Ayahs 91:11–15گزشتہ سے پیوستہ
سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے چند چیزوں کی قسم کھا کر فرمایا کہ وہ کامیاب ہوگیا جس نے تزکیہ حاصل کرلیا اور وہ ناکام ہوا جس نے نفس کو مٹی میں ملا دیا۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ اللہ نے جو مختلف چیزیں پید ا کی ہیں۔ ان کی وجہ سے انسان کے دل میں مختلف خیالات پیدا ہوتے ہیں انسانیت کا خلاصہ اور نچوڑ ارادہ ہے جس کی بنا پر انسان عمل کرتا ہے۔ اگر ارادہ اچھا ہو تو اچھے کام انجام پاتے ہیں او اگر ارادہ اور نیت بری ہو ، تو برے کام سر زد ہوتے ہیں۔ یہ ارادہ کس طرح پیدا ہوتا ہے۔ اس کے اسباب پر کوئی حاوی نہیں ہو سکتا۔ صرف خدا تعالیٰ ” خالق کل شیء “ ہی اس پر حاوی ہو سکتا ہے۔ یہ چاند ، سورج ، دن اور رات ، آسمان اور زمین۔ انسان کا نفس اور نفس میں نیکی اور بدی کا الہام ، یہ ساری چیزیں اس بات پر گواہ ہیں کہ ” قد افلح من زکھا وقد خاب من دسھا “ گویا اس سورة کا مرکزی مضمون اصحاب تزکیہ کی تعریف اور اصحاب تذلیل کی مذمت ہے۔
جہاں تک تزکیہ کی تشریح کا تعلق ہے ۔ یہ پچھلی سورتوں میں بھی ہوچکی ہے ۔ تزکیہ نفس سے مراد باطن کی پاکیزگی ہے۔ انسان کا دل و دماغ کفر ، شرک اور نفاق جیسی نجاستوں سے پاک ہو۔ پھر انسان کا جسم اور لباس پاک ہو اور خوراک کی پاک ہو ، جو انسانی نشو و نما کا سبب ہے پھر مکان اور ماحول کی پاکیزگی کی ضرورت ہے۔ مال پاک ہو۔ غرضیکہ تزکیہ میں ہر قسم کی پاکیزگی شامل ہے۔ جس نے تزکیہ حاصل نہ کیا۔ اس نے نفس انسانی جیسے قیمتی جوہر کو خراب کردیا اور وہ ناکام ہوگیا ۔
قوم ثمود کا تعارف
اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی ایک شخص کی مثال بیان فرمائی ہے۔ قرآن کریم میں مثالیں بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ سمجھ جائیں کہ اگر ہم نے بھی تزکیہ نہ کیا۔ تو ہمارا حشر بھی انہیں لوگوں جیسا ہوگا چناچہ ارشاد ہتا ہے۔ کذبت ثمود بطعوا ھا قوم ثمود نے اپنی سرکشی اور شرارت کی وجہ سے جھٹلایا۔ قوم ثمود اس قوم کے ایک فرد کے نام سے موسوم ہے۔ جس کا سلسلہ اس طرح ہے۔ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح اس طرح قوم عاد کا سلسلہ یہ ہے عاد بن ارم بن سام بن نوح قوم عاد یمن کی وادی دہنا میں آباد تھی۔ ان کی ہلاکت کے دو اڑھائی سو سال بعد قوم ثمود کو عروج حاصل ہوا ۔ گویا قوم وثمود کا نام اس کے ایک فرد کے نام پر ہے۔ جیسے مدین ایک شخص کا نام ہے اور اسی نام پر شہر بھی مشہور تھا۔ اور اسی نام پر قوم مشہور تھی۔ مدین ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک فرزند کا نام تھا ۔ جس کے نام پر مدین والے مشہرو ہوئے۔
