قرآن کی تفسیر کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 43 · 445 hadiths · Page 11 of 22

3153Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت کہف

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، المعنى واحد واللفظ لِمُحَمَّدِ بن بشار، قَالُوا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّدِّ، قَالَ: يَحْفِرُونَهُ كُلَّ يَوْمٍ حَتَّى إِذَا كَادُوا يَخْرِقُونَهُ، قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمْ: ارْجِعُوا فَسَتَخْرِقُونَهُ غَدًا، فَيُعِيدُهُ اللَّهُ كَأَمْثَلِ مَا كَانَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ مُدَّتَهُمْ، وَأَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَبْعَثَهُمْ عَلَى النَّاسِ، قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمْ: ارْجِعُوا فَسَتَخْرِقُونَهُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَاسْتَثْنَى، قَالَ: فَيَرْجِعُونَ فَيَجِدُونَهُ كَهَيْئَتِهِ حِينَ تَرَكُوهُ فَيَخْرِقُونَهُ فَيَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ فَيَسْتَقُونَ الْمِيَاهَ، وَيَفِرُّ النَّاسُ مِنْهُمْ فَيَرْمُونَ بِسِهَامِهِمْ فِي السَّمَاءِ فَتَرْجِعُ مُخَضَّبَةً بِالدِّمَاءِ، فَيَقُولُونَ: قَهَرْنَا مَنْ فِي الْأَرْضِ وَعَلَوْنَا مَنْ فِي السَّمَاءِ قَسْوَةً وَعُلُوًّا فَيَبْعَثُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ نَغَفًا فِي أَقْفَائِهِمْ فَيَهْلِكُونَ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ دَوَابَّ الْأَرْضِ تَسْمَنُ وَتَبْطَرُ وَتَشْكَرُ شَكَرًا مِنْ لُحُومِهِمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِثْلَ هَذَا.

ابورافع، ابوہریرہ ؓ کی رسول اللہ ﷺ سے مروی حدیث میں سے «سد» (سکندری) سے متعلق حصہ بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: (یاجوج و ماجوج اور ان کی ذریت) اسے ہر دن کھودتے ہیں، جب وہ اس میں شگاف ڈال دینے کے قریب پہنچ جاتے ہیں تو ان کا نگراں (جو ان سے کام کرا رہا ہوتا ہے) ان سے کہتا ہے: واپس چلو کل ہم اس میں سوراخ کردیں گے، ادھر اللہ اسے پہلے زیادہ مضبوط و ٹھوس بنا دیتا ہے، پھر جب ان کی مدت پوری ہوجائے گی اور اللہ ان کو لوگوں تک لے جانے کا ارادہ کرے گا، اس وقت دیوار کھودنے والوں کا نگراں کہے گا: لوٹ جاؤ کل ہم اسے ان شاء اللہ توڑ دیں گے ، آپ نے فرمایا: پھر جب وہ (اگلے روز) لوٹ کر آئیں گے تو وہ اسے اسی حالت میں پائیں گے جس حالت میں وہ اسے چھوڑ کر گئے تھے ١ ؎، پھر وہ اسے توڑ دیں گے، اور لوگوں پر نکل پڑیں گے (ٹوٹ پڑیں گے) سارا پانی پی جائیں گے، لوگ ان سے بچنے کے لیے بھاگیں گے، وہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھیکیں گے، تیر خون میں ڈوبے ہوئے واپس آئیں گے، وہ کہیں گے کہ ہم زمین والوں پر غالب آ گئے اور آسمان والے سے بھی ہم قوت و بلندی میں بڑھ گئے (یعنی اللہ تعالیٰ سے) پھر اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کر دے گا جس سے وہ مرجائیں گے ، آپ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، زمین کے جانور ان کا گوشت کھا کھا کر موٹے ہوجائیں گے اور اینٹھتے پھریں گے ٢ ؎۔

Abu Rafi’ reported on the authority of Sayyidina Abu Hurayrah (RA) that Allah’s Messenger ﷺ said about the Sadd: They (Yajuj and Majuj) dig it every day till they nearly bore a hole in it. Then he who is over them (their chief) says, “Return. We shall bore the hole tomorrow.” So, (they go away and) Allah replaces it stronger than before (This) till the term appointed arrives and Allah intends that they should go and overpower mankind, and the one who is over them will say, “Return. We shall bore the hole tomorrow if Allah wills” - included this proviso. Thus, they will return and find it exactly as they had left it and they will bore the hole and pounce on the people. They will drink all their water (and dry them out). The people will flee from them. They (Yajuj Majuj) will shoot arrows towards the sky and the arrows will come back to them with blood thereon. They will boast, “We have subdued those on earth and have overpowered those in the sky”, showing their hard-heartedness and pride. Then, Allah will grow a worm in their necks and they will perish. And by Him in Whose Hand is the soul of Muhammad the beasts of the earth will fatten and flourish and give thanks on (eating) their flesh. [Ahmed 10637, Ibn e Majah 4080]

صحيح، ابن ماجة (4080)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3153
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے ایسے ہی جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اس نے اس بار «إن شاء اللہ» کہا ہوگا، پہلے وہ ایسا کہنا بھول جایا کرے گا کیونکہ اللہ کی یہی مصلحت ہوگی۔ ٢ ؎: مؤلف یہ حدیث ارشاد باری: «إن يأجوج ومأجوج مفسدون في الأرض » (الکہف: ٩٤) کی تفسیر میں لائے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٣ (٤٠٨٠) (تحفة الأشراف: ١٤٦٧٠)، و مسند احمد (٢/٥١٠-٥١١) (صحیح) (سند میں انقطاع ہے اس لیے کہ قتادہ کا سماع ابو رافع سے نہیں ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو الصحیحة رقم: ١٧٣٥)
3154Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت کہف

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِيأَبِي، عَنِ ابْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي سَعْدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا جَمَعَ اللَّهُ النَّاسَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ يَوْمَ لَا رَيْبَ فِيهِ نَادَى مُنَادٍ مَنْ كَانَ أَشْرَكَ فِي عَمَلٍ عَمِلَهُ لِلَّهِ أَحَدًا فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ.

ابوسعید بن ابی فضالہ انصاری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے دن جس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے جمع کرے گا تو پکارنے والا پکار کر کہے گا: جس نے اللہ کے واسطے کوئی کام کیا ہو اور اس کام میں کسی کو شریک کرلیا ہو، وہ جس غیر کو اس نے شریک کیا تھا اسی سے اپنے عمل کا ثواب مانگ لے، کیونکہ اللہ شرک سے کلی طور پر بیزار و بےنیاز ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Sa’eed ibn Abu Fadalah al-Ansari.who was One of the sahabah reported that he heard Allah’s Messenger say, “When- Allah will gather -mankind on the Day of Resurrection- a day of which there is no doubt - a crier will proclaim, “He who associated in his deeds (someone) which is done for Allah alone, must demand its reward from (that) other than Allah - for, Allah is independent of partners and of association.” [Ahmed 15838, Ibn e Majah 4203, Muslim 2985] --------------------------------------------------------------------------------

