Ayah 92:1(1) قسم کھاتا ہوں رات کی جب وہ ڈھانک لے - یعنی دن اور آفتاب کو یہ وقت تمام حیوانات کے سکون کا وقت ہوتا ہے ہر قسم کی حرکت اور ہر قسم کا اضطراب بند ہوتا ہے دن کی تمام چہل پہل اور کاروبار بند ہوتا ہے فاسق کو اپنے فسق وفجور کا موقعہ ملتا ہے اور ایک نیک اور عبادت گزار کو عبادت کا موقعہ میسر آتا ہے۔
Ayah 92:2(2) اوردن کی قسم جب وہ خوب روشن ہوجائے - یعنی تاریکی کے بعد روشنی آجائے اور خلق میں حرکت شروع ہوجائے معاش کے لئے اور طلب رزق کے لئے۔
Ayah 92:3(3) اور اس ذات کی قسم جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا - یعنی حضرت حق تعالیٰ کی ذات مراد ہے نر مادہ سے آدم وحوا مراد ہیں اور ہوسکتا ہے کہ جملہ حیوانات کے نرومادہ مراد ہوں۔ آگے قسم کا جواب ہے۔
Ayah 92:4(4) کہ بلا شبہ تمہاری مساعی اور کوششیں مختلف ہیں - یعنی تمہارے اعمال اور نیز ان کے ثمرات مختلف ہیں کوئی دائمی عذاب کا مستحق ہوتا ہے کوئی ان اعمال سے دائمی راحت و آرام حاصل کرتا ہے ۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا، کل الناس یغدوانبائع نفس فمعتقھا او مربقھا ، یعنی ہر انسان صبح کرتا ہے اس حال میں کہ اپنے نفس کو خرچ کرتا ہے پھر یا تو اس کو آزاد کرالیتا ہے یا اس کو ہلاک کردیتا ہے، یعنی مختلف اعمال کی وجہ سے کوئی تو عذاب سے اپنی جان کو آزاد کرالیتا ہے اور کوئی برے عمل کرکے اس جان کو ہلاکت میں ڈال دیتا ہے ، آگے تفصیل ہے۔
Ayah 92:5(5) پس جس نے دیا اور وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہا۔
Ayah 92:6(6) اور بھلی بات کی یعنی ملت اسلام کی تصدیق کی - یعنی جس شخص نے اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہا یعنی ہرنامناسب بات سے بچتا رہا اور بھلی بات کی تصدیق کی یعنی ملت اسلام کی عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا ، لا الہ الا اللہ کی تصدیق کی یا اس امر کی تصدیق کی کہ خیرات کرنے والے کو اللہ تعالیٰ اس کے مال کا بدل اور خلیفہ عطا فرماتا ہے یعنی اس کا یقین رکھتا ہے کہ جو مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا ثواب عطا فرماتا ہے۔
Ayah 92:7(7) تو ہم اس کو آسان چیز کے لئے آسانیاں بہم پہنچائیں گے - یعنی ہم ایسے شخص کے لئے آسانی کی راہ یعنی دین کو آسان کردیں گے اور نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں گے اور نیک عمل کے واسطے سے بتدریج اس کو جنت میں پہنچا دیں گے جو حقیقی یسر اور آرام و راحت کا محل ہے جس کو نیک عمل آسان ہو اور جس کو نیکی کی توفیق عطا فرمائی تو اس پر تمام اثرات اچھے اور بہتر مرتب ہوتے چلے جاتے ہیں۔
اسی کو فرمایا فسنیسرہ للیسریٰ
Ayah 92:8(8) اور جب شخص نے مال خرچ کرنے میں بخل کیا اور بےپروائی برتی - یعنی خدا تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری اور طاعت الٰہی سے بےپروائی برتی۔
Ayah 92:9(9) اور بھلی بات یعنی ملت اسلام کی تکذیب کی - ملت اسلام یعنی لا الہ الا اللہ کو جھٹلایا اللہ تعالیٰ کے وعدے ثواب اور جنت کی تکذیب کی جیسا کہ عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا۔
