عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ جب آیت «فمنهم شقي وسعيد» سو ان میں کوئی بدبخت ہوگا اور کوئی نیک بخت (ہود: ١٠٥ ) ، نازل ہوئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اللہ کے نبی! پھر ہم کس چیز کے موافق عمل کریں؟ کیا اس چیز کے موافق عمل کریں جس سے فراغت ہوچکی ہے (یعنی جس کا فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے) ؟ یا ہم ایسی چیز پر عمل کریں جس سے ابھی فراغت نہیں ہوئی ہے۔ (یعنی اس کا فیصلہ ہمارا عمل دیکھ کر کیا جائے گا) آپ نے فرمایا: عمر! ہم اسی چیز کے موافق عمل کرتے ہیں جس سے فراغت ہوچکی ہے۔ (اور ہمارے عمل سے پہلے) وہ چیز ضبط تحریر میں آچکی ہے ٢ ؎، لیکن بات صرف اتنی ہے کہ ہر شخص کے لیے وہی آسان ہے جس کے لیے وہ پیدا ہوا ہے ٣ ؎۔
Sayyidina Umar ibn Khattab (RA) narrated: When this verse was revealed: "So, some of them are wretched and (some) blessed." (11: 105). I asked Allahs Messenger ﷺ , "O Prophet ﷺ of Allah, on what do we perform deeds, on what has been determined already, or on something that has not been pre-determined?" He said, "Rather on what is pre-determined as the pens have recorded it, O Umar! But only that is made easy for a man for which he is created."
صحيح الظلال (161 - 166)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3111
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف عبدالملک بن عمرو کی حدیث سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
٢ ؎: ہمارے وجود میں آنے سے پہلے ہی سب کچھ لکھا جا چکا ہے کہ ہم پیدا ہو کر کیا کچھ کریں گے اور کس انجام کو پہنچیں گے۔ ٣ ؎: نیک کو نیک عمل کی اور برے کو برے عمل کی توفیق دی جاتی ہے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: شہر کے بیرونی علاقے میں ایک عورت سے میں ملا اور سوائے جماع کے اس کے ساتھ میں نے سب کچھ کیا، اور اب بذات خود میں یہاں موجود ہوں، تو آپ اب میرے بارے میں جو فیصلہ چاہیں صادر فرمائیں (میں وہ سزا جھیلنے کے لیے تیار ہوں) عمر ؓ نے اس سے کہا: اللہ نے تیری پردہ پوشی کی ہے کاش تو نے بھی اپنے نفس کی پردہ پوشی کی ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اور وہ آدمی چلا گیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کے پیچھے ایک آدمی بھیج کر اسے بلایا اور اسے آیت «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلک ذكرى للذاکرين» نماز قائم کرو دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے حصوں میں، بیشک نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے یاد رکھنے والوں کے لیے (ہود: ١١٤ ) ، تک پڑھ کر سنائی۔ ایک صحابی نے کہا: کیا یہ (بشارت) اس شخص کے لیے خاص ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ سب کے لیے ہے ٢ ؎۔
Sayidina Abdullah (RA) reported that someone came to the Prophet ﷺ and said, "At the outskirt of the city, I approached a woman and did with her everything except sexual intercourse. Now, I am here, decide about me whatever you will." So, Umar said to him, "Allah has concealed your sin. Would that you had concealed it for yourself!" But Allahs Messenger did not say anything. The man walked away. The Prophet ﷺ sent someone to call him back. Then he recited to him. "And establish salah at both ends of the day, and in the early hours of the night. Surely, good deeds erase bad deeds. That is a reminder for the mindful." (11: 114) Someone asked, "Is this only for this man?" He said, "No, rather for all men whoever." [Muslim 2736, Abu Dawud 4468, Ahmed 4250]
حسن صحيح، ابن ماجة (1398)
حسن صحيح، ابن ماجة (1398)
حسن صحيح، ابن ماجة (1398)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3112
اس سند سے، سفیان نے اعمش سے، (اور اعمش) اور سماک نے ابراہیم سے، ابراہیم نے عبدالرحمٰن بن یزید سے اور عبدالرحمٰن نے عبداللہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے ہم معنی حدیث روایت کی۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3112
