قرآن کی تفسیر کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 43 · 445 hadiths · Page 4 of 22

3010Sunan At-Tirmidhi

سورت آل عمران کے متعلق

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَال: سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ، قَال: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: يَا جَابِرُ، مَا لِي أَرَاكَ مُنْكَسِرًا ؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتُشْهِدَ أَبِي، قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ عِيَالًا وَدَيْنًا، قَالَ: أَفَلَا أُبَشِّرُكَ بِمَا لَقِيَ اللَّهُ بِهِ أَبَاكَ ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: مَا كَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَأَحْيَا أَبَاكَ فَكَلَّمَهُ كِفَاحًا، فَقَالَ: يَا عَبْدِي، تَمَنَّ عَلَيَّ أُعْطِكَ، قَالَ: يَا رَبِّ، تُحْيِينِي فَأُقْتَلَ فِيكَ ثَانِيَةً، قَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّهُ قَدْ سَبَقَ مِنِّي أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يُرْجَعُونَ، قَالَ: وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا سورة آل عمران آية 169 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ كِبَارِ أَهْلِ الْحَدِيثِ، هَكَذَا عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَقَدْ رَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرٍ شَيْئًا مِنْ هَذَا.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مجھ سے ملے اور فرمایا: جابر! کیا بات ہے میں تجھے شکستہ دل دیکھ رہا ہوں؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے والد شہید کردیئے گئے، جنگ احد میں ان کے قتل کا سانحہ پیش آیا، اور وہ بال بچے اور قرض چھوڑ گئے ہیں، آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس چیز کی بشارت نہ دوں جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ سے ملاقات کے وقت کہا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کبھی بھی کسی سے بغیر پردہ کے کلام نہیں کیا (لیکن) اس نے تمہارے باپ کو زندہ کیا، پھر ان سے (بغیر پردہ کے) آمنے سامنے بات کی، کہا: اے میرے بندے! مجھ سے کسی چیز کے حاصل کرنے کی تمنا و آرزو کر، میں تجھے دوں گا، انہوں نے کہا: رب! مجھے دوبارہ زندہ فرما، تاکہ میں تیری راہ میں دوبارہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا: میری طرف سے یہ فیصلہ پہلے ہوچکا ہے «أنهم إليها لا يرجعون» کہ لوگ دنیا میں دوبارہ نہ بھیجے جائیں گے ، راوی کہتے ہیں: آیت «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل اللہ أمواتا» ١ ؎ اسی سلسلہ میں نازل ہوئی۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah narrated: I met Allah’s Messenger ﷺ and he said to me, “O Jabir, why I see you broken?” I said, “O Messenger of Allah ﷺ , my father is martyred, leaving behind a family and debts.” He said, “Shall I not let you have the glad tidings on how Allah met your father?” I said, “Of course, O Messenger of Allah ﷺ ’s!” He said, “Allah did not speak to anyone except from behind a screen but he revived your father and spoke to him diitIy, saying, ‘O My slave! wish from Me and I will grant you’. He said, ‘O Lord, resurrect me that I may be slain for Your sake a second time’. The Lord, Blessed and Exalted said, ‘It has been decreed by Me already that they (who die) will not return (to earth)’. This verse was revealed: "And never take those killed in the way of Allah as dead." (3:169) [Ahmed 14887, Ibn e Majah 190]

حسن، ابن ماجة (190 - 2800)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3010
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - عبداللہ بن محمد بن عقیل نے اس حدیث کا کچھ حصہ جابر سے روایت کیا ہے، ٣ - اور اس حدیث کو ہم صرف موسیٰ بن ابراہیم کی روایت سے جانتے ہیں، ٤ - اسے علی بن عبداللہ بن مدینی اور کئی بڑے محدثین نے موسیٰ بن ابراہیم کے واسطہ سے ایسے ہی روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے تم ان کو مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس، روزی پاتے ہیں۔ (آل عمران: ١٦٩ )
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (١٩٠)، والجھاد ١٦ (٢٨٠٠) (تحفة الأشراف: ٢٢٨٧) (حسن )
3011Sunan At-Tirmidhi

سورت آل عمران کے متعلق

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِهِ: وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ سورة آل عمران آية 169، فَقَالَ: أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ فَأُخْبِرْنَا، أَنَّ أَرْوَاحَهُمْ فِي طَيْرٍ خُضْرٍ تَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ وَتَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مُعَلَّقَةٍ بِالْعَرْشِ، فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلَاعَةً، فَقَالَ: هَلْ تَسْتَزِيدُونَ شَيْئًا فَأَزِيدُكُمْ ؟ قَالُوا: رَبَّنَا وَمَا نَسْتَزِيدُ وَنَحْنُ فِي الْجَنَّةِ نَسْرَحُ حَيْثُ شِئْنَا، ثُمَّ اطَّلَعَ إِلَيْهِمُ الثَّانِيَةَ فَقَالَ: هَلْ تَسْتَزِيدُونَ شَيْئًا فَأَزِيدُكُمْ ؟ فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَمْ يُتْرَكُوا قَالُوا: تُعِيدُ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّى نَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَنُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ان سے آیت «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل اللہ أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون» کی تفسیر پوچھی گئی تو انہوں نے کہا: لوگو! سن لو، ہم نے (رسول اللہ ﷺ سے) اس کی تفسیر پوچھی تھی تو ہمیں بتایا گیا کہ شہداء کی روحیں سبز چڑیوں کی شکل میں ہیں، جنت میں جہاں چاہتی گھومتی پھرتی ہیں اور شام میں عرش سے لٹکی ہوئی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں۔ ایک بار تمہارے رب نے انہیں جھانک کر ایک نظر دیکھا اور پوچھا: تمہیں کوئی چیز مزید چاہیئے تو میں عطا کروں؟ انہوں نے کہا: رب! ہمیں مزید کچھ نہیں چاہیئے۔ ہم جنت میں جہاں چاہتی ہیں گھومتی ہیں۔ پھر (ایک دن) دوبارہ اللہ نے ان کی طرف جھانکا اور فرمایا: کیا تمہیں مزید کچھ چاہیئے تو میں عطا کر دوں؟ جب انہوں نے دیکھا کہ (اللہ دینے پر ہی تلا ہوا ہے، بغیر مانگے اور لیے) چھٹکارا نہیں ہے تو انہوں نے کہا: ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں دوبارہ لوٹا دے، تاکہ ہم دنیا میں واپس چلے جائیں۔ پھر تیری راہ میں دوبارہ قتل کئے جائیں۔

