89. Surah Al-Fajr

الفجرThe Dawn · 30 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 89:1–14

وَ الْفَجْرِۙ Open ayah 89:1 in the Quran reader

قسم ہے فجر کی

وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ Open ayah 89:2 in the Quran reader

اور قسم ہے دس راتوں کی

وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ Open ayah 89:3 in the Quran reader

اور قسم ہے جفت اور طاق کی

وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِۚ Open ayah 89:4 in the Quran reader

اور قسم ہے رات کی جب وہ چلتی ہے

هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍؕ Open ayah 89:5 in the Quran reader

کیا اس میں قسم ہے عقلمندوں کیلے

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ Open ayah 89:6 in the Quran reader

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے کیا سلوک کیا قوم عاد کے ساتھ

اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۪ۙ Open ayah 89:7 in the Quran reader

عاد جو (لمبے لمبے ) ستونوں والے تھے

الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:8 in the Quran reader

وہ کہ نہیں پیدا کیا گیا ان کی مثل شہروں میں

وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۪ۙ Open ayah 89:9 in the Quran reader

اور کیا تم نے قوم ثمود کو نہیں دیکھا جہنوں نے وادی قری میں پتھروں کو تراش تراش کر عمارتیں بنائیں

وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۪ۙ Open ayah 89:10 in the Quran reader

اور کیا آپ نے میخوں والے فرعون کو نہیں دیکھا

الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:11 in the Quran reader

(یہ سب ) جہنوں نے شہروں میں سرکشی کی

فَاَكْثَرُوْا فِیْهَا الْفَسَادَ۪ۙ Open ayah 89:12 in the Quran reader

اور دن میں بہت زیادہ فساد برپا کیا

فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ Open ayah 89:13 in the Quran reader

تیرے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا

اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ Open ayah 89:14 in the Quran reader

