم دیا کہ وہ ان کلمات کا (بزبان خود) اعلان کردیں۔ پھر یہ دونوں حضرات ساتھ چلے، (دونوں نے حج کیا، اور علی ؓ نے ایام تشریق میں کھڑے ہو کر اعلان کیا: اللہ اور اس کے رسول ہر مشرک و کافر سے بری الذمہ ہیں، صرف چار مہینے (سر زمین مکہ میں) گھوم پھر لو، اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے، کوئی شخص بیت اللہ کا ننگا ہو کر طواف نہ کرے، جنت میں صرف مومن ہی جائے گا، علی ؓ اعلان کرتے رہے جب وہ تھک جاتے تو انہیں کلمات کا ابوبکر ؓ اعلان کرنے لگتے۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated: The Prophet ﷺ sent Abu Bakr (RA) commanding him to proclaim these expressions (of bara’ah). Then, he sent Ali (RA) behind him and he caught up with him while he was still on the way. When he heard the cry of the she-camel of Allah’s Messenger ﷺ , the Quswa, Abu Bakr (RA) thought that he has come, but he was Ali. He gave the letter of Allah’s Messenger ﷺ in which he had commaned Ali to proclaim those expressions. So, both of them went ahead, performed Hajj and Ali stood up during the day of tashirq and proclaimed, “Allah and His Messenger are immune from (absolved of) responsibility for every ploytheist. You have four months to move about on land and the polytheists wil not perform Hajj after this year nor make tawaf of the House naked. And no one but a believer will enter Paradise.” So, Ali proclamied and when he was tired, Abu Bakr (RA) made the proclaimation of it. (Days of tashriq are three days after the eed of sacrifice).

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3091
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے ابن عباس کی روایت سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦٤٧٦) (صحیح الإسناد )
3092Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت التوبہ

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ، قَالَ: سَأَلْنَا عَلِيًّا بِأَيِّ شَيْءٍ بُعِثْتَ فِي الْحَجَّةِ ؟ قَالَ: بُعِثْتُ بِأَرْبَعٍ: أَنْ لَا يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَهُوَ إِلَى مُدَّتِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَهْدٌ فَأَجَلُهُ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ، وَلَا يَجْتَمِعُ الْمُشْرِكُونَ وَالْمُسْلِمُونَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ، عَنْ عَلِيٍّنَحْوَهُ. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ زَيْدِ بْنِ أُثَيْعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ كِلْتَا الرِّوَايَتَيْنِ، يُقَالُ عَنْهُ، عَنِ ابْنِ أُثَيْعٍ، وَعَنِ ابْنِ يُثَيْعٍ، وَالصَّحِيحُ هُوَ زَيْدُ بْنُ أَثَيْعٍ، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ زَيْدٍ، غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ فَوَهِمَ فِيهِ وَقَالَ زَيْدُ بْنُ أُثَيْلٍ، وَلَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

زید بن یثیع کہتے ہیں کہ میں نے علی ؓ سے پوچھا: آپ حج میں کیا پیغام لے کر بھیجے گئے تھے؟ کہا: میں چار چیزوں کا اعلان کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا (ایک یہ کہ) کوئی ننگا بیت اللہ کا طواف (آئندہ) نہیں کرے گا۔ (دوسرے) یہ کہ جس کافر اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان کوئی معاہدہ ہے وہ معاہدہ مدت ختم ہونے تک قائم رہے گا اور جن کا کوئی معاہدہ نہیں ان کے لیے چار ماہ کی مدت ہوگی ١ ؎ (تیسرے) یہ کہ جنت میں صرف ایمان والا (مسلمان) ہی داخل ہو سکے گا۔ (چوتھے یہ کہ) اس سال کے بعد مسلم و مشرک دونوں حج نہ کرسکیں گے ٢ ؎۔

Zayd ibn Yuthay’ narrated: We asked Ali with what he was sent during the Hajj. He said, “I was sent with four (messages): That the tawaf of the House will not be made in the nude; he who has a covenant with the Prophet ﷺ ,(must know) that it will expire on its term but he who has no convenant has a period of four months; that no one but a beliving soul will enter Paradise; and that the polytheists and the Muslims will not gather together after this year.” [Ahmed 594, Nisai 2955]

صحيح وقد مضی (878 ) صحيح وقد مضی (878) صحيح وقد مضی (878)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3092 سفیان بن عیینہ نے بسند «أبي إسحق عن زيد بن أثيع عن علي» اسی طرح روایت کی۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3092 اس سند سے بھی ابواسحاق نے زید بن اثیع کے واسطہ سے علی سے اسی طرح روایت کی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3092
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث سفیان بن عیینہ کی روایت سے جسے وہ ابواسحاق سے روایت کرتے ہیں حسن صحیح ہے، ٢ - اسے سفیان ثوری نے ابواسحاق کے بعض اصحاب سے روایت کی ہے اور انہوں نے علی ؓ سے روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔ ابن عیینہ سے یہ دونوں روایتیں آئی ہیں، ٢ - کہا جاتا ہے کہ سفیان نے «عن ابن اثیع» اور «عن ابن یثیع» («الف» اور «ی» کے فرق کے ساتھ دونوں) روایت کیا ہے۔ اور صحیح زید بن یثیع ہے، ٣ - شعبہ نے ابواسحاق کے واسطہ سے زید سے اس حدیث کے علاوہ بھی روایت کی ہے جس میں انہیں وہم ہوگیا ہے۔ زید بن اثیل کہا، اور ایسا کہنے میں ان کا کوئی متابع (موید) نہیں ہے، ٤ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مسلمان ہوجائیں یا وطن چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں، یا پھر مرنے کے لیے تیار ہوجائیں، حرم ان کے ناپاک وجود سے پاک کیا جائے گا۔ ٢ ؎: حج صرف مسلمان کریں گے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٨٧١ (صحیح ) انظر ماقبلہ (صحیح ) انظر ماقبلہ (صحیح )
3093Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت التوبہ

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسْجِدَ فَاشْهَدُوا لَهُ بِالْإِيمَانِ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ سورة التوبة آية 18 .

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی آدمی کو دیکھو کہ وہ مسجد کا عادی ہے (یعنی برابر مسجد میں نمازیں پڑھنے جاتا ہے) تو اس کے مومن ہونے کی گواہی دو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «إنما يعمر مساجد اللہ من آمن بالله واليوم الآخر» اللہ کی مسجدیں وہی لوگ آباد رکھتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں (التوبہ: ١٨ ) ۔

Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If you see anyone accustomed to go to the mosque then bear testimony for him that he possesses faith. Allah the Exalted has said: "The mosques of Allah shall be visited and maintained by such as believe in Allah and the Last Day." (9:18) [Abu Dawud 1651]

(حديث: إذا رأيتم الرجل ... ) ضعيف، (حديث: يتعاهد المسجد ) ضعيف (حديث: إذا رأيتم الرجل ... ) مضی (2750) // (490 / 2763)، ضعيف الجامع الصغير (509)، المشکاة (723) //، (حديث: يتعاهد المسجد ) انظر ما قبله (3092) // وتقدم برقم (490 / 2763) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3093
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٦١٧ (ضعیف )
3094Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت التوبہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْثَوْبَانَ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ سورة التوبة آية 34 قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: أُنْزِلَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ مَا أُنْزِلَ لَوْ عَلِمْنَا أَيُّ الْمَالِ خَيْرٌ فَنَتَّخِذَهُ، فَقَالَ: أَفْضَلُهُ لِسَانٌ ذَاكِرٌ، وَقَلْبٌ شَاكِرٌ، وَزَوْجَةٌ مُؤْمِنَةٌ تُعِينُهُ عَلَى إِيمَانِهِ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، فَقُلْتُ لَهُ: سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ سَمِعَ مِنْ ثَوْبَانَ ؟ فَقَالَ: لَا، فَقُلْتُ: لَهُ مِمَّنْ سَمِعَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: سَمِعَ مِنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَذَكَرَ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ جب آیت «والذين يکنزون الذهب والفضة» اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں، اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو آپ انہیں درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئیے (التوبہ: ٣٤ ) ، نازل ہوئی، اس وقت ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ کے بعض صحابہ نے کہا: سونے اور چاندی کے بارے میں جو اترا سو اترا (یعنی اس کی مذمت آئی) اگر ہم جانتے کہ کون سا مال بہتر ہے تو اسی کو اپناتے۔ آپ نے فرمایا: بہترین مال یہ ہے کہ آدمی کے پاس اللہ کو یاد کرنے والی زبان ہو، شکر گزار دل ہو، اور اس کی بیوی ایسی مومنہ عورت ہو جو اس کے ایمان کو پختہ تر بنانے میں مددگار ہو ۔

Sayyidina Thawban (RA) reported about the verse; "And there are those who bury gold and silver and spend it not in the way of Allah: announce unto them a most grievous penalty."(9:34) When it was revealed, they were with Allahs Messenger ﷺ in one of the travels. Some of the Sahaba said, "This is revealed concerning gold and silver. If we were to know what property is good then we would take it." So the Prophet ﷺ said, "The best of it is a tongue that remembers Allah, a heart that is grateful, a believing wife who helps husband in his faith."