حسن، ابن ماجة (4203)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3154
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن بکر کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مؤلف یہ حدیث ارشاد باری «فمن کان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا ولا يشرک بعبادة ربه أحدا» (الكهف: 110 ) کی تفسیر میں لائے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٢١ (٤٢٠٣) (تحفة الأشراف: ١٢٠٤٤) (حسن)
3152Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت کہف

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ الْجَزَرِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يُوسُفَ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي قَوْلِهِ: وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا سورة الكهف آية 82، قَالَ: ذَهَبٌ وَفِضَّةٌ . حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلالُ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يُوسُفَ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے قول «وكان تحته كنز لهما» ان دونوں یتیم بچوں کا خزانہ ان کی اس دیوار کے نیچے دفن تھا (الکہف: ٨٢) ، کے بارے میں فرمایا: کنز سے مراد سونا چاندی ہے ۔

Sayyidina Abu Darda (RA) reported from the Prophet ﷺ about Allah’s words: "And there was beneath it a treasure belonging to them." (18:82)

(الحديث الذي في سنده: يزيد بن يوسف عن مکحول) ضعيف جدا، (الحديث الذي في سنده يزيد بن يزيد بن جابر عن مکحول) ضعيف جدا، الروض النضير (940) (الحديث الذي في سنده: يزيد بن يوسف عن مکحول) ضعيف جدا، (الحديث الذي في سنده يزيد بن يزيد بن جابر عن مکحول) ضعيف جدا، الروض النضير (940)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3152 اس سند سے یزید بن یزید بن جابر کے واسطہ سے مکحول سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث آئی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3152
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٩٩٦) (ضعیف) (سند میں یزید بن یوسف الصنعانی ضعیف راوی ہیں) * تخريج (م): انظر ماقبلہ (ضعیف)
3155Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت مریم

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، وَأَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى نَجْرَانَ، فَقَالُوا لِي: أَلَسْتُمْ تَقْرَءُونَ يَا أُخْتَ هَارُونَ وَقَدْ كَانَ بَيْنَ عِيسَى، وَمُوسَى مَا كَانَ، فَلَمْ أَدْرِ مَا أُجِيبُهُمْ، فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: أَلَا أَخْبَرْتَهُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يُسَمُّونَ بِأَنْبِيَائِهِمْ وَالصَّالِحِينَ قَبْلَهُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے نجران بھیجا (وہاں نصاریٰ آباد تھے) انہوں نے مجھ سے کہا: کیا آپ لوگ «يا أخت هارون» ١ ؎ نہیں پڑھتے؟ جب کہ موسیٰ و عیسیٰ کے درمیان (فاصلہ) تھا جو تھا ٢ ؎ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ میں انہیں کیا جواب دوں؟ میں لوٹ کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو بتایا، تو آپ نے فرمایا: تم نے انہیں کیوں نہیں بتادیا کہ لوگ اپنے سے پہلے کے انبیاء و صالحین کے ناموں پر نام رکھا کرتے تھے ٣ ؎۔

Sayyidina Mughirah ibn Shu’bah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ sent him to Najran (to the Christians there). They asked him, “Do you not recite: "O sister of (the household of) Harun!. (19:28 in reference to Sayyidah Maryam (AS)). While there has been a long period between Sayyidina Musa and Eesa ?“ He did not know how to answer them, so he returned to the Prophet ﷺ and informed him (about it). He asked him, “Did you not tell them that they used to name (their children) after their Prophets and righteous people who had preceded them?” [Ahmed 18226, Muslim 2135]

حسن مختصر تحفة الودودصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3155
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح غریب ہے، اور ہم اسے صرف ابن ادریس ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اے ہارون کی بہن تیرا باپ غلط آدمی نہیں تھا، اور نہ تیری ماں بدکار تھی۔ ٢ ؎: پھر تو یہ بات غلط ہے کیونکہ یہاں خطاب مریم سے ہے مریم کو ہارون کی بہن کہا گیا ہے، ہارون موسیٰ کے بھائی تھے، اور موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) کے زمانوں میں ایک لمبا فاصلہ ہے، پھر مریم کو ہارون کی بہن کہنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے؟۔ ٣ ؎: یعنی آیت میں جس ہارون کا ذکر ہے وہ مریم کے بھائی ہیں، اور وہ ہارون جو موسیٰ کے بھائی ہیں وہ اور ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الآداب ١ (٢١٣٥) (تحفة الأشراف: ١١٥١٩) (صحیح)
3156Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت مریم

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيل أَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ سورة مريم آية 39، قَالَ: يُؤْتَى بِالْمَوْتِ كَأَنَّهُ كَبْشٌ أَمْلَحُ حَتَّى يُوقَفَ عَلَى السُّورِ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَيُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، فَيَشْرَئِبُّونَ، وَيُقَالُ: يَا أَهْلَ النَّارِ، فَيَشْرَئِبُّونَ، فَيُقَالُ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ، فَيُضْجَعُ فَيُذْبَحُ فَلَوْلَا أَنَّ اللَّهَ قَضَى لِأَهْلِ الْجَنَّةِ الْحَيَاةَ فِيهَا وَالْبَقَاءَ لَمَاتُوا فَرَحًا، وَلَوْلَا أَنَّ اللَّهَ قَضَى لِأَهْلِ النَّارِ الْحَيَاةَ فِيهَا وَالْبَقَاءَ لَمَاتُوا تَرَحًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت «وأنذرهم يوم الحسرة» اے نبی! ان کو حسرت و افسوس کے دن سے ڈراؤ (مریم: ٣٩) ، پڑھی (پھر) فرمایا: موت چتکبری بھیڑ کی صورت میں لائی جائے گی اور جنت و جہنم کے درمیان دیوار پر کھڑی کردی جائے گی، پھر کہا جائے گا: اے جنتیو! جنتی گردن اٹھا کر دیکھیں گے، پھر کہا جائے گا: اے جہنمیو! جہنمی گردن اٹھا کر دیکھنے لگیں گے، پوچھا جائے گا: کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ سب کہیں گے: ہاں، یہ موت ہے، پھر اسے پہلو کے بل پچھاڑ کر ذبح کردیا جائے گا، اگر اہل جنت کے لیے زندگی و بقاء کا فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا تو وہ خوشی سے مرجاتے، اور اگر اہل جہنم کے لیے جہنم کی زندگی اور جہنم میں ہمیشگی کا فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا تو وہ غم سے مرجاتے ۔

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) is reported that Allah’s Messenger ﷺ recited: "And warm them of the day of anguish." (19: 39) He said, Death will be brought in the form of a black and white ram and stopped at the fence between Paradise and Hell. A crier will call out, “O people of Paradise!” They will raise their heads and look carefully. Then he will call out, “O People of Hell!” They will stretch their necks and look carefully. He will ask, “Do you recognize this?” They will answer, “Yes, this is death.” Then it will be made to lie down and slaughtered." Thus had Allah not decreed eternal life for the ‘ people of Paradise, they would have died of joy?d, had he not decreed eternal life for the inhabitants of Hell, there, they would have died of grief. [Ahmed 11066, Bukhari 4730]

صحيح دون قوله: فلولا أن اللہ قضی ... انظر الحديث (2696، 2683) // (465 - 2696) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3156
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر مریم ١ (٤٧٣٠)، صحیح مسلم/الجنة ١٣ (٢٨٤٩) (تحفة الأشراف: ٤٠٠٢) (صحیح)
3157Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت مریم

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، فِي قَوْلِهِ: وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا سورة مريم آية 57 قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَمَّا عُرِجَ بِي رَأَيْتُ إِدْرِيسَ فِي السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَهَمَّامٌ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَ الْمِعْرَاجِ بِطُولِهِ وَهَذَا عِنْدَنَا مُخْتَصَرٌ مِنْ ذَاكَ.

