ابوعطیہ کہتے ہیں کہ میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس گئے، ہم نے عرض کیا: ام المؤمنین! صحابہ میں سے دو آدمی ہیں، ان میں سے ایک افطار جلدی کرتا ہے اور نماز ١ ؎ بھی جلدی پڑھتا ہے اور دوسرا افطار میں تاخیر کرتا ہے اور نماز بھی دیر سے پڑھتا ہے ٢ ؎ انہوں نے کہا: وہ کون ہے جو افطار جلدی کرتا ہے اور نماز بھی جلدی پڑھتا ہے، ہم نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود ہیں، اس پر انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ اسی طرح کرتے تھے اور دوسرے ابوموسیٰ ہیں۔
Abu Atiyah narrated that he and a Masruq visited Sayyidah Ayshah (RA) and they said to her, “O Mother of the Believers! There are two men among the Companions of Muhammad ﷺ one of whom hastens to break the fast and hastens to pray while the other delays to break the fast and delays prayer. She asked, “Which of them hastens the iftar and hastens the salah?” They disclosed that he was Abduflah ibn Mas’ud (RA) and she said, “This is what Allah’s Messenger did”. The other man was Abu Musa (RA). [Ahmed2155, Muslim 1099, Abu Dawud 2354, Nisai 2154]
صحيح، صحيح أبي داود (2039)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 702
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابوعطیہ کا نام مالک بن ابی عامر ہمدانی ہے اور انہیں ابن عامر ہمدانی بھی کہا جاتا ہے۔ اور ابن عامر ہی زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بظاہر اس سے مراد مغرب ہے اور عموم پر بھی اسے محمول کیا جاسکتا ہے اس صورت میں مغرب بھی من جملہ انہی میں سے ہوگی۔ ٢ ؎: پہلے شخص یعنی عبداللہ بن مسعود ؓ عزیمت اور سنت پر عمل پیرا تھے اور دوسرے شخص یعنی ابوموسیٰ اشعری جواز اور رخصت پر۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ٩ (١٠٩٩)، سنن ابی داود/ الصوم ٢٠ (٢٣٥٤)، سنن النسائی/الصیام ٢٣ (٢١٦٠)، ( تحفة الأشراف: ١٧٧٩٩)، مسند احمد (٦/٤٨) (صحیح) وأخرجہ مسند احمد (٦/١٧٣) من غیر ہذا الطریق۔
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں: ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سحری کی، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، انس کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اس کی مقدار کتنی تھی؟ ١ ؎ انہوں نے کہا: پچاس آیتوں کے (پڑھنے کے) بقدر ٢ ؎۔
Sayyiclina Zayd ibn Thabit (RA) narrated that they had the sahr (pre-dawn meal) with Allahs Messenger Then they went for the salah of fajr. The sub-narrator asked him how much time they had and he said, “What it takes to recite fifty verses”. [Ahmed21677, Bukhari 575, Muslim 1097, Nisai 2151]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 703
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان دونوں کے بیچ میں کتنا وقفہ تھا۔ ٢ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ سحری بالکل آخری وقت میں کھائی جائے، یہی مسنون طریقہ ہے تاہم صبح صادق سے پہلے کھالی جائے اور یہ وقفہ پچاس آیتوں کے پڑھنے کے بقدر ہو۔
اس سند سے بھی ہشام سے اسی طرح مروی ہے البتہ اس میں یوں ہے: پچاس آیتوں کے پڑھنے کے بقدر۔
Hanad reported the like of this hadith from Waki’ from Hisham. But the word (recital) is extra.