Sayyidina Abdullah Ibn Mas’ud (RA) was asked to explain the verse: Think not of those who were slain in Allah’s way as dead. Nay, they are alive. (3:169) He said, “Indeed we had asked about that and were informed that their souls are in green birds that go wherever they like in Paradise and return to the lamps suspended from the Throne. Your Lord looks at them out of familiarity and asks, ‘Do you desire anything more that I may give more?’ They say, ‘Our Lords what more may we seek while we are in Paradise moving about wherever we will?’ He then looks at them a second time, saying, ‘Do you desire Me to add something for you that I should give more?’ When they see that thay will not be spared (till they ask), they desire, ‘Return our souls to our bodies that we may go back to earth and be slain in Your path once more.." [Muslim 1887,Abu Dawud 2520, Ibn e Majah 2800]

(حديث مسروق عن عبد اللہ بن مسعود) صحيح، (حديث أبي عبيدة عن عبد اللہ بن مسعود الذي فيه زيادة) ضعيف الإسناد، ابن ماجة (2801)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3011
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة (١٨٨٧)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ١٦ (٢٨٠١) (تحفة الأشراف: ٩٥٧٠)، وسنن الدارمی/الجھاد ١٩ (٢٤٥٤) (صحیح )
3012Sunan At-Tirmidhi

سورت آل عمران کے متعلق

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي رَاشِدٍ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا مِنْ رَجُلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي عُنُقِهِ شُجَاعًا، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ سورة آل عمران آية 180 الْآيَةَ، وَقَالَ مَرَّةً: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِصْدَاقَهُ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سورة آل عمران آية 180، وَمَنِ اقْتَطَعَ مَالَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ بِيَمِينٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ سورة آل عمران آية 77 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ شُجَاعهًا أَقْرَعَ يَعْنِي حَيَّةً.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو کوئی اپنے مال کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی گردن میں ایک سانپ ڈال دے گا ، پھر آپ نے اس کے ثبوت کے لیے قرآن کی یہ آیت «ولا يحسبن الذين يبخلون بما آتاهم اللہ من فضله» ١ ؎ پڑھی راوی نے ایک مرتبہ یہ کہا کہ آپ نے اس کی مناسبت سے یہ آیت «سيطوقون ما بخلوا به يوم القيامة» ٢ ؎ تلاوت فرمائی، اور فرمایا: جو شخص اپنے مسلمان بھائی کا مال جھوٹی قسم کھا کرلے لے وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ اللہ اس سے برہم (اور سخت غصے میں) ہوگا ، پھر آپ نے اس کی مصداق آیت:«إن الذين يشترون بعهد الله» پڑھی۔

Sayyidina Abdullah (ibn Masud reported in a marfu’ form tTat the Prophet ﷺ said, “If anyone does not pay zakah on his property then, on the Day of Resurrection, Allah will create in his neck a large snake.’ He recited the verse appropriate to it "And as for those who are niggardly in expending that, which Allah has granted them out of His bounty, let them not think that it is good for them." (3:180) [Nisai 2440, Ibn e Majah 1784]

صحيح مشكلة الفقر (60)، التعليق الرغيب (1 / 68)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3012
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ دے رکھا ہے وہ اس میں اپنی کنجوسی کو اپنے لیے بہتر خیال نہ کریں بلکہ وہ ان کے لیے نہایت بدتر ہے (آل عمران: ١٨٠ )۔ ٢ ؎: عنقریب قیامت والے دن یہ اپنی کنجوسی کی چیز کے طوق ڈالے جائیں گے (آل عمران: ١٨٠ )۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٢ (٢٤٤٣)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢ (١٧٨٤) (تحفة الأشراف: ٩٢٣٧، ٩٢٨٤)، و مسند احمد (١/٣٧٧)، وللشطر الثاني انظر حدیث رقم ١٢٦٩) (صحیح )
3013Sunan At-Tirmidhi

سورت آل عمران کے متعلق

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مَوْضِعَ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ لَخَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلا مَتَاعُ الْغُرُورِ سورة آل عمران آية 185 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت میں ایک کوڑے برابر جگہ دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے، اس کو سمجھنے کے لیے چاہو تو یہ آیت پڑھ لو «فمن زحزح عن النار وأدخل الجنة فقد فاز وما الحياة الدنيا إلا متاع الغرور» ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ 1’ said: The space for a whip in Paradise is better than the world and what it contains. Recite if you like: "Whoever is removed from the fire and admitted to the Garden, he indeed shall attain the triumph. And the life of this world is naught but comfort of illusion." (3:185) [Ahmed 9657]