Ayah 92:10(10) تو ہم اس کو سخت تکلیف دینے والی چیز کے لئے سامان مہیا کردیں گے - یہاں تکلیف سے بدعمل اور بواسطہ بدعمل دوزخ مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو دین کی تکذیب کرے گا اس کا دل روز بروز سخت ہوجائے گا نیکی کی توفیق سلب ہوتی جائے گی اور آخر کار بتدریج دوزخ میں پہنچا دیاجائے گا جو انتہائی مشقت اور تکلیف کا محل ہے یہی عادت اللہ اور طریقہ الٰہی ہے کہ نیک لوگوں کے لئے نیکی کا اور اشقیا کے لئے وہ راستہ جو وہ اختیار کریں آسان کردیا جاتا ہے نیک بندوں کو سرپرستی کی جاتی ہے اور بروں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
جیسا کہ ووالمحصنت میں گزر چکا ہے نولہ مالولی اور سورة بنی اسرائیل میں گزر چکا ہے کلا یمد ھولاء وھوالاء سنت اللہ یوں ہی جاری ہے فکل میسر لما خلق لہ ہر شخص کو وہی چیز آسان کردی جاتی ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے بہرحال جو مال میں سے حقوق واجبہ ادا نہ کرے اسلام کی تکذیب کرے اللہ تعالیٰ سے بےپروائی برتے تو اس کے لئے سوائے عسرٰی کے اور کیا ہے۔
سامان مہیا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے کام میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی اور زبردستی نہیں روکا جائے گا۔
Ayah 92:11(11) اور جب وہ ہلاک ہونے لگے گا تو اس کا مال اس کے کچھ کام نہ آئے گا - اس کی ہلاکت کے وقت سے مراد یا تو موت ہے یا جہنم میں جانا ہے۔ بہرحال اس کی بربادی کے وقت اس کا مال اس کے لئے مفید ثابت نہ ہوگا یعنی اسی بخیل مذکور کے لئے۔
Ayah 92:12(12) بلا شبہ ہمارے ذمے راہ کا بتادینا - یعنی ہم نے اپنے فضل اور اپنے احسان سے یہ بات اپنے ذمے پر لے لی ہے کہ نیک اور بدراہ تم کو سمجھا دیں اور بھلائی اور برائی کا فرق بیان کردیں اور جو شخص دنیا میں جو راہ اختیار کرے اس کے موافق اس سے برتائو کریں۔
Ayah 92:13(13) اور ہمارے ہی قبضے میں ہے وہ عالم اور یہ عالم - یعنی آخرت اور دنیا مطلب یہ ہے کہ وہاں ہماری حکومت ہے اور یہاں بھی ہماری بادشاہی ہے اسی حکومت کی بنا پر اس عالم میں احکام جاری فرماتے ہیں اور اسی بادشاہت کی بنا پر اس عالم میں احکام بجا لانے والوں کو صلہ اور نافرمانی کرنیوالوں کو سزا دیتے ہیں۔
Ayah 92:14(14) پس میں نے تم کو ایک بھڑکتی اور شعلہ مارنے والی آگے سے ڈرادیا ہے۔
Ayah 92:15(15) کہ اس میں سوائے اس بدبخت کے اور کوئی داخل نہ ہوگا۔
Ayah 92:16(16) جس نے دین حق کو جھٹلایا اور روگردانی کی - یعنی بھڑکتی اور دہکتی ہوئی آگ سے اے اہل مکہ میں نے تم کو ڈرادیا ہے شاید لظیٰ سے دوزخ کا وہ طبقہ مراد ہو جس میں بدترین قسم کے مجرموں کو رکھا جائے گا اس آگ میں بجز اس بدبخت کے اور کوئی ہمیشہ کے لئے داخل نہیں ہوگا جس نے دین حق کی تکذیب کی اور جو دین حق کو قبول کرنے سے روگردانی کرتا رہا اور آخر دم تک قبول نہ کیا۔
Ayah 92:17(17) اور اس بھڑکتی ہوئی آگ سے اس شخص کو دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہے۔
