تفسیر سورت مریم
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا ؟ قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلا بِأَمْرِ رَبِّكَ سورة مريم آية 64 إِلَى آخِرِ الْآيَةَ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ، نَحْوَهُ.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) سے فرمایا: جتنا آپ ہمارے پاس آتے ہیں، اس سے زیادہ آنے سے آپ کو کیا چیز روک رہی ہے؟ اس پر آیت «وما نتنزل إلا بأمر ربك» تمہارے رب کے حکم ہی سے اترتے ہیں اسی کے پاس ان تمام باتوں کا علم ہے جو ہمارے آگے ہیں، جو ہمارے پیچھے ہیں، اور ان کے درمیان ہیں (مریم: ٦٤) ، نازل ہوئی۔
Sayyifina lbn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ asked Jibril “What prevents you from visiting us more often than you do?” So, this verse was revealed: "And we (the angels) descend no ut by the command of your Lord. To Him belongs whatsoever is before us, and whatsoever is behind us." (19: 64)