صحيح، ابن ماجة (1856)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3094
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا کہ کیا سالم بن ابی الجعد نے ثوبان سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، میں نے ان سے کہا: پھر انہوں نے کسی صحابی سے سنا ہے؟ کہا: انہوں نے جابر بن عبداللہ اور انس بن مالک ؓ سے سنا ہے اور انہوں نے ان کے علاوہ کئی اور صحابہ کا ذکر کیا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/النکاح ٥ (١٨٥٦) (تحفة الأشراف: ٢٠٨٤)، و مسند احمد (٥/٢٧٨، ٢٨٢) (صحیح )
3095Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت التوبہ

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ غُطَيْفِ بْنِ أَعْيَنَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي عُنُقِي صَلِيبٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: يَا عَدِيُّ، اطْرَحْ عَنْكَ هَذَا الْوَثَنَ، وَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فِي سُورَةِ بَرَاءَةٌ اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ سورة التوبة آية 31، قَالَ: أَمَا إِنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَعْبُدُونَهُمْ، وَلَكِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا أَحَلُّوا لَهُمْ شَيْئًا اسْتَحَلُّوهُ وَإِذَا حَرَّمُوا عَلَيْهِمْ شَيْئًا حَرَّمُوهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، وَغُطَيْفُ بْنُ أَعْيَنَ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ فِي الْحَدِيثِ.

عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، میری گردن میں سونے کی صلیب لٹک رہی تھی، آپ نے فرمایا: عدی! اس بت کو نکال کر پھینک دو، میں نے آپ کو سورة برأۃ کی آیت: «اتخذوا أحبارهم ورهبانهم أربابا من دون الله» انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور راہبوں کو معبود بنا لیا ہے (التوبہ: ٢٥ ) ، پڑھتے ہوئے سنا۔ آپ نے فرمایا: وہ لوگ ان کی عبادت نہ کرتے تھے، لیکن جب وہ لوگ کسی چیز کو حلال کہہ دیتے تھے تو وہ لوگ اسے حلال جان لیتے تھے، اور جب وہ لوگ ان کے لیے کسی چیز کو حرام ٹھہرا دیتے تو وہ لوگ اسے حرام جان لیتے تھے ١ ؎۔

Adi bin Hatim narrated; I came to the Prophet ﷺ while I wore round my neck a cross made of gold. He said to me, "Adi remove from this idol from you." And I heard him recite from surah al-Baraah; "They take their priests and their anchorites to be their lords in derogation of Allah." (9:31) He also said, "They did not worship them, but if they made anything lawful for them, they adopted it as lawful. And when they made anything unlawful, they adopted it as unlawful for themselves."

حسنصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3095
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف عبدالسلام بن حرب کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ٣ - غطیف بن اعین حدیث میں معروف نہیں ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس طرح وہ احبار و رہبان حلال و حرام ٹھہرا کر اللہ کے اختیار میں شریک بن گئے، اور اس حلال و حرام کو ماننے والے لوگ مشرک اور ان احبار و رہبان کے عبادت گزار قرار دئیے گئے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٨٧٧) (حسن) (سند میں غطیف ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے )
3096Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت التوبہ

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍحَدَّثَهُ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الْغَارِ: لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ يَنْظُرُ إِلَى قَدَمَيْهِ لَأَبْصَرَنَا تَحْتَ قَدَمَيْهِ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا يُعْرَفُ مِنْ حَدِيثِ هَمَّامٍ تَفَرَّدَ بِهِ، وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ هَمَّامٍ نَحْوَ هَذَا.

ابوبکر ؓ کہتے ہیں کہ میں اور نبی اکرم ﷺ دونوں جب غار میں تھے تو میں نے آپ ﷺ سے کہا کہ اگر ان (کافروں) میں سے کوئی اپنے قدموں کی طرف نظر ڈالے تو ہمیں اپنے قدموں کے نیچے (غار میں) دیکھ لے گا۔ آپ نے فرمایا: ابوبکر! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال و گمان ہے جن کا تیسرا ساتھی اللہ ہو ١ ؎۔

Sayyidina Anas (RA) reported that Sayyidina Abu Bakr (RA) informed him that while they were in the cave, he said to the Prophet ﷺ , "If anyone of them looks at his own feet, he will observe us below his feet." He said, "O Abu Bakr, what you think of the two whose third is Allah?" [Ahmed 1, Muslim 2381]

صحيح تخريج فقه السيرة (173)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3096
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - ہمام کی حدیث مشہور ہے اور ہمام اس روایت میں منفرد ہیں، ٣ - اس حدیث کو حبان بن ہلال اور کئی لوگوں نے اسی کے مانند ہمام سے روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ تعالیٰ کے قول «إن اللہ معنا» (التوبہ: ٤٠ ) کی طرف اشارہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مناقب الصحابة ٢ (٣٦٥٣)، ومناقب الأنصار ٤٥ (٣٩٢٢)، وتفسیر التوبة ٩ (٤٦٦٣)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١ (٢٣٨١) (تحفة الأشراف: ٦٥٨٣) (صحیح )
3097Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت التوبہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَال: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ، دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ عَلَيْهِ، فَقَامَ إِلَيْهِ فَلَمَّا وَقَفَ عَلَيْهِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ تَحَوَّلْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي صَدْرِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعَلَى عَدُوِّ اللَّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ الْقَائِلِ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا يَعُدُّ أَيَّامَهُ، قَالَ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ، حَتَّى إِذَا أَكْثَرْتُ عَلَيْهِ، قَالَ: أَخِّرْ عَنِّي يَا عُمَرُ، إِنِّي خُيِّرْتُ فَاخْتَرْتُ قَدْ قِيلَ لِي: اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ سورة التوبة آية 80 لَوْ أَعْلَمُ أَنِّي لَوْ زِدْتُ عَلَى السَّبْعِينَ غُفِرَ لَهُ لَزِدْتُ، قَالَ: ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهِ وَمَشَى مَعَهُ فَقَامَ عَلَى قَبْرِهِ حَتَّى فُرِغَ مِنْهُ قَالَ: فَعَجَبٌ لِي وَجُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَوَاللَّهِ مَا كَانَ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى نَزَلَتْ هَاتَانِ الْآيَتَانِ وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ: فَمَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ عَلَى مُنَافِقٍ، وَلَا قَامَ عَلَى قَبْرِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ جب عبداللہ بن ابی (منافقوں کا سردار) مرا تو رسول اللہ ﷺ اس کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے بلائے گئے، آپ کھڑے ہو کر اس کی طرف بڑھے اور اس کے سامنے کھڑے ہو کر نماز پڑھانے کا ارادہ کر ہی رہے تھے کہ میں لپک کر آپ کے سینے کے سامنے جا کھڑا ہوا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ اللہ کے دشمن عبداللہ بن ابی کی نماز پڑھنے جا رہے ہیں جس نے فلاں فلاں دن ایسا اور ایسا کہا تھا؟ وہ اس کے بےادبی و بدتمیزی کے دن گن گن کر بیان کرنے لگے، رسول اللہ ﷺ مسکراتے رہے یہاں تک کہ جب میں بہت کچھ کہہ گیا (حد سے تجاوز کر گیا) تو آپ نے فرمایا: (بس بس) مجھ سے ذرا پرے جاؤ عمر! مجھے اختیار دیا گیا ہے تو میں نے اس کے لیے مغفرت طلبی کو ترجیح دی ہے۔ کیونکہ مجھ سے کہا گیا ہے: «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم إن تستغفر لهم سبعين مرة فلن يغفر اللہ لهم» ان (منافقوں) کے لیے مغفرت طلب کرو یا نہ کرو اگر تم ان کے لیے ستر بار بھی مغفرت طلب کرو گے تو بھی وہ انہیں معاف نہ کرے گا (التوبہ: ٨٠ ) ، اگر میں جانتا کہ ستر بار سے زیادہ مغفرت طلب کرنے سے وہ معاف کردیا جائے گا تو ستر بار سے بھی زیادہ میں اس کے لیے مغفرت مانگتا۔ پھر آپ نے عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھی اور جنازہ کے ساتھ چلے اور اس کی قبر پر کھڑے رہے، یہاں تک کہ اس کے کفن دفن سے فارغ ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ کی شان میں اپنی جرات و جسارت پر مجھے حیرت ہوئی۔ اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ١ ؎، قسم اللہ کی! بس تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں۔ «ولا تصل علی أحد منهم مات أبدا ولا تقم علی قبره» ان میں سے کسی (منافق) کی جو مرجائے نماز جنازہ کبھی بھی نہ پڑھو، اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہو (التوبہ: ٨٤ ) ، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اپنے مرنے تک کبھی بھی کسی منافق کی نماز جنازہ نہیں پڑھی، اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہو کر دعا فرمائی۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that he heard Umar ibn Khattab say: “When Abdullah ibn Ubayy died, Allah’s Messenger ﷺ was invited to lead his funeral salah. So, he stood up to go and consented to it, intending the salah, I intervened till I stood directly opposite him and I said, “O Messenger ﷺ of Allah, over the enemy of Allah, Abdullah ibn Ubbayy who said on such-and-such day this and that, this and that?” and I counted his days. Allah’s Messenger ﷺ smiled till I exceeded much. He said, “Move away from me, 0Umar. I have been given choice, so I have chosen. It has been said to me: "Ask pardon for them or do not ask pardon for them-even if you ask pardon for them seventy times, Allah shall never pardon them." (9:80) And if I knew that exceeding over seventy would get him pardon them I would exceeed that.’ Then he prayed his funeral salah. Then he walked with the funeral and stood at his grave till it was over. I was surprised at my daring, but Allah and His Messenger ﷺ know better. By Allah, it was not easy till these two verses were revealed: "And never offer a prayer on any one of them who dies, and do not stand by his grave." (9: 84) [Ahmed 95, Bukhari 1366, Nisai 1965] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح أحكام الجنائز (93 - 95)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3097
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کہ میری یہ جرأت حق کے خاطر تھی بےادبی کے لیے نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٨٤ (١٣٦٦)، وتفسیر التوبة ١٢ (٤٦٧١)، سنن النسائی/الجنائز ٦٩ (١٩٦٨) (تحفة الأشراف: ١٠٥٠٩)، و مسند احمد (١/١٦) (صحیح )
3098Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت التوبہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَاتَ أَبُوهُ، فَقَالَ: أَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ، وَصَلِّ عَلَيْهِ، وَاسْتَغْفِرْ لَهُ، فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ وَقَالَ: إِذَا فَرَغْتُمْ فَآذِنُونِي ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ جَذَبَهُ عُمَرُ، وَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ نَهَى اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ ؟ فَقَالَ: أَنَا بَيْنَ خِيرَتَيْنِ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سورة التوبة آية 80 فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84 فَتَرَكَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عبداللہ بن ابی کے باپ کا جب انتقال ہوا تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور کہا کہ آپ اپنی قمیص ہمیں عنایت فرما دیں، میں انہیں (عبداللہ بن ابی) اس میں کفن دوں گا۔ اور ان کی نماز جنازہ پڑھ دیجئیے اور ان کے لیے استغفار فرما دیجئیے۔ تو آپ نے عبداللہ کو اپنی قمیص دے دی۔ اور فرمایا: جب تم (غسل و غیرہ سے) فارغ ہوجاؤ تو مجھے خبر دو۔ پھر جب آپ نے نماز پڑھنے کا ارادہ کیا تو عمر ؓ نے آپ کو کھینچ لیا، اور کہا: کیا اللہ نے آپ کو منافقین کی نماز پڑھنے سے منع نہیں فرمایا؟ آپ نے فرمایا: مجھے دو چیزوں «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم» ان کے لیے استغفار کرو یا نہ کرو میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا گیا۔ چناچہ آپ نے اس کی نماز پڑھی۔ جس پر اللہ نے آیت «ولا تصل علی أحد منهم مات أبدا ولا تقم علی قبره» نازل فرمائی۔ تو آپ نے ان (منافقوں) پر نماز جنازہ پڑھنی چھوڑ دی۔

Sayyidina lbn Umar (RA) narrated: Abdullah son of Abdullah ibn Ubayy came to Allah’s Messenger ﷺ when his father died, and said, ‘Give me your shirt that I may shroud him in it, and offer his funerals and seek forgiveness for him.” So, he gave him his shirt and said, “When you are over (with preparations), call me.” When he intended to offer the salah, Umar pulled him, saying, “Has not Allah forbidden us to pray over the hypocrites?” He said, “I am between two options either to seek forgiveness for them or not to seek forgiveness for them”, and he offered salah over him. So Allah revealed. "And never offer a prayer on any one of them who dies, and do not stand by his grave." (9: 84) [Ahmed 4680, Bukhari 1229, Muslim 2774, Nisai 1899,1523]

صحيح، ابن ماجة (1523)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3098
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٢٢ (١٢٦٩)، وتفسیر التوبة ١٢ (٤٦٧٠)، و ١٣ (٤٦٧٢)، واللباس ٨ (٥٧٩٦)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢ (٢٤٠٠)، والمنافقین (٢٧٧٤)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣١ (١٥٢٣) (تحفة الأشراف: ٨١٣٩)، و مسند احمد (٢/١٨) (صحیح )
3099Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت التوبہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: تَمَارَى رَجُلَانِ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ فَقَالَ رَجُلٌ هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ، وَقَالَ الْآخَرُ: هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ مَسْجِدِي هَذَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، وَرَوَاهُ أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ دو آدمی اس مسجد کے بارے میں اختلاف کر بیٹھے جس کی تاسیس و تعمیر پہلے دن سے تقویٰ پر ہوئی ہے ١ ؎ (کہ وہ کون سی ہے؟ ) ایک شخص نے کہا: وہ مسجد قباء ہے اور دوسرے نے کہا: وہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد ہے۔ تب آپ نے فرمایا: وہ میری یہی مسجد (مسجد نبوی) ہے ٢ ؎۔

Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that two men argued on the mosque that was built from the first day on taqwa. 0ne of them said that it was the mosque Quba while the other said that it was the mosque of Allah’s Messenger (the Masjid Nabawi). So Allah’s Messenger ﷺ said, “It is my mosque, this one.” [Ahmed 22869, Muslim 1398, Nisai 693]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3099
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عمران بن ابی انس کی روایت سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - یہ حدیث ابو سعید خدری سے اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی مروی ہے، ٣ - اسے انیس بن ابی یحییٰ نے اپنے والد سے اور ان کے والد ابو سعید خدری ؓ سے روایت کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ارشاد باری «لمسجد أسس علی التقوی من أول يوم» (التوبہ: ١٠٨ ) کی طرف اشارہ ہے۔ ٢ ؎: اس مسجد کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ مسجد نبوی ہے یا مسجد قباء اس حدیث میں ہے کہ وہ مسجد نبوی ہے، جبکہ دوسری حدیث میں ہے کہ وہ مسجد قباء ہے، اور آیت کے سیاق و سباق سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ وہ مسجد قباء ہے، تو اس حدیث میں فرمان رسول ﷺ وہ یہی مسجد نبوی ہے کا کیا جواب ہے؟ جواب یہ ہے کہ آپ کے جواب کا مطلب صرف اتنا ہے کہ میری اس مسجد کی بھی پہلے دن سے تقویٰ پر بنیاد پڑی ہے، علماء کی توجیہات کا یہی خلاصہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المناسک ٩٦ (١٣٩٨) (تحفة الأشراف: ٤١١٨) (تحفة الأشراف: ١٢٣٠٩) (صحیح )
3100Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت التوبہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مَيْمُونَة، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي أَهْلِ قُبَاءَ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ سورة التوبة آية 108، قَالَ: كَانُوا يَسْتَنْجُونَ بِالْمَاءِ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِيهِمْ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آیت «فيه رجال يحبون أن يتطهروا والله يحب المطهرين» اس میں (قباء میں) وہ لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ وہ پاک رہیں اور اللہ پاک رہنے والوں کو محبوب رکھتا ہے (التوبہ: ١٠٨ ) ، اہل قباء کے بارے میں نازل ہوئی۔ ان کی عادت تھی کہ وہ استنجاء پانی سے کرتے تھے، تو ان کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported from the Prophet ﷺ that the following verse was revealed concerning the people of Quba. "In it there are people who like to observe purity; and Allah loves those observing purity." (8:108) He (the narrator) said that they used to make istinja (abstertion) with water. So this verse was revealed.

