عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جسے اس بات سے خوشی ہو کہ وہ صحیفہ دیکھے جس پر محمد ﷺ کی مہر ہے تو اسے یہ آیات «قل تعالوا أتل ما حرم ربکم عليكم» سے «لعلکم تتقون» ١ ؎ تک پڑھنی چاہیئے۔
Sayyidina Abdullah (RA) narrated : He whom it pleases to look at the Scripture which is sealed (the name) Muhammad ﷺ should recite these verses; "Say (O Prophet), “Come, I will recite to you what your Lord has forbidden you: That you associate not anything with Him, and (He enjoins) that you be good to parents, and that you slay not your offspring for (fear of) poverty - we provide sustenance for you and for them - and that you approach not indecencies such of them as are apparent and such as the concealed. And that you slay not any person whom Allah has forbidden except in the course of justice. Thus He enjoins you so that you ma understand. And that you approach not the wealth of the orphan, save with that which is best, until he attains his maturity. And give full measure and weigh with justice: - We charge not any soul save to its capacity - and when you speak, be just, though be (gainst) a kinsman. And fulfil Allah’s covenant. Thus He enjoins you, so that you may admonished.” And (know) that this is My Way, the straight one; so follow it and follow not (other) ways, for they will deviate you from His way. Thus He enjoins you, so that you may God - Fearing." (6: 151 -1 53)
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3070
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: تم کہہ دو (میرے پاس) آؤ، میں تمہیں سنا دیتا ہوں کہ تمہارے رب نے کیا چیزیں تم پر حرام کردی ہیں (ایک تو یہ کہ) اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو یعنی (دوم ماں باپ کی (معروف میں) نافرمانی نہ کرو، (سوم) اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے مار نہ ڈالو، ہم ہی روزی دیتے ہیں تمہیں بھی اور انہیں بھی، اور بےحیائی کے کاموں کے قریب نہ جاؤ۔ بےحیائی کھلی ہوئی دکھائی پڑ رہی ہو یا چھپی ہوئی (بظاہر نظر نہ آرہی ہو، لیکن پس پردہ اس کا انجام برائی و بدکاری ہی ہو) اور جس جان کو اللہ نے محترم قرار دے کر حرام ٹھہرایا ہے اسے ناحق قتل نہ کرو، (مگر جب وہ خود کو اس کا سزاوار بنا دے مثلاً قصاص وغیرہ میں تو اسے قتل کیا جاسکتا ہے) یہ ہے اللہ کی تمہارے لیے وصیت تاکہ تم عقل و سمجھ سے کام لو، اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ، مگر اس طریقے سے جو احسن طریقہ ہے (اس کے مال میں بےجا تصرف نہیں کیا جاسکتا صرف ولی بہتر و مشروع طریقہ پر احتیاط کے ساتھ تصرف کا مجاز ہے اور وہ بھی اس وقت تک جب تک کہ یتیم بالغ نہ ہوجائے۔ (جب وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے تو اس کا مال اسے سپرد کردیا جائے گا) اور ناپ و تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو، ہم کسی کو اس کی وسعت و طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں کرتے۔ اور جب بات کہو تو حق کی کہو، اگرچہ وہ اپنا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ اور اللہ سے کیا ہوا اپنا عہد (نذر و قسم بشرطیکہ غیر مشروع بات کی نہ ہو) پورا کرو، تم کو یہ باتیں بتادی ہیں تاکہ تم نصیحت پکڑو، یہ ہے میری سیدھی راہ، تو اس سیدھی راہ پر چلو، اور دیگر (ٹیڑھے میڑھے) راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمہیں اللہ کی سیدھی راہ سے بھٹکا دیں، یہ ہے جس کی تمہیں اللہ نے وصیت کردی ہے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو (الانعام: ١٥١ -١٥٣)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٤٦٧) (ضعیف الإسناد) (سند میں داود اودی ضعیف راوی ہیں )
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت: «أو يأتي بعض آيات ربك» یا تیرے رب کی بعض نشانیاں آ جائیں (الانعام: ١٥٨ ) ، کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد سورج کا پچھم سے نکلنا ہے۔
Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported the saying of the Prophet ﷺ , Allah’s words: "Or certiain signs of your Lord should come." (6 : 158) He said, “(These signs include) the rising of the sun, from the west.”
