Ayah 94:1(1) کیا ہم نے آپ کے لئے آپ کا سینہ کشادہ نہیں کردیا - یعنی آپ کے نفع کے لئے آپ کے سینے کو کشادہ کردیا تاکہ آپ کا سینہ کشادہ ہوجائے اور آپ کا حوصلہ بڑھ جائے اور خلق کی دعوت کا کام اور امت کا غم اور ہمارے راز ونیاز کے اسرار اس میں سماجائیں اور میل و کدورت بغض و عداوت اور تمام اخلاق ذمیمہ اس سے نکل جائیں۔ شرح صدر کے سلسلہ میں ہم اپنی اس مختصر تفسیر میں کئی جگہ کلام کرچکے ہیں اس نعمت سے ہر مسلمان کو اپنے اپنے مرتبے کے موافق حصہ ملنا ہے۔ یہ ایک قسم کی روشنی اور نور ہوتا ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں پر اور خا ص لوگوں پر نیکیاں آسان ہوجاتی ہیں اور برے کاموں کی رغبت کم ہوجاتی ہے۔ انبیا علیہم الصلوٰۃ والسلام کے مرتبے کے موافق یہ مرتبہ اور قوۃ عطا ہوتی ہے یہی وہ وصف ہے جس کو …حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے طلب کرکے حاصل کیا تھا۔
سورہ طہٰ میں گزرچککا ہے رباشرح لی صدری ویسرلی امری جو چیز موسیٰ (علیہ السلام) نے مانگ کر حاصل کی تھی وہ جناب سیدالمرسلین حضرت محمد ﷺ کو بغیر طلب عطا فرمائی۔
الم نشرح لک صدرک اہل طریقت نے جو کچھ فرمایا ہے اس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے یہاں صرف اتنا سمجھ لینا چاہیے کہ ایک ایسی باطنی اور روحانی قوت کا نام شرح صدر ہے جس سے تمام کمالات اور عبادات شاقہ کا حصول آسان ہوجاتا ہے اور قوت برداشت بڑھ جاتی ہے اور شیطانی وساوس کا دروازہ بند ہوجاتا ہے اور باطنی اسرار اور روحانی انوار کے حصول میں آسانی ہوجاتی ہے دل سے ہر قسم کی برائیاں اور خیانت وحسد کا مادہ نکال دیا جاتا ہے۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کے شق صدر کی جانب اشارہ ہو جو کئی مرتبہ پیش آیا کہ آپ کا سینہ کھولا گیا اور اس میں سے تمام اخلاقی خرابیوں کا مادہ نکال دیا گیا اور معرفت الٰہی کے نور سے سینے کو بھر دیا گیا اور پھر سینے کو ملادیا گیا حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ کے سینے پر وہ نشان اور ایک باریک سا خط کھینچا ہوا دیکھا ہے جہاں سے آپ کا سینہ چاک کرکے شیطانی حصہ کو نکال کر پھینکا گیا تھا اور پھر آپ کے سینہ مبارک کو بند کیا گیا۔
آٹھویں پارے کے دوسرے رکوع میں شرح صدر اور اس کے مقابل ضیق صدر کی تفصیل گزر چکی ہے حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی حوصلہ کشادہ دیا اتنا بڑا کام اٹھانے کو، اور ظاہر میں بھی فرشتوں نے حضرت کا سینہ چاک کیا دل میں سے سیاہی نکال کردھوڈالی۔
اب آگے دوسری نعمت کا ذکر فرمایا یہ بات یادرکھنی چاہیے کہ الم نشرح میں استفہام تقریری ہے یعنی ہم نے تمہارا سینہ کھول دیا۔
Ayah 94:2(2) اور ہم نے آپ پر سے وہ بوجھ اتاردیا۔
Ayah 94:3(3) جس نے آپ کی پیٹھ کو گراں بار کررکھا تھا - یعنی منصب رسالت کی ذمہ داریوں کو محسوس کرکے جو طبیعت پر گرانی تھی اس کو ہمنے شرح صدر کی برکت سے آپ پر ہلکا کردیا، ہوسکتا ہے کہ وحی کی گرانی کی طرف اشارہ ہو جو شروع شروع میں گراں معلوم ہوتی تھی یا زمانہ جاہلیت کی بعض نامناسب باتیں جواب شریعت کی روشنی میں نامناسب معلوم ہوئیں اس سے طبیعت مبارک پر گرانی ہوتی ہو کہ ان باتوں کا اب کیا ہوگا ان کی بشارت دی گئی ہو کہ وہ سب درگزر کردی گئیں۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کی خلقی استعداد اور آپ کی علو ہمتی جن کمالات اور مقامات کے حصول کا تقاضا کرتی ہو اور حضور ﷺ کو ان کا حاصل کرنا دشوار معلوم ہوتا ہو اور ان کے عدم حصول سے طبیعت پر گرانی ہو۔ شرح صدر کی برکت سے وہ مقامات اور کمالات حاصل ہوگئے ہوں ان کی طرف اشارہ ہو کہ ہم نے تمہاری گراں باری کو دور کردیا۔ کماقالہ الشاہ عبدالعزیز الدہلوی فی تفسیر اعنی فتح العزیز
آگے تیسری نعمت کا ذکر ہے حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں وحی کا اترنا اول مشکل تھا پھر آسان ہوگیا۔