حسن، الصحيحة (1978)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3013
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا بیشک وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے (آل عمران: ١٨٥ )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٥٠٢٨، و ١٥١١٦)، وانظر: مسند احمد (٢/٣١٥، ٤٣٨، ٤٨٢) (حسن )
3014Sunan At-Tirmidhi

سورت آل عمران کے متعلق

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، قَالَ: اذْهَبْ يَا رَافِعُ لِبَوَّابِهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْ لَهُ: لَئِنْ كَانَ كُلُّ امْرِئٍ فَرِحَ بِمَا أُوتِيَ وَأَحَبَّ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ مُعَذَّبًا لَنُعَذَّبَنَّ أَجْمَعُونَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا لَكُمْ وَلِهَذِهِ الْآيَةِ إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ ثُمَّ تَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلا تَكْتُمُونَهُ سورة آل عمران آية 187 وَتَلَا لا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا سورة آل عمران آية 188، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: سَأَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ فَكَتَمُوهُ وَأَخْبَرُوهُ بِغَيْرِهِ فَخَرَجُوا وَقَدْ أَرَوْهُ أَنْ قَدْ أَخْبَرُوهُ بِمَا قَدْ سَأَلَهُمْ عَنْهُ فَاسْتُحْمِدُوا بِذَلِكَ إِلَيْهِ وَفَرِحُوا بِمَا أُوتُوا مِنْ كِتْمَانِهِمْ وَمَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے انہیں بتایا کہ مروان بن حکم نے اپنے دربان ابورافع سے کہا: ابن عباس ؓ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو، اگر اپنے کیے پر خوش ہونے والا اور بن کیے پر تعریف چاہنے والا ہر شخص سزا کا مستحق ہوجائے، تب تو ہم سب ہی مستحق سزا بن جائیں گے، ابن عباس ؓ نے کہا: تمہیں اس آیت سے کیا مطلب؟ یہ تو اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، پھر ابن عباس ؓ نے یہ آیت «وإذ أخذ اللہ ميثاق الذين أوتوا الکتاب لتبيننه للناس ولا تکتمونه» ١ ؎ پڑھی اور «لا تحسبن الذين يفرحون بما أتوا ويحبون أن يحمدوا بما لم يفعلوا» ٢ ؎ کی تلاوت کی۔ اور کہا: نبی اکرم ﷺ نے ان (یہود) سے کسی چیز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے وہ چیز چھپالی، اور اس سے ہٹ کر کوئی اور چیز بتادی اور چلے گئے، پھر آپ پر یہ ظاہر کیا کہ آپ نے ان سے جو کچھ پوچھا تھا اس کے متعلق انہوں نے بتادیا ہے، اور آپ سے اس کی تعریف سننی چاہی، اور انہوں نے اپنی کتاب سے چھپا کر آپ کو جو جواب دیا اور آپ نے انہیں جو مخاطب کرلیا اس پر خوش ہوئے۔

Humayd ibn Abdur Rahman ibn Awf reported that Marwan ibn Hakam commanded his doorkeeper to go to Ibn Abbas (RA) and ask him, “If everyone who is happy with what is given to him and loves to be praised for what he has not done is punished than all of us will be punished certainly.” So, Ibn Abbas (RA) asked, “What is with you while this verse is here? It was revealed concerning the People of the Scripture.” Then he recited it: "(All recall) when Allah took covenant with those who were given the Book 0 (saying), “You shall certainly expound it to mankind. (3:187) and he recited: Think not that those who rejoice over what they have carried out, and love to be praised for what they have not done. (3:188) Ibn Abbas (RA) narrated: The Prophet ﷺ asked them about something, but they concealed it and told him about something else. They went away suggesting to him that they had informed him of what he had asked, and sought praise over that. And they rejoiced at what they enlightemed him from their Book and at the questions he had asked them). [Ahmed 2712,Bukhari 4568,Muslim 2778]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3014
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے جب عہد لیا کہ تم اسے سب لوگوں سے ضرور بیان کرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں (آل عمران: ١٨٧ )۔ ٢ ؎: وہ لوگ جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو انہوں نے نہیں کیا، اس پر بھی ان کی تعریفیں کی جائیں (آل عمران: ١٨٨ )۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر آل عمران ١٦ (٤٥٦٨)، صحیح مسلم/المنافقین ٨ (٢٧٧٨) (تحفة الأشراف: ٥٤١٤) (صحیح )
3015Sunan At-Tirmidhi

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَال: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: مَرِضْتُ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ، فَلَمَّا أَفَقْتُ قُلْتُ: كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي ؟ فَسَكَتَ عَنِّي حَتَّى نَزَلَتْ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ سورة النساء آية 11 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ.

محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا: میں بیمار ہوا تو رسول اللہ ﷺ میری عیادت کو تشریف لائے اس وقت مجھ پر بےہوشی طاری تھی، پھر جب مجھے افاقہ ہوا تو میں نے عرض کیا: میں اپنے مال میں کس طرح تقسیم کروں؟ آپ یہ سن کر خاموش رہے، مجھے کوئی جواب نہیں دیا، پھر یہ آیات «يوصيكم اللہ في أولادکم للذکر مثل حظ الأنثيين» نازل ہوئیں ١ ؎۔

Muhammad ibn Munkadir reported that he heard Sayyidina Jabir ibn Abdullah say: I had fallen ill and Allah’s Messenger ﷺ paid me a sick visit. I lay unconscious. When I recovered, I asked him how I should decide about my wealth. He did not say anything till the verse was revealed: "Allah enjoins you concerning your children, for the male is the share equivalent of that of two females." (4: 11) [Ahmed 14190,Bukhari 6723,Muslim 1616,Abu Dawud 2886,Nisai 138, Ibn e Majah 2728]