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3071
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - بعض دوسرے لوگوں نے بھی اس حدیث کو روایت کیا، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٢٣٦) (صحیح) (سند میں محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلی اور عطیہ عوفی دونوں ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں کہ جب وہ ظاہر ہوں گی، تو جو شخص پہلے سے ایمان نہ لایا ہوگا اسے اس کا (بروقت) ایمان لانا فائدہ نہ پہنچا سکے گا، ( ١ ) دجال کا ظاہر ہونا ( ٢ ) چوپائے کا نکلنا ( ٣ ) سورج کا پچھم سے نکلنا ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “When three things make their appearance, no longer will it benefit anyone to profess belief if he had not been a believer already the dajjal, the dabbah and rise of the sun from the west.” [Muslim 158,Ahmed 97591
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3072
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے ٢ - ابوحازم سے حازم اشجعی کوفی مراد ہیں۔ ان کا نام سلمان ہے اور وہ عزہ اشجعیہ کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور اس کا فرمان برحق (و درست) ہے: جب میرا بندہ کسی نیکی کا قصد و ارادہ کرے، تو (میرے فرشتو! ) اس کے لیے نیکی لکھ لو، اور اگر وہ اس بھلے کام کو کر گزرے تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھ لو، اور جب وہ کسی برے کام کا ارادہ کرے تو کچھ نہ لکھو، اور اگر وہ برے کام کو کر ڈالے تو صرف ایک گناہ لکھو، پھر اگر وہ اسے چھوڑ دے (کبھی راوی نے یہ کہا) اور کبھی یہ کہا (دوبارہ) اس گناہ کا ارتکاب نہ کرے) تو اس کے لیے اس پر بھی ایک نیکی لکھ لو، پھر آپ نے آیت «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» پڑھی ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said that Allah, the Blessed and the Exalted says - and His Word is True -, “When My slave resolves to do a good deed, I record a good deed for him and if puts it into action, I record for him ten like it. When he resolves to commit a sin, I do not record it, and if he acts on it then I record one like it, but, if he abandons it” - or, perhaps He said, “He does not act on it.”“I write down for him a pious deed.” The Prophet ﷺ then recited: "Whoever brings a good deed shall have ten-fold the like of it." (6:160) [Ahmed 7300,Bukhari 3501] --------------------------------------------------------------------------------
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
فائدہ ١ ؎: جس نے نیک کام کیا ہوگا اس کو دس گنا ثواب ملے گا، اور جس نے برائی کی ہوگی اس کو اسی قدر سزا ملے گی اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا (الانعام: ١٦٠ ) ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: «فلما تجلی ربه للجبل جعله دكا» جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تو تجلی نے اس کے پرخچ اڑا دیے (الأعراف: ١٤٣ ) ، حماد (راوی) نے کہا: اس طرح، پھر سلیمان (راوی) نے اپنی داہنی انگلی کے پور پر اپنے انگوٹھے کا کنارا رکھا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (بس اتنی سی دیر میں) پہاڑ زمین میں دھنس گیا، «وخر موسیٰ صعقا» اور موسیٰ (علیہ السلام) چیخ مار کر گرپڑے ۔
Sayyidina Anas (RA) reported that the Prophet ﷺ recited this verse:"So when his Lord appeared to the Mount, He made it smashed." (7: 143) Hamad said like this and Sulayman placed the tip of his right thumb on his right finger and said that the mountain collapsed: "And Musa fell down unconscious." (7: 143)
صحيح ظلال الجنة (480)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3074
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ہم اسے صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے جانتے ہیں۔
مسلم بن یسار جہنی سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ سے آیت «وإذ أخذ ربک من بني آدم من ظهورهم ذريتهم وأشهدهم علی أنفسهم ألست بربکم قالوا بلی شهدنا أن تقولوا يوم القيامة إنا کنا عن هذا غافلين» ١ ؎ کا مطلب پوچھا گیا، تو عمر بن خطاب ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ سے اسی آیت کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو آپ نے فرمایا: اللہ نے آدم کو پیدا کیا پھر اپنا داہنا ہاتھ ان کی پیٹھ پر پھیرا اور ان کی ایک ذریت (نسل) کو نکالا، اور کہا: میں نے انہیں جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ لوگ جنت ہی کا کام کریں گے، پھر (دوبارہ) ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور وہاں سے ایک ذریت (ایک نسل) نکالی اور کہا کہ میں نے انہیں جہنم کے لیے پیدا کیا ہے اور جہنمیوں کا کام کریں گے ۔ ایک شخص نے کہا: پھر عمل کی کیا ضرورت ہے؟ اللہ کے رسول! ٢ ؎ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ جنتی شخص کو پیدا کرتا ہے تو اسے جنتیوں کے کام میں لگا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ جنتیوں کا کام کرتا ہوا مرجاتا ہے تو اللہ اسے جنت میں داخل فرما دیتا ہے۔ اور جب اللہ جہنمی شخص کو پیدا کرتا ہے تو اسے جہنمیوں کے کام میں لگا دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ جہنمیوں کا کام کرتا ہوا مرتا ہے تو اللہ اسے جہنم میں داخل کردیتا ہے ۔