سفیان سے، سفیان نے سماک سے، سماک نے ابراہیم سے، ابراہیم نے عبدالرحمٰن بن یزید سے اور عبدالرحمٰن نے عبداللہ بن مسعود کے واسطہ سے، نبی اکرم ﷺ سے اسی کی ہم معنی حدیث روایت کی۔ اور اس سند میں اعمش کا ذکر نہیں کیا، اور سلیمان تیمی نے یہ حدیث ابوعثمان نہدی سے روایت کی، اور ابوعثمان نے ابن مسعود کے واسطہ سے، نبی اکرم ﷺ سے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3112
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسی طرح اسی جیسی روایت کی ہے اسرائیل نے سماک سے، سماک نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ اور اسود سے، اور ان دونوں نے عبداللہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے، ٣ - اور اسی سفیان ثوری نے سماک سے، سماک نے ابراہیم سے، ابراہیم نے عبدالرحمٰن بن یزید سے اور عبدالرحمٰن نے عبداللہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اور ان لوگوں کی روایت سفیان ثوری کی روایت سے زیادہ صحیح ہے ٣ ؎، ٤ - شعبہ نے سماک بن حرب سے، سماک نے ابراہیم سے، ابراہیم نے اسود سے اور اسود نے عبداللہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے۔
Notes · وضاحت
٢ ؎: یہ گناہ صغیرہ کے بارے میں ہے کیونکہ گناہ کبیرہ سے بغیر توبہ کے معافی نہیں ہے، اور اس آدمی سے گناہ صغیرہ ہی سرزد ہوا تھا۔ ٣ ؎: یعنی اسرائیل، ابوالاحوص اور شعبہ کی روایات ثوری کی روایت سے (سنداً ) زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مواقیت الصلاة ٤ (٥٢٦)، وتفسیر ھود ٤ (٤٦٨٧)، صحیح مسلم/التوبة ٧ (٢٧٦٣)، سنن ابی داود/ الحدود ٣٢ (٤٤٦٨)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩٣ (١٣٩٨)، ویأتي بعد حدیث (تحفة الأشراف: ٩١٦٢) (صحیح)
انظر ماقبلہ (صحیح )
انظر ماقبلہ (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک (غیر محرم) عورت کا ناجائز بوسہ لے لیا پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر پوچھا کہ اس کا کفارہ کیا ہے؟ اس پر آیت «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات» نازل ہوئی، اس شخص نے پوچھا کیا یہ (کفارہ) صرف میرے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ تمہارے لیے ہے اور میری امت کے ہر اس شخص کے لیے جو یہ غلطی کر بیٹھے ۔
Sayyidina Ibn Masud (RA) narrated: A man kissed an unrelated woman. This is unlawful. Then he met the Prophet ﷺ and asked what the expiation was. This verse was revealed; “And establish salah at both ends of the day, and in the early hours of the night. Surely, good deeds erase bad deeds. That is a reminder for the mindful.” (11:114) He asked, “O Messenger of Allah, is that only for me?” He said, “It is for you and for everyone of my ummah who abides by it.” [Bukhari 526, Muslim 2763, Abu Dawud 4468, Ibn e Majah 1398, Ahmed 3653] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1398)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3114
معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک ایسے شخص کے بارے میں مجھے بتائیے جو ایک ایسی عورت سے ملا جن دونوں کا آپس میں جان پہچان، رشتہ و ناطہٰ (نکاح) نہیں ہے اور اس نے اس عورت کے ساتھ سوائے جماع کے وہ سب کچھ (بوس و کنار چوما چاٹی وغیرہ) کیا جو ایک مرد اپنی بیوی کے ساتھ کرتا ہے؟، (اس پر) اللہ تعالیٰ نے آیت: «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلک ذكرى للذاکرين» ناز فرمائی، آپ ﷺ نے اسے وضو کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا، میں نے عرض کیا اللہ کے رسول! کیا یہ حکم اس شخص کے لیے خاص ہے یا سبھی مومنین کے لیے عام ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ سبھی مسلمانوں کے لیے عام ہے ۔
Sayyidina Muadh ibn Jabal (RA) reported that a man came to the Prophet ﷺ and asked him, “O Messenger of Allah! ﷺ Tell me about a man who meets a woman there being no acquaintance between them. The man does with her everything a man does with his wife, except having sexual intercourse. So Allah revealed. "And establish salah at both ends of the day, and in the early hours of the night. Surely, good deeds erase bad deeds. That is a reminder for the mindful." (11: 114) The Prophet ﷺ commanded him to make ablution and offer salah. Mu’adh (RA) said that he asked, ‘O Messenger of Allah! ﷺ Is it for this man particularly or for the Believers generally?” He said, “Rather for the Believers generally.” --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3113
