قرآن کی تفسیر کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 43 · 445 hadiths · Page 3 of 22

2990Sunan At-Tirmidhi

سورت بقرہ کے متعلق

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ السُّدِّيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ، سَمِعَعَلِيًّا، يَقُولُ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ سورة البقرة آية 284، أَحْزَنَتْنَا، قَالَ: قُلْنَا: يُحَدِّثُ أَحَدُنَا نَفْسَهُ فَيُحَاسَبُ بِهِ، لَا نَدْرِي مَا يُغْفَرُ مِنْهُ وَلَا مَا لَا يُغْفَرُ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ بَعْدَهَا فَنَسَخَتْهَا لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ سورة البقرة آية 286 .

علی ؓ کہتے ہیں کہ جب آیت «إن تبدوا ما في أنفسکم أو تخفوه يحاسبکم به اللہ فيغفر لمن يشاء ويعذب من يشاء» ١ ؎ نازل ہوئی۔ تو اس نے ہم سب کو فکرو غم میں مبتلا کردیا۔ ہم نے کہا: ہم میں سے کوئی اپنے دل میں باتیں کرے پھر اس کا حساب لیا جائے۔ ہمیں معلوم نہیں اس میں سے کیا بخشا جائے گا اور کیا نہیں بخشا جائے؟، اس پر یہ آیت نازل ہوئی «لا يكلف اللہ نفسا إلا وسعها لها ما کسبت وعليها ما اکتسبت» ٢ ؎ اور اس آیت نے اس سے پہلی والی آیت کو منسوخ کردیا ہے۔

Suddi reported that he was narrated this hadith by one who had heard it from Sayyidina Ali (RA) He said about the verse: "And whether you disclose it whatsoever is in your minds or conceal it, Allah will call you to account for it. Then He will forgive whom He will and chastise whom He will. "(2 : 184) They were grieved because of this, saying, “One of us thinks of something (bad) and he is taken to account for it. We do not know what of it is forgiven and what is not forgiven. So this verse was revealed thereafter, abrogating the previous: ‘Allah does not charge a soul save to its capacity. For it is that which it has earned, and against it is that which it has deserved. (2 :286) That is, thoughts in mind will not be questioned. [Muslim 125]

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2990
Notes · وضاحت
١ ؎: تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے تم ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ تعالیٰ اس کا حساب تم سے لے گا، پھر جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے سزا دے (البقرہ: ٢٨٤ )۔ ٢ ؎: اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا، جو نیکی کرے وہ اس کے لیے اور جو برائی کرے وہ بھی اس پر ہے (البقرہ: ٢٨٦ )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٣٣٦) (ضعیف الإسناد) (سدی اور علی ؓ کے درمیان کا راوی مبہم ہے )
2991Sunan At-Tirmidhi

سورت بقرہ کے متعلق

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمَيَّةَ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ سورة البقرة آية 284 وَعَنْ قَوْلِهِ: مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123، فَقَالَتْ: مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَذِهِ مُعَاتَبَةُ اللَّهِ الْعَبْدَ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنَ الْحُمَّى وَالنَّكْبَةِ حَتَّى الْبِضَاعَةُ يَضَعُهَا فِي كُمِّ قَمِيصِهِ فَيَفْقِدُهَا فَيَفْزَعُ لَهَا حَتَّى إِنَّ الْعَبْدَ لَيَخْرُجُ مِنْ ذُنُوبِهِ كَمَا يَخْرُجُ التِّبْرُ الْأَحْمَرُ مِنَ الْكِيرِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ.

امیہ کہتی ہیں کہ انہوں نے عائشہ ؓ سے اللہ تبارک وتعالیٰ کے قول «إن تبدوا ما في أنفسکم أو تخفوه يحاسبکم به الله» ١ ؎ اور (دوسرے) قول «من يعمل سوءا يجز به» ٢ ؎ کا مطلب پوچھا، تو انہوں نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے ان کا مطلب پوچھا ہے تب سے (تمہارے سوا) کسی نے مجھ سے ان کا مطلب نہیں پوچھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: یہ اللہ کی جانب سے بخار اور مصیبت (وغیرہ) میں مبتلا کر کے بندے کی سرزنش ہے۔ یہاں تک کہ وہ سامان جو وہ اپنی قمیص کی آستین میں رکھ لیتا ہے پھر گم کردیتا ہے پھر وہ گھبراتا اور اس کے لیے پریشان ہوتا ہے، یہاں تک کہ بندہ اپنے گناہوں سے ویسے ہی پاک و صاف ہوجاتا ہے جیسا کہ سرخ سونا بھٹی سے (صاف ستھرا) نکلتا ہے۔

Sayyidina Umayyah asked Sayyidah Aisha (RA) to explain the verses (2:284) and (4 :123) and; "He who does evil shall be recompensed for it."(4:123)She said that no one had asked her about them since she had asked Allah’s Messenger ﷺ (about them). He said: This is how Allah afflicts His slaves in difficulties, like fever or misfortune - even loss of something that he places in his shirt pocket and grieves for it. Thus, the slave comes out of his sins just as gold comes out the bellows.