Muslim ibn Yasar Juhanni reported that Sayyidina Umar (RA) ibn Khattab was asked about this verse: "And when your Lord brought forth from the children of Adam, that is, from their backs, their progeny, and made them testify about themselves, ‘Am I not your Lord?’ They said, “Of course, You are, we affirm”, lest you should say on the Day of Doom, “We were ignorant of this." (7: 172) Umar (RA) ibn Khattab said: I had heard that Allah’s Messenger ﷺ was asked about it, so he said, “Allah created Adam then stroked his back with His Right Hand and brought forth from it his offspring, saying, ‘I have created them for Paradise and they will perform what the inhebitants of Paradise do’. Then He stroked his back and brought forth from it his offspring saying, ‘I have created them for the Fire. They will perform what the dwellers of Hell do.’“ A man asked ‘Then why perform the deeds, O Messenger of Allah ﷺ ?’“So, Allah’s Messenger ﷺ said, “When Allah creates a slave for Paradise, He gets him to do deeds of those who will go to Paradise till he dies doing deeds of those who dwell in Paradise. So Allah admits him to Paradise. And, when Allah creates a slave for Hell, He gets him to do deeds of the people of Hell till he dies doing deeds of those who dwell in Hell. So Allah admits him to Hell.” [Ahmed 311]
ضعيف الظلال (196)، الضعيفة (3071) // ضعيف الجامع الصغير (1602) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3075
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - مسلم بن یسار نے عمر ؓ سے سنا نہیں ہے، ٣ - بعض راویوں نے اس اسناد میں مسلم بن یسار اور عمر ؓ کے درمیان کسی غیر معروف راوی کا ذکر کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جب تمہارے رب نے بنی آدم کی ذریت کو ان کی صلب سے نکلا اور انہیں کو ان پر (اس بات کا) گواہ بنایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، (آپ ہمارے رب ہیں) ہم اس کے گواہ ہیں۔ (یہ گواہی اس لیے لی ہے کہ) کہیں تم قیامت کے دن یہ کہنے نہ لگو کہ ہمیں تو اس کی کچھ خبر نہیں نہ تھی (الاعراف: ١٧٢ )۔ ٢ ؎: یعنی جب جہنمی اور جنتی کا فیصلہ پہلے ہی کردیا گیا ہے تو اس کو لامحالہ، چار و ناچار وہیں پہنچنا ہے جہاں بھیجنے کے لیے اللہ نے اسے پیدا فرمایا ہے۔ تو پھر عمل کی کیا ضرورت ہے؟
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ السنة ١٧ (٤٧٠٣، و ٤٧٠٤) (تحفة الأشراف: ١٠٦٥٤)، و مسند احمد (١/٤ ¤ ٤- ٤٥) (ضعیف) (سند میں مسلم بن یسار اور عمر ؓ کے درمیان انقطاع ہے، اور ابوداود وغیرہ کی دوسری سند میں ان دونوں کے درمیان جو نعیم بن ربیعہ راوی ہے وہ مجہول ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ نے آدم کو پیدا کیا اور ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو اس سے ان کی اولاد کی وہ ساری روحیں باہر آ گئیں جنہیں وہ قیامت تک پیدا کرنے والا ہے۔ پھر ان میں سے ہر انسان کی آنکھوں کی بیچ میں نور کی ایک ایک چمک رکھ دی، پھر انہیں آدم کے سامنے پیش کیا، تو آدم نے کہا: میرے رب! کون ہیں یہ لوگ؟ اللہ نے کہا: یہ تمہاری ذریت (اولاد) ہیں، پھر انہوں نے ان میں ایک ایسا شخص دیکھا جس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کی چمک انہیں بہت اچھی لگی، انہوں نے کہا: اے میرے رب! یہ کون ہے؟ اللہ نے فرمایا: تمہاری اولاد کی آخری امتوں میں سے ایک فرد ہے۔ اسے داود کہتے ہیں: انہوں نے کہا: میرے رب! اس کی عمر کتنی رکھی ہے؟ اللہ نے کہا: ساٹھ سال، انہوں نے کہا: میرے رب! میری عمر میں سے چالیس سال لے کر اس کی عمر میں اضافہ فرما دے، پھر جب آدم کی عمر پوری ہوگئی، ملک الموت ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: کیا میری عمر کے چالیس سال ابھی باقی نہیں ہیں؟ تو انہوں نے کہا: کیا تو نے اپنے بیٹے داود کو دے نہیں دیئے تھے؟ آپ نے فرمایا: تو آدم نے انکار کیا، چناچہ ان کی اولاد بھی انکاری بن گئی۔ آدم بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھول گئی۔ آدم نے غلطی کی تو ان کی اولاد بھی خطاکار بن گئی ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said: "When Allah created Adam, He wiped his back and every soul of his offspring He was to create up to the Day of Resurrection dropped from his back. He made between the eyes of everyone of them a flash of light and pressented them to Adam who asked, “O Lord, who are they?” He said, “These are your offspring.” He observed a man among them and was impressed by the light between his eyes and asked, “O Lord, who is he?” He said, “He is a man among the last of the ummahs (communities) of your offspring who is cailled Dawud.” He asked, “Lord, how long a life have You given him.” He said, “Sixty years.” Adam said, ‘O Lord, add to it forty years from my life.” When Adam’s span of life came to an end, the angel of death came to him, and he asked, “Do not another forty years still remain in my life span?” He replied, “Have you not given them to your son, Daweed?” But, Adam denied and his offspring denied (like him), and Adam forgot and likewise his offspring forgot, and Adam erred, so his offspring also erred."