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے، (اس لیے کہ) عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے معاذ سے نہیں سنا ہے، اور معاذ بن جبل ؓ کا انتقال عمر ؓ کے دور خلافت میں ہوا تھا، اور عمر ؓ جب شہید کیے گئے تو اس وقت عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ چھ برس کے چھوٹے بچے تھے۔ حالانکہ انہوں نے عمر سے (مرسلاً ) روایت کی ہے (جبکہ صرف) انہیں دیکھا ہے، ٢ - شعبہ نے یہ حدیث عبدالملک بن عمیر سے اور عبدالملک نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کے واسطہ سے، نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: ١١٣٤٣) (ضعیف الإسناد) (مؤلف نے سبب بیان کردیا ہے )
ابوالیسر ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت میرے پاس کھجور خریدنے آئی، میں نے اس سے کہا: (یہ کھجور جو یہاں موجود ہے جسے تم دیکھ رہی ہو) اس سے اچھی اور عمدہ کھجور گھر میں رکھی ہے۔ چناچہ وہ بھی میرے ساتھ ساتھ گھر میں آ گئی، میں اس کی طرف مائل ہوگیا اور اس کو چوم لیا، تب ابوبکر ؓ کے پاس آ کر ان سے اس واقعہ کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: اپنے نفس (کی اس غلطی) پر پردہ ڈال دو، توبہ کرو دوسرے کسی اور سے اس واقعہ کا ذکر نہ کرو، لیکن مجھ سے صبر نہ ہوسکا چناچہ میں عمر ؓ کے پاس آیا اور ان سے بھی اس (واقعہ) کا ذکر کیا، انہوں نے بھی کہا: اپنے نفس کی پردہ پوشی کرو، توبہ کرو اور کسی دوسرے کو یہ واقعہ نہ بتاؤ۔ (مگر میرا جی نہ مانا) میں اس بات پر قائم نہ رہا، اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ کو بھی یہ بات بتادی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے ایک غازی کی بیوی کے ساتھ جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلا ہے اس کی غیر موجودگی میں ایسی حرکت کی ہے؟ آپ کی اتنی بات کہنے سے مجھے اتنی غیرت آئی کہ میں نے تمنا کی کہ کاش میں اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہوتا بلکہ اب لاتا اسے خیال ہوا کہ وہ تو جہنم والوں میں سے ہوگیا ہے رسول اللہ ﷺ (سوچ میں) کافی دیر تک سر جھکائے رہے یہاں تک کہ آپ پر بذریعہ وحی آیت «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل» سے «ذكرى للذاکرين» تک نازل ہوئی۔ ابوالیسر ؓ کہتے ہیں: (جب) میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے مجھے یہ آیت پڑھ کر سنائی۔ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ (بشارت) ان کے لیے خاص ہے یا سبھی لوگوں کے لیے عام ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ سبھی لوگوں کے لیے عام ہے ١ ؎۔
Abu Yasar narrated: A woman came to buy dates from me. I told her that there were superior dates in the house. So, she entered the house with me and I bowed towards her and kissed her. Then I came to Abu Bakr (RA) and mentioned to him what had transpired. He said, “Conceal your sin and repent (to Allah) and do not tell anyone.” But, I was impatient and I came to Umar and told him all that. He said, “Keep your secret, repent (to Allah) and do not tell anyone.” But, I was impatient and came to the Prophet ﷺ and mentioned to him all that had happened. He asked, “Did you do like that to the wife of a ghazi going out in Allah’s path?” Eventually, I wished that I had become a Muslim only at that hour and I was convinced that I was one of the dwellers of Hell. Allah’s Messenger ﷺ bowed down his head for a long time till he received revelation; "And establish salah at both ends of the day, and in the early hours of the night. Surely, good deeds erase bad deeds. That is a reminder for the mindful." (11 : 114) When I came to him, Allah’s Messenger ﷺ recited the verse to me. His Sahabah (RA) asked, “O Messenger of Allah, is this a specific command (for him) or for all people generally?” He said, “Rather, for all people generally.”
حسنصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3115
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - قیس بن ربیع کو وکیع وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ اور ابوالیسر کعب بن عمرو ؓ ہیں، ٣ - شریک نے عثمان بن عبداللہ سے یہ حدیث قیس بن ربیع کی روایت کی طرح روایت کی ہے، ٤ - اس باب میں ابوامامہ اور واثلہ بن اسقع اور انس بن مالک ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شریف بیٹے شریف (باپ) کے وہ بھی شریف بیٹے شریف (باپ) کے وہ بھی شریف بیٹے شریف باپ کے (یعنی) یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہم السلام) ١ ؎ کی عظمت اور نجابت و شرافت کا یہ حال تھا کہ جتنے دنوں یوسف (علیہ السلام) جیل خانے میں رہے ٢ ؎ اگر میں قید خانے میں رہتا، پھر (بادشاہ کا) قاصد مجھے بلانے آتا تو میں اس کی پکار پر فوراً جا حاضر ہوتا، یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ کی طلبی کو قبول نہ کیا بلکہ کہا جاؤ پہلے بادشاہ سے پوچھو! ان محترمات کا اب کیا معاملہ ہے، جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ لیے تھے۔ پھر آپ نے آیت: «فلما جاء ه الرسول قال ارجع إلى ربک فاسأله ما بال النسوة اللاتي قطعن أيديهن» ٣ ؎ کی تلاوت فرمائی۔ آپ نے فرمایا: اللہ رحم فرمائے لوط (علیہ السلام) پر جب کہ انہوں نے مجبور ہو کر تمنا کی تھی: اے کاش میرے پاس طاقت ہوتی، یا کوئی مضبوط سہارا مل جاتا۔ جب کہ انہوں نے کہا: «لو أن لي بکم قوة أو آوي إلى رکن شديد» ٤ ؎۔ آپ نے فرمایا: لوط (علیہ السلام) کے بعد تو اللہ نے جتنے بھی نبی بھیجے انہیں ان کی قوم کے اعلیٰ نسب چیدہ لوگوں اور بلند مقام والوں ہی میں سے بھیجے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Indeed, the noble, son of the noble son of the noble, son of the noble was Yusuf son of Ya’qub son of Ishaq son of Ibrahim.” He also said, “If I were in prison as long as Yusuf was in prison and a messenger (of the king) had come I would have responded positively.” He then recited: So, when the messenger came to him, he said, “Go back to your lord and ask him, ‘What about the women who cut their hands?’” (12 :50) He then said, “And may Allah’s mercy be on Lot. He wished to get shelter in a strong fort. And, Allah did not send a Prophet ﷺ after him but from the crest of his (own) people.” [Ahmed 8399, Bukhari 3375, Muslim 151,lMuslim 4026) --------------------------------------------------------------------------------
حسن - باللفظ الآتی: ثروة -، الصحيحة (1617 و 1867)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3116
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جن کی چار پشت میں نبوت و شرافت مسلسل چلی آئی۔ ٢ ؎: بقول عکرمہ سات سال اور بقول کلبی پانچ برس۔ ٣ ؎: جب قاصد یوسف کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا: اپنے بادشاہ کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ ان عورتوں کا حقیقی واقعہ کیا ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے؟ (یوسف: ٥٠ )۔ ٤ ؎: کاش میرے پاس قوت ہوتی (کہ میں طاقت کے ذریعہ تمہیں ناروا فعل سے روک دیتا) یا یہ کہ مجھے (قبیلہ یا خاندان کا) مضبوط سہارا حاصل ہوتا (ہود: ٨٠ )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) وانظر مسند احمد (٢/٣٣٢، ٣٨٤) (تحفة الأشراف: ١٥٠٨١) (حسن) (” ذروة “ کے بجائے ” ثروة “ کے لفظ سے یہ حسن ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے کہا: اے ابوالقاسم! ہمیں «رعد» کے بارے میں بتائیے وہ کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے۔ بادلوں کو گردش دینے (ہانکنے) پر مقرر ہے، اس کے پاس آگ کے کوڑے ہیں۔ اس کے ذریعہ اللہ جہاں چاہتا ہے وہ وہاں بادلوں کو ہانک کرلے جاتا ہے ۔ پھر انہوں نے کہا: یہ آواز کیسی ہے جسے ہم سنتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ تو بادل کو اس کی ڈانٹ ہے، جب تک کہ جہاں پہنچنے کا حکم دیا گیا ہے نہ پہنچے ڈانٹ پڑتی ہی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا: آپ نے درست فرمایا: اچھا اب ہمیں یہ بتائیے اسرائیل (یعنی یعقوب علیہ السلام) نے اپنے آپ پر کیا چیز حرام کرلی تھی؟ آپ نے فرمایا: اسرائیل کو عرق النسا کی تکلیف ہوگئی تھی تو انہوں نے اونٹوں کے گوشت اور ان کا دودھ (بطور نذر) ١ ؎ کھانا پینا حرام کرلیا تھا ۔ انہوں نے کہا: آپ صحیح فرما رہے ہیں۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that some Jews came to the Prophet ﷺ and said, “O Abul Qasim!Tell us about al-Ra’d (The Thunder) what is it?” He said, “He is an angle among angels appointed over the clouds. He holds a whip of fire with which he drives the clouds to whatever Allah wills.” They asked, “What is this sound that we hear?” He said, “This is his urging the clouds when he drives them till they end up where they are commanded to go.” They said “You speak the truth.” And they asked, “What had Isra’il forbidden himself?” He said, “He complained of sciatica and he did not find anything comforting him except the flesh of camel and camel milk. So, hed forbid himself these things.” They said, “You speak the truth.”
