میت کی طرف سے روزہ رکھنا
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَطَاءٍ، وَمُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، قَالَ: أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُخْتِكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: فَحَقُّ اللَّهِ أَحَقُّ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ بُرَيْدَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: میری بہن مرگئی ہے۔ اس پر مسلسل دو ماہ کے روزے تھے۔ بتائیے میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: ذرا بتاؤ اگر تمہاری بہن پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں؟ اس نے کہا: ہاں (ادا کرتی) ، آپ نے فرمایا: تو اللہ کا حق اس سے بھی بڑا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that a woman came to the Prophet ﷺ and said, “My sister has died with two months successive fasts against her”. He said, “Listen, if she had a debt payable then would you have discharged it?” She said, “Yes!” He said, “The right of Allah is more important to discharge”. [Ahmed3224, Bukhari 1953, Muslim 1148, Abu Dawud 3310, Ibn e Majah 1759]