صحيح، صحيح أبي داود (2728)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3015
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے کئی اور لوگوں نے بھی محمد بن منکدر سے روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے (النساء: ١١ )۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٠٩٧ (صحیح )
3017Sunan At-Tirmidhi(3016)

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أَوْطَاسٍ أَصَبْنَا نِسَاءً لَهُنَّ أَزْوَاجٌ فِي الْمُشْرِكِينَ فَكَرِهَهُنَّ رِجَالٌ مِنْهُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 24 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ جنگ اوطاس کے موقع پر غنیمت میں ہمیں کچھ ایسی عورتیں ہاتھ آئیں جن کے مشرک شوہر موجود تھے کچھ مسلمانوں نے عورتوں سے صحبت کرنے کو مکروہ جانا ١ ؎ تو اللہ تعالیٰ نے آیت «والمحصنات من النساء إلا ما ملکت أيمانکم» ١ ؎ نازل فرمائی۔

Sayyidina Abu Saeed Khudri narrated: In the Battle of Awtas, we got possession of women who had their husbands among the polytheists. So, some men of them (sahabah) thought that it was makruh (to have intercourse with them) till Allah revealed: "And (also forbidden) are all marled women except those whom your right hands posses." (4:24) [Ahmed 11797,Muslim 1456,Abu Dawud 2155,Nisai 3330]

صحيح، صحيح أبي داود (1871)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3016
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جبکہ غزوہ میں بطور مال غنیمت ہاتھ آئی شوہر دار عورتیں بھی اپنے مالکوں کے لیے حلال ہیں، صرف ایک ماہواری استبراء رحم کے لیے انتظار کرنا ہے۔ ٢ ؎: اور (حرام کی گئیں) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو تمہاری ملکیت میں آ جائیں (النساء: ٢٤ )۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١١٣٢ (صحیح )
3017Sunan At-Tirmidhi

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ الْبَتِّيُّ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أَصَبْنَا سَبَايَا يَوْمَ أَوْطَاسٍ لَهُنَّ أَزْوَاجٌ فِي قَوْمِهِنَّ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 24 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَهَكَذَا رَوَى الثَّوْرِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَلَيْسَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، وَلَا أَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا ذَكَرَ أَبَا عَلْقَمَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا مَا ذَكَرَ هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَأَبُو الْخَلِيلِ اسْمُهُ صَالِحُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جنگ اوطاس میں ہمیں کچھ ایسی قیدی عورتیں ہاتھ آئیں جن کے شوہر ان کی قوم میں موجود تھے، تو لوگوں نے اس بات کا رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا، اس پر آیت «والمحصنات من النساء إلا ما ملکت أيمانکم» نازل ہوئی۔

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) narrated : In the Battle of Awtas female captives came to our hand. They had their husbands among their people. The sahabah mentioned that to Allahs Messenger ﷺ . So, this verse was revealed. "And (also forbidden) are all marled women except those whom your right hands posses." (4:24) [Ahmed 11691]

صحيح انظر ما قبله (3016)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3017
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - ثوری نے عثمان بتی سے اور عثمان بتی نے ابوالخلیل سے اور ابوالخلیل نے ابو سعید خدری ؓ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی، ٣ - اس حدیث میں علقمہ سے روایت کا ذکر نہیں ہے۔ (جب کہ پچھلی سند میں ہے) اور میں نہیں جانتا کہ کسی نے اس حدیث میں ابوعلقمہ کا ذکر کیا ہو سوائے ہمام کے، ٤ - ابوالخلیل کا نام صالح بن ابی مریم ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٣٢ (صحیح )
3018Sunan At-Tirmidhi

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَبَائِرِ، قَالَ: الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَقَوْلُ الزُّورِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، وَقَالَ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَلَا يَصِحُّ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کبیرہ گناہ: اللہ کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، (ناحق) کسی کو قتل کرنا، جھوٹ کہنا یا جھوٹ بولنا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Anas (RA) ibn Malik reported from the Prophet ﷺ about the major sins. He said (that they are :) ascribing partners to Allah, disobeying parents, killing someone and bearing false testimony. [Ahmed 12338,Bukhari 2653,Muslim 88,Nisai 4016]

صحيح غاية المرام (277)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3018
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ٢ - اس کو روح بن عبادہ نے بھی شعبہ یہ روایت کیا ہے، لیکن (عبیداللہ کی جگہ عبداللہ بن ابی بکر کہا ہے، (عبیداللہ ہی صحیح ہے) لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث مولف ارشاد باری: «إن تجتنبوا کبآئر ما تنهون عنه» (النساء: 31) کی تفسیر میں لائے ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٢٠٧ (صحیح )
3019Sunan At-Tirmidhi

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ بَصْرِيٌّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، قَالَ: وَجَلَسَ وَكَانَ مُتَّكِئًا، قَالَ: وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَالَ قَوْلُ الزُّورِ، قَالَ: فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں بڑے سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! ضرور بتائیے۔ آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا ، آپ ﷺ پہلے ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر اٹھ بیٹھے اور فرمایا: جھوٹی گواہی دینا، یا جھوٹی بات کہنا ، آپ یہ بات باربار دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم اپنے جی میں کہنے لگے کاش آپ خاموش ہوجاتے۔

Sayyidina Abu Bakrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Shall I not tell you of the gravest of major sins?” The sahabah said, “Of course, O Messenger of Allah ﷺ .” He said, “To associate partner with Allah and to disobey parents.” He had been reclining, but sat up straight and added, “And a false testimony” or, he said, “A false word.” AIlah’a Messenger ﷺ did not cease to say that till they hoped that he would stop. [Bukhari 2654, Muslim 87]

