Al-Fajr 89:9

Al-Fajr · from ayah 9

89:9

وَثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ ۟وَثَمُوۡدَ الَّذِيۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ

اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادئِ (قریٰ) میں پتھر تراشتے تھے (اور گھر بناتے) تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [with] Thamud, who carved out the rocks in the valley?

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fajr

All translations of 89:9

اور ثمود کے ساتھ جنہوں نے وادی میں چٹانیں تراشی تھیں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادئِ (قریٰ) میں پتھر تراشتے تھے (اور گھر بناتے) تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ﺛمودیوں کے ساتھ جنہوں نے وادی میں بڑے بڑے پتھر تراشے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ثمود کی اس قوم کے ساتھ کیا کیا جس نے و ادی میں پتھر کی چٹانوں کو تراش رکھا تھا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ثمود جنہوں نے وادی میں پتھر کی چٹانیں کاٹیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ثمود (کے ساتھ کیا سلوک ہوا) جنہوں نے وادئ (قری) میں چٹانوں کو کاٹ (کر پتھروں سے سینکڑوں شہروں کو تعمیر کر) ڈالا تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ثمود کے ساتھ (کس طرح کیا) جنھوں نے وادی میں چٹانوں کو تراشا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ثمود کے ساتھ (کیا سلوک کیا) جنہوں نے وادی میں چٹانیں تراشی تھیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ثمود کے ساتھ جنہوں نے وادی میں پتھر تراشے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور قوم ثمود کے ساتھ جنہوں نے تراشا چٹانوں کو (داستان عبرت سنانے والی) اس وادی میں

— مولانا اسحاق مدنی

اور قوم ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادیوں میں پتھروں کو تراشتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا آپ کے رب نے) جنہوں نے وادی میں چٹانوں کو تراشا تھا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ثمود کے ساتھ کیا کیا جو وادی قریٰ میں پتھر تراشتے اور گھر بناتے تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

And how did He deal with Thamud who hewed out rocks in the valley?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and (how He dealt) with (the people of) Thamud who had carved out the rocks in the Valley (of Qura) ,

— Muhammad Taqi Usmani

and (how He dealt) with (the people of) Thamud who had carved out the rocks in the Valley (of Qura) ,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And Thamud, who hewed out rocks in the valley

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And with (the tribe of) Thamud, who clove the rocks in the valley;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [with] Thamud, who carved out the rocks in the valley?

— Saheeh International

(Also consider how He dealt with) the Thamud, who carved their houses out of the rocks in the valley.

— Muhammad Sarwar

And (with) Samood, who hewed out the rocks in the valley,

— Muhammad Habib Shakir

And With Thamud who hewed out rocks in the vale,

— Abdul Majid Daryabadi

And with the Thamud (people), who cut out (huge) rocks in the valley?-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 89:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–14

شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ فجر تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چناچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں لوگوں نے پوچھا اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں ؟ فرمایا یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفَجْر 5 وادی سے مراد وادی القریٰ ہے جہاں اس قوم نے پہاڑوں کو تراش تراش کر ان کے اندر عمارتیں بنائی تھیں غالباً تاریخ میں وہ پہلی قوم ہے جس نے چٹانوں کے اندر اس کی عمارتیں بنانے کا سلسلہ شروع کیا تھا (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حواشی 57۔ 59۔ الحجر، حاشیہ 45۔ جلد سوم، الشعراء حواشی 95۔ 99 مع تصاویر)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–9

ارم ذات العماد، لفظ ارم عاد کا عطف بیان یا بدل ہے اور مقصود اس سے قبیلہ عاد کی دو قسموں میں سے ایک کی تعین ہے یعنی عاد اولیٰ جو انکے متقدمین ہیں ان کو عاد ارم کے لفظ سے اسلئے تعبیر کیا کہ یہ لوگ اپنے جدا علی ارم سے بہ نسبت عاد اخری کے قریب تر ہیں۔ ان کو اس جگہ قرآن کریم عاد ارم کے لفظ سے اور سورة نجم میں اھلک عاد الاولی کے عنوان سے تعبیر فرماتا ہے۔ ان کی صفت میں قرآن کریم نے ذات العماد فرمایا۔ عماد اور عمود ستون کو کہتے ہیں۔ قوم عاد کو ذات العماد اسلئے کہا گیا کہ انکے قدر وقامت بڑے طویل تھے اور یہ قوم اپنے ڈیل ڈول اور قوت و طاقت میں سب دوسری قوموں سے ممتاز تھی ان کے اس امتیاز کو خود قرآن کریم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