الغرض قوم ثمود حجاز اور شام کے علاقے وادی قریٰ سے وادی حجر تک آباد تھی۔ تبوک بھی ادھر ہی ہے۔ حضور ﷺ رومیوں سے جہاد کرنے کے لئے وہاں تشریف لے گئے۔ یہ جگہ مدینہ منورہ سے 9 سو یا ایک ہزار میل کے فاصلے پر ہے۔ وادی حجر راستے میں پڑتی ہے۔ حضور ﷺ کا جب وہاں سے گذر ہوا تو فرمایا۔ لوگو ! اس وادی سے جلدی جلدی گذر جائو کوئی شخص یہاں سے پانی نہ لے سوائے اس کنوئیں کے جہاں سے حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی پانی پیتی تھی جن لوگوں نے کسی دوسری جگہ سے پانی لیکر آٹا وغیرہ گوندھا تھا آپ نے ضائع کرا دیا۔ آپ نے حکم دیا کہ اس وادی سے عاجزی کے ساتھ ڈرتے ہوئے نکل جائو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ خدا کا وہ قہر نازل ہوجائے ، جو قوم ثمود پر نازل ہوا تھا۔
شاہ عبدالعزیز فرماتے ہیں کہ وادی قریٰ اور وادی حجر کے درمیان قوم ثمود کے ستر ہ 1700 سو قصبات تھے اور بڑے بڑے شہر آباد تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو فن تعمیر میں کمال عطا کیا تھا۔ یہ لوگ پتھروں کو تراش کر نہایت اعلیٰ قسم کے مجسمے بناتے تھے۔ ان کی صناعی کے نمونے دیکھ کر اج بھی لوگ دنگ رہ جاتے ہیں۔ یہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر ان کے اندر مکانات بنا لیتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر سورة اعراف اور سورة شعراء میں کیا ہے۔ ” وتختون من الجبال بیوتاً “ اور پھر مکانوں پر ایسے نقش و نگار بناتے تھے کہ دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
یہاں (برصغیر) ہندوستان میں دکن کے علاقہ میں ایجنٹ ، ایلورا اور گندھارا کی تہذیب کے آثار ملتے ہیں۔ غاروں کے اندر عمارتیں بنی ہوئی ہیں۔ چھتوں اور دیواروں پر عجیب و غریب نقش و نگار ہیں۔ یہ چیزیں آج بھی لوگ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں اور اس وقت کا ماحول آنکھوں میں گھوم جاتا ہے۔ کہیں شادی کا ماحول دکھایا گیا ہے ۔ کسی دیوار پر کسی محفل کی عکس بندی کی گئی ہے کہیں کوئی ماتمی اجتماع نظر آتا ہے۔ کمال درجے کی منظر کشی کی گئی ہے۔ یہ لوگ نہ صرف پہاڑوں کے اندر عمارات بنانے میں ماہر تھے۔ بلکہ میدانی علاقوں میں بھی بڑی عالیشیان عمارتیں تعمیر کرتے تھے۔
قوم عاد اور ثمود میں مماثلت
قوم عاد اور ثمود میں بہت سی چیزیں مشترک تھیں۔ جس طرح قوم عاد کے لوگ سرکش تھے۔ اسی طرح قوم ثمود کے متعلق بھی ” طغویٰ “ کا لفظ آیا ہے کہ یہ بھی بڑے سرکش تھے۔ غرور وتکبر میں مبتلا تھے۔ قوم عاد بھی شرک میں مبتلا تھی۔ اور قوم ثمود بھی تھی۔ سورة اعراف میں موجود ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) اسی قوم ثمود کے فرد تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں رسول بنا کر بھیجا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم سے یہی کہا تھا ” یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ ط۔ اے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے علاوہ کوئی الہ نہیں تم کس گندگی میں پڑے ہوئے ہو یہ قومیں بڑع صناع اور کاریگر تھیں یہ لوگ عیاشی کے لئے عالیشیان عمارتیں بناتے تھے اور ان پر بےدریغ روپیہ صرف کرتے تھے۔
قوم ثمود کی تکذیب