الظلال (206)، تخريج الطحاوية (220 و 221)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3076
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث کئی سندوں سے ابوہریرہ ؓ کے واسطہ سے اور نبی اکرم ﷺ سے آئی ہے۔
سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب حواء حاملہ ہوئیں تو ان کے پاس شیطان آیا، ان کے بچے جیتے نہ تھے، تو اس نے کہا: (اب جب تیرا بچہ پیدا ہو) تو اس کا نام عبدالحارث رکھ، چناچہ حواء نے اس کا نام عبدالحارث ہی رکھا تو وہ جیتا رہا۔ ایسا انہوں نے شیطانی وسوسے اور اس کے مشورے سے کیا تھا۔
Sayyidina Samurah ibn Jundub reported from the Prophet ﷺ that he said: When Hawwa became pregnent, Iblis came to her often. Now, her children did not survive, so he suggested, “Name him Abdul Harith.” So, she did name him Abdul Harith and he survived. That was on the prompting of the devil, and his command. [Ahmed 20137]
ضعيف، الضعيفة (342) // ضعيف الجامع الصغير (4769 ) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3077
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے مرفوع صرف عمر بن ابراہیم کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ قتادہ سے روایت کرتے ہیں، ٢ - بعض راویوں نے یہ حدیث عبدالصمد سے روایت کی ہے، لیکن اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ٣ - عمر بن ابراہیم بصریٰ شیخ ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٦٠٤) (ضعیف) (حسن بصری مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، اور حسن کا سمرہ ؓ سے سماع میں سخت اختلاف ہے، اور عمر بن ابراہیم کی قتادہ سے روایت میں اضطراب پایا جاتا ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفة رقم ٣٤٢ )
سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ جنگ بدر کے دن میں ایک تلوار لے کر (رسول اللہ ﷺ کے پاس) پہنچا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ نے میرا سینہ مشرکین سے ٹھنڈا کردیا (یعنی انہیں خوب مارا) یہ کہا یا ایسا ہی کوئی اور جملہ کہا (راوی کو شک ہوگیا) آپ یہ تلوار مجھے عنایت فرما دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ نہ میری ہے اور نہ تیری ١ ؎، میں نے (جی میں) کہا ہوسکتا ہے یہ ایسے شخص کو مل جائے جس نے میرے جیسا کارنامہ جنگ میں نہ انجام دیا ہو، (میں حسرت و یاس میں ڈوبا ہوا آپ کے پاس سے اٹھ کر چلا آیا) تو (میرے پیچھے) رسول اللہ ﷺ کا قاصد آیا اور اس نے (آپ کی طرف سے) کہا: تم نے مجھ سے تلوار مانگی تھی، تب وہ میری نہ تھی اور اب وہ (بحکم الٰہی) میرے اختیار میں آ گئی ہے ٢ ؎، تو اب وہ تمہاری ہے (میں اسے تمہیں دیتا ہوں) راوی کہتے ہیں، اسی موقع پر «يسألونک عن الأنفال» ٣ ؎ والی آیت نازل ہوئی۔
Sayyidina Sa’d (RA) narrated: During the Battle of Badr, I took a sword and went to Allah’s Messenger ﷺ and said, “Indeed Allah has given coolness to my heart with the polytheists” - or something to the effect. “Give me this sword.” He said, “It is not mine neither is it yours.” I thougth to myself, “Would that it is not given to one who is not put to a trial as I was.” Soon, his message came to me, “You had asked me (for it) but it was not mine. Now it has come to me, So, it is yours.” And the verse was revealed: "They ask thee concerning (things taken as) spoils of war. Say: "(such) spoils are at the disposal of Allah and the Messenger: So fear Allah, and keep straight the relations between yourselves: Obey Allah and His Messenger, if ye do believe."(8:21)
حسن صحيح، صحيح أبي داود (2747)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3079
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس حدیث کو سماک بن حرب نے بھی مصعب سے روایت کیا ہے، ٣ - اس باب میں عبادہ بن صامت سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ یہ ابھی ایسے مال غنیمت میں سے ہے جس کی تقسیم ابھی نہیں ہوئی ہے، تو کیسے تم کو دے دوں۔ ٢ ؎: کیونکہ اب تقسیم میں (بطور خمس کے) وہ میرے حصے میں آ گئی ہے۔ ٣ ؎: یہ لوگ آپ سے غنیمتوں کا حکم پوچھتے ہیں (الأنفال: ١ )۔
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ (جنگ بدر کے موقع پر) رسول اللہ ﷺ نے (مشرکین مکہ پر) ایک نظر ڈالی، وہ ایک ہزار تھے اور آپ کے صحابہ تین سو دس اور کچھ (کل ٣١٣ ) تھے۔ پھر آپ قبلہ رخ ہوگئے اور اپنے دونوں ہاتھ اللہ کے حضور پھیلا دیئے اور اپنے رب کو پکارنے لگے: اے میرے رب! مجھ سے اپنا کیا ہوا وعدہ پورا فرما دے، جو کچھ تو نے مجھے دینے کا وعدہ فرمایا ہے، اسے عطا فرما دے، اے میرے رب! اگر اہل اسلام کی اس مختصر جماعت کو تو نے ہلاک کردیا تو پھر زمین پر تیری عبادت نہ کی جاسکے گی ۔ آپ قبلہ کی طرف منہ کیے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے اپنے رب کے سامنے گڑگڑاتے رہے یہاں تک کہ آپ کی چادر آپ کے دونوں کندھوں پر سے گر پڑی۔ پھر ابوبکر ؓ نے آ کر آپ کی چادر اٹھائی اور آپ کے کندھوں پر ڈال کر پیچھے ہی سے آپ سے لپٹ کر کہنے لگے۔ اللہ کے نبی! بس، کافی ہے آپ کی اپنے رب سے اتنی ہی دعا۔ اللہ نے آپ سے جو وعدہ کر کھا ہے وہ اسے پورا کرے گا (ان شاء اللہ) پھر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی «إذ تستغيثون ربکم فاستجاب لکم أني ممدکم بألف من الملائكة مردفين» ١ ؎۔