صحيح، ابن ماجة (357)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3100
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوایوب، انس بن مالک اور محمد بن عبداللہ بن سلام سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطھارة ٢٣ (٤٤)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٢٨ (٣٥٧) (تحفة الأشراف: ١٢٣٠٩) (صحیح )
3101Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت التوبہ

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ كُوفِيٌّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْتَغْفِرُ لِأَبَوَيْهِ وَهُمَا مُشْرِكَانِ، فَقُلْتُ لَهُ: أَتَسْتَغْفِرُ لِأَبَوَيْكَ وَهُمَا مُشْرِكَانِ ؟ فَقَالَ: أَوَلَيْسَ اسْتَغْفَرَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَهُوَ مُشْرِكٌ ؟ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ سورة التوبة آية 113 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو اپنے مشرک ماں باپ کے لیے مغفرت طلب کرتے ہوئے سنا تو میں نے اس سے کہا: کیا اپنے مشرک ماں باپ کے لیے مغفرت طلب کرتے ہو؟ اس نے کہا: کیا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے مشرک باپ کے لیے مغفرت طلب نہیں کی تھی؟ پھر میں نے اس بات کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا تو آپ پر یہ آیت نازل ہوئی «ما کان للنبي والذين آمنوا أن يستغفروا للمشرکين» نبی اور مومنین کے لیے زیبا نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے مغفرت طلب کریں (التوبہ: ١١٣ ) ۔

Sayyidina Ali (RA) narrated: I heard a man seek forgiveness for his polytheist parents. I asked him, “Do you make istighfar for your parents who were both polytheists?” He retorted, “Did not Ibrahirn make istighfar for his father who was an idolator?” So, I mentioned this to the Prophet ﷺ and this verse was revealed: "It is not for the Prophet ﷺ and the believers to seek forgiveness for those who associate partners with Allah." (9:113) [Ahmed 23735, 81360, Nisai 2035, Muslim 24] --------------------------------------------------------------------------------

حسن أحكام الجنائز (96)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3101
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں سعید بن مسیب سے بھی روایت ہے اور وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ١٠٢ (٢٠٣٨) (تحفة الأشراف: ١٠١٨١)، و مسند احمد (١/١٣٠، ١٣١) (صحیح )
3102Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت التوبہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا حَتَّى كَانَتْ غَزْوَةُ تَبُوكَ، إِلَّا بَدْرًا وَلَمْ يُعَاتِبِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا تَخَلَّفَ عَنْ بَدْرٍ، إِنَّمَا خَرَجَ يُرِيدُ الْعِيرَ فَخَرَجَتْ قُرَيْشٌ مُغْوثِينَ لِعِيرِهِمْ، فَالْتَقَوْا عَنْ غَيْرِ مَوْعِدٍ، كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَلَعَمْرِي إِنَّ أَشْرَفَ مَشَاهِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ لَبَدْرٌ، وَمَا أُحِبُّ أَنِّي كُنْتُ شَهِدْتُهَا مَكَانَ بَيْعَتِي لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ حَيْثُ تَوَاثَقْنَا عَلَى الْإِسْلَامِ، ثُمَّ لَمْ أَتَخَلَّفْ بَعْدُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى كَانَتْ غَزْوَةُ تَبُوكَ وَهِيَ آخِرُ غَزْوَةٍ غَزَاهَا، وَآذَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بِالرَّحِيلِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَحَوْلَهُ الْمُسْلِمُونَ، وَهُوَ يَسْتَنِيرُ كَاسْتِنَارَةِ الْقَمَرِ، وَكَانَ إِذَا سُرَّ بِالْأَمْرِ اسْتَنَارَ فَجِئْتُ فَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: أَبْشِرْ يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ بِخَيْرِ يَوْمٍ أَتَى عَلَيْكَ مُنْذُ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَمِنْ عِنْدِ اللَّهِ أَمْ مِنْ عِنْدِكَ ؟ قَالَ: بَلْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، ثُمَّ تَلَا هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَحِيمٌ سورة التوبة آية 117، قَالَ: وَفِينَا أُنْزِلَتْ أَيْضًا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ سورة التوبة آية 119، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ لَا أُحَدِّثَ إِلَّا صِدْقًا وَأَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي كُلِّهِ صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ، فَقُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِيَ الَّذِي بِخَيْبَرَ، قَالَ: فَمَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيَّ نِعْمَةً بَعْدَ الْإِسْلَامِ أَعْظَمَ فِي نَفْسِي مِنْ صِدْقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَدَقْتُهُ أَنَا وَصَاحِبَايَ لَا نَكُونُ كَذَبْنَا فَهَلَكْنَا كَمَا هَلَكُوا، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَكُونَ اللَّهُ أَبْلَى أَحَدًا فِي الصِّدْقِ مِثْلَ الَّذِي أَبْلَانِي، مَا تَعَمَّدْتُ لِكَذِبَةٍ بَعْدُ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَحْفَظَنِي اللَّهُ فِيمَا بَقِيَ ، قَالَ: وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثُ بِخِلَافِ هَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَدْ قِيلَ: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ كَعْبٍ، وَقَدْ قِيلَ غَيْرُ هَذَا، وَرَوَى يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ.

کعب بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جتنے بھی غزوے کیے ان میں سے غزوہ تبوک کو چھوڑ کر کوئی بھی غزوہ ایسا نہیں ہے کہ جس میں آپ کے ساتھ میں نہ رہا ہوں۔ رہا بدر کا معاملہ سو بدر میں جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے ان میں سے کسی کی بھی آپ نے سرزنش نہیں کی تھی۔ کیونکہ آپ کا ارادہ (شام سے آ رہے) قافلے کو گھیرنے کا تھا، اور قریش اپنے قافلے کو بچانے کے لیے نکلے تھے، پھر دونوں قافلے بغیر پہلے سے طے کئے ہوئے جگہ میں جا ٹکرائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آیت: «إذ أنتم بالعدوة الدنيا وهم بالعدوة القصوی والرکب أسفل منکم ولو تواعدتم لاختلفتم في الميعاد ولکن ليقضي اللہ أمرا کان مفعولا» (الأنفال: ٤٢ ) ١ ؎ میں فرمایا ہے اور قسم اللہ کی، رسول اللہ ﷺ کے غزوات میں سب سے بڑھ کر غزوہ بدر ہے۔ اور میں اس میں شرکت کو عقبہ کی رات میں اپنی بیعت کے مقابل میں قابل ترجیح نہیں سمجھتا۔ جب ہم نے اسلام پر عہد و میثاق لیا تھا۔ اس کے بعد نبی اکرم ﷺ کو چھوڑ کر میں کبھی پیچھے نہیں ہوا یہاں تک کہ غزوہ تبوک کا واقعہ پیش آگیا۔ اور یہ آخری غزوہ تھا جس میں آپ ﷺ تشریف لے گئے تھے، نبی اکرم ﷺ نے لوگوں میں کوچ کا اعلان کردیا۔ پھر انہوں نے لمبی حدیث بیان کی، کہا (رسول اللہ ﷺ کے غزوہ تبوک سے لوٹنے کے بعد) میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مسجد میں تشریف فرما تھے اور مسلمان آپ کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے۔ اور چاند کی روشنی بکھرنے کی طرح آپ نور بکھیر رہے تھے۔ آپ جب کسی معاملے میں خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ انور دمکنے لگتا تھا، میں پہنچ کر آپ کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا: کعب بن مالک! اس بہترین دن کی بدولت خوش ہوجاؤ جو تمہیں جب سے تمہاری ماں نے جنا ہے اس دن سے آج تک میں اب حاصل ہوا ہے ۔ میں نے کہا: اللہ کے نبی! یہ دن مجھے اللہ کی طرف سے حاصل ہوا ہے یا آپ کی طرف سے؟ آپ نے فرمایا: نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے حاصل ہوا ہے ۔ پھر آپ نے یہ آیات پڑھیں «لقد تاب اللہ علی النبي والمهاجرين والأنصار الذين اتبعوه في ساعة العسرة» یہاں تک کہ آپ تلاوت کرتے ہوئے «إن اللہ هو التواب الرحيم» ١ ؎ تک پہنچے۔ آیت «اتقوا اللہ وکونوا مع الصادقين» بھی ہمارے ہی متعلق نازل ہوئی ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے نبی! میری توبہ کی قبولیت کا تقاضہ ہے کہ میں جب بھی بولوں سچی بات ہی بولوں، اور میری توبہ میں یہ بھی شامل ہے کہ میں اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کے حوالے کر کے خود خالی ہاتھ ہوجاؤں۔ آپ نے فرمایا: اپنا کچھ مال اپنے لیے روک لو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے ۔ میں نے کہا: تو پھر میں اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے، اسلام قبول کرنے کے بعد اللہ نے میری نظر میں اس سے بڑھ کر کوئی اور نعمت مجھے نہیں عطا کی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سچ بولا اور جھوٹ نہ بولے کہ ہم ہلاک ہوجاتے جیسا کہ (جھوٹ بول کر) دوسرے ہلاک و برباد ہوگئے۔ اور میرا گمان غالب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سچائی کے معاملے میں جتنا مجھے آزمایا ہے کسی اور کو نہ آزمایا ہوگا، اس کے بعد تو میں نے کبھی جھوٹ بولنے کا قصد و ارادہ ہی نہیں کیا۔ اور میں اللہ کی ذات سے امید رکھتا ہوں کہ وہ باقی ماندہ زندگی میں بھی مجھے جھوٹ بولنے سے محفوظ رکھے گا۔

