انس ؓ کہتے ہیں کہ جس رات آپ ﷺ کو معراج حاصل ہوئی آپ کی سواری کے لیے براق لایا گیا۔ براق لگام لگایا ہوا تھا اور اس پر کاٹھی کسی ہوئی تھی، آپ نے اس پر سوار ہوتے وقت دقت محسوس کی تو جبرائیل (علیہ السلام) نے اسے یہ کہہ کر جھڑکا: تو محمد ﷺ کے ساتھ ایسا کر رہا ہے، تجھ پر اب تک ان سے زیادہ اللہ کے نزدیک کوئی معزز شخص سوار نہیں ہوا ہے، یہ سن کر براق پسینے پسینے ہوگیا۔
Sayyidina Anas reported that the Buraq was brought for the Prophet ﷺ on the night of the isra (mi’raj, ascension), bridled and saddled. It showed some resistance, so, Jibril asked it, “Will you do that with Muhammad? No one nobler than he in Allah’s sight has ridden you.”That brought it perspiration. [Ahmed 12672]
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3131
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالرزاق کی روایت سے جانتے ہیں۔
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (معراج کی رات) جب ہم بیت المقدس پہنچے تو جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنی انگلی کے اشارے سے پتھر میں شگاف کردیا اور براق کو اس سے باندھ دیا۔
Sayyidina Buraydah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When we came to Bayt al-Maqdis, Jibril gestured with his finger. So, he made (thereby) a hole in a stone and tied the Buraq to it.”
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3132
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب قریش نے مجھے (معراج کے سفر کے بارے میں) جھٹلا دیا کہ میں حجر (حطیم) میں کھڑا ہوا اور اللہ نے بیت المقدس کو میرے سامنے ظاہر کردیا اور میں اسے دیکھ دیکھ کر انہیں اس کی نشانیاں (پہچان) بتانے لگا ۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When the Quraysh rejected me, I stood by the stone. The Bayt al-Maqdis was brought before me and I informed them of its details (signs) while I looked at it.” [Bukhari 3886, Muslim 170, Ahmed 15038]
صحيح تخريج فقه السيرة (145)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3133
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں مالک بن صعصعہ ابوسعید، ابن عباس، ابوذر اور ابن مسعود ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
عبداللہ بن عباس ؓ آیت کریمہ: «وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس» اور نہیں کیا ہم نے وہ مشاہدہ کہ جسے ہم نے تمہیں کروایا ہے (یعنی إسراء و معراج کے موقع پر جو کچھ دکھلایا ہے) مگر لوگوں کی آزمائش کے لیے (بنی اسرائیل: ٦٠) ، کے بارے میں کہتے ہیں: اس سے مراد (کھلی) آنکھوں سے دیکھنا تھا، جس دن آپ کو بیت المقدس کی سیر کرائی گئی تھی ١ ؎ انہوں نے یہ بھی کہا «والشجرة الملعونة في القرآن» میں شجرہ «ملعونہ» سے مراد تھوہڑ کا درخت ہے۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) explained the words of Allah, the Exalted: "And We made not the vision We showed you but as a trial for mankind." (17: 60) He said, “This is a vision that the Prophet ﷺ saw with his eyes on the night of isra to Bayt al_Maqdis.” And he said about: “As also the tree cursed in the Qur’an. (He said,) “It is tree of zaqqum." [Ahmed 1916, Bukhari 3888]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3134
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی خواب میں سیر نہیں، بلکہ حقیقی و جسمانی معراج تھی۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت «وقرآن الفجر إن قرآن الفجر کان مشهودا» صبح کو قرآن پڑھا کرو کیونکہ صبح قرآن پڑھنے کا وقت فرشتوں کے حاضر ہونے کا ہوتا ہے (بنی اسرائیل: ٧٨) ، کے متعلق فرمایا: اس وقت رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے سب حاضر (و موجود) ہوتے ہیں ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported the Prophet’s ﷺ explanation of the words of Allah: "And the recital of the Quran at dawn surely the recital of the Quran at dawn is witnessed."(17: 78) (He said,) The angels of the night and the angels of the day witness it.’ [Ahmed 10139, Ibn e Majah 670]
صحيح الإسناد
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3135 اس سند سے اعمش نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابوہریرہ اور ابو سعید خدری کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے ایسی ہی روایت کی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3135
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصلاة ٢ (٦٧٠) (تحفة الأشراف: ١٢٣٣٢) (صحیح)
انظر ماقبلہ ( تحفة الأشراف: ١٢٤٤٤) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول «يوم ندعو کل أن اس بإمامهم» جس دن ہم ہر انسان کو اس کے امام (اگوا و پیشوا) کے ساتھ بلائیں گے (بنی اسرائیل: ٧١) ، کے بارے میں فرمایا: ان میں سے جو کوئی (جنتی شخص) بلایا جائے گا اور اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اور اس کا جسم بڑھا کر ساٹھ گز کا کردیا جائے گا، اس کا چہرہ چمکتا ہوا ہوگا اس کے سر پر موتیوں کا جھلملاتا ہوا تاج رکھا جائے گا، پھر وہ اپنے ساتھیوں کے پاس جائے گا، اسے لوگ دور سے دیکھ کر کہیں گے: اے اللہ! ایسی ہی نعمتوں سے ہمیں بھی نواز، اور ہمیں بھی ان میں برکت عطا کر، وہ ان کے پاس پہنچ کر کہے گا: تم سب خوش ہوجاؤ۔ ہر شخص کو ایسا ہی ملے گا، لیکن کافر کا معاملہ کیا ہوگا؟ کافر کا چہرہ کالا کردیا جائے گا، اور اس کا جسم ساٹھ گز کا کردیا جائے گا جیسا کہ آدم (علیہ السلام) کا تھا، اسے تاج پہنایا جائے گا۔ اس کے ساتھی اسے دیکھیں گے تو کہیں گے اس کے شر سے ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ اے اللہ! ہمیں ایسا تاج نہ دے، کہتے ہیں: پھر وہ ان لوگوں کے پاس آئے گا وہ لوگ کہیں گے: اے اللہ! اسے ذلیل کر، وہ کہے گا: اللہ تمہیں ہم سے دور ہی رکھے، کیونکہ تم میں سے ہر ایک کے لیے ایسا ہی ہے۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported the Prophet’s ﷺ saying about these words of Allah: "On the day when We shall summon every people with their record."(17: 71) He said, “A man will be summoned and his body made sixty cubits tall and his face will be brightened and a crown will be placed on his head. It will be made of rubies, shining. He will go towards his people and they will see him from afar and say, O Allah, give us like this and bless with this’. He wil come nearer to them and say to them, ‘Good news for each one of you like this’. But, as for the disbeliever, his face will be blackened, his height increased to sixty cubits on the pattern of Aadam and he will be made to wear a crown. His people will see him and say, ‘We seek refuge in Allah from the mischief of this one. O Allah, do not give us this’. He will come closer to them and they will say, ‘O Allah, put him away’. He will say, ‘May Allah put you away and for each of you be the like of it’.”
