Ayah 89:1(1) فجر کے وقت کی قسم۔
Ayah 89:2(2) اور دس راتوں کی قسم۔
Ayah 89:3(3) اورجفت کی قسم اور طاق کی قسم۔
Ayah 89:4(4) اور رات کی قسم جب وہ رخصت ہونے لگے۔
Ayah 89:5(5) کیا ان قسموں میں جو میں نے کھائی ہیں ایک صاحب عقل کے لئے کافی قسم نہیں ہے۔ یعنی ضرور ہے…اس صورت میں ان معاندین اور منکرین قیامت کے شبہات کا جواب دیتا ہے جو یوں کہا کرتے تھے کہ اول تو خدا تعالیٰ ہماری نیکی اور بدی سے بےنیاز ہے اور اگر حقیقتاً اس کو نیکی پسند اور بدی سے ناراضگی ہے تو وہ ہم سے ابھی انتقام لے سکتا ہے اس کام کے لئے عالم کو دوبارہ قائم اور سزا اجزال کا اہتمام کرنا ایک عبث کام ہے اور محض ڈھکوسلا ہے قیامت تو جب قائم ہو جب اس کو ہمارے برے بھلے کا علم نہ ہو یا وہ سزا وجزا پر قدرت نہ رکھتا ہو اور جب یہ دونوں باتیں اس کو حاصل ہیں پھر قیامت کا انتظار کرنا بےسود ہے۔
غرض اس قسم کے شبہات فاسدہ کا جواب دینا اور قیامت کو ثابت کرنا اور اسی سلسلے میں بعض ایسی اقوام کا ذکر کرنا کہ جن کو ہلاک کیا ایسی حالت میں کہ جب ان سے توبہ اور انابت الی اللہ کی تمام امیدیں اور ان کی تمام مہلتیں ختم ہوچکیں اور جن کے ظالم دنیا میں بہت بڑھ گئے اور حد سے گزر چکے تھے غرض اس سورت کا تعلق بھی عام طور سے مجازات کے ثبوت کا اور اس کی تفصیل کا بیان کرنا مقصود ہے اور یہ بات بتانی ہے کہ قیامت کا وقوع اور یو مجازات کا آنا ضروری ہے نہ اس کے لئے دنیا مناسب ہے اور نہ برزخ بلکہ اس کے لئے ایک دن علیحدہ ہونا چاہیے تاکہ ہر شخص ک و اس کے عمل کا صلہ یا پاداش دی جاسکے اور کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ میں تو دارالعمل میں تھا مجھے کیوں سزا دی گئی شاید میں آگے اور اچھے عمل کرتا۔
بہرحال جو قومیں عذاب سے تباہ ہوئیں اور جو لوگ اپنے وقت پر اپنی موت مرے سب کے لئے سزا اور جزا کا ایک دن مقرر ہے جس دن حساب کتاب ہونے کے بعد جو شخص جس امر کا مستحق ہوگا اس کو وہاں پہنچا دیا جائے گا۔
اس سورت میں جن باتوں کی قسم کھائی ہے اور جن چیزوں کی قسم کھائی ہے ان میں بھی اس کی رعایت رکھی گئی ہے ان سب قسموں کا جواب قسم بھی علمائے مفسرین نے یہی نکالا ہے کہ منکروں کو جزاوسزا ملے گی اور قیامت ضرور واقع ہوگی بہرحال ارشاد فرماتے ہیں فجر کے وقت کی قسم کھاتا ہوں یعنی صبح صادق کے وقت کی ، یہ وقت بھی ایک انقلابی وقت ہے عالم کی تمام مخلوق بیدار ہوتی ہے اور صبح کا انتظار کرتی ہے اور صبح ہوتے ہی فکر معاش اور تلاش روزگار کو نکل جاتی ہے بیشمار طیور اور انسان روزی تلاش کرتے ہیں۔
مفسرین کے کئی اقوال ہیں ہوسکتا ہے کہ صبح کی نمازمرا ہو ان قران الفجر کان مشھودا ، یہ وقت صبح اور شام کے فرشتوں کے اجتماع کا ہے۔
بعض حضرات نے فرماایا کہ اس سے محرم کی پہلی تاریخ اور اس کی صبح مراد ہے کیونکہ اس سے نیا سال شروع ہوتا ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یوم النحر کی صبح مراد ہو کیونکہ اس کے ساتھ ہی دس راتوں کی قسم کھائی یہ دس راتیں ذوالحجہ کی دس راتیں ہیں کہ ان کی بہت فضیلت احادیث میں آئی ہے بعض نے کہا رمضان المبارک کی آخری دس راتیں کیونکہ نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری عشرے کا خاص اہتمام کرتے تھے۔
