93. Surah Ad-Dhuhaa

الضحىThe Morning Hours · 11 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 93:1

وَ الضُّحٰىۙ Open ayah 93:1 in the Quran reader

قسم کھاتا ہوں دن چڑھے کی یعنی چاشت کے وقت کی۔

(1) قسم کھاتا ہوں میں دن چڑھے کی - یعنی چاشت کے وقت کی
Ayah 93:2

وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰىۙ Open ayah 93:2 in the Quran reader

اور رات کی جب وہ پوری طرح چھا جائے۔

(2) اوررات کی جب وہ پوری طرح چھا جائے۔
Ayah 93:3

مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ Open ayah 93:3 in the Quran reader

کہ آپ کے پروردگار نے نہ تو آپ کو چھوڑا اور نہ وہ آپ سے ناخوش ہوا۔

(3) کہ آپ کے پروردگار نے نہ تو آپ کو چھوڑ اور نہ آپ سے ناراض اور بیزار ہوا۔ دن کے اجالے اور رات کیا ندھیرے کی قسم کھا کر فرمایا کہ اگر روشنی کے بعد تاریکی اور تاریکی کے بعد روشنی ہماری خفگی اور ناراضگی کی دلیل نہیں ہے تو نزول وحی اور اس کی کچھ وقت کے لئے فترۃ کو کیوں خفگی کی دلیل سمجھا گیا، یہ تو قدرت خداوندی کی ڈھلتی پھرتی شانیں ہیں جو ظاہر میں بھی دیکھنے میں آتی ہیں اور باطن میں بھی اہل باطن دیکھتے اور سمجھتے ہیں یہ کوئی الزام کی بات نہیں بلکہ اہل اللہ پر اکثر قبض وبسط کی واردات ہوتی رہتی ہیں ۔ یہ آیت ماودعک جواب ہے قسم کا آگے ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 93:4

وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 93:4 in the Quran reader

اور یقینا پچھلی حالت آپ کے لئے پہلی حالت سے بہتر ہے۔

(4) اور اے پیغمبر یقینا پچھلی حالت آپ کے لئے پہلی حالت سے بہتر ہے - عام طریقے سے مفسرین نے پچھلی حالت کو آخرت اور اولیٰ کو دنیا سے تعبیر کیا ہے اور یہ معنی صاف اور ظاہر ہیں کہ آخرت پیغمبر ﷺ کے لئے دنیا سے بدرجہا بہتر ہے مگر آپ کی شرعی اور روحانی ترقی کی حالت یہ تھی کہ آپکی ہر پچھلی حالت پہلی حالت سے بہتر ہوتی تھی۔ کما قال بعض اہل الاشارات آپ کی ترقی کا کچھ ٹھکانا نہ تھا اور اسلامی ترقی کے اعتبار سے بھی کہا جاسکتا ہے کہ ہر پچھلی حالت پہلی سے بہتر ہے اور دنیا سے آپ کے لئے آخرت کا بہتر ہونا اور آپ کے درجات کی بلندی کا نمایاں ہونا تو بالکل ظاہر ہے۔
Ayah 93:5

وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ Open ayah 93:5 in the Quran reader

اور آپ کا پروردگار آپ کو آگے چل کر اتنا کچھ دے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے۔

(5) اور آپ کا پروردگار آگے چل کر آپ کو اتنا کچھ دے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے - یعنی آگے آپ کو اتنی نعمتیں عطا کی جائیں گی کہ آپ ان نعمتوں کے ملنے سے خوش ہوجائیں گے دنیا اور آخرت میں آپ کو اس قدر بیشمار نعمتیں ملنے والی ہیں کہ آپ راضی اور خوش ہوجائیں گے۔ نبی کریم ﷺ ایک دن رو کر دعا فرما رہے تھے اللھم امتی اللھم امتی حضرت جبرئیل حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کہ ہم تمہاری امت کے بارے میں تم کو خوش کردیں گے حضور ﷺ نے فرمایا اے جبرئیل اگر میری امت کا ایک شخص بھی دوزخ میں رہ جائے گا تو میں خوش نہ ہوں گا۔ بہرحال آخرت میں شفاعت عامہ اور خاصہ اور مقام محمود اور لواء الحمد وغیرہ اور دنیا میں مدد اور فتح دشمنوں کے مقابلے میں اور اتباع کرنیوالوں کی کثرت اور فتوحات اور دین کا علو اور بلندی۔ اور آپ کی امت کاخیرالامم ہونا وغیرذلک آگے اور مزید انعامات و احسانات کا ذکر فرمایا، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 93:6