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 704
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- زید بن ثابت ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں حذیفہ ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ان لوگوں نے سحری میں دیر کرنے کو پسند کیا ہے۔
قیس بن طلق کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے باپ طلق بن علی ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کھاؤ پیو، تمہیں کھانے پینے سے چمکتی اور چڑھتی ہوئی صبح یعنی صبح کاذب نہ روکے ١ ؎ کھاتے پیتے رہو، یہاں تک کہ سرخی تمہارے چوڑان میں ہوجائے ۔
Talq ibn Ali reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Eat and drink and do not let the rising light confuse you. Eat and drink till redness (of dawn) is apparent to you”. [Abu Dawud 2348]
حسن صحيح، صحيح أبي داود (2033)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 705
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- طلق بن علی ؓ کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں عدی بن حاتم، ابوذر اور سمرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ صائم پر کھانا پینا حرام نہیں ہوتا جب تک کہ فجر کی سرخ چوڑی روشنی نمودار نہ ہوجائے، اور یہی اکثر اہل علم کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «الساطع المصعد» سے مراد فجر کاذب ہے اور «الاحمر» سے مراد صبح صادق، اس حدیث سے بعض لوگوں نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ فجر کے ظاہر ہونے تک کھانا پینا جائز ہے، مگر جمہور کہتے ہیں کہ فجر کے متحقق ہوتے ہی کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے اور اس روایت کا جواب یہ دیتے ہیں کہ «الاحمر» کہنا مجاورت کی بنا پر ہے کیونکہ فجر کے طلوع کے ساتھ حمرہ ( سرخی ) آ جاتی ہے پس فجر تحقق کو «الاحمر» کہہ دیا گیا ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو («صائم» ) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If a person does not give up false speech and deeds corresponding to it then Allah is in no need of his giving up his food and his drink”. [Bukhari 1903]
صحيح، ابن ماجة (1689)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 707
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس تنبیہ سے مقصود یہ ہے کہ روزہ دار روزے کی حالت میں اپنے آپ کو ہر قسم کی معصیت سے بچائے رکھے تاکہ وہ روزہ کے ثواب کا مستحق ہو سکے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ رمضان میں کھانا پینا شروع کر دے۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سحری کھاؤ ١ ؎، کیونکہ سحری میں برکت ہے ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported the Prophet ﷺ as saying, “Partake of the predawn meal, for there is blessing in it”. [Ahmed11950, Bukhari 1923, Muslim 1095, Nisai 2142]
صحيح، ابن ماجة (1692)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 708
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن مسعود، جابر بن عبداللہ، ابن عباس، عمرو بن العاص، عرباض بن ساریہ، عتبہ بن عبداللہ اور ابو الدرداء ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ٣- نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ہمارے روزوں اور اہل کتاب کے روزوں میں فرق سحری کھانے کا ہے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: امر کا صیغہ ندب و استحباب کے لیے ہے سحری کھانے سے آدمی پورے دن اپنے اندر طاقت و توانائی محسوس کرتا ہے اس کے برعکس جو سحری نہیں کھاتا اسے جلدی بھوک پیاس ستانے لگتی ہے۔ ٢ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ سحری کھانا اس امت کی امتیازی خصوصیات میں سے ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ٩ (١٠٩٥)، سنن النسائی/الصیام ١٨ (٢١٤٨)، ( تحفة الأشراف: ١٠٦٨ و ١٤٣٣) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصوم ٢٠ (١٩٢٣)، وسنن ابن ماجہ/الصیام ٢٢ (١٦٩٢)، و مسند احمد (٣/٩٩، ٢١٥، ٢٥٨، ٢٨١)، وسنن الدارمی/الصوم ٩ (١٧٣٨)، من غیر ہذا الطریق۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے سال مکہ کی طرف نکلے تو آپ نے روزہ رکھا، اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی روزہ رکھا، یہاں تک کہ آپ کراع غمیم ١ ؎ پر پہنچے تو آپ سے عرض کیا گیا کہ لوگوں پر روزہ رکھنا گراں ہو رہا ہے اور لوگ آپ کے عمل کو دیکھ رہے ہیں۔ (یعنی منتظر ہیں کہ آپ کچھ کریں) تو آپ نے عصر کے بعد ایک پیالہ پانی منگا کر پیا، لوگ آپ کو دیکھ رہے تھے، تو ان میں سے بعض نے روزہ توڑ دیا اور بعض رکھے رہے۔ آپ کو معلوم ہوا کہ کچھ لوگ (اب بھی) روزے سے ہیں، آپ نے فرمایا: یہی لوگ نافرمان ہیں ٢ ؎۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that when Allah’s Messnger ﷺ set out for Makkah in the year of conquest, he kept fast till he reached Kura’ al-Ghamim, and the people also fasted with him. He was told that some people found it burdensome to fast and they waited to see what he did. So he asked for a cup of water after asr and drank it. The People looked at him and some of them broke their fast and some of them continued to fast. So, he was told that people were fasting and he said, “They are the disobedient”. [Ahmed 14406, Muslim 1114 Nisai 2259] --------------------------------------------------------------------------------
١- جابر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں کعب بن عاصم، ابن عباس اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے ، ٤- سفر میں روزہ رکھنے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے، یہاں تک بعض لوگوں کی رائے ہے کہ جب وہ سفر میں روزہ رکھ لے تو وہ سفر سے لوٹنے کے بعد پھر دوبارہ رکھے، احمد اور اسحاق بن راہویہ نے بھی سفر میں روزہ نہ رکھنے کو ترجیح دی ہے۔ ٥- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ اگر وہ طاقت پائے اور روزہ رکھے تو یہی مستحسن اور افضل ہے۔ سفیان ثوری، مالک بن انس اور عبداللہ بن مبارک اسی کے قائل ہیں، ٦- شافعی کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کے قول سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں اور جس وقت آپ کو معلوم ہوا کہ کچھ لوگ روزے سے ہیں تو آپ کا یہ فرمانا کہ یہی لوگ نافرمان ہیں ایسے شخص کے لیے ہے جس کا دل اللہ کی دی ہوئی رخصت اور اجازت کو قبول نہ کرے، لیکن جو لوگ سفر میں روزہ نہ رکھنے کو مباح سمجھتے ہوئے روزہ رکھے اور اس کی قوت بھی رکھتا ہو تو یہ مجھے زیادہ پسند ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک وادی کا نام ہے۔ ٢ ؎: کیونکہ انہوں نے اپنے آپ پر سختی کی اور صوم افطار کرنے کے بارے میں انہیں جو رخصت دی گئی ہے اس رخصت کو قبول کرنے سے انہوں نے انکار کیا، اور یہ اس شخص پر محمول کیا جائے گا جسے سفر میں روزہ رکھنے سے ضرر ہو رہا ہو، رہا وہ شخص جسے سفر میں روزہ رکھنے سے ضرر نہ پہنچے تو وہ روزہ رکھنے سے گنہگار نہ ہوگا، یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ سفر کے دوران مشقت کی صورت میں روزہ نہ رکھنا ہی افضل ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا، وہ خود مسلسل روزہ رکھا کرتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چاہو تو رکھو اور چاہو تو نہ رکھو ۔
Sayyidah Ayshah reported that Sayyidina Hamzah ibn Amr Aslam (RA) asked Allah’s Messenger about fasting during a journey, he being accustomed to fast without interruption. So, Allah’s Messenger ﷺ said, “Fast if you like, or cease to fast if you like”. [Ahmed16037, Muslim 1121, Abu Dawud 2402, Nisai 2380, Ibn e Majah 1662]
صحيح، ابن ماجة (1662)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 711
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ کی حدیث کہ حمزہ بن عمرو ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا، حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس بن مالک، ابو سعید خدری، عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عمرو، ابو الدرداء اور حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصوم ٥٨ (٢٣١٠)، ( تحفة الأشراف: ١٧٠٧١) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصوم ٣٣ (١٩٤٢، ١٩٤٣) وصحیح مسلم/الصیام ٧ (١١٢١)، و سنن ابی داود/ الصوم ٤٢ (٢٤٠٢)، وسنن النسائی/الصیام ٥٨ (٢٣٠٨-٢٣١٠)، و ٧٤ (٢٣٨٦)، وسنن ابن ماجہ/الصوم ١٠ (١٦٦٢)، موطا امام مالک/الصیام ٧ (٢٤) و مسند احمد (٦/٤٦، ١٩٣، ٢٠٢، ٢٠٧)، وسنن الدارمی/الصوم ١٥ (١٧٤٨)، من غیر ہذا الطریق۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان میں سفر کرتے تو نہ آپ روزہ رکھنے والے کے روزہ رکھنے پر نکیر کرتے اور نہ ہی روزہ نہ رکھنے والے کے روزہ نہ رکھنے پر۔