ضعيف الإسناد // ضعيف الجامع الصغير (6086)، المشکاة (1557) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2991
Notes · وضاحت
١ ؎: البقرہ: ٢٨٦ ۔ ٢ ؎: جو برائی کرے گا اس کی سزا پائے گا (النساء: ١٢٣ )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٧٨٢٣) (ضعیف الإسناد) (” علی بن زید بن جدعان “ ضعیف ہیں )
2992Sunan At-Tirmidhi

سورت بقرہ کے متعلق

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ: وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ سورة البقرة آية 284، قَالَ: دَخَلَ قُلُوبَهُمْ مِنْهُ شَيْءٌ لَمْ يَدْخُلْ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَالَ: قُولُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا فَأَلْقَى اللَّهُ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ سورة البقرة آية 285 لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا سورة البقرة آية 286 قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ رَبَّنَا وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا سورة البقرة آية 286 قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ رَبَّنَا وَلا تُحَمِّلْنَا مَا لا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا سورة البقرة آية 286، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَآدَمُ بْنُ سُلَيْمَانَ يُقَالُ هُوَ وَالِدُ يَحْيَى بْنِ آدَمَ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت «إن تبدوا ما في أنفسکم أو تخفوه يحاسبکم به الله» نازل ہوئی تو لوگوں کے دلوں میں ایسا خوف و خطر پیدا ہوا جو اور کسی چیز سے پیدا نہ ہوا تھا۔ لوگوں نے یہ بات نبی اکرم ﷺ سے کہی تو آپ نے فرمایا: (پہلے تو) تم «سمعنا وأطعنا» کہو یعنی ہم نے سنا اور ہم نے بےچون و چرا بات مان لی، (چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کہا) تو اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان ڈال دیا۔ اور اس کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں «آمن الرسول بما أنزل إليه من ربه والمؤمنون» سے لے کر آخری آیت «لا يكلف اللہ نفسا إلا وسعها لها ما کسبت وعليها ما اکتسبت ربنا لا تؤاخذنا إن نسينا أو أخطأنا»، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے ایسا کردیا (تمہاری دعا قبول کرلی) «ربنا ولا تحمل علينا إصرا کما حملته علی الذين من قبلنا» ہمارے رب! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا ، اللہ نے فرمایا: میں نے تمہارا کہا کردیا ، «ربنا ولا تحملنا ما لا طاقة لنا به واعف عنا واغفر لنا وارحمنا» اے اللہ! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جس کی طاقت ہم میں نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما، اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما ، اللہ نے فرمایا: میں نے ایسا کردیا (یعنی تمہاری دعا قبول کرلی) ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated: When the verse 2 :284: was revealed, fear filled the hearts of the sahabah (RA) as they had never experienced before. They mentioned that to the Prophet ﷺ and he instructed them to say: "We have heard and we have obeyed." (2:285) So, Allah put in their hearts faith and He revealed: "The Messenger ﷺ believes in what has been revealed to him from his Lord. and (so do) the believers. (2:285) "Allah does not charge a soul save to its capacity. For it is that which it has earned, and against it is that which it has deserved. (Pray) Our Lord’ Take us not to task if we forget, or fall into error."(2: 286) He said, “I have done it.” Our Lord! Lay not on us a burden like that which you did Lay on those before us. He said, “I have done it.” Our Lord! Impose not on us that which we have not the strength to bear. And pardon us, and forgive us, and have mercy on us. You are our Protector . (2:286) He said, “I have done that” (meaning, accepted your prayer). [Ahmed 2070, Muslim 126]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2992
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث ابن عباس ؓ سے دوسری سند سے بھی مروی ہے، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٥٧ (١٢٥) (تحفة الأشراف: ٥٤٣٤) (صحیح )
2994Sunan At-Tirmidhi

سورت آل عمران کے متعلق

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ سورة آل عمران آية 7 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ سَمَّاهُمُ اللَّهُ فَاحْذَرُوهُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرُوِي عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَإِنَّمَا ذَكَرَ يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ أَيْضًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے آیت «هو الذي أنزل عليك الکتاب منه آيات محکمات» کی تفسیر پوچھی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم ان لوگوں کو آیات متشابہات کے پیچھے پڑے ہوئے دیکھو تو سمجھ لو کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کا اللہ نے نام لیا ہے اور ایسے لوگوں سے بچو ۔

Sayyidah Aisha (RA) narrated : I asked Allah’s Messenger ﷺ about Allah’s Words: "So those in whose hearts is perversity follow the part thereof that is allegorical, seeking (to cause) discord while seeking its interpretation." (3: 7) He said, “When you see them, recognise them.” But Yazid narrated that he said, “When (all of) you see them, recognise them.”O He said that twice or thrice.

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2994
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث ایوب سے بھی مروی ہے، اور ایوب نے ابن ابی ملیکہ کے واسطہ سے عائشہ سے روایت کی ہے، ٣ - ایسے ہی یہ حدیث متعدد لوگوں نے ابن ابی ملیکہ سے عائشہ سے روایت کی ہے۔ لیکن ان لوگوں نے اپنی اپنی روایات میں قاسم بن محمد کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ان کا ذکر صرف یزید بن ابراہیم تستری نے اس حدیث میں «عن القاسم» کہہ کر کیا ہے، ٤ - ابن ابی ملیکہ عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ ہیں، انہوں نے بھی عائشہ سے سنا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: وہی اللہ تعالیٰ ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری جس میں واضح مضبوط آیتیں ہیں جو اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ آیتیں ہیں پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ تو اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں، فتنے کی طلب اور ان کی غلط مراد کی جستجو کی خاطر، حالانکہ ان کے حقیقی مراد کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا (آل عمرآن: ٧ )۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر آل عمران ١ (٤٥٤٧)، صحیح مسلم/العلم ١ (٢٦٦٥)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٧ (٤٧) (تحفة الأشراف: ١٧٤٦٠)، و مسند احمد (٦/٤٨)، وسنن الدارمی/المقدمة ١٩ (١٤٧) (صحیح )
2993Sunan At-Tirmidhi