صحيح غاية المرام (277)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3019
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٩٠١، و ٢٣٠١ (صحیح )
3020Sunan At-Tirmidhi

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ مُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ الْتَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ: الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ، وَمَا حَلَفَ حَالِفٌ بِاللَّهِ يَمِينَ صَبْرٍ فَأَدْخَلَ فِيهَا مِثْلَ جَنَاحِ بَعُوضَةٍ إِلَّا جُعِلَتْ نُكْتَةً فِي قَلْبِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَبُو أُمَامَةَ الْأَنْصَارِيُّ هُوَ ابْنُ ثَعْلَبَةَ وَلَا نَعْرِفُ اسْمَهُ وَقَدْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

عبداللہ بن انیس جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بڑے گناہوں میں سب سے بڑے گناہ یہ ہیں: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا ہے، جھوٹی قسم کھانا۔ تو جس کسی نے بھی ایسی قسم کھائی جس پر وہ مجبور کردیا گیا اور (اسی پر فیصلہ کا انحصار ہے) پھر اس نے اس میں مچھر کے پر کے برابر جھوٹ شامل کردیا تو اس کے دل میں ایک (کالا) نکتہ ڈال دیا جائے گا جو قیامت تک قائم اور باقی رہے گا ۔

Sayyidian Abdullah ibn Unays Juhanni reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Of the gravest of the major sins are to ascribe partner to Allah, to displease parents and Stake a false oath, And, if anyone awears an oath on Allah a firm oath introducing therein so much lie as a gnat’s wing then a spot is put in his heart till the Day of Resurrection.” [Ahmed 16043]

حسن، المشکاة (3777 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3020
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ابوامامہ انصاری ثعلبہ کے بیٹے ہیں اور ان کا نام ہمیں نہیں معلوم ہے، انہوں نے نبی ﷺ سے حدیثیں روایت کی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٥١٤٧) (حسن )
3021Sunan At-Tirmidhi

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْكَبَائِرُ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ أَوْ قَالَ الْيَمِينُ الْغَمُوسُ شَكَّ شُعْبَةُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کبائر یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، یا کہا: جھوٹی قسم کھانا ۔ اس میں شعبہ کو شک ہوگیا ہے۔

Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) repoted from the Prophet ﷺ that he said, “The major sins are to associate something with Allah and to disobey parents” or, he said, “A false oath.” Shu’bah was in doubt (about it). [Ahmed 690, 675,Nisai 4017]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3021
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأیمان والنذور ١٦ (٦٦٧٥)، والدیات ٢ (٦٨٧٠)، والمرتدین ١ (٦٩٢٠) (تحفة الأشراف: ٨٨٣٥) (صحیح )
3022Sunan At-Tirmidhi

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَغْزُو الرِّجَالُ وَلَا تَغْزُو النِّسَاءُ، وَإِنَّمَا لَنَا نِصْفُ الْمِيرَاثِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: وَلا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ سورة النساء آية 32، قَالَ مُجَاهِدٌ: فَأَنْزَلَ فِيهَا إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ سورة الأحزاب آية 35 وَكَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ أَوَّلَ ظَعِينَةٍ قَدِمَتْ الْمَدِينَةَ مُهَاجِرَةً ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ مُرْسَلٌ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَذَا وَكَذَا.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ مرد جنگ کرتے ہیں، عورتیں جنگ نہیں کرتیں، ہم عورتوں کو آدھی میراث ملتی ہے (یعنی مرد کے حصے کا آدھا) تو اللہ تعالیٰ نے آیت «ولا تتمنوا ما فضل اللہ به بعضکم علی بعض» ١ ؎ نازل فرمائی۔ مجاہد کہتے ہیں: انہیں کے بارے میں آیت «إن المسلمين والمسلمات» ٢ ؎ بھی نازل ہوئی ہے، ام سلمہ پہلی مسافرہ ہیں جو ہجرت کر کے مدینہ آئیں۔

Sayyidah Umm Salamah (RA) narrated: I said “Men engage in jihad, but women do not. And we have half of the legacy.” So, Allah, the Blessed and Exalted revealed: "And covet not that whereby Allah has excelled some of you above the others. (4:32) Mujahid said that this verse was revealed about it: "Surely the Muslim men and the Muslim women." (33 : 35) And, Umm Salamah was the first woman who migrated to Madinah. [Ahmed 26798]

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3022
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ مرسل حدیث ہے، ٢ - اس حدیث کو بعض راویوں نے ابن ابی نجیح کے واسطہ سے مجاہد سے مرسلاً روایت کیا ہے، کہ ام سلمہ نے اس اس طرح کہا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض کے اوپر جو برتری دی ہے اس کی تمنا نہ کرو (النساء: ٣٢ )، اور اس ممانعت سے مراد ایسی تمنا ہے کہ یہ چیز اس کو کیوں ملی ہے ہم کو کیوں نہیں ملی؟ یہ اللہ کی بنائی ہوئی تقدیر پر اعتراض ہے، ہاں یہ تمنا جائز ہے کہ اللہ ہمیں بھی ایسی ہی نعمت سے بہرہ ور فرما دے، شرط یہ ہے کہ یہ چیز بھی اس کے لحاظ سے ممکنات میں سے ہو اپنے لیے کسی غیر ممکن اور محال چیز کی تمنا جائز نہیں، جیسے یہ کہ اللہ مجھے بھی کسی دن امریکا کا صدر بنا دے۔ ٢ ؎: بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں … (الاحزاب: ٣٥ )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٨٢١٠) (صحیح الإسناد )
3023Sunan At-Tirmidhi

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا أَسْمَعُ اللَّهَ ذَكَرَ النِّسَاءَ فِي الْهِجْرَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: أَنِّي لا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ سورة آل عمران آية 195 .

