Ayahs 90:1–10شہر مکہ
ابتدائے سورة میں دو چیزوں کی قسم کھا کر بات سمجھائی گئی ہے پہلی قسم بلد یعنی شہر مکہ کی ہے اور دوسری والدوما ولد یعنی والد اور مولود کی چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ لا اقسم بھذا البلد یہاں لفظ لاتاکید کے لئے ہے۔ یعنی میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی وانت حل بھذا البلد اور آپ اترے ہوئے ہیں اس شہر میں حل ، حلول سے ہے۔ اور اس کا معنی اترنا ہے۔ مراد شہر مکہ مکرمہ ہے۔ جو کہ بلدہ طیبہ ، بلد الحرام اور عزت والا شہر ہے۔ قرآن پاک میں بلدہ طیبہ کا ذکر کئی مقامات پر آیا ہے۔ اس کی بڑی اہمیت ہے۔ کیونکہ اس میں بیت اللہ شریف واقع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو مرکز ہدایت اور حرمت والا شہر قرار دیا ہے اور اس کے خاص احکام ہیں۔ اس شہر پاک کا تذکرہ سورة تین میں وھذا البلد الامین “ کے الفاظ میں آتا ہے یعنی یہ امن والا شہر ہے۔ ایک دوسرے مقام پر آتا ہے کہ اس شہر میں اللہ کا گھر ہے۔ ” ومن دخلہ کان امنا ط جو اس میں داخل ہوگا اس کو امن نصیب ہوگا ، دنیا میں اس کا خون محفوظ ہوجائے گا اور اگر ایمان کے ساتھ داخل ہوگا۔ تو اسے دوزخ کی آگ سے امان حاصل ہوجائے گی۔ بہرحال یہ امن والا شہر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پاکیزہ شہر کی قسم اٹھائی ہے۔
عاشقان الٰہی کی بستی
یہ ایسا عزت اور برکت والا شہر ہے کہ دنیا کے کونے کونے سے اللہ سے محبت رکھنے والے لوگ کھینچے چلے آتے ہیں دوسرے الفاظ میں یہ عاشقان الٰہی کی بستی ہے۔ جب حضور ﷺ ہجرت کے لئے مکہ مکرمہ کو خیر باد کہے رہے تھے ، تو زبان مبارک سے فرما رہے تھے۔ ما اطیبک من بلد۔ خدا کی قسم تم کتنے پاکیزہ شہر ہو۔ خدا کی قسم اگر یہ لوگ مجھ کو یہاں سے نہ نکالتے ما سکنت فی غیرک تو میں تیرے سوا اور شہر میں نہ ٹھہرتا۔ مگر مجبور ہوں کہ کفار و مشرکین مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔ میری جان کے دشمن ہوچکے ہیں اس لئے مجبوراً تیرا پڑوس چھوڑ کر جا رہا ہوں۔
فرمایا قسم ہے اس شہر کی وانت حل بھذا البلد حل کا ایک معنی تو یہ ہے کہ آپ اس میں اترے ہوئے ہیں اور دوسرا معنی یہ ہے کہ یہاں پر آپ کے لئے لڑائی بھی حلال ہے یعنی آج تو آپ مجبوراً اس شہر کو چھوڑ رہے ہیں ۔ مگر ایک وقت آئے گا جب اس امن والے شہر میں آپ کے لئے لڑائی جائز ہوگی۔ اور آپ اس میں فاتحانہ انداز میں داخل ہوں گے آپ کے سامنے کوئی سر اٹھا کر نہیں چل سکے گا۔ اور پھر فتح مکہ والے دن ایسا ہی ہوا۔ آپ نے فرمایا جب سے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے۔ یہ شہر حرمت والا ہے۔ یہاں پر لڑائی جائز نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے تھوڑی دیر کے واسطے صرف میرے لئے حلال قرار دی اس کے بعد قیامت تک وہی قانون نافذ ہے کہ اس امن والے شہر میں لڑائی حلال نہیں ہے۔
انسان کسی وقت مشقت سے خالی نہیں
اللہ تعالیٰ نے پہلا گواہ شہر مکہ کو پیش کیا اور دوسرے گواہ کے طور پر ووالد وما ولد کا نام لیا۔ یعنی قسم ہے والد اور مولود کی یا آدم اور اولاد آدم کی۔ یہ دو قسمیں اٹھا کر اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھائی لقد خلقنا الانسان فی کبد ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا۔ خود یہ شہر گواہ ہے کہ اس شہر کو آباد کرنے میں کتنی مشقت اٹھانا پڑی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور حضرت ہاجرہ نے اس شہر کے بسانے میں کتنی تکلیفیں اٹھائیں۔ جیسا کہ قرآن پاک میں فرمایا واذ یرفع ابرھم القواعد من البیت واسمعیل اور اس بات کو ذرا دھیان میں رکھو جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسمعیل (علیہ السلام) بیت اللہ شریف کی دیواروں کو اونچا اٹھا رہے تھے۔ اور زبان سے یوں کہہ رہے تھے۔ ” ربنا تقبل منا ط انک انت المسیع العلیم “ اے خدا ! ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے۔ تو سننے والا اور جاننے والا ہے۔ گویا اتنی مشقت اٹھا کر وہیں گھر کو آباد کیا اور پھر وہاں کی پوری آبادی کو کتنی محنت و مشقت میں سے گذرنا پڑا۔
اسی طرح والد اور مولود یا آدم اور اولاد آدم بھی اس بات پر گواہ ہے کہ انسان کی پیدائش کتنی مشقت طلب ہے۔ بچے کا جننا ایک عورت کے لئے کتنا مشکل کام ہے۔ بعض اوقات اس میں جان بھی چلی جاتی ہے۔ قرآن میں یوں وضاحت ہے۔ ” حملتہ امہ ، کرھاً و وضعتہ کرھاً “ یعنی ماں حمل کے دوران بھی مشقت اٹھاتی ہے اور جنتے وقت بھی تکلیف برداشت کرتی ہے۔ اس کے بعد بچے کی تربیت بھی کتنا مشکل کام ہے جب انسان بڑا ہوجاتا ہے۔ کوئی کاروبار کرتا ہے۔ مزدوری کرتا ہے یا ملازمت اختیار کرتا ہے۔ تو کوئی بھی کام مشقت سے خالی نہیں۔ یہاں یہی بات سمجھانا مقصود ہے۔
انسان مکلف ہے
جب انسان کو ہر قدم پر مشقت سے واسطہ پڑتا ہے اور اسے تکلیف اٹھانا ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان مکلف ہے اس کی فطرت اور بناوٹ کا تقاضا ہے کہ وہ مکلف ہو ۔ انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے ملکیت اور بہمیت دو قوتیں رکھی ہیں جو کسی وقت بھی انسان سے جدا نہیں ہوتیں۔ اللہ تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ انسان قوت ملکیت کو قوت بہیمیت پر غالب رکھے ، تاہ اسے ترقی نصیب ہو۔ اگر ملکیت مغلوب ہوگئی تو انسان ناکام ہوگیا۔ یہ دونوں قوتیں آخرت میں بھی انسان کے ساتھ رہیں گی۔ گویا ان دونوں قوتوں کا تقاضا ہے کہ انسان مہمل نہ ہو۔ بلکہ مکلف ہو۔ دوسری جگہ فرمایا ” ایحسب الانسان ان ینزک سدی “ کیا انسان گمان کرتا ہے کہ انسان کو مہمل چھوڑ دیا جائے گا اور اس پر کوئی حکم جاری نہیں کیا جائے گا۔ اسے کسی مشقت میں نہیں ڈالا جائے گا۔ کیا انسان یہ خیال کرتا ہے نہیں نہیں۔ بلکہ انسان کی پیدائش ہی بتاتی ہے کہ وہ مکلف ہے۔ ذرا غورکرو کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسمعیل (علیہ السلام) نے اس شہر کو آباد کرتے وقت کتنی تکلیف برداشت کی۔ وانت حل بھذا البلد اور اسے خاتم النبین ! اب آپ اس شہر میں اترے ہوئے ہیں اور کس قدر مصائب جھیل رہے ہیں۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ انسان خواہ کتنے بھی بلند مقام پر فائز ہو ، وہ مشقت سے خلای نہیں ۔ پچھلی سورة میں بھی گذر چکا ہے۔ ” یایھا الانسان انک کا دح “ اے انسان ! بیشک تم مشقت برداشت کرنے والے ہو۔ اگر دنیا میں کوئی شخص مشقت سے خالی ہوتا تو حضور خاتم النبین ﷺ ہوتے۔ کیونکہ آپ انسانیت کے تمام مراتب طے کرچکے ہیں مگر آپ بھی مشقت برداشت کر رہے ہیں۔ تکلیف اٹھا رہے ہیں۔
انسان کی خام خیالی
تو فرمایا ایحسب کیا انسان گمان کرتا ہے ان لن یقدر علیہ احد کہ اس پر کوئی قادر نہیں۔ اس پر کسی کا حکم نہیں چلتا۔ وہ جس طرح چاہے آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرے۔ اور اس کے ساتھ یہ بھی کہتا ہے۔ یقول اھلکت مالا لبداً میں نے بہت سا مال ہلاک کیا ہے۔ یعنی اپنی مرضی سے خرچ کیا ہے۔ تاکہ آرام و سکون میسر آسکے۔ اب مال خرچ کرنے کے بھی مختلف انداز ہیں۔ کوئی شراب نوشی اور بد کاری میں خرچ کرتا ہے۔ کوئی باطل رسومات ادا کر کے سکون کا متلاشی ہے اور کسی کا مشغلہ دین اور رسول خدا کی مخالفت ہے۔ جس پر بےدریغ روپیہ خرچ کیا جا رہا ہے۔ عیسائیت اور یہودیت کے فروغ کے لئے کس قدر قوم خرچ ہو رہی ہیں۔ ہندو ازم اور دیگر باطل مذاہب کی ترویج میں کیا کیا حربے استعمال ہو رہے ہیں اربوں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں۔ تاکہ مشن کامیا بہو اور آرام و سکون کی دولت میسر آسکے۔ دین اسلام کی مخالفت میں بیشمار دولت صرف کر کے اس پر فخر کیا جاتا ہے۔