سورت آل عمران کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ وَهُوَ الْخَزَّازُ، وَيَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلَاهُمَا، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ يَزِيدُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو عَامِرٍ الْقَاسِمَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ سورة آل عمران آية 7، قَالَ: فَإِذَا رَأَيْتِيهِمْ فَاعْرِفِيهِمْ ، وَقَالَ يَزِيدُ: فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَاعْرِفُوهُمْ، قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت «فأما الذين في قلوبهم زيغ فيتبعون ما تشابه منه ابتغاء الفتنة وابتغاء تأويله» ٢ ؎ کی تفسیر پوچھی۔ تو آپ نے فرمایا: جب تم انہیں دیکھو تو انہیں پہچان لو (کہ یہی لوگ اصحاب زیغ ہیں) ۔ یزید کی روایت میں ہے جب تم لوگ انہیں دیکھو تو انہیں پہچان لو یہ بات عائشہ ؓ نے دو یا تین بار کہی۔

Sayyidah Aisha (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ was asked about the verse: "He is (Allah) who has revealed to you the Book, some of its verses are perspicuous - they are the substance of the Book - and others are allegorical ." (3: 7, to the end) He said, “When you see people who pursue the allegorical verses then they are the ones Allah has asked you to shun.’ [Ahmed 26257,Bukhari 4547,Muslim 2665,Abu Dawud 4598]

**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2993
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: قرآن میں دو قسم کی آیات ہیں ١ - محکم، ٢ - اور متشابہ، محکم وہ آیات ہیں جن کے معانی اور مطالب بالکل واضح ہیں جیسے نماز پڑھو، زکاۃ ادا کرو وغیرہ، اور متشابہ وہ آیات ہیں جن کے معانی واضح نہیں ہوتے، ان کے صحیح معانی یا تو اللہ جانتا ہے، یا اللہ کے رسول جانتے تھے، ان کے معانی معلوم کرنے کے پیچھے پڑنے سے منع کیا گیا ہے، ان پر ایمان بالغیب کا مطالبہ ہے لیکن زیع و ضلال کے متلاشی لوگ ان کے غلط معانی بیان کرنے کے چکر میں پڑے رہتے ہیں، انہی سے بچنے کا مشورہ اس حدیث میں دیا گیا ہے۔ ٢ ؎: پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ تو اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں، فتنے کی طلب اور ان کی غلط مراد کی جستجو کی خاطر (آل عمران: ٧ )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٦٢٤١) (صحیح )
2995Sunan At-Tirmidhi

سورت آل عمران کے متعلق

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ وُلَاةً مِنَ النَّبِيِّينَ، وَإِنَّ وَلِيِّي أَبِي وَخَلِيلُ رَبِّي، ثُمَّ قَرَأَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ سورة آل عمران آية 68 ، .

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر نبی کا نبیوں میں سے کوئی نہ کوئی دوست ہوتا ہے، اور میرے دوست میرے باپ اور میرے رب کے گہرے دوست ابراہیم ہیں۔ پھر آپ نے آیت «إن أولی الناس بإبراهيم للذين اتبعوه وهذا النبي والذين آمنوا والله ولي المؤمنين» ١ ؎ پڑھی ۔

Sayyidina Abdullah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Surely for every Prophet ﷺ there is a friend among the Prophets. My friend is my father - the friend of my Lord (Ibrahim -). He then recited: "Surely the people of closest claim to Ibrahim are those who followed him, and the Prophet, and those who believe; and Allah is the Protector the believers.” (3 : 68)

صحيح، المشکاة (5769 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2995
Notes · وضاحت
١ ؎: سب لوگوں سے زیادہ ابراہیم سے نزدیک تر وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کا کہا مانا اور یہ نبی اور جو لوگ ایمان لائے، مومنوں کا ولی اور سہارا اللہ ہی ہے (آل عمرآن: ٦٨ )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٥٨١) (صحیح )
2996Sunan At-Tirmidhi

سورت آل عمران کے متعلق

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، فَقَالَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ: فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟، فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ: احْلِفْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَنْ يَحْلِفُ فَيَذْهَبُ بِمَالِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی امر پر قسم کھائی اور وہ جھوٹا ہو اور قسم اس لیے کھائی تاکہ وہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ناحق لے لے تو جب وہ (قیامت میں) اللہ سے ملے گا، اس وقت اللہ اس سخت غضبناک ہوگا ۔ اشعث بن قیس ؓ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! یہ حدیث میرے بارے میں ہے۔ میرے اور ایک یہودی شخص کے درمیان ایک (مشترک) زمین تھی، اس نے اس میں میری حصہ داری کا انکار کردیا، تو میں اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچا، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی دلیل و ثبوت ہے؟ میں نے کہا: نہیں، پھر آپ نے یہودی سے فرمایا: تم قسم کھاؤ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! تب تو یہ قسم کھا کر میرا مال لے جائے گا، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت: «إن الذين يشترون بعهد اللہ وأيمانهم ثمنا قليلا» ١ ؎ نازل فرمائی۔