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ اللہ کے رسول! میں عورتوں کی ہجرت کا ذکر کلام پاک میں نہیں سنتی، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «أني لا أضيع عمل عامل منکم من ذکر أو أنثی بعضکم من بعض» ١ ؎ نازل فرمائی۔

Sayyidah Umm Salamah (RA) reported that she submitted, “O Messenger of Allah ﷺ , I have not heard Allah mention women making the hijrah.” So, Allah, the Blessed, the Exalted, revealed: "Never will I waste the work of any worker among you, be he male or female, the one of you being from the other." (3:195)

صحيح بما قبله (3022)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3023
Notes · وضاحت
١ ؎: تم میں سے کسی عمل صالح کرنے والے کے عمل کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت میں ہرگز ضائع نہیں کروں گا، تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو (آل عمران: ١٩٥ )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٨٢٤٩) (صحیح) (سند میں ” رجل من ولد أم سلمہ “ مبہم ہے، سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے )
3024Sunan At-Tirmidhi

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْهِ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ مِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41، غَمَزَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَإِنَّمَا هُوَ إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے، آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کو قرآن پڑھ کر سناؤں، چناچہ میں نے آپ کے سامنے سورة نساء میں سے تلاوت کی، جب میں آیت «فكيف إذا جئنا من کل أمة بشهيد وجئنا بک علی هؤلاء شهيدا» ١ ؎ پر پہنچا تو رسول اللہ نے مجھے ہاتھ سے اشارہ کیا (کہ بس کرو، آگے نہ پڑھو) میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو آپ کی دونوں آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔

Ibrahim reported from Alqamah and he from Abdullah that he said, “Allah’s Messenger ﷺ commanded me that I should recite to him while he was on the pulpit. So, I recited tohim from surah an-Nisa till I reached the verse: “How then shall it be, when we bring from each people a witness, and we bring you as a witness against these”? (4 :41) Allah’s Messenger ﷺ indicated to me with his hand to stop. I looked at him and saw tears dropping from his eyes.” [Bukhari 4582, Ibn e Majah 4194]

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3024
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابولأحوص نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم سے اور ابراہیم نے علقمہ کے واسطہ سے، عبداللہ بن مسعود ؓ سے اسی طرح روایت کی ہے، اور حقیقت میں وہ سند یوں ہے «إبراهيم عن عبيدة عن عبد الله» («عن علقمة» نہیں) ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پس کیا حال ہوگا اس وقت کہ جب ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے (النسا: ٤١ )۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ١٩ (٤١٩٤)، وانظر مابعدہ (تحفة الأشراف: ٩٤٢٨) (صحیح )
3025Sunan At-Tirmidhi

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْعَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأْ عَلَيَّ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ ؟ قَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي، فَقَرَأْتُ سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41 قَالَ: فَرَأَيْتُ عَيْنَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَهْمِلَانِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ. حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، نَحْوَ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ بْنِ هِشَامٍ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کے سامنے قرآن پڑھوں قرآن تو آپ ہی پر نازل ہوا ہے؟، آپ نے فرمایا: اپنے سے ہٹ کر دوسرے سے سننا چاہتا ہوں ، تو میں نے سورة نساء پڑھی، جب میں آیت:«وجئنا بک علی هؤلاء شهيدا» پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ آپ کی دونوں آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں ۔

Ibrahim reported from Ubaydah, from Abdullah who narrated: Allah’s Messenger ﷺ said to Me, “Recite to me.” I said, “O Messenger of Allah ﷺ shall I recite to you while the Qur’an is revealed to you”? He said, “I love to hear it from others.” So, I recited Surah an-Nisa till I came to (4 : 41): "And We brought thee as a witness against these people!" I observed the eyes of the Prophet ﷺ ’ were tearful. [Ahmed 3550,Bukhari 5049,Muslim 800,Abu Dawud 3668]

صحيح صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3025 اس سند سے ابن مبارک نے اور ابن مبارک نے سفیان کے واسطہ سے اعمش سے معاویہ بن ہشام کی حدیث جیسی حدیث روایت کی۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3025
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث ابوالا ٔحوص کی روایت سے صحیح تر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر النساء ٩ (٤٥٨٢)، وفضائل القرآن ٣٢ (٥٠٤٩)، و ٣٣ (٥٠٥٠)، و ٣٥ (٥٠٥٥)، صحیح مسلم/المسافرین ٤٠ (٨٠٠)، وانظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: ٩٤٠٢)، و مسند احمد (١/٣٨٠) (صحیح) انظر ما قبلہ (صحیح )
3026Sunan At-Tirmidhi