تاریخ میں اعشی شاعر کا واقعہ ملتا ہے ۔ وہ شخص حضو رنبی کریم ﷺ سے ملاقات کرنا چاہتا تھا۔ مگر مشرکین اس ملاقات سے خائف تھے کہ اگر اعشی نے اسلام سے متاثر ہو کر حضور ﷺ کی شان میں کوئی قصیدہ کہہ دیا تو سارے عرب معتقد ہوجائیں گے اور اس صورت میں اسلام کے آگے بند باندھنا ناممکن ہوجائے گا۔ وہ شخص اپنے زمانے کا اونچے درجے کا شاعر تھا۔ جس طرح غالب یا میر تقی میر ہندوستان میں ہوئے ہیں ۔ اس لئے عرب اس کی شعلہ بیانی کے معترف تھے۔
اسی اعشی شاعر سے متعلق واقعہ ہے کہ کسی شخص کی کئی لڑکیاں تھیں ، مگر غریب ہونے کی وجہ سے کوئی انکار شتہ لینے کے لئے تیار نہ تھا۔ اسے کسی نے مشورہ دیا کہ اعشیٰ کی دعوت کر ڈالو۔ مسئلہ حل ہوجائے گا۔ شاعر ان دنوں میلے میں آیا ہوا تھا۔ اس شخص نے اسے گھر پر کھانے کی دعوت دی۔ اور اس کی خوب خدمت تواضع کی ۔ اعشی نے خوش ہو کر اس شخص کی تعریف میں قصیدہ کہہ دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بادشاہ بھی اس کی لڑکیوں کے لئے نکاح کے پیغام دینے لگے۔ چناچہ مشرکین مکہ بھی سمجھتے تھے کہ اگر اعشی کی حضور ﷺ سے ملاقات ہوگئی اور اس نے حضور ﷺ کی شان میں قصیدہ کہہ دیا تو سارا عرب متاثر ہوجائے گا۔ لہٰذا انہوں نے اس شاعر کو حضور ﷺ کی شان میں قصیدہ کہہ دیا۔ تو سارا عرب متاثر ہوجائے گا۔ لہٰذا انہوں نے اس شاعر کو حضور ﷺ کے پاس آنے ہی نہیں دیا۔
اگلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ لوگ جن چیزوں میں آرام و سکون کے متلاشی ہیں وہاں سے کچھ نہیں ملے گا بلکہ آرام و سکون جن چیزوں میں ہے۔ وہ اور وہیں انسان سمجھتا ہے کہ اس سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔ اس پر کوئی حاکم نہیں ہے کوئی اس پر قادر نہیں ہے۔ وہ جس طرح چاہے دولت خچ کرے۔ فرمایا ایسا نہیں ہے بلکہ لقد خلقنا الانسان فی کبد ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔ وہ مکلف ہے اور اس کے لئے قانون کی پابندی ضروری ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر اس کے ساتھ جزائے عمل بھی لازم ہے ان تمام حقائق کے پیش نظر انسان کیسے سمجھتا ہے کہ اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں یہ اس کی خام خیالی ہے۔
آنکھیں بڑی نعمت ہیں
فرمایا ایحسب ان لم یرہ احد کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ اسے کوئی نہیں دیکھتا ۔ وہ جو چاہے کرے۔ اس سے باز پرس کرنے والا کوئی نہیں۔ اگر وہ ایسا خیال کرتا ہے ، تو غلط ہے ، حالانکہ وہ نقیب اور حفیظ انسان کی نگرانی کر رہا ہے۔ بلکہ ” ان ربک لبا لمرصاد “ تیرا رب تو گھات میں ہے ۔ دیکھ رہا ہے کہ انسان کدھر جا رہا ہے۔ وہ جب چاہے گا شکنجے میں جکڑے گا کیا انسان اس معاملے میں جاہل ہے یا وہ غافل ہے۔ مگر ہم نے تو انسان کو دیکھنے اور غور کرنے کے لئے اعضاء دیے ہیں کیا وہ ان کو بروئے کار نہیں لاتا ؟ الم نجعل لہ ، عینین کیا ہم نے انسان کو دیکھنے کے لئے دو آنکھیں نہیں دیں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ بہت بڑی نعمت ہے۔ ان آنکھوں کی قدر قیمت ان سے پوچھو۔ جو اس نعمت سے محروم ہیں۔ تمہیں یہ آنکھیں اس لئے دی ہیں۔ تاکہ ہر چیز کو غور سے دیکھ سکو۔ ان کے ذریعے کتاب کو پڑھ سکو ، قرآن پاک پڑھ سکو ، اللہ کے نافذ کردہ قوانین کا مطالعہ کرسکو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اعلیٰ نعمت عطا کی ہے۔ صحیح حدیث میں حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ اذا اخذت کریمتی عبدی جس کی دو عزت والی (آنکھیں) دنیا میں میں نے چھین لیں اور اس نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا ، تو اللہ فرماتے ہیں کہ میں اسے جنت کے اعلیٰ مقام تک پہنچائے بغیر رضای نہیں ہوں گا۔ شرط یہ ہے کہ اس محرومی پر صبر کرے ، اللہ تعالیٰ کا شکوہ نہ کرے۔ اسی لئے فرمایا کہ کیا ہم نے دو آنکھیں نہیں دیں۔ ولسانا ً اور زبان دی تاکہ اس سے بات چیت کرسکے جس چیز کا علم نہ وہ پوچھ لے۔ قرآن پاک کا فرمان ہے۔ اگر کوئی بات معلوم نہیں ہے فسئلوا ھل الذکر تو جاننے والوں سے پوچھ لیا کرو۔ وہ تم کو بتلائیں گے کہ یہ بات درست ہے اور یہ چیز غلط ہے۔ زبان کی یہ افادیت ہے۔ نیز یہ بھی فرمایا وشفتین یعنی زبان کے علاوہ ہم نے دو ہونٹ بھی عنایت کئے۔ انہیں ذرا ہلائو اور بات پوچھ لو۔ یہ بھی تمہارے لئے ایک نعمت ہیں۔ تو گویا اللہ تعالیٰ نے انسان کو زبان دی اور ہونٹ دیئے تاکہ ان سے کام لے اور انجانی بات کو دریافت کرے۔ تاکہ ترقی کی منزل طے کرسکے۔
دو راستے
فرمایا مذکورہ نعمتوں کے علاوہ وھدینہ النجدین۔ ہم نے انسان کو دو گھاٹیاں بھی بتا دیں۔ یہ ایمان اور نیکی کی گھاٹی ہے اور یہ کفر و شرک اور معصیت کی گھاٹی ہے۔ جسے چاہو قبول کرلو۔ اگر ایمان کی گھاٹی پر چڑھ گے تو کامیابی سے ہمکنار ہو گے۔ اور اگر کفر کی گھاٹی پر چڑھو گے ، تو ہلاکت کے گڑھے میں گرو گے۔ خیر و شر کے یہ دونوں راستے ہم نے انسان کو دیکھا دیئے ہیں۔ جسے چاہے اختیار کرے غضری کہ انسان مشقت میں پیدا کیا گیا ہے اور وہ مکلف ہے اسے مہمل نہیں چھوڑا جائے گا۔ اگلی آیات میں زرپرستی جیسی بیماری کا علاج تجویز کیا گیا ہے جو انسان میں پیدا ہوجاتی ہے۔
Ayahs 90:11–20گزشتہ سے پیوستہ
ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں کی قسم اٹھا کر بیان فرمایا ہے کہ انسان مشقت میں پیدا کیا گیا ہے اور انسان کے مکلف ہونے کے لئے مشقت کا ہونا ضروری ہے انسان خیال کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ آزاد رہے گا اور اس پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوگی۔ وہ اپنی مرضی سے فضول باتوں پر مال خرچ کرتا ہے اور پھر توقع یہ رکھتا ہے کہ آرام و چین نصیب ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ بات بالکط غلط ہے۔ اللہ قادر مطلق ہے۔ اس نے انسان کو مشقت کی حالت میں پیدا کیا ہے۔ دنیا میں کوئی شخص اس سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔ انبیاء (علیہم السلام) کی جماعت انسانیت کے درجہ کمال پر ہوتی ہے۔ مگر انہوں نے بھی کس قدر تکالیف برداشت کیں۔ خود نبی کریم ﷺ جو افضل ترین ہستی میں آپ نے مکی اور مدنی زندگی میں کس قسم کے مصائب برداشت کئے۔ لہٰذا کوئی بھی انسان تکلیف سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اگر انسان کو سمجھ نہیں ہے تو ہم نے اسے آنکھیں دی ہیں۔ تاکہ دیکھ لے۔ زبان اور ہونٹ دیے ہیں تاکہ کسی سے پوچھ لے۔ اللہ تعالیٰ نے نیکی اور بدی کے دوراستے بھی انسان کو بتلا دیے اسے گھاٹی سے تعبیر کیا ہے۔ نجد کا معنی اونچی جگہ ہے۔ عرب میں نسبتاً بلند علاقے کو نجد اور پست علاقے کو غور کہتے ہیں نجدین سے مراد دو گھاٹیاں یا دو راستے ہیں۔