قتادہ آیت «ورفعناه مکانا عليا» ١ ؎ کے تعلق سے کہتے ہیں کہ ہم سے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب مجھے معراج کرائی گئی تو میں نے ادریس (علیہ السلام) کو چوتھے آسمان پر دیکھا ۔

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3157
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور سعید بن ابی عروہ، ہمام اور کئی دیگر راویوں نے قتادہ سے، قتادہ نے انس سے اور انس نے مالک بن صعصعہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے حدیث معراج پوری کی پوری روایت کی، اور یہ ہمارے نزدیک اس سے مختصر ہے، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری خدری ؓ بھی نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٣٠٤) (صحیح)
3158Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت مریم

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا ؟ قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلا بِأَمْرِ رَبِّكَ سورة مريم آية 64 إِلَى آخِرِ الْآيَةَ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ، نَحْوَهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) سے فرمایا: جتنا آپ ہمارے پاس آتے ہیں، اس سے زیادہ آنے سے آپ کو کیا چیز روک رہی ہے؟ اس پر آیت «وما نتنزل إلا بأمر ربك» تمہارے رب کے حکم ہی سے اترتے ہیں اسی کے پاس ان تمام باتوں کا علم ہے جو ہمارے آگے ہیں، جو ہمارے پیچھے ہیں، اور ان کے درمیان ہیں (مریم: ٦٤) ، نازل ہوئی۔

Sayyifina lbn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ asked Jibril “What prevents you from visiting us more often than you do?” So, this verse was revealed: "And we (the angels) descend no ut by the command of your Lord. To Him belongs whatsoever is before us, and whatsoever is behind us." (19: 64)

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3158
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- ہم سے حسین بن حریث نے بیان کیا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا اور وکیع نے عمر بن ذر سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٦ (٣٢١٨)، وتفسیر سورة مریم ٥ (٤٧٣١)، والتوحید ٢٨ (٧٤٥٥) (تحفة الأشراف: ٥٥٠٥) (صحیح)
3159Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت مریم

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ السُّدِّيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيَّ، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِنْ مِنْكُمْ إِلا وَارِدُهَا سورة مريم آية 71 فَحَدَّثَنِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثُمَّ يَصْدُرُونَ مِنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ، فَأَوَّلُهُمْ كَلَمْحِ الْبَرْقِ ثُمَّ كَالرِّيحِ ثُمَّ كَحُضْرِ الْفَرَسِ ثُمَّ كَالرَّاكِبِ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ كَشَدِّ الرَّجُلِ ثُمَّ كَمَشْيِهِ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنِ السُّدِّيِّ، فَلَمْ يَرْفَعْهُ.

سدی کہتے ہیں کہ میں نے مرہ ہمدانی سے آیت «وإن منکم إلا واردها» یہ امر یقینی ہے کہ تم میں سے ہر ایک اس پر عبور کرے گا (مریم: ٧١) ، کا مطلب پوچھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے ان لوگوں سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگ جہنم میں جائیں گے، پھر اس سے اپنے اعمال کے سہارے نکلیں گے، پہلا گروہ (جن کے اعمال بہت اچھے ہوں گے) بجلی چمکنے کی سی تیزی سے نکل آئے گا۔ پھر ہوا کی رفتار سے، پھر گھوڑے کے تیز دوڑنے کی رفتار سے، پھر سواری لیے ہوئے اونٹ کی رفتار سے، پھر دوڑتے شخص کی، پھر پیدل چلنے کی رفتار سے ۔

Suddi reported that he asked Murrah Hamdani about the saying of Allah, the Glorious, the Majestic: "And there is not one of you, but shall come to it." (19: 77) So, he narrated that Abdullah ibn Mas’ud had narrated to him that Allah’s Messenger ﷺ , said, “People will pass by Hell and go away from it according to their deeds. The first of them will go away as fast as the spark of lightning, the second batch like wind, the next at horse speed, the next like a camel-rider and then like a man running away and then as one who walks. [Ahmed 4128]

صحيح، الصحيحة (311)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3159
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس حدیث کو شعبہ نے سدی سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٩٥٥٤) (صحیح)
3160Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت مریم

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَإِنْ مِنْكُمْ إِلا وَارِدُهَا سورة مريم آية 71، قَالَ: يَرِدُونَهَا ثُمَّ يَصْدُرُونَ بِأَعْمَالِهِمْ . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ السُّدِّيِّ بِمِثْلِهِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قُلْتُ لِشُعْبَةَ: إِنَّ إِسْرَائِيلَ حَدَّثَنِي، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ شُعْبَةُ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنَ السُّدِّيِّ مَرْفُوعًا وَلَكِنِّي عَمْدًا أَدَعُهُ.

عبداللہ بن مسعود ؓ نے «وإن منکم إلا واردها» کے تعلق سے فرمایا: لوگ جہنم میں جائیں گے پھر اپنے اعمال (صالحہ) کے ذریعہ نکل آئیں گے ۔

Muhammad ibn Bashaar reported from Yahya ibn Sa’eed, from Shu’bah, from Suddi, from Murrah that Abdullah said about: "And there is not one of you, but shall come to it." (19: 77) They will come to it and then go away from it relative to their deeds. [Ahmed 4141] Muhammad Muhammad ibn Bashshar reported from Abdur Rahman, from Shu’bah, from Suddi a similar hadith. Abdur Rahman said to Shu’bah that Israel reported to him from Suddi, from Murrah, from Abdullah from the Prophet. Shu’bah said that he heard that from Suddi in a marfu’ manner.

صحيح موقوف وهو في حکم المرفوع صحيح موقوف وهو في حکم المرفوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3160 سدی نے مرہ سے اور مرہ نے عبداللہ بن مسعود کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے اسے سدی سے مرفوعاً ہی سنا ہے، لیکن میں جان بوجھ کر چھوڑ دیتا ہوں۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3160
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر ماقبلہ (صحیح) انظر ماقبلہ (صحیح)
3161Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت مریم

