Ayah 90:1(1) میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی یعنی مکہ معظمہ کی۔
Ayah 90:2(2) اور آپ کو قید نہ رہے گی اس شہر میں - یہ جملہ معترضہ کے طور پر فرمایا اور پیشین گوئی فرمائی کہ آپ کو کسی کے قتل کرنے اور لڑائی کرنے کی ممانعت اس شہر میں نہ رہے گی بلکہ اس شہر میں آپ کو جنگ حلال ہونے والی ہے جیسا کہ فتح مکہ کے روز ہوا۔ اور آپ کے لئے حرم کے احکام باقی نہ رہے۔ اور بعض ایسے کافروں کو آپ کے حکم سے قتل کیا گیا جو کعبہ کے پردے میں چھپے ہوئے تھے۔
بعض حضرات نے وانت حل کا ترجمہ نازل ہونے یا داخل ہونے والے کیا ہے یعنی میں اس شہر مکہ کی قسم کھاتا ہوں جس میں آپ فاتحانہ داخل ہونے والے ہیں یا میں اس شہر مکہ کی قسم کھاتا ہوں حالانکہ آپ اس میں پیدا ہوئے اور آپ اس شہر میں مقیم ہیں۔
اس میں شاید اس بات کا اشارہ ہو کہ آپ جیسے محترم مکین کے نزول اجلال کی وجہ سے یہ مکان اور یہ شہر قابل احترام اور لائق قسم ہوا یعنی جس دیس میں آپ رہتے ہیں اس دیس کی قسم۔
کعبہ راز یمن قدوم توصد شرف
ذی مروہ راز مقدم پاک تو صد صفا
بطحاز نور طلعت تو یافتہ فروغ
یثرب زخاک پائے توبا رونق وبہا
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہتے ہیں لڑائی قید ہے ہر شخص کو یعنی وہاں کوئی لڑائی نہیں کرتا مگر حضرت کو فتح مکہ کے دن قید معاف ہوئی تھی جو کوئی آپ سے لڑا اس کو مارا پھر وہی قید قائم ہے قیامت تک۔ آگے پھر بعض چیزوں کی قسم کھائی چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 90:3(3) اور قسم کھاتا ہوں باپ کی اور اس کی جو باپ سے پیدا ہوا - یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) اور اولاد آدم (علیہ السلام) کی قسم کھاتا ہوں، بعض نے والد سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مراد لئے ہیں۔ اور ماولد سے مراد ذریت آدم (علیہ السلام) یا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مراد ہیں، بعض کا قول ہے والد سے مراد حضرت محمد ﷺ اور ماولد سے آپ کی امت مراد ہے۔ واللہ اعلم۔
قول راجح پہلا قول ہے آگے قسم کا جواب ہے۔
Ayah 90:4(4) کہ انسان کو ہم نے بڑی محنت اور مشقت میں رہنے والا بنایا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ساری عمر محنت میں رہے خالی کبھی نہیں۔
خلاصہ : یہ ہے کہ حرارت ، بردوت، رطوبت، یبوست کا مجموعہ ہر وقت کسی نہ کسی تکلیف میں مبتلا رہتا ہے اخلاط کی کشمکش میں گھرا رہتا ہے ، کبھی سر میں درد کبھی دانتوں میں تکلیف کبھی پیٹ میں درد ، پھر اپنے اور پرایوں کا دکھ اور تکلیف ، پھر بیماری اور مرض الموت ، پھر مرنا اور قبر کی وحشت پھر میدان حشر کی صعوبات ۔ غرض انسان کی بناوٹ اور زندگی کیا ہے ایک مجموعہ رنج والم ہے اور مشقت و محنت اور گوناگوں تکالیف کا گہوارہ ہے۔
اس کو فرمایا لقد خلقنا الانسان فی کبد بعض حضرات نے کبد کی تفسیر استوا اور اعتدال سے کی ہے اور یہ معنی کئے ہیں کہ انسان کو ہم نے معتدل القامت بنایا ہے بخلاف دوسرے حیوانات کے بہرحال علماء نے سابقہ معنی کو ترجیح دی ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ کفار کے ہاتھوں سے جو اذیت اور مشقت جھیلتے تھے اس کے متعلق آپ کو ایک گونہ تسلی اور کفار کو من وجہ تو بیخ مقصود ہے آگے اس توبیخ کا اظہار ہے۔
Ayah 90:5(5) کیا وہ انسان یہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابونہ پاسکے گا۔ یعنی شاید یہ سمجھتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر ہوگیا ہوں کہتے ہیں اس سے مراد ولیدبن مغیرہ ہے بعض نے کہا اس سے مراد ابی الاشدا سید بن کلدہ ہے جو بہت قد اور پہلوان تھا۔