Sayyidina Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone swears an oath while he lies about it that he may thereby rob a Muslim of his property then he will meet Allah while He is angry at him.” Ash’ath ibn Qays said, “This (hadith) is about me. By Allah, there was a piece of land, belonging jointly to me and a Jew, but he disowned me. So I took him to the Prophet ﷺ who asked me if I had witnesses. I said that I had none. So, he asked the Jew to take an oath but I protested, ‘O Messenger of Allah ﷺ ! He will swear and take away my property’. So, Allah revealed this verse:” "Surely those who barter Allah’s covenant and their oaths, for a small price there shall be no share for them in the Hereafter: and Allah shall not speak to them nor shall He look on them on the Day of Resurrection, nor shall He purify them, and for them is a painful punishment." (3:77) [Bukhari 2606,Muslim 220,Abu Dawud 3243,Ahmed 4049, Ibn e Majah 2323] -------------------------------------------------------------------------------- (3008)

صحيح، ابن ماجة (2323)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2996
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن ابی اوفی ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں (آل عمرآن: ٧٧ )۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٢٦٩ (صحیح )
2997Sunan At-Tirmidhi

سورت آل عمران کے متعلق

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 أَوْ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا سورة البقرة آية 245، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ، وَكَانَ لَهُ حَائِطٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَائِطِي لِلَّهِ، وَلَوِ اسْتَطَعْتُ أَنْ أُسِرَّهُ لَمْ أُعْلِنْهُ، فَقَالَ: اجْعَلْهُ فِي قَرَابَتِكَ أَوْ أَقْرَبِيكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت: «لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون» ١ ؎ یا «من ذا الذي يقرض اللہ قرضا حسنا» ٢ ؎ نازل ہوئی۔ اس وقت ابوطلحہ ؓ کے پاس ایک باغ تھا، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرا باغ اللہ کی رضا کے لیے صدقہ ہے، اگر میں اسے چھپا سکتا (تو چھپاتا) اعلان نہ کرتا ٣ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے اپنے رشتہ داروں کے لیے وقف کر دو ۔

Sayyidina Anas (RA) reported about this verse: "You cannot attain virtue unless you expend of that which you love." (3:92) or, this verse: - "Who is he that will loan to Allah a goodly loan." (2 :245) When it was revealed, Abu Talhah (RA) who had a garden, said, “O Messenger of Allah ﷺ ’ My garden is for Allah. If I could, I would have kept it a secret and not announced.” He said, “Give it to your relatives.” [Ahmed 12441,Bukhari 1461,Muslim 998,Abu Dawud 1689,Nisai 3601]

صحيح، صحيح أبي داود (1482)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2997
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس حدیث کو مالک بن انس نے اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ کے واسطہ سے انس بن مالک ؓ سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز سے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو گے ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے (آل عمران: ٩٢ )۔ ٢ ؎: ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے (البقرہ: ٢٤٥ )۔ ٣ ؎: کیونکہ چھپا کر صدقہ و خیرات کرنا اللہ کو زیادہ پسند ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر: صحیح البخاری/الزکاة ٤٤ (١٤٦١)، والوکالة ١٥ (٢٣١٨)، والوصایا ١٧ (٢٧٥٨)، وتفسیر آل عمران ٥ (٤٥٥٤)، والأشربة ١٣ (٥٦١١)، صحیح مسلم/الزکاة ١٤ (٩٩٨) (تحفة الأشراف: ٧٠٤، و ٢٠٤) (صحیح )
2998Sunan At-Tirmidhi

سورت آل عمران کے متعلق

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، قَال: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيَّ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنِ الْحَاجُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: الشَّعِثُ التَّفِلُ ، فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: أَيُّ الْحَجِّ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: الْعَجُّ وَالثَّجُّ ، فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: مَا السَّبِيلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ الْخُوزِيِّ الْمَكِّيِّ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! (واقعی) حاجی کون ہے؟۔ آپ نے فرمایا: وہ حاجی جس کا سر گردوغبار سے اٹ گیا ہو جس نے زیب و زینت اور خوشبو چھوڑ دی ہو، جس کے بدن سے بو آنے لگی ہو پھر ایک دوسرے شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: کون سا حج سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ حج جس میں لبیک بآواز بلند پکارا جائے، اور ہدی اور قربانی کے جانوروں کا (خوب خوب) خون بہایا جائے ۔ ایک اور شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! («من استطاع سبیلاً» میں) «سبیل» سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: زاد راہ (توشہ) اور سواری ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that a man stood up before the Prophet ﷺ and asked, “O Messenger of Allah ﷺ ’ Who is a pilgrim (the best of those who perform Hajj)?” He said, “The one with dishevelled appearance and clothes.” Another man got up and asked, “O Messenger of Allah ﷺ , which of the Hajj (pilgrimages) is most excellent?” He said, “The Hajj in which labayk is called loudly and many offerings are made.” Another man got up, and asked, “O Messenger of Allah ﷺ , what does sabil mean?”O He said, “Provision and riding beast.” [lMuslim 2896]

ضعيف جدا، لکن جملة العج والثج ثبتت في حديث آخر، ابن ماجة (2896)، صحيح ابن ماجة برقم (2341)، ضعيف ابن ماجة (631)، الإرواء (988)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2998
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابن عمر ؓ کی اس حدیث کو ہم نہیں جانتے سوائے ابراہیم بن یزید خوزی مکی کی روایت سے، اور بعض محدثین نے ابراہیم بن یزید کے بارے میں ان کے حافظہ کے تعلق سے کلام کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٨١٣ (ضعیف جدا) (سند میں ابراہیم بن یزید خوزی سخت ضعیف ہے، لیکن العج والثج کا جملہ ابن ماجہ کی ایک حدیث سے ثابت ہے سنن ابن ماجہ: ٢٨٩٦ )
2999Sunan At-Tirmidhi