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا نَادَى جِبْرِيلَ إِنِّي قَدْ أَحْبَبْتُ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ، قَالَ: فَيُنَادِي فِي السَّمَاءِ ثُمَّ تَنْزِلُ لَهُ الْمَحَبَّةُ فِي أَهْلِ الْأَرْضِ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ: إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا سورة مريم آية 96، وَإِذَا أَبْغَضَ اللَّهُ عَبْدًا نَادَى جِبْرِيلَ إِنِّي أَبْغَضْتُ فُلَانًا، فَيُنَادِي فِي السَّمَاءِ ثُمَّ تَنْزِلُ لَهُ الْبَغْضَاءُ فِي الْأَرْضِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب اللہ کسی بندے کو پسند کرتا ہے تو جبرائیل کو بلا کر کہتا ہے: میں نے فلاں کو اپنا حبیب بنا لیا ہے تم بھی اس سے محبت کرو، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر جبرائیل آسمان میں اعلان کردیتے ہیں، اور پھر زمین والوں کے دلوں میں محبت پیدا ہوجاتی ہے، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے قول: «إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات سيجعل لهم الرحمن ودا» اس میں شک نہیں کہ جو لوگ ایمان لاتے ہیں، اور نیک عمل کرتے ہیں اللہ ان کے لیے (لوگوں کے دلوں میں) محبت پیدا کر دے گا (مریم: ٩٦) ، کا مطلب و مفہوم۔ اور اللہ جب کسی بندے کو نہیں چاہتا (اس سے بغض و نفرت رکھتا ہے) تو جبرائیل کو بلا کر کہتا ہے، میں فلاں کو پسند نہیں کرتا پھر وہ آسمان میں پکار کر سب کو اس سے باخبر کردیتے ہیں۔ تو زمین میں اس کے لیے (لوگوں کے دلوں میں) نفرت و بغض پیدا ہوجاتی ہے۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said: "When Allah loves a slave, He calls Jibril (and says), “I love so-and-so, Thus, you too love him.” So, he proclaims that in heaven. Then love for him is sent down among the inhabitants of earth. That is the saying of Allah: "Surely those who believe and do righteous deeds, for them the Compassionate (Allah) shall assign love." (19:96) And when Allah hates anyone, He says to Jibril, “I detest so-and-so.” Thus, he proclaims that in the heaven and then hate for him descends on earth. [Ahmed 10679, Bukhari 3209, Muslim 2637]

صحيح الضعيفة تحت الحديث (2207)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3161
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسی جیسی حدیث عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے اپنے باپ سے اور ان کے باپ نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابوہریرہ کے واسطہ سے، نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر والصلة ٤٨ (٢٦٣٧) (تحفة الأشراف: ١٢٧٠٥) (صحیح)
3162Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت مریم

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَال: سَمِعْتُ خَبَّابَ بْنَ الْأَرَتِّ، يَقُولُ: جِئْتُ الْعَاصِي بْنَ وَائِلٍ السَّهْمِيَّ أَتَقَاضَاهُ حَقًّا لِي عِنْدَهُ، فَقَالَ: لَا أُعْطِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ، فَقُلْتُ: لَا حَتَّى تَمُوتَ ثُمَّ تُبْعَثَ، قَالَ: وَإِنِّي لَمَيِّتٌ ثُمَّ مَبْعُوثٌ ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: إِنَّ لِي هُنَاكَ مَالًا وَوَلَدًا فَأَقْضِيكَ فَنَزَلَتْ: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالا وَوَلَدًا سورة مريم آية 77 الْآيَةَ .حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ نَحْوَهُ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

مسروق کہتے ہیں کہ میں نے خباب بن ارت ؓ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں عاص بن وائل سہمی (کافر) کے پاس اس سے اپنا ایک حق لینے کے لیے گیا، اس نے کہا: جب تک تم محمد ( ﷺ کی رسالت) کا انکار نہیں کردیتے میں تمہیں دے نہیں سکتا۔ میں نے کہا: نہیں، میں رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت کا انکار نہیں کرسکتا۔ چاہے تم یہ کہتے کہتے مرجاؤ۔ پھر زندہ ہو پھر یہی کہو۔ اس نے پوچھا کیا: میں مروں گا؟ پھر زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا؟ میں نے کہا: ہاں، اس نے کہا: وہاں بھی میرے پاس مال ہوگا، اولاد ہوگی، اس وقت میں تمہارا حق تمہیں لوٹا دوں گا۔ اس موقع پر آیت «أفرأيت الذي کفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا» کیا آپ نے دیکھا اس شخص کو جس نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا میں مال و اولاد سے بھی نوازا جاؤں گا (مریم: ٧٧) ، نازل ہوئی۔

Sayyidina Khabbab ibn Arat narrated: I went to Aas ibn Wail Sahmi to demand my right over him. He said, “I will not give it to you till you reject Muhammad.” I said, “No – not even if you die and come back to life.” He asked, “Will I die and be resurrected.” I replied, “Yes”, So, he said, “Surely, I will have wealth and children there and will give you (there).” So, this was revealed: "Have you (O Prophet) considered him who disbelieves in Our revelations and says, ‘I shall certainly be given wealth and children?" (19: 77) [Ahmed 21125, Bukhari 2091, Muslim 2751] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3162 اس سند سے بھی ابومعاویہ نے اسی طرح اعمش سے روایت کی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3162
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٢٩ (٢٠٩١)، والإجارة ١٥ (٢٢٧٥)، والخصومات ١٠ (٢٤٢٥)، وتفسیر مریم ٤ (٤٧٣٣)، و ٥ (٤٧٣٤)، و ٦ (٤٧٣٥)، صحیح مسلم/المنافقین ٤ (٢٧٩٥) (تحفة الأشراف: ٣٥٢٠) (صحیح) انظر ماقبلہ (صحیح)
3163Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت طہ

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ أَسْرَى لَيْلَةً حَتَّى أَدْرَكَهُ الْكَرَى أَنَاخَ فَعَرَّسَ، ثُمَّ قَالَ: يَا بِلَالُ، اكْلَأْ لَنَا اللَّيْلَةَ، قَالَ: فَصَلَّى بِلَالٌ ثُمَّ تَسَانَدَ إِلَى رَاحِلَتِهِ مُسْتَقْبِلَ الْفَجْرِ فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ فَنَامَ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ أَحَدٌ مِنْهُمْ، وَكَانَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيْ بِلَالُ، فَقَالَ بِلَالٌ: بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْتَادُوا ثُمَّ أَنَاخَ فَتَوَضَّأَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ ثُمَّ صَلَّى مِثْلَ صَلَاتِهِ لِلْوَقْتِ فِي تَمَكُّثٍ، ثُمَّ قَالَ: وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14 ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَصَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَغَيْرُهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ خیبر سے لوٹے، رات کا سفر اختیار کیا، چلتے چلتے آپ کو نیند آنے لگی (مجبور ہو کر) اونٹ بٹھایا اور قیام کیا، بلال ؓ سے فرمایا: بلال! آج رات تم ہماری حفاظت و پہرہ داری کرو ، ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: بلال نے (جاگنے کی صورت یہ کی کہ) نماز پڑھی، صبح ہونے کو تھی، طلوع فجر ہونے کا انتظار کرتے ہوئے انہوں نے اپنے کجاوے کی (ذرا سی) ٹیک لے لی، تو ان کی آنکھ لگ گئی، اور وہ سو گئے، پھر تو کوئی اٹھ نہ سکا، ان سب میں سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ بیدار ہوئے، آپ نے فرمایا: بلال! (یہ کیا ہوا؟ ) بلال نے عرض کیا: میرے باپ آپ پر قربان، مجھے بھی اسی چیز نے اپنی گرفت میں لے لیا جس نے آپ کو لیا، آپ نے فرمایا: یہاں سے اونٹوں کو آگے کھینچ کرلے چلو، پھر آپ ( ﷺ ) نے اونٹ بٹھائے، وضو کیا، نماز کھڑی کی اور ویسی ہی نماز پڑھی جیسی آپ اطمینان سے اپنے وقت پر پڑھی جانے والی نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ پھر آپ نے آیت «أقم الصلاة لذكري» مجھے یاد کرنے کے لیے نماز پڑھو (طہٰ: ١٤) ، پڑھی۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that while returning from Khaybar to Madinah in the night, Allah’s Messenger ﷺ felt sleepy. He made the camel kneel down and went to sleep. He said, “O Bilal (RA) , keep vigil tonight.” Bilal (RA) offered salah and reclining on his camel-saddle, waited for dawn. But his eyes were overcome by sleep and he (too) slept. Then, none of them woke up until the Prophet ﷺ was the first to wake up and he said, “O Bilal (RA) !” Bilal (RA) said, “May my parents be ransomed to you, O Messenger of Allah! ﷺ The same thing took over me as took over you.” So, Allah’s Messenger ﷺ said, “Saddle the camels.” After a little journey, they stopped the camels again, made ablution and stood up for salah. He offered salah like the salah at its time with gentle pauses. Then he said: "Establish salah for my remembrance." (20: 14) [Muslim 680, Ibn e Majah 697, Abu Dawud 435]