Sayyidina Ka’b ibn Maalik (RA) narrated: I did not stay behind from any battle of the Prophet ﷺ that he fought till the Battle of Tabuk, except the Battle of Badr. And the Prophet ﷺ had not questioned anyone who had stayed behind during the Battle of Badr, for, he had set out only with the caravan in mind. The Quraysh, however, came forward in response to the appeal of the caravan. So they contended one another without a previous declaration. This is as Allah, The Majestic, The Glorious said. (And Ka’b continued to say:) By my life, the noblest of experience with Allah’s Messenger ﷺ for the people was Badr but I would not love to have had that experience in place of the night of Aqabahh through which we pledged ourselves in Islam. Thereafter, I never stayed back from any battle till the Battle of anything, his face became bright. So, I came to him and sat down by him. He said, “Good news for you, O Ka’b ibn Maalik with the best day that has come to you since your mother gave birth to you.” I asked, “O Prophet ﷺ of Allah, is it is from you or from Allah?” He said, “Rather from Allah.” Then he recited these verses: "Surely, Allah has relented towards the Prophet ﷺ and the muhajirs (emigrants) and the Ansar (the supporters) who followed him in the hour of hardship after the hearts of a group of them were about to turn crooked, then He relented towards them. Surely, to them He is very Kind, very Merciful." (9: 117) He recited till he came to these words. "And (He relented) towards the three whose matter was deferred until when the earth was straitened for them despite all its vastness, and even their own souls were straitened for them, and they realised that there is no refuge from Allah, except in Him. Then He turned towards them, so that they may repent. Allah is the most-Relenting, the very Merciful." (9: 118) (Ka’b went on to day): It was about us that this was revealed: "Fear Allah, and be in the company of the truthful." (9:119) I said, “O Prophet ﷺ of Allah, my repentance includes (a pledge that) I will speak the truth always and give away all my property in charity in the path of Allah and His Messenger.” He said, “Retain with you some of your property, for, that is best for you.” I submitted, “I keep with me my share of (the booty from) Khaybar.” Allah did not bestow on me a blessing after (my) Islam greater in my sight than the truth I and my two colleagues spoke to Allah’s Messenger ﷺ and we did not lie and ruin ourselves as they ruined themselves. And I imagine that Allah has not tried anyone in speaking truth as He tried me. Never did I speak a lie after that and I hope that Allah will preserve me in what remains. [Ahmed 27245, Bukhari 4418, Muslim 2769, Abu Dawud 3320, Ibn e Majah 1393]

صحيح، صحيح أبي داود (1912)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3102
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث زہری سے اس اسناد سے مختلف دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ٢ - یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ حدیث روایت کی گئی ہے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے اور وہ روایت کرتے ہیں اپنے چچا عبیداللہ سے اور وہ کعب سے، اور اس کے سوا اور بھی کچھ کہا گیا ہے، ٣ - یونس بن یزید نے یہ حدیث زہری سے روایت کی ہے، اور زہری نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے کہ ان کے باپ نے کعب بن مالک سے سن کر بیان کیا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ تعالیٰ نے توجہ فرمائی اپنے نبی پر اور ان مہاجرین و انصار کی طرف جنہوں نے اس کی مدد کی کٹھن گھڑی میں جب کہ ان میں سے ایک فریق کے دلوں کے پلٹ جانے اور کج روی اختیار کرلینے کا ڈر موجود تھا، پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ بیشک وہ ان پر نرمی والا اور مہر بان ہے (التوبہ: ١١٧ )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف بھذا السیاق الطویل، وأخرجہ مختصرا ومتفرقا کل من: صحیح البخاری/الجھاد ١٠١ (٢٩٤٧، ٢٩٤٨)، والمغازي ٧٩ (٤٤١٨)، و سنن ابی داود/ الجھاد ١٠١ (٢٦٣٧) (تحفة الأشراف: ١١١٥٣) (صحیح )
3103Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت التوبہ

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: بَعَثَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عِنْدَهُ، فَقَالَ: إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَدْ أَتَانِي، فَقَالَ: إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ يَوْمَ الْيَمَامَةِ، وَإِنِّي لَأَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ فِي الْمَوَاطِنِ كُلِّهَا، فَيَذْهَبَ قُرْآنٌ كَثِيرٌ وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ: كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ عُمَرُ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ عُمَرَ، وَرَأَيْتُ فِيهِ الَّذِي رَأَى، قَالَ زَيْدٌ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّكَ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّهِمُكَ، قَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيَ فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ، قَالَ: فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفُونِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَيَّ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ تَفْعَلُونَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَهُمَا صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الرِّقَاعِ، وَالْعُسُبِ، وَاللِّخَافِ يَعْنِي الْحِجَارَةَ، وَصُدُورِ الرِّجَالِ، فَوَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ بَرَاءَةٌ مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ 128 فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ 129 سورة التوبة آية 128-129 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ جنگ یمامہ کے موقع پر ابوبکر صدیق ؓ نے انہیں بلا بھیجا، اتفاق کی بات کہ عمر بن خطاب ؓ بھی وہاں موجود تھے، ابوبکر ؓ نے کہا: عمر بن خطاب میرے پاس آئے ہیں کہتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں قرآن کے بہت سے قراء (حافظوں) کی ہلاکت ہوئی ہے، اور میں ڈرتا ہوں کہ اگر ان تمام جگہوں میں جہاں جنگیں چل رہی ہیں قراء قرآن کا قتل بڑھتا رہا تو بہت سارا قرآن ضائع ہوسکتا ہے، اس لیے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ مکمل قرآن اکٹھا کرنے کا حکم فرمائیں۔ ابوبکر ؓ نے عمر ؓ سے کہا: میں کوئی ایسی چیز کیسے کروں جسے رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا ہے۔ عمر ؓ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ بہتر کام ہے۔ وہ مجھ سے یہ بات باربار کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے مجھے بھی اس کام کے لیے شرح صدر عطا کردیا جس کام کے لیے اللہ نے عمر کو شرح صدر عطا فرمایا تھا۔ اور میں نے بھی اس سلسلہ میں وہی بات مناسب سمجھی جو انہوں نے سمجھی۔ زید کہتے ہیں: ابوبکر ؓ نے (مجھ سے) کہا: تم جوان ہو، عقلمند ہو، ہم تمہیں (کسی معاملے میں بھی) متہم نہیں کرتے۔ اور تم رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی وحی لکھتے بھی تھے، تو ایسا کرو کہ پورا قرآن تلاش کر کے لکھ ڈالو، (یکجا کر دو ) زید کہتے ہیں: قسم اللہ کی! اگر مجھ سے پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے کہتے تو یہ کام مجھے اس کام سے زیادہ بھاری نہ لگتا، میں نے کہا: آپ لوگ کوئی ایسا کام جسے رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا ہے کیسے (کرنے کی جرات) کرتے ہیں؟ ابوبکر ؓ نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارے لیے بہتر ہے۔ اور ابوبکر و عمر ؓ دونوں مجھ سے باربار یہی دہراتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے میرے سینے کو بھی اس حق کے لیے کھول دیا جس کے لیے ابوبکر و عمر ؓ کے سینے کو اس نے کھولا تھا، تو میں نے پورے قرآن کی تلاش و جستجو شروع کردی، میں پرزوں، کھجور کے پتوں، نرم پتھروں اور لوگوں کے سینوں سے لے کر نقل کر کر کے یکجا کرنے لگا، تو سورة برأۃ کی آخری آیات «لقد جاء کم رسول من أنفسکم عزيز عليه ما عنتم حريص عليكم بالمؤمنين رءوف رحيم فإن تولوا فقل حسبي اللہ لا إله إلا هو عليه توکلت وهو رب العرش العظيم» تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آیا ہے، اس پر تمہاری تکلیف شاق گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی کا حریص ہے اور ایمان داروں کے حال پر نہایت درجہ شفیق اور مہربان ہے۔ پھر بھی اگر وہ منہ پھیر لیں تو اللہ مجھ کو کافی ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے (التوبہ: ١٢٨ ) ۔ مجھے خزیمہ بن ثابت ؓ کے پاس ملیں۔