عاد کے بعد یہ بالاجمال ثمود کی طرف بھی اشارہ فرما دیا۔ یہ لوگ عاد ہی کے بقایا میں سے تھے اور تعمیر و تمدن کے شوق میں ان کے وارث ہوئے۔ چنانچہ ان کو عاد ثانیہ بھی کہا گیا ہے۔ ’واد القرٰی‘ ان کا مسکن تھی۔ اس کے پہاڑوں میں انھوں نے اپنے اسلاف کے طریقہ پر پہاڑوں کو تراش تراش کر اپنے لیے گھر بنائے جس کی طرف ’جَابُوا الصَّخْرَ‘ کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

9۔ 1 یہ حضرت صالح کی قوم تھی اللہ نے اسے پتھر تراشنے کی خاص صلاحیت وقوت عطا کی تھی، حتی کہ یہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر ان میں اپنی رہائش گاہیں تعمیر کرلیتے تھے، جیسا کہ قرآن نے کہا ہے (وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ 149؀ۚ) 26۔ الشعراء :149)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

5: قوم ثمود کے پاس حضرت صالح ؑ کو پیغمبر بناکر بھیجا گیا تھا۔ ان کے تعارف کے لیے دیکھئے سورة اعراف : 73

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–10

وثمود ............................ بالواد (9:89) ” اور ثمود کے ساتھ جنہوں نے وادی میں چٹانیں تراشی تھیں “۔ ثمود حجر میں رہتے تھے۔ یہ جزیرة العرب کے شمال میں ہے۔ مدینہ اور شام کے درمیان وادی حجر ہے۔ انہوں نے چٹانیں کاٹ کر بڑے بڑے محلات بنارکھے تھے اور پہاڑوں کے اندر قلعے اور غار بنا رکھے تھے۔ وفرعون ................ الاوتاذ (10:89) ” اور میخوں والے فرعون کے ساتھ “۔ راجح بات یہ ہے کہ اوتاد سے مراد اہرام ہیں جو میخوں کی طرح زمین میں نصب ہیں۔ اور نہایت پختہ بنیادوں پر ہیں۔ جس فرعون کی طرف یہاں اشارہ ہے وہ فرعون موسیٰ ہے جو بہت سرکش تھا اور جبار تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 " وادی القریٰ " ان کے مقام کا نام ہے جہاں پہاڑ کے پتھروں کو تراش کر نہایت محفوظ و مضبوط مکان بناتے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 9{ وَثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۔ } ”اور ثمود کے ساتھ کیا کیا آپ کے رب نے جنہوں نے وادی میں چٹانوں کو تراشا تھا۔“ قومِ ثمود کے لوگ پہاڑوں کو تراشنے کے ماہر تھے۔ وہ بڑے بڑے پہاڑوں کو تراش کر خوبصورت کشادہ گھر اور محلات بناتے تھے۔ پہاڑوں سے تراشے ہوئے ان کے گھر اور محلات آج بھی موجود ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 ذکر قوم ثمود :۔ دوسری قوم ثمود تھی جسے عاد ثانی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ماہر سنگ تراش تھی۔ پہاڑوں کے اندر اپنے مکان تو کجا شہروں کے شہر پتھروں کو تراش تراش کر بنا رکھے تھے ان لوگوں کا مسکن وادی القریٰ تھا جو مدینہ اور تبوک کے راستہ پر پڑتا ہے۔ یہ بھی آخرت کے منکر فلہٰذا اللہ کے باغی تھے۔ اللہ نے انہیں زلزلے اور چیخ کے عذاب سے تباہ کردیا۔ زلزلہ اتنا شدید تھا کہ ان کے پتھروں کے مکانوں میں دراڑیں اور شگاف پڑگئے۔ پھر ان میں سے بہت سے مکان پہاڑ کے بوجھ کی وجہ سے کھنڈر بن گئے اور وہ خود زلزلہ اور چیخ کی تاب نہ لاکر مرگئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