Sayidina Abu Sa’eed said, “We used to trayel with Allah’s Messenger in the month of Ramadan. Neither those who fasted nor those who broke fast found fault with the other”. [Ahmed11083, Muslim 1116, Abu Dawud 2406, Nisai 2305] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 712
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کرتے تھے تو ہم میں سے بعض روزے سے ہوتے اور بعض روزے سے نہ ہوتے۔ تو نہ تو روزہ نہ رکھنے والا رکھنے والے پر غصہ کرتا اور نہ ہی روزہ رکھنے والے نہ رکھنے والے پر، ان کا خیال تھا کہ جسے قوت ہو وہ روزہ رکھے تو بہتر ہے، اور جس نے کمزوری محسوس کی اور روزہ نہ رکھا تو بھی بہتر ہے۔
Sayyidina Abu Sa’eed al-Khudri (RA) reported. “We would travel with Allah’s Messenger ﷺ There were with us those who kept fast and those who did not. So, neither did he who did not fast find fault with him who kept fast nor did he who fasted find fault with one who did not. They held that he who had strength and fasted did good and he who was weak and did not fast also did good”.
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 713
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ١٥ (١١١٦)، سنن النسائی/الصیام ٥٩ (٢٣١١)، ( تحفة الأشراف: ٤٣٢٥) (صحیح) وأخرجہ مسند احمد (٣/٤٥، ٧٤، ٨٧) من غیر ہذا الطریق۔
معمر بن ابی حیّیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن مسیب سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو ابن مسیب نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں: ہم نے رمضان میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دو غزوے کئے۔ غزوہ بدر اور فتح مکہ، ہم نے ان دونوں میں روزے نہیں رکھے ١ ؎۔
Ma’mar ibn Abu Huyiyah asked Ibn Musayyib about fasting during a journey. He narrated that Sayyidina Umar ibn Khattab ‘iii said, “We travelled with Allah’s Messenger in two expeditions in Ramadan, the day of Badr and the conquest (of Makkah) and we broke fast both times”. --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 714
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عمر ؓ کی حدیث ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری سے بھی روایت ہے، ٣- ابو سعید خدری سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے (لوگوں کو) ایک غزوے میں افطار کا حکم دیا۔ عمر بن خطاب سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ البتہ انہوں نے روزہ رکھنے کی رخصت دشمن سے مڈبھیڑ کی صورت میں دی ہے۔ اور بعض اہل علم اسی کے قائل ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یا تو سفر کی وجہ سے یا طاقت کے لیے تاکہ دشمن سے مڈبھیڑ کے وقت کمزوری لاحق نہ ہو اس سے معلوم ہوا کہ جہاد میں دشمن سے مڈبھیڑ کے وقت روزہ نہ رکھنا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٤٥٠) (ضعیف الإسناد) (سعیدبن المسیب نے عمر فاروق ؓ کو نہیں پایا ہے، لیکن دوسرے دلائل سے مسئلہ ثابت ہے)
انس بن مالک کعبی ؓ ١ ؎ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سواروں نے ہم پر رات میں حملہ کیا، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، میں نے آپ کو پایا کہ آپ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، آپ نے فرمایا: آؤ کھالو ، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں ۔ آپ نے فرمایا: قریب آؤ، میں تمہیں روزے کے بارے میں بتاؤں، اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزہ اور آدھی نماز ٢ ؎ معاف کردی ہے، حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت سے بھی روزہ کو معاف کردیا ہے۔ اللہ کی قسم نبی اکرم ﷺ نے حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت دونوں لفظ کہے یا ان میں سے کوئی ایک لفظ کہا، تو ہائے افسوس اپنے آپ پر کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کیوں نہیں کھایا۔