Sayyidina Umar (RA) ibn Khattab reported that the Prophet ﷺ looked towards the polytheists and they were one thousand in number while his sahahah numbered three hundred and ten plus. So, the Prophet ﷺ of Allah faced towards the qiblah, raised his hands and began to call his Lord, “O Allah make good the promise You had made to me. O Allah, if You let this small band of men of Islam perish then there will be none on earth to worship You.” He did not cease to beseech his Lord with his hands outstretched; facing the qihlah till his mantle fell down from his shoulders. Abu Bakr (RA) came and replaced it on his shoulders and Embraced him from behind, he said, “O Prophet ﷺ of Allah, you petition to your Lord is enough. He will surely fulfil His promise.” It was then that Allah revealed: "When you were calling your Lord for help, so He responded to you (saying), “I am going to support you with one thousand of the angels, one following the other." (8 : 9)Then Allah helped them with the angles. [Ahmed 208, Muslim 1763, Abu Dawud 26901
حسنصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3081
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - عمر ؓ کی اس حدیث کو صرف عکرمہ بن عمار کی روایت سے جانتے ہیں۔ جسے وہ ابوزمیل سے روایت کرتے ہیں۔ ابوزمیل کا نام سماک حنفی ہے۔ ایسا بدر کے دن ہوا ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یاد کرو اس وقت کو جب تم اپنے رب سے فریاد رسی چاہتے تھے تو اللہ نے تمہاری درخواست قبول کرلی، اور فرمایا: میں تمہاری ایک ہزار فرشتوں سے مدد کروں گا وہ پیہم یکے بعد دیگرے آتے رہیں گے، تو اللہ نے ان کی فرشتوں سے مدد کی۔ (الأنفال: ٩ ) ٢ ؎: یعنی فرشتوں کے ذریعہ مسلمانوں کی مدد کا واقعہ بدر کے دن پیش آیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجھاد ١٨ (١٧٦٣) (تحفة الأشراف: ١٠٤٩٦)، و مسند احمد (١/٣٠) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ جنگ بدر سے نمٹ چکے تو آپ سے کہا گیا (شام سے آتا ہوا) قافلہ آپ کی زد اور نشانے پر ہے، اس پر غالب آنے میں کوئی چیز مانع اور رکاوٹ نہیں ہے۔ تو عباس نے آپ کو پکارا، اس وقت وہ (قیدی تھے) زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے، اور کہا: آپ کا یہ اقدام (اگر آپ نے ایسا کیا) تو درست نہ ہوگا، اور درست اس لیے نہ ہوگا کہ اللہ نے آپ سے دونوں گروہوں (قافلہ یا لشکر) میں سے کسی ایک پر فتح و غلبہ کا وعدہ کیا تھا ١ ؎ اور اللہ نے آپ سے اپنا کیا ہوا وعدہ پورا کردیا ہے، آپ نے فرمایا: تم سچ کہتے ہو ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated: When Allah’s Messenger ﷺ had finished With the Battle of Badr, someone said to him. Seize the caravan. There is no hindrance to it.’ Abbas who was in fetters then (being a captive) called out loudly. “This is not correct, for, Allah has promised you one of the two parties and He has given you what He promised.” The Prophet ﷺ said, “You spoke the truth.”
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3080
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
١ ؎: یہ اللہ تعالیٰ کا قول: «وإذ يعدکم اللہ إحدی الطائفتين أنها لكم» (الانفال: ٧ ) کی طرف اشارہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦١٢) (ضعیف الإسناد) (سماک کی عکرمہ سے روایت میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے )
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے لیے اللہ نے مجھ پر دو امان نازل فرمائے ہیں (ایک) «وما کان اللہ ليعذبهم وأنت فيهم» تمہارے موجود رہتے ہوئے اللہ انہیں عذاب سے دوچار نہ کرے گا (الأنفال: ٣٣ ) ، (دوسرا) «وما کان اللہ معذبهم وهم يستغفرون» دوسرے جب وہ توبہ و استغفار کرتے رہیں گے تو بھی ان پر اللہ عذاب نازل نہ کرے گا (الأنفال: ٣٣ ) ، اور جب میں (اس دنیا سے) چلا جاؤں گا تو ان کے لیے دوسرا امان استغفار قیامت تک چھوڑ جاؤں گا ۔
Sayyidina Abu Musa (RA) reported that Allah Messenger ﷺ said, “Allah has sent down to me two things of security for my ummah: "And Allah is not to send punishment upon them while you are in their midst, nor would Allahsend punishment upon them while they are seeking forgiveness." (8 : 33) And when I depart, I will leave behind with them the istighar till Las Day.” --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف الإسناد // ضعيف الجامع الصغير (1341) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3082
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے۔ ٢ - اسماعیل بن مہاجر حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩١٠٩) (ضعیف الإسناد) (سند میں اسماعیل بن ابراہیم بن مہاجر ضعیف راوی ہیں )
عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر آیت: «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» تم کافروں کے مقابلے کے لیے جتنی قوت فراہم کرسکتے ہو کرو (الانفال: ٦٠ ) پڑھی، اور فرمایا: «قوة» سے مراد تیر اندازی ہے۔ آپ نے یہ بات تین بار کہی، سنو عنقریب اللہ تمہیں زمین پر فتح دیدے گا۔ اور تمہیں مستغنی اور بےنیاز کر دے گا۔ تو ایسا ہرگز نہ ہو کہ تم میں سے کوئی بھی (نیزہ بازی اور) تیر اندازی سے عاجز و غافل ہوجائے ۔