4۔ قوم ثمود جو اپنے زمانہ میں سنگ تراشی، تعمیر عمارات اور انجینئری میں ممتاز تھی، اس پر حاشیے سورة الاعراف (پ 8) میں گزر چکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–30

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وثمود الذین جابوا الصخر بالواد . ثمود کا عطف عاد پر ہے۔ جابوا کا معنی ہے انہوں نے تراشا۔ صخر جمع ہے صخرۃٌ کی۔ الواد سے مراد وادئ قریٰ ہے۔ ثمود وادئ قریٰ میں پتھر تراش کر (پہاڑوں میں) رہنے کے لیے مکان بناتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 9–12

(129) اور قوم ثمود کو کس طرح ہلاک کیا جو وادی قریٰ میں پہاڑ کے پتھروں کو تراشا کرتے تھے اور میخوں والے فرعون کے ساتھ کیا برتاؤ کیا اور میخوں والا اس واسطے نام پڑا کہ وہ جس کو عذاب دیتا تھا تو چار میخوں سے باندھ کر سزا دیتا تاکہ وہ مرجائے چناچہ اپنی بیوی حضرت آسیہ کو اسی طرح اس نے سزا دی تھی، اس نے سرزمین مصر میں کفر اور نافرمانیاں برپا کر رکھی تھیں اور اس میں قتل اور بتوں کی پرستش سے بہت فساد مچا رکھا رکھا تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(وثمود الذین جابوا الصخر بالواد :”جابوا“”جاب یجوب جوباً“ (ن) کاٹنا۔”الصخر) اسم جنس ہے، چٹانیں، مفسرین کہتے ہیں کہ ثمود پہلے لوگ ہیں جنہوں ن ے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے۔ (شوکانی) آج کل اس ”وادی القریٰ“ کا نام ”اعلائ“ ہے جو سعودی عرب میں ہے اور وہ مدائن صالح (جو ثمود کا مرکزی شہر تھا) سے تقریباً بیس میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ (دیکھیے سورة حجر : 82) (اشرف الحواشی)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وثمودالذین جابوالصخر بالواد۔ ثمود، حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ہے، جابو، کا معنی ہے انہوں نے کاٹا اسی معنی میں فلان یجوب البلاد ہے فلاں شہروں کو طے کرتا ہے قمیص کی جیب کو یہ نام دیا گیا ہے کیونکہ اسے بھی کاٹا جاتا ہے شاعر نے کہا، جب کہ وہ حضرت عبداللہ بن زبیر کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت عبداللہ بن زبیر نے اس کے حق میں ساٹھ وسق کا پروانہ لکھ دیا جو وہ کوفہ سے لے سکتا تھا تو اس نے کہا، راحت رواحا قلوصی وھی حامدۃ، آل الزبیر ولم تعدل بھم احدا۔ میری اونٹنی واپس پلٹی جب کہ وہ آل زبیر کی تعریف کررہی تھی وہ کسی کو بھی ان کا ہم پلہ نہیں دے رہی تھی۔ راحت بستین وسقا فی حقیب تھا، ماحملت حملھا الادنی ولا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

100۔ ابن ابی حاتم وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جا بو الصخر بالواد۔ انہوں نے پتھروں کو وادی میں تراشا تھا یعنی وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے۔ آیت و فرعون ذی الاوتاد اور فرعون میخوں والا میں اوتاد سے وہ لشکر مراد ہیں جو اسکے حکم کو مضبوط کرتے تھے۔ 101۔ الطستی نے اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت جابو الصخر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ پہاڑوں میں پتھروں کو کاٹتے اور وہاں گھر بناتے تھے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے امیہ کا قول نہیں سنا۔ وشق ابصارنا کما…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَثَمُوْدَ : اور ثمود کے ساتھ ][ الَّذِينَ جَابُوا الصَّخْر : جنھوں نے تراشیں چٹانیں ][َ بِالْوَادِ : اس وادی میں ] (آیات۔ 9 ۔ 10) ثَمُوْدَ اور فِرْعَوْنَ ، یہ دونوں لِعَادٍ کی بِ پر عطف ہونے کی وجہ سے حالت جَرّ میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