اَلَمْ یَجِدْكَ یَتِیْمًا فَاٰوٰى۪ Open ayah 93:6 in the Quran reader

کیا خدا تعالیٰ نے آپ کو یتیم نہیں پایا پھر ٹھکانا ادیا۔

(6) کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یتیم نہیں پایا پھر آپ کا ٹھکانا دیا - حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت کا باپ مرگیا پیٹ میں چھوڑ کردادانے پالا وہ بھی مرگیا آٹھ برس کا چھوڑ کر پھر چچا نے پالا جب تک جوان ہوئے۔ خلاصہ : یہ کہ آپ یتیم تھے صغیر تھے پھر حق تعالیٰ نے آپ کو ٹھکانا دیا اور آپ کی پرورش کا سامان کردیا جیسا کہ کتب سیر میں تفصیل موجود ہے۔
Ayah 93:7

وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪ Open ayah 93:7 in the Quran reader

اور اس نے آپ کو راہ شریعت سے ناواقف پایا پھر اس نے آپ کو منزل مقصود تک پہنچا دیا۔

(7) اور اللہ تعالیٰ نے معالم نبوت اور احکام شریعت سے بیخبر اور ناواقف پایا پھر آپ کو راہ دکھائی یعنی مطلوب تک پہنچا دیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب حضرت جوان ہوگے قوم کی راہ ورسم سے بیزار تھے ان کے پاس کوئی راہ ورسم نہ تھی اللہ نے دین حق نازل کیا۔ خلاصہ : یہ کہ قوم کی راہ ورسم مشرکانہ سے سخت بیزار تھے اور بت پرستی سے بہت ناخوش تھے اس بنا پر سخت حیران و سرگرداں رہتے تھے سورة شوریٰ کے آخر میں گزر چکا ہے ماکنت تدری ماالکتاب ولاالایمان نہ نبوت سے واقف نہ کتاب سے واقف یعنی نہ شریعت وایمان کی تفصیل سے واقف مگر راہ کی تلاش میں بےچین و حیران آخر یکسوئی حاصل کرنے کی غرض سے غار حرا میں جانا شروع کیا اور بالآخر جس کی تلاش میں سرگرداں تھے وہ پالی اور یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان تھا کہ تلاش حق کرنے والے کو حق مل گیا۔
Ayah 93:8

وَ وَجَدَكَ عَآئِلًا فَاَغْنٰىؕ Open ayah 93:8 in the Quran reader

اور خدا نے آپ کو نادار پایا پھر آپ کو دولتمند کردیا۔

(8) اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو نادار اور مفلس پایا پھر آپ کو دولت مند کردیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت خدیجہ ؓ اپنی قوم میں اشراف تھیں اور مال دار ان سے نکاح ہوا سب مال انہوں نے حاضر کیا۔ حضرت خدیجہ ؓ سے آپ نے ان کے مال میں مضاریت کی اور اس میں نفع ہوا اور اس طرح آپ دولت مند ہوگئے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ غنا سے مراد نفس کا غنا ہو جیسا کہ حدیث میں آتا ہے۔ لیس الغنی عن کثرۃ العرض ولکن الغنی غنی النفس کہ کثرت سامان اور کثرت مال کا نام غنا نہیں ہے بلکہ حقیقی غنا تو نفس کا غنا ہے۔ عن ابی ہریرہ ؓ مرفوعا۔ آگے ان احسانات پر شکر ادا کرنے کی فہمائش ہے۔
Ayah 93:9

فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ Open ayah 93:9 in the Quran reader