ضعيف الإسناد // ضعيف الجامع الصغير (6424) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3136
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- سدی کا نام اسماعیل بن عبدالرحمٰن ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٣٦١٦) (ضعیف الإسناد) (سند میں عبد الرحمن ابن ابی کریمہ والد سدی مجہول الحال راوی ہے)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت: «عسی أن يبعثک ربک مقاما محمودا» عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا (بنی اسرائیل: ٧٩) ، کے بارے میں پوچھے جانے پر فرمایا: اس سے مراد شفاعت ہے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ was asked about Allah’s words: "Soon your Lord will raise you to a Station Praised." (17: 79) He said, “It is intercession.”
صحيح، الصحيحة (2639 و 2370)، الظلال (784)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3137
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اور داود زغافری: داود اود بن یزید بن عبداللہ اودی ہیں، اور یہ عبداللہ بن ادریس کے چچا ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٤٨٤٨)، و مسند احمد (٢/٤٤١، ٤٤٤، ٥٢٨) (صحیح) (سند میں داود ضعیف اور ان کے باپ یزید عبد الرحمن الأودی الزعافری لین الحدیث راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم: ٢٣٦٩، ٢٣٧٠)
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جس سال مکہ فتح ہوا رسول اللہ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو خانہ کعبہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے، آپ اپنے ہاتھ میں لی ہوئی چھڑی سے انہیں کچوکے لگانے لگے (عبداللہ نے کبھی ایسا کہا) اور کبھی کہا کہ آپ اپنے ہاتھ میں ایک لکڑی لیے ہوئے تھے، اور انہیں ہاتھ لگاتے ہوئے کہتے جاتے تھے «جاء الحق وزهق الباطل إن الباطل کان زهوقا» حق آگیا باطل مٹ گیا باطل کو مٹنا اور ختم ہونا ہی تھا (بنی اسرائیل: ٨١) ، «جاء الحق وما يبدئ الباطل وما يعيد» حق غالب آگیا ہے، اب باطل نہ ابھر سکے گا اور نہ ہی لوٹ کر آئے گا (سبا: ٤٩) ۔
Sayyidina lbn Masud (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ entered Makkah with its conquest while three hundred and sixty idols were rooted around the Ka’bah. He began to strike them with his staff or a stick, as the narrator was unsure, he recited at the same time. "The Truth has come, and falsehood has vanished away; surely falsehood is ever certain to vanish."(17:81) He also said, “And falsehood would never return now.”
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3138
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی روایت ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مکہ میں تھے، پھر آپ کو ہجرت کا حکم ملا، اسی موقع پر آیت: «وقل رب أدخلني مدخل صدق وأخرجني مخرج صدق واجعل لي من لدنک سلطانا نصيرا» دعا کر، اے میرے رب! مجھے اچھی جگہ پہنچا اور مجھے اچھی طرح نکال، اور اپنی طرف سے مجھے قوی مددگار مہیا فرما (بنی اسرائیل: ٨٠) ، نازل ہوئی۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ was in Makkah. Then he was commanded to migrate to Madinah. This verse was revealed to him at that time. "And say, ‘O my Lord, cause me to enter a truthful entrance, and cause me to go forth a truthful out-going, and grant me from your presence an authority to help (me)." (17: 30)
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3139
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ قریش نے یہود سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسا سوال دو جسے ہم اس شخص (یعنی محمد ﷺ ) سے پوچھیں، انہوں نے کہا: اس شخص سے روح کے بارے میں سوال کرو، تو انہوں نے آپ سے روح کے بارے میں پوچھا (روح کی حقیقت کیا ہے؟ ) اس پر اللہ نے آیت «ويسألونک عن الروح قل الروح من أمر ربي وما أوتيتم من العلم إلا قليلا» تم سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دو! روح امر الٰہی ہے، تمہیں بہت ہی تھوڑا علم دیا گیا ہے (بنی اسرائیل: ٨٥) ، انہوں نے کہا: ہمیں تو بہت زیادہ علم حاصل ہے، ہمیں توراۃ ملی ہے، اور جسے توراۃ دی گئی ہو اسے بہت بڑی خیر مل گئی، اس پر آیت «قل لو کان البحر مدادا لکلمات ربي لنفد البحر» کہہ دیجئیے: اگر میرے رب کی باتیں، کلمے، معلومات و مقدرات لکھنے کے لیے سمندر سیاہی (روشنائی) بن جائیں تو سمندر ختم ہوجائے (مگر میرے رب کی حمد و ثناء ختم نہ ہو) (الکہف: ١٠٩) ، نازل ہوئی ٢ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Quraysh requested the Jews, Teach us something about which we may ask this man.’ They said, Ask him about the spirit (Ruh).” So, Allah, the Exalted, revealed:" And they ask you concerning the spirit Say "The Spirit is by the command of my Lord and you have not been given of knowledge except a little." (17: 85) They said, “We have been given plenty of knowledge. Indeed, we are given the Torah and he who is given the Torah is given much good.” So, this verse was revealed: "Say, If the sea were ink for the words of my Lord, the sea would certainly be exhausted before the words of my Lord are exhausted - though we brought the like of it for support." (18: 109) [Ahmed 2309]
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3140
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مدینہ کے ایک کھیت میں چل رہا تھا۔ آپ (کبھی کبھی) کھجور کی ایک ٹہنی کا سہارا لے لیا کرتے تھے، پھر آپ کچھ یہودیوں کے پاس سے گزرے تو ان میں سے بعض نے (چہ میگوئی کی) کہا: کاش ان سے کچھ پوچھتے، بعض نے کہا: ان سے کچھ نہ پوچھو، کیونکہ وہ تمہیں ایسا جواب دیں گے جو تمہیں پسند نہ آئے گا (مگر وہ نہ مانے) کہا: ابوالقاسم! ہمیں روح کے بارے میں بتائیے، (یہ سوال سن کر) آپ کچھ دیر (خاموش) کھڑے رہے، پھر آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا، تو میں نے سمجھ لیا کہ آپ پر وحی آنے والی ہے، چناچہ وحی آ ہی گئی، پھر آپ نے فرمایا: «الروح من أمر ربي وما أوتيتم من العلم إلا قليلا» روح میرے رب کے حکم سے ہے، تمہیں بہت تھوڑا علم حاصل ہے ۔