جفت اور طاق سے مراد نمازیں ہیں جن میں جفت بھی ہیں اور وتر بھی ، بعض نے فرمایا جفت سے مراد صبح کی نماز اور وتر سے مراد مغرب کی نماز ہے بعض حضرات نے فرمایا اس سے ذی الحجہ کی نویں اور دسویں تاریخ مراد ہے یعنی یوم عرفہ اور یوم النحر، بعض نے فرمایا طاق سے مراد درکات جہنم ہیں اور جفت سے مراد درجات جنت ہیں کیونکہ درکات جہنم سات ہیں اور جنت کے درجات آٹھ ہیں۔
حضرت امام رازی (رح) نے فرمایا جفت سے مراد تمام مخلوق ہے کیونکہ مخلوق میں ایک کا جواب ایک ہے، جیسے رات اور دن، کفر اور ایمان، تاریکی اور نور وغیرہ وغیرہ اور وتر سے اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس مراد ہے اور ات کی قسم جب وہ چلے اور رخصت ہونے لگے یعنی واللیل ذا ادبر، اس میں بھی علماء نے اقبال اکور ادبار دونوں معنی کئے ہیں یعنی رات جب آنے لگے یا رات جب جانے لگے بعض نے کہا اس سے مزدلفہ کی رات مراد ہے کہ اس میں سب جمع ہوتے ہیں اور عرفات سے آکر ٹھہرتے ہیں اس وقت واللیل اذایسر کا مطلب یہ ہوگا واللیل الذی یسارفیہ۔
بیچ میں استفہام تقریری کے طور پر فرمایا ھل فی ذلک قسم لذی حجر یعنی ان مذکورہ قسموں میں ہر ہر قسم تاکید کلام کے لئے کافی ہے یعنی تمہارے لئے بھی ان قسموں میں کوئی قسم کفایت کرتی ہے۔
جیسے سورة واقعہ میں فرمایا وانہ لقسم لو تعلمون عظیم یعنی ہر صاحب عقل کے لئے ان قسموں میں سے ہر قسم کافی ہونی چاہیے یوں سمجھئے جیسے کوئی اپنے دعوے پر بہت سے دلائل قائم کرنے کے بعد کہے کہ آپ لوگوں میں سے کوئی صاحب عقل میری کسی دلیل کو کافی سمجھتا ہے یعنی اس کو کافی سمجھنا چاہیے، یعنی ان من کان ذالب وعقل علم ان مااقسم اللہ عزوجل بہ من ھذہ الاشیاء فیہ عجائب و دلائل تدل علی توحیدہ وربوبیۃ فھو حقیق بان یقسم بہ لدلتہ علی خالقہ۔
ہم نے ابھی عرض کیا تھا کہ جواب قسم محذوف ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ خالق اور عالم کا مالک منکروں کو سزا دینے پر قدرت رکھتا ہے اور سزا ضرور ہوگی یا قیامت ضرور آئے گی اور انقلاب ضرور ہوگا۔
ورب ھذہ الاشیاء لیعذبن الکافر بعض نے کہا کہ جواب قسم ان ربک لبافرصاد ہے بعض نے کہا الم ترکیف فعل ربک بعاد ہے ہم جواب قسم قسموں کی مناسبت سے محذوف بتایا اور شایدروایتاً بھی یہی راجح ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں عید قرباں کو بڑا حج ادا ہوتا ہے اور دس رات اس سے پہلے اور جفت اور طاق جو رمضان کے آخر دہائے میں ہے اور جب رات کو چلے یعنی پیغمبر چلے معراج کو۔
معلوم ہوتا ہے حضرت شاہ صاحب (رح) نے واللیل الذی یسارفیہ کے معنی اختیار کیے ہیں ترجمے میں بھی فرماتے ہیں اور رات کی جب رات کو چلے اسی اعتبار سے فرمایا یعنی پیغمبر چلے معراج کو۔ واللہ اعلم
Ayah 89:6(6) اے پیغمبر کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے پروردگار نے قوم عاد کے ساتھ کیا سلوک کیا۔
Ayah 89:7(7) جو ارم کہلاتے تھے بڑے ستونوں والے۔
Ayah 89:8(8) کہ اس جیسا کوئی شہر شہروں میں نہیں بنایا گیا۔
Ayah 89:9(9) اور ثمود کے ساتھ کیسا سلوک کیا جو وادی قری میں پہاڑوں کے پتھر تراشا کرتے تھے۔