Ayah 94:4(4) اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کے ذکر کو بلند کیا - یعنی بہت سی جگہ اللہ کے نام کے ساتھ آپ کا نام بھی لیا جاتا ہے ایک دفعہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سے دریافت کیا کہ میرے نام کا آواز بلند ہونے کا کیا مطلب ہے تو انہوں نے یہی کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اذا ذکرت ذکرت معی کہ جب مجھے یاد کیا جائے گا تو آپ کو بھی یاد کیا جائے گا جیسے اذان و اقامت ، تشہد، خطبہ، کلمہ طیبہ ، کلمہ شہادت اطاعت کے کاموں میں جیسے اطیعواللہ واطیعوالرسول نافرمانی کی سزا میں ومن یعص اللہ ورسولہ نان لہ نار جھنم خالدین فیھا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی پیغمبروں میں اور فرشتوں میں آپ کا نام بلند ہے۔ آگے وعدہ ہے کہ ہم ہر مشکل میں آسانی کرنیوالے ہیں اور موجودہ دور میں جو مشکلات آپ کو پیش آرہی ہیں ان کو آسان کردیں گے بلکہ ہر مشقت اور سختی کے لئے دوسری آسانی کا وعدہ کیا جاتا ہے۔
Ayah 94:5(5) سو بیشک ہر سختی کے ساتھ آسنی ہے۔
Ayah 94:6(6) یقینا ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے - یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو سختیاں برداشت کیں اور رنج وتعب کھینچے ان میں سے ہر سختی کے ساتھ کئی کئی آسانیاں ہیں یا یہ کہ جس طرح ہم نے آپ کی روحانی کلفت دور کردی جیسا کہ شرح صدر اور رضع وزر اور رفعت ذکر سے معلوم ہوتا ہے اسی طرح ہم دنیوی تمام مشکلات کو آسان کردیں گے اور ایک سختی کے بدلے میں کئی کئی آسانیاں عنایت فرمائیں گے۔
اسی لئے تاکید کے طور پر فرمایا فان مع العسر یسراً ان مع العسر یسراً دو دفعہ فرمایا چناچہ کتب سیر سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی تمام دشواریاں اور مشکلات ایک ایک کرکے آسان کردی گئیں۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں ایک دن رسول خدا ﷺ ایک جگہ تشریف رکھتے تھے آپ نے ایک سوراخ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا اگر سختی آئے اور سوراخ میں گھس جائے تو آسانی آگے اور اس سختی کو اس سوراخ میں سے نکال دے گی پھر فرمایا فان مع العسر یسرا۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے ایک دن سرکار مکان میں تشری لائے اور خوش وخرم ہنستے ہوئے فرمایا ان یغلب عسر بین یسرین دو آسانیوں کے درمیان کوئی سختی غلبہ نہیں پاسکتی اور غالب نہیں آسکتی۔
بہرحال جو بندہ مصائب پر صبر کرتا ہے اور سختی سے گھبراتا نہیں تو اللہ تعالیٰ اس پر آسانیاں لے آتا ہے اور آسانی کا دروازہ کھول دیتا ہے طریقہ الٰہی اسی طرح جاری ہے اب آگے ان نعمتوں پر شکر بجالانے کا حکم ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 94:7(7) اور آپ جب خلق کی خدمت سے فرصت پائیں تو محنت کیا کیجئے۔
Ayah 94:8(8) اور اپنے پروردگار کی ہی جانب توجہ رکھیئے - مطلب یہ ہے کہ جب تبلیغ سے فارغ ہوجائیں اور دوسری خدمات سے فرصت پائیں تو بلاواسطہ خلق عبادت کیجئے اور خلوت میں بیٹھ ریاضت کیجئے اگرچہ مخلوق کی خدمت کرنا بھی عبادت ہے لیکن اس سے فارغ ہوکر بلاواسطہ بھی ریاضت کیا کیجئے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا فرض نماز سے فارغ ہوکر دعا کیا کیجئے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا نماز مکتوبہ سے فارغ ہوکر تہجد پڑھا کیجئے اور اپنے پروردگار کی جانب توجہ رکھیئے یعنی اسی کی جانت عاجزی اور گریہ وزاری کیا کیجئے یا یہ مطلب ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہر حال میں رغبت رکھیئے اس کے سوا کسی دوسری کی جانب نہیں۔
بہرحال ! یہ طریقہ انعامات سابقہ کا شکر بھی ہے اور سختی کے دور ہونے کا بھی حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی خلق کے سمجھانے سے فراغت پائے تو خلوت کی عبادت میں لگ۔
تم تفسیر سورة الانشراح