الغرض فرمایا کذبت ثمود بطغوھا قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی بنا پر اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا۔ اس کی بات کو تسلیم نہ کیا۔ اور پھر اللہ نے ان کی شرارت کی مثال بیان فرمائی ۔ اذ نبعث اشقھا جب ان میں سے ایک بدبخت آدمی اٹھ کھڑا ہوا۔ فقال لھم رسول اللہ پس کہا ان کو اللہ کے رسول صالح (علیہ السلام) نے صالح (علیہ السلام) کا نام دوسری جگہ موجود ہے۔ ” والی ثمود اخاھم صلحاً “ قو م ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا۔ تو فرمایا کہ اللہ کے رسول صالح (علیہ السلام) نے فرمایا نافۃ اللہ وسقیھا یعنی چھوڑ دو اللہ کی اونٹنی کو اور اس کے پانی پینے کو یہاں پر ابتداء میں دعوایا یا ذروا کا لفظ محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی اونٹنی کو چھوڑ دو ۔ اس کے ساتھ کسی قسم کا تعرض نہ کرنا۔ اس کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہ کرنا۔ ورنہ عذاب میں مبتلا ہو جائو گے۔
ناقلہ اللہ کا مفہوم
دیانند سرسوتی ہندو نے ناقلۃ اللہ کے لفظ پر اعتراض کیا تھا۔ کہنے لگا معلوم ہوتا ہے کہ (معاذ اللہ) اللہ کوئی بدو تھا جو اونٹنی پر سوار تھا۔ اس لئے تو اللہ کی اونٹنی کہا گیا ہے دنیا میں ایسے ایسے خبیث لوگ بھی ہیں۔ جو عقل و خرد سے بھی کام نہیں لیتے۔ یہ ارض اللہ اور بیت اللہ وغیرہ بھی تو ایسے ہی مرکبات ہیں۔ کیا اس سے مراد یہ ہے کہ اس گھر میں اللہ رہتا ہے کہ یہ اس کے نام پر گھر ہے۔ نہیں بلکہ یہ تو شرافت کے لئے اللہ کی طرف نسبت ہوتی ہے اللہ کا گھر تو اللہ کی عبادت کے لئے بنایا گیا ہے۔ اور زمین حقیقت میں اللہ کی ملکیت ہے اسی طرح ناقتہ اللہ بھی ہے یعنی اللہ کی اونٹنی ۔ اونٹنیاں تو ساری کی ساری اللہ ہی کی ہیں مگر اس اونٹنی کی نسبت اللہ کی طرف محض شرافت کی وجہ سے ہے کہ وہ عام طریقے سے پیدا نہیں ہوئی تھی۔ اس کو تو اللہ تعالیٰ نے معجزے کے طور پر پیدا فرمایا تھا۔
صالح (علیہ السلام) اور قوم کے درمیان مناظرہ
صالح (علیہ السلام) کی قوم ہمیشہ آپ کو جھٹلاتی رہی۔ شرک ، کفر ، غرور ، عیاشی میں مبتلا قوم کو آپ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف دعوت دیتے رہے مگر وہ قوم انہیں تسلیم کرنے پر نہ ہوئی۔ وہ کہتے تھے کہ ہم تمہیں رسول تسلیم نہیں کرتے ۔ کیونکہ تو ہمیں ہمارے معبودان سے ہٹانا چاہتا ہے۔ صالح (علیہ السلام) دلائل دیکر سمجھائے کہ جن معبودوں کی تم پرستش کرتے ہو ، ان کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہو۔ چڑھاوے چڑھاتے ہو۔ ان کی تعظیم کرتے ہو۔ یہ تمہاری تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں کرسکتے۔ مگر وہ ہمیشہ آپ کی تکذیب کرتے رہے۔
قوم ثمود کا سالانہ میلہ قریب تھا۔ وہاں سب لوگ جمع ہوتے تھے ان کے بڑے بڑے معبود بھی لائے جاتے تھے۔ قوم نے صالح (علیہ السلام) سے کہا کہ آپ ہمارے میلے میں شریک ہوں۔ آپ بھی اپنے رب سے اپنی خواہش کے مطابق دعا کریں ۔ ہم بھی اپنے معبودوں کے پاس اپنی خواہش کے مطابق طلب کریں گے۔ وہاں پتہ چل جائے گا کہ آپ سچے ہیں یا ہمارے یہ معبود صالح (علیہ السلام) نے موقع کو غنیمت جانا۔ اور اس دعوت کو قبول کرلیا اور میلے میں شریک ہوگئے۔ قوم نے اپنے شرکیہ طریقوں کے مطابق اپنے بتوں کے سامنے آہ وزاری کی ، حاجات طلب کیں۔ مگر ان کی کوئی خواہش پوری نہ ہوئی۔ اب انہوں نے آپ س میں مشورہ کیا کہ صالح (علیہ السلام ) ! اگر آپ سچے ہیں تو اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ اس پتھر کے ٹیلے سے ٹیلے جتنی بڑی اونٹنی نکالے جو بےعیب ہو۔ دس ماہ کی گابھن ہو۔ اس کی پیشانی سیاہ اور وہ ہمارے سامنے بچہ جئے۔ ہم آپ کو مان لیں گے۔