بہرحال حضرت حق تعالیٰ نے تنبیہہ فرمائی کہ اپنی قوت اور دولت کے زعم میں پیغمبر کو ستاتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ میں قدرت خداوندی سے خارج ہوں اور پیغمبر کی اذیت اور ناجائز مشرکانہ رسوم پر خرچ کرکے۔
Ayah 90:6(6) کہتا پھرتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال خرچ کرڈالا - حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شادیوں میں، ماتموں میں نام کی جگہوں میں مال خرچ کرنے کو بڑائی گنتا ہے اور خرچ کرنے کی جگہ اور ہے۔
خلاصہ : یہ کہ نیک کاموں پر خرچ کرنے کے بعد بھی بڑائی نہیں کرنی چاہیے چہ جائے کہ پیغمبر کے خلاف مال خرچ کرکے اور مراسم کفریہ پر مال خرچ کرکے یہ بڑائی کرتا پھرتا ہے۔
Ayah 90:7(7) کیا وہ یہ سمجھتا ہے اس کو کسی نے دیکھا نہیں - یعنی اللہ تعالیٰ دیکھتا اور جانتا ہے کہ اس نے کس کام میں خرچ کیا پھر جس قدر یہ بتاتا ہے اس قدرخرچ بھی نہیں کیا تو یہ جھوٹا اور شیخی خوروہ اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی قدرت سے بےنیاز ہوکر یہ باتیں کرتا ہے آگے اپنے احسانات اور منن پر توجہ دلاتے ہیں۔
Ayah 90:8(8) کیا ہم نے اس کو دو آنکھیں۔
Ayah 90:9(9) اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیئے۔
Ayah 90:10(10) اور ہم نے اس کو دونوں راستے اور دونوں راہیں دکھادیں اور بتلا دیں - یعنی دیکھنے کو دو آنکھیں اور بولنے اور مانی الضمیر کو ظاہر کرنے کے لئے ایک زبان اور منہ کی خوبصورتی اور منہ کو بند رکھنے اور خارجی اثرات سے بچانے کے لئے دو ہونٹ نہیں بنائے۔ یہ تو ظاہری آراستگی اور برے بھلے کی تمیز کا سامان ہوا۔
پھر دونوں راہیں بتادیں یعنی خیر وشر، حق و باطل ہدایت و ضلالت کے دونوں راستے یا ماں کی دونوں چھاتیاں دودھ حاصل کرنے اور دودھد پینے کو نہیں بنائیں، کما قالہ ابن عباس ؓ
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کفر اور ایمان یا دودھ کے دو پستان۔
خلاصہ : یہ کہ ان تمام باتوں کا تقاضا یہ تھا کہ انسان مضر چیزوں سے بچتا اور نفع دینے والی چیزوں کو اختیار کرتا مگر۔
Ayah 90:11(11) باوجود ان نعمتوں کے وہ دین کی گھاٹی میں سے ہوکر نہ نکلا۔
Ayah 90:12(12) اور اے پیغمبر آپ کو کچھ معلوم ہے کہ گھاٹی کیا ہے - عقبہ اس پہاڑ کی گھاٹی کو کہتے ہیں جس کو عبور کرنا اور جس سے گزرنا دشوار ہوتا ہے۔ اقتحام کے معنی داخل ہوجانے اور ہمک کر اس دشوار راستے میں داخل ہوجانے کے ہیں۔ یہاں مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنا مال ایسی راہ میں کیوں خرچ نہیں کیا جس سے وہ گھاٹی اس پر سہل اور آسان ہوجاتی ۔ یعنی انفاق فی سبیل اللہ اور دین کا اور نجات کا راستہ کیوں اختیار نہیں کیا۔
حضرت حسن اور مقاتل نے فرمایا کہ نفس کی مخالفت اور شیطانی وساوس کا مقابلہ اور اس راہ میں مشقت اٹھانے کو اللہ تعالیٰ نے گھاٹی سے تعبیر کیا ہے دین کے کاموں کو اس لئے گھاٹی فرمایا کہ یہ امورنفس پر شاق ہوتے ہیں۔ ہمکنا اردو کا ایک پرانا محاورہو ہے یعنی طبیعت کی رغبت سے کسی چیز کو حاصل کرنے کو بڑھنا عام طور سے چھوٹ شیر خوار بچہ جب گود میں آنے کو ہاتھ بڑھاتا اور اچھلتا ہے تو اس کو ہمکنا بولتے ہیں گھاٹی کی اہمیت کو ظاہر کرنے کے لئے سوال فرمایا۔ وما ادرک ما العقبہ یعنی آپ کو کیا معلوم کہ وہ گھاٹی کیا ہے یعنی دین کی گھاٹی یا قیامت کی وہ گھاٹی جس کا عبور کرنا بدون ان اعمال کے مشکل ہوگا آگے ان اعمال کا ذکر فرمایا جن میں بظاہر مشقت اور تکلیف ہے لیکن ان اعمال سے قیامت کے دن تمام دشوار تر گھاٹیاں آسان ہوجائیں گی۔