Sayyidina Uqbah ibn Aamir reported that Allah’s Messenger ﷺ recited this verse from his pulpit: "And make ready against them whatever you can to the power." (8:60) He said, “Power is to shoot arrows.” He said this three times. Then he said, “Know that Allah will soon give you victories on land and you will be free of labour and toil. So let not any of you keep away from shooting arrows.” [Ahmed 17437, Muslim 1917, Abu Dawud 2514, Ibn e Majah 2813]
حسن صحيح، ابن ماجة (2813)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3083
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - بعض نے یہ حدیث اسامہ بن زید سے روایت کی ہے اور اسامہ نے صالح بن کیسان سے روایت کی ہے، ٢ - ابواسامہ نے اور کئی لوگوں نے اسے عقبہ بن عامر سے روایت کیا ہے، ٣ - وکیع کی حدیث زیادہ صحیح ہے، ٤ - صالح بن کیسان کی ملاقات عقبہ بن عامر سے نہیں ہے، ہاں ان کی ملاقات ابن عمر سے ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٥٢ (١٩١٧)، سنن ابی داود/ الجھاد ٢٤ (٢٥١٤)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ١٩ (٢٨١٣) (تحفة الأشراف: ٩٩٧٥)، و مسند احمد (٤/١٥٧)، وسنن الدارمی/الجھاد ١٤ (٢٤٤٨) (صحیح) (سند میں ایک راوی مبہم ہے جو دوسروں کی سند میں نہیں ہے، لیکن متابعات کی بنا پر مؤلف کی یہ روایت صحیح لغیرہ ہے )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم مسلمانوں سے پہلے کسی کالے بالوں والے (مراد ہے انسان) کے لیے اموال غنیمت حلال نہ تھے، آسمان سے ایک آگ آتی اور غنائم کو کھا جاتی (بھسم کردیتی) سلیمان اعمش کہتے ہیں: اسے ابوہریرہ کے سوا اور کون کہہ سکتا ہے اس وقت؟ بدر کی لڑائی کے وقت مسلمانوں کا حال یہ ہوا کہ قبل اس کے کہ اموال غنیمت تقسیم کر کے ہر ایک کو دے کر ان کے لیے حلال کردی جاتیں وہ لوگ اموال غنیمت پر ٹوٹ پڑے۔ اس وقت اللہ نے یہ آیت «لولا کتاب من اللہ سبق لمسکم فيما أخذتم عذاب عظيم» اگر پہلے سے تمہارے حق میں اللہ کی جانب سے لکھا نہ جا چکا ہو تاکہ تمہیں غنائم ملیں گے تو تمہیں تمہارے اس کے لینے کے سبب سے بڑا عذاب پہنچتا (الأنفال: ٦٨ ) نازل فرمائی۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported from the Prophet ﷺ that he said, “The booty was not lawful for anyone before you. A fire used to descend from the heaven and devour it.” Sulayman A’mash said, “Who but Abu Hurairah (RA) can say this, for after the Battle of Badr, they had seized the booty even before it because lawful?” So, Allah revealed: "Had there not been a writ from Allah which came earlier, there would have reached you, for what you took, a great pulnishment. (8:68) [Ahmed 7437] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الصحيحة (2155)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3085
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اعمش کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٢٣٧٨)، وانظر صحیح مسلم/الجھاد ١١ (١٧٤٧)، و مسند احمد (٢/٢٥٢، ٣١٧، ٣١٨) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جب بدر کی لڑائی ہوئی اور قیدی پکڑ کر لائے گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیدیوں کے بارے میں تم لوگ کیا کہتے ہو؟ پھر راوی نے حدیث میں اصحاب رسول ﷺ کے مشوروں کا طویل قصہ بیان کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بغیر فدیہ کے کسی کو نہ چھوڑا جائے، یا اس کی گردن اڑا دی جائے ۔ عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! سہیل بن بیضاء کو چھوڑ کر، اس لیے کہ میں نے انہیں اسلام کی باتیں کرتے ہوئے سنا ہے، (مجھے توقع ہے کہ وہ ایمان لے آئیں گے) یہ سن کر رسول اللہ ﷺ خاموش رہے، تو میں نے اس دن اتنا خوف محسوس کیا کہ کہیں مجھ پر پتھر نہ برس پڑیں، اس سے زیادہ کسی دن بھی میں نے اپنے کو خوف زدہ نہ پایا ١ ؎، بالآخر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سہیل بن بیضاء کو چھوڑ کر ، اور عمر ؓ کی تائید میں «ما کان لنبي أن يكون له أسری حتی يثخن في الأرض» کسی نبی کے لیے یہ مناسب اور سزاوار نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ پورے طور پر خوں ریزی نہ کرلے (الأنفال: ٦٧ ) ، والی آیت آخر تک نازل ہوئی۔
Sayyidina Abdullah Ibn Mas’ud (RA) narrated: During the Battle of Badr, when the captives were brought, Allah’s Messenger ﷺ said, “What do you suggest about these captives?” Then a lengthy account follows in the hadith, Allah’s Messenger ﷺ said, “None of them will go without paying ransom or having his neck severed.” So, I said, “O Messenger of Allah ﷺ , except Suhayl ibn Bayda. I had heard him remember Islam.” But, Allah’s Messenger ﷺ did not say anything. So, I did not find myself more afraid any day than on this day - that stones might fall on me from the sky that day. But, Allah’s Messenger ﷺ 44 (soon broke his silence and) said, “Except Suhyl ibn Bayda.” Then, Umar (RA) said that the Qur’an was revealed: "It is not for a Prophet ﷺ that there remain prisoners with him until he has had a thorough blood-shed in the land." (8: 67) [Ahmed 5902, Abu Dawud 2647]
