Sunan At-Tirmidhi 3167

قرآن کی تفسیر کا بیان

3167Sunan At-Tirmidhi(3168)

سورت حج کی تفسیر

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَتْ: يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ إِلَى قَوْلِهِ وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ سورة الحج آية 1 ـ 2 قَالَ: أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةُ وَهُوَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ ذَلِكَ ؟ فَقَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ذَلِكَ يَوْمَ يَقُولُ اللَّهُ لِآدَمَ ابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ، فَقَالَ: يَا رَبِّ، وَمَا بَعْثُ النَّارِ ؟ قَالَ: تِسْعُ مِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِلَى النَّارِ وَوَاحِدٌ إِلَى الْجَنَّةِ ، قَالَ: فَأَنْشَأَ الْمُسْلِمُونَ يَبْكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فَإِنَّهَا لَمْ تَكُنْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا كَانَ بَيْنَ يَدَيْهَا جَاهِلِيَّةٌ ، قَالَ: فَيُؤْخَذُ الْعَدَدُ مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنْ تَمَّتْ، وَإِلَّا كَمُلَتْ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، وَمَا مَثَلُكُمْ وَالْأُمَمِ إِلَّا كَمَثَلِ الرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ، أَوْ كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبْعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَكَبَّرُوا ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَكَبَّرُوا ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَكَبَّرُوا ، قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: الثُّلُثَيْنِ أَمْ لَا، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ جب آیت «يا أيها الناس اتقوا ربکم إن زلزلة الساعة شيء عظيم» سے قول «ولکن عذاب اللہ شديد» ١ ؎ تک نازل ہوئی تو نبی اکرم ﷺ اس وقت سفر میں تھے، آپ نے لوگوں سے فرمایا: کیا تم جانتے ہو وہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ وہ دن ہے جس دن اللہ آدم (علیہ السلام) سے کہے گا «ابعث بعث النار» جہنم میں جانے والی جماعت کو چھانٹ کر بھیجو آدم (علیہ السلام) کہیں گے: اے میرے رب «بعث النار» کیا ہے (یعنی کتنے) ؟ اللہ فرمائے گا: نو سو ننانوے ( ٩٩٩) افراد جہنم میں اور (ان کے مقابل میں) ایک شخص جنت میں جائے گا، یہ سن کر مسلمان (صحابہ) رونے لگے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی نزدیکی حاصل کرو اور ہر کام صحیح اور درست ڈھنگ سے کرتے رہو، (اہل جنت میں سے ہوجاؤ گے) ، کیونکہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ نبوت کا سلسلہ چلا ہو اور اس سے پہلے جاہلیت (کی تاریکی پھیلی ہوئی) نہ ہو ، آپ نے فرمایا: یہ ( ٩٩٩ کی تعداد) عدد انہیں (ادوار) جاہلیت کے افراد سے پوری کی جائے گی۔ یہ تعداد اگر جاہلیت سے پوری نہ ہوئی تو ان کے ساتھ منافقین کو ملا کر پوری کی جائے گی، اور تمہاری اور (پچھلی) امتوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہ داغ، نشان، تل جانور کے اگلے پیر میں، یا سیاہ نشان اونٹ کے پہلو (پسلی) میں ہو ٢ ؎ پھر آپ نے فرمایا: مگر مجھے امید ہے کہ جنت میں جانے والوں میں ایک چوتھائی تعداد تم لوگوں کی ہوگی ، یہ سن کر (لوگوں نے خوش ہو کر) نعرہ تکبیر بلند کیا، پھر آپ نے فرمایا: مجھے توقع ہے جنتیوں کی ایک تہائی تعداد تم ہو گے ، لوگوں نے پھر تکبیر بلند کی، آپ نے پھر فرمایا: مجھے امید ہے کہ جنت میں آدھا آدھا تم لوگ ہو گے ، لوگوں نے پھر صدائے تکبیر بلند کی (اس سے آگے) مجھے معلوم نہیں ہے کہ آپ نے دو تہائی بھی فرمایا یا نہیں۔

Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) reported about these verses: "O Mankind! Fear you Lord. Surely the earthquake of the Hour (of Resurrection) is a mighty thing. On the day when you behold it, every suckling woman shall neglect the babe she suckled, and every pregnant woman shall lay down her burden, and you shall see mankind as drunk, yet they shall not be drunk, but the chastisement of Allah shall be severe." (22:1-2) He said: When they were revealed to the Prophet, he was on a journey, he asked, “Do you know what day that is?” They said, “Allah and His Messenger know best.” He said, “That is the day when Allah will say to Aadam, ‘Send! (Prepare) the batch for Hell.” He will ask, ‘O Lord what is the batch for Hell’. He will say ‘Nine hundred and ninety-nine are in Hell while one is in Paradise’.” The Muslims will begin to weep and Allah’s Messenger ﷺ will say, “Adopt nearness and the straight path, for, Prophet ﷺ Hood come only after ignorance. So, the number will be made up from there. So if that is achieved (good), otherwise it will be completed through the hypocrites. And your example against past ummahs is like a piece of flesh on the inside of an animal’s foreleg, or a mole on the side of a camel. And I hope that you comprise one-fourth of the people of Paradise.” They all exclaimed, “Allah is the Greatest.” He then said, “I hope that you form one-third of the people of Paradise.” They again extolled Allah (saying Allah is Akbar). Then he said, “I hope that you make up half the number of inhabitants of Paradise.” They exclaimed, “Allah is the Greatest.” They narrator said that he could not say if he hoped that there were two-thirds or not. --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف الإسناد، التعليق الرغيب (4 / 229)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3168
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث کئی راویوں سے عمران بن حصین کے واسطہ سے رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لوگو! اپنے رب سے ڈرو! بلاشبہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے، جس دن تم اسے دیکھو لو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی، اور تمام حمل والیوں کے حمل گرجائیں گے اور تو دیکھے گا کہ لوگ مدہوش دکھائی دیں گے حالانکہ درحقیقت وہ متوالے نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہے ( الحج: ٢) ٢ ؎: یعنی اگلی امتوں کی تعداد کے مقابل میں تم جنتیوں کی تعداد بہت مختصر یعنی جانور کی اگلی دست میں ایک تل یا اونٹ کے پیٹ میں ایک معمولی نشان کی سی ہوگی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٧٩٩) (صحیح) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں اور حسن بصری مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز ان کے عمران بن حصین ؓ سے سماع میں سخت اختلاف ہے، لیکن شاہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، نیز یہ حدیث ابو سعید خدری کی روایت سے متفق علیہ ہے)