صحيح، صحيح أبي داود (461 - 463)، الإرواء (263)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3163
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غیر محفوظ ہے، اسے کئی حافظان حدیث نے زہری سے، زہری نے سعید بن مسیب سے اور سعید بن مسیب نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ان لوگوں نے اپنی روایتوں میں ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا ہے، ٢- صالح بن ابی الاخضر حدیث میں ضعیف قرار دیئے جاتے ہیں۔ انہیں یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے حفظ کے تعلق سے ضعیف کہا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٣١٧٤) (صحیح)
3165Sunan At-Tirmidhi

سورت انبیاء کی تفسیر

حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى الْبَغْدَادِيُّ، وَالْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ بَغْدَادِيٌّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَزْوَانَ أَبُو نُوحٍ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلًا قَعَدَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَمْلُوكِينَ يُكَذِّبُونَنِي وَيَخُونُونَنِي وَيَعْصُونَنِي وَأَشْتُمُهُمْ وَأَضْرِبُهُمْ، فَكَيْفَ أَنَا مِنْهُمْ ؟ قَالَ: يُحْسَبُ مَا خَانُوكَ وَعَصَوْكَ وَكَذَّبُوكَ وَعِقَابُكَ إِيَّاهُمْ، فَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِمْ كَانَ كَفَافًا لَا لَكَ وَلَا عَلَيْكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ دُونَ ذُنُوبِهِمْ كَانَ فَضْلًا لَكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ فَوْقَ ذُنُوبِهِمُ اقْتُصَّ لَهُمْ مِنْكَ الْفَضْلُ ، قَالَ: فَتَنَحَّى الرَّجُلُ فَجَعَلَ يَبْكِي وَيَهْتِفُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا تَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ سورة الأنبياء آية 47 الْآيَةَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَجِدُ لِي وَلِهَؤُلَاءِ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ مُفَارَقَتِهِمْ أُشْهِدُكُمْ أَنَّهُمْ أَحْرَارٌ كُلُّهُمْ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَزْوَانَ، وَقَدْ رَوَى أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَزْوَانَ هَذَا الْحَدِيثَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے سامنے آ کر بیٹھا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! میرے دو غلام ہیں، جو مجھ سے جھوٹ بولتے ہیں، میرے مال میں خیانت کرتے ہیں اور میری نافرمانی کرتے ہیں، میں انہیں گالیاں دیتا ہوں مارتا ہوں، میرا ان کا نپٹارا کیسے ہوگا؟ آپ نے فرمایا: انہوں نے، تمہارے ساتھ خیانت کی ہے، اور تمہاری نافرمانی کی ہے تم سے جو جھوٹ بولے ہیں ان سب کا شمار و حساب ہوگا تم نے انہیں جو سزائیں دی ہیں ان کا بھی شمار و حساب ہوگا، اب اگر تمہاری سزائیں ان کے گناہوں کے بقدر ہوئیں تو تم اور وہ برابر سرابر چھوٹ جاؤ گے، نہ تمہارا حق ان پر رہے گا اور نہ ان کا حق تم پر، اور اگر تمہاری سزا ان کے قصور سے کم ہوئی تو تمہارا فضل و احسان ہوگا، اور اگر تمہاری سزا ان کے گناہوں سے زیادہ ہوئی تو تجھ سے ان کے ساتھ زیادتی کا بدلہ لیا جائے گا، (یہ سن کر) وہ شخص روتا پیٹتا ہوا واپس ہوا، آپ نے فرمایا: کیا تم کتاب اللہ نہیں پڑھتے (اللہ نے فرمایا ہے) «ونضع الموازين القسط ليوم القيامة فلا تظلم نفس شيئا وإن کان مثقال» الآية اور ہم قیامت کے دن انصاف کا ترازو لگائیں گے پھر کسی نفس پر کسی طرح سے ظلم نہ ہوگا، اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا ہم اسے لا حاضر کریں گے اور ہم کافی ہیں حساب کرنے والے (الانبیاء: ٤٧) ، اس شخص نے کہا: قسم اللہ کی! میں اپنے اور ان کے لیے اس سے بہتر اور کوئی بات نہیں پاتا کہ ہم ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں، میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ وہ سب آزاد ہیں۔

Sayyidah Ayshah reported that a man sat down opposite Allah’s Messenger ﷺ and said, “O Messenger of Allah! ﷺ I have some slaves. They lie to me and cheat me and disobey me. So, I abuse them and beat them. So, how am I with them?’ He said, “Their treachery with you, disobedience to you and lying to you will be reckoned against your punishing them. Thus, if your punishment is commensurate with their crime then it would be squared up-nothing for you and nothing against you. But if your punishment is softer than their crime then that would be favourable to you. If your punishment is harsher than their crime then favour will be cut off from you for them.” The man wept and shrieked and set off to go. Allah’s Messenger said, “Have you not read Allah’s Book?” (He recited: "We shall set up scales of justice for the Day of Judgment, so that not a soul will be dealt with unjustly in the least, and if there be (no more than) the weight of a mustard seed, We will bring it (to account): and enough are We to take account." (21:47) The man submitted. “O Messenger of Allah, I could not find anything better for myself and for them than separating them. Be witness that they are free-all of them.’ [Ahmed 2661]

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3165
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن غزوان کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- احمد بن حنبل نے بھی یہ حدیث عبدالرحمٰن بن غزوان سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٦٦٠٨) (صحیح الإسناد)
3164Sunan At-Tirmidhi

سورت انبیاء کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الأَشْيَبُ بَغْدَادِيٌّ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْوَيْلُ وَادٍ فِي جَهَنَّمَ يَهْوِي فِيهِ الْكَافِرُ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ قَعْرَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «ويل» جہنم کی ایک وادی ہے (اور اتنی گہری ہے کہ) جب کافر اس میں گرے گا تو اس کو تہہ تک پہنچنے سے پہلے گرنے میں چالیس سال لگ جائیں گے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported from the Prophet ﷺ that he said, ‘There is a valley in Hell called "wayl." The disbeliever will drop down into it for forts’ years before reaching its bottom. [Ahmed 11712]