Sayyidina Zayd ibn Thabit narrated : Abu Bakr (RA) as-Siddiq sent for me after the killing of warriors in (the Battle of) Yamamah. Umar ibn Khattab was with him. He said to me that Umar had come to him and impressed upon him that a large number of reciters of the Qur’an had been killed at Yamamah and if the reciters were killed in this manner in other battles then he was afraid that much of the Quran will be lost. So, Umar suggested that he (Abu Bakr) should give command that the Quran should be collected. Abu Bakr (RA) had reminded Umar how he could do something that Allah’s Messenger ﷺ had not done. But Umar insisted that it was a good thing, by Allah, and he did not give in till Allah opened Abu Bakr’s heart for what He had opened Umar’s heart, so that he came to recognize what Umar had recognized. Zayd went on to say: Abu Bakr (RA) said to me, ‘You are an intelligent young man whom we do not suspect. Indeed, you have been transcribing the revelation received by Allah’s Messenger . So, follow the Qur’an.” By Allah, if they had deputed me to transport a mountain from a range that would not have been more burdensome to me than that which they commanded. I said, “How do you propose to do something that Allah’s Messenger ﷺ had not done?” Abu Bakr (RA) said, “By Allah this is the best thing.” Abu Bakr (RA) and Umar (RA) did not cease to coax me tell Allah opened my heart for that which He had opened their hearts. So, I pursued the Qur’an, collecting it from parchments, date fibers, stone, etc. and hearts of men. And I found the last of Bara’ah with Khuzaymah ibn Thabit.

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3103
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر التوبة ٢٠ (٤٦٧٩)، وفضائل القرآن ٣ (٤٩٨٦) (تحفة الأشراف: ٣٧٢٩) (صحیح )
3104Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت التوبہ

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ حُذَيْفَةَ قَدِمَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَكَانَ يُغَازِي أَهْلَ الشَّامِ فِي فَتْحِ أَرْمِينِيَةَ وَأَذْرَبِيجَانَ مَعَ أَهْلِ الْعِرَاقِ، فَرَأَى حُذَيْفَةُ اخْتِلَافَهُمْ فِي الْقُرْآنِ، فَقَالَ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَدْرِكْ هَذِهِ الْأُمَّةَ قَبْلَ أَنْ يَخْتَلِفُوا فِي الْكِتَابِ كَمَا اخْتَلَفَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، فَأَرْسَلَ إِلَى حَفْصَةَ أَنْ أَرْسِلِي إِلَيْنَا بِالصُّحُفِ نَنْسَخُهَا فِي الْمَصَاحِفِ، ثُمَّ نَرُدُّهَا إِلَيْكِ، فَأَرْسَلَتْ حَفْصَةُ إِلَى عُثْمَانَ بِالصُّحُفِ، فَأَرْسَلَ عُثْمَانُ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَسَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنِ انْسَخُوا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ، وَقَالَ لِلرَّهْطِ الْقُرَشِيِّينَ الثَّلَاثَةِ، مَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَاكْتُبُوهُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ فَإِنَّمَا نَزَلَ بِلِسَانِهِمْ، حَتَّى نَسَخُوا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ بَعَثَ عُثْمَانُ إِلَى كُلِّ أُفُقٍ بِمُصْحَفٍ مِنْ تِلْكَ الْمَصَاحِفِ الَّتِي نَسَخُوا، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَحَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قَالَ: فَقَدْتُ آيَةً مِنْ سُورَةِ الْأَحْزَابِ، كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ سورة الأحزاب آية 23 فَالْتَمَسْتُهَا فَوَجَدْتُهَا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، أَوْ أَبِي خُزَيْمَةَ فَأَلْحَقْتُهَا فِي سُورَتِهَا، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَاخْتَلَفُوا يَوْمَئِذٍ فِي التَّابُوتِ وَالتَّابُوهِ، فَقَالَ الْقُرَشِيُّونَ: التَّابُوتُ، وَقَالَ زَيْدٌ: التَّابُوهُ، فَرُفِعَ اخْتِلَافُهُمْ إِلَى عُثْمَانَ، فَقَالَ: اكْتُبُوهُ التَّابُوتُ فَإِنَّهُ نَزَلَ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ كَرِهَ لِزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ نَسْخَ الْمَصَاحِفِ، وَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ أُعْزَلُ عَنْ نَسْخِ كِتَابَةِ الْمُصْحَفِ وَيَتَوَلَّاهَا رَجُلٌ، وَاللَّهِ لَقَدْ أَسْلَمْتُ وَإِنَّهُ لَفِي صُلْبِ رَجُلٍ كَافِرٍ، يُرِيدُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، وَلِذَلِكَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ اكْتُمُوا الْمَصَاحِفَ الَّتِي عِنْدَكُمْ وَغُلُّوهَا، فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سورة آل عمران آية 161 فَالْقُوا اللَّهَ بِالْمَصَاحِفِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَبَلَغَنِي أَنَّ ذَلِكَ كَرِهَهُ مِنْ مَقَالَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ رِجَالٌ مِنْ أَفَاضِلِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ حذیفہ بن الیمان عثمان ؓ کے پاس آئے، ان دنوں آپ شام والوں کے ساتھ آرمینیہ کی فتح میں اور عراق والوں کے ساتھ آذر بائیجان کی فتح میں مشغول تھے، حذیفہ ؓ نے قرآن کی قرأت میں لوگوں کا اختلاف دیکھ کر عثمان بن عفان ؓ سے کہا: امیر المؤمنین! اس امت کو سنبھالئے اس سے پہلے کہ یہ کتاب (قرآن مجید) کے معاملے میں اختلاف کا شکار ہوجائے (اور آپس میں لڑنے لگے) جیسا کہ یہود و نصاریٰ اپنی کتابوں (تورات و انجیل اور زبور) کے بارے میں مختلف ہوگئے۔ تو عثمان ؓ نے حفصہ ؓ کے پاس پیغام بھیجا کہ (ابوبکر و عمر ؓ کے تیار کرائے ہوئے) صحیفے ہمارے پاس بھیج دیں ہم انہیں مصاحف میں لکھا کر آپ کے پاس واپس بھیج دیں گے، چناچہ ام المؤمنین حفصہ ؓ نے عثمان بن عفان ؓ کے پاس یہ صحیفے بھیج دیے۔ پھر عثمان نے زید بن ثابت اور سعید بن العاص اور عبدالرحمٰن بن الحارث بن ہشام اور عبداللہ بن زبیر ؓ کے پاس ان صحیفوں کو اس حکم کے ساتھ بھیجا کہ یہ لوگ ان کو مصاحف میں نقل کردیں۔ اور تینوں قریشی صحابہ سے کہا کہ جب تم میں اور زید بن ثابت ؓ میں اختلاف ہوجائے تو قریش کی زبان (و لہجہ) میں لکھو کیونکہ قرآن انہیں کی زبان میں نازل ہوا ہے، یہاں تک کہ جب انہوں نے صحیفے مصحف میں نقل کرلیے تو عثمان نے ان تیار مصاحف کو (مملکت اسلامیہ کے حدود اربعہ میں) ہر جانب ایک ایک مصحف بھیج دیا۔ زہری کہتے ہیں مجھ سے خارجہ بن زید نے بیان کیا کہ زید بن ثابت نے کہا کہ میں سورة الاحزاب کی ایک آیت جسے میں رسول اللہ ﷺ کو پڑھتے ہوئے سنتا تھا اور مجھے یاد نہیں رہ گئی تھی اور وہ آیت یہ ہے «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا اللہ عليه فمنهم من قضی نحبه ومنهم من ينتظر» ١ ؎ تو میں نے اسے ڈھونڈا، بہت تلاش کے بعد میں اسے خزیمہ بن ثابت کے پاس پایا ٢ ؎ خزیمہ بن ثابت ؓ کہا یا ابوخزیمہ کہا۔ (راوی کو شک ہوگیا) تو میں نے اسے اس کی سورة میں شامل کردیا۔ زہری کہتے ہیں: لوگ اس وقت (لفظ) «تابوهاور» تابوت میں مختلف ہوگئے، قریشیوں نے کہا «التابوت» اور زید نے «التابوه» کہا۔ ان کا اختلاف عثمان ؓ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا: «التابوت» لکھو کیونکہ یہ قرآن قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ زہری کہتے ہیں: مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بتایا ہے کہ عبداللہ بن مسعود نے زید بن ثابت ؓ کے مصاحف لکھنے کو ناپسند کیا اور کہا: اے گروہ مسلمانان! میں مصاحف کے لکھنے سے روک دیا گیا، اور اس کام کا والی و کارگزار وہ شخص ہوگیا جو قسم اللہ کی جس وقت میں ایمان لایا وہ شخص ایک کافر شخص کی پیٹھ میں تھا (یعنی پیدا نہ ہوا تھا) یہ کہہ کر انہوں نے زید بن ثابت کو مراد لیا ٣ ؎ اور اسی وجہ سے عبداللہ بن مسعود نے کہا: عراق والو! جو مصاحف تمہارے پاس ہیں انہیں چھپالو، اور سنبھال کر رکھو۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جو کوئی چیز چھپا رکھے گا قیامت کے دن اسے لے کر حاضر ہوگا تو تم قیامت میں اپنے مصاحف ساتھ میں لے کر اللہ سے ملاقات کرنا ٤ ؎ زہری کہتے ہیں: مجھے یہ اطلاع و خبر بھی ملی کہ کبار صحابہ نے ابن مسعود ؓ کی یہ بات ناپسند فرمائی ہے۔

