سحری میں تاخیر کرنا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: تَسَحَّرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ ، قَالَ: قُلْتُ: كَمْ كَانَ قَدْرُ ذَلِكَ ؟ قَالَ: قَدْرُ خَمْسِينَ آيَةً .
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں: ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سحری کی، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، انس کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اس کی مقدار کتنی تھی؟ ١ ؎ انہوں نے کہا: پچاس آیتوں کے (پڑھنے کے) بقدر ٢ ؎۔
Sayyiclina Zayd ibn Thabit (RA) narrated that they had the sahr (pre-dawn meal) with Allahs Messenger Then they went for the salah of fajr. The sub-narrator asked him how much time they had and he said, “What it takes to recite fifty verses”. [Ahmed21677, Bukhari 575, Muslim 1097, Nisai 2151]