Sayyidina Abdullah - narrated: I was walking with the Prophet ﷺ in a field of Madinah. He leaned on a branch of a date tree (as he walked). We came across a company of Jews. Some of them said to the others, “Would that you ask him something”,some others said, “Do not ask him, for he makes you hear what you dislike.” But, they said, “O Abul Qasim, tell us about the spirit.” So, the Prophetd ﷺ paused for a moment, raised his heard towards the sky and I realised that he was receiving a revelation till the (bringer of) revelation went up and he recited: "The Spirit is by the command of my Lord and you have not been given of knowledge except a little." (17: 85) [Ahmed 3688, R 125, Muslim 2794]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3141
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن لوگ تین طرح سے جمع کئے جائیں گے، ایک گروہ چل کر آئے گا، اور ایک گروہ سوار ہو کر آئے گا اور ایک گروہ اپنے منہ کے بل آئے گا ۔ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! وہ لوگ اپنے منہ کے بل کیسے چلیں گے؟ آپ نے فرمایا: جس نے انہیں قدموں سے چلایا ہے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ وہ انہیں ان کے منہ کے بل چلا دے، سنو (یہی نہیں ہوگا کہ وہ چلیں گے بلکہ) وہ منہ ہی سے ہر بلندی (نشیب و فراز) اور کانٹے سے بچ کر چلیں گے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “On the Day of Resurrection, mankind will be gathered in three categories - a category of those walking on foot, another of riders and the third of those walking on their faces.” Someone asked, “O Messenger of Allah, how would they walk on their faces?” He said, ‘Surely, he who makes them walk on their feet is Able to make them walk on their faces. Know that they will walk on their faces safeguarding from every ascent and thorn.” [Ahmed 8763]
ضعيف، المشکاة (5546 / التحقيق الثاني)، التعليق الرغيب (4 / 194) // ضعيف الجامع الصغير (6417) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3142
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- وہیب نے ابن طاؤس سے اور انہوں نے اپنے باپ طاؤس سے اور طاؤس نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اس حدیث کا کچھ حصہ روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مؤلف یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ « ونحشرهم يوم القيامة علی وجوههم» (الإسراء: ٩٧)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٢٢٠٣) (ضعیف) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں)
معاویہ بن حیدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم (قیامت میں) جمع کئے جاؤ گے: کچھ لوگ پیدل ہوں گے، کچھ لوگ سواری پر، اور کچھ لوگ اپنے منہ کے بل گھسیٹ کر اکٹھا کئے جائیں گے ۔
Bahz ibn Hakim reported from his father who from his grand father that Allah’s Messenger , said, “You will be assembled (on the Day of Resurrection) walking, riding and dragging on your face.” [Ahmed 20051]
صفوان بن عسال ؓ سے روایت ہے کہ یہود میں سے ایک یہودی نے دوسرے یہودی سے کہا: اس نبی کے پاس مجھے لے چلو، ہم چل کر ان سے (کچھ) پوچھتے ہیں، دوسرے نے کہا: انہیں نبی نہ کہو، اگر انہوں نے سن لیا کہ تم انہیں نبی کہتے ہو تو (مارے خوشی کے) ان کی چار آنکھیں ہوجائیں گی۔ پھر وہ دونوں نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے اور آپ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول «ولقد آتينا موسیٰ تسع آيات بينات» ہم نے موسیٰ کو نو نشانیاں دیں (اسرائیل: ١٠١) ، کے بارے میں پوچھا کہ وہ نو نشانیاں کیا تھیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، زنا نہ کرو، ناحق کسی شخص کا قتل نہ کرو، چوری نہ کرو، جادو نہ کرو، کسی بری (بےگناہ) شخص کو (مجرم بنا کر) بادشاہ کے سامنے نہ لے جاؤ کہ وہ اسے قتل کر دے، سود نہ کھاؤ، کسی پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت نہ لگاؤ، دشمن کی طرف بڑھتے ہوئے بڑے لشکر سے نکل کر نہ بھاگو ۔ شعبہ کو شک ہوگیا ہے (کہ آپ نے نویں چیز یہ فرمائی ہے) اور تم خاص یہودیوں کے لیے یہ بات ہے کہ ہفتے کے دن میں زیادتی (الٹ پھیر) نہ کرو، (یہ جواب سن کر) ان دونوں نے آپ کے ہاتھ پیر چومے اور کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے نبی ہیں۔ آپ نے فرمایا: پھر تمہیں اسلام قبول کرلینے سے کیا چیز روک رہی ہے؟ دونوں نے جواب دیا داود (علیہ السلام) نے دعا کی تھی کہ ان کی اولاد میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی نبی ہوگا (اور آپ ان کی ذریت میں سے نہیں ہیں) اب ہمیں ڈر ہے کہ ہم اگر آپ پر ایمان لے آتے ہیں تو ہمیں یہود قتل نہ کردیں۔
Sayyidina Safwan ibn Assal al-Muradi reported that of two Jews one said to the other, “Come let us go to this Prophet ﷺ that we may question him.” The other said, “Do not call him a Prophet, for, if he hears you say Prophet ﷺ he will be overjoyed.’ So they came to him and asked him about the words of Allah the Exalted: "And certainly we gave Musa nine manifest signs." (17:101) He said that they were: (1) Associate nothing with Allah, (2) Do not commit fornication, (3) Do not unjustly take the life of one whose killing has been forbidden by Allah, (4) Do not steal, (5) Do not practice magic, (6) Do not take an innocent to the king with false charges) that he might execute him, (7) Do not devour interest, (8) Do not accuse a chaste woman falsely of fornication, (9) And, do not desert the battlefield. Shu’bah was unsure if this was included: And particularly for you, O Jews, that you do not contravene (the injunctions on) the Sabbath (Saturday). So, they kissed his hand and his feet, saying, “We bear testimony that you are a Prophet. He asked. ‘Then what prevents you from submitting (in Isaim)?” They said, ‘Dawood had prayed that Prophets should not cease to come in his offspring and we fear that if we submit the Jews will kill us.’ [Ahmed 18814]
ضعيف، ابن ماجة (3705) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (808)، وتقدم برقم (517 - 2889)، ضعيف سنن النسائي (275 / 4078) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3144
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٧٣٣، سنن ابن ماجہ/الأدب ١٦ (٣٧٠٥)، والنسائی فی الکبری فی السیر (٨٦٥٦) وفی المحاربة (٣٥٤١) (تحفة الأشراف: ٤٩٥١) وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٣٩) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن سلمہ صدوق ہیں، لیکن حافظہ میں تبدیلی آ گئی تھی)
