92. Surah Al-Lail

الليلThe Night · 21 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 92:1–11

وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىۙ Open ayah 92:1 in the Quran reader

قسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے

وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰىۙ Open ayah 92:2 in the Quran reader

اور قسم ہے دن کی جب وہ روشن ہوجائے

وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰۤىۙ Open ayah 92:3 in the Quran reader

اور قسم ہے اس ذات کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا

اِنَّ سَعْیَكُمْ لَشَتّٰىؕ Open ayah 92:4 in the Quran reader

بیشک تمہاری کوشش البتہ مختلف ہے

فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ Open ayah 92:5 in the Quran reader

پس بہرحال جس نے مال خرچ کیا اور تقویٰ اختیار کیا

وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰىۙ Open ayah 92:6 in the Quran reader

اور اس نے بھلی بات (کلمہ توحید) کی تصدیق کی

فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْیُسْرٰىؕ Open ayah 92:7 in the Quran reader

تو ہم اس کے لئے آسانی تک پہنچنا آسان کردیں گے۔

وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 92:8 in the Quran reader

اور بہرحال جس نے بخل کیا اور بےپرواہی اختیار کی

وَ كَذَّبَ بِالْحُسْنٰىۙ Open ayah 92:9 in the Quran reader

اور بھلی بات (کلمہ توحید) کو جھٹلایا

فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰىؕ Open ayah 92:10 in the Quran reader

تو ہم آہستہ آہستہ اس کو دشواری تک پہنچائیں گے

وَ مَا یُغْنِیْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰىؕ Open ayah 92:11 in the Quran reader

اور جب وہ جہنم کے گڑھے میں گرے گا تو مال اس کے کچھ کام نہیں آئے گا

پہلی سورة کے ساتھ ربط اس سورة کا مضمون بھی پہلی سورة کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔ پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھائی تھی کہ مختلف چیزوں کے اثرات پڑنے سے انسان کے دل میں ارادہ پیدا ہوتا ہے اور یہی ارادہ انسانیت کا خلاصہ اور نچوڑ ہے ارادہ اچھا بھی ہوتا ہے اور برا بھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہر نفس میں فطری طور پر تقویٰ اور فجور کا الہام بھی کیا ہے۔ لہٰذا جو لوگ اچھے کام کا ارادہ کریں گے وہ اصحاب تزکیہ میں شمار ہوں گے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے نفوس کو پاک کیا ، برے اعمال اور برے عقیدے سے انہیں بچائے رکھا۔ برخلاف اس کے جو لوگ اپنے نفوس کو برے اعتقاد اور برے عمل سے آلودہ کریں گے۔ ان کا شمار اصحاب تذلیل میں ہوگا تو اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کی قسم اٹھا کر بیان فرمایا کہ ان چیزوں سے کس طرح ارادہ پیدا ہوتا ہے اور پھر اس کے بعد اعمال سر زد ہوتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے برے اعمال کی مثال بھی بیان فرمائی کہ قوم ثمود نے کس طرح اللہ کے رسول کو جھٹلایا اور وہ کس طرح ذلیل ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا میں مبتلا کیا۔ انہوں نے اللہ کی نشانی اور اونٹنی جو معزے کے طور پر پیدا ہوئی تھی۔ اسے مٹایا۔ سورۃ زیر درس میں اللہ تعالیٰ نے اعمال کے مختلف ہونے کا ذکر کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر ارادہ مختلف ہوگا تو اعمال بھی مختلف ہوں گے اور یہ بات بھی سمجھا دی کہ اگر اعمال مختلف ہوں گے تو ان کے نتائج بھی مختلف ہوں گے۔ ماحول کا اثر ارشاد ہوتا ہے۔ والیل اذا یغشی قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے۔ والنھار اذا تجلی اور قسم ہے دن کی جب وہ روشن ہوتا ہے رات اور دن کے اختلاف سے یہ بات واضح ہوتی کہ ماحول کے مختلف ہونے کی وجہ سے اعمال بھی مختلف ہوں گے۔ گرم ماحول میں رہنے والے انسان کے اعمال اور قسم کے ہوں گے اور سرد ماحول کے باشندے کے اعمال اور قسم کے ہوں گے اسی طرح جو شخص آلودگی کے ماحول میں زندگی بسر کرتا ہے۔ اس کے اعمال اس ماحول کے مطابق ہونگے۔ شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں۔ انما الاخلاق باالاحوال اخلاق کا دار و مدار ماحول پر ہوتا ہے۔ جیسا کسی کو ماحول میسر ہوگا ، اسی کے مطابق اس کے اخلاق کی تعمیر ہوگی۔ سکی شخص کے گھر کا ماحول کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو۔ مگر اس کی اولاد گلی محلے کے ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ آپ اپنے بچوں پر کتنی بھی پابندی لگائیں گے۔ مگر وہ وہی کچھ کریں گے جو محلے کے دوسرے بچے کرتے ہیں۔ لہٰذا جو لوگ ایمان دار ہیں اور علت اور معلول (Cause And Effect) کو سمجھتے ہیں۔ وہ ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کا ماحول درست رہے۔ تعلیم ، تبلیغ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا مقصد بھی یہی ہے کہ ماحول ٹھیک رہے۔ اس میں کسی قسم کا نقص نہ آئے۔ اگر ماحول درست نہیں ، تو لاکھ کوشش کے باوجود بھی اخلاق حسنہ پیدا نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا ماحول کی پاکیزگی نہایت ضروری ہے اس ماحول کو آپ گھر گلی محلے سے نکال کر شہر ، علاقے اور پھر پورے ملک پر وسعت دے لیں۔ ماحول جس قدر وسیع ہوگا۔ اس کے اثرات اسی قدر وسیع ہوں گے۔ غرضیکہ ماحول کے مختلف ہونے سے اعمال بھی مختلف ہوں گے۔ رات اور دن میں اختلاف جس طرح رات اور دن کے اوقات مختلف ہیں۔ اسی طرح ان اوقات میں انجام دیئے جانے والے کام بھی مختلف ہیں۔ دن چونکہ روشن ہوتا ہے۔ اسی لئے ان اوقات میں رات کی نسبت زیادہ اہم امور انجام دیئے جاتے ہیں۔ رات کے اندھیرے کی وجہ سے بعض کام خوش اسلوبی سے نہیں کئے جاسکتے۔ لہٰذا نہیں دن میں کیا جاتا ہے۔ قربانی کے مسئلہ میں فقہاء کرام فرماتے ہیں۔ کہ اگرچہ رات کے وقت بھی قربانی کرلینا جائز ہے ، مگر بہتر نہیں ہے اس کی علت یہی ہے کہ رات کے وقت شاید خوش اسلوبی سے نہ کی جاسکی۔ البتہ رات کو کرنے کے بھی کچھ کام ہوتے ہیں۔ جنہیں خاص طور پر رات کو ہی کیا جاتا ہے۔ چور اور ڈاکو عام طور پر رات کے وقت ہی اپنے کام پر نکلتے ہیں کہ ان کے لئے یہی وقت مناسب ہوتا ہے۔ اسی طرح شراب خور ، زانی ، جواری وغیرہ بھی رات کا وقت ہی پسند کرتے ہیں۔ عیاش لوگ داد عیش دنیے کے لئے رات کا وقت ہی منتخب کرتے ہیں عاشق مزا ج لوگ اپنے عشق کی تکمیل کے لئے یہ وقت پسند کرتے ہیں تاکہ دن کے وقت وہ چیز ظاہر نہ ہوجائے۔ جسے وہ چھپانا چاہتے ہیں۔ فاسق اور فاجر لوگ بھی رات کے وقت میں ہی اپنا رنگ جماتے ہیں۔ ان تمام برے اعمال کے برخلاف کچھ لوگ شب زندہ دار بھی ہوتے ہیں۔ جو اپنے رب سے تعلق قائم کرنے کے لئے رات کے انتظار میں رہتے ہیں۔ الغرض رات اور دن کے اعمال بھی اسی طرح مختلف ہوتے ہیں جس طرح وہ خود مختلف ہوتے ہیں۔ مرد و زن میں اختلاف رات اور دن کے اختلاف واضح کرنے کے بعد فرمایا وما خلق الذکر و الانثی اور قسم ہے اس ذات کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا۔ یعنی ایک ہی شکل و صورت کی دو ہستیوں میں جنسی تفریق ڈال دی۔ یہ تفریق جس طرح پیدا ہوتی ہے۔ اس کی علت کوئی نہیں بتا سکتا۔ حمل کے ابتدائی دور میں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ نر ہے یا مادہ۔ مگر ایک وقت ایسا آتا ہے جب جنسی تفریق واضح ہوجاتی ہے۔ اب مذکر اور مئونث کے بعض اعضاء میں فرق ہوگا۔ ان کے کوائف مختلف ہوں گے۔ بڑے ہو کر انکی ذمہ داریاں متفرق ہوں گی۔ غرض اللہ تعالیٰ اپنی حکمت سے جسے چاہتا ہے ۔ نر بنا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے مادہ بنا دیتا ہے۔ امام جلال الدین سیوطی اور امام جلال الدین محلی کی تفسیر جلالین میں لکھا ہے کہ جنس کی ایک تیسری قسم بھی ہے جسے خنثی کہتے ہیں۔ اگر مادہ تولید میں کوئی خرابی واقع ہوجائے تو پیدا ہونے والا بچہ خنثی ہوتا ہے۔ اس کی ظاہری علامات جس جنس پر غالب ہوں گی۔ اسی صنف میں شمار ہوگا اور اگر کسی فرد میں نر اور مادہ کی علامات برابر ہوں ، تو وہ خنثیٰ مشکل کہلاتا ہے۔ اور ایسے شخص کے مسائل میں پیچیدگی پائی جاتی ہے۔ مثلاً وراثت یا غسل وغیرہ کے مسائل میں ان پر نر کا حکم عاید ہوگا یا مادہ کا ہوگا۔ امام جلال الدین محلی نے ایسا ہی ایک مسئلہ پیش کیا ہے کہ کوئی قسم کھائے کہ میں نہ مرد سے بات کروں گا اور نہ عورت سے۔ مگر وہ خنثی مشکل سے کلام کرلیتا ہے تو اس کے لئے کیا حکم ہوگا۔ کیا اس پر قسم پڑجائے گی یا نہیں۔ پھر خود ہی حل پیش کرتے ہیں کہ ایسی صورت میں قسم واقع ہوجائے گی۔ کیونکہ خنثی مشکل تو ہمارے نزدیک ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو وہ کسی نہ کسی صنف میں ضرور ہے۔ یا وہ مذکر ہے یا مئونث ہے ۔ لہٰذا اس پر قسم کا کفارہ لازم آئے گا۔ الغرض جس طرح اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کو جدا جدا پیدا کیا۔ اسی طرح نر اور مادہ کو الگ الگ پیدا کیا۔ ان کو علیحدہ علیحدہ وضع دی۔ ان کی ضروریات اور ذمہ داریاں بھی الگ الگ مقرر کیں۔ لہٰذا جس طرح رات اور دن مختلف ہیں اسی طرح مرد اور زن مختلف ہیں۔ انسانی کوشش میں اختلاف فرمایا ان سعیکم لشتی بیشک تمہاری کوششیں بھی مختلف ہیں۔ تمام لوگوں کی کوشش یکساں نہیں ہے۔ کوئی کفر و شرک کے پروگرام پر عمل کر رہا ہے اور کوئی ایمان کی دعوت دے رہا ہے۔ وہ بےپچارہ ہر وقت اس فکر میں غلطان رہتا ہے کہ مرتے وقت ایمان کی دولت نصیب ہوجائے کوئی دھوکہ فریب سے دوسروں کا مال ہضم کرنا چاہتا ہے اور کوئی اپنے ایمان کی سلامتی کی فکر میں ہے چھوٹی چھوٹی باتوں سے ڈرتا ہے کہ کہیں مئواخذہ نہ ہوجائے۔ ظاہر ہے کہ ہر دو اقسام کے لوگوں میں بہت بڑا اتخلاف پایا جاتا ہے۔ ہر ایک کا اپنا اپنا ماحول ہے اور ماحول کے اختلاف کی وجہ سے اعمال بھی مختلف ہیں۔ فرمایا اسی طرح تمہاری سعی بھی مختلف ہے۔ کوئی نیکی کا کام کر رہا ہے اور کوئی شرک و کفر کو غالب کرنے کے لئے تگ و دو کر رہا ہے۔ غرضیکہ نیکی اور بدی ، خوش اخلاقی اور بد اخلاقی ، اطاعت اور معاصی بالکل مختلف معاملات میں اور ان کے پر یو کار ان کی ترویج کے لئے کوشاں ہیں۔ آگے اس کی مزید تشریح آتی ہے کہ جب لوگوں کے نظریات مختلف ہیں۔ عقیدے مختلف ہیں۔ افکار اور اعمال مختلف ہیں۔ تو ظاہر ہے ان کے نتائج بھی مختلف ہوں گے۔ جس قسم کی سعی یا کوشش ہوگی۔ اسی قسم کا نتیجہ برآمد ہوگا اسی لئے فرمایا ان سعیکم لشتی تمہاری کوشش بھی مختلف ہوگی۔ انفاق فی سبیل اللہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک مخیر اور ایک بخیل شخص کی مثال بیان کر کے سمجھایا کہ دیکھو ہر ایک نے اپنی اپنی کوشش کے مطابق مختلف کام انجام دیئے تو ان کے نتائج بھی مختلف برآمد ہوئے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ فاما من اعطی واتقی بہرحال جس نے مال خرچ کیا ، اور وہ بڑھتا بھی رہا۔ یعنی اس کی کوشش یہ ہے کہ نیکی کے لئے مال خرچ کرے اعطی کا مطلب یہ ہے کہ وہ مال اللہ کی راہ میں خرچ کر رہا ہے۔ اس میں کنجوسی کا مادہ نہیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت میں حضرت ابوبکر صدیق کی طرف اشارہ ہے۔ آپ تجارت پیشہ اور مالدار تھے۔ راہ خدا میں خرچ کرنے میں ہمیشہ پیش پیش ہوتے۔ بیشمار غلام اور لونڈیاں بھاری قیمت دے کر خریدے اور اللہ کی راہ میں آزاد کئے۔ ادھر امیہ بن خلف تھا۔ جو صدیق اکبر سے بھی زیادہ مالدار تھا۔ بڑے بڑے غلام خرید رکھے تھے نوکر چاکر تھے ادھر طائف وغیرہ میں باغات اور زرعی زمین تھی۔ مگر یہ شخص حد درجے کا بخیل تھا۔ غریبوں پر ظلم کرتا تھا ، ان کے حقوق غصب کرنا اس کا وطیرہ بن چکا تھا۔ جو غلام اور لونڈی ایمان قبول کرلیتے ان پر بڑے مظالم ڈھاتا تھا ۔ حضرت بلال اور عام پر مظالم حضرت بلال بھی اسی امیہ کے غلام تھے۔ ایمان لانے کی وجہ سے آپ نے بیحد تکلیفیں برداشت کیں۔ ظلم و ستم کا نشانہ بنے۔ ان کے واقعات پڑھ کر آج بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت بلال کو ایسا مضبوط دل عطا کیا تھا کہ سخت سے سخت اذیت کے وقت بھی ، احد ، احد پکارتے تھے۔ یعنی اللہ ایک ہی ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ امیہ ، حضرت بلال کو سخت جسمانی تکلیف دے رہا تھا۔ پاس سے حضرت صدیق کا گذر ہوا تو پوچھا اس بیچارے کو کیوں تکلیف دے رہے ہو۔ ظالم ببول کے کانٹے جسم میں چبوتا جو ہڈی تک چلے جاتے۔ دوپہر کے وقت تپتی ہوئی ریت پر لٹا کر غلاموں سے پٹواتا ، آپ کی چھاتی پر گرم پتھر رکھوا دیتا۔ غرض جب حضرت صدیق نے اسے ظلم سے منع کیا تو کہنے لگا کہ اگر تجھے اس پر رحم آتا ہے تو اسے خرید کیوں نہیں لیتا۔ حضرت صدیق اکبر خریدنے پر آمادہ ہوگئے تو کہنے لگا۔ میں اس کے بدلے میں بڑا قابل غلام لوں گا۔ آپ نے نہ صرف بڑا قابل غلام دیا ۔ بلکہ ایک ہزار دینار بھی ادا کر کے حضرت بلال کو خرید لیا اور راہ خدا میں آزاد کردیا۔ عامر بن فہیرہ بھی ایسا ہی تھا۔ یہ بھی حضرت صدیق اکبر کے آزاد کردہ غلام تھے۔ یہ شخص ہجرت میں حضور ﷺ کے ہمراہ تھا۔… بڑے اونچے درجے کے اولیاء اللہ میں سے تھے۔ انہوں نے بھی بڑی تکالیف برداشت کیں۔ آخر حضرت صدیق نے بھاری رقم دیکر خرید لیا۔ آپ نے سر معونہ میں شہادت پائی۔ توحیت پرست لونڈی اسی طرح زنیرہ نامی لونڈی کو بھی ظلم و ستم کا نشانہ بننا پڑا۔ یہ بھی اسلام قبول کرچکی تھی۔ آخر حضرت ابوبکر نے خرید لیا۔ آپ کو اس قدر تکلیف پہنچائی گئی کہ آپ کی بینائی جاتی رہی۔ مالک کہنے لگے کہ تو نے لات اور عزیٰ کی توہین کی ہے۔ اس لئے تیری بینائی زائل ہوگئی ہے۔ انہوں نے تیری روشنی سلب کرلی ہے۔ مگر لونڈی نے اس حالت میں بھی علی الاعلان کہا کہ لات و عزی کسی طاقت کے مالک نہیں۔ یہ میرے مالک الملک کا اختیار ہے کہ اپنی حکمت کے ساتھ جس کی چاہے بینائی سلب کرے اور جس کو چاہے بینائی عطا کر دے اللہ تعالیٰ کو اس کا ایمان پسند تھا۔ اور اس کی توحید پر استقامت منظور تھی۔ لہٰذا اسے بینائی بھی دوبارہ عطا کردی۔ الغرض ایک طرف صدیق اکبر جیسے ایثار پیشہ اور مونس و غمخوار تھے جو اپنے مال کو راہ خدا میں صرف کرتے اور دوسری طرف امیہ بن خلف تھا۔ جو حد درجے کا کنجوس اور ناداروں اور اپنے لونڈی غلاموں پر ظلم ڈھانے والا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مثال بیان فرمائیں۔ کلمہ گو جنت میں جائیگا اسی پہلے گروہ کے متعلق بیان ہے کہ اس شخص کی کوشش یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کر کے کسی اللہ کی گرفت سے بچ جائے۔ حضور ﷺ ہے اتقوا الناس ولو بشق تمرۃ یعنی دوزخ کی آگ سے بچو ، چاہے کھجور کا آدھا دانہ دیکر ہی ایسا کرسکو۔ گویا معمولی سے معملوی صدقہ خیرات بھی آگ سے بچائو کا ذریع بن سکتا ہے۔ لہٰذا ایسا شخص خدا کے عذاب سے ڈرتا بھی ہے اور برائی سے بچتا بھی ہے۔ اتقی کا یہی معنی ہے کہ کفر و شرک اور برائی سے بچتا رہے اور اس کے مال کو نیکی کے کاموں میں لگاتا رہے۔ ایسے شخص کی ایک صفت یہ بھی ہے۔ وصدق بالحسنی کہ وہ اچھی بات کی تصدیق کرتا ہے۔ بنیادی طور پر تو اچھی بات کلمہ توحید لا الہ الا اللہ ہے۔ اسکے بعد تمام اچھی باتیں آتی ہیں۔ مثلاً نماز ، روزہ ، حج اور نیکی کی دوسری باتیں جس کی وہ تصدیق کرتا ہے اسی کلمہ توحید کے متعلق حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ من کان اخر کلامہ لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ یعنی جس کا آخری کلام کلمہ لا الہ الا اللہ ہوگیا۔ وہ جنت میں جائیگا۔ ایسا شخص ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دوزخ میں نہیں رہ سکتا۔ اگر اپنے گناہوں کی وجہ سے وہ ایک دفعہ دوزخ میں چلا بھی گیا۔ تو سزا بھگتنے کے بعد اس کلمہ کی بدولت وہاں سے خلاصی پا جائیگا۔ تو فرمایا ایسا شخص جو نیکی کے کاموں میں خرچ کرتا ہے۔ اور اللہ سے ڈرتا اور اچھی باتوں کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ اس کے لئے ہم نے انعام پر مقرر کیا ہے کہ فسنیسرہ للیسریٰ ہم اس کے لئے آسانی تک پہنچنا آسان کردیں گے۔ جب اس دنیا کا دور ختم ہوجائے گا۔ تو آخر میں وہ آسانی تک پہنچ جائے گا۔ یعنی اللہ کی رحمت ، جنت اور اس کے اعلیٰ درجات تک پہنچ جائے گا۔ ایسے شخص کی کوشش کا یہ نتیجہ ہوگا کہ وہ آہستہ آہستہ آسانی تک پہنچ جائے گا۔ ایسی آسانی جہاں کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ بلکہ ہر طرف آرام و سکون کا دور دورا ہوگا۔ بخیل کی مثال اب دوسرے گروں کی مثال آتی ہے۔ جو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا۔ بلکہ واما من بخل اور جس نے بخل کیا و استغنی اور بےپرواہی اختیار کی ۔ بخل ایک بہت بڑی بیماری ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے ای دآء ادوء من بخل یعنی بخل سے بڑھ کر کون سی بیماری ہے۔ فرمایا بخیل کی حالت یہ ہے کہ بعید من الناس بعید من اللہ وبعید من الجنۃ ایسا شخص لوگوں سے دور ہے۔ اللہ سے دور ہے اور جنت سے دور ہے۔ واستغنی سے مراد یہ ہے کہ اسے اپنے مال پر غرور ہے ۔ وہ کسی کی پرواہ ہی نہیں کرتا۔ امیہ اور ابو جہل بھی یہی کہتے تھے۔ ” نحن اکثراموالاً و اولاداً ‘ ہمارے پاس مال اور اولاد کی فراوانی ہے ہم کسی کو کیا سمجھتے ہیں۔ اگر گرفت بھی ہوگی تو مال ہمارے کام آئے گا۔ ہم مال کو فدیہ کے طور پر ادا کر کے اپنے آپ کو چھڑا لیں گے۔ حالانکہ دوسری جگہ موجود ہے کہ جب اللہ کے حضور پیشی ہوگی تو یہ مال و اولاد والے۔ ” ویاتینا فرداً “ بالکل تن تنہا آئیں گے۔ محاسبے کے وقت دنیا کی کوئی چیز کام نہیں آئے گی۔ ہاں جس کے پاس ایمان کی دولت ہوگی ، وہی اس دن کام آئے گی۔ باقی کچھ کام نہ آئے گا۔ فرمایا ، جس نے بخل کیا اور بےپرواہی اختیار کی وکذب بالحسنی اور بھلی بات کو جھٹلایا ، کلمہ توحید کی تکذیب کی ، کفر و شرک میں مبتلا رہا اور اس پر اصرار کرتا رہا۔ فسیسرہ للعسریٰ ہم آہستہ آہستہ اس کو سختی تک پہنچائیں گے۔ آرام و آسائش کے دن تو گذر چکے ہوں گے۔ اسے آہستہ آہستہ عسری یعنی سختی یا تکلیف کی طرف لے جائیں گے۔ ظاہر ہے کہ اس کا انجام جہنم ہے۔ جہاں کبھی راحت نصیب نہیں ہوگی۔ اور پھر یہ ہوگا کہ وما یغنی عنہ مالہ اذا تردی جب وہ جہنم کے گڑھے میں گرے گا تو مال اس کے کچھ کام نہیں آئے گا۔ وہی مال جس کے لئے وہ لوگوں پر ظلم و ستم کرتا تھا۔ ان کا چھینتا تھا۔ آج وہ اس کے کسی کام نہ آئے گا ایسا شخص پکار پکار کر کہے گا ما اغنی عنی مالیہ آج میرا مال مجھے دھوکا دے گا۔ ” ھلک عنی سلطنیہ “ ! افسوس ! میرے عہدے نے بھی میرے ساتھ وفا نہ کی ۔ میں دنیا میں بڑا صاحب اقتدار تھا۔ مگر آج میں بالک بےدست و پا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ تم نے کام ہی اچھا نہیں کیا۔ تمہاری سعی بری تھی۔ اس لئے آج نتائج بھی برے ہی تمہارے سامنے آئیں گے۔ ہم آہستہ آہستہ تجھے بدبختی کی طرف لے جائیں گے اگر تم اچھے کام کرتے۔ تمہاری روح پاک ہوتی ، تو تمہاری کشش حطیرۃ القدس میں تجلی اعظم کی طرف ہوتی۔ مگر تو نے تزکیہ اختیار نہ کیا ۔ اس لئے ہم تجھے سختی کی طرف لے جائیں گے۔
Ayahs 92:12–21

اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰى٘ۖ Open ayah 92:12 in the Quran reader

بیشک ہمارے ذمے ہے البتہ راہنمائی کرنا

وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى Open ayah 92:13 in the Quran reader

اور بیشک ہمارے لئے ہی ہے آخرت اور دنیا

فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰىۚ Open ayah 92:14 in the Quran reader

پس میں نے تم کو اس آگ سے ڈرایا دیا ہے جو شعلہ مارتی ہے

لَا یَصْلٰىهَاۤ اِلَّا الْاَشْقَىۙ Open ayah 92:15 in the Quran reader

اس آگ میں نہیں داخل ہوگا مگر جو بڑا بدبخت ہوگا

الَّذِیْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 92:16 in the Quran reader

وہ جس نے تکذیب کی اور روگردانی کی

وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ Open ayah 92:17 in the Quran reader

البتہ دور رکھا جائے گا اس بھڑکتی ہوئی آگ سے اس شخص کو جو بڑا پرہیز گار ہے

الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰىۚ Open ayah 92:18 in the Quran reader

جو اپنا صرف کرتا ہے تاکہ تزکیہ حاصل کرے

وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ Open ayah 92:19 in the Quran reader

اور کسی کا اس پر احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جائے

اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰىۚ Open ayah 92:20 in the Quran reader

سوائے اس کے کہ اپنے بلند برتر رب کی رضا حاصل کرسکے

وَ لَسَوْفَ یَرْضٰى۠ Open ayah 92:21 in the Quran reader

اور عنقریب وہ اس سے رضای ہوجائے گا

گزشتہ سے پیوستہ گزشتہ درس میں یہ بیان ہوا تھا کہ جس طرح رات اور دن میں اختلاف ہے اور جس طرح نر اور مادہ میں اختلاف ہے اسی طرح انسانوں کی سعی اور کوشش میں بھی اختلاف ہے۔ جس کی کوشش اس طرح کی ہے کہ اس نے مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہا برائیں سے بچتا رہا پھر اچھی بات یعنی کلمہ توحید اور کلمہ ایمان کی تصدیق کی ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم اس کو آہستہ آہستہ آسانی تک پہنچائیں گے اور جس نے بخل کیا ، مال کو راہ خدا میں صرف نہ کیا۔ کنجوسی سے اکم لیا اور اپنی جگہ مستغنی یعنی بےپرواہ رہا ، آخرت کی فکر نہ کی آخرت کی تکذیب کی۔ کلمہ توحید کی تکذیب کی۔ تو ہم اس کو آہستہ آہستہ سختی تک پہنچائیں گے۔ یعنی وہ جہنم میں جائے گا ۔ گویا ہلاکت کے گڑھے میں گرے گا۔ وہاں اسے یہ مال کچھ فائدے نہ دے گا۔ ہدایت دینا اللہ کی ذمہ داری ہے اس مقام پر ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس مالک الملک نے انسان کو نر اور مادہ کی شکل میں پیدا کیا ، وہ اسے راہ ہدایت پر کیوں نہیں لگا دیتا۔ تاکہ کوئی بھی انسان گمراہی کا راستہ اختیار نہ کرتا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اسی خیال کی تردید فرمائی ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ” ان علینا للھدی “ بیشک ہمارے ذمے ہے البتہ ہدایت کی طرف راہنمائی کرنا ، مگر ہم کسی کو ہدایت پر مجبور نہیں کرتے کہ وہ ضروری ہی سیدھا راستہ اختیار کرے۔ یہ بات حکمت خداوندی کے خلاف ہے۔ اگر ایسا ہوجائے ، تو انسان کی آزمائش نہیں کی جاسکتی بلکہ وہ مجبور محضن بن کر رہ جائے۔ اس طرح نہ تو انسان کی فضیلت واضح ہو سکتی ہے اور نہ ہی اسے دوسری مخلوق پر فوقیت حاصل ہو سکتی ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد تو ہے ” لوبشآء الل یھدی الناس جمیعاً ط “ اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کو ہدایت پر مجبور کردیتا … مگر یہ بات حکمت کے خلاف ہے وہ کسی چیز پر جبر نہیں نہیں کرتا بلکہ ہدایت کی طرف راہنمائی کرتا ہے کہ جو شخص چاہے ہدایت کو اختیار کرے اور جو چاہے کفر کے راستہ پر چل نکلے اسی لئے فرمایا کہ ہمارے ذمہ البتہ ہدایت کا راستہ واضح کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ مختلف طریقوں سے ہدایت کار راستہ واضح کرتا ہے۔ جب وہ انسان کی تخلیق کرتا ہے۔ تو ہدایت کے سارے ذرائع اس کے اندرپیدا کردیا ہے مثلاً حواس ظاہرہ قوت بینائی قوت شنوائی قوت گوپائی ، وغیرہ یہ سب ہدایتوں کے حصول کے ذرائع ہیں۔ انہیں ذرائع سے کوئی انسان معلومات حاصل کر کے اپنے لئے ہدایت کا راستہ متعین کرسکتا ہے۔ وہ آنکھوں کے ذریعے دیکھ سکتا ہے کانوں کے ساتھ سکتا ہے۔ ناک کے ذریعے سونگھ سکتا ہے ، ہاتھوں کے ذریعے ٹٹول سکتا ہے۔ یہ تمام حواس ظاہرہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے ذرائع عمل پیدا کئے ہیں۔ تاکہ انسان ان کو بروئے کار لا کر ہدایت کا راستہ تلاش کرے اور پھر اس پر گامزان ہوجائے حواس ظاہرہ کے علاوہ حواس باطنہ ہیں۔ مثلا ً (قوت دہم) ہم خیال حس مشترک ، قوت عاملۃ قوت مفکرہ یہ سب انسان کے اندرونی ذرائع ہیں۔ جو اسے غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔ تاکہ خوب سوچ سمجھ کر بہتر نتیجے پر پہنچ جائیے۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی بیشمار نشانیاں جگہ جگہ قائم کی ہیں۔ تاکہ انسان ان کو دیکھ کر ہی عبرت حاصل کرلے فرمایا ” وکاین من ایۃ فی السموت والارض یمرون علیھا وھو عنھا معرضون “ الل کے قدرت کی لاتعداد موجود ہیں۔ مگر لوگ ان کے پاس سے بالکل غفلت کی حالت میں گذر جاتے ہیں ان سے کوئی عبرت نہیں پکڑتے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ، اس کی صفات کی معرفت ان نشانیوں سے بخوبی حاصل ہو سکتی ہے۔ مگر انسان ان سے مستفید نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے رسول بھی دنیا میں بھیجے ہیں فرمایا۔ ” وما نرسل المرسلین الا مبشرین ومنذرین “ اور پھر ان کو کتابیں دیں مختلف نبیوں کو شریعت بھی عطا کی ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں وعظ و نصیحت کرنے والے لوگوں کو کھڑا کیا۔ دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں ، جہاں اللہ کا پیغام پہنچانے والے لوگ موجود نہ ہوں۔ اللہ نے یہ تمام ذرائع پیدا کئے۔ تاکہ لوگ ہدایت حاصل کرسکیں۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص کہے کہ اسے ہدایت نہیں پہنچی ، تو پھر وہ تباہ و برباد ہوگا۔ ایک مقام پر اللہ نے فرمایا ” لئلایکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل “ قیامت کے دن اللہ کے سامنے کوئی حجت بازی نہیں کرسکے گا۔ کہ اس کے پاس کوئی خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا ۔ یعنی ” ماجآء نامن بشیر ولا نذیر “ اللہ تعالیٰ نے جواب میں واضح کردیا ” فقد جآء کم بشیر ونذیر “ تمہارے پاس بشیر اور نذیر آ چکے ہیں۔ اب تمہارا کوئی بہانہ قابل قبول نہ ہوگا۔ لہٰذا تمہیں اللہ کی طرف ہی آنا ہوگا۔ ” والذین جاھدواقینا لنھدینھم سبلنا جو ہماری طرف آنا چاہتے ہیں وہ تھوڑی سی کوشش بھی کریں تو ہم ان کے لئے راستہ واضح کردیتے ہیں۔ والذین اھتدوا زادھم ھدی و اتھم تقوئھم “ اور جو لوگ ہدایت کا راستہ اختیار کرتے ہیں اللہ ان کے لئے ہدایت کا راستہ زیادہ واضح کرتا ہے اور انہیں تقویٰ عطا کرتا ہے۔ الغرض اللہ نے فرمایا کہ ہدایت کا سامان پیدا کرنا ہماری ذمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے بیشمار سامان پیدا کئے ہیں۔ اس کے باوجود اگر کوئی کفر ، شرک یا گمراہی کی طرف جاتا ہے۔ تو وہ خود ذمہ دار ہے۔ اللہ نے حجت تمام کردی ہے۔ اب اس کا مئواخذہ ہوگا۔ البتہ وہ کسی پر جبر نہیں کرتا ، کیونکہ یہ اس کی حکمت کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کسی حد تک اختیار دے دیا ہے۔ تاکہ وہ اپنی پسند کا راستہ اختیار کرسکے۔ اس سے انسان کی فضیلت ظاہر کرنا بھی مقصود ہے۔ لہٰذا فمن شآء فلیئومن ومن شآء فلیکفر “ جو چاہے ایمان کا راستہ اختیار کرے اور جو چاہے ، کفر کے راستے پر چل نکلے۔ اب یہ اس کی اپنی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ کونسا راستہ اختیار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عذاب سے ڈرانے کے ذرائع بھی پیدا کردیئے ہیں ، بزرگان دین یا کسی نبی کا قول ہے۔ کفی بالموت واعظاً یعنی موت سے بڑھ کر کوئی واعظ نہیں۔ اگر کوئی شخص ہدایت کا راستہ اختیار کرنا چاہے تو اللہ تعالیٰ نے اس پر تمام راستے واضح کردیئے ہیں۔ مکذبین کے لئے وعید باقی رہا وان لناخرۃ والاولی دنیا اور آخرت میں سارا تصرف اللہ کا ہے کیونکہ ہر چیز کا مالک وہ ہے۔ فرمایا فانذرتکم ناراً تلظی میں نے تم کو اس آگ سے ڈرا دیا ہے جو شعلہ مارتی ہے۔ یعنی تمہیں بھڑکنے والی آگ سے خبردار کردیا گیا ہے۔ اگر کلمہ توحید اور ایمان کی تکذیب کرو گے تو بھڑکتی ہوئی آگ بھی تیار ہے۔ اس کا شکار بنو گے۔ نیز یہ بھی سن لو لا یصلھآ اس بھڑکتی ہوئی آگ میں بھی تیار ہے۔ اس کا شکار بنو گے۔ نیز یہ بھی سن لو لایصلھآ اس بھڑکتی ہوئی آگ میں نہیں داخل ہوگا۔ الا الاشقی مگر جو بڑا بدبخت ہے اشقی اسم تفصیل کا صیغہ ہے۔ ایک شقی ہوتا ہے جو کم درجے کا بدبخت اور ایک اشقی جو بہت بڑا بدبخت ہو۔ شقی کی تعریف فرمایا وہ بڑا بدبخت کون ہے الذی کذب جس نے کلمہ توحید اور نبی کی تکذیب کی ہے اور جس نے کتب سماویہ اور آخرت کی تکذیب کی ہے یعنی ہر معروف چیز کو جھٹلایا ہے۔ نہ صرف جھٹلایا ہے بلکہ ولولی روگردانی کی ہے بات تک نہیں سنی۔ اللہ کا نبی تبلیغ کر رہا ہے ۔ خدا کی کتاب اور اس کا پیغام پہنچا رہا ے۔ شریعت کے احکام بتلا رہا ہے۔ مگر یہ شخص ہے کہ منہ پھیر کر دوسری طرف جا رہا ہے۔ نبی کی بات کی پرواہ ہی نہیں کرتا۔ کفر و شرک میں ملوث ہے اور اس کے اندر کبائر اور صغائر بھرے ہئوے ہیں۔ ایسا ہی شخص بہت بڑا بدبخت ہے۔ اس کی بدبختی کبھی ختم نہیں ہوگی۔ اس کے لئے بدبختی سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ شقاوت کی اقسام شقاوت کی کئی اقسام ہیں۔ کوئی چھوٹ شقی (بدبخت) ہوتا ہے کوئی درمیانیی درجے کا اور کوئی بڑا بدبخت مسند احمد کی حدیث میں ہے۔ من سعادۃ المرء یعنی یہ بات انسان کی سعادت مندی میں سے ہے۔ کہ اس کو بیوی اچھی ملے ، مکان اچھے ملے اور سواری اچھی ملے۔ پھر فرمایا من شقاوۃ المرء دنیا کے اعتبار سے بدبختی کی ایک نشانی یہ ہے کہ نہ اسے بیوی اچھی ملے ، نہ مکان اچھا ملے اور نہ سواری اچھی ملے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ بعض بدبخت وہ ہوتے ہیں ، جو نیکی کرنے کی بجائے چھوٹے چھوٹے گناہ کرتے ہیں اور ان پر اصرار نہیں کرتے۔ ایسے کم درجے کے بدبخت ہوتے ہیں۔ جب ایسا شخص نیک اعمال انجام دیتا ہے تو اس کے چھوٹے چھوٹے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور بدبختی دور ہوجاتی ہے بدبختی کی دوسری قسم یہ ہے کہ صغائر اور کبائر دونوں قسم کے گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ یہ پہلے شخص سے بڑا بدبخت ہے محاسبے کے وقت اگر نبی ، شہید یا مئومن اس کی سفارش کر دے گا تو ایسا شخص سزا پا کر پاک ہوجائے گا اور اس کی بدبختی ختم ہوجائے گی۔ تیسری قسم کا شخص اشقی یعنی بڑا بدبخت ہے۔ اس کی مثال ابوجہل یا امیہ بن خلف جیسے لوگ ہیں۔ جو کفر ، شرک اور دیگر ہر قسم کے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں اور پھر ان گناہوں پر اصرار کرتے ہیں۔ ان کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے یہ بڑے بدبخت ہیں۔ شقی اور اتقی میں تقابل اب اشقی کے مقابلہ میں اتقی کا بیان آتا ہے۔ شقی کا بیان گذر چکا ہے متقی کے متعلق فرمایا وسیجنبھا الاتقی اور اس بھڑکتی ہوئی آگ سے دور رکھا جائے گا اس شخص کو جو پرہیز اگر ہے اور اس کی مثال حضرت ابوبکر صدیق ہیں۔ بنیادی طور پر حضرت صدیق اور امیہ بن خلف کی کوششیں بالکل متضاد ہیں۔ امیہ بڑا دولت مند ، مالدار اور ظالم تھا۔ وہ اپنے ان غلاموں اور لونڈیوں کو سخت سزائیں دیتا تھا۔ جنہوں نے ایمان قبول کرلیا۔ دوسری طرف ابوبکر صدیق بھی بڑے مالدار تھے مگر آپ کا کام یہ تھا کہ جن غلاموں اور لونڈیوں کو ایمان کی وجہ سے ظلم کا نشانہ بننا پڑتا تھا۔ آپ انہیں بھاری قیمت پر خرید کر آزاد کردیتے۔ آپ کے ساٹھ غلاموں اور لونڈیوں کا ذکر تاریخ میں ملتا ہے جنہیں آپ نے آزاد کیا تو اتقی کا معنی ہوگا سب سے بڑا متقی جو تمام گناہوں سے پاک ہے۔ وہ نور ایمان سے منور ہے ایسا شخص دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ سے دور رہے گا جو شخص اتقی یعنی بہت بڑا متقی تو نہیں ہے۔ مگر عام درجے کا متقی ہے وہ بھی فی الجملہ دوزخ سے دور رکھا جائے گا۔ وہ شخص ہمیشہ کے لئے دوزخ میں نہیں جائے گا۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضور علیہ اسللام سے پوچھا گیا کہ بدبخت آدمی کونسا ہے تو آپ نے فرمایا الذی لایعمل بطاعۃ ولا یترک معصیۃ یعنی بدبخت وہ ہے جو نیکی کے کام تو کرتا نہیں اور برائی کے کام چھوڑتا نہیں۔ اس کے مقابلے میں بڑے متقی کی مثال حضرت صدیق ہیں۔ اور ان سے کم درجے کے لوگ عام متقیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مگر وہ بھی دوزخ کی آگ سے محفوظ رہیں گے۔ متقی کے اوصاف فرمایا متقی سے مراد وہ شخص ہے الذی یولی مالہ یتزکی جو اپنا مال صرف کرتا ہے یتزکی تاکہ تزکیہ حاصل کرے۔ تزکیہ کا معنی نشو و نما اور طہارت ہوتا ہے۔ مقصد یہ کہ ایسا شخص ترقی کرتا جا رہا ہے اور پاکیزگی بھی حاصل کر رہا ہے وہ مال اس لئے نہیں خرچ کررہا ہے کہ وہ کسی کا احسان مند ہے بلکہ وما لا حد عندہ من نمۃ تجزی کسی کا اس پر احسان نہیں ہے کہ جس کا بدلہ چکا رہا ہو۔ بلکہ وہ تو محض رضائے الٰہی کی خاطر خرچ کرتا ہے۔ جب صدیق اکبر نے حضرت بلال اور عامر بن فہیرہ وغیرہ کو خرید کر آزاد کردیا تھا تو آپ پر کسی کا احسان نہیں تھا۔ انہیں تو تزکیہ کی ضرورت تھی جو انہوں نے حاصل کرلیا۔ حضرت صدیق اکبر کے اوصاف حمیدہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت صدیق کی بڑی تعریف فرمائی ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا مانفعنی مال احد قط مانفعنی مال ابی بکر یعنی مجھے کسی دوسرے شخص کے مال نے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا حضرت صدیق کے مال نے اور مجھ پر کسی نے احسان نہیں کیا ۔ جس کا میں نے دنیا میں بدلہ نہ چکا دیا ہو۔ مگر ابوبکر صدیق کی ایک ذات ہے کہ جس کا بدلہ میں دنیا میں نہیں چکا سکا ہوں۔ اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ اسے آخرت میں ہی عطا کرے گا۔ حضرت ابوبکر صدیق جب کسی کمزور لونڈی یا غلام کو خریدتے تو ان کے والد ابوقحافہ کہا کرتے کہ اے ابوبکر ! اگر تم نے کسی غلام کو آزاد کرنا ہے تو پھر کوئی طاقتور غلام خریدا کرو۔ جس پر تمہارا احسان ہو اور زندگی میں کبھی تمہارے کام آسکے۔ آپ فرماتے کہ میرا مقصد ان غلاموں سے فائدہ اٹھانا نہیں بلکہ میں تو رضائے الٰہی کی خاطر انہیں آزاد کرتا ہوں۔ آپ کے والد ابو قحافہ فتح مکہ کے دن اسلام لائے۔ اللہ کی شان ہے کہ بیٹا اولین جانثاروں میں ہے۔ اور باپ بعد میں ایمان لاتا ہے تاریخی لحاظ سے امام موسیٰ بن عقبہ نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر کا واحد خاندان ہے جس کی چار پشتیں صحابی ہیں یعن یابو قحافہ حضرت صدیق آپ کا بیٹا اور آپ کا پوتا۔ تمام کے تمام جماعت صحابہ میں داخل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنا شرف بخشا۔ یہ شرف کسی اور خاندان کو حاصل نہیں ہوا۔ ابو قحافہ اسلام لانے سے پہلے بھی ایک شریف آدمی کی سی زندگی بسر کرتے تھے۔ آپ بوڑھے آدمی تھے دوسرے کفار کی طرح اسلام دشمنی میں ملوث نہیں ہوتے تھے۔ رضائے الٰہی فرمایا کہ وہ شخص مال اس لئے خرچ کرتا ہے کہ اولا پاکیزگی اور طہارت حاصل کرسکے اور ثانیاً الا ابتغآء وجہ ربہ الاعلی اپنے بلندو برتر خدا کی رضا حاصل کرسکے وجہ کا لفظی معنی چہرہ ہے۔ مگر اس سے مراد رضا ہوتی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کسی طرح مولا راضی ہوجائے تو مال کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس آیت کے شان نزول کے اعتبار سے حضرت ابوبکر صدیق کی فضیل مسلم ہے۔ اس سلسلہ میں حضور ﷺ کی بہت سی احادیث بھی موجود ہیں۔ حدیث اہل بیت میں امام محمد جعفر اپنے والد محمد باقر ، وہ اپنے والد امام زین العابدین سے … وہ اپنے والد حضرت امام حسین سے اور وہ اپنے والد حضرت علی سے روایت کرتے ہیں۔ حضرت علی کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ سورج جن چیزوں پر طلوع ہوتا ہے ان میں ابوبکر سے زیادہ فضیلت والا کوئی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سب سے زیادہ فضیلت بخشی ہے ۔ چناچہ بسا اوقات خطبے کے دوران بھی مومن یہ الفاظ سنتے ہیں افضل البشر بعد الانبیآء بالحقیق ابوبکر الصدیق یعنی انبیاء کے بعد تمام انسانوں میں سب سے زیادہ فضیلت والے صدیق اکبر ہی ہیں۔ فرمایا متوقی کے رضا الٰہی کی خاطر مال خرچ کرنے کا صلہ یہ ملے گا کہ ولسوف یرضی عنقریب اللہ اس سے راضی ہوجائے گا۔ یرضی کی ضمیر اگر اتقی کی طرف لوٹائی جائے۔ تو معنی یہ ہوگا کہ مال خچ کرنے والے کو اللہ تعالیٰ آخرت میں اس قدر انعام و اکرام فرمائیں گے کہ وہ بھی راضی ہوجائے گا یعنی اسے اپنے ایثار کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