ضعيف، التعليق الرغيب (4 / 229) // ضعيف الجامع الصغير (6148) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3164
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم ابن لہیعہ کے سوا کسی اور کو نہیں جانتے کہ وہ اسے مرفوعاً روایت کرتا ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث مولف ارشاد باری «ولکم الويل مما تصفون» (الأنبیاء: ١٨) کی تفسیر میں لائے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٤٠٦٢) (ضعیف) (سند میں ابن لھیعہ اور دراج دونوں ضعیف راوی ہیں)
3166Sunan At-Tirmidhi

سورت انبیاء کی تفسیر

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ قَوْلِهِ: إِنِّي سَقِيمٌ وَلَمْ يَكُنْ سَقِيمًا، وَقَوْلُهُ: لِسَارَّةَ أُخْتِي، وَقَوْلِهِ: بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابراہیم (علیہ السلام) نے تین معاملات کے سوا کسی بھی معاملے میں کبھی بھی جھوٹ نہیں بولا، ایک تو یہ ہے کہ آپ نے کہا: میں بیمار ہوں، حالانکہ آپ بیمار نہیں تھے، (دوسرا) آپ نے سارہ کو اپنی بہن کہا: (جب کہ وہ آپ کی بیوی تھیں) (تیسرا، آپ نے بت توڑا) اور پوچھنے والوں سے آپ نے کہا: بڑے (بت) ان کے اس بڑے نے توڑے ہیں، (ان سے پوچھ لیں) ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said: Ibrahim never lied in anything except on three occasions : When he said, “I am sick” though he was not sick, and when he said about Sarah, “She is my sister,” and when he said, “Rather, the biggest of them has done it.” [Ahmed 9252, Bukhari 2217, Muslim 2371, Abu Dawud 2212] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، صحيح أبي داود (1916)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3166
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث کئی سندوں سے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے آئی ہے، اور ابوالزناد کے واسطہ سے ابن اسحاق کی روایت غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مولف یہ حدیث ارشاد باری: «قال بل فعله كبيرهم هذا» (الانبیاء: ٦٤) کی تفسیر میں لائے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٨ (٣٣٥٧)، والنکاح ١٢ (٥٠١٢)، صحیح مسلم/الفضائل ٤١ (٢٣٧١) (تحفة الأشراف: ١٣٨٦٥)، و مسند احمد (٢/٤٠٣) (صحیح)
3167Sunan At-Tirmidhi

سورت انبیاء کی تفسیر

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَوْعِظَةِ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ عُرَاةً غُرْلًا ثُمَّ قَرَأَ: كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا سورة الأنبياء آية 104 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ: أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ، وَإِنَّهُ سَيُؤْتَى بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي، فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ: رَبِّ أَصْحَابِي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ: وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ 117 إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ 118 سورة المائدة آية 117-118، فَيُقَالُ: هَؤُلَاءِ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ ،

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: تم لوگ قیامت کے دن اللہ کے پاس ننگے اور غیر مختون جمع کئے جاؤ گے، پھر آپ نے آیت پڑھی «كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا» ہم نے جیسے پہلے آدمی کو پیدا کیا ہے ویسا ہی دوبارہ لوٹا دیں گے (پیدا فرما دیں گے) (الانبیاء: ١٠٤) ، آپ نے فرمایا: قیامت کے دن جنہیں سب سے پہلے کپڑا پہنایا جائے گا وہ ابراہیم (علیہ السلام) ہوں گے، (قیامت کے دن) میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے جنہیں چھانٹ کر بائیں جانب (جہنم کی رخ) کردیا جائے گا، میں کہوں گا پروردگار! یہ تو میرے اصحاب (امتی) ہیں، کہا جائے گا: آپ کو نہیں معلوم ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئی باتیں (خرافات) دین میں پیدا (داخل) کردیں۔ (یہ سن کر) میں بھی وہی بات کہوں گا جو اللہ کے نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام) نے کہی ہے «وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتني كنت أنت الرقيب عليهم وأنت علی كل شيء شهيد إن تعذبهم فإنهم عبادک وإن تغفر لهم» میں جب تک ان کے درمیان تھا ان کی دیکھ بھال کرتا رہا تھا، پھر جب آپ نے مجھے اٹھا لیا آپ ان کے محافظ و نگہبان بن گئے، آپ ہر چیز سے واقف ہیں۔ اگر آپ انہیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے و غلام ہیں۔ (آپ انہیں سزا دے سکتے ہیں) اور اگر آپ انہیں معاف کردیں تو آپ زبردست حکمت والے ہیں (المائدہ: ١١٨) ، کہا جائے گا: یہ وہ لوگ ہیں کہ آپ نے جب سے ان کا ساتھ چھوڑا ہے یہ اپنی پہلی حالت سے پھرگئے ہیں۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ stood up to deliver admonition. He said, “O people, you will be assembled before Allah naked, and uncircumcised.” Then he recited: "As we originated the first creation so We shall restore it." (21:104) He said “The first one who will be clothed on the Day of Resurrection will be Ibrahim Then some men of my ummah will be brought and taken away to the left and I will plead, “My Lord! (They are) my companions.” It will be said, “You do not realize what they innovated (in religion) after you.” So I will say as the righteous slave (Eesa) said: "And I was a witness over them, while I dwelt among them; but when you did take me, You were the watcher over them. And You are Witness over everything. If You chastise them, surely they are Your slaves; and if you forgive them." (5:117-118) It will be said, These people never ceased to be apostates turning their backs since (the day) you separated from them.’ [Ahmed 1950, Bukhari 3319, Muslim 2869, Nisai 2083] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح وهو مکرر الحديث (2552)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3167
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٤٢٣ (صحیح)
3167Sunan At-Tirmidhi(3168)

