تفیسر سورت انفال
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عبَّاسٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: نَظَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ أَلْفٌ وَأَصْحَابُهُ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَبِضْعَةُ عَشَرَ رَجُلًا، فَاسْتَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ وَجَعَلَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ: اللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي، اللَّهُمَّ آتِنِي مَا وَعَدْتَنِي، اللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدُ فِي الْأَرْضِ، فَمَا زَالَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ مَادًّا يَدَيْهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ حَتَّى سَقَطَ رِدَاؤُهُ مِنْ مَنْكِبَيْهِ، فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَأَلْقَاهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَفَاكَ مُنَاشَدَتَكَ رَبَّكَ إِنَّهُ سَيُنْجِزُ لَكَ مَا وَعَدَكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُرْدِفِينَ سورة الأنفال آية 9 فَأَمَدَّهُمُ اللَّهُ بِالْمَلَائِكَةِ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي زُمَيْلٍ، وَأَبُو زُمَيْلٍ اسْمُهُ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا يَوْمَ بَدْرٍ.
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ (جنگ بدر کے موقع پر) رسول اللہ ﷺ نے (مشرکین مکہ پر) ایک نظر ڈالی، وہ ایک ہزار تھے اور آپ کے صحابہ تین سو دس اور کچھ (کل ٣١٣ ) تھے۔ پھر آپ قبلہ رخ ہوگئے اور اپنے دونوں ہاتھ اللہ کے حضور پھیلا دیئے اور اپنے رب کو پکارنے لگے: اے میرے رب! مجھ سے اپنا کیا ہوا وعدہ پورا فرما دے، جو کچھ تو نے مجھے دینے کا وعدہ فرمایا ہے، اسے عطا فرما دے، اے میرے رب! اگر اہل اسلام کی اس مختصر جماعت کو تو نے ہلاک کردیا تو پھر زمین پر تیری عبادت نہ کی جاسکے گی ۔ آپ قبلہ کی طرف منہ کیے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے اپنے رب کے سامنے گڑگڑاتے رہے یہاں تک کہ آپ کی چادر آپ کے دونوں کندھوں پر سے گر پڑی۔ پھر ابوبکر ؓ نے آ کر آپ کی چادر اٹھائی اور آپ کے کندھوں پر ڈال کر پیچھے ہی سے آپ سے لپٹ کر کہنے لگے۔ اللہ کے نبی! بس، کافی ہے آپ کی اپنے رب سے اتنی ہی دعا۔ اللہ نے آپ سے جو وعدہ کر کھا ہے وہ اسے پورا کرے گا (ان شاء اللہ) پھر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی «إذ تستغيثون ربکم فاستجاب لکم أني ممدکم بألف من الملائكة مردفين» ١ ؎۔
Sayyidina Umar (RA) ibn Khattab reported that the Prophet ﷺ looked towards the polytheists and they were one thousand in number while his sahahah numbered three hundred and ten plus. So, the Prophet ﷺ of Allah faced towards the qiblah, raised his hands and began to call his Lord, “O Allah make good the promise You had made to me. O Allah, if You let this small band of men of Islam perish then there will be none on earth to worship You.” He did not cease to beseech his Lord with his hands outstretched; facing the qihlah till his mantle fell down from his shoulders. Abu Bakr (RA) came and replaced it on his shoulders and Embraced him from behind, he said, “O Prophet ﷺ of Allah, you petition to your Lord is enough. He will surely fulfil His promise.” It was then that Allah revealed: "When you were calling your Lord for help, so He responded to you (saying), “I am going to support you with one thousand of the angels, one following the other." (8 : 9)Then Allah helped them with the angles. [Ahmed 208, Muslim 1763, Abu Dawud 26901