حصول سکون کے ذرائع
بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ دو اونچی گھاٹیوں سے مراد دو اونچی قسم کی باتیں ہیں۔ یعنی اول تمام جہان کی اصلاح اور دوم اپنی روحانی ترقی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ک ہہم نے ان دو اونچے درجے کی باتوں کی طرف انسان کی راہنمائی کردی ہے کہ انسان کس طرح سے انہیں انجام دے سکتا ہے۔ پہلی آیت میں گذر چکا ہے ۔ ” یقول اھلکت مالاً لبداً “ کہتا ہے کہ میں نے بڑا مال خرچ کیا مگر کن امور میں ؟ کیا رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں اللہ کا مقابلہ کرنے میں جیسا کہ ہر زمانے کے کفار کرتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنا آرام و سکون حاصل کرنا مقصود ہے اپنے ذہن کو تسلی دینے کے لئے رسم و رواج میں خرچ کیا ، شراب و کباب میں ضائع کیا ۔ انسان فخر یہ کہتا ہے کہ میں نے اتنا مال خرچ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آرام و سکون کبھی حاصل نہیں ہوگا۔ بلکہ سکون و آرام کے ذرائع تو اور ہیں۔ فرمایا فلا افتحم العقبۃ انسان اونچی گھاٹی پر کیوں نہیں چڑھتا۔ تاکہ اسے آرام و سکون حاصل ہو۔ ترقی اور کمال نصیب ہو۔ بظاہر لفظ تو عقبۃ استعمال کیا ہے جس کا معنی اونچی گھاٹی یا ٹیلہ ہے۔ مگر اس کے تحت جو باتیں سمجھائی ہیں۔ وہ اعلیٰ درجے کی ہیں محض کسی اونچے ٹیلے پر چڑھ جانا مقصود نہیں۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ اگر انسان دو مشکل کام انجام دے لے تو گویا وہ اونچی گھاٹی پر چڑھ گیا۔ اسی لئے فرمایا ہے کہ انسان اونچی گھاٹی پر کیوں نہیں چڑھتا آگے عقبتہ کی تشریح فرمائی وما ادرائک ما العقبۃ اور کس نے بتلایا کہ وہ اونچی گھاٹی کیا ہے۔ قرآن پاک میں جہاں بھی مادرائک کا لفظ آیا ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے خود تشریح فرما دی ہے اور جہاں کہیں یدریک کا لفظ آیا ہے۔ وہاں بات کو واضح نہیں کیا۔ جیسے ” ومایدریک لعل الساعۃ تکون قریباً آپ کو کیا معلوم کہ شاید قیامت قریب ہی ہو۔
اونچی گھاٹی
اونچی گھاٹی کا ایک دوسرا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی ذہنیت کو اونچا رکھے اگر ایسا کرے گا۔ تو کمال نصیب ہوگا اور اگر ذہنیت پست رکھے گا تو کمال نصیب نہیں ہوگا۔ لہٰذا خود غرضی والی پست ذہنیت سے اجتناب کرنا چاہئے جس طرح پہاڑی جیسے بلند مقام پر پہنچ کر راستے بالکل صاف نظر آتے ہیں دو ر دور تک سڑکیں اور دیگر اشیاء واضح نظر آتی ہیں۔ اسی طرح ذہنیت کی بلندی سے خیر و شر کے دونوں راستے صاف نظر آئیں گے۔ ایسے انسان کو دنیا کی اصلاح کا راستہ بھی نظر آئے گا اور اپنی روحانی ترقی کا راستہ بھی بالکل واضح نظر آئے گا۔ اس کے برخلاف اگر ذہنیت کو پس رکھا تو کچھ نظر نہیں آئے گا۔
ظاہر ہے کہ گھاٹی پر چڑھنا مشقت طلب کام ہے اور یہ صبر سے طے کیا جاسکتا ہے۔ آگے صبر کا ذکر ہے۔ اور وہ اصول بھی بیان کردیئے ہیں جن کی بدولت انسان کو حقیقی سکون اور چین نصیب ہو سکتا ہے۔ اگر انسان خسیس چیزوں میں مبتلا ہوگا ، تو وہ حیوانیت سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ کیونکہ محض کھانا پینا ، جفتی کرنا ، دوسروں کا استحاصل کرنا ، دھوکے فریب سے دوسروں کا مال کھانا ، دوسروں کو تکلیف پہنچانا ، یہ تو حیوانی کام ہیں۔ انسان میں انسانیت اس وقت پیدا ہوگی ، جب وہ ذہنیت کو بلند کرے گا۔ انسان کا ذہن بلند ہوگا تو یہی گھاٹی پر چڑھنا ہے یہیں سے اسے راستہ صاف نظر آئے گا۔ جب تک خود غرضی ، حرص ، لالچ اور ظلم میں مبتلا ہے۔ انسانیت سے دور ہے اور اسے خیر و شر کی تمیز نہیں ہو سکے گی۔
