Sunan At-Tirmidhi 707

روزوں کے متعلق ابواب

707Sunan At-Tirmidhi

جو روزہ دار غیبت کرے اس کی برائی

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ بِأَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو («صائم» ) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If a person does not give up false speech and deeds corresponding to it then Allah is in no need of his giving up his food and his drink”. [Bukhari 1903]

صحيح، ابن ماجة (1689)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 707
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس تنبیہ سے مقصود یہ ہے کہ روزہ دار روزے کی حالت میں اپنے آپ کو ہر قسم کی معصیت سے بچائے رکھے تاکہ وہ روزہ کے ثواب کا مستحق ہو سکے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ رمضان میں کھانا پینا شروع کر دے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٨ (١٩٠٣)، والأدب ٥١ (٦٠٥٧)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٢١ (١٦٨٩)، ( تحفة الأشراف: ١٤٣٢١) (صحیح)