عبداللہ بن عباس ؓ آیت کریمہ: «ولا تجهر بصلاتک» اپنی صلاۃ بلند آواز سے نہ پڑھو (بنی اسرائیل: ١١٠) ، کے بارے میں کہتے ہیں: یہ مکہ میں نازل ہوئی تھی، رسول اللہ ﷺ جب بلند آواز کے ساتھ قرآن پڑھتے تھے تو مشرکین اسے اور جس نے قرآن نازل کیا ہے اور جو قرآن لے کر آیا ہے سب کو گالیاں دیتے تھے، تو اللہ نے «ولا تجهر بصلاتک» نازل کر کے نماز میں قرآن بلند آواز سے پڑھنے سے منع فرما دیا تاکہ وہ قرآن، اللہ تعالیٰ اور جبرائیل (علیہ السلام) کو گالیاں نہ دیں اور آگے «ولا تخافت بها» نازل فرمایا، یعنی اتنے دھیرے بھی نہ پڑھو کہ آپ کے ساتھی سن نہ سکیں بلکہ یہ ہے کہ وہ آپ سے قرآن سیکھیں (بلکہ ان دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کرو) ۔
Sayyidina lbn Abbas (RA) reported about the verse: "And speak not your prayer aloud, nor speak it low." (17:110) He said, “This was revealed at Makkah. When Allah’s Messenger ﷺ raised his voice while reciting the Qur’an, the idolaters reviled it and him who revealed it and Him who brought it. So Allah revealed: "And do not raise your voice in your salah." Lest they abuse the Quran, Him who has revealed it and him who brought it. "And do not keep your voice low." from your companions that they do not hear you. Keep it such that they take the Qur’an from you. [Ahmed 1853, Bukhari 4772, Muslim 446, Nisai 1007]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3145
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر الإسراء ١٤ (٤٧٢٢)، والتوحید ١٣٤ (٧٤٩٠)، و ٤٤ (٧٥٢٥)، و ٥٢ (٧٥٤٧)، صحیح مسلم/الصلاة ٣١ (٤٤٦)، سنن النسائی/الإفتتاح ٨٠ (١٠١٢) (تحفة الأشراف: ٥٤٥١)، و مسند احمد (١/٢٣، ٢١٥) (صحیح)
عبداللہ بن عباس ؓ آیت کریمہ: «ولا تجهر بصلاتک ولا تخافت بها وابتغ بين ذلک سبيلا» صلاۃ میں آواز بہت بلند نہ کیجئے اور نہ ہی بہت پست بلکہ دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کیجئے (الاسراء: ١١٠) ، کے بارے میں کہتے ہیں: یہ آیت مکہ میں اس وقت نازل ہوئی جب آپ مکہ میں چھپے چھپے رہتے تھے، جب آپ اپنے صحابہ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے، مشرکین جب سن لیتے تو قرآن، قرآن نازل کرنے والے اور قرآن لانے والے سب کو گالیاں دیتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے کہا: «ولا تجهر بصلاتک» بلند آواز سے نماز نہ پڑھو (یعنی بلند آواز سے قرأت نہ کرو) کہ جسے سن کر مشرکین قرآن کو گالیاں دینے لگیں اور نہ دھیمی آواز سے پڑھو (کہ تمہارے صحابہ سن نہ سکیں) بلکہ درمیان کا راستہ اختیار کرو۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) said about the words of Allah: "And speak not your prayer aloud, not speak it low, but seek a middle course between." (17:110) That it was revealed to Allah’s Messenger ﷺ when he was hiding in Makkah and raised his voice when he offered salah with his sahabah while reciting the Quran. When the idolaters heard him, they abused the Qur’an and him who brought it, Allah said to His Prophet: "And do not raise your voice in your salah, that is in your recital." Lest the idolaters hear it and revile the Qur’an, "And do not speak low", with your sahabah, but "Seek a middle course between." [Ahmed 1853, Bukhari 4722, Muslim 446, Nisai 1007]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3146
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں نے حذیفہ بن یمان ؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ نے بیت المقدس میں نماز پڑھی تھی؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: بیشک پڑھی تھی، انہوں نے کہا: اے گنجے سر والے، تم ایسا کہتے ہو؟ کس بنا پر تم ایسا کہتے ہو؟ میں نے کہا: میں قرآن کی دلیل سے کہتا ہوں، میرے اور آپ کے درمیان قرآن فیصل ہے۔ حذیفہ ؓ نے کہا: جس نے قرآن سے دلیل قائم کی وہ کامیاب رہا، جس نے قرآن سے دلیل پکڑی وہ حجت میں غالب رہا، زر بن حبیش نے کہا: میں نے «سبحان الذي أسری بعبده ليلا من المسجدالحرام إلى المسجد الأقصی» ١ ؎ آیت پیش کی، حذیفہ ؓ نے کہا: کیا تم اس آیت میں کہیں یہ دیکھتے ہو کہ آپ نے نماز پڑھی ہے؟ میں نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: اگر آپ ( ﷺ ) نے وہاں نماز پڑھ لی ہوتی تو تم پر وہاں نماز پڑھنی ویسے ہی فرض ہوجاتی جیسا کہ مسجد الحرام میں پڑھنی فرض کردی گئی ہے ٢ ؎، حذیفہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس لمبی چوڑی پیٹھ والا جانور (براق) لایا گیا، اس کا قدم وہاں پڑتا جہاں اس کی نظر پہنچتی اور وہ دونوں اس وقت تک براق پر سوار رہے جب تک کہ جنت جہنم اور آخرت کے وعدہ کی ساری چیزیں دیکھ نہ لیں، پھر وہ دونوں لوٹے، اور ان کا لوٹنا ان کے شروع کرنے کے انداز سے تھا ٣ ؎ لوگ بیان کرتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے اسے (یعنی براق کو بیت المقدس میں) باندھ دیا تھا، کیوں باندھ دیا تھا؟ کیا اس لیے کہ کہیں بھاگ نہ جائے؟ (غلط بات ہے) جس جانور کو عالم الغیب والشھادۃ غائب و موجود ہر چیز کے جاننے والے نے آپ کے لیے مسخر کردیا ہو وہ کہیں بھاگ سکتا ہے؟ نہیں۔
Zirr ibn Hubaysh narrated: I asked Sayyidina Hudhayfah (RA) ibn Yaman whether Allah’s Messenger had offered salah in Bayt al-Maqdis He said, “No.” I said to him, “Yes, indeed” He remarked “You say that O Bald man, How do you say so?” I said “By the Qur’an. Between you and me is the Qur’an.” He said, “He who cites evidence from the Qur’an, indeed, prospers.” Sufyan narrated that the sub-narrator said (perhaps), “He has indeed given an argument” - or he said, “He has prospered.” Then Hudhayfah recited: "Glorified be He who carried His servant (Muhammad) by night from the Sacred Mosque (of Makkah) to the Remote Mosque (of Jerusalem)." (17: 1) Then he asked, “Do you trump up from this that he offered salah there?” I said, “No.” He said, “If he had offered salah there then that would have become wajib on you to offer salah there just as it is wajib to offer salah in the Masjid al-Haram.” Hudhayfah said further that a long-backed animal was brought to Allah’s Messenger ﷺ . Its stride was as long as the reach of its sight. And both of them did not dismount from the Buraq’s back till they had seen Paradise and Hell and the promises of the Hereafter. Then it returned leaving both of them to where they had begun. He said, “People say that it was tied in Bayt al-Maqdis (though it was not necessary). Why? Would it have escaped? Indeed, the Knower of the unknown and the known had subjected it to him, (the Prophet).
حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3147
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پاک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کو راتوں رات مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ تک۔ ٢ ؎: حذیفہ ؓ کا یہ بیان ان کے اپنے علم کے مطابق ہے، ورنہ احادیث میں واضح طور سے آیا ہے کہ آپ ﷺ نے وہاں انبیاء کی امامت کی تھی، اور براق کو وہاں باندھا بھی تھا جہاں دیگر انبیاء اپنی سواریاں باندھا کرتے تھے ( التحفۃ مع الفتح )۔ ٣ ؎: یعنی جس برق رفتاری سے وہ گئے تھے اسی برق رفتاری سے واپس بھی آئے۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن میں سارے انسانوں کا سردار ہوں گا، اور اس پر مجھے کوئی گھمنڈ نہیں ہے، میرے ہاتھ میں حمد (و شکر) کا پرچم ہوگا اور مجھے (اس اعزاز پر) کوئی گھمنڈ نہیں ہے۔ اس دن آدم اور آدم کے علاوہ جتنے بھی نبی ہیں سب کے سب میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے، میں پہلا شخص ہوں گا جس کے لیے زمین پھٹے گی (اور میں برآمد ہوں گا) اور مجھے اس پر بھی کوئی گھمنڈ نہیں ہے ، آپ نے فرمایا: (قیامت میں) لوگوں پر تین مرتبہ سخت گھبراہٹ طاری ہوگی، لوگ آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: آپ ہمارے باپ ہیں، آپ اپنے رب سے ہماری شفاعت (سفارش) کر دیجئیے، وہ کہیں گے: مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوچکا ہے جس کی وجہ سے میں زمین پر بھیج دیا گیا تھا، تم لوگ نوح کے پاس جاؤ، وہ لوگ نوح (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے، مگر نوح (علیہ السلام) کہیں گے: میں زمین والوں کے خلاف بد دعا کرچکا ہوں جس کے نتیجہ میں وہ ہلاک کیے جا چکے ہیں، لیکن ایسا کرو، تم لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ، وہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے، ابراہیم (علیہ السلام) کہیں گے: میں تین جھوٹ بول چکا ہوں ، آپ نے فرمایا: ان میں سے کوئی جھوٹ جھوٹ نہیں تھا، بلکہ اس سے اللہ کے دین کی حمایت و تائید مقصود تھی، البتہ تم موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ، تو وہ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے، موسیٰ (علیہ السلام) کہیں گے: میں ایک قتل کرچکا ہوں، لیکن تم عیسیی (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ۔ تو وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے، وہ کہیں گے: اللہ کے سوا مجھے معبود بنا لیا گیا تھا، تم لوگ محمد ﷺ کے پاس جاؤ، آپ نے فرمایا: لوگ میرے پاس (سفارش کرانے کی غرض سے) آئیں گے، میں ان کے ساتھ (دربار الٰہی کی طرف) جاؤں گا ، ابن جدعان (راوی حدیث) کہتے ہیں: انس نے کہا: مجھے ایسا لگ رہا ہے تو ان میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں، آپ نے فرمایا: میں جنت کے دروازے کا حلقہ (زنجیر) پکڑ کر اسے ہلاؤں گا، پوچھا جائے گا: کون ہے؟ کہا جائے گا: محمد ہیں، وہ لوگ میرے لیے دروازہ کھول دیں گے، اور مجھے خوش آمدید کہیں گے، میں (اندر پہنچ کر اللہ کے حضور) سجدے میں گر جاؤں گا اور حمد و ثنا کے جو الفاظ اور کلمے اللہ میرے دل میں ڈالے گا وہ میں سجدے میں ادا کروں گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا: اپنا سر اٹھائیے، مانگیے (جو کچھ مانگنا ہو) آپ کو دیا جائے گا۔ (کسی کی سفارش کرنی ہو تو) سفارش کیجئے آپ کی شفاعت (سفارش) قبول کی جائے گی، کہئے آپ کی بات سنی جائے گی۔ اور وہ جگہ (جہاں یہ باتیں ہوں گی) مقام محمود ہوگا جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «عسی أن يبعثک ربک مقاما محمودا» توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود میں بھیجے (بنی اسرائیل: ٧٩) ۔ سفیان ثوری کہتے ہیں: انس کی روایت میں اس کلمے «فآخذ بحلقة باب الجنة فأقعقعها» کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
Sayyidina Abu Saa’eed Khudri reported that Allah’s Messenger ﷺ said : I will be the chief of the children of Aadam on the Day of Resurrection - no boast about it. And, in my hand will be the standard of hamd (praise) and this is no boast. There will be no Prophet ﷺ that day, including Aadam, but will be under my standard, and I will be the first for whom the earth will be split open (on resurrection) - and this is no boast. People will be terrified three times. They will come to Aadam and say, “You are our father. So intercede for us with your Lord.” He will say, “I committed a sin for which I was sent down to the earth. But go to Nuh. So, they will come to Nuh and he will say. “I had prayed against the people of the earth (to be punished) and they were destroyed. But, go to Ibrahim.” They will come too Ibrahim and he will say, “I lied three times.” Allah’s Messenger ﷺ said: None of that was a lie except that he helped Allah’s religion with it. (Ibrahim will tell them.) “But, go to Musa.” So, they will come to Musa and he will say, “I had killed a soul. But go to Eesa.” They will go to Eesa. He will say, “I was worshipped at the exclusion of Allah. But go to Muhammad ﷺ .“ So, they will come to me and I will go with them. Ibn Jad’an reported that Anas said, “As though I see Allah’s Messenger!" (The Prophet’s saying continues:) I will take hold of the latch of the gate of Paradise and knock at it. It will asked, “Who is there?” Someone will answer, “(He is) Muhammad.” So, it will be opened for me and I will be welcomed. They will say, “Welcome!” And I will fall down in prostration and Allah will inspire me with (words of His) praise and glorification. I will be told, “Raise your head and ask. You will be given. Intercede and t will be accepted. And say, your word will be heard.” This is al-Maqaam al-Mahmud (Praised Station) about which Allah has said: "Soon your Lord will raise you to a Station Praised." (17: 79) Sufyan said that the version of Anas also has the Prophet’s ﷺ saying. “I will take hold of the latch of the gate of Paradise and knock at it.” [Ahmed 10987, Ibn e Majah 4308, Muslim 2278]
