Sunan At-Tirmidhi 3142

قرآن کی تفسیر کا بیان

3142Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت بنی اسرائیل

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةَ أَصْنَافٍ: صِنْفًا مُشَاةً، وَصِنْفًا رُكْبَانًا، وَصِنْفًا عَلَى وُجُوهِهِمْ ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ يَمْشُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ ؟ قَالَ: إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَقْدَامِهِمْ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ، أَمَا إِنَّهُمْ يَتَّقُونَ بِوُجُوهِهِمْ كُلَّ حَدَبٍ وَشَوْكٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَى وُهَيْبٌ، عَنِ ابْن طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ هَذَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن لوگ تین طرح سے جمع کئے جائیں گے، ایک گروہ چل کر آئے گا، اور ایک گروہ سوار ہو کر آئے گا اور ایک گروہ اپنے منہ کے بل آئے گا ۔ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! وہ لوگ اپنے منہ کے بل کیسے چلیں گے؟ آپ نے فرمایا: جس نے انہیں قدموں سے چلایا ہے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ وہ انہیں ان کے منہ کے بل چلا دے، سنو (یہی نہیں ہوگا کہ وہ چلیں گے بلکہ) وہ منہ ہی سے ہر بلندی (نشیب و فراز) اور کانٹے سے بچ کر چلیں گے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “On the Day of Resurrection, mankind will be gathered in three categories - a category of those walking on foot, another of riders and the third of those walking on their faces.” Someone asked, “O Messenger of Allah, how would they walk on their faces?” He said, ‘Surely, he who makes them walk on their feet is Able to make them walk on their faces. Know that they will walk on their faces safeguarding from every ascent and thorn.” [Ahmed 8763]

ضعيف، المشکاة (5546 / التحقيق الثاني)، التعليق الرغيب (4 / 194) // ضعيف الجامع الصغير (6417) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3142
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- وہیب نے ابن طاؤس سے اور انہوں نے اپنے باپ طاؤس سے اور طاؤس نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اس حدیث کا کچھ حصہ روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مؤلف یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ « ونحشرهم يوم القيامة علی وجوههم» (الإسراء: ٩٧)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٢٢٠٣) (ضعیف) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں)