Sunan At-Tirmidhi 3166

قرآن کی تفسیر کا بیان

3166Sunan At-Tirmidhi

سورت انبیاء کی تفسیر

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ قَوْلِهِ: إِنِّي سَقِيمٌ وَلَمْ يَكُنْ سَقِيمًا، وَقَوْلُهُ: لِسَارَّةَ أُخْتِي، وَقَوْلِهِ: بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابراہیم (علیہ السلام) نے تین معاملات کے سوا کسی بھی معاملے میں کبھی بھی جھوٹ نہیں بولا، ایک تو یہ ہے کہ آپ نے کہا: میں بیمار ہوں، حالانکہ آپ بیمار نہیں تھے، (دوسرا) آپ نے سارہ کو اپنی بہن کہا: (جب کہ وہ آپ کی بیوی تھیں) (تیسرا، آپ نے بت توڑا) اور پوچھنے والوں سے آپ نے کہا: بڑے (بت) ان کے اس بڑے نے توڑے ہیں، (ان سے پوچھ لیں) ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said: Ibrahim never lied in anything except on three occasions : When he said, “I am sick” though he was not sick, and when he said about Sarah, “She is my sister,” and when he said, “Rather, the biggest of them has done it.” [Ahmed 9252, Bukhari 2217, Muslim 2371, Abu Dawud 2212] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، صحيح أبي داود (1916)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3166
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث کئی سندوں سے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے آئی ہے، اور ابوالزناد کے واسطہ سے ابن اسحاق کی روایت غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مولف یہ حدیث ارشاد باری: «قال بل فعله كبيرهم هذا» (الانبیاء: ٦٤) کی تفسیر میں لائے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٨ (٣٣٥٧)، والنکاح ١٢ (٥٠١٢)، صحیح مسلم/الفضائل ٤١ (٢٣٧١) (تحفة الأشراف: ١٣٨٦٥)، و مسند احمد (٢/٤٠٣) (صحیح)