پس تیرا رب گھات میں لگا ہوا ہے

(فجر اور دس راتیں ) ارشاد ہوتا ہے والفجر قسم ہے فجر کی ولیال عشر اور قسم ہے دس 10 راتوں کی ۔ فجر اور دس راتوں سے کون سی فجر اور کون سی دس راتیں مراد ہیں اس میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض فرماتے ہیں کہ فجر سے مطلق مراد ہے ۔ جو ہر روز طلوع ہوتی ہے۔ اور دس راتوں سے مراد رمضان المبارک کی آخری دس راتیں ہیں ۔ جن میں لیلۃ القدر جسیی عظیم اور بابرکت رات آتی ہے۔ اور جس میں عبادت کا اجر ثواب ایک ہزار مہینے سے زیادہ ہوتا ہے ۔ ان راتوں میں اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی شامل حال ہوتی ہے۔ دنیا میں عظیم انقلاب برپا کرنے والی کتاب قرآن پاک کے نزول کی ابتداء بھی اسی رات میں ہوئی ۔ بعض فرماتے ہیں کہ فجر سے مراد عید الاضحی کی فجر ہے ۔ جو کہ یوم النحر یعنی قربانی کا دن ہے ۔ اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ اللہ کے نزدیک عمل صالح جس قدر ان دنوں میں مقبول ہے ۔ کسی دوسرے دنوں میں فضیلت رکھتی ہے ۔ ان ایام میں اللہ کا خاص تقرب حاصل کیا جاتا ہے بعض فرماتے ہیں کہ فجر سے مطلق فجر مراد ہے ۔ اور دس راتوں سے محرم الحرام کی دس راتیں مراد ہیں ۔ جن میں نبی (علیہ السلام) نے ہجرت کی تھی ۔ حضور ﷺ کی ہجرت مبارکہ دنیا میں بہت بڑے انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوئی ۔ اسلام کی اولین سلطنت اسی ہجرت کے نتیجہ میں قائم ہوئی ۔ اور پھر ہجرت مدینہ کے بعد اسی مقام سے دین اسلام کی روشنی پوری دنیا میں پھیلی ۔ (جفت اور طاق ) اس کے بعد فرمایا والشفع والوتر قسم ہے جفت اور طاق کی ۔ بعض فرماتے کہ جفت سے مراد ذی الحج کے دس دن ہیں ۔ اور طاق سے مراد دسویں تاریخ کے علاوہ پہلے نو دن ہیں نو کا عدد طاق ہے ۔ اور جب دسویں تاریخ آگئی تو جفت ہوگیا ۔ ذی الحج کی نویں تاریخ عرفہ کا دن ہوتا ہے ۔ اور یہ بڑا عظیم دن ہے ۔ یہ دن حج کا رکن اعلیٰ ہے ۔ اس دن دنیا کے کونے کونے سے لوگ آکر عرفات کے میدان میں اکٹھے ہوتے ہیں ۔ اور نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ بارگاہ رب العزت میں دعائیں کرتے ہیں ۔ اسی دن اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے ۔ اور فرشتوں کے سامنے ان حاجیوں پر فخر کرتا ان کی دعائیں قبول کرتا ہے۔ بعض فرماتے ہیں جفت اور طاق سے مراد نماز ہے ۔ کیونکہ نماز کی بعض رکعتیں جفت یعنی دو یا چار ہوتی ہیں ۔ اور بعض کی طاق جیسے نماز مغرب اور وتر ۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ جفت اور طاق سے مراد مخلوق اور خالق ہے۔ ساری مخلوق نر اور مادہ کی حیثیت سے جفت ہے اور خالق صرف ایک اللہ ہے ۔ کیونکہ وہ لم یلد ولم یولد ہے۔ اگر یہ معنی کیا جائے تو والشفع والوتر کا معنی یہ ہوگا قسم ہے مخلوق اور خالق کی ۔ (شب رواں ) اس کے بعد ارشاد ہے والیل اذ یسر قسم ہے رات کی جب وہ رات میں چلے اگر یہ معنی کیا جائے تو اس سے مراد معراج کی رات ہے ۔ جس رات حضور ﷺ مکہ معظمہ سے بیت المقدس اور پھر وہاں سے عالم بالا کی سیر پر تشریف لے گئے ۔ اور یہ بڑا عظمت والا اور فضیلت والا واقعہ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو ساتوں آسمانوں کی سیر کرائی ۔ اور اپنی عجیب و غریب نشانیاں دکھائیں ۔ دوسرا معنی یہ بھی ہے کہ قسم ہے اس رات کی جس رات حضور ﷺ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کے لیے ہجرت کا آغاز کیا تھا ۔ حضور ﷺ مکہ سے چل کر غار ثور میں رات کے وقت ہی قیام پذیر ہوئے تھے اور وہاں سے نکل کر جب آپ اگلے سفر پر روانہ ہوئے تھے تو وہ بھی رات کا وقت ہی تھا۔ بعض فرماتے ہیں کہ رات سے مراد ہر رات ہے ۔ جب چلتی ہے ۔ پہلے فرمایا تھا والفجر قسم ہے فجر کی اب اس کے مقابلہ میں والیل کہا یعنی قسم ہے رات کی ۔ فجر اور رات کو اسلام کے نور ہدایت اور کفر اور شرک کی تاریکی سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ اس قسم کا مضمون پہلے بھی گذر چکا ہے ” والیل اذا ادبر “ اور قسم ہے رات کی جب پشت پھیر گئی ۔ کفر وشرک رات کی تاریکی کی مثال ہے ۔ والصبح اذا اسفر “ اور قسم ہے صبح کی جب روشن ہوگئی ۔ اسلام صبح کی مثال رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ سب باتیں اس لیے کی گئی ہیں ۔ تاکہ ان کی عظمت انسان پر واضح ہو اور وہ حقیقت کو سمجھ سکیں ۔ الغرض صبح سے مراد اسلام کی روشنی ہو یا مطلق صبح ہو جب رات کی تاریکی آتی ہے ۔ تو اس میں کئی واقعات ہوتے ہیں ۔ جو صبح کے وقت ظاہر ہوتے ہیں ۔ ہر رات کے بعد صبح کا انقلاب آتا ہے ۔ اور نئے نئے واقعات پیش آتے ہیں ۔ اسی لیے فرمایا قسم ہے رات کی جب یہ چلتی ہے۔ (عقلمندوں کے لیے لمحہ فکریہ ) ان تمام چیزوں کی قسم کھا کر جو چیز پیش کی جارہی ہے وہ تو آگے آئیگی ۔ درمیان میں فرمایا ھل فی ذلک قسم لذی حجر کیا اس میں قسم ہے عقلمندوں کے لیے یعنی عقلمند ان باتوں کو سامنے رکھ کر سوچ سکتے ہیں ۔ اور کسی نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں ۔ کہ متکبرین کو ضرور سزا دی جائے گی ۔ حجر کے دو معنی آتے ہیں ۔ حجر عقل کو بھی کہتے ہیں اور منع کرنے کو بھی عقل بھی انسان کو قبیح امور سے روکتی ہے۔ لہذا اسے حجر کہتے ہیں ۔ اور ذی حجر کا معنی صاحب عقل ہوگا ۔ قرآن پاک میں حجر کا ہم معنی لفظ نھی بھی آیا ہے ۔ جیسے ان فی ذلک لایت لاولی النھی اس میں عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔ یہ تمام چیزیں صاحب عقل لوگوں کے لیے بطور گواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ منکرین سے ضرور باز پرس کرے گا۔ اور انہیں یونہی نہیں چھوڑ دیا جائے گا۔ (قوم عاد وثمود) اب وہ اصل بات آرہی ہے جس کے لیے مذکورہ چیزوں کی گواہی پیش کی گئی۔ ارشاد ہوتا ہے الم تر کیف فعل ربک بعاد کیا تم نے غور نہیں کیا کہ تیرے رب نے قوم عاد کے ساتھ کیا سلوک کیا ۔ یعنی ان نافرمانوں کو کیسی عبرتناک سزا دی ۔ اور وہ عاد کون تھے ۔ ارم ذات العماد بڑے لمبے لمبے ستونوں والے ارم ۔ التی لم یخلق مثلھا فی البلاد کہ جن کی مثل شہروں میں پیدا ہی نہیں کی گئی یہ اتنے متکبر لوگ تھے ان کی مثال نہیں ملتی ۔ قرآن پاک میں دوسری جگہ موجود ہے فاما عاد فستکبروا فی الارض قوم عاد نے زمین میں غرور تکبر کیا۔ ارم دراصل ایک ایسا نام ہے جو قوم عا د اور ثمود دونوں اقوام پر بولا جاتا ہے اس مقام پر ارم سے مراد عاد اولی ہے اور حضرت نوح (علیہ السلام) تک ان کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح یہ عاد اولیٰ ہیں ۔ اور قوم ثمود عاد ثانیہ کہلاتے ہیں ۔ ارم کا لفظ ان پر بھی بولا جاتا ہے اور یہ لوگ عاد اولی سے دو سو سال بعد گزرے ہیں ۔ قوم عاد یمن کی وادی دہنا میں آباد تھی۔ ذات العماد بھی دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ یہ لوگ ستونوں جیسے قدآور تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے جس مقام پر ان کی ہلاکت کا ذکر کیا ہے وہاں فرمایا کہ وہ زمین پر ایسے پڑے تھے جیسے کجھور کے اکھاڑے ہوئے تنے ہوں اتنے بڑے قدآور تھے ۔ ان کی مثال پوری تاریخ میں نہیں ملتی ۔ ذات العماد کا دوسرا معنی یہ ہے کہ یہ لوگ بڑی بڑی عمارتیں بناتے تھے۔ مینار اور گنبد بناتے تھے ۔ اور ان پر بےدریغ روپیہ صرف کرتے تھے ۔ اونچے اونچے مینار محض اس لیے بنا ڈالتے تھے کہ اوپر چڑھ کر گردوپیش کا نظارہ کرسکیں اور جب مزید رقم کی ضرورت ہوتی تھی ۔ تو پھر دوسروں کو لوٹتے تھے ۔ ان کی تیار کردہ بڑی عمارتوں کے کھنڈرات آج بھی موجود ہیں ۔ انہوں نے عمران جیسی بلند عمارت بنائی جسکی اسی 80 منزلیں تھیں اور ہر منزل کا درمیانی فاصلہ چالیس 40 فٹ تھا۔ (فضول خرچی ) سورۃ شعراء میں قوم عاد اور ثمود کا حال تفصیل سے موجود ہے کہ یہ لوگ کس قدر فضول خرچ تھے ۔ پہاڑوں کو تراش کر بڑے نقش ونگار والی عمارتیں بناتے تھے ۔ بڑے صناع اور کاریگر تھے ۔ عمارتوں کے بیحد دلدادہ تھے ۔ شہرت اور نمائش کے لیے روپیہ پانی کی طرح بہاتے تھے ، مگر رفاہ عامہ کا کوئی کام کرنے کے لیے تیار نہ ہوتے تھے ۔ ان کے لیے تعبثون کا لفظ بھی آیا ہے ۔ یعنی یہ لوگ فضول کام کرتے تھے ۔ تبوک اور وادی قریٰ میں ان کی عمارتوں کے نشانات موجود ہیں ۔ اس قسم کے بعث کاموں کی مثالیں اس زمانے میں بھی موجود ہیں ۔ مینار پاکستان پر تقریبا لاکھ روپیہ خرچ ہوا ہے ۔ یہ صرف اس بات کی نشاندھی ہے ۔ کہ اس مقام پر مطالبہ پاکستان پاس ہوا تھا ۔ مگر اتنی خطیر رقم خرچ کرنے کا فائدہ ؟ اسی طرح مسڑ جناح کی قبر پر تقریبا سات کروڑ روپیہ صرف ہوا۔ بڑے بڑے قیمتی پتھر درآمد کیے گئے ۔ جن سے اس کی تزئین ہوئی ۔ یہ چیزیں تعبثون میں آتی ہیں ۔ کام تو ایسے ہونے چاہئیں ۔ جن سے عام لوگوں کو فائدہ پہنچے ۔ تعلیم کا انتظام ہو۔ سائنس میں ترقی ہو۔ غرباء مساکین اور محتاجوں کی پرورش ہو۔ ان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مد دی جائے ۔ تبلیغ دین کی مد میں خرچ کیا جائے ۔ دنیا بھر کے محتاج لوگ اعانت کے مستحق ہیں ۔ الغرض یہ لوگ فضول چیزوں پر بڑا خرچ کرتے تھے ۔ مگر رفاہ عامہ کے کاموں کی طرف توجہ نہیں دیتے تھے ۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں کو سمجھایا کہ دیکھو اتنے بڑے بڑے قدآور لوگ تھے ۔ ساز و سامان کا کوئی شمار نہ تھا ۔ بڑی بڑی عالیشان عمارتوں کے مالک تھے ان کو اللہ تعالیٰ اتنی سخت سزا دے دی ۔ تم تو ان کے عشر عشیر بھی نہیں ہو۔ تم اللہ کی سزا سے کیسے بچ سکتے ہو۔ قوم عاد کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا وثمود الذین جابوا الصخر بالواد اور کیا تم نے قوم ثمود کو نہیں دیکھا ۔ جنہوں نے وادی قری میں پتھروں کو تراش تراش کر عمارتیں بنائیں ان پر عجیب و غریب نقش ونگار بنائے ۔ ان عمارتوں کے نمونے تبوک اور وادی قری میں آج بھی موجود ہیں ۔ ثمودی عمارتوں کے کھنڈرات پائے جاتے ہیں ۔ یہ لوگ کمال درجے کے کاریگر تھے۔ بڑے بڑے انجینئر اور صناع تھے ۔ عمارتوں کے علاوہ بڑی بڑی مورتیاں بنانے میں بھی ماہر تھے ۔ (فرعون) فرمایا وفرعون ذی الاوتاد کیا آپ نے میخوں والے فرعون کو نہیں دیکھا ۔ کہ اس کا کیا حشر ہوا ۔ پہلے عاد اور ثمود کا ذکر آیا اب فرعون کی مثال پیش کی۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس طرح سزا دی ۔ مفسرین کرام نے ذی الاوتاد کے دو معنی کئے ہیں ۔ ایک یہ کہ فرعون جب سزا دیتا تھا ۔ تو ہاتھوں اور پاؤں میں میخیں ٹھونک دیتا تھا ۔ اور اوپر بھاری وزن رکھ کر لوگوں کو بلاک کرتا تھا ۔ اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ فرعون کے گھوڑوں کے نعل بھی سونے کے تھے ۔ اور اس کے خیمے کے کیل بھی سونے کے تھے ۔ اس لیے اسے ذی الاوتاد یعنی میخوں والا کہا گیا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر تین مثالیں بیان کی ہیں ۔ یعنی قوم عاد ثمود اور فرعون کی ۔ مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں نے تکبر کیا ۔ زمین میں فساد برپا کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں نیست ونابود کردیا ۔ (شدات) تفسیری روایتوں میں آتا ہے کہ شداد قوم عاد کا بادشاہ تھا۔ یہ وہی شخص ہے جس نے عجیب و غریب طریقے سے پرورش پائی ۔ غیر معمولی طریقے سے دولت مند اور پھر بادشاہ بنا اور پھر اسکی موت بھی عجیب طریقے پر واقع ہوئی ۔ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک بےنظیر شہر آباد کیا مگر اللہ تعالیٰ نے اسے نظروں سے غائب کردیا۔ روایت ہے کہ یہ شہر اپنی جگہ پر موجود ہے۔ مگر خدا کی حکمت کہ نظروں سے اوجھل ہے۔ کہتے ہیں کہ ملک الموت نے بارگاہ رب العزت میں عرض کی کہ اے مولا کریم میں نے کروڑوں لوگوں کی جانیں قبض کی ہیں ۔ مگر دو جانیں ایسی ہیں کہ جہنیں قبض کرتے وقت مجھے بڑا ہی صدمہ ہوا۔ میں نے تیرے حکم کی تکمیل ضرور کی مگر نہایت ہی دکھ کے ساتھ ۔ یہ دونوں ماں بیٹا تھے ۔ واقعہ یوں ہوا کہ جہاز غرق ہوگیا ۔ اور ایک عورت اپنے شیر خوار بچے کے ساتھ ایک تختے کا سہارا لینے میں کامیاب ہوگئی ۔ تختہ دریا میں بہہ رہا تھا ۔ اور ماں بیٹا اس پر سوار تھے ۔ مولا کریم ! اچانک تیرا حکم ہوا اور میں نے ماں کی جان اسی تختے پر نکال لی ۔ میرے لیے پریشان کن بات یہ تھی کہ ماں مر چکی ہے۔ اب بچے کا کیا حشر ہوگا۔ بچہ ایک ٹوٹے ہوئے تختے پر سوار ہے ۔ اور تختہ ہر آن پانی کی لہروں کے تھپیڑے کھا رہا ہے۔ جو کسی وقت بھی کسی تیز لہر کی زد میں آکر الٹ سکتا ہے ۔ بچے کے لیے نہ خوراک کا انتظام ہے نہ کسی نگہداشت کا بندوبست ۔ دریا کے کنارے دھوبی کپڑے دھو رہے تھے ۔ اچانک کسی کی نظر پڑی تو تختے کو کھینچ لائے ۔ بڑے حیران ہوئے کہ ماں مرچکی ہے ۔ اور بچہ بےیارو مددگار تختے پر زندہ سلامت موجود ہے ۔ وہ لوگ اس بچے کو اپنے سردار کے پاس لے گئے ۔ سردار بیچارہ بےاولاد تھا ۔ خوبصورت بچہ دیکھ کر اس کا دل آگیا ۔ اور اس نے بچے کو اپنی نگرانی میں لے کر اسے اپنا بیٹا بنا لیا۔ یہ بچہ آٹھ نو سال کی عمر کا تھا کہ اپنے ساتھی بچوں کے ساتھ کہیں کھیل رہا تھا ۔ اتنے میں بادشاہ وقت کی سواری کی آمد کا شور اٹھا ۔ سب لوگ ادھر ادھر بھاگ گئے ۔ مگر یہ بچہ اکیلا سڑک پر کھڑا رہ گیا۔ بادشاہ کی سواری گذر گئی ۔ اس کے پیچھے اس کا عملہ پیدل آرہا تھا۔ ان میں سے ایک سپاہی کو راستے میں کہیں سرمہ کی ایک پڑیا مل گئی ۔ اتفاق سے اس کی نظر کمزور تھی۔ اور سرمہ کی اسے ضرورت بھی تھی لہذا اس نے وہ سرمہ بحفاظت اپنے پاس رکھ لیا۔ آنکھوں میں لگانے سے پہلے اسے خیال آیا کہ یہ سرمہ کوئی ضرر نہ پہنچائے خود لگانے سے پہلے کسی دوسرے شخص پر آزما لینا چاہیئے ۔ قریب ہی وہ بچہ کھڑا تھا ۔ اس نے اسی پر آزمانا چاہا ۔ بچے نے سرمہ اپنی آنکھوں میں لگا لیا مگر جونہی اس نے سرمہ لگایا اسے زمین کی تہ میں موجود چیزیں بھی نظر آنے لگیں ۔ اس نے دیکھا کہ زمین کے اندر بہت سے خزانے پوشیدہ ہیں ۔ بچہ ہوشیار تھا ۔ اس نے چیخنا چلانا شروع کردیا کہ سرمہ لگانے کی وجہ سے اس کی آنکھوں میں سخت تکلیف پیدا ہوگئی ہے جب سپاہیوں نے یہ صورت حال دیکھی تو سرمہ وہیں چھوڑ کر بھاگ گئے ۔ بچہ سرمہ کی پڑیا لے کر گھر پہنچا اور خوشی خوشی باپ کو سارا واقعہ بتا دیا ۔ سردار بڑا خوش ہوا۔ کہنے لگا ہمارے پاس آدمی بھی ہیں ۔ گدھے بھی ہیں ۔ تم سرمہ لگاؤ ہم تمہارے ساتھ چلتے ہیں ۔ جہاں کہیں خزانہ پاؤ ۔ ہمیں بتاؤ ہم نکال لیں گے ۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ بچے کے بتانے پر وہ لوگ خزانے نکالنے لگے ۔ اور تھوڑے عرصہ میں وہ امیر آدمی بن گیا ۔ بچہ جوان ہوا تو اس نے پر پرزے نکالنے شروع کئے ۔ دولت کی فراوانی تھی زمین کے تمام خزانے اس کی نظروں میں تھے ۔ اس نے آہستہ آہستہ بہت سے آدمی اپنے ساتھ ملائے اس کے بعد تمام سرداروں کو ادھر کردیا اور خود سردار بن گیا ۔ آخر نوبت یہاں تک آئی اس نے بادشاہ کے ساتھ بھی پکڑ لئے ۔ اسے مغلوب کرکے خود بادشاہ بن گیا۔ اس بچے کا نام شداد تھا ۔ اور یہ وہی بچہ تھا ۔ جس کی ماں تختے پر ہی مرگئی تھی ۔ اور یہ اکیلا دریا کی لہروں کے ساتھ بہہ رہا تھا ۔ کہتے ہیں کہ جب یہ برسر اقتدار آیا تو اس نے حکم دیا کہ ایک ایسا کمال درجے کا شہر آباد کیا جائے جس کی ایک اینٹ سونے کی اور ایک چاندی کی ہو۔ اس میں ایک عالی شان باغ ہو۔ جس میں دنیا کی ہر چیز میسر ہو جب وہ باغ ہر لحاظ سے مکمل ہوگیا ۔ تو شداد نے ارادہ کیا کہ جاکر اس کا نظارہ کرے ۔ مگر ابھی وہ دروازے تک ہی پہنچا تھا کہ ملک الموت کو حکم ہوا۔ اور اس نے وہیں اس کی جان قبض کرلی اسے اتنا موقع بھی نہ دیا کہ اپنے بےمثال باغ کو ایک نظر دیکھ سکتا ۔ ملک الموت نے کہا اے مولا کریم ۔ اس شخص کی روح قبض کرتے وقت بھی مجھے نہایت صدمہ پہنچا ۔ کہ وہ شخص ہر چیز تیار کرکے اسے دیکھ بھی نہ سکا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ وہی بچہ ہے جس کی ماں تختے پر مرگئی تھی اور تجھے اس پر ترس آیا تھا۔ اس بچے نے بڑے ہو کر نافرمانی کی خدا کے حکم سے بغاوت کی سرکشی اختیار کی ۔ مگر ہم نے اسے خود ساختہ جنت میں قدم رکھنے کی بھی مہلت نہ دی ۔ اور اسے باہر ہلاک کردیا ۔ اسی باغ کے متعلق مشہور ہے کہ وہ دنیا میں موجود ہے ۔ مگر انسانی نظروں سے اوجھل ہے ۔ امیر معاویہ کے زمانہ میں ایک صحابی کا اونٹ گم ہوگیا تھا ۔ وہ اونٹ کی تلاش میں کہیں اس علاقے میں جا نکلا تو اللہ تعالیٰ نے اسے وہ سب کچھ دکھا دیا تھا ۔ وہ صحابی وہاں کی کوئی نشانی بھی ساتھ لایا تھا ۔ اس نے یہ واقعہ حضرت امیر معاویہ کے پاس بیان کیا انہوں نے کافی تلاش کرایا مگر کسی کو نہیں ملا۔ اللہ تعالیٰ نے غائب کردیا۔ (سزا کا کوڑا ) بہرحال اللہ تعالیٰ نے مغرور اور سرکش لوگوں کی تین مثالیں بیان فرمائی ان میں ایک قوم عاد جو یمن میں آباد تھی ۔ دوسری قوم ثمود جو عرب کے شمال میں آباد تھی ۔ اور تیسرا فرعون جو مصر میں محدود نہیں ہے ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے دنیا کے مختلف علاقوں کی تین مثالیں بیان کرکے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ ان لوگوں نے خدا کے قانون کے ساتھ بغاوت کی خود سری اختیار کی اور یہ وہی لوگ ہیں الذین طغوا فی البلاد جنہوں نے شہروں میں سرکشی کی فاکثروا فیھا الفساد اور اس میں بہت زیادہ فساد برپا کیا ۔ لوگوں پر ظلم و زیادتی کرتے رہے ۔ غرور اور تکبر میں مست رہے ۔ ان کو سب سے بڑی بیماری جو لاحق تھی وہ شرک کی بیماری تھی ۔ جو ان کے رگ اور ریشہ میں سرایت کرچکی تھی ۔ ان تمام خرابیوں کا نتیجہ یہ ہوا فصب علیھم ربک سوط عذاب تیرے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ اور سب کو ٹھکانے لگا دیا ۔ کسی ایک کو بھی باقی نہ چھوڑا۔ ان ربک لبا لمرصاد تیرا رب گھات میں لگا ہوا ہے۔ وہ گھات جہاں سے ہر ایک کی نگرانی ہوتی ہے اور جسے خطیرۃ القدس کہا جاتا ہے ، جس طرح شکاری گھات میں لگا ہوتا ہے۔ جونہی شکار کو غافل پاتا ہے ، فوراً حملہ کردیتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی نگرانی کرتے ہیں۔ جب کوئی شر و فساد میں حد سے تجاوز کرجاتا ہے۔ تو اللہ کے حکم سے سزا کا کوڑا برستا ہے اور تمام فسادی ہلاک ہوجاتے ہیں۔ الغرض اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم کھا کر یہی ارشاد فرمایا کہ تیرا رب مغرور لوگوں کو ضرور سزا دے گا۔ اور اس ضمن میں دنیا کے مختلف خطوں سے تین نمونے بھی دکھا دیے۔
Ayahs 89:15–20

فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِؕ Open ayah 89:15 in the Quran reader

بہر حال انسان کہ جب اس کا رب اسے آزماتا ہے اور اس کو عزت دیتا ہے اور اس کو نعمت بخشتا ہے۔ تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میری عزت کی

وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِۚ Open ayah 89:16 in the Quran reader

اور بہرحال انسان کہ جب اس کا رب اسے آزماتا ہے اور اس پر اس کی روزی تنگ کردیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا

كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 89:17 in the Quran reader

ایسا ہرگز نہیں ! بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے

وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِۙ Open ayah 89:18 in the Quran reader

اور مسکین کے لئے کھانا مہیا کرنے کی طرف کسی کو ترغیب نہیں دلاتے

وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ Open ayah 89:19 in the Quran reader

اور تم وراثت کو سمیٹ سمیٹ کر کھاتے ہو

وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ Open ayah 89:20 in the Quran reader

اور تم مال سے جی بھر کر محبت کرتے ہو۔

گزشتہ سے پیوستہ ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کی قسم اٹھا کر یہ بات سمجھائی کہ دنیا میں تکبر کرنے والوں کو آخرت میں ضرور سزا ملے گی۔ پھر مثال کے طور پر عاد ، ثمود اور فرعون کا ذکر فرمایا ” کیف فعل ربک بعاد “ یہ تمام لوگ وہ تھے جنہوں نے شہروں میں سرکشی اختیار کی ، فساد برپا کیا ، تو تیرے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ کیونکہ تیرا پروردگار نگرانی کر رہا ہے ۔ وہ گھات میں ہے اور دیکھ رہا ہے۔ یہ لوگ خود بادشاہ تھے یا بادشاہ پرست تھے۔ انسانوں کی چار قسمیں کل چار قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ جن میں سے تین قسم کے لوگ ناکام ہوتے ہیں اور چوتھا گروہ کامیاب ہوتا ہے۔ قرآن پاک کے اس مقام پر صرف دو قسم کے لوگوں کا ذکر ہے جن کی مثال عاد ثمود یا فرعون سے دی گئی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو یا تو خود بادشاہ تھے۔ یا بادشاہ پرست تھے۔ بادشاہ پرست وہ لوگ ہوتے ہیں۔ جو بادشاہ کی ہاں میں ہاں ملانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ خواہ بادشاہ کی رائے صحیح ہو یا غلط اور یہ دونوں طبقے ہلاک ہوتے ہیں ، تیسرا طبقہ پرست ہے۔ جسے سرمایہ پرست یا سرمایہ دار بھی کہتے ہیں۔ آیات زیر درس میں اس گروہ کا حال بیان ہو رہا ہے اور پھر سورة کے آخر میں چوتھے گروہ کا حال آئے گا۔ جو کامیاب و کامران ہے اور جس کو فلاح نصیب ہوگی۔ یہ وہ طبقہ ہے جو ایمان کی دولت سے مالا مال ہے اور جس کے دل میں بنی نوع انسان کی ہمدردی موجزن ہے۔ زرپرست طبقہ ارشاد ہوتا ہے ۔ فاما الانسان اذا ما ابتلہ ربہ بہر حال انسان جب اس کا رب اسے آزماتا ہے۔ فاکرمہ اس کو عزت دیتا ہے۔ ونعمہ اور اس کو نعمت بخشا ہے فیقول پس وہ انسان کہتا ہے۔ ربی اکرمن میرے رب نے میری عزت کی۔ واما اذا مابتلہ اور بہرحال انسان کہ جب اس کا رب اس کو آزماتا ہے۔ فقدر علیہ رزقہ اور اس پر روزی تنگ کردیتا ہے۔ فیقول ربی اھانن تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا ہے۔ یہی وہ تیسرا طبقہ ہے کہ جسے جب نعمت ملتی ہے تو خوش ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ میری بڑی عزت افزائی ہوئی میں اسی چیز کا حقدار تھا۔ وہ سمجھتا ہے کہ اسے جو نعمت حاصل ہوئی ہے۔ وہ اسے اپنے ذاتی کمال اور ہنر کی وجہ سے ملی ہے۔ قارون کے واقعہ میں موجود ہے۔ جب اسے یاد دلایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے مال میں اللہ کا حق بھی ادا کرو۔ تو کہنے لگا اللہ نے مجھے مال و دولت کہاں دیا ہے ” انما اوتیتہ علی علم عندی ، بلکہ یہ تو مجھے میرے علم و ہنر کی بنا پر ملا ہے ، مجھ پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے۔ میں نے اپنی محنت سے مال اکٹھا کیا ہے۔ میں اس میں سے زکوۃ وغیرہ دینے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ آج بھی اکثر لوگوں کی یہی ذہنیت ہے۔ دولت آتی ہے۔ تو سمجھتے ہیں کہ ہم نے سائنس ، ٹیکنالوجی صنعت و حرفت یا تجارت کے ذریعے کمائی ہے ، وہ اسے اللہ تعالیٰ کا فضل یا اس کی مہربانی نہیں سمجھتے ، قرآن پاک نے مشرکین کا حال بھی اسی طرح کا بیان کیا ہے ، وہ بھی کہتے تھے نحن اکثر اموالاً و اولادا وما نحن بمعذبین ہمارے پاس مال اور اولاد کی فراوانی ہے۔ ہمیں سزا نہیں مل سکتی ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں دولت اس لئے ملی ہے کہ ہم اس کے اہل ہیں۔ کم عقل یہ نہیں سمجھتے کہ دولت کا میسر آنا یا اس کا نہ ملنا آزمائش کے طور پر ہوتا ہے خدا تعالیٰ مال و زر عطا کر کے آزماتا ہے کہ یہ میرا شکریہ ادا کرتا ہے۔ یا کفران نعمت کرتا ہے۔ میرے حقوق ادا کرتا ہے یا غصب کرتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات انسان کو مال سے محروم کر کے آزماتا ہے کہ اس حالت میں انسان کون سا رویہ اختیار کرتا ہے۔ خدا سے شکوہ فرمایا کہ جب کسی کے پاس مال کی قلت ہوجاتی ہے ، اللہ تعالیٰ روزی تنگ کردیتا ہے۔ تو پھر وہ خدا تعالیٰ کا شکوہ کرتا ہے کہ اس نے مجھے ذلیل کردیا۔ وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھ پاتا کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہے وہ مجھے جانچنا چاہتا ہے کہ ایسی حالت میں میں کہاں تک صبر و شکر کا دامن تھام سکتا ہوں۔ اس کے برخلاف وہ خدا پر الزام تراشی کرنے لگتا ہے کہ اس نے اسے ذلیل و رسوا کردیا۔ اس قسم کے زرپرست لوگ دولت میسر آجانے پر اپنے آپ کو خدا کا محبوب سمجھنے لگتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ہم خدا کے لاڈلے ہیں ، جبھی تو ہمیں مال و دولت حاصل ہوئی۔ مشرکین مکہ بھی کہتے تھے کہ خدا ہم پر راضی ہے۔ وہ بھی اس وہم میں مبتلا تھے۔ حالانکہ مال و دولت کی فراوانی خدا کے محبوب ہونے کی دلیل نہیں بلکہ یہ تو حکمت خداوندی کی بنا پر ملتی ہے۔ ” ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض “ اگر اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کے لئے رزق کے یکساں دروازے کشادہ کردیتا ہے ، تو وہ سرکشی میں مبتلا ہوجاتے۔ ” ولکن ینزل بقدر ما یشآء “ مگر رزق تو اللہ تعالیٰ اپنے خاص اندازے کے مطابق نازل فرماتا ہے ، اللہ تعالیٰ مصلحت کو بہتر جانتا ہے۔ انسان نہیں سمجھ سکتا۔ بعض اوقات خدا تعالیٰ نیکو کار لوگوں کو تنگی میں مبتلا کرتا ہے۔ ان کے درجات بلند کرنا مقصود ہوتا ہے اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اپنے نافرمان بندوں کو آسودگی عطا کر کے ان کی آزمائش کرتا ہے۔ محض مال کی فراوانی محبوب ہنے کی نشانی نہیں بلکہ کامیابی کا مدار تو نیکی اور اعمال صالحہ پر ہے۔ عربی کا محاورہ ہے عزۃ الدنیا بالمال وعزۃ الاخرۃ بالاعمال یعنی دنیا کی عزت عام طور پر مال کے ذریعے حاصل ہوتی ہے اور آخرت کی سرخروئی نیک اعمال کی بدولت ملتی ہے ، مگر مال و دولت کی فراوانی کامیابی کی دلیل نہیں ہے۔ مال تو فرعون کو بھی اللہ نے بہت دیا مگر وہ خدا کا محبوب نہیں تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مالی لحاظ سے کوئی وقعت نہیں تھی ، مگر خدا کے جلیل القدر پیغمبر تھے۔ الغرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فراخی اور تنگی اللہ تعالیٰ کی حکمت کی بنا پر آتی ہے۔ تاکہ وہ تمہیں آزمائے اور یہ جانچ سکے کہ تم اس کے مقرر کردہ ضابطے پر عمل کرتے ہو یا اس کے خلاف چلتے ہو۔ یتیم اور مسکین پروری فرمایا کہ تمہارے رزق میں تنگی اللہ تعالیٰ ذاتی عناد کی بنا پر نہیں کرتا کلا ایسا ہرگز نہیں جیسا تم سمجھ رہے ہو۔ بل لا تکرمون الیتیم بلکہ تنگی رزق کی وجہ یہ ہے کہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ تم پر ناراض ہو کر تمہیں ذلیل کرتا ہے۔ یتیم کی عزت سے ہاتھ کھینچ کر تم جرم کے مرتکب ہو رہے ہو۔ بیٹے اور بیٹی کی عزت تو کرتے ہو۔ مگر ایک بےکس اور بےسہارا یتیم کی خبر گیری نہیں کرتے۔ اسی طرح نوع انسانی کے کمزور طبقوں مساکین وغیرہ کی اعانت کا کوئی انتظام نہیں کرتے۔ اپنی خوشحالی کا ہر ان فکر رہتا ہے۔ مگر معاشرے کے نادار افراد کی ضروریات کی طرف دھیان نہیں دیتے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ولا تحضون علی طعام المسکین ۔ مسکین کے لئے کھانا مہیا کرنے کی طرف کسی کی توجہ نہیں دلاتے ۔ کسی کو اس بات پر برانیگختہ نہیں کرتے کہ وہ مساکین کے معاش کا بندوبست کرے۔ یہ ہیں وہ اسباب جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ رزق تنگ کردیتا ہے اور انسان کہتا ہے کہ اللہ نے اسے ذلیل کردیا ۔ اللہ تعالیٰ تو چاہتا ہے کہ یتیم اور مسکین کی پرورش کی جائے مگر ادھر زر پرست لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ یتیموں اور مسکینوں کا حق بھی لوٹ کھسوٹ کے ذریعے کھا جاتے ہیں۔ حدیث پاک میں حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔ خیر بیت فی المسلمین فیہ یتیم یحسن الیہ مسلمانوں کا بہترین گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ احسان کیا جا رہا ہو۔ اسی طرح فرمایا وشربیت فی المسلمین یسآء الیہ بدترین گھرانا وہ ہے جس میں تیم موجود ہو اور اس سے بدسلوکی کی جا رہی ہو۔ ینامی اور مساکین کی پرورش کے لئے قرآن پاک میں بہت کچھ آیا ہے بڑی ترغیب دلائی گئی ہے۔ اسی طرح طبقے کے اس محروم گروہ کی حق تلفی پر بھی سخت وعید آئی ہے۔ ” ان الذین یاکلون اموال ایتمی ظلماً انما یاکلونبطونھم ناراً جو لوگ یتیم کا ناحق مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ ڈال رہے ہیں۔ حالانکہ اللہ کا فرمان ہے کہ معاشرے کے کمزور لوگوں کا خیال رکھنا چاہئے۔ جو سوسائٹی اپنے کمزور طبقوں کا خیال نہیں رکھتی۔ وہ تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔ یہ بہت بڑا ظلم ہے کہ انسان اپنے عیش و آرام میں محور ہے دولت کی فراوانی سے کھیلتا رہے۔ لہو و لعب پر بےدریغ خرچ کرتا رہے۔ مگر یتیم و مسکین کی طرف سے آنکھیں پھیر لے۔ اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اسے مال و دولت دے کر آزما رہا ہے کہ وہ اپنے جیسے ہی بھائی بندوں کی کیا خدمت کرتا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے انا وکافل الیتیم کھا تین یعنی میں اور یتیم کا پرورش کرنے والا قیامت کے روز ساتھ ساتھ ہوں گے۔ آپ نے تو یتیم پروردی کی اس حد تک ترغیب دلائی۔ مگر یہ زر پرست اس طرف سے بالکل غافل ہوگیا ہے۔ ایک شخص نے عرض کیا۔ حضور ! میرے دل میں کچھ سختی پیدا ہوگئی ہے۔ میں اپنے آپ میں سنگدلی پاتا ہوں۔ آپ نے فرمایا یتیم کے سر پر ہاتھ رکھو خدا تمہاری سنگدلی دور کر دے گا۔ الغرض فرمایا کہ ذلت کے یہ دو اسباب ہیں کہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے اور مسکین کے معاش کا انتظام نہیں کرتے۔ اگر خود یہ کام نہیں کرتے تو اس سے ادنیٰ درجے کا کام یہ ہے کہ کسی دوسرے کو ہی اس کام پر آمادہ کر دو کہ وہ یتیم کے ساتھ احسان کرے۔ وراثت میں حق تلفی ذلت کا تیسرا سبب اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا وتاکلون التراث اکلا لما یعنی تم وراثت کو سمیٹ سمیٹ کر کھاتے ہو۔ مطلب یہ کہ حلال و حرام کی تمیز روا نہیں رکھتے۔ اپنا حصہ بھی کھا گئے اور دوسروں کا حصہ بھی ۔ بہنوں کے حصے کی وراثت بھی خود ہی ہضم کر گئے اس بات کا خیال ہی نہیں کیا کہ حرام کھا رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ مولانا محمد قاسم نانوتوی کے والد شیخ اسد علی نے وراثت میں اپنی بہنوں کا حق ادا نہیں کیا تھا۔ ساری زمین اپنے پاس رکھ لی۔ جب مولانا تعلیم حاصل کرنے کے بعد گھر آئے تو اس معاملہ میں والد صاحب سے اختلاف پیدا ہوگیا۔ آپ نے سمجھانے کی کوشش کی کہ بہنوں کا حق ادا کرنا چاہئے۔ جب والد صاحب اس پر رضا مند ہوئے ، تو مولانا نے علیحدگی اختیار کرلی۔ گھر سے کھانا کھانا ترک کردیا۔ کیونکہ اس میں دوسروں کا حق ملا ہوا تھا آہستہ آہستہ باپ کو سمجھ آگئی اور اس نے بہنوں کا حق ادا کیا۔ اس کے بعد حضرت مولانا نے گھر سے کھانا کھانا شروع کردیا۔ اس قسم کی بیشمار مثالیں آج بھی موجود ہیں کہ طاقتور کمزور کا حق کھا گئے۔ ایک بھائی آٹھ بہنیں ہیں۔ مگر بھائی اکیلا ہی سارا مال کھا گیا۔ کسی کو کچھ نہیں دیا۔ حالانکہ یہ قطعی حرام ہے مگر آج کون تمیز کرتا ہے۔ سمیٹ سمیٹ کر کھانے کا مطلب یہی ہے کہ حلال و حرام کا امتیاز اٹھ جائے۔ نتیجہ ظاہر ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسا کرنا ہلاکت اور تباہی کو دعوت دینا ہے دنیا میں بھی ذلت اٹھائے گا اور آخرت میں بھی خدا کے غضب کا نشانہ بنے گا کہ حقوق العباد میں کوتاہی کی ہے۔ بیگانہ مال کھانا کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے ” ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل “ ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے مت کھائو۔ یہ حرام ہے۔ مال کی محبت ذلت کا چوتھا سبب یہ فرمایا وتحبون المال حباً جماً تم مال سے جی بھر کر محبت کرتے ہو۔ یعنی مال کی محبت میں اس قدر منہمک ہوجاتے ہو کہ جائز اور ناجائز کا فرق ختم ہوجاتا ہے مال کی محبت ایک فطری امر ہے۔ بشرطیکہ جائز حد تک ہو اللہ تعالیٰ نے بھی ارشاد فرمایا ” وانہ لحب الخیر لشدید “ بیشک مال کی محبت میں انسان پکا ہے۔ مگر یہ اتنی غالب نہیں آ جانی چاہئے جس سے صحیح اور غلط ، حلال و حرام ، جائز اور ناجائز کا امتیاز باقی نہ رہے۔ یہ مال فرائض سے غافل نہ کر دے ہر وقت مال سمیٹنے کی فکر ہے ، نہ نماز کی پرواہ ہے۔ اور نہ زکواۃ ادا کرنے کی فرصت ہے۔ یتیم اور مسکین کی طرف محبت بھری نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا حج فرض ہوچکا ہے۔ مگر اسے اپنے کاروبار سے فرصت نہیں۔ یہ چیز مذموم ہے۔ اس پر ضرور مئواخذہ ہوگا اور یہی چیز ہے جسے اللہ نے ذلت کا چوتھا سبب قرار دیا ہے۔ مسلم شریف کی روایت میں ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے۔ مال خدا کی نعمت ہے اگر یہ جائز طریقے سے حاصل ہو۔ تو اچھا ساتھی ہے۔ اس مومن کا لمن ادحق اللہ جو مال میں سے اللہ کا حق ادا کرتا ہے۔ اس کے حق میں مال بہتر ہے۔ اور جو شخص حق ادا نہیں کرتا۔ مال کی محبت میں منہمک ہے ۔ نہ اللہ کا حق ادا کرتا ہے اور نہ اس کے بندوں کا۔ نہ فرائض کا فکر ہے۔ نہ نوافل کا تو ایسے شخص کے لئے یہی مال و بال جان ہے اور ذلت کی وجہ ہے۔ الغرض فرمایا پہلے تینوں گروہ یعنی بادشاہ ، بادشاہ پرست اور زرپرست یہ سب ناکام ہیں۔ اس دنیا میں بھی انہیں ذلت و رسوائی حاصل ہوتی ہے اور آخرت میں بھی ان کا محاسبہ ہوگا۔ اگلی آیات میں اس چوتھے گروہ کا حال آئے گا۔ جو دنیا اور آخرت دونوں جگہ کامیاب ہے۔ یہ وہی گروہ ہے جو ایمان کے نور سے منور ہوا۔ اور خدمت انسانی کا جذبہ اپنے اندر پیدا کیا۔
Ayahs 89:21–30

كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ Open ayah 89:21 in the Quran reader

خبردار ! جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ کردیا جائے گا

وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ Open ayah 89:22 in the Quran reader

اور تیرا رب آئے گا اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے

وَ جِایْٓءَ یَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ یَوْمَئِذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 89:23 in the Quran reader

اور اس دن جہنم کو لایا جائے گا اس دن انسان یاد کرے گا اور کہاں فائدہ دے گا اس کو یاد کرنا

یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ Open ayah 89:24 in the Quran reader

کہے گا انسان کاش میں نے اپنی اس زندگی کے لئے آگے کچھ بھیجا ہوتا

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ Open ayah 89:25 in the Quran reader

پس اس دن نہیں سزا دے گا اس جیسی سزا کوئی

وَّ لَا یُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 89:26 in the Quran reader

اور نہیں جکڑے گا اس جیسا جکڑنا کوئی

یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُۗۖ Open ayah 89:27 in the Quran reader

(ارشاد ہوگا) اے اطمینان والے نفس

ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ Open ayah 89:28 in the Quran reader

اپنے رب کی طرف لوٹ جائو اس حالت میں کہ تم خود بھی خوش ہو گے اور خوش کئے ہوئے

فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ Open ayah 89:29 in the Quran reader

پس میرے بندوں میں شامل ہو جائو

وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠ Open ayah 89:30 in the Quran reader