سورت آل عمران کے متعلق

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ هُوَ مَدَنِيٌ ثِقَةٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الْآيَةَ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ سورة آل عمران آية 61، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا، وَفَاطِمَةَ، وَحَسَنًا، وَحُسَيْنًا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ جب آیت «تعالوا ندع أبناءنا وأبناء کم ونساءنا ونساء کم» ١ ؎ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے علی، فاطمہ اور حسن و حسین ؓ کو بلایا پھر فرمایا: یا اللہ! یہ لوگ میرے اہل ہیں ۔

Sayyidina Sad ibn Abu Waqqas (RA) reported that when the verse was revealed: "We will summon our sons and your sons, and our women and your women." (3:61) Allah’s Messenger ﷺ sommoned Sayyidina Ali, Sayyidah Fatimah, Hasan and Husayn. And he said, “O Allah they are my family.”

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2999
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آؤ ہم تم اپنے اپنے لڑکوں کو اور ہم تم اپنی اپنی عورتوں کو اور ہم تم خاص اپنی اپنی جانوں کو بلا لیں (آل عمرآن: ٦١ )۔ یہ آیت نجران کے عیسائیوں کے ساتھ آپ ﷺ کے معاملہ کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی، معاملے میں دونوں فریقوں کو اپنے اپنے خاص اہل خانہ کو ساتھ لے کر قسم کھانی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جھوٹے کا جھوٹ سچے کی زندگی میں ظاہر کر دے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٨٧٥) (صحیح الإسناد )
3000Sunan At-Tirmidhi

سورت آل عمران کے متعلق

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ صَبِيحٍ، وَحَمَّادُ ابْنُ سلمة، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، قَالَ: رَأَى أَبُو أُمَامَةَ رُءُوسًا مَنْصُوبَةً عَلَى دَرَجِ مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ: كِلَابُ النَّارِ شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوهُ ثُمَّ قَرَأَ: يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ سورة آل عمران آية 106 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا حَتَّى عَدَّ سَبْعًا مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو غَالِبٍ يُقَالُ اسْمُهُ حَزَوَّرٌ، وَأَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ اسْمُهُ صُدَيُّ بْنُ عَجْلَانَ وَهُوَ سَيِّدُ بَاهِلَةَ.

ابوغالب کہتے ہیں کہ ابوامامہ ؓ نے دمشق کی مسجد کی سیڑھیوں پر (حروراء کے مقتول خوارج کے) سر لٹکتے ہوئے دیکھے، تو کہا: یہ جہنم کے کتے ہیں، آسمان کے سایہ تلے بدترین مقتول ہیں جب کہ بہترین مقتول وہ ہیں جنہیں انہوں نے قتل کیا ہے، پھر انہوں نے یہ آیت «يوم تبيض وجوه وتسود وجوه» ١ ؎ پڑھی میں نے ابوامامہ ؓ سے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ کہا: میں نے اسے اگر ایک بار یا دو بار یا تین بار یا چار بار یہاں تک انہوں نے سات بار گنا، نہ سنا ہوتا تو تم لوگوں سے میں اسے نہ بیان کرتا۔

Abu Ghalib narrated: Abu Umamah (RA) saw some heads hanging on the eps of Damascus and remarked, “Dogs of the fire worst of the slain under the sky (on the surface of earth)! The best of the slain were the ones they have killed!” Then he recited: "On the day when (some) faces are brightened and other faces are blackened. " (3:106 to the end of the verse) I asked Abu Umamah (RA). Have you heard it from Allah’s Messenger?” He said, “Had I not heard it once, twice, thrice, four times nay, seven times I would not have mentioned it to you.” (He meant that he had heard it often). [Ibn e Majah 176,Ahmed 22213]

حسن صحيح، ابن ماجة (176)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3000
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - ابوغالب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا نام حزور ہے۔ ٣ - اور ابوامامہ باہلی ؓ کا نام صدی بن عجلان ہے، وہ قبیلہ باہلہ کے سردار تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٢ (١٧٦) (تحفة الأشراف: ٤٩٣٥) (حسن صحیح )
3001Sunan At-Tirmidhi

سورت آل عمران کے متعلق

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ سورة آل عمران آية 110، قَالَ: إِنَّكُمْ تَتِمُّونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ نَحْوَ هَذَا، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ سورة آل عمران آية 110.

معاویہ بن حیدہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کے قول «کنتم خير أمة أخرجت للناس» ١ ؎ کی تفسیر کرتے ہوئے سنا: تم ستر امتوں کا تتمہ (و تکملہ) ہو، تم اللہ کے نزدیک ان سب سے بہتر اور سب سے زیادہ باعزت ہو ۔

Bahz ibn Hakim reproted from his father, from his grandfather that he heard the Prophet ﷺ say about the Words of Allah: "You are the best community raised up for mankind." (3:110) He said, “You are the ones to perfect seventy ummahs and you are the best of them and the most noble of them.” [Ahmed 200064, Ibn e Majah 4287]