Ayah 89:10(10) اور میخوں والے فرعون کے ساتھ کیا سلوک کیا۔
Ayah 89:11(11) ان سبھوں نے مختلف ممالک میں بڑا سراٹھا رکھا تھا۔
Ayah 89:12(12) پھر انہوں نے بکثرت ان ممالک میں فساد برپا کیا۔
Ayah 89:13(13) آخر کار آپ کے پروردگار نے ان پر عذاب کو کوڑا برسایا۔
Ayah 89:14(14) بیشک آپ کا پروردگار شریروں کی گھات میں لگا ہوا ہے - اہل مکہ کی تخویف کے لئے یہاں چند واقعات کا ذکر کیا جن کا تعلق پہلے انبیاء کے ساتھ ہے اور جنہوں نے اپنی نافرمانی کی سخت سزا پائی ہے ۔ ان میں سے ایک تو قوم عاد ہے، یہ لوگ عادبن عوص بن ارم بن سام بن نوح (علیہ السلام) ہیں ان کو عاداولیٰ بھی کہتے ہیں ان میں حضرت ہود (علیہ السلام) پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تھے لفظ ارم بڑھانے سے یہ بات معلوم ہوئی کہ یہ عاد اولیٰ ہیں اور جن کو عاد ثانیہ یا عاد اخریٰ کہتے ہیں وہ ثمود کے ساتھ مل جاتے ہیں اور ان میں حضرت صالح مبعوث ہوئے تھے۔
بہرحال ان کو ذات العماد کہا یا تو یہ بڑی بڑی اونچی عمارتیں بڑے بڑے اونچے ستونوں پر بناتے تھے یا سفر میں جو خیمے لگاتے تھے وہ بڑے بڑے ستونوں پر قائم کرتے تھے یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے قدوقامت اور ان کے قد کی لمبائی کی وجہ سے ذات عماد فرمایا ہو۔
بہرحال لم یخلق مثلھا فی البلاد سے یا تو قبیلہ مراد ہے یا عمارتیں ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اس وقت یا اس زمانے میں ایسی عجیب و غریب اور اونچی اونچی عمارتیں کسی اور شہر میں تعمیر نہ ہوئی تھیں یا یہ مطلب ہے کہ اس زمانے میں ایسے قدآور اور لمبے تڑنگے آدمی عاد ارم کے علاوہ کہیں اور نہیں پیدا کئے گئے اور ثمود جو ارم کے لڑکے عابر کی اولاد تھے۔ یہ ایک وادی میں جس کا نام وادی قریٰ ہے اس میں آباد تھے اور پہاڑوں کو کاٹ کر اور تراش کر اندر ہی اندر بڑے بڑے مکان اور حویلیاں بنا رہتے تھے چناچہ مشہور ہے کہ حجر سے لے کر وادی قریٰ تک ایک ہزار سا ت سو بستیاں ان کے زیر تصرف تھیں۔ یہ ہی ثمود ہیں جن میں حضرت صالح (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تھا ان کی بستیاں حجاز وشام کے درمیان تھیں اور ان سب میں قوم ثمود آباد تھے اور فرعون کو میخوں والا فرمایا یا تو اس کے لشکر گھوڑوں کو سونے اور چاندی کی میخوں سے باندھا جاتا تھا یا جب وہ کسی کو سزا دیتا تھا تو چاروں ہاتھ پیروں میں میخیں ٹھونک کر جو میخا کردیا کرتا تھا ان سب کو ملا کر فرمایا کہ ان سبھوں نے شہروں میں سرکشی اور طغیان کی وجہ سے سراٹھا رکھا تھا اور شہروں میں فساد برپا کررکھا تھا نہ خود پروردگار پر ایمان لاتے تھے اور نہ دوسروں کو ایمان لانے دیتے تھے اور بکثرت ان کا فساد پھیلا ہوا تھا زبردستوں پر سے قبضہ نہ ہٹاتے تھے اور ان کی آزادی کو سلب کررکھا تھا۔
سو اے پیغمبر آپ کے پروردگار نے ان پر عذاب کا کوڑا ڈالا یعنی برسایا کوڑا برسانا محاورہ ہے خوب مارنے اور تعذیب کرنے سے چناچہ ان کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا ۔ اور ان سر اٹھانے والوں اور فساد برپا کرنے والوں کو ختم کردیا گیا بیشک آپ کا پروردگار شریروں اور فساد برپا کرنے والوں کی گھات میں ہے یعنی جس طرح گھات میں رہنے والا پوشیدہ طور پر تمام حالات سے مجرم کی باخبر رہتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی بندوں کے تمام احوال و اعمال سے با خبر رہتا ہے اور اپنی مصلحت و حکمت سے جب چاہتا ہے گرفت کرلیتا ہے اور سزا دے دیتا ہے۔