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان ؓ سے کہا کہ کس چیز نے آپ کو آمادہ کیا کہ سورة الانفال کو جو «مثانی» میں سے ہے اور سورة برأۃ کو جو «مئین» میں سے ہے دونوں کو ایک ساتھ ملا دیا، اور ان دونوں سورتوں کے بیچ میں «بسم اللہ الرحمن الرحيم» کی سطر بھی نہ لکھی۔ اور ان دونوں کو «سبع طوال» (سات لمبی سورتوں) میں شامل کردیا۔ کس سبب سے آپ نے ایسا کیا؟ عثمان ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ پر زمانہ آتا جا رہا تھا اور آپ پر متعدد سورتیں نازل ہو رہی تھیں، تو جب آپ پر کوئی آیت نازل ہوتی تو وحی لکھنے والوں میں سے آپ کسی کو بلاتے اور کہتے کہ ان آیات کو اس سورة میں شامل کر دو جس میں ایسا ایسا مذکور ہے۔ اور پھر جب آپ پر کوئی آیت اترتی تو آپ فرماتے اس آیت کو اس سورة میں رکھ دو جس میں اس اس طرح کا ذکر ہے۔ سورة الانفال ان سورتوں میں سے ہے جو مدینہ میں آنے کے بعد شروع شروع میں نازل ہوئی ہیں۔ اور سورة برأت قرآن کے آخر میں نازل ہوئی ہے۔ اور دونوں کے قصوں میں ایک دوسرے سے مشابہت تھی تو ہمیں خیال ہوا کہ یہ اس کا ایک حصہ (و تکملہ) ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہ بتائے بغیر کہ یہ سورة اسی سورة کا جزو حصہ ہے اس دنیا سے رحلت فرما گئے۔ اس سبب سے ہم نے ان دونوں سورتوں کو ایک ساتھ ملا دیا اور ان دونوں سورتوں کے درمیان ہم نے «بسم اللہ الرحمن الرحيم» نہیں لکھا اور ہم نے اسے «سبع طوال» میں رکھ دیا (شامل کردیا) ۔
Sayyidina lbn Abbas reported that he asked Sayyidina Uthman ibn Affan, ‘What brought you to place (surah) al-Anfal-which is among al-Mathani-with (surah) Bara-which is among the mi’in (a surah with hundred or more verses) And why the’ are joined without your writing between the two; and, your placing them among as-sab’at-tul (seven long surah ), what brought you to do this? So, he replied, “When a time passed over and a number of surah had been revealed to Allah’s Messenger ﷺ with every fresh revelation that he recieved, he summoned some of his scribes and instructed them to insert the verse in the surah that mentoins this-and-that and when a verse was revealed, he instructed them to insert it in such-and-such surah. As for al-Anfal it was among the first to be revealed at Madinah and Bara was the last of the Quran and its subject matter is similar to the subject-matter of the other, and I thought that it was part of the other. Besides, Allah’s Messenger ﷺ had not specified to us till his death, whether it was part of the other, It is for this reason that I paired them without writing "Bismillahi ar-rahman ar-rahim" between them and placed them among as-sabal-tul.” [Abu Dawud 786,Ahmed 3991]
ضعيف، ضعيف أبي داود (140) // عندنا برقم (168 / 786) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3086
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے ہم صرف عوف کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ یزید فارسی کے واسطہ سے ابن عباس سے روایت کرتے ہیں، اور یزید فارسی تابعین میں سے ہیں، انہوں نے ابن عباس سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ وہ یزید بن ہرمز ہیں۔ اور یزید رقاشی یہ یزید بن ابان رقاشی ہیں، یہ تابعین میں سے ہیں اور ان کی ملاقات ابن عباس سے نہیں ہے۔ انہوں نے صرف انس بن مالک سے روایت کی ہے، اور یہ دونوں ہی بصرہ والوں میں سے ہیں۔ اور یزید فارسی، یزید رقاشی سے متقدم ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١٢٥ (٧٨٦) (تحفة الأشراف: ٩٨١٩)، و مسند احمد (١/٥٧، ٦٩) (ضعیف) (سند میں یزید الفارسی البصری مقبول راوی ہیں یعنی متابعت کے وقت اور متابعت موجود نہیں ہے اس لیے لین الحدیث ہیں )
سلیمان بن عمرو بن احوص کہتے ہیں کہ میرے باپ نے مجھے بتایا کہ وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ موجود تھے، تو آپ ﷺ نے اللہ کی تعریف اور ثنا کی، اور وعظ و نصیحت فرمائی۔ پھر فرمایا: کون سا دن سب سے زیادہ حرمت و تقدس والا ہے؟ کون سا دن سب سے زیادہ حرمت و تقدس ہے؟ کون سا دن سب سے زیادہ حرمت و تقدس والا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! حج اکبر کا دن ہے۔ آپ نے فرمایا: تمہارا خون، تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں سب تم پر حرام ہیں جیسے کہ تمہارے آج کے دن کی حرمت ہے، تمہارے اس شہر میں تمہارے اس مہینے میں، سن لو! کوئی انسان کوئی جرم نہیں کرے گا مگر اس کا وبال اسی پر آئے گا، کوئی باپ قصور نہیں کرے گا کہ جس کی سزا اس کے بیٹے کو ملے۔ اور نہ ہی کوئی بیٹا کوئی قصور کرے گا کہ اس کی سزا اس کے باپ کو ملے۔ آگاہ رہو! مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ کسی مسلمان کے لیے اپنے بھائی کی کوئی چیز حلال نہیں ہے سوائے اس چیز کے جو اسے اس کا بھائی خود سے دیدے۔ سن لو! جاہلیت کا ہر سود باطل ہے تم صرف اپنا اصل مال (اصل پونجی) لے سکتے ہو، نہ تم کسی پر ظلم و زیادتی کرو گے اور نہ تمہارے ساتھ ظلم و زیادتی کی جائے گی۔ سوائے عباس بن عبدالمطلب کے سود کے کہ اس کا سارا کا سارا معاف ہے۔ خبردار! جاہلیت کا ہر خون ختم کردیا گیا ہے ١ ؎ اور جاہلیت میں ہوئے خونوں میں سے پہلا خون جسے میں معاف کرتا ہوں وہ حارث بن عبدالمطلب کا خون ہے، وہ قبیلہ بنی لیث میں دودھ پیتے تھے، تو انہیں قبیلہ ہذیل نے قتل کردیا تھا، سنو! عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک (و برتاؤ) کرو۔ کیونکہ وہ تمہارے پاس بےکس و لاچار بن کر ہیں اور تم اس کے سوا ان کی کسی چیز کے مالک نہیں ہو، مگر یہ کہ وہ کوئی کھلی ہوئی بدکاری کر بیٹھیں، اگر وہ کوئی قبیح گناہ کر بیٹھیں تو ان کے بستر الگ کر دو اور انہیں مارو مگر ایسی مار نہ لگاؤ کہ ان کی ہڈی پسلی توڑ بیٹھو، پھر اگر وہ تمہارے کہے میں آ جائیں تو ان پر ظلم و زیادتی کے راستے نہ ڈھونڈو، خبردار ہوجاؤ! تمہارے لیے تمہاری بیویوں پر حقوق ہیں، اور تمہاری بیویوں کے تم پر حقوق ہیں، تمہارا حق تمہاری بیویوں پر یہ ہے کہ جنہیں تم ناپسند کرتے ہو انہیں وہ تمہارے بستروں پر نہ آنے دیں، اور نہ ہی ان لوگوں کو گھروں میں آنے کی اجازت دیں جنہیں تم برا جانتے ہو، اور ان کا حق تم پر یہ ہے کہ تم ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور انہیں اچھا پہناؤ اور اچھا کھلاؤ۔