Ayah 90:13(13) وہ کسی کی گردن کو بندگی کی قید سے آزاد کردینا اور چھڑا دینا ہے۔
Ayah 90:14(14) یا بھوک کے دن کھانا کھلا دینا۔
Ayah 90:15(15) کسی قرابت دار یتیم کو۔
Ayah 90:16(16) یا کسی خاک افتادہ و مسکین کو فک رقبۃ اپنے کسی غلام یا لونڈی کو خود آزاد کردینا یا کسی دوسرے سے آزاد کرادینا کسی مکاتب کا روپیہ ادا کرکے اس کو آزاد کرادینا یا کسی کا خوں بہا ادا کرکے قصاص اور قتل سے آزاد کرادینا یا کسی قیدی کا جرمانہ ادا کرکے اس کو قید سے آزاد کرادینا۔ یا کسی مقروض کا قرضہ ادا کرکے اس کو سبکدوش کردینا یوم ذی مسغبۃ بھوک اور فاقے کے دن زمانہ قحط میں یتیم کے ساتھ ذامقربہ کی قید لگائی چونکہ قرابت دار کا حق مقدم ہے مسکین کو ذامتربہ فرمایا تاکہ معلوم ہو کہ اس کا فقرانتہاکو پہچا ہوا ہو اور خاک پر پڑا ہو کوئی اس کا اٹھانے والا اور کھانا کھلانے والا نہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بردہ آزاد کرنا یا قرض دار کو خلاص کروانا یتیم کا ایک حق ناتے دار کا ایک حق جو دونوں ہوئے تو دو حق ہوئے۔
اب آگے ایمان کا ذکر فرماتے ہیں کیونکہ تمام اعمال نیک کی قبولت کا مدار ایمان پر ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 90:17(17) پھر وہ ان لوگوں میں سے بھی ہوا جو ایمان لائے اور ایک دوسرے کو ثابت قدم رہنے کی تاکید اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی فہمائش کرتے رہے - یعنی اگر یہ مذکورہ بھلائیاں کرنے والا ان لوگوں میں سے ہو جو ایمان لائے اور ایک دوسرے کو صبر علی الطاعات اور مخلوق پر شفقت و رحم کی تاکید اور تقید کرتے رہے تو یہ نیکیاں ان کو نفع دیں گی۔ اور گھاٹی کا گزر جانا اور عبور کو لینا آسان ہوگا۔ ورنہ یہ تمام مذکورہ بھلائیاں بیکار اور اکارت ہوجائیں گی اور ان کے لئے نفع بخش نہ ہوں گی اور یہ گھاٹی عبور نہ کرسکیں گے۔
وتواصوا بالصبر کا مطلب یہ ہے کہ ادائے فرض اور تمام اوامرالٰہی اور نواہی پر ثابت قدم اور صبر کے ساتھ قائم رہیں اطاعت میں جو تکلیف اور گناہوں سے بچنے میں جو کلفت ہوتی ہے اس کو برداشت کریں اور ایک دوسرے پر رحم کریں اور خدا کی مخلوق پر رحم کرنے کی تقید کرتے رہے اور ترک ظلم کی فہمائش کرتے رہے۔
Ayah 90:18(18) یہی لوگ صاحب نصیب اور دائیں جانب والے ہیں - یعنی بڑے خوش نصیب وہ ہیں جن کے نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھوں میں دیئے گئے اور بیٹھنے کو دائیں جانب جگہ ملی۔ تفصیل سورة واقعہ میں گزر چکی ہے یہاں عام مومنین مراد ہیں عوام ہوں یا خواص یعنی جن لوگوں نے اوامرالٰہی کی تعظیم کی اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ شفقت کا برتائو کیا آگے منکرین کا بیان ہے۔
Ayah 90:19(19) اور جو لوگ ہماری آیتوں کے منکر ہوئے وہ بدبخت اور بائیں جانب والے ہیں - یعنی وہ کفر کی وجہ سے بدبخت اور اصحاب الشمال ہیں قیامت میں ان کو بائیں جانب جگہ دی جائے گی۔
Ayah 90:20(20) ان پر چاروں طرف سے بند کی ہوئی آگ مسلط ہوگی - یعنی ایسی آگ جو چاروں طرف سے بند ہوگی۔ مطلب یہ ہے کہ دوزخ کے دروازے سب طرف سے بند ہوں گے دوزخ میں داخل کرکے دروازے بند کردیئے جائیں گے نہ اندر ہوا جاسکے اور نہ اہل نار باہر نکل سکیں۔
تم تفسیر سورة البلد