Sayyidina Anas ibn Maalik reported that a man of Banu Abdullah ibn Ka’b said that the army of Allah’s Messenger ﷺ attacked his tribe. He went to the Prophet ﷺ and found him having his meal. He said, “Come close and eat”, The man said, “I am fasting”. The Prophet ﷺ said, “Come close. I will tell you about fasting. Allah has for given the traveller half the prayer and the pregnant woman and she who suckles the fasts”. The man said, “By Allah, he mentioned both the pregnant woman and the suckling mother, or one of them. Alas for me! why did I not eat the food of the Prophet ﷺ ?“ [Ahmed 19069, Abu Dawud 6408, Nisai 2314, Ibn e Majah 1667]
حسن صحيح، ابن ماجة (1667)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 715
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس بن مالک کعبی کی حدیث حسن ہے، انس بن مالک کی اس کے علاوہ کوئی اور حدیث ہم نہیں جانتے جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہو، ٢- اس باب میں ابوامیہ سے بھی روایت ہے، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٤- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتیں روزہ نہیں رکھیں گی، بعد میں قضاء کریں گی، اور فقراء و مساکین کو کھانا کھلائیں گی۔ سفیان، مالک، شافعی اور احمد اسی کے قائل ہیں، ٥- بعض کہتے ہیں: وہ روزہ نہیں رکھیں گی بلکہ فقراء و مساکین کو کھانا کھلائیں گی۔ اور ان پر کوئی قضاء نہیں اور اگر وہ قضاء کرنا چاہیں تو ان پر کھانا کھلانا واجب نہیں۔ اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں ٣ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ وہ انس بن مالک نہیں ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے خادم ہیں، بلکہ یہ کعبی ہیں۔ ٢ ؎: مراد چار رکعت والی نماز میں سے ہے۔ ٣ ؎: اور اسی کو صاحب تحفہ الأحوذی نے راجح قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ میرے نزدیک ظاہر یہی ہے کہ یہ دونوں مریض کے حکم میں ہیں لہٰذا ان پر صرف قضاء لازم ہوگی۔ واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصیام ٤٣ (٢٤٠٨)، سنن النسائی/الصیام ٥١ (٢٢٧٦)، و ٦٢ (٢٣١٧)، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٢ (١٦٦٧)، ( تحفة الأشراف: ١٧٣٢)، مسند احمد (٤/٣٤٧)، و (٥/٢٩) (حسن صحیح)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: میری بہن مرگئی ہے۔ اس پر مسلسل دو ماہ کے روزے تھے۔ بتائیے میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: ذرا بتاؤ اگر تمہاری بہن پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں؟ اس نے کہا: ہاں (ادا کرتی) ، آپ نے فرمایا: تو اللہ کا حق اس سے بھی بڑا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that a woman came to the Prophet ﷺ and said, “My sister has died with two months successive fasts against her”. He said, “Listen, if she had a debt payable then would you have discharged it?” She said, “Yes!” He said, “The right of Allah is more important to discharge”. [Ahmed3224, Bukhari 1953, Muslim 1148, Abu Dawud 3310, Ibn e Majah 1759]
صحيح، ابن ماجة (1758)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 716
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں بریدہ، ابن عمر اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص مرجائے اور اس کے ذمہ روزے ہو تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے، محدثین کا یہی قول ہے اور یہی راجح ہے۔
Abu Kurayb reported from Abu Khalid Ahmar, from A’mash, from the same sanad a hadith like it.
*صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 717
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ابوخالد احمر نے اعمش سے یہ حدیث بہت عمدہ طریقے سے روایت کی ہے، ٣- ابوخالد الاحمر کے علاوہ دیگر لوگوں نے بھی اسے اعمش سے ابوخالد کی روایت کے مثل روایت کیا ہے، ابومعاویہ نے اور دوسرے کئی اور لوگوں نے یہ حدیث بطریق: «الأعمش عن مسلم البطين عن سعيد بن جبير عن ابن عباس عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، اس میں ان لوگوں نے سلمہ بن کہیل کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور نہ ہی عطاء اور مجاہد کے واسطے کا، ابوخالد کا نام سلیمان بن حیان ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اس حالت میں مرے کہ اس پر ایک ماہ کا روزہ باقی ہو تو اس کی طرف سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے ۔
Sayyidina lbn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ ,Lø said, “If a person dies with a month’s fasts due on him then a needy person must be fed against every day”.