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: صَنَعَ لَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ طَعَامًا، فَدَعَانَا وَسَقَانَا مِنَ الْخَمْرِ، فَأَخَذَتِ الْخَمْرُ مِنَّا، وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَدَّمُونِي، فَقَرَأْتُ قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ، وَنَحْنُ نَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ سورة النساء آية 43 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے ہمارے لیے کھانا تیار کیا، پھر ہمیں بلا کر کھلایا اور شراب پلائی۔ شراب نے ہماری عقلیں ماؤف کردیں، اور اسی دوران نماز کا وقت آگیا، تو لوگوں نے مجھے (امامت کے لیے) آگے بڑھا دیا، میں نے پڑھا «قل يا أيها الکافرون لا أعبد ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون» اے نبی! کہہ دیجئیے: کافرو! جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا، اور ہم اسی کو پوجتے ہیں جنہیں تم پوجتے ہو ، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سکاری حتی تعلموا ما تقولون» اے ایمان والو! جب تم نشے میں مست ہو، تو نماز کے قریب بھی نہ جاؤ جب تک کہ اپنی بات کو سمجھنے نہ لگو (النساء: ٤٣ ) ١ ؎۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) narrated: Abdur Rhaman ibn Awf prepared a meal for us and invited us to it, and also seved us wine. The wine intoxicated us. and they put me forward (to lead the congregation). I recited : So, Allah revealed: "O you who believe! Draw not near salah while you are intoxicated, until you know what you arsaying. (4:43) [Abu Dawud 3671]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3026
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پھر بعد میں یہ حکم بھی منسوخ ہوگیا، یعنی شراب بالکل حرام کردی گئی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأشربة ١ (٣٦٧١) (تحفة الأشراف: ١٠١٧٥) (صحیح )
3027Sunan At-Tirmidhi

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِحَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرُّ، فَأَبَى عَلَيْهِ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ: اسْقِ يَا زُبَيْرُ، وَأَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ ، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا زُبَيْرُ، اسْقِ وَاحْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ سورة النساء آية 65 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: سَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: قَدْ رَوَى ابْنُ وَهْبٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، وَيُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَرَوَى شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْالزُّبَيْرِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ.

عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نے (ان کے والد) زبیر بن العوام ؓ سے، حرہ ١ ؎ کی نالی کے معاملہ میں، جس سے لوگ کھجور کے باغات کی سینچائی کرتے تھے، جھگڑا کیا، انصاری نے زبیر ؓ سے کہا کہ پانی کو بہنے دو تاکہ میرے کھیت میں چلا جائے ٢ ؎، زبیر نے انکار کیا، پھر وہ لوگ اس جھگڑے کو لے کر آپ ﷺ کے پاس پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے زبیر سے کہا: زبیر! تم (اپنا کھیت) سینچ کر پانی پڑوسی کے کھیت میں جانے دو، (یہ سن کر) انصاری غصہ ہوگیا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے یہ بات اس لیے کہی ہے کہ وہ (زبیر) آپ کے پھوپھی کے بیٹے ہیں؟ (یہ سن کر) آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا آپ نے کہا: زبیر! اپنا کھیت سینچ لو، اور پانی اتنا بھر لو کہ منڈیروں تک پہنچ جائے ۔ زبیر کہتے ہیں: قسم اللہ کی میں گمان کرتا ہوں کہ آیت: «فلا وربک لا يؤمنون حتی يحكموک فيما شجر بينهم» سو قسم ہے تیرے رب کی! یہ مومن نہیں ہوسکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں (النساء: ٦٥ ) ۔ اسی مقدمہ کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے۔

Urwah ibn Zubayr reported that Abdullah ibn Zubayr narrated to him that a man of the Ansar disputed with Zubayr about a streamlet that watered the palm-trees. He said, “Let the water flow”, but Zubayr (RA) disagreed. So they brought the dispute to Allah’s Messenger ﷺ . He said to Zubayr (RA) “Water your field O Zubayr, then let the water run to your neighbour.” The ansar was angered and exclaimed. “O Messenger of Allah ﷺ it is because he is your cousin.” The colour of the face of Allah’s Messenger ﷺ changed and he said “O Zubayr, water your field, then keep it back so that it returns to the walls.” Zubayr said, “By Allah, I think that this verse is revealed conerrning that: "But no, by your Lord, they will not believe until they make your the judge of what is in disputebetween them." (4:65) [Ahmed 1419,Bukhari 2359,Muslim 2357,Abu Dawud 363]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3027
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ابن وہب نے بطریق: «الليث بن سعد ويونس عن الزهري عن عروة عن عبد اللہ بن الزبير» اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ٢ - اور شعیب بن ابی حمزہ نے بطریق: «الزهري عن عروة عن الزبير» روایت کی ہے اور انہوں نے اپنی روایت میں عبداللہ بن زبیر کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مدینہ میں ایک معروف جگہ ہے ٢ ؎: زبیر ؓ کا کھیت انصاری کے کھیت سے پہلے اونچائی پر پڑتا تھا، پہلے تو آپ ﷺ نے زبیر کو حکم دیا کہ ضرورت کے مطابق پانی لے کر پانی چھوڑ دو، مگر جب انصاری نے الزام تراشی کردی تو آپ نے زبیر ؓ سے فرمایا کہ تم خوب خوب اپنا کھیت سیراب کر کے ہی پانی چھوڑ و جو تمہارا شرعی اور قانونی حق ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٣٦٣ (صحیح )
3028Sunan At-Tirmidhi

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَيُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: فَمَا لَكُمْ ينَ فِئَتَيْنِ سورة النساء آية 88، قَالَ: رَجَعَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَكَانَ النَّاسُ فِيهِمْ فَرِيقَيْنِ: فَرِيقٌ يَقُولُ اقْتُلْهُمْ، وَفَرِيقٌ يَقُولُ: لَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ سورة النساء آية 88، وَقَالَ: إِنَّهَا طِيبَةُ، وَقَالَ: إِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْحَدِيدِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيَدَ هُوَ الْأَنْصَارِيُّ الْخَطْمِيُّ وَلَهُ صُحْبَةٌ.