قرآن مجید میں کئی جگہ قوم عاد کی ہلاکت کا تذکرہ ہے سورة اعراف اور سورة ٴ ہود کی تفسیر کا مطالعہ کرلیا جائے۔ ﴿وَ ثَمُوْدَ الَّذِيْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بالْوَادِ۪ۙ009﴾ اور قوم ثمود کے ساتھ آپ کے رب نے کیا معاملہ کیا جنہوں نے وادی القریٰ میں پتھروں کو تراش لیا تھا، قوم ثمود کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تھا یہ لوگ حجاز اور شام کے درمیان رہتے تھے ان کے رہنے کی جگہ کو حجر کہا جاتا تھا اور وادی القری بھی کہتے تھے۔ سورة الحجر میں فرمایا :﴿وَ لَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِيْنَۙ0080 وَ اٰتَيْنٰهُمْ اٰيٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِيْنَۙ0081 وَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت : قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–13

6:۔ ” وثمود “ تخوید دنیوی کا دوسرا نمونہ۔ قوم ثمود کو دیکھو وہ کس قدر طاقتور اور کیسے کاریگر تھے کہ پتھروں کو تراش ڈالا اور پہاڑوں کو کاٹ کر ان کے اندر رہائشی مکانات بنا لیے۔ ” و فرعون ذی الاوتاد “ تخویف دنیوی کا تیسرا نمونہ۔ دیکھو ! فرعون کتنا بڑا بادشاہ تھا، اس کی سلطنت کس قدر مضبوط تھی۔ ” ذی الاوتاد “ (میخوں والا) یا تو سلطنت کے استحکام سے کنایہ ہے یا یہ مطلب ہے کہ وہ توحید والوں کو میخوں سے گاڑ کر عذاب دیتا ہے۔ ” الذین طغوا فی البلاد “۔ ان سب قوموں نے سرکشی کی اور حد سے گذر گئے، شہروں اور بستیوں میں ظلم و تشدد اور بےانصافی سے شر و فساد برپا کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر مختلف قسم کے عذاب…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–14

(فجر اور دس راتیں ) ارشاد ہوتا ہے والفجر قسم ہے فجر کی ولیال عشر اور قسم ہے دس 10 راتوں کی ۔ فجر اور دس راتوں سے کون سی فجر اور کون سی دس راتیں مراد ہیں اس میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض فرماتے ہیں کہ فجر سے مطلق مراد ہے ۔ جو ہر روز طلوع ہوتی ہے۔ اور دس راتوں سے مراد رمضان المبارک کی آخری دس راتیں ہیں ۔ جن میں لیلۃ القدر جسیی عظیم اور بابرکت رات آتی ہے۔ اور جس میں عبادت کا اجر ثواب ایک ہزار مہینے سے زیادہ ہوتا ہے ۔ ان راتوں میں اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی شامل حال ہوتی ہے۔ دنیا میں عظیم انقلاب برپا کرنے والی کتاب قرآن پاک کے نزول کی ابتداء بھی اسی رات میں ہوئی ۔ بعض فرماتے ہیں کہ فجر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَثَمُوْدَ الَّذِيْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۝ 9 ۙ ثمد ثَمُود قيل : هو أعجمي، وقیل : هو عربيّ ، وترک صرفه لکونه اسم قبیلة، أو أرض، ومن صرفه جعله اسم حيّ أو أب، لأنه يذكر فعول من الثَّمَد، وهو الماء القلیل الذي لا مادّة له، ومنه قيل : فلان مَثْمُود، ثَمَدَتْهُ النساء أي : قطعن مادّة مائه لکثرة غشیانه لهنّ ، ومَثْمُود : إذا کثر عليه السّؤال حتی فقد مادة ماله . ( ث م د ) ثمود ( حضرت صالح کی قوم کا نام ) بعض اسے معرب بتاتے ہیں اور قوم کا علم ہونے کی ہوجہ سے غیر منصرف ہے اور بعض کے نزدیک عربی ہے اور ثمد سے مشتق سے ( بروزن فعول ) اور ثمد ( بارش) کے تھوڑے سے پانی کو کہتے ہیں جو جاری نہ ہو ۔ اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–14

