Sunan At-Tirmidhi 3002

قرآن کی تفسیر کا بیان

3002Sunan At-Tirmidhi

سورت آل عمران کے متعلق

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَشُجَّ وَجْهُهُ شَجَّةً فِي جَبْهَتِهِ حَتَّى سَالَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ: كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ، فَنَزَلَتْ: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ سورة آل عمران آية 128 إِلَى آخِرِهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ جنگ احد میں نبی اکرم ﷺ کے سامنے کے چاروں دانت (رباعیہ) توڑ دیئے گئے، اور پیشانی زخمی کردی گئی، یہاں تک کہ خون آپ کے مبارک چہرے پر بہ پڑا۔ آپ نے فرمایا: بھلا وہ قوم کیوں کر کامیاب ہوگی جو اپنے نبی کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کرے، جب کہ حال یہ ہو کہ وہ نبی انہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہو۔ تو یہ آیت «ليس لک من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم» ١ ؎ نازل ہوئی ۔

Sayyidina Anas (RA) reported that during the Battle of Uhud, the teeth of the Prophet ﷺ were broken, he was wounded in the head and the forehead so that blood flowed down his face. He said, “How can a people prosper if they do this to their Prophet ﷺ while he invites them to Allah.” So the verse was revealed: "Not for you is the decision whether He relents towards them or chastises them, for, they are evildoers." (3:128) [Ahmed, 13136,Muslim 1791, Ibn e Majah 4027]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3002
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اے نبی! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرلے یا عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں (آل عمران: ١٢٨ )۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٢١ (تعلیقا في الترجمة) صحیح مسلم/الجھاد ٣٨ (١٧٩١)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٣ (٤٠٢٧) (تحفة الأشراف: ٧٨٧)، و مسند احمد (٣/٩٩، ١٧٨، ٢٠١، ٢٠٦، ٢٥٢، ٢٨٨) (صحیح )