Sunan At-Tirmidhi 3130

قرآن کی تفسیر کا بیان

3130Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت بنی اسرائیل

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حِينَ أُسْرِيَ بِي، لَقِيتُ مُوسَى، قَالَ فَنَعَتَهُ، فَإِذَا رَجُلٌ حَسِبْتُهُ، قَالَ: مُضْطَرِبٌ رَجِلُ الرَّأْسِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، قَالَ: وَلَقِيتُ عِيسَى، قَالَ فَنَعَتَهُ، قَالَ: رَبْعَةٌ أَحْمَرُ كَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ يَعْنِي الْحَمَّامَ، وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ، قَالَ: وَأُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ أَحَدُهُمَا لَبَنٌ وَالْآخَرُ خَمْرٌ، فَقِيلَ لِي: خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ، فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ، فَقِيلَ لِي: هُدِيتَ لِلْفِطْرَةِ أَوْ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (معراج کی رات) جب مجھے آسمان پر لے جایا گیا تو میری ملاقات موسیٰ (علیہ السلام) سے ہوئی، آپ نے ان کا حلیہ بتایا اور میرا گمان یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: موسیٰ لمبے قد والے تھے: ہلکے پھلکے روغن آمیز سر کے بال تھے، شنوءۃ قوم کے لوگوں میں سے لگتے تھے ، آپ نے فرمایا: میری ملاقات عیسیٰ (علیہ السلام) سے بھی ہوئی ، آپ نے ان کا بھی وصف بیان کیا، فرمایا: عیسیٰ درمیانے قد کے سرخ (سفید) رنگ کے تھے، ایسا لگتا تھا گویا ابھی دیم اس (غسل خانہ) سے نہا دھو کر نکل کر آ رہے ہوں، میں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی دیکھا، میں ان کی اولاد میں سب سے زیادہ ان سے مشابہہ ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس دو برتن لائے گئے، ایک دودھ کا پیالہ تھا اور دوسرے میں شراب تھی، مجھ سے کہا گیا: جسے چاہو لے لو، تو میں نے دودھ کا پیالہ لے لیا اور دودھ پی گیا، مجھ سے کہا گیا: آپ کو فطرت کی طرف رہنمائی مل گئی، یا آپ نے فطرت سے ہم آہنگ اور درست قدم اٹھایا، اگر آپ نے شراب کا برتن لے لیا ہوتا تو آپ کی امت گمراہ ہوجاتی ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “When I was taken for the isra, I met Musa.” The narrator reported that the Prophet ﷺ then described him and also thought that he said, “Musa’s hairs were disheveled as though he was a member of the shanu’ah.” He then said, “And I met Eesa,” and he described him, “He is medium-height, red complexioned as though he has just emerged from the bath. And, I saw Ibrahim. I resemble his offspring. Then, two vessels were brought to me, one containing milk and the other wine. I was told, ‘Pick whichever one you like. So, I chose milk and drank it. I was told, “You are guided or nature or, ‘you walked the path of guidance. If you had chosen wine then your ummah would have gone astray’.” [Ahmed 10652, Bukhari 3394, Muslim 168, Nisai 5657] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3130
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تباہی و بربادی کا شکار ہوتی اس لیے کہ شراب کا خاصہ ہی یہی ہے۔ ( مولف نے ان احادیث کو اسراء اور معراج کی مناسبت کی وجہ سے ذکر کیا جن کا بیان اس باب کے شروع میں ہے )
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٢٤ (٣٣٩٤)، و ٤٩ (٣٤١٣)، وتفسیر الإسراء ٣ (٤٧٠٩)، والأشربة ١ (٥٥٧٦)، و ١٢ (٥٦٠٣)، صحیح مسلم/الإیمان ٧٤ (١٦٨)، سنن النسائی/الأشربة ٤١ (٥٦٦٠) (تحفة الأشراف: ١٣٢٧٠)، و مسند احمد (٢/٥١٢) (صحیح)