Sunan At-Tirmidhi 3004

قرآن کی تفسیر کا بیان

3004Sunan At-Tirmidhi

سورت آل عمران کے متعلق

حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ بْنِ سَلْمٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ: اللَّهُمَّ الْعَنْ أَبَا سُفْيَانَ، اللَّهُمَّ الْعَنْ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ الْعَنْ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَالَ: فَنَزَلَتْ: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ سورة آل عمران آية 128 فَتَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَأَسْلَمُوا فَحَسُنَ إِسْلَامُهُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، لَمْ يَعْرِفْهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ، وَعَرَفَهُ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن فرمایا: اے اللہ! لعنت نازل فرما ابوسفیان پر، اے اللہ! لعنت نازل فرما حارث بن ہشام پر، اے اللہ! لعنت نازل فرما صفوان بن امیہ پر ، تو آپ پر یہ آیت «ليس لک من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم» نازل ہوئی۔ تو اللہ نے انہیں توبہ کی توفیق دی، انہوں نے اسلام قبول کرلیا اور ان کا اسلام بہترین اسلام ثابت ہوا۔

Saalim ibn Abdullah ibn Umar (RA) reported on the authority of his father that Allah’s Messenger ﷺ said on the day of Uhud, “O Allah! curse Abu Sufyan (RA) . O Allah, curse Harith ibn Hisham, O Allah, curse Safwan ibn Umayyah.” At that this verse (3:128) was revealed: "Not for thee, (but for Allah), is the decision: Whether He turn in mercy to them, or punish them; for they are indeed wrong-doers." (3:128) Then Allah forgave them. They embraced Islam and turned out to be good Muslims. [Bukhari 4069,Nisai 1074,Ahmed 5678]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3004
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - یہ روایت «عمر بن حمزة عن سالم عن أبيه» کے طریق سے غریب ہے، ٣ - زہری نے بھی اسے سالم سے اور انہوں نے بھی اپنے باپ سے روایت کیا ہے، ٤ - محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو عمر بن حمزہ کی روایت سے نہیں جانا بلکہ زہری کی روایت سے جانا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وراجع: صحیح البخاری/المغازي ٢١ (٤٠٦٩) (تحفة الأشراف: ٦٧٨٠) (صحیح) (سند میں عمر بن حمزہ بن عبد اللہ بن عمر ضعیف راوی ہیں، لیکن بخاری کی مذکورہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے )