Ayah 91:1(1) قسم ہے آفتا کی اور اس آفتاب کی روشنی اور دھوپ کی۔
Ayah 91:2(2) اور قسم ہے چاند کی جب وہ آفتاب کے پیچھے آئے۔
Ayah 91:3(3) اور قسم ہے دن کی جب وہ آفتاب کے خوب نمایاں اور روشن کردے۔
Ayah 91:4(4) اور قسم ہے رات کی جب و ہ آفتاب اور اس کے انوار کو بالکل چھپالے۔ ضحا ضحوہ اور ضح سب کے معنی روشنی کے ہیں بعض نے دھوپ اور بعض نے گرمی ترجمہ کیا ہے مگر مطلب سب کا ایک ہی ہے اور مراد یہ ہے کہ جب آفتاب بلند ہوجائے اور اس کی روشنی اور دھوپ پھیل جائے، چاند کی روشنی چونکہ آفتاب کے غروب کے بعد ہوتی ہے اور چاند غروب آفتاب کے بعد نمایاں ہوتا ہے اور نیز چاند کی روشنی مستفاد ہے۔
آفتاب کے نور سے اس لئے فرمایا اذاتلہا چونکہ آفتاب کی حرارت اور چاند کی برودت کو کھیتوں کے تیار ہونے اور پھلوں کے پکنے اور میٹھا ہونے میں بڑا دخل ہے اس لئے ان کی قسم کھا کر مخلوق کو متوجہ فرمایا ہے مزرعہ آخرت کی جانب کیونکہ دنیا کی زندگی آخرت کی کھیتی ہے۔
ہوسکتا ہے کہ آفتاب سے نور نبوت اور ماہتاب کی چاندی سے نور ولایت کی طرف اشارہ ہو۔
(کما قالہ الشاہ مولانا عبدالعزیز دہلوی)
بہرحال ! والقمر اذا تلٰہا سے خواہ پچھلی رات کا ہلال ہو یا ایام بیض کا چاند ہو، یا چاند کی ابتدائی راتیں مراد ہوں تابعیت اور پیچھے آنا ظاہر ہے ادھر آفتاب غروب ہوا اور چاند کی روشنی اور چاندنی ظاہر ہوئی اور قسم ہے دن کی جب وہ اس سورج کو خوب روشن کردے۔ عام مفسرین نے جلٰہا کی ضمیر کا مرجع آفتاب کو ٹھہرایا مگر بعض نے ظلمت اور زمین وغیرہ کی طرف راجع کیا ہے، اگرچہ ان چیزوں کا ذکر اوپر نہیں آیا مگر ان کی شہرت کی وجہ سے ان کو مرجع قرار دے لیا ہے ۔ بہرحال یہاں اسناد مجازی ہے نیز مقلوبی طور پر یہاں دن کو روشن کرنے والا فرمایا چونکہ دن کا زمانہ عقل اور وہمی دونوں وجہوں کے اعتبار سے آفتاب کو روشن کرتا ہے اس لئے روشن کرنے کی نسبت دن ہی کی طرف فرمائی۔
اور قسم ہے رات کی جب وہ آفتاب کو چھپالے یعنی اس کی روشنی اور آفتاب کے انوار کو بالکل چھپالے یہاں بھی اسناد مجازی ہے۔
Ayah 91:5(5) اورقسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بنایا۔
Ayah 91:6(6) اورقسم ہے زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا۔
Ayah 91:7(7) اور قسم ہے انسان جان کی اور اس کی جس نے اسے ٹھیک بنایا - آسمان کی قسم اور اس کی قسم جس نے اپنی حکمت اور اپنی خالقیت سے اس کو بنایا اور محیط کیا اور زمین کی قسم اور اس کی قسم جس نے اپنی حکمت کے موافق اس کو بچھایا اگر ھا کو مصدر یہ لیا جائے جیسا کہ بعض کا قول ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ والسماء وبناء ھا والارض وبسطھا و سطحبھا علی الماء نفس سے مراد خواہ جس انسانی ہو خواہ قوت مدبرہ ہو مطلب یہ ہے کہ حواس ظاہری اور باطنی اور قوائے طبیعیہ نفسانیہ سب سے اس کو مزین و آراستہ کیا یعنی جسم کی ساخت اور بناوٹ میں بھی اعتدال اور مزاج میں بھی اعتدال قوت مفکرہ اور مخلیہ غرض ہو تمام قوتیں عطا فرمائیں جو کسی جاندار کو مکلف بنانے کے لئے کافی ہیں چونکہ ان قوی کی تکمیل تکلیف اور مکلف بنانے کے لئے ہے اسی لئے صاحب خازن نے اس سے تمام مکلفین انسان وجنات مراد لئے ہیں۔