سورت حج کی تفسیر

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَتْ: يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ إِلَى قَوْلِهِ وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ سورة الحج آية 1 ـ 2 قَالَ: أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةُ وَهُوَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ ذَلِكَ ؟ فَقَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ذَلِكَ يَوْمَ يَقُولُ اللَّهُ لِآدَمَ ابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ، فَقَالَ: يَا رَبِّ، وَمَا بَعْثُ النَّارِ ؟ قَالَ: تِسْعُ مِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِلَى النَّارِ وَوَاحِدٌ إِلَى الْجَنَّةِ ، قَالَ: فَأَنْشَأَ الْمُسْلِمُونَ يَبْكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فَإِنَّهَا لَمْ تَكُنْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا كَانَ بَيْنَ يَدَيْهَا جَاهِلِيَّةٌ ، قَالَ: فَيُؤْخَذُ الْعَدَدُ مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنْ تَمَّتْ، وَإِلَّا كَمُلَتْ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، وَمَا مَثَلُكُمْ وَالْأُمَمِ إِلَّا كَمَثَلِ الرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ، أَوْ كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبْعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَكَبَّرُوا ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَكَبَّرُوا ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَكَبَّرُوا ، قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: الثُّلُثَيْنِ أَمْ لَا، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ جب آیت «يا أيها الناس اتقوا ربکم إن زلزلة الساعة شيء عظيم» سے قول «ولکن عذاب اللہ شديد» ١ ؎ تک نازل ہوئی تو نبی اکرم ﷺ اس وقت سفر میں تھے، آپ نے لوگوں سے فرمایا: کیا تم جانتے ہو وہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ وہ دن ہے جس دن اللہ آدم (علیہ السلام) سے کہے گا «ابعث بعث النار» جہنم میں جانے والی جماعت کو چھانٹ کر بھیجو آدم (علیہ السلام) کہیں گے: اے میرے رب «بعث النار» کیا ہے (یعنی کتنے) ؟ اللہ فرمائے گا: نو سو ننانوے ( ٩٩٩) افراد جہنم میں اور (ان کے مقابل میں) ایک شخص جنت میں جائے گا، یہ سن کر مسلمان (صحابہ) رونے لگے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی نزدیکی حاصل کرو اور ہر کام صحیح اور درست ڈھنگ سے کرتے رہو، (اہل جنت میں سے ہوجاؤ گے) ، کیونکہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ نبوت کا سلسلہ چلا ہو اور اس سے پہلے جاہلیت (کی تاریکی پھیلی ہوئی) نہ ہو ، آپ نے فرمایا: یہ ( ٩٩٩ کی تعداد) عدد انہیں (ادوار) جاہلیت کے افراد سے پوری کی جائے گی۔ یہ تعداد اگر جاہلیت سے پوری نہ ہوئی تو ان کے ساتھ منافقین کو ملا کر پوری کی جائے گی، اور تمہاری اور (پچھلی) امتوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہ داغ، نشان، تل جانور کے اگلے پیر میں، یا سیاہ نشان اونٹ کے پہلو (پسلی) میں ہو ٢ ؎ پھر آپ نے فرمایا: مگر مجھے امید ہے کہ جنت میں جانے والوں میں ایک چوتھائی تعداد تم لوگوں کی ہوگی ، یہ سن کر (لوگوں نے خوش ہو کر) نعرہ تکبیر بلند کیا، پھر آپ نے فرمایا: مجھے توقع ہے جنتیوں کی ایک تہائی تعداد تم ہو گے ، لوگوں نے پھر تکبیر بلند کی، آپ نے پھر فرمایا: مجھے امید ہے کہ جنت میں آدھا آدھا تم لوگ ہو گے ، لوگوں نے پھر صدائے تکبیر بلند کی (اس سے آگے) مجھے معلوم نہیں ہے کہ آپ نے دو تہائی بھی فرمایا یا نہیں۔

Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) reported about these verses: "O Mankind! Fear you Lord. Surely the earthquake of the Hour (of Resurrection) is a mighty thing. On the day when you behold it, every suckling woman shall neglect the babe she suckled, and every pregnant woman shall lay down her burden, and you shall see mankind as drunk, yet they shall not be drunk, but the chastisement of Allah shall be severe." (22:1-2) He said: When they were revealed to the Prophet, he was on a journey, he asked, “Do you know what day that is?” They said, “Allah and His Messenger know best.” He said, “That is the day when Allah will say to Aadam, ‘Send! (Prepare) the batch for Hell.” He will ask, ‘O Lord what is the batch for Hell’. He will say ‘Nine hundred and ninety-nine are in Hell while one is in Paradise’.” The Muslims will begin to weep and Allah’s Messenger ﷺ will say, “Adopt nearness and the straight path, for, Prophet ﷺ Hood come only after ignorance. So, the number will be made up from there. So if that is achieved (good), otherwise it will be completed through the hypocrites. And your example against past ummahs is like a piece of flesh on the inside of an animal’s foreleg, or a mole on the side of a camel. And I hope that you comprise one-fourth of the people of Paradise.” They all exclaimed, “Allah is the Greatest.” He then said, “I hope that you form one-third of the people of Paradise.” They again extolled Allah (saying Allah is Akbar). Then he said, “I hope that you make up half the number of inhabitants of Paradise.” They exclaimed, “Allah is the Greatest.” They narrator said that he could not say if he hoped that there were two-thirds or not. --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف الإسناد، التعليق الرغيب (4 / 229)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3168
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث کئی راویوں سے عمران بن حصین کے واسطہ سے رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لوگو! اپنے رب سے ڈرو! بلاشبہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے، جس دن تم اسے دیکھو لو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی، اور تمام حمل والیوں کے حمل گرجائیں گے اور تو دیکھے گا کہ لوگ مدہوش دکھائی دیں گے حالانکہ درحقیقت وہ متوالے نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہے ( الحج: ٢) ٢ ؎: یعنی اگلی امتوں کی تعداد کے مقابل میں تم جنتیوں کی تعداد بہت مختصر یعنی جانور کی اگلی دست میں ایک تل یا اونٹ کے پیٹ میں ایک معمولی نشان کی سی ہوگی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٧٩٩) (صحیح) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں اور حسن بصری مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز ان کے عمران بن حصین ؓ سے سماع میں سخت اختلاف ہے، لیکن شاہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، نیز یہ حدیث ابو سعید خدری کی روایت سے متفق علیہ ہے)
3169Sunan At-Tirmidhi

سورت حج کی تفسیر

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَتَفَاوَتَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ فِي السَّيْرِ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ بِهَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ: يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ إِلَى قَوْلِهِ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ سورة الحج آية 1 ـ 2 ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ أَصْحَابُهُ حَثُّوا الْمَطِيَّ وَعَرَفُوا أَنَّهُ عِنْدَ قَوْلٍ يَقُولُهُ، فَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ ذَلِكَ ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ذَاكَ يَوْمٌ يُنَادِي اللَّهُ فِيهِ آدَمَ فَيُنَادِيهِ رَبُّهُ، فَيَقُولُ: يَا آدَمُ ابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، وَمَا بَعْثُ النَّارِ ؟ فَيَقُولُ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعُ مِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِلَى النَّارِ وَوَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ ، فَيَئِسَ الْقَوْمُ حَتَّى مَا أَبَدَوْا بِضَاحِكَةٍ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي بِأَصْحَابِهِ، قَالَ: اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّكُمْ لَمَعَ خَلِيقَتَيْنِ مَا كَانَتَا مَعَ شَيْءٍ إِلَّا كَثَّرَتَاهُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، وَمَنْ مَاتَ مِنْ بَنِي آدَمَ وَبَنِي إِبْلِيسَ، قَالَ: فَسُرِّيَ عَنِ الْقَوْمِ بَعْضُ الَّذِي يَجِدُونَ، فَقَالَ: اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ، أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے، اور چلنے میں ایک دوسرے سے آگے پیچھے ہوگئے تھے، آپ نے بآواز بلند یہ دونوں آیتیں: «يا أيها الناس اتقوا ربکم إن زلزلة الساعة شيء عظيم» سے لے کر «عذاب اللہ شديد» تک تلاوت فرمائی، جب صحابہ نے یہ سنا تو اپنی سواریوں کو ابھار کر ان کی رفتار بڑھا دی، اور یہ جان لیا کہ کوئی بات ہے جسے آپ فرمانے والے ہیں، آپ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟ ، صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: یہ وہ دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) کو پکاریں گے اور وہ اپنے رب کو جواب دیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: «ابعث بعث النار» بھیجو جہنم میں جانے والی جماعت کو ، آدم (علیہ السلام) کہیں گے: اے ہمارے رب!«بعث النار» کیا ہے (یعنی کتنے) ؟ اللہ کہے گا: ایک ہزار افراد میں سے نو سو ننانوے جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا، یہ سن کر لوگ مایوس ہوگئے، ایسا لگا کہ اب یہ زندگی بھر کبھی ہنسیں گے نہیں، پھر جب رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کی یہ (مایوسانہ) کیفیت و گھبراہٹ دیکھی تو فرمایا: اچھے بھلے کام کرو اور خوش ہوجاؤ (اچھے اعمال کے صلے میں جنت پاؤ گے) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! تم ایسی دو مخلوق کے ساتھ ہو کہ وہ جس کے بھی ساتھ ہوجائیں اس کی تعداد بڑھا دیں، ایک یاجوج و ماجوج اور دوسرے وہ جو اولاد آدم اور اولاد ابلیس میں سے (حالت کفر میں) مرچکے ہیں، آپ کی اس بات سے لوگوں کے رنج و فکر کی اس کیفیت میں کچھ کمی آئی جسے لوگ شدت سے محسوس کر رہے تھے اور اپنے دلوں میں موجود پا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: نیکی کا عمل جاری رکھو، اور ایک دوسرے کو خوشخبری دو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے! تم تو لوگوں میں بس ایسے ہو جیسے اونٹ (جیسے بڑے جانور) کے پہلو (پسلی) میں کوئی داغ یا نشان ہو، یا چوپائے کی اگلی دست میں کوئی تل ہو ١ ؎۔

Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) narrated: We were with the Prophet ﷺ on a journey. The sahabah separated from each other (outpacing or lagging behind). Allah’s Messenger ﷺ raised his voice with these two verses: "O Mankind! Fear you Lord. Surely the earthquake of the Hour (of Resurrection) is a mighty thing. On the day when you behold it, every suckling woman shall neglect the babe she suckled, and every pregnant woman shall lay down her burden, and you shall see mankind as drunk, yet they shall not be drunk, but the chastisement of Allah shall be severe." (22:1-2)When the sahabah heard him, they knew that he was to say something and they directed their mounts towards him. He asked them if they knew what day that would be. They said that only Allah and His Messenger knew that. He said, “That’s a day when Allah will call Aadam.” His Lord will summon him, saying, “0Aadam! Send forth the group of Hell.” He will ask, “O Lord! And what is the group of Hell?” So, He will say, “Out of every thousand, nine hundred and ninety-nine will go to Hell and one to Paradise.” That brought grief to the people so that none could smile. When Allah’s Messenger ﷺ observed the state of his sahabah, he said, “Perform deeds and give good tidings, for, by Him in Whose hand is the soul of Muhammad, you will be (in relation) with two kinds of creatures who will multiply whatever they are with. They are Ya’juj and Ma’juj, and who died among the children of Aadam and the progeny of Iblis.” So, something of what was found over the people was mitigated from them. he said, “Perform deeds and convey glad tidings, for, by Him Who has Muhammad’s soul in His Hand! You are not as many compared to other ummah but as a mole on the side of camel, or an overgrown flesh on the inside of an animals foreleg.’ [Ahmed 19922, Bukhari 3348, Muslim 222] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3169
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بہت زیادہ گھبرانے کی بات اور ضرورت نہیں ہے، جب اکثریت انہیں کفار و مشرکین کی ہے تو جہنم میں بھی وہی زیادہ ہوں گے، ایک آدھ نام نہاد مسلم جائے گا بھی تو اسے اپنی بدعملی کی وجہ سے جانے سے کون روک سکتا ہے، اور جو نہ جانا چاہے وہ اپنے ایمان و عقیدے کو درست رکھے شرک و بدعات سے دور رہے گا اور نیک و صالح اعمال کرتا رہے، ایسا شخص ان شاء اللہ ضرور جنت میں جائے گا۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح)
3170Sunan At-Tirmidhi

سورت حج کی تفسیر

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا سُمِّيَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ: لِأَنَّهُ لَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهِ جَبَّارٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.

عبداللہ بن زبیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خانہ کعبہ کا نام «بيت العتيق» ١ ؎ (آزاد گھر) اس لیے رکھا گیا کہ اس پر کسی جابر و ظالم کا غلبہ و قبضہ نہیں ہوسکا ہے ۔

Sayyidina Abdullah ibn Zubayr (RA) reported that Allah’s Messenger said, “The House (of Allah) is named al-Atiq only because no tyrant has taken over it.’

ضعيف، الضعيفة (3222) // ضعيف الجامع الصغير (2059) // ضعيف، الضعيفة (3222) // ضعيف الجامع الصغير (2059) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3170 اس سند سے زہری کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3170
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث زہری کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مولف یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ «وليطوفوا بالبيت العتيق» (الحج: ٢٩)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٢٨٤) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن صالح حافظہ کے ضعیف ہیں، اور ان کے مخالف ان سے ثقہ رواة نے اس کو عبد اللہ بن زبیر کا اپنا قول بتایا ہے، دیکھیے اگلی سند) انظر ماقبلہ (ضعیف)
3171Sunan At-Tirmidhi

سورت حج کی تفسیر

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَإِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا أُخْرِجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَخْرَجُوا نَبِيَّهُمْ لَيَهْلِكُنَّ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ سورة الحج آية 39 الْآيَةَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ سَيَكُونُ قِتَالٌ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَغَيْرُهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَقَدْ رَوَاهُ غيرُ واحدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مُرْسَلًا، لَيْسَ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ مکہ سے نکالے گئے تو ابوبکر ؓ نے کہا کہ ان لوگوں نے اپنے نبی کو (اپنے وطن سے) نکال دیا ہے، یہ لوگ ضرور ہلاک ہوں گے، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وإن اللہ علی نصرهم لقدير» ان لوگوں کو بھی لڑنے کی اجازت دے دی گئی جن سے مظلوم (و کمزور) سمجھ کر جنگ چھیڑ رکھی گئی ہے، اللہ ان (مظلومین) کی مدد پر قادر ہے (الحج: ٣٩) ، نازل فرمائی ابوبکر ؓ نے کہا: (جب یہ آیت نازل ہوئی تو) میں نے یہ سمجھ لیا کہ اب (مسلمانوں اور کافروں میں) لڑائی ہوگی۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that when the Prophet ﷺ was driven out of Makkah, Abu Bakr (RA) said, “They have driven out their Prophet ﷺ so they will perish certainly.” So, Allah revealed: Permission (to fight) is given to those -who are fought against because they have been wronged. And surely Allah is able to help them. (22: 39) So, Abu Bakr (RA) said, “Surely I knew that it was to be fighting.”

صحيح الإسناد صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3171 اس کو عبدالرحمٰن بن مہدی وغیرہ نے سفیان سے، سفیان نے اعمش سے، اعمش نے مسلم بطین سے مسلم نے سعید بن جبیر کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اس روایت میں ابن عباس ؓ سے روایت کا ذکر نہیں ہے، اسی طرح اور کئی راویوں نے سفیان سے، سفیان نے اعمش سے، اور اعمش نے مسلم بطین کے واسطہ سے، سعید بن جبیر سے مرسلاً روایت کی ہے، اس میں ابن عباس سے روایت کا ذکر نہیں ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3171
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف: ٥٦١٨) (ضعیف الإسناد) (سند میں سفیان بن وکیع صدوق لیکن ساقط الحدیث راوی ہیں) انظر ماقبلہ (ضعیف) (ارسال کی وجہ سے ضعیف ہے)