Sunan At-Tirmidhi 708

روزوں کے متعلق ابواب

708Sunan At-Tirmidhi

سحری کھانے کی فضلیت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَالْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، وَعُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ .

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سحری کھاؤ ١ ؎، کیونکہ سحری میں برکت ہے ۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported the Prophet ﷺ as saying, “Partake of the predawn meal, for there is blessing in it”. [Ahmed11950, Bukhari 1923, Muslim 1095, Nisai 2142]

صحيح، ابن ماجة (1692)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 708
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن مسعود، جابر بن عبداللہ، ابن عباس، عمرو بن العاص، عرباض بن ساریہ، عتبہ بن عبداللہ اور ابو الدرداء ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ٣- نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ہمارے روزوں اور اہل کتاب کے روزوں میں فرق سحری کھانے کا ہے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: امر کا صیغہ ندب و استحباب کے لیے ہے سحری کھانے سے آدمی پورے دن اپنے اندر طاقت و توانائی محسوس کرتا ہے اس کے برعکس جو سحری نہیں کھاتا اسے جلدی بھوک پیاس ستانے لگتی ہے۔ ٢ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ سحری کھانا اس امت کی امتیازی خصوصیات میں سے ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ٩ (١٠٩٥)، سنن النسائی/الصیام ١٨ (٢١٤٨)، ( تحفة الأشراف: ١٠٦٨ و ١٤٣٣) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصوم ٢٠ (١٩٢٣)، وسنن ابن ماجہ/الصیام ٢٢ (١٦٩٢)، و مسند احمد (٣/٩٩، ٢١٥، ٢٥٨، ٢٨١)، وسنن الدارمی/الصوم ٩ (١٧٣٨)، من غیر ہذا الطریق۔