اور میری جنت میں داخل ہو جائو۔

گزشتہ سے پیوستہ سورۃ کے ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے چند چیزوں کی قسم اٹھائی ” والفجر ولیال عشر “ دس راتوں سے بالعموم رمضان المبارک کی آخری دس راتیں مراد لی جاتی ہیں۔ کیونکہ اسی آخری دہا کے میں قرآن پاک کا نزول ہوا جو کہ نوع انسانی کے لئے چشمہ ہدایت ہے۔ اس کے بعد جفت اور طاق یعنی ذی الحجہ کی نویں اور دسویں تاریخ کی قسم کھائی ، جب لوگ حج کے لئے جمع ہوتے ہیں اور سنت ابراہیمی کے اتباع میں قربانی کرتے ہیں۔ قرآن پاک لوگوں کے سامنے صحیح پروگرام پیش کرتا ہے جس پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہوتی ہے جو کہ کسی انسان کا منتہائے مقصود ہو سکتا ہے قربانی کا مقصد بھی یہی ہے۔ کہ اللہ کی محبت سے سرشار ہو۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے حکم الٰہی کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے۔ اس کی محبت کے حصول کے لئے قربانی پیش کی تھی ، اور قرآن پاک کا پروگرام انسان میں یہی جذبہ پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اس مقام پر عقل کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ کیا ان باتوں میں عقلمندوں کے لئے مقام غور و فکر نہیں ہے کہ انسان اپنی عقل کے مطابق قرآن کریم کے بتائے ہوئے پروگرام پر عمل پیرا ہو تاکہ اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہو ، اور وہ ترقی کی منازل طے کرتا چلا جائے ۔ یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت کی کشش ہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو قربان گاہ پر لے گئی اور انہوں نے اپنی طرف سے قربانی پیش کردی۔ اگر ایسی محبت خداوندی پیدا ہوجائے۔ تو پھر قوم کی وہ حالت نہیں ہوگی ، جو قوم عاد اور ثمود کی ہوئی۔ پھر نہ کوئی بادشاہ اپنی بادشاہت پر غرور کرے گا اور نہ کوئی بادشاہ پرست جھوٹی خوشامد کرے گا۔ اسی طرح کوئی زرپرست مال و دولت کو ہی اول و آخر نہیں سمجھ بیٹھے گا۔ بلکہ مستحقین کے حقوق ادا کر کے اپنی مال کا تزکیہ کرلے گا۔ محاسبہ لازمی ہے مال کے پجاری اور دولت کے پرستار سمجھتے ہیں کہ ان کی عیش و عشرت اسی طرح قائم رہے گی۔ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ ایسے لوگ سخت غفلت میں مبتلا ہیں۔ اس غفلت و نادانی کا نتیجہ اچھا نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کلا ہرگز نہیں ۔ یعنی ان لوگوں کا خیال باطل ہے کہ ان کا محاسبہ نہیں ہوگا۔ فرمایا ایک وقت آنے والا ہے جب ہر شخص کے اعمال سامنے آئیں گے۔ اس سے بازپرس ہوگی اگر اس کے دل میں خدا کی محبت موجود ہے۔ وہ فرائض ادا کرتا رہا ہے توترقی کی منزل پر پہنچے گا اور اگر اس نے اپنی زندگی غفلت میں گذار دی ہے خدا کے حکم کی نافرمانی کرتا رہا ہے تو خدا کی گرفت سے بچ نہیں سکے گا۔ اسی لئے زجر کا لفظ فرمایا کلا خبردار ! ایسا نہیں ہوگا۔ بلکہ محاسبے کی منزل آگے آنے والی ہے۔ زمین کوٹ دی جائیگی وہ منزل کب آئے گی اذا دکت الارض دکا دکاً جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔ جیسے فرمایا ” ینسفھا ربی نسقاً “ پہاڑ گرد بن جائیں گے۔ وہ منزل اس وقت آئے گی۔ کائنات کا یہ موجودہ نظام ختم ہوجائے گا۔ زمین کو ملیا میٹ کردیا جائے گا۔ یہ آلات تبدیل کردیئے جائیں گے۔ یہاں پر زمین کی طرف اشارہ کر کے بات سمجھادی ۔ باقی باتیں پہلے گذر چکی ہیں کہ آسمان پھٹ جائیں گے۔ فرشتے بھاگ کر کنارے پر پہنچ جائیں گے۔ ستارے ٹوٹ جائیں گے اور سمندر خشک ہوجائیں گے۔ وہغیرہ وغیرہ فرمایا وہ محاسبے کی منزل اس وقت آئے گی جب یہ سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ فرشتے صفہ بستہ کھڑے ہوں گے جب یہ وقت آئے گا تو پھر وجآء ربک تیرا رب آئے گا یعنی اس کا نزول قہری تجلی سے ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنی قہری تجلی کے ساتھ اس دن ظاہر ہوگا۔ والملک صفا صفا اور اس دن فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے۔ نہایت عاجزی کے ساتھ قطار در قطار موجود ہوں گے۔ سب سے آگے اللہ کے مقرب ترین فرشتے یعنی حاملین عرش ہوں گے پھر حول العرش والے یعنی عرش کے قرب و جوار والے۔ اس کے بعد آسمان والے پھر زمین والے۔ سب درجہ بدرجہ صفیں باندھے کھڑے ہوں گے۔ جہنم قریب کردی جائیگی میدان محشر برپا ہوگا وجآیء یومئذ بجھنم اور اس دن جہنم کو اس میدان کے قریب کردیا جائے گا۔ تمام لوگ جمع ہوں گے۔ خدا تعالیٰ اپنی قہری تجلی کے ساتھ نزول فرمائے گا۔ اور قریب دوزخ ہوگی۔ جسے دیکھ کر لوگ دہشت زدہ ہوجائیں گے۔ مسلم شریف کی حدیث میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے۔ کہ میدان حشر میں جہنم کو لائے جانے کی کیفیت یہ ہوگی کہ اللہ کے فرشتے دوزخ کو ستر ہزار زنجیروں کے ذریعے کھینچ کر لائیں گے۔ ہر زنجیر کو کھینچنے کے لئے ستر ہزار فرشتے مقرر ہوں گے ، جو اسے اس طرح کھینچ کر میدان حشر کے قریب لائیں گے جس طرح کسی بڑی کشتی یا جہاز کو کھینچ کر لایا جاتا ہے۔ دوسری روایت میں آتا ہے کہ دو سو سال کی مسافت سے جہنم کا جوش و غضب نظر آنے لگے گا اور دہشت کے مارے لوگ نفسی نفسی پکاریں گے۔ یہ حالات ابتدائے محشر میں ہوں گے۔ اس کے بعد جب قدرے سکون ہوگا ، تو درجہ بدرجہ محاسبے کا عمل شروع ہوجائے گا۔ اس دن کی نصیحت بےسود ہو گی فرمایا جب انسان یہ حالات دیکھے گا تو یومئذ یتذکر الانسان تو اس دن انسان یاد کرے گا ، ہائے میں نے قرآن پاک کا پروگرام سنا ہی نہیں تھا۔ میں اللہ کی محبت سکھانے والے لوگوں کے قریب تک نہ گیا۔ میں نے اللہ کے نبیوں کی بات بھی ٹھکرا دی تھی۔ اس دن اس کو نصیحت یاد آئے گی۔ اور وہ اپنے کئے پر افسوس کا اظہار کرے گا۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ والی لہ الذکری آج اسے نصیحت کہاں فائدہ دے گی ۔ نصیحت پکڑنے کا وقت ضائع کرچکا ہے۔ آج اس کف افسوس ملنا کسی کام نہ آئے گا۔ ایک روایت میں آتا ہے ۔ حضور ت (علیہ السلام) کے صحابی محمد بن عمرہ فرماتے ہیں کہ اس دن یہ کیفیت ہوگی کہ اگر انسان پیدا ہوتے ہی سجدہ ریزہو جاتا اور عمر بھر خدا کی عبادت میں مصروف رہتا تو وہ دن ایسا ہوگا کہ وہ انسان پھر بھی افسوس کرے گا کہ مولیٰ کریم میں تیری بندگی کا حق ادا نہ کرسکا۔ اس دن نیکو کار بھی افسوس کریں گے ، کاش کہ کچھ اور نیکی کرلیتے تو آج کام آتی بدکار تو سخت افسوس کریں گے کہ انہوں نے تو زندگی ہی برباد کردی۔ کہیں گے اللہ نے ہمیں زندگی دی ، مہلت دی مگر ہم نے کچھ نہ کیا۔ ساری عمر ضائع کردی اس دن انسان کہے گا یقول ییتنی قدمت لحیاتی۔ کاش میں نے اس زندگی کے لئے کچھ آگے بھیجا ہوتا۔ کوئی اچھا کام کیا ہوتا جو آج کام آتا ہے۔ خدا کی محبت حاصل کی ہوتی کہ آج کسی کام آتی۔ خدا کی سزا بڑی سخت ہو گی فیومئذ پس اس دن اللہ تعالیٰ اتنی سخت سزا دے گا لایعذب عذابہ احد کہ اتنی سخت سزا کوئی نہیں دے گا ، اللہ کی سزا آج انسان کی سمجھ میں نہیں آسکتی۔ شاہ عبدالعزیز فرماتے ہیں کہ دنیا کی سزا میں جسمانی سزائیں ہیں کسی کو مارا پیٹا یا جیل میں ڈال دیا ۔ یہ سزائیں انسا نبرداشت کرسکتا ہے ۔ کیونکہ ان سزائوں کا اثر انسان کے دماغ پر نہیں ہوتا۔ مگر اللہ تعالیٰ آخرت میں ایسی سزا دے گا کہ مجرمین کے خیال اور دماغ کو بھی سزا میں پابند کر دے گا۔ کسی دوسری طرف لگنے ہی نہیں دے گا۔ یہ ذہنی سزا ہوگی۔ جس میں بیحد کوفت ہوگی۔ اس کا تصور اس دنیا میں نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس سزا میں ایسا جکڑے گا ولا یوثق وثاقہ احد کہ ایسا جکڑنے والا اور کوئی نہیں۔ خدا تعالیٰ کی گرفت اتنی سخت ہوگی۔ سورة ھمزۃ میں اس کا نقشہ یوں کھینچا گیا ہے۔ ” انما علیھم موصدۃ (A) فی عمد ممدد (A) “ مجرموں کو جہنم کے ستونوں میں بند کر کے اوپر ڈھکنے لگا دیئے جائیں گے اور وہاں سے نکلنے کی کوئی صورت نہ ہوگی۔ یہ اس لئے ہوگا کہ انہوں نے قرآن پاک کے پروگرام کو نہیں اپنایا۔ اللہ کی محبت حاصل نہیں کی۔ کفر و شرک میں غرق رہے توحید سے منہ موڑا ، ظلم و زیادتی کے مرتکب ہوئے۔ مال و دولت سے محبت کی۔ انسان پرستی میں مبتلا ہوئے وغیرہ وغیرہ۔ نفس مطمئنہ کے لئے انعامات اس سے پہلے بادشاہ ، بادشاہ پرست اور زرپرست تینوں گروہوں کی ناکامی کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ اب اس چوتھے گروہ کا بیان ہے۔ جو صاحب ایمان اور بنی نوع انسان کا ہمدرد ہے اس کے دل میں اللہ کی محبت جاگزیں ہے۔ اور وہ اللہ کی اطاعت کرنے والا ہے۔ اس گروہ کو خطاب ہو رہا ہے یایتھا النفس المطمئنۃ اے اطمینان والے نفس ، جسے دنیا میں اللہ کے احکام پر اطمینان حاصل تھا۔ اسے یقین تھا کہ نیکی یہی ہے اور اسی میں فلاح ہے اسے اللہ تعالیٰ کے احکام کے متعلق کوئی شک و شبہ نہیں تھا۔ اسے روحانیت اور اطمینان قلب حاصل تھا کیونکہ اطمینان قلب اللہ کے ذکر سے حاصل ہوتا ہے۔ ” الا بذکر اللہ تطمئن القلوب “ ایسے ہی لوگوں کو کہا جائے گا کہ نفس مطمئنہ ! ارجعی الی ربک اپنے رب کی طرف لوٹ جائو۔ اس حالت میں کہ راضیۃ مرضیۃ تم خود ہی خوش ہو گے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں انعام و اکرام سے نوازا ہے اور خدا کی جانب سے بھی تمہیں خوش کیا جائے گا۔ یعنی تم راضی اور مرضی دونوں صفات کے حامل ہو گے جیسا فرمایا ” ؓ و رضواعنہ یعنی اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔ اس لئے کہ وہ لوگ اللہ کے ہر حکم پر راضی برضا تھے۔ ان کے دلوں میں انشراح تھا۔ اللہ نے انعام دے کر ان کو راضی کرلیا اور وہ خود بھی راضی ہوئے۔ عباد اللہ میں شمولیت اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوجانے کے بعد انہیں دوسرا انعام یہ دیا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے خاص بندوں کی جماعت میں شامل فرما لیں گے۔ حکم ہوگا فادخلی فی عبادی میرے بندوں میں داخل ہو جائو۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ خطاب عالم آخرت کا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کامیاب ہونے والوں کو اپنی خاص جماعت میں شمولیت کا حکم دیں گے۔ مگر موت کے وقت بھی اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کو یہی خوشخبری دی جاتی ہے۔ موت کے فرشتے بندئہ مومن کی روح کو کہتے ہیں کہ خدا کی رحمت اور اس کی رضامندی کی طرف نکلو ۔ برخلاف اس کے کافروں اور مشرکوں کو کہا جاتا ہے کہ خدا کے غضب اور ناراضگی کی طرف نکلو۔ اب تم پر اللہ کا قہر نازل ہوگا۔ الغرض حکم ہوگا کہ میرے ان بندوں کی جماعت میں شامل ہو جائو۔ جو دنیا میں میرے غلام تھے ۔ مجھ سے محبت رکھتے تھے میری توحید کے قائل تھے اور فرمانبرداری کرنے والے تھے۔ میری اس پاک سوسائٹی کے ممبر بن جائو۔ دنیا میں بھی یہی حال ہے۔ جو اچھی سوسائٹی حاصل کرے گا ، کامیاب زندگی گذارے گا اور جسے بری مجلس میسر آئی وہ دنیا میں بھی ناکام ہوگا۔ اور آخرت میں بھی ایسی لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مقام کی آرزو ہے۔ تو اچھی سوسائٹی اختیار کرو ، آخرت میں عباد اللہ کی جماعت میں شمولیت حاصل ہوگی۔ راضی برضا حضرت عبداللہ بن عباس مفسر قرآن ہیں۔ اسلامی حکومت میں گورنری کے عہدے پر فائز رہے۔ مگر آخری عمر میں سب کچھ چھوڑ کر تبلیغ دین میں مصروف ہوگئے۔ ساری عمر قرآن پاک ہی پڑھاتے رہے۔ امام ابن کثیر نے لکھا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس طائف میں رہائش پذیر ہوگئے ۔ جب آپ کی وفات ہوئی آپ کی میت رکھی گئی تو لوگوں نے دیکھا ایک عجیب و غریب پرندہ ظاہر ہوا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ وہ پرندہ اس جگہ میں داخل ہوگیا۔ جہاں آپ کی نعش رکھی تھی۔ مگر کسی شخص نے پرندے کو باہر نکلتے ہوئے نہیں دیکھا۔ سخت تعجب وہا تاہم جب انہیں قبرمبارک میں دفن کردیا گیا تو آواز آئی ” یایتھا النفس المطمئنۃ ، ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ “ یہ آواز ضرور آئی۔ مگر آواز دینے والا نظر نہیں آیا۔ غرضیکہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنی محبت میں سرشار ایمان والوں کے ساتھ ایسا بھی سلوک کرتا ہے۔ یہ اس کی خاص رحمت ہے جسے حاصل ہوجائے۔ حضرت خواجہ بہائو الدین زکریا ملتانی ، محدث ، فقیہ اور امام تھے۔ شیخ الاسلام کے لقب سے ملقب تھے۔ بڑے حق پرست تھے۔ بادشاہ بھی ان سے خوف کھاتے تھے۔ آپ نے لمبی عمر پائی۔ بیمار ہوئے تو بیٹا خدمت کرتا تھا۔ ظہر کی نماز ادا کر کے اپنے کمرے میں تشریف لے گئے۔ ایک بالکل اجنبی عجیب وضع قطع کا آدمی باہر سے آیا اور خواجہ صاحب کا پوچھا کہ ان سے ملاقات کا خواہشمند ہے۔ بیٹنے ملاقات کی وجہ دریافت کی۔ تو کہنے لگا یہ خط ابھی خواجہ صاحب کو دے دو ۔ بیٹا خط لے کر اندر گیا کھولا تو اس میں لکھا تھا یایتھا النفس المطئمنۃ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ “ بیٹا فوراً باہر آیا تاکہ مہمان کو دیکھے ، مگر وہ غائب ہوچکا تھا۔ اسی لمحہ واپس اندر گئے تو خواجہ صاحب واصل بحق ہوچکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ کرامت ظاہر کردی اور بتلا دیا کہ اس نے حضرت ملتانی کو اپنے بندوں میں شامل کرلیا ہے ۔ آخرت میں ہر کامل الایمان شخص کو اللہ تعالیٰ ایسا ہی خطاب فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو راضی اور مرضی کا خطاب دیا۔ پھر اپنے خاص بندوں کی جماعت میں شمولیت کی خوشخبری دی اور آخری انعام یہ دیا کہ وادخلی جنتی یعنی اے میرے بندے میری جنت میں داخل ہوجا کہ رحمت کا مقام یہی ہے۔ یہ تینوں انعامات اللہ تعالیٰ نے ترتیب کے ساتھ بیان فرما دیے۔ پہلے ان تین گروہوں کا ذکر آیا ، جو ناکام ہوئے۔ اب آخر میں چوتھے گروہ یعنی کامیاب گروہ کا حال بھی بیان کردیا اور واضح کردیا کہ فلاح صرف اسی پروگرام میں ملے گی۔ جو پروگرام قرآن پاک نے پیش کیا ہے۔ وہ قرآن پاک جو رمضان المبارک کی آخری دس راتوں میں نازل ہوا۔ اس کا عروج محبت الٰہی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) کو یہی محبت کھینچ کر کے لے گئی اور وہ باپ بیٹا قربانی کے لئے تایر ہوگئے۔ یہ وہی پروگرام ہے جو فلاح و کامیابی کا ضامن ہے۔