اونٹنی کی پیدائش
صالح (علیہ السلام) نے یہ چیلنج قبول کرلیا اور اپنے پیروکاروں کو لے کر نکلے۔ پہلے نماز ادا کی اور اس کے بعد نہایت عاجزی اور گریہ زاری سے بار گاہ رب اعلزمت میں دعا کی۔ پیرو کار آمین کہتے رہے اور باقی لوگ ہزاروں کی تعداد میں گھیرا باندھے کھڑے تھے اور دعا کی قبولیت کے منتظر تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے صالح (علیہ السلام) کی دعا مستجاب ہوئی۔ پتھر پر عورتوں جیسی زہ کی کیفیت طاری ہوئی۔ وہ پھٹا اور اس میں سے بڑی قد آور اونٹنی برآمد ہوئی۔ وہ ٹیلے جتنی بڑی تھی ، مطالبہ کے مطابق اس کی وضع قطع تھی اور وہ گابھن بھی تھی۔ سفید رگن اور سیاہ پیشانی والی اونٹنی چرنے لگی۔ پھر تھوڑی دیر بعد اونٹنی کو دروزہ شروع ہوا اور اس نے بچہ جنا ، جو قوم کے مطالبے کے مطابق فوراً اونٹنی جتنا بڑا ہوگیا۔ یہ معجزہ دیکھ کر تقریباً چھ ہزار آدمی وہیں ایمان لے آئے تاہم باقی لوگوں نے اسے جادو کہہ کر رد کردیا۔
چونکہ یہ اونٹنی غیر معمولی طور پر پیدا ہوئی تھی۔ اس سے بڑی دہشت آتی تھی ، جانور اس سے ڈرتے تھے۔ جہاں یہ اونٹنی چرتی ، وہاں کوئی دوسرا جانور نہ جاتا اور جہاں یہ پانی پیتی ، وہاں پر کوئی دوسرا جانور نہ پھٹکتا تھا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری کی کی روایت ہے کہ میں وادی حجر کے اس مقام پر گیا ، جہاں حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی بیٹھا کرتی تھی۔ میں نے اس جگہ کی اپنے ہاتھ سے پیمائش کی ، تو وہ جگہ نوے فٹ نکلی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اونٹنی کتنی بڑی تھی۔
پانی پینے کی باری
سورۃ قمر میں موجود ہے کہ اللہ نے حکم دیا کہ پانی پینے کی باری مقرر کرلو۔ ایک دن یہ اونٹنی اس کنوئیں پر پانی پیئے گی۔ کوئی دوسرا جانور یا شخص کنوئیں کے قریب نہیں آئیگا اور دوسرا دن باقی لوگ اور ان کے جانور پانی اسعتمال کرسکیں گے ، باری مقرر ہوگئی۔ فریقین رضا مند ہوگئے مگر قوم کے خسیس لوگ اس معاہدے پر قائم نہ رہے۔
اونٹنی کے قتل کی سازش قوم ثمود میں قدار بن سالف نام کا ایک شخص تھا اس کے عنیزہ نامی ایک فاحشہ عورت کے ساتھ تعلقات تھے۔ عورت بڑی خوبصورت اور دولت مند تھی۔ لوگوں نے ان دونوں کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہا کہ گناہ کی زندگی بسر کرنے کی بجائے آپس میں نکاح کرلیں۔ عورت کے بہت سے جانور تھے جو حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی سے پریشان رہتے تھے چناچہ اس عورت نے نکاح کے لئے یہ شرط مقرر کی کہ اگر اس اونٹنی کو قتل کر دو تو وہ نکاح کرلے گی۔ قدار نے جو کہ سرخ رنگ اور ٹھگنے قد کا آدمی تھا۔ اس شرط کو قبول کرلیا۔
حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ قدار اونچے خاندان کا فرد تھا اس کے بہت سے حواری تھے جن کی وجہ سے طاقتور سمجھا جاتا تھا۔ ویسے بھی بہت بڑا عالم تھا۔ حضور ﷺ نے اس کی مثال مکہ کے ابو زر معہ سے دی قدار بہت بڑا مفسد تھا۔ اس کے ساتھ دیگر نو غنڈے بھی تھے ، جو اس کے ہمنوا تھے۔ ان کا تذکرہ سورة نمل میں موجود ہے۔ ” وکان فی المدینۃ تسعۃ رھط یفسدون فی الارض ولا یصلحون “ کہ اس شہر میں نو غنڈے قسم کے اشخاص تھے جن کا کام ہی فتنہ فساد برپا کرنا تھا یہ لوگ صلح جوئی کے بالکل قائل نہ تھے ان لوگوں نے غریب عوام پر ظلم و ستم برپا کر رکھا تھا۔
غرض اس عورت کی فرمائش پر ان لوگوں نے طے کیا کہ اونٹنی کی گذر گاہ پر چھپ کر بیٹھ جائیں اور جونہی وہ ادھر سے گذرے ، اس پر اچانک حملہ کر کے اسے قتل کر ڈالیں چناچہ ایسا ہی ہوا۔ وہ لوگ ایک درے میں چھپ گئے۔ جب اونٹنی وہاں سے گذری تو انہوں نے حملہ کردیا۔ اونٹنی زخمی ہوئی مگر وہاں سے آگے نکل گئی۔ قدار نے اس پر تلوار سے حملہ کر کے اس کی ٹاگنیں کاٹ دیں۔ چناچہ اونٹنی گر گئی۔ پھر سب نے مل کر تلواروں سے اس کے ٹکڑے کردیے اور اونٹنی کا گوشت تقسیم کیا۔ اس کامیابی پر حضرت ﷺ کے دشمن بہت خوش ہوئے کہ ہمیں اس اونٹنی سے نجات مل گئی۔
عذاب الٰہی کی آمد
اونٹنی تو ہلاک ہوگئی۔ مگر قوم کو اس کی ہلاکت سے بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا جس طرح وہ اونٹنی ایک دن میں سارا پانی پی جاتی تھی۔ اسی طرح وہ دودھ بھی بہت زیادہ دیتی تھی۔ چناچہ وہ لوگ فوری طور پر دودھ سے محر وم ہوگئے۔ مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اے اے لوگو ! اپنے منہ سے نشانیاں نہ طلب کرو۔ دیکھو ! قوم ثمود نے اپنے منہ سے نشانی طلب کی ، پھر اس کی ناقدری کی۔ تو اللہ تعالیٰ کا ایسا غضب بھڑکا کہ اس نافرمان موجود تھا۔ لوگ اس پر پتھر مارتے تھے۔ حضور ﷺ کا وہاں سے گذر ہوا۔ تو فرمایا معلوم ہے کہ لوگ یہاں پتھر کیوں مارتے ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا ، حضور ! اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ، یہ ابو رغاں کی قبر ہے۔ یہ قوم ثمود کا آدمی تھا۔ جب تک حرم میں موجود رہا عذاب سے محفوظ رہا۔ مگر جب وہاں سے نکلا تو اس کو بھی عذاب نے پکڑ لیا۔ فرمایا اس کی نشانی یہ ہے کہ اش شخص کے پاس سونے کی چھڑی تھی۔ اس کی قبر اکھاڑی گئی تو لاش تو گل سڑک کر معدوم ہوگئی تھی ، مگر سونے کی چھڑی وہاں موجود تھی۔ اس طرح اس معتوب شخص کی نشاندہی بھی ہوگئی۔
حضرت علی کی شہادت کی پیشین گوئی
مسند احمد کی روایت میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا اے علی ! میں تجھے بتائو کہ پہلی امت کا ایک بدبخت آدمی تھا۔ جسے احمر ثمود یعنی قوم ثمود کا سرخ رنگ والا آدمی کہتے تھے۔ اس نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کو ہلاک کیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خود بھی ہلاک ہوا اور قوم کو بھی عذاب میں مبتلا کرایا۔ فرمایا جس طرح قوم ثمود کا یہ بحث آدمی تھا۔ اسی طرح اس امت سے بھی ایک بدبخت آدمی ہوگا۔ جو تیرے سر پر تلوار چلا کر تیری داڑھی کو رنگین کر دے گا۔ اس وجہ سے امت محمدیہ سے خلافت کا خاتمہ ہوجائے گا اور اس کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہوجائیں گے۔ وہ شخص بھی عبدالرحمٰن بن بلجم خارجی تھا۔ اس نے قطامہ نامی عورت کو حاصل کرنے کے لئے حضرت علی کو شہید کیا تھا۔ وہ شخص اس خارجی عورت کے عشق میں مبتلا تھا اور اسی کی فرمائش پر وہ حضرت علی پر حملہ آور ہوا تھا جس طرح قوم ثمود کے بد بخت آدمی نے عورت کی خاطر حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کے پائوں کاٹ دیئے تھے چناچہ حضرت علی کی شہادت پر خلافت علی منہاج النبوۃ ختم ہوگئی۔
قوم ثمود کی تباہی
فرمایا اذا نبعث اشقھا جب ان میں سے ایک بدبخت آدمی اٹھ کھڑا ہوا ، مگر اللہ کا نبی تو انہیں پہلے سمجھا چکا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص حکمت سے اونٹنی پیدا کی ہے۔ اس سے تعرض نہ کرنا مگر فکذبوہ انہوں نے نبی کی بات کو جھٹلا دیا فعقروھا اور اونٹنی کے پائوں کاٹ دیئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فدمدم علیھم ربھم بذنبھم پس ان کے رب نے ان پر ان کے گناہ کی وجہ سے (معاملہ) الٹ دیا۔ فسوئھا اور سزا میں سب کو برابر کردیا۔ ایک چیخ آئی اور زلزلہ آیا جس سے سب کے سب ملیا میٹ ہوگئے۔ ایک بھی کافر زندہ نہ بچا۔
حضرت صالح (علیہ السلام) کی ہجرت
اب صالح (علیہ السلام) کے حالات یہ ہیں کہ جب ان ک قوم شرارتوں میں حد سے بڑھ گئی۔ تو فرشتوں نے ان لوگوں کو سز ا دی کسی کو مار دیا ، کسی کا سر توڑ دیا کسی کی ٹانگ توڑ دی۔ تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا۔ کہ اونٹنی کو تو ٹھکانے لگا دیا ہے۔ اب صالح (علیہ السلام) کا اکم بھی تمام کردینا چاہئے۔ کیونکہ ان کی اور ان کی اونٹنی کی وجہ سے ہمارے آدمی ہلاک ہوئے ہیں حضرت صالح (علیہ السلام) رات کو مسجد میں عبادت کر رہے تھے۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے آ کر خبر دی کہ کفار قتل کے لئے آ رہے ۔ آپ گھر چلے جائیں اور گھر کا دروازہ بند کرلیں۔ آپ کے ساتھی بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ گو تعداد میں کم تھے۔ تاہم جب ان لوگوں نے حملہ کرنا چاہا۔ تو حضرت صالح (علیہ السلام) کے پیرو کار بھی لڑائی کے لئے تیار ہوگئے۔ لڑائی سے تو بچ بچائو ہوگیا۔ تاہم طے یہ ہوا کہ صالح (علیہ السلام) یہاں سے نکل جائیں۔ اس فصلے کے مطابق آپ شہر سے چلے گئے۔ خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ کسی قوم پر عذاب اس وقت آتا ہے۔ جب نبی ان سے الگ ہوتا ہے ، مکہ والوں کے ساتھ بھی ایسا ہوا۔ نبی (علیہ السلام) ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ تو صرف ڈیڑھ سال کے عرصہ میں مکہ والوں کو جنگ بدر کی صورت میں سزا مل گئی۔ قوم ثمود کو بھی اسی طرح سزا ملی جب صالح (علیہ السلام) ان سے علیحدہ ہوگئے۔ تو خدا کی پکڑ آگئی۔ ایسا زلزلہ آیا کہ ان کے بڑے بڑے شہر کھنڈرات میں تبدیل ہوگئے۔ اور ایسی چیخ آئی کہ ایک فرد بھی زندہ نہ بچا۔ سب برابر ہوگئے۔
نشان عبرت