Ayah 89:15(15) بس انسان کا یہ حال ہے کہ جب اس کا پروردگار اس کو جانچتا اور آزماتا ہے اور اس کو عزت اور نعمت سے نوازتا ہے تو کہنے لگتا ہے میرے پروردگار نے میری قدر کی اور میری عزت افزائی کی - یہ شاید کافر اور منکر انسان کی حالت بیان فرمائی کہ اس کی غفلت اور حب جاہ ومال کی یہ حالت ہے کہ حضرت حق تعالیٰ جب کبھی اس کو مال اور ظاہری عزت سے نوازتا ہے تو رب اکرمن یعنی میں اس سلوک کا مستحق تھا میرے رب نے میری قدر افزائی کی میرے ساتھ وہی معاملہ کیا جس کا میں حقدار تھا۔
Ayah 89:16(16) اور جب اس کا پروردگار اس کو اس طرح آزماتا ہے کہ اس کی روزی اس پر تنگ کردیتا تھا تو وہ کہنے لگتا ہے کہ میرے پروردگار نے میری توہین کی اور میری قدر گھٹا دی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی رب پر الزام رکھے اپنی فعل کی طرف نہ دیکھے۔ یعنی کافر کی حالت یہ ہے کہ اس کا مقصد صرف دنیا کا عیش اور تکلیف ہے دنیا کی آبرو عزت اور مال وجاہ کو اپنے اعمال کا بدلا سمجھتا ہے اور اس اعزاز کو اپنا استحقاق سمجھتا ہے اور بلا پر شکوہ کرتا ہے اور اپنے کو غیر مستحق سمجھتا ہے ۔
خلاصہ : یہ کہ یہاں کہ فراخی کو اپنی مقبولیت کی دلیل سمجھتا ہے اور یہاں کی تنگی کو غیر مقبولیت اور مطرودیت سمجھتا ہے پہلی حالت کو اپنا استحقاق خیال کرتا ہے اور دوسری حالت کے لئے اپنے کو غیر مستحق سمجھتا ہے۔
خلاصہ : یہ ہے کہ آخرت پر بالکل یقین نہیں رکھتا اور دنیا کو مقصود بالذات سمجھتا ہے آگے ان خیالات کا رد فرمایا کہ نہ تو دنیا مقصود بالذات ہے اور نہ یہاں کی تنگی وفراخی دلیل مقبولیت اور مطرودیت ہے اور نہ کوئی صبروشکر سے مستثنیٰ ہے یہ تو صرف بندوں کی آزمائش اور امتحان ہوتا ہے اور ان میں صرف یہی نہیں کہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے بلکہ آخرت کا انکار سے جو خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں ان خرابیوں اور ان اعمال میں بھی یہ مبتلا ہیں اور دنیا کی محبت میں اس قدر اندھے ہوگئے ہیں کہ لوگوں کے مال غضب کررہے ہیں۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 89:17(17) ہرگز ایسا نہیں بلکہ تم لوگ نہ تو یتیم کی عزت کرتے ہو۔
Ayah 89:18(18) اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو مسکین کے کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو اور ابھارتے ہو یعنی تم میں صرف اعتقاد کی خرابی اور برائی نہیں ہے بلکہ تم اعمال کے اعتبار سے نہایت بخیل اور جب مال میں ڈوبے ہوئے ہو، چناچہ تم کو نہ تو یتیم پر ہی ترس آتا ہے اور نہ اس کی عزت کرتے ہو اور نہ تم میں مسکین کو کھانا کھلانے ہی کا چرچا ہے کہ ایک دوسرے کو مسکین کے کھانا کھلانے پر ابھارو اور برانگیختہ کرو اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو ترغیب دیتے ہو کہ مسکین کو کھانا کھلائو اور اس سے بڑھ کر یہ۔