صحيح، الصحيحة (1872)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3117
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ـ یہحدیثحسنغریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مسند احمد کی روایت کے مطابق: انہوں نے نذر مانی تھی کہ اگر میں صحت یاب ہوگیا تو سب سے محبوب کھانے کو اپنے اوپر حرام کروں گا اس لیے انہوں نے اونٹوں کے گوشت اور دودھ کو اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول «ونفضل بعضها علی بعض في الأكل» ہم بعض پھلوں کو بعض پر (لذت اور خوش ذائقگی میں) فضیلت دیتے ہیں (الرعد: ٤ ) ، بارے میں فرمایا: اس سے مراد ردی اور سوکھی کھجوریں ہیں، فارسی کھجوریں ہیں، میٹھی اور کڑوی کسیلی کھجوریں ہیں ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported about the words of Allah: And we make some better than others in taste. (13:4) He reported from the Prophet ﷺ that they are dates of a poor kind and excellent kind, or fruit sweet and,bitter.
حسنصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3118
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - زید بن ابی انیسہ نے اعمش سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ٣ - اور سیف بن محمد (جو اس روایت کے راویوں میں سے ہیں) وہ عمار بن محمد کے بھائی ہیں اور عمار ان سے زیادہ ثقہ ہیں اور یہ سفیان ثوری کے بھانجے ہیں۔
فائدہ ١ ؎: ان کو سیراب کرنے والا پانی ایک ہے، نشو و نما کرنے والی دھوپ، گرمی اور ہوا ایک ہے، مگر رنگ، شکلیں اور ذائقے الگ الگ ہیں، یہ اللہ کا کمال قدرت ہے۔
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ٹوکری لائی گئی جس میں تروتازہ پکی ہوئی کھجوریں تھیں، آپ نے فرمایا: «كلمة طيبة کشجرة طيبة أصلها ثابت وفرعها في السماء تؤتي أكلها كل حين بإذن ربها» ١ ؎ آپ نے فرمایا: یہ کھجور کا درخت ہے، اور آیت «ومثل کلمة خبيثة کشجرة خبيثة اجتثت من فوق الأرض ما لها من قرار» ٢ ؎ میں برے درخت سے مراد اندرائن ہے۔ شعیب بن حبحاب (راوی حدیث) کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کا ذکر ابوالعالیہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے سچ اور صحیح کہا۔
Shuayb ibn Habbab reported from Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) that some dates, dry and fresh were presented to Allah’s Messenger ﷺ . He recited: "A good word is a good tree, having its root firm and its branches in the sky. It brings its fruits at all times with the will of its Lord. (14: 24-25) He said, “This is the date palm tree. And he recited: And the parable of a bad word is like a bad tree, removed from the top soil, having no firm root. (14:26) He said, “This is colocynth.” The narrator said that he informed Abul Aaliyah about it and he said that was true and correct.
صحيح موقوفا، ضعيف مرفوعا
صحيح موقوفا، ضعيف مرفوعا
صحيح موقوفا، ضعيف مرفوعاصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3119
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3119
ہم سے احمد بن عبدۃ ضبی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا اور حماد نے شعیب بن حبحاب کے واسطہ سے انس سے قتیبہ کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، لیکن اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3119
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے ابوبکر بن شعیب بن حبحاب نے بیان کیا، اور ابوبکر نے اپنے باپ شعیب سے اور شعیب نے انس بن مالک سے اسی طرح اسی حدیث کی ہم معنی حدیث روایت کی، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا، نہ ہی انہوں نے ابوالعالیہ کا قول نقل کیا ہے، یہ حدیث حماد بن سلمہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ٢ - کئی ایک نے ایسی ہی حدیث موقوفاً روایت کی ہے، اور ہم حماد بن سلمہ کے سوا کسی کو بھی نہیں جانتے جنہوں نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہو، اس حدیث کو معمر اور حماد بن زید اور کئی اور لوگوں نے بھی روایت کیا ہے، لیکن ان لوگوں نے اسے مرفوع روایت نہیں کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کلمہ طیبہ کی مثال شجرہ طیبہ (کھجور کے درخت) کی ہے جس کی جڑ ثابت و (مضبوط) ہے اور اس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں وہ (درخت) اپنے رب کے حکم سے برابر (لگاتار) پھل دیتا رہتا ہے (ابراہیم: ٢٤ )۔ ٢ ؎: برے کلمے (بری بات) کی مثال برے درخت جیسی ہے جو زمین کی اوپری سطح سے اکھیڑ دیا جاسکتا ہے جسے کوئی جماؤ (ثبات و مضبوطی) حاصل نہیں ہوتی (ابراہیم: ٢٦ )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (ضعیف) (مرفوعا صحیح نہیں ہے، یہ انس ؓ کا قول ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں ہے)
انظر ماقبلہ (صحیح )
انظر ماقبلہ (صحیح )
براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت «يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں، قول ثابت (محکم بات) کے ذریعہ دنیا و آخرت دونوں میں ثابت قدم رکھتا ہے (ابراہیم: ٢٧ ) ، کی تفسیر میں فرمایا: ثابت رکھنے سے مراد قبر میں اس وقت ثابت رکھنا ہے جب قبر میں پوچھا جائے گا: «من ربك؟» تمہارا رب، معبود کون ہے؟ «وما دينك؟» تمہارا دین کیا ہے؟ «ومن نبيك؟» تمہارا نبی کون ہے؟ ١ ؎۔
Sayyidina Bara reported from the Prophet ﷺ (RA) about this verse: "Allah keeps the believers firm with the stable word in the worldly life and in the Hereafter." (14:27) He explained that this has reference to the grave when it is asked, “Who is your Lord? What is your religion and who was your Prophet?” [Bukhari 1369, Muslim 2871, Abu Dawud 4750, Nisai 2056, Ibn e Majah 4269] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3120
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ مومن بندہ کہے گا: میرا رب (معبود) اللہ ہے، میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد ﷺ ہیں۔
مسروق کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے آیت «يوم تبدل الأرض غير الأرض» جس دن زمین و آسمان بدل کر دوسری طرح کے کردیئے جائیں گے (ابراہیم: ٤٨ ) ، پڑھ کر سوال کیا: اللہ کے رسول! اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: «علی الصراط» پل صراط پر ۔
Masruq said that Sayyidah Ayshah (RA) asked about the verse: "The day on which this earth will be turned into some other earth." (14: 48) “O Messeger of Allah! Where would people be?’ He said, ‘(They would be) on the sirat lathe bridge).” [Ahmed 24124, Muslim 2791, Ibn e Majah 4279] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (4279)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3121
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ام المؤمنین عائشہ ؓ سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المنافقین ٢ (٢٩٧١)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٣ (٤٢٧٩) (تحفة الأشراف: ١٧٦١٧)، و مسند احمد (٦/٣٥، ١٠١، ١٣٤، ٢١٨)، وسنن الدارمی/الرقاق ٨٨ (٢٨٥١) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک خوبصورت عورت رسول اللہ ﷺ کے پیچھے (عورتوں کی صفوں میں) نماز پڑھا کرتی تھی تو بعض لوگ آگے بڑھ کر پہلی صف میں ہوجاتے تھے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں اور بعض آگے سے پیچھے آ کر آخری صف میں ہوجاتے تھے (عورتوں کی صف سے ملی ہوئی صف میں) پھر جب وہ رکوع میں جاتے تو اپنی بغلوں کے نیچے سے اسے دیکھتے، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ولقد علمنا المستقدمين منکم ولقد علمنا المستأخرين» ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو آگے بڑھ جانے والے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو پیچھے ہٹ جانے والے ہیں (الحجر: ٢٤ ) ، نازل فرمائی۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated: A women used to offer salah behind Allah’s Messenger and she was the most beautiful of the beautiful people. Some of the men would come forward as far as the first row so that they may not see her but some others would stay behind as far as the last row and when they went into ruku they would peep through their armpits. So Allah revealed: "And certainly We know those of you who hasten forward, and certainly We know those who lag behind." (15 : 24) [Ahmed 2783, Nisai 866, Ibn e Majah 1046] --------------------------------------------------------------------------------
جعفر بن سلیمان نے یہ حدیث عمرو بن مالک سے اور عمروبن مالک نے ابوالجوزاء سے اسی طرح روایت کی ہے، اور اس میں «عن ابن عباس» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور اس میں اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ یہ نوح کی حدیث سے زیادہ صحیح و درست ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الإمامة ٦٢ (٨٧١)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٦٨ (١٠٤٦) (تحفة الأشراف: ٥٣٦٤)، و مسند احمد (١/٣٠٥) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جہنم کے سات دروازے ہیں، ان میں سے ایک دروازہ ان لوگوں کے لیے ہے جو میری امت یا امت محمدیہ پر تلوار اٹھائیں ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “There are seven gates for Hell. One of those gates is for those who raise the sword against my ummah.” 0r he said, “Against the ummah of Muhammad.” [Ahmed 5693]
ضعيف، المشکاة (3530 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (4661) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3123