ضعيف، ابن ماجة (1757) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (389)، المشکاة (2034 / التحقيق الثاني)، ضعيف الجامع الصغير (5853) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 718
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث کو ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، ٢- صحیح بات یہ ہے کہ یہ ابن عمر ؓ سے موقوف ہے یعنی انہیں کا قول ہے، ٣- اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ میت کی طرف سے روزے رکھے جائیں گے۔ یہ قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے۔ یہ دونوں کہتے ہیں: جب میت پر نذر والے روزے ہوں تو اس کی طرف سے روزہ رکھا جائے گا، اور جب اس پر رمضان کی قضاء واجب ہو تو اس کی طرف سے مسکینوں اور فقیروں کو کھانا کھلایا جائے گا، مالک، سفیان اور شافعی کہتے ہیں کہ کوئی کسی کی طرف سے روزہ نہیں رکھے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصیام ٥٠ (١٧٥٧) (تحفة الأشراف: ٨٤٢٣) (ضعیف) (سند میں اشعث بن سوار کندی ضعیف ہیں، نیز اس حدیث کا موقوف ہونا ہی زیادہ صحیح ہے)
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین چیزوں سے روزہ دار کا روزہ نہیں ٹوٹتا: پچھنا لگوانے سے ١ ؎، قے آ جانے سے اور احتلام ہوجانے سے ۔
Sayyidina Abu Sa’eed al-Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Three things do not break the fast of one who is fasting : cupping, vomitting and nocturnal emission”. --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف تخريج حقيقة الصيام (21 - 22)، ضعيف أبي داود (409)، // عندنا برقم (513 / 2376)، ضعيف الجامع الصغير (2567)، المشکاة (2015) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 719
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابو سعید خدری ؓ کی حدیث محفوظ نہیں ہے، ٢- عبداللہ بن زید بن اسلم اور عبدالعزیز بن محمد اور دیگر کئی رواۃ نے یہ حدیث زید بن اسلم سے مرسلاً روایت کی ہے۔ اور اس میں ان لوگوں نے ابو سعید خدری کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، ٣- عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں، ٤- میں نے ابوداؤد سجزی کو کہتے سنا کہ میں نے احمد بن حنبل سے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے کہا: ان کے بھائی عبداللہ بن زید بن اسلم میں کوئی حرج نہیں، ٤- اور میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے سنا کہ علی بن عبداللہ المدینی نے عبداللہ بن زید بن اسلم ثقہ ہیں اور عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں ٢ ؎ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: میں ان سے کچھ روایت نہیں کرتا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بظاہر یہ روایت «أفطر الحاجم والمحجوم» کی مخالف ہے، تاویل یہ کی جاتی ہے کہ «أفطر الحاجم والمحجوم» کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں نے اپنے آپ افطار کے لیے خود کو پیش کردیا ہے بلکہ قریب پہنچ گئے ہیں، جسے سینگی لگائی گئی وہ ضعف و کمزوری کی وجہ سے اور سینگی لگانے والا اس لیے کہ اس سے بچنا مشکل ہے کہ جب وہ خون کھینچ رہا ہو تو خون کا کوئی قطرہ حلق میں چلا جائے اور روزہ ٹوٹ جائے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے اور ناسخ انس ؓ کی روایت ہے جسے دارقطنی نے روایت کیا ہے، اس میں ہے «رخص النبي صلی اللہ عليه وسلم بعد في الحجامة الصائم وکان أنس يحتجم وهو صائم»۔ ٢ ؎: زید بن اسلم کے تین بیٹے ہیں: عبداللہ، عبدالرحمٰن اور اسامہ۔ امام احمد کے نزدیک عبداللہ ثقہ ہیں اور عبدالرحمٰن اور اسامہ دونوں ضعیف اور یحییٰ بن معین کے نزدیک زیدبن اسلم کے سبھی بیٹے ضعیف ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٤١٨٢) (ضعیف) (سند میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم ضعیف راوی ہے)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جسے قے آ جائے اس پر روزے کی قضاء لازم نہیں ١ ؎ اور جو جان بوجھ کر قے کرے تو اسے روزے کی قضاء کرنی چاہیئے ٢ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If anyone gets vomit by itself then he is not obliged to redeem his fast, but if anyone vomits intentionally then he must make up for the fast (later on)’. [Ahmed10468, Abu Dawud 2380, Ibn e Majah 1676] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1676)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 720
