Sunan At-Tirmidhi 3099

قرآن کی تفسیر کا بیان

3099Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت التوبہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: تَمَارَى رَجُلَانِ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ فَقَالَ رَجُلٌ هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ، وَقَالَ الْآخَرُ: هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ مَسْجِدِي هَذَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، وَرَوَاهُ أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ دو آدمی اس مسجد کے بارے میں اختلاف کر بیٹھے جس کی تاسیس و تعمیر پہلے دن سے تقویٰ پر ہوئی ہے ١ ؎ (کہ وہ کون سی ہے؟ ) ایک شخص نے کہا: وہ مسجد قباء ہے اور دوسرے نے کہا: وہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد ہے۔ تب آپ نے فرمایا: وہ میری یہی مسجد (مسجد نبوی) ہے ٢ ؎۔

Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that two men argued on the mosque that was built from the first day on taqwa. 0ne of them said that it was the mosque Quba while the other said that it was the mosque of Allah’s Messenger (the Masjid Nabawi). So Allah’s Messenger ﷺ said, “It is my mosque, this one.” [Ahmed 22869, Muslim 1398, Nisai 693]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3099
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عمران بن ابی انس کی روایت سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - یہ حدیث ابو سعید خدری سے اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی مروی ہے، ٣ - اسے انیس بن ابی یحییٰ نے اپنے والد سے اور ان کے والد ابو سعید خدری ؓ سے روایت کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ارشاد باری «لمسجد أسس علی التقوی من أول يوم» (التوبہ: ١٠٨ ) کی طرف اشارہ ہے۔ ٢ ؎: اس مسجد کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ مسجد نبوی ہے یا مسجد قباء اس حدیث میں ہے کہ وہ مسجد نبوی ہے، جبکہ دوسری حدیث میں ہے کہ وہ مسجد قباء ہے، اور آیت کے سیاق و سباق سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ وہ مسجد قباء ہے، تو اس حدیث میں فرمان رسول ﷺ وہ یہی مسجد نبوی ہے کا کیا جواب ہے؟ جواب یہ ہے کہ آپ کے جواب کا مطلب صرف اتنا ہے کہ میری اس مسجد کی بھی پہلے دن سے تقویٰ پر بنیاد پڑی ہے، علماء کی توجیہات کا یہی خلاصہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المناسک ٩٦ (١٣٩٨) (تحفة الأشراف: ٤١١٨) (تحفة الأشراف: ١٢٣٠٩) (صحیح )