Sayyidina Anas (RA) narrated Huzayfah (RA) came to Uthman ibn Affan (Ra). He had been fighting against the people of Syria alongside the people of Iraq in the conquest of Armenia and Azerbaijan. He had observed the difference in reading the Quran among them. He said to Uthman ibn Affan (RA), “O Commander of the Faithful. Check this ummah before they differ on the Book as the Jews and the Christians differed.” So, Uthman (RA) sent message to Sayyidah Hafsah (RA) that she should send to him the mashaf (scripture) that they might make copies of it, assuring her that it would be returned to her. So, she sent the mashaf to him, and Uthman sent for Zayd ibn Thabit , Sa’eed ibn al-Aas Abdur Rahman ibn Harith ibn Hisham and Abdullah ibn Zubayr that they should make out copies of the Qur’an from the mashaf. He instructed the three Qurayshi members that if they and Zayd ibn Thabit disagreed on anything then they should write it down in the dialect of the Quraysh, for it was revealed in their dialect. They complied and made the copies and Uthman sent a copy of that which they had transcribed to every region. [Bukhari 4987]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3104
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور یہ زہری کی حدیث ہے، اور ہم اسے صرف انہیں کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مومنوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کیا تھا انہیں سچا کر دکھایا، بعض نے تو اپنا عہد پورا کردیا اور بعض (موقع کے) منتظر ہیں (الأحزاب: ٢٣ )۔ ٢ ؎: صرف اسی مناسبت سے مؤلف نے اس روایت کو اس باب میں ذکر کیا ہے، ورنہ یہ آیت سورة التوبہ کی نہیں ہے جس کی تفسیر کا باب ہے۔ ٣ ؎: عثمان ؓ نے اس کام پر جو زید بن ثابت ؓ کو لگایا تھا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ابوبکر ؓ کے وقت میں زید بن ثابت ہی نے قرآن کو ایک جگہ جمع کرنے کا کام انجام دیا تھا، نیز اس وقت ابن مسعود ؓ مدینہ سے دور کوفہ میں تھے، اور معاملہ جلدی کا تھا، عفی اللہ عنہ وعنہم۔ ٤ ؎: ایسا ہوا تھا کہ جب عثمان ؓ کا لکھوایا ہوا نسخہ کوفہ پہنچا تو ابن مسعود ؓ کے تلامذہ نے ان سے کہا کہ اب آپ اپنا نسخہ ضائع کر دیجئیے، اس پر انہوں نے کہا کہ تمہارے پاس میرا جو نسخہ ہے اسے چھپا کر رکھ دو، اس کو قیامت کے دن لا کر ظاہر کرنا، یہ بڑی شرف کی بات ہوگی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/لمناقب ٣ (٣٥٠٦)، وفضائل القرآن ٢ (٤٩٨٤)، و ٣ (٤٩٨٧) (تحفة الأشراف: ٩٧٨٣) (صحیح )
3105Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت یونس

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ سورة يونس آية 26قَالَ: إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ نَادَى مُنَادٍ إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ مَوْعِدًا يُرِيدُ أَنْ يُنْجِزَكُمُوهُ، قَالُوا: أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوهَنَا وَتُنْجِّنَا مِنَ النَّارِ وَتُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ ؟ قَالَ: فَيُكْشَفُ الْحِجَابُ، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمُ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، مَرْفُوعًا، وَرَوَى سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَوْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ صُهَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

صہیب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت: «للذين أحسنوا الحسنی وزيادة» جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے اچھائی (جنت) ہے اور مزید برآں بھی (یعنی دیدار الٰہی) (یونس: ٢٦ ) ، کی تفسیر اس طرح فرمائی: جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا: اللہ کے پاس تمہارے لیے اس کی طرف سے کیا ہوا ایک وعدہ ہے اور وہ چاہتا ہے کہ تم سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کر دے۔ تو وہ جنتی کہیں گے: کیا اللہ نے ہمارے چہرے روشن نہیں کردیئے ہیں اور ہمیں آگ سے نجات نہیں دی ہے اور ہمیں جنت میں داخل نہیں فرمایا ہے؟ (اب کون سی نعمت باقی رہ گئی ہے؟ ) ، آپ نے فرمایا: پھر پردہ اٹھا دیا جائے گا ، آپ نے فرمایا: قسم اللہ کی! اللہ نے انہیں کوئی ایسی چیز دی ہی نہیں جو انہیں اس کے دیدار سے زیادہ لذیذ اور محبوب ہو ۔

Sayyidina Suhaib reported the explanation of the following verse from the Prophet ﷺ : "For those who do good there is the best and something more." (10:26) The Prophet ﷺ (RA) said: When those worthy of Paradise enter Paradise, a caller will call, “For you there is a promise from Allah. He is about to make it good.” They will exclaim, “Has He not made our faces radiant and saved us from Hell and admitted us to Paradise?” (It this not a fulfilment of His promise? Has He to give us more?) Then the veil will be removed and, by Allah, they would not have been given anything dearer than the sight of Allah. [Muslim 181, Ibn e Majah 187, Ahmed 2398]

صحيح، ابن ماجة (187)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3105
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - حماد بن سلمہ کی حدیث ایسی ہی ہے، ٢ - کئی ایک نے اسے حماد بن سلمہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ سلیمان بن مغیرہ نے یہ حدیث ثابت سے اور ثابت نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے ان کے قول کی حیثیت سے روایت کی ہے اور انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ یہ روایت صہیب سے ہے اور صہیب ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٨٠ (١٨١)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (١٨٧) (تحفة الأشراف: ٤٩٦٨) (صحیح )
3106Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت یونس

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، قَالَ: سَأَلْتُأَبَا الدَّرْدَاءِ، عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا سورة يونس آية 64، قَالَ: مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا، فَقَالَ: مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ غَيْرُكَ مُنْذُ أُنْزِلَتْ فَهِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ . حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ.