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف مالک بن مغول کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مولف نے یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ «لها سبعة أبواب» (الحجر: ٤٤ ) کی تفسیر میں لائے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦٦٧٨) (ضعیف) (سند میں جنید مجہول الحال راوی ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سورة الحمدللہ (فاتحہ) ، ام القرآن ہے، ام الکتاب (قرآن کی اصل اساس ہے) اور «السبع المثانی» ہے (باربار دہرائی جانے والی آیتیں) ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, (surah al-Fatihah) is ummul-Quran (the mother of the Quran), ummul-Kitab (the mother of the Book) and as-sab’ul Mathani (the seven off repeated).’ lBukhari 4704, Abu Dawud 1457, Ahmed 9797]
صحيح، صحيح أبي داود (131)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3124
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کو مؤلف نے ارشاد باری تعالیٰ: «ولقد آتيناک سبعا من المثاني والقرآن العظيم» (الحجر: ٨٧) کی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر الحجر ٣ (٤٧٠٤)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٥١ (…) (تحفة الأشراف: ١٣٠١٤) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ابی بن کعب کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تو رات میں اور نہ ہی انجیل میں ام القرآن (فاتحہ) جیسی کوئی سورة نازل فرمائی ہے، اور یہ سات آیتیں ہیں جو (ہر رکعت میں پڑھی جانے کی وجہ سے) باربار دہرائی جانے والی ہیں، اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان تقسیم ہیں اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے جو وہ مانگے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported from Ubayy ibn Ka’b that Allah’s Messenger ﷺ said, “Allah did not reveal in Torah and the Injil the like of the umm ul-Quran. It is as-sab ul-mathani (the seven off-repeated). And it is divided between Me and My slave, and for My slave is what he asks.” [Nisai 910, Ahmed 1152]
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے ، پھر آپ نے آیت «إن في ذلک لآيات للمتوسمين» بیشک اس میں نشانیاں ہیں سمجھ داروں کے لیے ہے (الحجر: ٧٥) ، تلاوت فرمائی۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Guard yourself against a Believer’s insight, for, he sees with the light of Allah.” He then recited: Surely in that are signs for the sagacious. (15: 75)
ضعيف، الضعيفة (1821) // ضعيف الجامع الصغير (127) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3127
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، بعض اہل علم نے اس آیت «إن في ذلک لآيات للمتوسمين» کی تفسیر یہ کی ہے کہ اس میں نشانیاں ہیں اصحاب فراست کے لیے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٤٢١٧) (ضعیف) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، ملاحظہ ہو: الضعیفة رقم: ١٨٢١)
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے قول «لنسألنهم أجمعين عما کانوا يعملون» ہم ان سے پوچھیں گے اس کے بارے میں جو وہ کرتے تھے (الحجر: ٩٢) ، کے متعلق فرمایا: یہ پوچھنا «لا إله إلا الله» کے متعلق ہوگا ۔
ُ ُSayyidina Anas ibn Maalik reported the Prophet’s ﷺ explanation of this verse: "We shall certainly question them all together concerning what they used to do. He said, “This means (There is no God but Allah).”
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3126
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اسے لیث بن ابی سلیم کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ٣- عبداللہ بن ادریس نے لیث بن ابی سلیم سے، اور لیث نے بشر کے واسطہ سے انس سے ایسے ہی روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٤٧) (ضعیف الإسناد) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف، اور بشر مجہول راوی ہیں)
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زوال یعنی سورج ڈھلنے کے بعد ظہر کی نماز سے پہلے چار رکعتیں سحر (تہجد) کی چار رکعتوں کے ثواب کے برابر کا درجہ رکھتی ہیں ، آپ نے فرمایا: کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جو اس گھڑی (یعنی زوال کے وقت) اللہ کی تسبیح نہ بیان کرتی ہو ۔ پھر آپ نے آیت «يتفيأ ظلاله عن اليمين والشمائل سجدا لله وهم داخرون» کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں کو نہیں دیکھتے ان کے سائے دائیں اور بائیں اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے جھکتے ہیں (النحل: ٤٨) ، پڑھی ۔
Sayyidina Umar ibn Khattab (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Four rakat before zuhr after za’val are counted like the salah of tahajjud.” Allah’s Messenger ﷺ also said, “There is nothing but glorifies Allah at that hour.” And he recited: Their shadows inclining to the right and to the left, prostrating before Allah while being lowly. (16: 48 more till verse 50. This verse calls for prostration).