Ayah 91:8(8) پھر اس کو اس کی بدکرداری اور تقویٰ و پرہیزگاری سے آگاہ کیا - حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا اس کے لئے خیر اور شر کو بیان کردیا طاعت اور معصیت اس کو تعلیم کردی اور یہ سکھا دیا کہ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے ۔ مطلب یہ ہے کہ عقل سلیم اور فطرت صحیحہ اول تو خود ہی اس باب میں رہنما ہے اور وہی بھلی بری بات سمجھاتی ہے پھر انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بھیج کر مزیدکرم فرمایا اور برائی اور بھلائی میں فرق بتادیا اور نہایت واضح طور پر انبیاء ومرسلین نے نیکی اور بدی کا راستہ دکھادیا، پھر قلب میں جو نیکی کا رجحان یابدی کا میلان ہوتا ہے تو نیکی کا الہام بواسطہ فرشتہ اور بدی کا القاب واسطہ شیطان ہوتا ہے۔
بہرحال جب یہ کیفیت پیدا ہوتی ہے اور بندہ نیکی یا بدی کا عزم کرلیتا ہے کیونکہ بنی آدم کے تمام افعال اس کے ارادے اور نفس کے داعیہ سے ہوتے ہیں پس جب عزم تک نوبت پہنچ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس فعل کو خلق فرمادیتا ہے اور بندہ اس کا کسب کرتا ہے اور جب بندہ کسب کرلیتا ہے تو اس کسب کی وجہ سے سزاوجزا کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اسی کو قرآن نے لفظ الہام سے تعبیر کیا ہے مسئلے کے……بہت سے گوشے ہم نے بہ خوف تطویل چھوڑ دیئے ہیں، مزید تفصیل تفسیر عزیزی سے معلوم ہوسکتی ہے۔ علمائے مفسرین کے اور بھی کئی اقوال ہیں مگر ہم نے عبداللہ بن عباس کے قول پر شرچ کی ہے تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو۔
اور جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ ایک طرف بھلے اور برے کو سمجھنے کا وقوف دیا، دوسری طرف برائی سے بچنے اور بھلائی کو حاصل کرنے کے لئے اعضا میں قوت وقدرت عطا فرمائی تو اس بنا پر آگے فرمایا۔
Ayah 91:9(9) مذکور بالا اشیاء کی میں قسم کھا کر کہتا ہوں کے بیشک وہ شخص مراد کو پہنچا جس نے اس نفس کو پاک رکھا۔
Ayah 91:10(10) اور وہ شخص نامراد ہوا جس نے اس نفس کو گناہوں میں دبا دیا - نفس کا تزکیہ یہی کہ شہوانی اور غضبی حملوں سے اس کو محفوظ رکھا اور شیطانی القا کا مقابلہ کرے اور ہر موقعہ پر غضب اور شہوت کی طاقتوں کو ناکام بنائے اور انپی عقل کو شریعت الٰہیہ کا تابع کردے اس سے نفس کی تطہیر اور تزکیہ ہوتا ہے اور ایسا شخص اپنے مقصد میں کامیا اور فائزالمرام ہوتا ہے اور جو شخص عقل کو غضب اور شہوت کے ماتحت کردے اور خواہشات کا بندہ بن جائے اور فسق وفجور میں نفس کو دبا دے تو سمجھو اس نے نفس کو خاک میں ملادیا اور خاک میں دبا دیا اور ایسا شخص ناکام ونامراد ہوا۔
اسی سلسلے میں آگے قوم وثمود کی تباہی کا ذکر فرمایا کیونکہ گناہوں کی کثرت اور نفس کو گناہوں میں دیا دینے کا نتیجہ عذاب اور ہلاکت و بربادی ہے خواہ وہ دنیا میں ہو یا آخرت میں یا دونوں جگہ۔