تو آپ یتیم پر کسی قسم کا دبائو نہ ڈالئے۔

(9) سو آپ یتیم پر کسی قسم کا دبائو نہ ڈالیے۔
Ayah 93:10

وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْؕ Open ayah 93:10 in the Quran reader

اور آپ مانگنے والے کو نہ جھڑکئے۔

(10) اور آپ مانگنے والے کو نہ جھڑکیے - یعنی جیسا ہم نے آپ کو یتیمی پر آپ کے ساتھ مہربانی اور شفقت کی آپ بھی اس کے شکر میں یتیم پر کوئی بےجا دبائو نہ ڈالیے جس طرح ہم نے تم کو ٹھکانا دیا آپ بھی ٹھکانا دیجئے یہ مکارم اخلاق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وصف اور اس کے اخلاق کو اختیار کیا جائے۔ تخلقوا ب اخلاق اللہ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مسلمانوں کے گھروں میں سے وہ گھر بہتر ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کا جاتا ہو اور تمام گھروں میں سے وہ گھر بدترین ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ برا سلوک ہوتا ہو نیز سائل کو نہ جھڑکیے کیونکہ ہم نے آپ کو فقر کو دیکھ کر آپ کو غنی کیا اس کا شکریہ ہے کہ آپ بھی سائل کو بلاوجہ نہ جھڑکیے۔ سائل کا زجر ممنوع ہے مگر یہ کہ کوئی سائل اڑ جائے اور جانے کا نام نہ لے جیسا کہ آج کل اکثر سائل اس کے عادی ہیں اور الحاف ان کی عادت میں داخل ہے اور ایسا تنگ کرتے ہیں کہ ان سے پیچھا چھڑانامشکل ہوجاتا ہے تو ایسے سائل کے زجر کی رخصت (کما قال صاحب الرح)
Ayah 93:11

وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠ Open ayah 93:11 in the Quran reader

اور آپ اپنے پروردگار کے احسانات کا تذکرہ کرتے رہا کیجئے۔

(11) اور آپ اپنے پروردگار کے احسانات کا تذکرہ کرتے رہا کیجئے - یہ بھی ایک طریقہ محسن کے شکرادا کرنے کا ہے کہ اس کے احسان کا تذکرہ کیا جائے اور وہ جدک ضالاً فہدی کا یہی شکر ہے کہ اس کا چرچا کرو اور لوگوں کو اس ہدایت کی دعوت دو جس سے آپ کو نوازا گیا ہے اور یہی تحدیث اصل میں تبلیغ ہے بعض نے کہا اس نعمت سے مراد قرآن ہے اور مطلب یہ ہے کہ قرآن مخلوق کو سناتے رہیے۔ حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت میں ہے جس شخص نے کسی کے ساتھ سلوک کیا ہے اس کا شکریہ ہے کہ اس بھی کچھ دے اور اگر دینے کو نہ ہو تو اس کی تعریف کرے اور اس کی ثنا بیان کرے اور اس کے لئے دعا کیا کرو، اگر کسی نے ایسا نہ کیا تو اس نے محسن کے ساتھ کفر کیا۔ بہرحال تحدیث نعت بطور فخرومباہات نہ ہو بلکہ محسن کے احسان کو ظاہر کرنے کی نیت سے ہو۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ سرکار دوعالم ﷺ والضحیٰ کے ختم پر اور اس کے بعد کی تمام سورتوں پر تکبیر کہتے تھے یعنی اللہ اکبر فرمایا کرتے تھے سورة والضحیٰ سے لے کر سورة ناس تک تمام سورتوں کے مضامین ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور عام طور سے ان میں رسالت و توحید اور قیامت کا ذکر ہے جو عقائد اسلامی میں نہایت اہم چیزیں ہیں۔ سورة والضحیٰ کے ختم پر شاید اللہ اکبر کہنے کی وجہ یہ ہو چونکہ ایک عرصے کے بعد بحالت انتظار یہ سورت نازل ہوئی تھی اس لئے بےساختہ آپ کے منہ سے اللہ اکبر نکلا ہو اور پھر ہر سورت کے بعد آپ اللہ اکبر فرماتے ہوں۔