غلامی سے آزادی دلانا
فرمایا آپ کو کس نے بتلایا کہ اونچی گھاٹی کیا ہے۔ پھر خود ہی جواب میں فرمایا فک رقبۃ گردن کو آزاد کرنا۔ جب قرآن پاک کے نزول کی ابتداء ہوئی۔ تو اس زمانے میں ساری دنیا میں غلامی پھیلی ہوئی تھی۔ اس کا عام رواج تھا۔ اسلام نے اصلاح شروع کیا اور بتایا کہ غلامی اچھی چیز نہیں ہے۔ یہ خلاف فطرت چیز ہے۔ ہر انسان کو آزادی کا حق حاصل ہے۔ غلام اور آزاد برابر نہیں ہو سکتے ، غلام کی ذہنیت پست ہوتی ہے۔ اس لئے قرآن پاک نے آزادی کے راستے کی طرف راہنمائی کی اور مختلف طریقوں سے غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب دی۔ مختلف جرائم کا کفارہ غلام کی آزادی قرار دیا۔ چناچہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ قسم کا کفارہ غلام کی آزادی ہے۔ اگر کوئی شخص ظہار کا مرتکب ہوا ہے۔ یعنی غلطی سے بیوی کو ماں بہن کہہ دیا ہے تو کفارہ میں پہلا نمبر فک رقبۃ یعنی غلام کی آزادی ہے۔ اگر کسی نے غلطی سے قتل کردیا ہے تو حکم ہے کہ مومن غلام آزاد کرو۔ فی الفور اور بلامعاوضہ آزادی کے علاوہ ایک اور طریقہ بھی بتایا کہ ” فکاتبوھم “ غلاموں کو مکاتب بنا لو۔ یعنی ان کے ساتھ طے کرلو کہ اتنی رقم ادا کردیں تو آزاد ہیں۔ کاروبار کے لئے آزادی دے دو اور جب وہ مقررہ رقم ادا کردیں تو مکمل آزادی دے دو ۔ پھر مکاتب کی امداد کی ترغیب دی کہ اگر اللہ نے تمہیں مال دیا ہے۔ تو مکاتب کی مدد کرو تاکہ وہ آزادی حاصل کرسکیں۔ چناچہ صحابہ ایسے کرتے رہے ہیں۔
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف جلیل القادر صحابی ہیں۔ مکہ میں تجارت کرتے تھے اور بڑے مالدار تھے۔ جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ پنچے تو خالی ہاتھ تھے مال و دولت ، جائیداد ہر چیز مکہ میں چھوڑ گئے اور فقیر کی حیثیت میں مدینہ طیبہ میں داخل ہوئے۔ انصار نے مدد کرنا چاہی ، تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے بازار کا راستہ بتا دو ، میں اللہ کا فضل خود تلاش کروں گا چناچہ پہلے ہی روز جو تھوڑا بہت کام کیا۔ اس سے اپنے لئے کھانے پینے کا سامان خرید لائے۔ اللہ تعالیٰ نے کاروبار میں بڑی برکت عطا کی۔ خوب مال و دولت کمایا ، زمین اور باغات خریدے۔ پھر جس طرح اللہ تعالیٰ نے مال دیا ، اسی طرح آپ نے خرچ بھی فراخدلی سے کیا۔ روایت ہے کہ آپ نے تیس ہزار غلام خرید کر آزاد کئے۔ امہات المومنین کے لئے ایک باغ وقف کردیا جس کی مالیت چار لاکھ تھی۔ اس زمانے میں غلام بڑی قیمت پاتے تھے ۔ کہتے ہیں کہ امام زین العابدین کے پاس ایک غلام تھا۔ جس کی قیمت دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار تھی۔ اتنا قابل غلام تھا لوگوں نے خریدنا چاہا۔ تو آپ نے انکار کردیا۔ فرمانے لگے میں نے یہ اللہ کے راستے میں آزاد کردیا ہے۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر نے بھی خوب دولت کمائی اور ایک ہزار غلام آزاد کیا یہ ہے فک رقبۃ گردن آزاد کرنا اور اسی کو اونچی گھاٹی پر چڑھنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
فک رقبۃ وسیع تر معنوں میں
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ فک رقبۃ سے مراد محض غلامی سے آزادی ہی نہیں بلکہ اگر کوئی جائز کام کی وجہ سے مقروض ہوگیا ہے تو اسے قرض سے نجات دلا دینا بھی فک رقبہ ہی ہے۔ اسی طرح جہالت سے نجات دلانا بھی اسی ضمن میں آتا ہے۔ علم کی ترویج کے لئے دولت خرچ کرو ، تبلیغ اسلام کا فریضہ ادا کرو۔ کفر و شرک کے اندھیروں میں علم کی شمع روشن کرو۔ تاکہ تمہیں سکون نصیب ہو ، تم شراب و کباب میں دولت صرف کر رہے ہو ، کھیل تماشے اور شادی بیاہ کی رسومات پر روپیہ صرف کر رہے ہو۔ عالیشیان عمارات میں روپیہ غرق کر رہے ہو سکون نصیب نہیں ہوگا۔ اگر حقیقی سکون چاہتے ہو تو اس اونچی گھاٹی پر چڑھو۔ جس کا حکم اللہ تعالیٰ دے رہے ہیں۔