عطاء بن یسار ایک مصری شیخ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابو الدرداء ؓ سے اس آیت «لهم البشری في الحياة الدنيا» ان کے لیے بشارت ہے دنیا کی زندگی میں (یونس: ٦٤ ) ، کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی مجھ سے کسی نے اس آیت کے متعلق نہیں پوچھا (اور میں نے جب رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے مجھ سے تمہارے سوا کسی نے اس کے متعلق نہیں پوچھا۔ یہ بشارت اچھے خواب ہیں جنہیں مسلمان دیکھتا ہے یا اس کے لیے (کسی اور کو) دکھایا جاتا ہے ۔

It is reported that an Egyptian asked Sayyidina Abu Darda (RA) to explain this verse: "For them there is the good news in the worldly life and in the Hereafter." (10: 64) He said, “No one else had asked me about it since I asked Allah’s Messenger ﷺ about it and he told me that no one had asked him apart from me since it was revealed. It is a good dream of a Muslim - or that which he is shown.” [Ahmed 27626]

صحيح ومضی (2389) صحيح ومضی (2389) صحيح ومضی (2389)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3106 ابوالدرداء ؓ سے اسی جیسی روایت کی۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3106 ابوالدرداء ؓ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی۔ اور اس سند میں عطاء بن یسار سے روایت کا ذکر نہیں ہے ١ ؎، ٣ - اس باب میں عبادہ بن صامت سے بھی روایت ہے۔ فائدہ ١ ؎: اور ابوصالح سمان کا سماع ابو الدرداء ؓ سے ثابت ہے، اس لیے یہ سند بھی متصل ہوئی۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3106
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٢٧٣ (صحیح ) انظر ماقبلہ (صحیح ) انظر ماقبلہ (صحیح )
3107Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت یونس

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَمَّا أَغْرَقَ اللَّهُ فِرْعَوْنَ قَالَ: آمَنْتُ أَنَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ فَقَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ! فَلَوْ رَأَيْتَنِي وَأَنَا آخُذُ مِنْ حَالِ الْبَحْرِ؛ فَأَدُسُّهُ فِي فِيهِ مَخَافَةَ أَنْ تُدْرِكَهُ الرَّحْمَةُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب اللہ نے فرعون کو ڈبویا تو اس نے (اس موقع پر) کہا «آمنت أنه لا إله إلا الذي آمنت به بنو إسرائيل» کہ میں اس بات پر ایمان لایا کہ اس معبود کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں (یونس: ٩٠ ) ، پھر جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا: اے محمد! کاش اس وقت میری حالت دیکھی ہوتی۔ میں اس ڈر سے کہ کہیں اس (مردود) کو اللہ کی رحمت حاصل نہ ہوجائے، میں سمندر سے کیچڑ نکال نکال کر اس کے منہ میں ٹھونسنے لگا۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said: When Allah drowned Pharaoh in the sea, he said: I believe that there is no God but the One in Whom the children of Israel believe. (10: 90) So, Jibr’il said to me, “ O Muhammad ﷺ , would that had seen picking up mud from the sea and pouring it in his mouth, fearing that mercy might embrace him (because of the words he spoke) [Ahmed 2203]

صحيح بما بعده (3106)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3107
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف وانظر مایأتي (تحفة الأشراف: ٦٥٦٠) (صحیح) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، نیچے آنے والی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے )
3108Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت یونس

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ذَكَرَ أَحَدُهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ جِبْرِيلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ يَدُسُّ فِي فِي فِرْعَوْنَ الطِّينَ خَشْيَةَ أَنْ يَقُولَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَيَرْحَمَهُ اللَّهُ، أَوْ خَشْيَةَ أَنْ يَرْحَمَهُ اللَّهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ذکر کیا کہ (جب فرعون ڈوبنے لگا) جبرائیل (علیہ السلام) فرعون کے منہ میں مٹی ٹھونسنے لگے، اس ڈر سے کہ وہ کہیں «لا إلٰہ إلا اللہ» نہ کہہ دے تو اللہ کو اس پر رحم آ جائے۔ راوی کو شک ہوگیا ہے کہ آپ نے «خشية أن يقول لا إله إلا الله» کہا یا «خشية أن يرحمه الله» کہا۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Jibril put mud in Pharaoh’s mouth that he might not say "La ilaha illa Allah" and thus get Allah to show mercy to him.” - Or, he said, “I fear He may be merciful to him.” [Ahmed 2144] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3108
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: ٥٥٦١، ٥٥٧٢) (صحیح الإسناد )
3109Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت ہود

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ كَانَ رَبُّنَا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ خَلْقَهُ ؟ قَالَ: كَانَ فِي عَمَاءٍ مَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ وَمَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ وَخَلَقَ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ الْعَمَاءُ: أَيْ لَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَكِيعُ بْنُ حُدُسٍ، وَيَقُولُ شُعْبَةُ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَهُشَيْمٌ: وَكِيعُ بْنُ عُدُسٍ وَهُوَ أَصَحُّ، وَأَبُو رَزِينٍ اسْمُهُ لَقِيطُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

ابورزین ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اللہ اپنی مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے کہاں تھا؟ آپ نے فرمایا: «عماء» میں تھا، نہ تو اس کے نیچے ہوا تھی نہ ہی اس کے اوپر۔ اس نے اپنا عرش پانی پر بنایا ١ ؎، احمد بن منیع کہتے ہیں: (ہمارے استاد) یزید نے بتایا: «عماء» کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ساتھ کوئی چیز نہ تھی۔

Sayyidina Abu Razin (RA) narrated: I said, “O Messenger of Allah, where was our Lord before He created His creations?’ He said, “He was in space. Below him was air and above Him was air. And He created His Throne on water.”(Ahmad said that Yazid said that (space) is that which has nothing with it.) [Ahmed 12600, Ibn e Majah 1821

ضعيف، ابن ماجة (281) // { كذا } وهو في ضعيف سنن ابن ماجة برقم (32 - 182)، مختصر العلو (193 و 250)، السنة (612)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3109
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اسی طرح حماد بن سلمہ نے اپنی روایت میں وكيع بن حدس کہا ہے اور شعبہ، ابو عوانہ اور ہشیم نے وكيع بن عدس کہا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے، ٣ - ابورزین کا نام لقیط بن عامر ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «عماء»: اگر بالمد ہو تو اس کے معنی «سحاب»، «رقیق» (بدلی) کے ہیں، اور اگر بالقصر ہو تو اس کے معنی «لاشیٔ» کے ہوتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (١٨١) (تحفة الأشراف: ١١١٧٦) (ضعیف )
3110Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت ہود

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُمْلِي، وَرُبَّمَا قَالَ: يُمْهِلُ، لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ ثُمَّ قَرَأَ وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ سورة هود آية 102 الْآيَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ نَحْوَهُ، وَقَالَ: يُمْلِي. حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَقَالَ: يُمْلِي وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے مگر جب اسے گرفت میں لے لیتا ہے پھر تو اسے چھوڑتا بھی نہیں ، پھر آپ نے آیت «وكذلك أخذ ربک إذا أخذ القری وهي ظالمة» ایسی ہی ہے تیرے رب کی پکڑ جب وہ کسی ظالم بستی والے کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بڑی سخت، درد ناک ہوتی ہے (ہود: ١٠٢ ) ، تلاوت فرمائی۔ (راوی ابومعاویہ نے کبھی «یملی» کہا اور کبھی «یمہل» دونوں کا معنی ایک ہے) ۔

Sayyidina Abu Musa (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Allah, the Blessed and the Exalted, gives respite to the wrong-doer till when He seizes him, then He does not let go of him.” He then recited: "And such is the seizing of your Lord when He seizes (the people of) towns while they are transgressing." (11 : 102) [Bukhari 4686, Muslim 2583, Ibn e Majah 4018]

صحيح صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3110 ابوموسیٰ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی اور اس میں «یُملی» کا لفظ کسی شک کے بغیر کہا۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3110
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - ابواسامہ نے بھی اسے برید سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور «یُملی» کا لفظ استعمال کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر ھود ٤ (٤٦٨٦)، صحیح مسلم/البر والصلة ١٥ (٢٥٨٣)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٢ (٤٠١٨) (تحفة الأشراف: ٩٠٣٧) (صحیح ) انظر ماقبلہ (صحیح )