حسن، ابن ماجة (4287 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3001
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - متعدد لوگوں نے بہز بن حکیم سے یہ حدیث اسی طرح روایت کی ہے، لیکن ان راویوں نے اس میں آیت «کنتم خير أمة أخرجت للناس» کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے (آل عمران: ١١٠ )۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٤ (٤٢٨٧) (تحفة الأشراف: ١١٣٨٧) (حسن )
3002Sunan At-Tirmidhi

سورت آل عمران کے متعلق

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَشُجَّ وَجْهُهُ شَجَّةً فِي جَبْهَتِهِ حَتَّى سَالَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ: كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ، فَنَزَلَتْ: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ سورة آل عمران آية 128 إِلَى آخِرِهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ جنگ احد میں نبی اکرم ﷺ کے سامنے کے چاروں دانت (رباعیہ) توڑ دیئے گئے، اور پیشانی زخمی کردی گئی، یہاں تک کہ خون آپ کے مبارک چہرے پر بہ پڑا۔ آپ نے فرمایا: بھلا وہ قوم کیوں کر کامیاب ہوگی جو اپنے نبی کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کرے، جب کہ حال یہ ہو کہ وہ نبی انہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہو۔ تو یہ آیت «ليس لک من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم» ١ ؎ نازل ہوئی ۔

Sayyidina Anas (RA) reported that during the Battle of Uhud, the teeth of the Prophet ﷺ were broken, he was wounded in the head and the forehead so that blood flowed down his face. He said, “How can a people prosper if they do this to their Prophet ﷺ while he invites them to Allah.” So the verse was revealed: "Not for you is the decision whether He relents towards them or chastises them, for, they are evildoers." (3:128) [Ahmed, 13136,Muslim 1791, Ibn e Majah 4027]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3002
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اے نبی! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرلے یا عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں (آل عمران: ١٢٨ )۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٢١ (تعلیقا في الترجمة) صحیح مسلم/الجھاد ٣٨ (١٧٩١)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٣ (٤٠٢٧) (تحفة الأشراف: ٧٨٧)، و مسند احمد (٣/٩٩، ١٧٨، ٢٠١، ٢٠٦، ٢٥٢، ٢٨٨) (صحیح )
3003Sunan At-Tirmidhi

سورت آل عمران کے متعلق

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُجَّ فِي وَجْهِهِ، وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ، وَرُمِيَ رَمْيَةً عَلَى كَتِفِهِ فَجَعَلَ الدَّمُ يَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ وَهُوَ يَمْسَحُهُ، وَيَقُولُ: كَيْفَ تُفْلِحُ أُمَّةٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 ، سَمِعْتُ عَبْدَ بْنَ حُمَيْدٍ، يَقُولُ: غَلِطَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ فِي هَذَا، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے چہرے سے خون بہایا گیا، آپ کے دانت توڑ دیئے گئے، آپ کے کندھے پر پتھر مارا گیا، جس سے آپ کے چہرے پر خون بہنے لگا، آپ اسے پونچھتے جا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے: وہ امت کیسے فلاح یاب ہوگی جس کا نبی انہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہو اور وہ اس کے ساتھ ایسا (برا) سلوک کر رہے ہوں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت: «ليس لک من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون» نازل فرمائی۔

Sayyidina Anas (RA) reported that the Prophet’s ﷺ face was injured, he lost his teeth and was hit on the shoulder by a stone. Blood trickled down his face. He wiped it and said the while, “How shall such people prosper who do this to their Prophet ﷺ who invites them towards Allah.” So Allah revealed the verse (3 : 128). "Not for thee, (but for Allah), is the decision: Whether He turn in mercy to them, or punish them; for they are indeed wrong-doers." (3: 128)

صحيح انظر ما قبله (3002)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3003
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - میں نے عبد بن حمید کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ یزید بن ہارون اس معاملے میں غلطی کر گئے ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی انہوں نے اس حدیث کی روایت کرنے میں «ورمی رمية علی كتفه» کی بابت غلطی کی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
3004Sunan At-Tirmidhi

سورت آل عمران کے متعلق

حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ بْنِ سَلْمٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ: اللَّهُمَّ الْعَنْ أَبَا سُفْيَانَ، اللَّهُمَّ الْعَنْ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ الْعَنْ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَالَ: فَنَزَلَتْ: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ سورة آل عمران آية 128 فَتَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَأَسْلَمُوا فَحَسُنَ إِسْلَامُهُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، لَمْ يَعْرِفْهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ، وَعَرَفَهُ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن فرمایا: اے اللہ! لعنت نازل فرما ابوسفیان پر، اے اللہ! لعنت نازل فرما حارث بن ہشام پر، اے اللہ! لعنت نازل فرما صفوان بن امیہ پر ، تو آپ پر یہ آیت «ليس لک من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم» نازل ہوئی۔ تو اللہ نے انہیں توبہ کی توفیق دی، انہوں نے اسلام قبول کرلیا اور ان کا اسلام بہترین اسلام ثابت ہوا۔