ترکیب ¦ ارم ذات العماد عطف بیان لعادا وبدل منہ وارم غیر منصرف للتعریف والتانیث وارم 1 ؎ جدعادلانہ عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح وقال قتادہھی قبیلۃ من عاد قال ابو عبیدہ ھما عادان فالاولیٰ ارم۔ ومعنی ذات العماد و ذات القوۃ والشدۃ وقیل ذات الطوال یقال رجل طویل العماد ای القامۃ وفی الصحاح العماد الابنیۃ الرفیعۃ تذکر و تؤنث۔ التی لم یخلق الخ صفۃ لعاد وقیل صفۃ ارم علی قول من قال ان ارم قریۃ وارض وثمود بالنصب عطفا علی عاد مجرور محلا علی انہ اسم للقبیلۃ ففیہ التانیث والتعریف فھو غیر منصرف الذین الخ صفۃ لثمود جابوا الجوب القطع ومنہ جاب البلاد واذا قطعھا ومنہ جیب القمیص لانہ قطع بالواد متعلق بجابوا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَثَمُوْدَالَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ ۔ (الفجر : 9) (اور ثمود کے ساتھ جنھوں نے وادی میں چٹانیں تراشیں۔ ) دوسری شہادت قوم ثمود کے حالات سے ثمود بھی سامی نسل کی ایک شاخ ہے۔ یہ لوگ عاد ہی کے بقایا میں سے ہیں۔ اور انھیں بھی اپنے پیشروئوں کی طرح بلند وبالا عمارتیں اٹھانے کا بہت شوق تھا۔ یہاں وادی سے مراد القریٰ ہے، یہ وادی ان کا مسکن تھی۔ انھوں نے اس وادی میں چٹانیں تراش تراش کر اپنے لیے وسیع عمارتیں بنائی تھیں اور غالباً تاریخ میں یہ پہلی قوم ہے جس نے چٹانوں کے اندر اس طرح کی عمارتیں بنانے کا سلسلہ شروع کیا۔ اور آج بھی ان کے بعض آثار موجود ہیں۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–14

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں جس طرح اس کی قدرت کی نشانیاں پائی جاتی ہیں اسی طرح یہ بات بھی اس کی قدرت اور قوت کا مظہر ہے کہ اس نے عاد اور ثمود جیسی قوموں کو نیست و نابود کیا جن کی تباہی سے لوگوں نے سکون پایا۔ موجودہ جغرافیے کے مطابق قوم عاد کی رہائش عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندوبالا پہاڑ تھے۔ اس کے باسی جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے دنیا میں ان کا ثانی کوئی نہیں پیدا کیا گیا۔ انھوں نے پہاڑتراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قوم ثمود : 9 : وَثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ ( اور قوم ثمود کے ساتھ جو وادی القریٰ میں پتھروں کو تراشا کرتے تھے) جابوا الصخر۔ پہاڑوں کے پتھر کاٹے اور ان میں رہائشی مکانات بنائے۔ ایک قول یہ ہے سب سے پہلے جنہوں نے پہاڑوں کو کاٹا اور تراشا اور انہوں نے پتھروں کے سترہ سو شہربنائے۔ الوادؔ سے وادی القریٰ مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9 ۔” وثمود الذین جابوا الصخر بالواد “ ثمود کا عطف عاد پر ہے۔ ” جابوا “ کا معنی ہے انہوں نے تراشا۔ ” صخر “ جمع ہے ” صخرۃ “ کی۔ ” الواد “ سے مراد وادی قریٰ ہے۔ ثمود وادی قریٰ میں پتھر تراش کر (پہاڑوں میں) رہنے کے لئے مکان بناتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–14