دنیا کے کمروڑوں انسان کفر و شرک میں مبتلا ہیں۔ انہیں اس لعنت سے چھڑوانے کے لئے کو ان دولت خرچ کرتا ہے۔ حالانکہ کفار اپنے پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کر بوں روپیہ صرف کر رہے ہیں۔ یہ عیسائی مشزیاں جو اہل اسلام کا ایمان سلب کرنے پر کمربستہ ہیں۔ یہ حکومتوں کی امداد ر چل رہی ہیں۔ پاکستان سے متعلق ان کی رپورٹیں پڑھ لیں ہر سال عیسائیوں میں کس قدر اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستا کے معرض وجود میں آنے سے لے کر آج تک کے کوائف جمع کرلیں کہ کتنے لوگ عیسائی ہوئے ہیں۔ وہ لوگ محنت کرتے ہیں۔ ہسپتال اور سکول قائم کر کے لوگوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔ مگر ادھر مسلمان ہیں کہ مال و دولت ہونے کے باوجود اسلام کی تبلیغ پر خرچ نہیں کرتے۔ تاکہ لوگ کفر و الحاد کی غلامی سے آزاد ہو سکیں۔ اسی لئے فرمایا کہ کرنے والے یہ کام ہیں۔ اس اونچی گھاٹی پر چڑھو فک رقبۃ کا یہ معنی ہے۔
بیرونی ممالک کا دورہ کرنے والے لوگ بتاتے ہیں کہ ان ممالک میں حصول حق کی تڑپ موجود ہے مگر اس پیاس کو بجھانے والا کوئی نہیں۔ اس معاملے میں جاپان کا ذکر خاص طور پر آ رہا ہے۔ کوئی محنت کرے ، وقت دے ، روپیہ صرف کرے ، تو بہت سے غیر مسلم اسلام کی دولت سے مالا مال ہو سکتے ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ کون قربانی کرتا ہے یہ ساری منزلیں محنت اور صبر سے ہی طے ہو سکتی ہیں۔ اس لئے فرمایا آرام و سکون اس شخص کو نصیب ہوگا ، جو اس گھاٹی پر چڑھے گا۔ مگر ہمارے ہاں دولت کے دروازے فحاشی اور عیاشی ، رسم و رواج شرک و بدعات کے لئے تو کھلے ہیں۔ مگر صحیح تعلیم کے لئے نہ ہونے کے برابر۔ الغرض اونچی گھاٹی پر چڑھنے کا مطلب پہلے نمبر پر گردن آزاد کرنا ہے۔
یتیم اور مسکین کی مدد یا سوشل ورک
فرمایا اگر گردن آزاد نہ کرسکو ، تو پھر سوشل ورک (اجتماعی کام) کی طرف توجہ دو وہ کیا ہے او اطعم فی یوم ذی مسغبۃ کسی بھوک والے دن کھانے کا انتظام کرنا۔ خاص طور پر راشننگ کے زمانے میں جب اناج کی قلت ہو تو یتیماً اقمربۃ یتیم قرابت دار کے لئے کھانے کا اتنظار کرنا یا اس کے معاش کا بندوبست کرنا۔ یہ بھی اونچی گھاٹی پر چڑھنے کے مترادف ہے فرمایا او مسکیناً ذا متربۃ یا مٹی میں ملے ہوئے مسکین کے لئے کھانے کا بندوبست کرنا یہ بھی اونچی گھاٹی پر چڑھنا ہے۔
الغرض اونچی گھاٹی پر چڑھنا دو طریقفوں سے ثابت ہوا ۔ پہلا یہ کہ گردن کو آزاد کیا جائے۔ کسی کو غلامی کی لعنت سے نجات دلائی جائے۔ اور دوسرا یہ کہ قریبی یتیم یا مسکین خاکسار کے کھانے اور اس کے معاش کا بندوبست کیا جائے۔ ایسا یتیم و مسکین ، جس کا کفیل کوئی نہ ہو یا جس کا پرسان حال کوئی نہ ہو ، ایسے شخص کے لئے نہ صرف وقتی طور پر کھانا کھلانا ضروری ہے۔ بلکہ اس کے لئے ذریعہ معاش مہیا کرنا بھی لازم ہے۔ ……تاکہ وہ ہمیشہ کے لئے خود کفیل اور دوسرے کا دست نگر نہ رہے۔