Saalim ibn Abdullah ibn Umar (RA) reported on the authority of his father that Allah’s Messenger ﷺ said on the day of Uhud, “O Allah! curse Abu Sufyan (RA) . O Allah, curse Harith ibn Hisham, O Allah, curse Safwan ibn Umayyah.” At that this verse (3:128) was revealed: "Not for thee, (but for Allah), is the decision: Whether He turn in mercy to them, or punish them; for they are indeed wrong-doers." (3:128) Then Allah forgave them. They embraced Islam and turned out to be good Muslims. [Bukhari 4069,Nisai 1074,Ahmed 5678]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3004
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - یہ روایت «عمر بن حمزة عن سالم عن أبيه» کے طریق سے غریب ہے، ٣ - زہری نے بھی اسے سالم سے اور انہوں نے بھی اپنے باپ سے روایت کیا ہے، ٤ - محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو عمر بن حمزہ کی روایت سے نہیں جانا بلکہ زہری کی روایت سے جانا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وراجع: صحیح البخاری/المغازي ٢١ (٤٠٦٩) (تحفة الأشراف: ٦٧٨٠) (صحیح) (سند میں عمر بن حمزہ بن عبد اللہ بن عمر ضعیف راوی ہیں، لیکن بخاری کی مذکورہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے )
3005Sunan At-Tirmidhi

سورت آل عمران کے متعلق

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَدْعُو عَلَى أَرْبَعَةِ نَفَرٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 فَهَدَاهُمُ اللَّهُ لِلْإِسْلَامِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ يُسْتَغْرَبُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ چار افراد کے لیے بدعا فرماتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے آیت: «ليس لک من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون» نازل فرمائی۔ پھر اللہ نے انہیں اسلام قبول کرنے کی ہدایت و توفیق بخش دی۔

Sayyidina Abdullah ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ used to curse four. So Allah revealed the verse. (3 : 128) "Not for thee, (but for Allah), is the decision: Whether He turn in mercy to them, or punish them; for they are indeed wrong-doers." But Allah bestowed on them Islam. [Ahmed 5816]

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3005
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ یعنی: اس سند سے بطریق «نافع عن ابن عمر» ٢ - اس حدیث کو یحییٰ بن ایوب نے بھی ابن عجلان سے روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وراجع: صحیح البخاری/المغازي ٢١ (٤٠٦٩، ٤٠٧٠) (تحفة الأشراف: ٨٤٣٦) (حسن صحیح )
3006Sunan At-Tirmidhi

سورت آل عمران کے متعلق

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ، قَال: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ: إِنِّي كُنْتُ رَجُلًا إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي، وَإِذَا حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ اسْتَحْلَفْتُهُ، فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ، وَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا ثُمَّ يَقُومُ فَيَتَطَهَّرُ، ثُمَّ يُصَلِّي ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ لَهُ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا سورة آل عمران آية 135 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَرَفَعُوهُ وَرَوَاهُ مِسْعَرٌ، وَسُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَلَمْ يَرْفَعَاهُ، وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ، عَنْ مِسْعَرٍ فَأَوْقَفَهُ وَرَفَعَهُ بَعْضُهُمْ، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَأَوْقَفَهُ، وَلَا نَعْرِفُ لِأَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ حَدِيثًا إِلَّا هَذَا.

اسماء بن حکم فزاری کہتے ہیں کہ میں نے علی ؓ کو کہتے ہوئے سنا: جب میں نے رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث سنی تو اللہ نے مجھے جتنا فائدہ پہنچانا چاہا پہنچایا، اور جب مجھ سے آپ کا کوئی صحابی حدیث بیان کرتا تو میں اسے قسم کھلاتا پھر جب وہ میرے کہنے سے قسم کھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا۔ اور بیشک مجھ سے ابوبکر ؓ نے حدیث بیان کی اور بالکل سچ بیان کی، کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا جو کوئی بھی شخص کوئی گناہ کرتا ہے پھر وہ کھڑا ہوتا ہے پھر پاکی حاصل کرتا ہے پھر نماز پڑھتا ہے، اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے تو اللہ اسے بخش دیتا ہے ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذکروا الله» ١ ؎۔

Asma ibn Hakam Fazari reported having heard Sayyidina Ali (RA) say: I was such a man that if I heard a hadith from Allah’s Messenger ﷺ Allah gave me benefit from it as much as He willed. And if anyone of the sahabah (RA) narrated to me a hadith, I got him to speak on oath. When he took the oath, I confirmed him. And, indeed, Abu Bakr (RA) narrated to me a hadith - and Abu Bakr (RA) spoke the truth. He said that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “There is no man who commits a sin then purifies himself, ofifers salah and seeks Allah’s forgiveness but that he is forgiven.” He (the Prophet ﷺ then recited this verse: "And those who, having done something to be ashamed of, or wronged their own souls, earnestly bring Allah to mind, and ask for forgiveness for their sins,- and who can forgive sins except Allah?- and are never obstinate in persisting knowingly in (the wrong) they have done." (3:135) [Ahmed 56,Abu Dawud 1521, Ibn e Majah 135]

حسن، ابن ماجة (1359)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3006
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کو شعبہ اور دیگر کئی لوگوں نے عثمان بن مغیرہ سے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے اسے مرفوع روایت کیا ہے جب کہ مسعر اور سفیان نے عثمان بن مغیرہ سے روایت کیا ہے لیکن ان دونوں نے اسے مرفوع روایت نہیں کیا۔ اور بعض لوگوں نے اسے مسعر سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ اور بعض لوگوں نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ اور سفیان ثوری نے عثمان بن مغیرہ سے موقوفاً روایت کیا ہے، ٢ - اسماء بن حکم سے اس روایت کے سوا کوئی دوسری روایت ہم نہیں جانتے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہوجائے یا کوئی گناہ کر بیٹھیں تو فوراً اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کے لیے استغفار کرتے ہیں (آل عمران: ١٣٥ )۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٤٠٦ (صحیح )
3007Sunan At-Tirmidhi