1۔ 14۔ دس راتوں اور طاق اور جفت کی تفسیر اگرچہ سلف نے طرح طرح سے کی ہے لیکن امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور ابن زبیر ؓ اور مجاہد اور اکثر سلف کا قول یہی ہے کہ دس راتوں سے مراد ماہ ذی الحجہ کی اول کی دس راتیں ہیں یہی قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ مسند 3 ؎ امام احمد نسائی و مستدرک حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت جابر ؓ کی مرفوع روایت میں یہی تفسیر آچکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ان دس راتوں سے مراد شروع ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں۔ حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اور طاق اور جفت کی تفسیر میں یہ قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ طاق اور جفت سے مراد طاق اور جفت نمازیں ہیں جیسے مغرب اور عشاء ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَثَمُوْدَ الَّذِيْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ ) اور ثمود کے ساتھ کیا کیا جو وادی میں پتھر تراشتے تھے۔ یعنی وادی القری میں انہوں نے اپنی قوت اور طاقت سے چٹانوں کو تراشا اور وہاں گھر بنائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(10) قوم ثمود کا ذکر و حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور کیا کیا تمہارے سب نے قوم ثمود کے ساتھ جنہوں نے تراشا تھا چٹانوں کو اس وادی میں " جو کہ وادی القری کہلاتی تھی جو عبرتوں بھری وادی کے طور پر جانی پہچانی جاتی تھی، اور جو کہ اب مدائن صالح کے نام سے مشہور و معروف ہے، اور موجودہ مملکت سعودیہ کے شمال مغرب میں خیبر سے آگے واقع ہے، جو کہ تبوک، عمان و اردن اور بلا شبہ شام کو جانے والی شاہراہ پر واقع ہے، اور زبان حال سے اپنی داستان عبرت آج تک لوگوں کو سنا رہی ہے۔ اور جب تک اللہ کو منظور ہوا ہمیشہ اسی طرح سناتی رہے گی، جہاں کی چٹانوں کے اندر ان لوگوں کے حیرت انگیز طور پر بنائے گئے مکانوں کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–30

نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة الفجر۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 8–9

ف 13 مفسرین کہتے ہیں کہ ثمود پہلے لوگ ہیں جنہوں نے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے۔ (شوکانی) آج کل اس ” وادالقریٰ “ کا نام ” اعلاء “ ہے اور وہ مدائن صالح جو ثمود کا مرکزی شہر تھا) سے تقریباً بیس میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ (دیکھیے حجر :82)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(89:9) وثمود : واؤ عاطفہ، ثمود کا عطف عاد پر ہے۔ کیونکہ ایک قبیلہ کا نام ہے اس لئے تعریف اور تانیث کی وجہ سے غیر منصرف ہے لہٰذا منصوب آیا ہے۔ الذین جانوا الصخر بالواد۔ یہ ثمود کی صفت ہے اور (کیا کیا تیرے رب نے) ثمود کے ساتھ جو وادیوں میں پتھروں کو تراشتے تھے۔ ثمود حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کا نام ہے۔ فن سنگ تراشی اور تعمیر عمارات میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔ حضرت صالح کی اونٹنی کا واقعہ ان ہی کے ساتھ پیش آیا تھا۔ الذین اسم موصول ۔ جمع مذکر۔ جو۔ جو لوگ۔ وہ سب لوگ۔ وہ سب مرد۔ الذی کی جمع ہے۔ باقی جملہ اس کا صلہ ہے اور سارا جملہ ثمود کی صفت ہے۔ جابوا ماضی جمع مذکر غائب جوب (باب نصر) مصدر سے۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–30

لغات القرآن۔ لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔ تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 6–14

صاحب قوت اقتدار لوگوں کا عذاب الٰہی سے ہلاک ہونا۔ (ف 1) فرمایا کہ کیا تم نے نہ دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے عاد یعنی ارم ستون جیسے دراز قد والوں کے ساتھ کیسامعاملہ کیا، زور وقوت اور طول قیامت میں عاد کے بیٹوں میں سے شداد بھی ہے جس نے دنیا پر بادشاہت کی اور تمام بادشاہ اس کے مطیع ہوگئے اور اس نے جنت کا ذکر سن کر براہ سرکشی دنیا میں جنت بنانی چاہی اور اس ارادہ سے ایک شہرعظیم بنایاجس کے محل سونے چاندی کی اینٹوں سے تعمیر کیے گئے اور زبرجد اور یاقوت کے ستون اس کی عمارتوں میں نصب ہوئے اور ایسے ہی فرش مکانوں اور ستونوں میں بنائے گئے سنگریزوں کی جگہ آبدار موتی بچھائے گئے ہر محل کے گرد جواہر پر نہریں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–9

