Sunan At-Tirmidhi 3024

قرآن کی تفسیر کا بیان

3024Sunan At-Tirmidhi

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْهِ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ مِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41، غَمَزَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَإِنَّمَا هُوَ إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے، آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کو قرآن پڑھ کر سناؤں، چناچہ میں نے آپ کے سامنے سورة نساء میں سے تلاوت کی، جب میں آیت «فكيف إذا جئنا من کل أمة بشهيد وجئنا بک علی هؤلاء شهيدا» ١ ؎ پر پہنچا تو رسول اللہ نے مجھے ہاتھ سے اشارہ کیا (کہ بس کرو، آگے نہ پڑھو) میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو آپ کی دونوں آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔

Ibrahim reported from Alqamah and he from Abdullah that he said, “Allah’s Messenger ﷺ commanded me that I should recite to him while he was on the pulpit. So, I recited tohim from surah an-Nisa till I reached the verse: “How then shall it be, when we bring from each people a witness, and we bring you as a witness against these”? (4 :41) Allah’s Messenger ﷺ indicated to me with his hand to stop. I looked at him and saw tears dropping from his eyes.” [Bukhari 4582, Ibn e Majah 4194]

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3024
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابولأحوص نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم سے اور ابراہیم نے علقمہ کے واسطہ سے، عبداللہ بن مسعود ؓ سے اسی طرح روایت کی ہے، اور حقیقت میں وہ سند یوں ہے «إبراهيم عن عبيدة عن عبد الله» («عن علقمة» نہیں) ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پس کیا حال ہوگا اس وقت کہ جب ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے (النسا: ٤١ )۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ١٩ (٤١٩٤)، وانظر مابعدہ (تحفة الأشراف: ٩٤٢٨) (صحیح )