سورت آل عمران کے متعلق

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: رَفَعْتُ رَأْسِي يَوْمَ أُحُدٍ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ، وَمَا مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ إِلَّا يَمِيدُ تَحْتَ حَجَفَتِهِ مِنَ النُّعَاسِ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا سورة آل عمران آية 154 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،

ابوطلحہ ؓ کہتے ہیں کہ احد کی لڑائی کے دن میں اپنا سر بلند کر کے (ادھر ادھر) دیکھنے لگا، اس دن کوئی ایسا نہ تھا جس کا سر نیند سے (بوجھل) اپنے سینے کے نیچے جھکا نہ جا رہا ہو، اللہ تعالیٰ کے قول «ثم أنزل عليكم من بعد الغم أمنة نعاسا» ١ ؎ کا مفہوم و مراد یہی ہے۔

Sayyidina Abu Talhah narrated: I raised my head during the Battle of Uhud and observed that there was none of them that day but had his head down because of the doze he had. That is as Allah says: "Then He sent you, after grief a security - a slumber." (3:154)

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3007
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پھر اس نے اس غم کے بعد تم پر امن نازل فرمایا اور تم میں ایک جماعت کو چین کی نیند آنے لگی (آل عمران: ١٥٤ )۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٢١ (٤٠٦٨)، وتفسیر آل عمران ١١ (٤٥٦٢) (تحفة الأشراف: ٣٧٧١) (صحیح )
3008Sunan At-Tirmidhi

سورت آل عمران کے متعلق

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، قَالَ: غُشِينَا وَنَحْنُ فِي مَصَافِّنَا يَوْمَ أُحُدٍ، حَدَّثَ أَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ غَشِيَهُ النُّعَاسُ يَوْمَئِذٍ، قَالَ: فَجَعَلَ سَيْفِي يَسْقُطُ مِنْ يَدِي وَآخُذُهُ، وَيَسْقُطُ مِنْ يَدِي وَآخُذُهُ، وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى الْمُنَاقِدُونَ لَيْسَ لَهُمْ هَمٌّ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ، أَجْبَنُ قَوْمٍ وَأَرْعَبُهُ وَأَخْذَلُهُ لِلْحَقِّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ ؓ نے بیان کیا کہ ہم جنگ احد میں اپنی صف (پوزیشن) میں تھے اور ہم پر غنودگی طاری ہوگئی۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اس دن غنودگی (نیند) نے آ گھیرا تھا، حالت یہ ہوگئی تھی کہ تلوار میرے ہاتھ سے چھوٹی جا رہی تھی، میں اسے پکڑ رہا تھا اور میرے ہاتھ سے گری جا رہی تھی، میں اسے سنبھال رہا تھا۔ دوسرا گروہ منافقوں کا تھا جنہیں صرف اپنی جانوں کی حفاظت کی فکر تھی، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ بزدل، سب سے زیادہ مرعوب ہوجانے والے (ڈرپوک) اور حق کا سب سے زیادہ ساتھ چھوڑنے والے تھے۔

Sayyidina Anas (RA) reported that Sayyidina Abu Talhah narrated: During the Battle of Uhud, while we were on the battlefield, we were overtaken by slumber. I was one of them on that day and my sword was slipping off my hand. I would pick it and slip it would again and I would pick it up. The other party was of the hypocrites. They had no concern except for their own lives. They were cowards, overawed who had forsaken truth.

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3008
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٣٠٠٧ (صحیح )
3009Sunan At-Tirmidhi

سورت آل عمران کے متعلق

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، حَدَّثَنَا مِقْسَمٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ سورة آل عمران آية 161 فِي قَطِيفَةٍ حَمْرَاءَ افْتُقِدَتْ يَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ سورة آل عمران آية 161 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ خُصَيْفٍ نَحْوَ هَذَا، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ ارشاد باری «ما کان لنبي أن يغل» کے بارے میں کہتے ہیں: جنگ بدر کے دن (مال غنیمت میں آئی ہوئی) ایک سرخ رنگ کی چادر کھو گئی، بعض لوگوں نے کہا: شاید رسول اللہ ﷺ نے لے لی ہو تو آیت: «ما کان لنبي أن يغل» ١ ؎ نازل ہوئی۔

Miqsam reported that Sayyidin ibn Abbas narrated about the verse: "And it behoves not a Prpphet that he should ever betray his trust." (3:161) (He said that) this verse was revealed concerning a red cotton sheet of cloth that was lost during the Battle of Badr. Some people said, “Perhaps Allah’s Messenger ﷺ has taken it.” So, Allah, the Blessed and Elevated revealed: "No prophet could (ever) be false to his trust. If any person is so false, He shall, on the Day of Judgment, restore what he misappropriated; then shall every soul receive its due,- whatever it earned,- and none shall be dealt with unjustly. " (3:161)

صحيح، الصحيحة (2788)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3009
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - عبدالسلام بن حرب نے خصیف سے اسی جیسی روایت کی ہے، ٣ - اور بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق:«خصيف عن مقسم» روایت کی ہے، لیکن ان لوگوں نے اس روایت میں ابن عباس ؓ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ناممکن ہے کہ نبی سے خیانت ہوجائے، ہر خیانت کرنے والا خیانت کو لیے ہوئے قیامت کے دن حاضر ہوگا، پھر ہر شخص کو اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، اور وہ ظلم نہ کئے جائیں گے (آل عمران: ١٦١ )۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحروف ٣ (٣٩٧١) (تحفة الأشراف: ٦٤٨٧) (صحیح )