Ayah 89:19(19) کہ تم میراث کا سارا مال سمیٹ سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔
Ayah 89:20(20) اور تم لو گ مال سے بہت ہی محبت کرتے ہو - میراث جو ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) کی شریعت میں چلی آتی تھی اس میں تم نے تحریف کردی ہے لڑکیوں کو ترکے سے محروم کردیا ہے اور لڑکوں کو بھی کچھ نہیں دیتے ہو۔ اس طرح مرنے والے کے مال کو ہڑپ کرجاتے ہو اور تم مال کو اس قدر دوست رکھتے ہو کہ نہ حرام کو دیکھتے ہو نہ حلال کو بلکہ ہر قسم کا مال جمع کرنے سے مطلب رکھتے ہو پھر نہ یتیم کو کھلاتے ہو نہ مسکین کو تم نے مال کو منتہائے مقصود سمجھ رکھا ہے اصل حقیقت یہ ہے کہ تم مال سے بہت ہی محبت کرتے ہو یہاں تک کہ مردوں کا مال بھی کھاجاتے ہو، اور میراث بھی مستحقین کو نہیں پہنچاتے بلکہ جس کا موقع لگتا ہے اور جو قابو پاتا ہے وہی کھاجاتا ہے اس شریعت میں میراث کی آخری شکل مدینہ میں مقرر ہوئی۔
جیسا کہ سورة نساء میں گزر چکا ہے مگر جیسا کہ ہم نے کہا کہ میراث کا سلسلہ ملت خلیل اور اسماعیل میں بھی رائج تھا اور عرب میراث کی اہمیت کو سمجھتے تھے آگے پھر موجب للعذاب اعمال کی جزا اور مجازات کا ذکر فرماتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی حلال اور حرام نہیں پہچانتے لڑکوں کو اور عورتوں کو میراث کا حصہ نہیں دیتے ان کا مال بھی آپ ہی چکھ جاتے ہو۔
Ayah 89:21(21) ہرگز ایسا نہیں سمجھنا چاہیے جب زمین خوب کوٹ کوٹ کر برابر کردی جائے گی۔ یعنی ہرگز ایسا نہ سمجھو کہ اعمال موجبہ للعذاب نہ ہوگا یا ناجائز مال اڑانے پر کوئی حساب نہیں لیا جائے گا بلکہ ایک ایسا دن آنے والا ہے جس دن سب چیزوں کا حساب ہوگا۔ جب زمین کو خوب کوٹ کوٹ کر برابر کردیا جائے گا … اور تمام ٹیلوں اور پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کرکے زمین کو بالکل ہموار کردیا جائے گا۔ لاتری فیھا عوجاولا امتا، یہ حالت نفخہ صور کے وقت ہوگی۔
Ayah 89:22(22) اور آپ کا پروردگار پر تو فگن ہوگا اور فرشتے صفیں باندھ باندھ کر حاضر ہوں گے - یعنی حضرت حق تعالیٰ کا حکم آئے گا یا اس کی صفت قہر کی تجلی ظاہر ہوگا اور فرشتے قطار درقطار حاضر ہوں گے یعنی صفیں باندھے ہوئے کھڑے ہوں گے۔
Ayah 89:23(23) اور اس دن جہنم لائے جائے گی اس دن انسان نصیحت پکڑے گا اور اس کو سمجھ آئے گی۔ مگر اس وقت نصیحت پکڑنا اور سمجھ آنے کا موقع کہا۔ یعنی اس دن جب ایسا ہوگاتو جہنم لائی جائے گی یعنی ظاہر کی جائے گی اس وقت آدمی کو ہوش آئے گا اور اس دن سوچے گا لیکن اس دن سوچنا اس کو کیا مفید ہوسکتا ہے اور اب سوچنے کا وقت کہاں، یعنی اگر اس وقت ایمان لائے تو غیر مفید وانی لھم التنارش من مکان بعید ، کیونکہ وہ دارالجزا ہے دارالعمل نہیں۔
Ayah 89:24(24) انسان کہے گا اے کاش میں اپنی اس زندگی کے لئے کوئی نیک عمل آگے بھیج دیتا - یعنی اخروی زندگی کے لئے کچھ آگے بھیج دیتا یا یہ کہ میں اپنی اس دنیوی زندگی میں کچھ نیک اعمال آگے بھیج دیتا۔
Ayah 89:25(25) پھر اس دن نہ تو خدا کے عذاب کا سا کوئی عذاب دینے والا ہوگا۔