کسی نے حضور ﷺ سے دریافت کیا ای خصال الاسلام خیر۔ اسلام کی خصلتوں میں سے کون سی باتیں بہتر ہے۔ تو آپ نے جواب میں فرمایا ان تطعم الطعام یعنی محتاجوں کو کھانا کھلانا بہترین خصلت ہے۔ اس پر مال خرچ کرو۔ تم کہتے ہو ” اھلکت مالاً لبداً “ میں نے منگنی بیاہ میں اتنا مال خرچ کردیا۔ بلڈنگ پر اتنی دولت لگا دی۔ لکھیل تماشے پر اتنا روپیہ صرف کردیا ، بلکہ خرچ کرنا ہے تو غرباء پروری پر خرچ کرو۔ یتامی اور مساکین کے سرپردست شفقت رکھو۔ محتاجوں کا بھلا کرو اور لوگوں کو غلامی کے پھندے سے آزاد کرو۔ قرض داروں کا قرض ادا کرو۔ جہالت کی تاریکی میں علم کی شمع روشن کرو ۔ کفر و شرک کی غلاظت سے لوگوں کو پاک کرو۔ ان کاموں کے کرنے سے تمہیں اطمینان قلب حاصل ہوگا۔ اونچی گھاٹی پر چڑھنا اسی کا نام ہے۔
ایمان شرط اول ہے
فرمایا بیشک گردنوں کی آزادی اور محتاجوں کو کھانا کھلانا اونچی گھاٹی پر چڑھنا ہے مگر اس کے ساتھ ایمان کا ہونا شرط اول ہے ثم کان من الذین امنوا بغیر ایمان کے سوشل ورک کسی کام نہیں آئے گا۔ رفاہ عامہ کے کام تو غیر مسلم بھی کرتے ہیں … پہلے بھی کرتے تھے اور آج بھی کرتے ہیں۔ مگر وہ ثم کان من الذین امنوا میں داخل نہیں ہیں۔ لہٰذا انہیں اس کام کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ انہیں انسانیت میں کمال نصیب نہیں ہوگا۔ وہ حظیرۃ القدس کے ممبر نہیں بن سکیں گے اور انہیں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں ہوگا۔ حقیقی چین و آرام ایمان والوں کو ہی نصیب ہوگا۔
صبر اور رحم کی تلقین
فرمایا اونچی گھاٹی پر چڑھنے والے ایمان داروں کی صفت یہ بھی ہے کہ وتواصوا بالصبر وتواصوبا المرحمۃ وہ صبر اور رحم کی وصیت کرتے ہیں۔ ملت ابراہیم یا ملت اسلام میں صبر ، شکر ، ذکر ، تعظیم شعائر اللہ اور نماز اہم ترین اصول ہیں۔ اللہ کے راستے میں مصیبت آئے تو صبر کرنا ، دین کی بات پر صبر کرنا ، خدا کی نعمتوں پر شکر کرنا ، اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا۔ اس کے شعائر کی تعظیم اور نماز کی ادائیگی مخلوق پر شفقت اور رحم کرنا بہترین اصول ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے ارحموا من فی الارض تم زمین والوں پر رحم کرو۔ یرحمکم من فی السمآء تم پر آسمان والا رحم کرے گا۔ یہ بھی فرمایا لا یرحم اللہ من لایرحم الناس جو انسانوں پر رحم نہیں کرتا اللہ بھی اس پر رحم نہیں کرتا۔ تم لوگوں پر رحم و شفقت کرو تاکہ خدا تعالیٰ تم پر مہربانی فرمائے ، فرمایا اولئک اصحب المیمنۃ ایسے ہی لوگ دائیں ہاتھ والے ہیں۔ قیامت کے روز ان لوگوں کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں ملے گا۔ یمن کے معنی برکت بھی ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے یہی لوگ برکت والے ہیں۔ جو ایمان لائے ہیں اور پھر صبر اور رحمت کی وصیت کرتے ہیں۔
کفار کے لئے وعید
اس کے بعد فرمایا والذین کفر وا بایتنا جو لوگ صحیح پروگرام کا انکار کرتے ہوئے ھم اسعت المشئمۃ یہ لوگ نحوست والے ہیں ، کم بختی والے ہیں۔ مشئمۃ کا معنی شامت ، نحوست اور بدبختی ہے یہ باتیں ہاتھ والے ہیں انہیں حقیقی سکون حاصل نہیں ہو سکتا بلکہ علیھم نار موصدۃ یہ بند کی ہوئی آگ میں رہیں گے۔ دوزخ میں آگ کے بڑے بڑے ستون ہوں گے۔ کافر لوگ ان بند ستونوں میں جلتے رہیں گے۔ ان کے فرار کی کوئی راہ نہیں ہوگی۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہیں گے۔ انہیں کسی وقت بھی چین نہیں ملے گا۔ نہ دنیا میں اطمینان قلب حاصل ہوگا۔ نہ آخرت میں سکون کی زندگی میسر ہوگی۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کی ذہنیت گندی تھی۔ شرک میں مبتلا تھے ، خود غرضی ، زر پرستی ان کے رگ و ریشہ میں سما چکی تھی۔ یہ صبر اور رحم کے مادہ سے بےبہرہ تھے۔ خدا کا نام کبھی نہیں لیا تھا۔ دولت فضول کاموں میں اڑائی اب آخرت میں کہاں آرام نصیب ہوگا۔ وہ تو ہمیشہ کے لئے بےچین رہیں گے۔