Sayyidina Amr ibn Ahwas (RA) narrated: I was with Allah’s Messenger ﷺ during the farewell pilgrimage. He praised and glorified Allah, gave advice and delivered the sermon, asking, “Which day is it that I declare sacred?” He asked this thrice. The people responded, “The day of Hajj Akbar (great pilgrimage), O Messenger of Allah ﷺ .” He said, “Your blood, your property and your honour are sacred to all of you as the sanctity of this your day in this your city in this your month. Know that a soul commits offence only against himself. No father commits a crime calling for punishment on the son and no son commits a crime for which his father is punished. Know that a Muslim is a brother of another Muslim , so nothing of his brother is lawful to a Muslim save what he makes lawful. Know, all interest of the jahiliyah is written off, for you is only the principal amount. Do not wrong anyone, nor should you be wronged. And the interest of Abbas ibn Abdul Muttalib is abolished, all of it. Know that all blood of the jahiliyah is abolished, and the first blood that I abolish of the blood of jahiliyah is the blood of Harith ibn Abdul MuttalibO who was suckled among the Banu Layth, Hudayl having killed him. Know that I instruct you about women be good to them, for, they are with you under Allah’s security. You own nothing of them save that if they commit open indecency. If they do that then separate them from your bed and beat them lightly. And if they obey you then do not seek pretext against them. Know that you have right over your women and your women have right over you. As for your right over your women, it is that they should not allow those people to come near your bed whom you dislike and allow no one in your house whom you dislike. And know that their right over you is that you be good to them in regard to their clothing and their food.” [Bukhari 4406,Abu Dawud 3334, Ibn e Majah 3055,Ahmed 15507] --------------------------------------------------------------------------------
حسن، ابن ماجة (1851)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3087
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے ابوالا ٔحوص نے شبیب بن غرقدہ سے روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی معاف کردیا گیا ہے، اب جاہلیت کے کسی خون کا قصاص نہیں لیا جائے گا۔
علی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: حج اکبر کا دن کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: نحر (قربانی) کا دن ہے ١ ؎۔
Sayyidina Ali (RA) reported that he asked Allahs Messenger ﷺ about the day of Hajj Akbar. He said that it was on the day of sacrifice (tenth of Dhul Hajjah).
صحيح ومضی (970)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3088
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے کہ اکثر امور حج طواف، زیارت، رمی اور ذبح و حلق وغیرہ اسی دن انجام پاتے ہیں۔ اور یہ حدیث اس آیت کی تفسیر میں لائیں ہیں «يوم الحج الأكبر» (التوبہ: ٣ )۔
Sayyidina Ali (RA) said that the day of Hajj Akbar was the day of sacrifice.
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3089
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ روایت محمد بن اسحاق کی روایت سے زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ حدیث کئی سندوں سے ابواسحاق سے مروی ہے، اور ابواسحاق حارث کے واسطہ سے علی ؓ سے موقوفاً روایت کرتے ہیں۔ اور ہم کسی کو محمد بن اسحاق کے سوا نہیں جانتے کہ انہوں نے اسے مرفوع کیا ہو، ٢ - شعبہ نے اس حدیث کو ابواسحاق سے، ابواسحاق نے عبداللہ بن مرہ سے، اور عبداللہ نے حارث کے واسطہ سے علی ؓ سے موقوفا ہی روایت کی ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے سورة برأۃ ابوبکر ؓ کے ساتھ بھیجی ١ ؎ پھر آپ نے انہیں بلا لیا، فرمایا: میرے خاندان کے کسی فرد کے سوا کسی اور کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ جا کر یہ پیغام وہاں پہنچائے (اس لیے تم اسے لے کر نہ جاؤ) پھر آپ نے علی ؓ کو بلایا اور انہیں سورة برأۃ دے کر (مکہ) بھیجا۔
Sayyidina Anas ibn Malik (RA) reported that the Prophet ﷺ sent the Bara’ah with Abu Bakr. Then he summoned him and said, “It does not behove anyone to convey it except a man of my family. He then summoned Ali (RA) and gave it to him.” (Bara’ah is security or immunity’. See next hadith.
حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3090