اہل تفسیر نے قدافلح من زکہا وقدخاب من دشہا کو جواب قسم کہا ہے قسمیں ایسی اشیاء کی کھائی تھیں جو ایک دوسرے سے مختلف تھیں مثلاً سورج کا کام چاند سے مختلف تھا، رات اور دن آپس میں مختلف تھے آسمان کی جہت زمین کی جہت سے مختلف ہے اسی طرح فجور اور تقویٰ بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور تزکیہ اور تدسیس بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں جواب قسم کو قسموں کے ساتھ ایک نسبت ہے کہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ فجور کے نتائج کے اعتبار سے آگے حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر فرمایا۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 91:11(11) قوم ثمود نے اپنی سرکشی اور شرارت کے سبب حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی - حضرت صالح (علیہ السلام) کا واقعہ قرآن کریم میں کئی جگہ گزر چکا ہے یہاں محض عبرت کے لئے بہت مختصر بیان فرمایا۔
Ayah 91:12(12) جب کہ اس قوم میں جو سب سے زیادہ بدبخت تھا وہ اٹھ کھڑا ہوا - یعنی جو اونٹنی بطور معجزہ حضرت صالح (علیہ السلام) کو دی گئی اور جس کی حفاظت کا سخت حکم تھا اس اونٹنی کو قتل کرنے کے لئے قذار بن سالف جو اشقی قوم کا تھا وہ کھڑا ہوگیا۔
Ayah 91:13(13) اس پر اللہ کے پیغمبر حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی سے اور اس کے پانی پینے کی باری سے خبردار رہنا - اونٹنی چونکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک نشان تھا اس لئے اس کی شرافت کی وجہ سے اس کو ناقتہ اللہ کہا جیسے کعبہ کو بیت اللہ کہتے ہیں، یہ تشریفی اضافت ہے اور چونکہ پانی کے لئے جو باری مقرر تھی وہ باری کا تقرر ہی قوم کی ناگواری کا سبب تھا اس لئے اس کو تصریحاً فرمایا۔ وسقیھا مطلب یہ تھا کہ اونٹنی کو اور اس کی باری کو کوئی نقصان نہیں پہنچانا ورنہ تم کو خدا کا عذاب گھیر لے گا۔
Ayah 91:14(14) اس پر بھی انہوں نے پیغمبر یعنی حضرت صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور اس اونٹنی کو کاٹ ڈالا پھر ان کے پروردگار نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ان پر سخت ہلاکت نازل فرمائی اور اس ہلاکت کو سب پر یکساں کردیا - یعنی ہلاکت کو سب پر عام کردیا نہ کوئی صغیر بچا نہ کبیر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عذاب میں سب کو برابر کردیا اور سب کو مٹا دیا ہم نے صاحب مدارک سے لیا ہے۔
Ayah 91:15(15) اور اللہ تعالیٰ کو قوم وثمود کی ہلاکت کے انجام سے ذرا اندیشہ نہیں ہوا اور وہ نہیں ڈرتا پیچھا کرنے سے۔ یعنی جس طرح دنیوی بادشاہ ڈرتے ہیں کہ کسی کو سزا دینے سے ہمارے ملک میں بغاوت ہوجائیگی یا مقتول کے حمایتی کھڑے ہوجائیں گے اور ہمارا پیچھا کریں گے۔
اس آیت کی تفسیر اور بھی کئی طرح کی گئی ہے لیکن عبداللہ بن عباس ؓ سے یہی معنی مروی ہیں۔
نبی کریم ﷺ اس سورت کے بعد قدافلح من زکھا کی مناسبت سے فرمایا کرتے تھے۔
اللھم انی اعوبک من العجز والکسل والبخل والھم و عذاب القبر اللھم اب نفسی تقوھا
وزکھا انت خیر من زکھا انت ولیھا ومولھا ۔
اللھم انی اعوبک من علم لا ینفع ومن قلب لا یخشع
ومن نفس لا تشبع ومن دعوۃ لا یستجاب لھا۔
تم تفسیر سورة الشمس