عبداللہ بن یزید ؓ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت ؓ آیت: «فما لکم في المنافقين فئتين» کی تفسیر کے سلسلے میں کہتے ہیں احد کی لڑائی کے دن رسول اللہ ﷺ کے کچھ (ساتھی یعنی منافق میدان جنگ سے) لوٹ آئے ١ ؎ تو لوگ ان کے سلسلے میں دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ نے کہا: انہیں قتل کر دو، اور دوسرے فریق نے کہا: نہیں، قتل نہ کرو تو یہ آیت «فما لکم في المنافقين فئتين» ١ ؎ نازل ہوئی، اور آپ نے فرمایا: مدینہ پاکیزہ شہر ہے، یہ ناپاکی و گندگی کو (إن شاء اللہ) ایسے دور کر دے گا جیسے آگ لوہے کی ناپاکی (میل و زنگ) کو دور کردیتی ہے۔ (یہ منافق یہاں رہ نہ سکیں گے) ۔

It is reported from Sayyaidina Zayd ibn Thabit (RA) about this verse:"What is the matter with you (O Believers), that there are two parties (among you) concerning the hypocrites ?" (4 : 88) He explained : The companions of the Prophet ﷺ returned from the Battle of Uhud and there were two opinions among them about the hypocrites. One of them said, “They should be killed”, while another group said, “No!” So the verse (4 : 88) was revealed: Allah’s Messenger ﷺ said, “Madinah is pure and it removes impurity just as fire removes erosion from steel.” [Bukhari 1884,Muslim 1384,Ahmed 21655]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3028
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - عبداللہ بن یزید انصاری خطمی ہیں اور انہیں نبی اکرم ﷺ کی صحبت حاصل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جہاد میں شریک نہ ہوئے۔ ٢ ؎: تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو (النساء: ٨٨ )۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل المدینة ١٠ (١٨٨٤)، والمغازي ١٧ (٤٠٥٠)، وتفسیر النساء ١٥ (٤٥٨٩)، صحیح مسلم/المناسک ٨٨ (١٣٨٤)، والمنافقین ٦ (٢٧٧٦) (تحفة الأشراف: ٣٧٢٧) (صحیح )
3029Sunan At-Tirmidhi

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِالْقَاتِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاصِيَتُهُ وَرَأْسُهُ بِيَدِهِ وَأَوْدَاجُهُ تَشْخَبُ دَمًا، يَقُولُ: يَا رَبِّ هَذَا قَتَلَنِي حَتَّى يُدْنِيَهُ مِنَ الْعَرْشِ ، قَالَ: فَذَكَرُوا لِابْنِ عَبَّاسٍ التَّوْبَةَ فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93، قَالَ: مَا نُسِخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا بُدِّلَتْ وَأَنَّى لَهُ التَّوْبَةُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنَ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن مقتول قاتل کو ساتھ لے کر آ جائے گا، اس کی پیشانی اور سر مقتول کے ہاتھ میں ہوں گے، مقتول کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا، کہے گا: اے میرے رب! اس نے مجھے قتل کیا تھا، (یہ کہتا ہوا) اسے لیے ہوئے عرش کے قریب جا پہنچے گا۔ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے ابن عباس ؓ سے توبہ کا ذکر کیا تو انہوں نے یہ آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» ١ ؎ تلاوت کی، اور کہا کہ یہ آیت نہ منسوخ ہوئی ہے اور نہ ہی تبدیل، تو پھر اس کی توبہ کیوں کر قبول ہوگی؟ ٢ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said that on the Day of Resurrection, the murdered would drag the murderer by his forelocks and head, blood flowing from the neck of the murderer. The slain person would say, “O Lord! He had killed me”, and he will take him up to the throne. The narrator went on to say that people asked Sayyidina Ibn Abbas (RA) “Will his repentance not be accepted?” He recited the verse: "And whosoever slays a believer wilfully, his recompence is Hell ." (4: 93) He added, “This verse is neither abrogated nor changed. How then may his repentance be accepted?” [Ahmed 1941]

صحيح، المشکاة (3465 / التحقيق الثاني)، التعليق الرغيب (3 / 203)، الصحيحة (2697)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3029
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس حدیث کو بعض راویوں نے عمر بن دینار کے واسطہ سے ابن عباس سے اسی طرح روایت کی ہے اس کو مرفوع نہیں کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا (النساء: ٩٣ )۔ ٢ ؎: کسی مومن کو عمداً اور ناحق قتل کرنے والے کی توبہ قبول ہوگی یا نہیں؟ اس بابت صحابہ میں اختلاف ہے، ابن عباس ؓ کی رائے ہے کہ اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، ان کی دلیل یہی آیت ہے جوان کے بقول بالکل آخری آیت ہے، جس کو منسوخ کرنے والی کوئی آیت نہیں اتری، مگر جمہور صحابہ و سلف کی رائے ہے کہ قرآن کی دیگر آیات کا مفاد ہے کہ تمام گناہوں سے توبہ ہے، جب مشرک سے توبہ کرنے والی کی توبہ قبول ہوگی تو قاتل عمد کی توبہ کیوں قبول نہیں ہوگی۔ البتہ یہ ہے کہ اللہ مقتول کو راضی کردیں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المحاربة (تعظیم الدم) ٢ (٤٠١٠) (تحفة الأشراف: ٦٣٠٣) (وانظر أیضا: سنن النسائی/المحاربة ٢ (٤٠٠ ¤ ٤- ٤٠٠٩)، و ٤٨ (٤٨٧٠)، وسنن ابن ماجہ/الدیات ٢ (٢٦٢١)، و مسند احمد (١/٢٤٠، ٢٩٤، ٣٦٤) (صحیح )