ضعيف الصحيحة تحت الحديث (1431) // ضعيف الجامع الصغير (754) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3128
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف علی بن عاصم کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٥٧٣) (ضعیف) (سند میں یحییٰ البکاء ضعیف اور علی بن عاصم غلطیاں کر جاتے تھے، لیکن تعدد طرق کی بناء پر یہ حدیث حسن لغیرہ کے درجہ تک پہنچ جاتی ہے)
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ جب احد کی جنگ ہوئی تو انصار کے چونسٹھ ( ٦٤) اور مہاجرین کے چھ کام آئے۔ ان میں حمزہ ؓ بھی تھے۔ کفار نے ان کا مثلہ کردیا تھا، انصار نے کہا: اگر کسی دن ہمیں ان پر غلبہ حاصل ہوا تو ہم ان کے مقتولین کا مثلہ اس سے کہیں زیادہ کردیں گے۔ پھر جب مکہ کے فتح کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے آیت «وإن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به ولئن صبرتم لهو خير للصابرين» ١ ؎ نازل فرما دی۔ ایک صحابی نے کہا: «لا قريش بعد اليوم» (آج کے بعد کوئی قریشی وریشی نہ دیکھا جائے گا) ٢ ؎ آپ نے فرمایا: (نہیں) چار اشخاص کے سوا کسی کو قتل نہ کرو ٣ ؎۔
Sayyidina Ubayy ibn Ka’b narrated: In the Battle of Uhud, sixty-four Ansar and six Muhajirs were martyred, Hamzah among them. They (the polytheists) mutilated his body. And if you (0Believers) have to punish them, then punish them with the like of that where with you were afflicted. But if you endure patiently, that is certainly better for the persevering. (16:126) A man said, “There will be no Quraysh after today.” Allah’s Messenger ﷺ said, “Spare the people, but four (of them).” [Ahmed 21288]
حسن صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3129
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث ابی بن کعب کی روایت سے حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر تم ان سے بدلہ لو ( انہیں سزا دو ) تو انہیں اتنی ہی سزا دو جتنی انہوں نے تمہیں سزا ( اور تکلیف ) دی ہے اور اگر تم صبر کرلو ( انہیں سزا نہ دو ) تو یہ صبر کرنے والوں کے حق میں بہتر ہے ( النحل: ١٢٦)۔ ٢ ؎: یعنی مسلم قریشی کسی کافر قریشی کا خیال نہ کرے گا کیونکہ قتل عام ہوگا۔ ٣ ؎: ان چاروں کے نام دوسری حدیث میں آئے ہیں اور وہ یہ ہیں: ( ١) عکرمہ بن ابی جہل ( ٢) عبداللہ بن خطل ( ٣) مقیس بن صبابہ ( ٤) عبداللہ بن سعد بن ابی سرح، ان کے بارے میں ایک حدیث میں آیا ہے کہ یہ خانہ کعبہ کے پردوں سے چمٹے ہوئے ملیں تب بھی انہیں قتل کر دو۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (معراج کی رات) جب مجھے آسمان پر لے جایا گیا تو میری ملاقات موسیٰ (علیہ السلام) سے ہوئی، آپ نے ان کا حلیہ بتایا اور میرا گمان یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: موسیٰ لمبے قد والے تھے: ہلکے پھلکے روغن آمیز سر کے بال تھے، شنوءۃ قوم کے لوگوں میں سے لگتے تھے ، آپ نے فرمایا: میری ملاقات عیسیٰ (علیہ السلام) سے بھی ہوئی ، آپ نے ان کا بھی وصف بیان کیا، فرمایا: عیسیٰ درمیانے قد کے سرخ (سفید) رنگ کے تھے، ایسا لگتا تھا گویا ابھی دیم اس (غسل خانہ) سے نہا دھو کر نکل کر آ رہے ہوں، میں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی دیکھا، میں ان کی اولاد میں سب سے زیادہ ان سے مشابہہ ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس دو برتن لائے گئے، ایک دودھ کا پیالہ تھا اور دوسرے میں شراب تھی، مجھ سے کہا گیا: جسے چاہو لے لو، تو میں نے دودھ کا پیالہ لے لیا اور دودھ پی گیا، مجھ سے کہا گیا: آپ کو فطرت کی طرف رہنمائی مل گئی، یا آپ نے فطرت سے ہم آہنگ اور درست قدم اٹھایا، اگر آپ نے شراب کا برتن لے لیا ہوتا تو آپ کی امت گمراہ ہوجاتی ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “When I was taken for the isra, I met Musa.” The narrator reported that the Prophet ﷺ then described him and also thought that he said, “Musa’s hairs were disheveled as though he was a member of the shanu’ah.” He then said, “And I met Eesa,” and he described him, “He is medium-height, red complexioned as though he has just emerged from the bath. And, I saw Ibrahim. I resemble his offspring. Then, two vessels were brought to me, one containing milk and the other wine. I was told, ‘Pick whichever one you like. So, I chose milk and drank it. I was told, “You are guided or nature or, ‘you walked the path of guidance. If you had chosen wine then your ummah would have gone astray’.” [Ahmed 10652, Bukhari 3394, Muslim 168, Nisai 5657] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3130
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تباہی و بربادی کا شکار ہوتی اس لیے کہ شراب کا خاصہ ہی یہی ہے۔ ( مولف نے ان احادیث کو اسراء اور معراج کی مناسبت کی وجہ سے ذکر کیا جن کا بیان اس باب کے شروع میں ہے )
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٢٤ (٣٣٩٤)، و ٤٩ (٣٤١٣)، وتفسیر الإسراء ٣ (٤٧٠٩)، والأشربة ١ (٥٥٧٦)، و ١٢ (٥٦٠٣)، صحیح مسلم/الإیمان ٧٤ (١٦٨)، سنن النسائی/الأشربة ٤١ (٥٦٦٠) (تحفة الأشراف: ١٣٢٧٠)، و مسند احمد (٢/٥١٢) (صحیح)