Ayah 89:26(26) اور نہ اس کے باندھنے اور جکڑنے کی طرح کوئی جکڑنے والا ہوگا - یعنی عذاب اور قیدو بند اللہ تعالیٰ کی مانند کوئی کسی کو نہ کرسکے گا کیونکہ قیامت کے دن سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی کسی کے عذاب کرنے پر قادر نہ ہوگا اور اس دن حضرت حق تعالیٰ کے علاوہ کسی کو کچھ بھی اختیار نہ ہوگا یا یہ مطلب یہ ہو کہ دنیا میں کسی کو کسی نے ایسا عذاب نہ کیا ہوگا اور نہ کسی کو ایسی قید اور سخت بندش سے باندھا ہوگا جیسا اس دن اللہ تعالیٰ کافر کو عذاب کرے گا اور قید وبند میں جکڑے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جسمانی عذاب بھی دے گا اور روحانی عذاب بھی دے گا اور وہ اس دن انتہائی حسرت و ندامت اور پشیمانی میں مبتلا ہوگا۔
کہتے ہیں یہ آیت امیہ بن خلف مشہور کافر کے حق میں نازل ہوئی ہے آگے نیک اور مومن بندوں کو خطاب ہے۔
Ayah 89:27(27) اے اطمینان و سکون یافتہ روح۔
Ayah 89:28(28) تو اس شان سے اپنے پروردگار کی طرف چل کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔
Ayah 89:29(29) پھر تو میرے خاص بندوں میں شامل ہوجا۔
Ayah 89:30(30) اور میری بہشت میں جاداخل ہو - یہ خطاب خود حق تعالیٰ فرماتے ہیں یا فرشتے حاضر ہوکر کہتے ہیں نفس امارہ اور لوامہ کا ذکر سورة یوسف اور سو رہ قیامت میں گزر چکا ہے، یہاں نفس مطمئنہ سے مراد وہ شخص ہے جس کو امر حق پر پختہ یقین تھا اور جس کی گردن اللہ کی اطاعت اور اس کے امر کے سامنے جھکی رہتی تھی یا ذکر الٰہی سے اس کا قلب مطمئن تھا ایمان پر ثابت تھا اور اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتا تھا۔
بہرحال اے نفس مطمئنہ اپنے پروردگار کے قرب اور اس کے جوار رحمت میں چل اور اگر یہ خطاب مرتے وقت ہو جیسا کہ علماء نے فرمایا تو مطلب یہ ہے کہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل دراں حالیکہ وہ تجھ سے راضی اور تو اس سے راضی ، علماء فرماتے ہیں تین احتمال مرتے وقت یہ خطاب ہوتا ہے یا قبروں سے نکلتے یا میدان حشر میں حساب سے فارغ ہونے کے بعد وہ تیری طاعت و فرمانبرداری سے خوش اور تو اس کی بیکراں شفقت ورحمت سے خوش۔
حضرت مجاہد فرماتے ہیں نفس مطمئنہ وہ شخص ہے جو قضائے الٰہی پر راضی رہتا تھا اس کو یہ خطاب ہوگاحق تعالیٰ کا یہ خطاب ایسا ہی ہے جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خطاب فرمایا تھا پھر میرے مخصوص بندوں کی جماعت میں داخل ہو جیسا کہ پیغمبروں کی دعا میں آتا ہے۔ وادخلنی برحمتک فی عبادل الصلحین۔ یہ بھی بڑی مہربانی ہے کہ انسان کو اس کے احباب کے ساتھ جمع کردیا جائے اور میری جنت میں داخل ہوجا۔
کہتے ہیں حضرت حمزہ ابن عبد المطلب ؓ یا حبیب بن عدی الانصاری یا حضرت عثمان ؓ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا یہ آیت صدیق اکبر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ آیت میں تینوں احتمال ہیں لیکن زیادہ مناسب مرنے کے وقت یہ خطاب معلوم ہوتا ہے اور زیادہ اقرب یہ ہے کہ تینوں موقع پر یعنی مرتے وقت قبروں سے نکلتے وقت اور حساب سے فارغ ہونے کے بعد اس خطاب سے نوازا جائے گا۔ واللہ اعلم
تم تفسیر سورہو الفجر