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن غریب ہے، ٢- ہم اسے بسند «هشام عن ابن سيرين عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» عیسیٰ بن یونس ہی کے طریق سے جانتے ہیں۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: میں اسے محفوظ نہیں سمجھتا، ٢- یہ حدیث دوسری اور سندوں سے بھی ابوہریرہ سے روایت کی گئی ہے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے لیکن اس کی سند صحیح نہیں ہے، ٣- اس باب میں ابو الدرداء، ثوبان اور فضالہ بن عبید ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- ابو الدرداء، ثوبان اور فضالہ بن عبید ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے قے کی تو آپ نے روزہ توڑ دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نفلی روزے سے تھے۔ قے ہوئی تو آپ نے کچھ کمزوری محسوس کی اس لیے روزہ توڑ دیا، بعض روایات میں اس کی تفسیر اسی طرح مروی ہے، ٥- اور اہل علم کا عمل ابوہریرہ کی حدیث پر ہے جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ روزہ دار کو جب قے آ جائے تو اس پر قضاء لازم نہیں ہے۔ اور جب قے جان بوجھ کر کرے تو اسے چاہیئے کہ قضاء کرے۔ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اس میں روزہ دار کی کوئی غلطی نہیں۔ ٢ ؎: اکثر لوگوں کی رائے ہے کہ اس میں کفارہ نہیں صرف قضاء ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے بھول کر کچھ کھا پی لیا، وہ روزہ نہ توڑے، یہ روزی ہے جو اللہ نے اسے دی ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone eats or drinks forgetfully then he must not abandon his fast, for, it is only the provision that Allah has provided them”. [Ahmed9494, Bukhari 6669, Muslim 1155]
صحيح، ابن ماجة (1673)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 721
اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔
Abu Sa’eed Ashaj reported from Abu Umamah who from Awf who from Sirin and Khilas, and they both from Abu Hurayrah .i . who from the Prophet, a hadith like this.
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 722
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری اور ام اسحاق غنویہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں، ٤- مالک بن انس کہتے ہیں کہ جب کوئی رمضان میں بھول کر کھا پی لے تو اس پر روزوں کی قضاء لازم ہے، پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأیمان والنذور ١٥ (٦٦٦٩)، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٥ (١٦٧٣)، و ( تحفة الأشراف: ١٢٣٠٣، و ١٤٤٧) (صحیح) وأخرجہ سنن ابی داود/ الصیام ٣٩ (٢٣٩٨) من غیر ہذا الطریق والسیاق، وانظر ما قبلہ
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے بغیر کسی شرعی رخصت اور بغیر کسی بیماری کے رمضان کا کوئی روزہ نہیں رکھا تو پورے سال کا روزہ بھی اس کو پورا نہیں کر پائے گا چاہے وہ پورے سال روزے سے رہے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “If anyone omits to fast one day in Ramadan without a reason, or without being ill, then even a lifelong fast will not make up for it, if he keeps fast (always)”. [Ahmed9712, Abu Dawud 2396] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، ابن ماجة (1672) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (368) مختصرا، المشکاة (2013)، ضعيف الجامع الصغير (5462)، ضعيف أبي داود (517 / 2396) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 723
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ابوالمطوس کا نام یزید بن مطوس ہے اور اس کے علاوہ مجھے ان کی کوئی اور حدیث معلوم نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصیام ٣٨ (٢٣٩٦، ٢٣٩٧)، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٥ (١٦٧٢)، مسند احمد ( ٢/٤٥٨، ٤٧٠)، سنن الدارمی/الصوم ١٨ (١٧٥٦)، ( تحفة الأشراف: ١٤٦١٦) (ضعیف) (سند میں ابو المطوس لین الحدیث ہیں اور ان کے والد مجہول)