صحيح، ابن ماجة (4308)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3148
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- بعض محدثین نے یہ پوری حدیث ابونضرہ کے واسطہ سے ابن عباس سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٧ (٤٣٠٨) (تحفة الأشراف: ٤٣٦٧) (صحیح) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے کہا کہ نوف بکالی کہتا ہے کہ بنی اسرائیل والے موسیٰ خضر والے موسیٰ (علیہما السلام) نہیں ہیں، ابن عباس ؓ نے کہا: اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا، میں نے ابی بن کعب کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل میں ایک دن تقریر کی، ان سے پوچھا گیا (اس وقت) لوگوں میں سب سے زیادہ علم والا کون ہے؟ کہا: میں سب سے زیادہ علم والا ہوں، یہ بات اللہ کو ناگوار ہوئی کہ انہوں نے «اللہ اعلم» (اللہ بہتر جانتا ہے) نہیں کہا، اللہ نے ان کی سرزنش کی اور ان کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ «مجمع البحرین» (دو سمندروں کے سنگم) کے مقام پر ہے، وہ تم سے بڑا عالم ہے، موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے میرے رب! میری ان سے ملاقات کی صورت کیا ہوسکتی ہے؟ اللہ نے کہا: «زنبیل» (تھیلے) میں ایک مچھلی رکھ لو پھر جہاں مچھلی غائب ہوجائے وہیں میرا وہ بندہ تمہیں ملے گا، موسیٰ چل پڑے ان کے ساتھ ان کے خادم یوشع بن نون بھی تھے، موسیٰ نے ایک مچھلی ٹوکری میں رکھ لی، دونوں چلتے چلتے صخرہ (چٹان) کے پاس پہنچے، اور وہاں سو گئے، (سونے کے دوران) مچھلی تڑپی، تھیلے سے نکل کر سمندر میں جا گری، ابن عباس ؓ کہتے ہیں: مچھلی کے گرتے ہی اللہ تعالیٰ نے پانی کے بہاؤ کو روک دیا، یہاں تک کہ ایک محراب کی صورت بن گئی اور مچھلی کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ آنے جانے کا راستہ بن گیا، موسیٰ اور ان کے خادم کے لیے یہ حیرت انگیز چیز تھی، وہ نیند سے بیدار ہو کر باقی دن و رات چلتے رہے، موسیٰ کا رفیق سفر انہیں یہ بتانا بھول گیا کہ فلاں مقام پر مچھلی تھیلے سے نکل کر سمندر میں جا چکی ہے، صبح ہوئی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم سے کہا: بھئی ہمارا ناشتہ لاؤ، ہم تو اس سفر میں بہت تھک چکے ہیں، ابن عباس ؓ کہتے ہیں: موسیٰ (علیہ السلام) کو تھکان اس جگہ سے آگے بڑھ جانے کے بعد ہی لاحق ہوئی جس جگہ اللہ نے انہیں پہنچنے کا حکم دیا تھا، غلام نے کہا: بھلا دیکھئیے تو سہی (کیسی عجیب بات ہوئی) جب ہم چٹان پر فروکش ہوئے تھے (کچھ دیر آرام کے لیے) تو میں آپ سے مچھلی کا ذکر کرنا بھول ہی گیا، اور شیطان کے سوا مجھے کسی نے بھی اس کے یاد دلانے سے غافل نہیں کیا ہے، وہ تو حیرت انگیز طریقے سے سمندر میں چلی گئی، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: یہی تو وہ جگہ تھی جس کی تلاش میں ہم نکلے تھے، پھر وہ اپنے نشان قدم دیکھتے ہوئے پلٹے، وہ اپنے قدموں کے نشان ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر چل رہے تھے (تاکہ صحیح جگہ پر پہنچ جائیں) (سفیان (راوی) کہتے ہیں: کچھ لوگ سمجھتے ہیں اس چٹان کے قریب چشمہ حیات ہے، جس کسی مردے کو اس کا پانی چھو جائے وہ زندہ ہوجاتا ہے) ، مچھلی کچھ کھائی جا چکی تھی۔ مگر جب پانی کے قطرے اس پر پڑے تو وہ زندہ ہوگئی، دونوں اپنے نشانات قدم دیکھ کر چلے یہاں تک کہ چٹان کے پاس پہنچ گئے وہاں سر ڈھانپے ہوئے ایک شخص کو دیکھا، موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں سلام عرض کیا، انہوں نے کہا: تمہارے اس ملک میں سلام کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: میں موسیٰ ہوں، (اور میری شریعت میں سلام ہے) انہوں نے پوچھا: بنی اسرائیل والے موسیٰ؟ کہا: ہاں، انہوں نے کہا: اے موسیٰ اللہ کے (بےشمار اور بےانتہائی) علوم میں سے تمہارے پاس ایک علم ہے، اللہ نے تمہیں سکھایا ہے جسے میں نہیں جانتا، اور مجھے بھی اللہ کے علوم میں سے ایک علم حاصل ہے، اللہ نے مجھے وہ علم سکھایا ہے، جسے تم نہیں جانتے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: میں آپ کے ساتھ ساتھ رہوں تو کیا آپ مجھے اللہ نے آپ کو رشد و ہدایت کی جو باتیں سکھائیں ہیں انہیں سکھا دیں گے؟ انہوں نے کہا: آپ میرے پاس ٹک نہیں سکتے، اور جس بات کا آپ کو علم نہیں آپ (اسے بظاہر خلاف شرع دیکھ کر) کیسے خاموش رہ سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں ان شاء اللہ جموں (اور ٹکوں) گا اور کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی (اور مخالفت) نہیں کروں گا۔ ان سے خضر (علیہ السلام) نے کہا: اگر آپ میرے ساتھ رہنا ہی چاہتے ہیں تو (دھیان رہے) کسی چیز کے بارے میں بھی مجھ سے مت پوچھیں اور حجت بازی نہ کریں جب تک کہ میں خود ہی آپ کو اس کے بارے میں بتا نہ دوں، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: ہاں ہاں، (بالکل ایسا ہی ہوگا) پھر خضر و موسیٰ چلے، دونوں سمندر کے ساحل سے لگ کر چلے جا رہے تھے کہ ان کے قریب سے ایک کشتی گزری، ان دونوں نے کشتی والوں سے بات کی کہ ہمیں بھی کشتی پر سوار کرلو، (باتوں ہی باتوں میں) انہوں نے خضر کو پہچان لیا، ان دونوں کو کشتی پر چڑھا لیا، اور ان سے کرایہ نہ لیا، مگر خضر (علیہ السلام) کشتی کے تختوں میں سے ایک تختے کی طرف بڑھے اور اسے اکھاڑ دیا، (یہ دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) سے صبر نہ ہوا) بول پڑے، ایک تو یہ (کشتی والے شریف) لوگ ہیں کہ انہوں نے بغیر کرایہ بھاڑا لیے ہمیں کشتی پر چڑھا لیا اور ایک آپ ہیں کہ آپ نے ان کی کشتی کی طرف بڑھ کر اسے توڑ دیا تاکہ انہیں ڈبو دیں، یہ تو آپ نے بڑا برا کام کیا، انہوں نے کہا: کیا میں آپ سے پہلے ہی نہیں کہہ چکا ہوں کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکتے؟ (خاموش نہیں رہ سکتے) موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: آپ اس پر میری گرفت نہ کریں میں بھول گیا تھا (کہ میں نے آپ سے خاموش رہنے کا وعدہ کر رکھا ہے) اور آپ میرے کام و معاملے میں دشواریاں کھڑی نہ کریں، پھر وہ دونوں کشتی سے اتر کر ساحل کے کنارے کنارے چلے جا رہے تھے کہ اچانک ایک لڑکا انہیں اور لڑکوں کے ساتھ کھیلتا ہوا ملا، خضر نے اس کا سر پکڑا اور اپنے ہاتھ سے اس کی کھوپڑی سر سے اتار کر اسے مار ڈالا، (موسیٰ سے پھر رہا نہ گیا) موسیٰ نے کہا: آپ نے بغیر کسی قصاص کے ایک اچھی بھلی جان لے لی، یہ تو آپ نے بڑی گھناونی حرکت کی ہے۔ انہوں نے کہا: میں تو آپ سے پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کرسکیں گے۔ (کچھ نہ کچھ ضرور بول بیٹھیں گے راوی) کہتے ہیں اور یہ تو پہلے سے بھی زیادہ سخت معاملہ تھا، (اس میں وہ کیسے خاموش رہتے) موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: (یہ بھول بھی ہو ہی گئی) اب اگر میں اس کے بعد کسی چیز کے بارے میں کچھ پوچھ بیٹھوں تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھئیے، میرے سلسلے میں آپ عذر کو پہنچے ہوئے ہوں گے، پھر وہ دونوں آگے بڑھے، ایک گاؤں میں پہنچ کر گاؤں والوں سے کہا: آپ لوگ ہماری ضیافت کریں مگر گاؤں والوں نے انہیں اپنا مہمان بنانے سے انکار کردیا، وہاں انہیں ایک دیوار دکھائی دی جو گری پڑتی تھی، راوی کہتے ہیں: جھکی ہوئی تھی تو خضر (علیہ السلام) نے ہاتھ (بڑھا کر) دیوار سیدھی کھڑی کردی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا: یہ تو (ایسی گئی گزری) قوم ہے کہ ہم ان کے پاس آئے، مگر انہوں نے ہماری ضیافت تک نہ کی، ہمیں کھلایا پلایا تک نہیں، آپ چاہتے تو ان سے دیوار سیدھی کھڑی کردینے کی اجرت لے لیتے۔ خضر (علیہ السلام) نے کہا: اب آ گئی ہے ہماری تمہاری جدائی کی گھڑی، جن باتوں پر تم صبر نہ سکے میں تمہیں ان کی حقیقت بتائے دیتا ہوں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ موسیٰ پر رحم فرمائے، ہمارے لیے تو یہ پسند ہوتا کہ وہ صبر کرتے تو ہم ان دونوں کی (عجیب و غریب) خبریں سنتے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پہلی بار تو موسیٰ (علیہ السلام) سے بھول ہوئی تھی ، آپ نے فرمایا: (اسی موقع پر) ایک گوریا آئی اور کشتی کے ایک کنارے بیٹھ گئی پھر سمندر سے اپنی چونچ مار کر پانی نکالا، خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو متوجہ کر کے کہا: اس چڑیا کے سمندر میں چونچ مارنے سے جو کمی ہوئی ہے وہی حیثیت اللہ کے علم کے آگے ہمارے اور تمہارے علم کی ہے، (اس لیے متکبرانہ جملہ کہنے کے بجائے «اللہ اعلم» کہنا زیادہ بہتر ہوتا) ۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: ابن عباس «وكان أمامهم ملك يأخذ کل سفينة صالحة غصبا وکان يقرأ وأما الغلام فکان کافرا» ٢ ؎ پڑھا کرتے تھے۔
Sa’eed ibn Jubayr said that he told Ibn Abbas (RA) that Nawf al-Bikali believed that Musa of the Banu Israel was not (the same as) Musa of Khidr, He replied, “The enemy of Allah lies.” Then he said that he had heard Ubayy ibn Ka’b say that he heard Allah’s Messenger ﷺ say: Musa stood up among the Banu Israel to deliver a sermon. He was asked, “Which of mankind is the most learned?” He said, “I am the most learned.” Allah admonished him for not attributing knowledge to Him (Allah). So Allah revealed to him, “A slave among My slaves at the meeting point of the two seas is more learned than you.” Musa said, “O Lord! How can I go to him?” He said to him, “Take a fish in your basket. Wherever you lose the fish - that is the place where he is” So he went with him went his servant he was Yusha’ ibn Nun Musa placed the fish in the basket and he and his servant departed. They walked till they came to a rock. Musa and his servant lied down there. The fish stirred within the basket and came out of it and dropped into the sea. Allah stopped the current of the water so that it was like a tunnel and there was a passage for the fish. For Musa and his servant it was strange. They departed walking the remainder of their day and their night, and the servant of Musa forgot to inform him. When it was morning, Musa said to his servant: "Bring us our breakfast, certainly we have encountered fatigue from this journey of ours.” (18:62) Indeed, Musa did not feel fatigued but only after they had gone past the place which they had been commanded to seek. The servant said: "Did you see when we took refuge on the rock, then I indeed forgot the fish - and none but Satan made me forget that I should speak of it - and it took its way into the sea; what a wonder!"(18:63) Musa said: "That is what we were seeking." (18: 64) “So they returned retracing their footsteps.” (18: 64) They both returned retracing their footsteps. Sufyan said that people imagine that at this rock lies the spring of life to which no dead thing is brought but it revives. The fish had been eaten partly but drops of; ter poured on it, it revived. So they retraced their footsteps till they were at the rock. They observed a man covered with a garment. Musa greeted him (with salaam). He asked, “is there (a greeting like) salaam on your land?’ He said, “I am Musa.” He asked, “Musa of Banu Israel?” He said, “Yes.” He said, “Musa, you have knowledge from Allah that Alalh taught you but He did not teach me. And, I possess knowledge from Allah that He taught me but did not teach you.” Musa pleaded: "May I follow you, so that you may teach me of what you have been taught of right judgment." (18:66) He said: "Surely you will not be able to bear with me patiently. And how can you have patience in that you have not encompassed in (your) knowledge?’ He said, “If Allah will you shall find me patient; and I shall not disobey you in any affair.” (18: 67-69) Khidr said in response to him: "If you follow me, question me not about anything until I muself mention it to you about it."(18: 70) He said, “Yes. So they - Khidr and Musa - departed walking along the coast, when a boat passed by them. They requested them to let them board it and they recognized Khidr and took them on board without any fare. Khidr pulled out a plank of the boat. Musa said to him, “These people took us in without fare but you damaged it with a hole that it may drown.” He added: "In order to drown its occupants. You have certainly done a grievous thing." (18: 71) He said: "Did I not say that you would not be able to bear with me patiently?" He (Musa) said: Reproach me not for what I forgot, and oppress me not in my affair distressingly." (18: 73) Then they came out of the boat. While they were walking along the coast, they came across a boy playing with other two lads. Khidr grabbed him by his head and jerked him by his hand and killed him. So, Musa said to him: "Have you slain an innocent person who has slain no one. Certainly you have done a horrible thing." (18: 74) He said reminding him: "Did I not say to you that you would not be able to bear with me patiently?" (18: 75) And, indeed, this was more severe than the first time. He (Musa) pleaded: If I question you about anything after this, keep not company with me; indeed you have received an excuse from me. ”So they departed until, when they came to the people of a township, they asked its people for food, but they refused to entertain them as guests. Then they found therein a wall about to fall down." (18: 76-77) That is, leaning down and Khidr gestured to it with his hand like this, "and so he set it up." (18:77) So, Musa protested, “A people to whom we came but they did not play host to us and did not serve us food.” And, also: if you had wished you could have taken a wage for it.” He (Khidr) said, “This is the parting between me and you. Now I will inform you the interpretation of that you were not able to bear patiently." (18: 77-78). (Allah’s Messenger’s ﷺ narration continues :) May Allah have mercy on Musa! We wish that Musa had shown patience until (Allah) described to us more about the two of them! The first - it was from Musa’s forgetfulness. Then a swallow came and sitting on the edge of the boat, dipped its beak in the sea. Khidr thereupon said to Musa, “My knowledge and your knowledge have not lessened Allah’s knowledge even so much as this sparrow has withdrawn from the sea.” Sa’eed ibn Jubayr said that Ibn Abbas (RA) recited: "And there was before them a king who seized every perfect boat forcibly." And he recited: "And as for the lad, he was a disbeliever." [Ahmed 21167, Bukhari 74, Muslim 2380, Abu Dawud 4707]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3149
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس حدیث کو زہری نے عبیداللہ بن عتبہ سے عبیداللہ نے ابن عباس سے اور ابن عباس نے ابی بن کعب ؓ کے واسطہ سے، نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ اور اس حدیث کو ابواسحاق ہمدانی نے بھی سعید بن جبیر سے، سعید نے ابن عباس سے اور ابن عباس نے ابی بن کعب ؓ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، ٣- میں نے ابومزاحم سمرقندی کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے علی ابن مدینی کو سنا وہ کہتے تھے: میں نے حج کیا، اور میرا حج سے مقصد صرف یہ تھا کہ میں سفیان سے خود سن لوں کہ وہ اس حدیث میں خبر یعنی لفظ «اخبرنا» استعمال کرتے ہیں (یا نہیں) چناچہ میں نے سنا، انہوں نے «حدثنا عمرو بن دینار …» کا لفظ استعمال کیا۔ اور میں اس سے پہلے بھی سفیان سے یہ سن چکا تھا اور اس میں خبر (یعنی «اخبرنا» ) کا ذکر نہیں تھا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک ( صحیح سالم ) کشتی کو جبرا ضبط کرلیتا تھا ( الکہف: ٧٩)، ( موجودہ مصاحف میں «صالحۃ» کا لفظ نہیں ہے۔ ٢ ؎: اور وہ لڑکا کافر تھا جیسا کہ قرآن میں ہے: «وأما الغلام فکان أبواه مؤمنين فخشينا أن يرهقهما طغيانا وکفرا» (الكهف: 80 ) اور جہاں تک اس لڑکے کا تعلق ہے تو اس کے ماں باپ ایمان والے تھے، چناچہ ہم ڈر گئے کہ ایسا نہ ہو یہ لڑکا بڑا ہو کر اپنے ماں باپ کو بھی شرارت و سرکشی اور کفر میں ڈھانپ دے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خضر نام اس لیے پڑا کہ وہ سوکھی ہوئی گھاس پر بیٹھے، تو وہ ہری گھاس میں تبدیل ہوگئی (یہ اللہ کی طرف سے معجزہ تھا) ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, ‘He was named Khidr because he sat down on barren land which turned green below him.” (Khidr means ‘green.) [Ahmed 8119, Bukhari 3402]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3151