Ayah 92:18(18) وہ ایسا ہے جو اپنا مال محض اس غرض سے خدا تعالیٰ کی راہ میں دیتا ہے کہ وہ اپنے کو پاک کرے یعنی اس آگ سے وہ شخص محفوظ رہے گا اور دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہے اس کی غرض اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنے سے محض یہ ہوتی ہے کہ اس کا دل پاک ہو اور وہ اپنے کو پاک کرلے اور گناہوں سے پاک ہوجائے یعنی خرچ کرنے سے مقصدرہا اور دکھاوا یا کسی کا بدلا اتارنا نہیں ہوتا جیسا کہ آگے ارشاد فرمایا۔
Ayah 92:19(19) اور اس پر کسی کا احسان نہیں جس کا بدلا اتارا جائے - یعنی مال خرچ کرنے کا یہ مقصد نہیں کہ اس پر کسی کا کوئی احسان ہے جس کا وہ بدلا اتارنا چاہتا ہو اس کا مقصد تو صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 92:20(20) بلکہ اس کا مقصد تو صرف اپنے بزرگ و برتر پروردگار کی رضا جوئی اور خوشنودی ہے - یعنی اگرچہ کسی کے احسان کا بدلا دینا اور اس کام کے لئے روپیہ خرچ کرنا اچھی بات ہے لیکن اس کے انفاق میں یہ بات بھی نہیں کیونکہ اس پر کسی کا احسان ہی ایسا نہیں جس کا وہ بدلا نہ اتار چکا ہو اب روپیہ خرچ کرنا صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہے اور جہاں احسان کا بدلا تک نہ ہو تو وہاں ریا اور دکھاوے کا ذکر ہی کیا ہے۔
بہرحال اس کے انفاق کا مقصد محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور خوشنودی ہے۔
Ayah 92:21(21) اور یہ شخص عنقریب خوش ہوجائیگا - یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بزرگی اور اجروثواب اور سعادت دارین اس کو عطا ہوگی وہ اس سے خوش اور راضی ہوجائیگا۔
ہرچند کہ سورة والیل کا مقہوم عام ہے لیکن جمہور مفسرین نے اس سورت کا تعلق اور اس کے شان نزول میں حضرت صدیق اکبر ؓ اور امیہ بن خلف کا ذکر کیا ہے، موخرالذکر ایک ملعون منکر تھا جو مکہ میں بڑا مالدار اور بہت سے لونڈی غلاموں کا مالک تھا اور اس کا جو غلام یا لونڈی اسلام قبول کرلیا کرتا تھا اس کو بہت تکلیف دیتا تھا اور بہت مارتا تھا اور اس کو اسلام ترک کرنے پر مجبور کردیا کرتا تھا مال خرچ کرنے میں بڑا بخیل تھا توحید الٰہی کا مخالف نبی کریم ﷺ کا بدترین دشمن قرآن نے اس کو اشقیٰ فرمایا۔
اسی مکہ میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا بھی وجود گرامی تھا جنہوں نے اپنے تمام مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور بہت سے غلام اور لونڈیوں کو آزاد کرایا ان غلاموں میں حضرت بلال ؓ کا قصہ خاص طور پر مشہور ہے ان کو قرآن نے اتقیٰ فرمایا۔
نبی کریم ﷺ نے ان کے انفاق فی سبیل اللہ کے متعلق فرمایا
مالقعنی مال احد قط مانفعنی مال ابی بکر ، یعنی مجھے کسی کے مال سے ہرگز اتنا فائدہ نہیں پہنچا جتنا ابوبکر کے مال سے پہنچا، اور چونکہ آپ کی صدیقیت ایک پرتو تھا نبوت محمد ﷺ کا اس لئے ان کا شان میں ولسوف یرضیٰ فرمایا جیسا کہ حضور اکرم ﷺ کی شان میں آگے کی سورت میں آتا ہے۔ ولسوف یعطیک ربک فترضیٰ
تم تفسیر سورة الیل