[5] عاد کا ذکر پچھلی سورتوں میں گزر چکا ہے۔ یہاں ان کا ذکر ارم کی نسبت کے ساتھ ہوا ہے جو ان کے اجداد میں سے کسی بڑے شخص کا نام تھا۔ ان کو ستونوں والے اس لئے کہا گیا کہ وہ ستونوں پر اونچی اونچی عمارتیں بناتے تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–14

سورة الفجر 1: اس سورت میں قسموں کے انداز میں شواہد کو پیش فرمایا ہے اور دلائل کا ذکر کیا ہے ۔ اسی واسطے فرمایا ہے ۔ ھل فی ذلک قسم لذی حجر ۔ کہ اس میں عقلمندوں اور غوروفکر کرنے والوں کے لئے ایک بین دلیل ہے ۔ اس لئے مقام اور موقع کے لحاظ سے زیادہ موزوں یہ ہے کہ یہاں الفجر سے مراد فجر قیامت ہو اور دس راتوں سے مراد وہ دس راتیں ہوں جن میں نافرمان قوموں پر عذاب بھیجا گیا اور الشفع والوتر حسوما اور الیل اذیسر ۔ غرض ہر وہ رات ہے جو معذب قوموں پر آتی ہے ۔ اس نہج سے یہ دعوی ان ربک لبا لمرصاد بالکل درست اور صحیح ثابت ہوگا ۔ یعنی ان معذب قوموں کی تاریخ پڑھو اور ان کے حالات کا مطالعہ کرو ۔ تمہیں معلوم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) اور ثمود کے ساتھ کیسا سلوک کیا جو وادی قری میں پہاڑوں کے پتھر تراشا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–9

ف 1۔ اس قوم کے دو لقب ہیں۔ عاد اور ارم، کیونکہ عاد بیٹا ہے عاص کا اور وہ ارم کا اور وہ ساسم بن نوح (علیہ السلام) کا، پس کبھی ان کو عاد کہتے ہیں، تسمیہ لہم باسم ابیہم۔ اور کبھی ارم کہتے ہیں، تسمیہ لہم باسم جدہم، اور اس ارم کا ایک بیٹا ارم ہے اور عابر کا بیٹا ثمود جس کے نام سے ایک قوم مشہور ہے۔ پس عاد اور ثمود دونوں ارم میں جاملے ہیں، عاد بواسطہ عاص کے اور ثمود بواسطہ عابر کے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور پھر ثمود کے ساتھ کیا ہوا جو وادیوں میں پتھر تراشا کرتے تھے 9 ؎ ثمود کہاں آباد تھے اور کس خطہ میں پھیلے ہوئے تھے ؟ اس کے متعلق یہ طے شدہ امر ہے کہ ان کی آبادیاں حجر میں تھیں۔ حجاز اور شام کے درمیان وادی ٔ قریٰ تک جو میدان پایا جاتا ہے یہ سب ان کا مقام سکونت تھا اور اس علاقہ کو آج کل ” فج ناقۃ “ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ ثمود کی بستیوں کے کھنڈرات اور آثار آج تک موجود ہیں اور اس زمانہ میں بھی بعض مصری آثار قدیمہ کے ماہرین نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ ان کا بیاں ہے کہ وہ ایک مکان میں داخل ہوئے جو شاہی حویلی کہلاتی تھی ۔ اس میں متعدد کمرے ہیں اور حویی۔ کے ساتھ ایک بہت بڑا حوض ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–9

They are introduced here by the epithet: ذَاتِ الْعِمَادِ (the men of tall pillars) The word ` imad' and 'amud' means 'pillar'. The people of ` Ad are mentioned as the men of tall pillars because they were very tall in stature. They were a stronger and more powerful people than any other nations. The Qur'an describes them explicitly, thus: لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ (the like of whom were never created in the lands...89:8) The Qur'an made it clear that this nation was the tallest and the strongest in their physical stature, but the Qur'an did not state the exact measurement of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

5 "The valley": Wad-il-Qura, where the Thamud carved out dwellings in the mountains, and probably in history they were the first people who started cutting out such buildings into the rocks. (For details, see E.N.'s 57, 59 of AlA'raf, E.N. 45 of Al-Hijr, E.N.'s 95, 99 of Ash-Shu`ara' along with the photographs) .

Read the full tafseer →