93. Surah Ad-Dhuhaa

الضحىThe Morning Hours · 11 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 93:1–4

وَ الضُّحٰىۙ Open ayah 93:1 in the Quran reader

قسم ہے دھوپ چڑھتے وقت کی

وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰىۙ Open ayah 93:2 in the Quran reader

اور قسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے

مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ Open ayah 93:3 in the Quran reader

آپ کو آپ کے پروردگار نے نہیں چھوڑا اور نہ ہی آپ سے دشمنی کی ہے

وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 93:4 in the Quran reader

اور آپ کا آنیوالا دور گزشتہ دور سے بہتر ہوگا۔

مضمون سورة سورۃ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے ان بیہودہ خیالات اور طعن وتشنیع کی تردید فرمائی ہے۔ جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کا ذکر کیا ہے۔ جو اس نے اپنے پیغمبر علیہ اسللام پر کئے اور آخر میں ان انعامات کا شکریہ ادا کرنے کا ذکر ہے۔ نیز حضور ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ مخالفین کی ان باتوں سے دل برداشتہ نہ ہو۔ ان کا توشیہ ہی ایذاء رسانی ہے۔ اس طرح آپ کو تسلی دی گئی ہے۔ ضحی اور اشراق ابتداء میں دن اور رات کی قسمیں کھا کر بات کو واضح کیا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے والضحی قسم ہے دھوپ چڑھتے وقت کی ضحیٰ دن کے اس حصے کو کہتے ہیں۔ جب دن خوب روشن ہوجاتا ہے۔ یعنی سورج بلند ہوجاتا ہے اور اس کی تپش سے ریت گرم ہوجاتا ہے۔ اس وقت جو نماز پڑھی جاتی ہے اس کو صلوۃ الضحی یا چاشت کی نماز کہا جاتا ہے۔ اس سے پہلے سورج کے طلوع کے تھوڑی دیر بعد جو نماز ادا کی جاتی ہے۔ اسے اشراق کی نماز کہتے ہیں۔ اشراق کا معنی سورج کا چمکنا ہے۔ یعنی جب سورج چمکتا ہے یا ظاہر ہوتا ہے۔ اس کو اشرقا کہتے ہیں۔ یہ دونوں نمازیں ہیں۔ نمازضحی یا ادابین حدیث شریف میں آتا ہے کہ ام المئومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے دریافت کیا گیا۔ کیا حضور ﷺ چاشت کی نماز ادا فرماتے تھے۔ تو آپ نے جواب دیا۔ ہاں ! آپ چاشت کی چار رکعت یا اس سے زیادہ بھی پڑھتے تھے۔ فتح مکہ کے دن آپ نے چاشت کی نماز آٹھ رکعت ادا فرمائی یہ نماز بارہ رکعت تک پڑھی جاسکتی ہے اور کم سے کم دو رکعت حضور ﷺ سے دو چار یا آٹھ رکعت تک ثابت ہے۔ اکثر بزرگان دین بارہ رکعت بھی پڑھتے ہیں۔ صلوۃ ضحی کے متعلق ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے ان صلوۃ الاوابین حین ترمض الفصال چاشت کے وقت پڑھی جانے والی نماز صلوۃ الاوبین ہے۔ آداب کا معنی ہے خدا کی طرف رجوع کرنے والا۔ یہ نماز فرض تو ہے نہیں ، محض نفل ہے۔ اس لئے یہ نماز ادا کرنے والے لوگ خصوصی طور پر اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس لئے اس نماز کو صلوۃ الادا بین کہا گیا ہے۔ ان نوافل کا یہ نام اصطلاحاً نہیں بلکہ معنوی طور پر ہے۔ چونکہ ان نوافل کا ادا کرنے والا …بھی اللہ تعالیٰ کی طرف ہی رجوع کرتا ہے۔ اس لئے اسے بھی اوابین کی نماز کہا گیا ہے۔ اصطلاح کے طور پر جس نماز کو صلوۃ الاوابین کہا گیا ہے۔ وہ ہی نماز ہے۔ جو چاشت کے وقت ادا کی جاتی ہے۔ جب سورج اتنا بلند ہوجاتا ہے کہ اس کی تپش سے اونٹوں کے چھوٹے بچوں کے پائوں گرمی کی وجہ سے تپنے لگتے ہیں۔ آج کل کے وقت کے لحاظ سے یہ نو ، دس بجے کا وقت ہوتا ہے۔ تاہم مغرب کے بعد چھ نوافل کی بڑی فضیلت ہے ابن ماجہ شریف کی روایت میں ہے کہ جو شخص بعد از نماز مغرب چھ نفل اخلاص کے ساتھ ادا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو بارہ سال کی نمازوں کا اجر عطا فرمائے گا۔ پہلی سورة کے ساتھ ربط گزشتہ سورة کی ابتداء رات کی قسم سے ہوئی تھی۔ والیل اذا یغشی “ یعنی قسم ہے رات کی جب وہ پھیل جائے اور اس سورة میں فرمایا والضحیٰ یعنی قسم ہے دن کی جب وہ خوب روشن ہوجائے والیل اذا سجی اور قسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ گزشتہ سورة کی آخری آیات میں حضرت صدیق اکبر کے اخلاق حسنہ اور ان کے تقویٰ کی طرف اشارہ ہے چونکہ ان کی زندگی کا پہلا دور زمانہ جاہلیت میں بسر ہوا جسے رات کی تاریکی کے ساتھ مشابہت ہے۔ اس لئے وہاں سورة کی ابتداء والیل یعنی رات سے ہوئی۔ بعد میں آپ ایمان لائے اور ساری امت سے افضل قرار پائے۔ اس سورة میں حضو ر نبی کریم ﷺ کی ذات مبارکہ کا ذکر ہے لہٰذا یہاں پو الضحی کا لفظ استعمال کر کے آپ کو روز روشن سے تشبیہ دی گئی ۔ گویا آپ کی ذات خوب روشن دن کی طرح صاف و شفاف اور واضح ہے۔ ضحی اور لیل وسیع تر معنوں میں حقیقت میں قرآن حکیم نے حکیمانہ طریقے پر بہت سی باتیں سمجھائی ہیں۔ ان چھوٹے چھوٹے جملوں اور چھوٹی چھوٹی سورتوں میں علم و حکمت کے موتی بکھیرے ہیں اور مختلف طریقوں سے نہایت گہری باتیں ذہن نشین کرائی ہیں۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو نور اور روشنی فرومایا ہے جب کہ کفر و ضلالت کو تاریکی سے تعبیر کیا ہے۔ اسی طرح حدیث پاک میں سنت کو روشنی اور بد دعات کو تاریکی قرار دیا گیا ہے۔ جب انسان کے باطن پر کفر و شرک کی تاریکی چھا جاتی ہے۔ تو اس کی بصیرت زائل ہوجاتی ہے۔ اسے صحیح بات کی سمجھ ہی نہیں آتی۔ وہ غلط تاویلوں اور فاسد عقیدے کے اندر ہی پڑا رہتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اعمال بھی فاسد ہوجاتے ہیں۔ برخلاف اس کے جسے ایمان کی دولت نصیب ہوجائے اس کے قلب و ذہن میں روشنی پیدا ہوجاتی ہے جس کے ذریعے وہ نیکی اور بدی میں تمیز کرنے لگتا ہے۔ اس کا دل اور دماغ بھی روشن ہوجاتا ہے۔ پیغمبر (علیہ السلام) پر نزول وحی کی مثال ایسی ہے جیسے دوپہر کے وقت روشنی ہوتی ہے اور یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ انسانیت ہمیشہ علم سے ترقی کرتی ہے۔ تاریکی ایک عارضی چیز ہے۔ کیونکہ اس کے بعد روشنی ضرور آتی ہے۔ اس سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ دوپہر کے بعد رات کا آنا بالکل عارضی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اب روز روشن نہیں آئے گا۔ بلکہ دن تو بڑی آب و تاب سے آئے گا۔ والضحیٰ کا بھی یہی معنی ہے اگر کچھ عرصہ کے لئے انقطاع وحی کی تاریکی چھا گئی ہے تو یہ بالکل عارضی چیز ہے۔ وحی الٰہی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو کر اس عارضی تاریخی کو ختم کر دے گا اور دنیا پھر سے ہدایت کی روشنی سے منور ہوجائے گی۔ بعض فرلاتے ہیں کہ والضحیٰ میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ قسم ہے اسلام کے روشن دور کی ظاہر ہے کہ اسلام کے دو دور ہیں۔ ایک روشن اور دوسرا تاریک حضور ﷺ کے زمانہ مبارک سے لے کر جنگ صفین تک روشن دور ہے جس میں دین اسلام اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکا تھا۔ مگر اس کے بعد تاریکی کا دو ر شروع ہوجاتا ہے مگر اس تاریک دور میں بھی اسلام کی شمع گل نہیں ہوئی بلکہ جس طرح رات کی تاریکی میں چاند نمودار ہو کر کچھ نہ کچھ روشنی بہم پہنچاتا ہے۔ اسیطرح حضور ﷺ کے بعد خلفائے راشدین کی مثال چاند کی ہے۔ جنہوں نے حضور ﷺ سے روشنی حاصل کر کے دنیا کو منور کئے رکھا جب چاند بھی غروب ہوجاتا ہے۔ تو ستاروں کی کم تر روشنی بھی کسی حد تک کفایت کرتی ہے۔ صحابہ کرام کے بعد تابیعن اور تبع تابعین ستاروں کی مانند ہیں۔ جنہوں نے اپنی بساط کے مطابق اسلام کے راستے کو منور رکھا مکمل تاریکی کے دور میں لوگ چراغ جلاتے ہیں یا اور کسی طرح سے روشنی حاصل کرتے ہیں امت مسلمہ میں بھی یہ فریضہ اہل علم ، صالحین اور مجاہدین نے انجام دیا اور اللہ نے اس تاریک دور میں روشنی کا کچھ نہ کچھ سامان پیدا کردیا۔ تاہم اسلام کا اولین دور روز روشن کی مانند ہے۔ بہتر مستقبل کی بشارت بہرحال اللہ تعالیٰ نے دھوپ چڑھتے وقت اور رات کی تاریکی کی قسم اٹھا کر فرمایا ما ودعک ربک آپ کو آپ کے پروردگار نے نہیں چھوڑا۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ انقطاع وحی کے دور میں کفار اپنے عناد ، دشمنی اور خبیث ذہنیت کی بنا پر یہ طعنہ دیتے تھے کہ معاذ اللہ حضور ﷺ کو ان کے رب نے چھوڑ دیا ہے۔ یہاں پر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس طعن کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔ آپ کو آپ کے رب نے ہرگز نہیں چھوڑا۔ وما قلی اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے آپ سے نفرت کا اظہار فرمایا ہے۔ وحی کے چند روز کے لئے رک جانا یا کسی عارضہ کی وجہ سے آپ کا چند دن کے لئے عبادت کے واسطے نہ اٹھ سکنا ، یہ عارضی دور ہے۔ یہ تاریکی چھٹ جائے گی اور روشنی کا دور دوبارہ شروع ہوجائے گا۔ آپ یقین جانیں۔ وللاخرۃ خیرلک من الا ولی آپ کا آئندہ دور گزشتہ دور سے بہتر ہوگا ظہور اسلام کا پہلا دور مشکلات کا دور ہے اور اس کے بعد جو دور آنے والا ہے۔ وہ تابناک ہے۔ لہٰذا آپ رنجیدہ خاطر نہ ہوں تاریکی کے یہ بادل عنقریب چھٹ جائیں گے۔ بعض اس کو آخرت پر محمول کرتے ہیں کہ دنیا کی زندگی سے آپ کا آخرت کا دور بہتر ہے۔ یہ وہ دور ہوگا جب قیامت کے روز اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود پر فائز فرمائیں گے اور حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام انبیاء (علیہم السلام) آپ کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوں گے۔ آپ شفاعت کبریٰ اور صغریٰ فرمائیں گے۔ اور آپ کی شان اور مرتبے کا مکمل ظہور ہوگا۔ آخرت کے بہتر ہونے کا یہی مطلب ہے۔ اس دنیا میں تکالیف ہیں۔ طرح طرح کی پریشانیاں لاحق ہیں مگر آخرت آپ کے لئے بہرحال بہتر ہے یہ تو بہرحال امر مسلم ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ اس دنیا کا ہر دوسرا دور پہلے کی نسبت ترقی کا دور ہے۔ چونکہ ترقی ایک مسلسل عمل ہے وہ جاری رہتا ہے۔ اس لئے آپ کا ہر آنیوالا دور گزشتہ کی نسبت ترقی یافتہ دور ہے۔ جس طرح رات کی تاریکی کے بعد اگلا دن پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔ اسی طرح مصائب کا یہ عارضی دور ختم ہو کر آپ کو مادی اور روحانی ترقی ضرور حاصل ہوگی۔ خوش کن انعامات فرمایا آنیوالا دور کی بہتری کی نشانی یہ ہے کہ ولسوف یعطیک ربک فترضی آپ کا رب عنقریب آپ کو اتنا دے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے۔ آخرت کا معاملہ تو یہ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب تک میری امت کا ایک فرد بھی دوزخ میں ہوگا میں راضی نہیں ہوں گا۔ میری رضا اس وقت ہوگی جب میری امت کے تمام لوگ دوزخ سے رہائی حاصل کرلیں گے۔ رہا اس دنیا کا معاملہ تو یہاں آپ کی انتہائی خواہش یہ تھی سے رہائی حاصل کرلیں گے۔ رہا اس دنیا کا معاملہ تو یہاں آپ کی انتہائی خواہش یہ تھی۔ کہ اسلام کو عروج حاصل ہو۔ آپ اس معاملے میں ہمیشہ متفکر رہتے تھے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آپ کو بشارت دی کہ آپ کی تمنا ضرورپوری ہوگی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا مانگی تھی۔ ” ربنا وابعث فیہم رسولاً منھم “ اے پروردگار میری اولاد میں سے امت مسلمہ پیدا کر اور پھر انہیں میں سے آخری رسول بھیج۔ بلاشبہ حضور ﷺ ہی اس دعا کے مصداق تھے۔ اور اپنا فرض منصبی یتلوا علیہم ایتک ویعلمھم الکتب والحکمۃ و یزکیھم “ جلد از جلد پورا کرنا چاہتے تھے۔ آپ کی دلی خواہش تھی کہ میری تعلیم و تربیت کا نتیجہ جلد از جلد ظاہر ہو اور لوگ دھڑا دھڑ دین اسلام میں داخل ہوجائیں تو اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے باشرت دی کہ آپ کی یہ خواہش عنقریب پوری ہوگی۔ “ ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجاً “ اور آپ لوگوں کو گروہ درگروہ دین میں داخل ہوتے ہوئے دیکھیں گے اور راضی ہوجائیں گے۔ حضور ﷺ کا بچپن کا زمانہ دلیل کے طور پر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے بچپن کا ذکر کیا کہ کس طرح آپ کو مشکل حلا ات سے نکال کر موجودہ منزل تک پہنچایا فرمایا الم یجدک یتیماً فاویٰ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہیں پایا تھا یتیم پس اس نے جگہ دی یعنی آپ تو پیدا ہی یتیم ہوئے تھے۔ آپ کے والد آپ کی ولادت سے دو ماہ پہلے صرف تئیس 23 ، چوبیس 24 سال کی عمر میں وفات پا گئے تھے ۔ چھ سال کی عمر میں آپ کی والدہ کا سایہ بھی اٹھ گیا اور باپ کے بعد آپ ماں کی شفقت سے بھی محروم ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی پرورش کا اس طرح انتظام فرمایا کہ آپ کے دادا عبدالمطلب کے دل میں آپ کی محبت ڈال دی۔ وہ آپ کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے دو سال بعد یعنی آٹھ سال کی عمر میں شفیق دادا بھی داغ مفارقت دے گئے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کے چچا ابو طالب کا دل آپ کی طرف مائل کردیا۔ آض کو حضور ﷺ سے اس قدر محبت تھی کہ سفر میں تنہا چھوڑ کر نہ جاتے بلکہ ہمراہ لے جاتے مبادا آپ کو کوئی گزند نہ پہنچ جائے۔ آپ کی عمر مبارک تیرہ سال کی تھی جب آپ نے اپنے چچا کے ساتھ سفر اختیار کیا۔ راستے میں ایک بہت بڑا واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے آپ کو واپس لوٹا دیا گیا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے حالت یتیمی میں آپ کی پرورش کی ، تو کیا اب ہم آپ کا ساتھ چھوڑ دیں گے ہرگز نہیں۔ اللہ اپنی رحمت کا سایہ اب بھی آپ پر قائم رکھے گا۔ یتیموں کی پرورش ان حالات سے یتیموں کی پرورش کا قانون قائم ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت کی رحمت کے طالب ہو تو یتیموں کی پرورش کیا کرو۔ مسند احمد کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور ! میں اپنے دل میں سختی پاتا ہوں اس کا علاج فرمائیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا ، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھو اور مسکین کو کھانا کھلائو ، خدا تمہارے دل کی سختی کو دور کر گا۔ سنگدلی بہت بری بیماری ہے۔ خدا تعالیٰ سے جس قدر تنگ دل بعید ہوتا ہے کوئی اور چیز نہیں ہوتی۔ فرمایا غلاموں یتیموں اور مسکینوں کی دلجوئی کرو گے۔ خدا تم پر رحم کرے گا۔ تمہارے دل میں نرمی پیدا ہوگی اور پاکیزہ خیالات کو جگہ ملے گی۔ حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ مسلمان گھرانوں میں سے وہ بہترین گھر ہے جس میں کوئی یتیم ہے اور اس کے ساتھ احسان کیا جا رہا ہے اور بدترین گھر وہ جس میں کسی یتیم کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے گزشتہ سورة بلد میں بھی یہ مضمون گذر چکا ہے ” او اطعم فی یوم ذی مسغبۃ یتیماً ذا مقربۃ اور مسکیناً ذا متربۃ “ یہاں بھی یتیم و مسکین کی پرورش کا قانون بتلایا گیا ہے۔ الغرض اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو یاد دلایا کہ کیا آپ کو اللہ نے یتیم نہیں پایا۔ پھر اس نے ٹھکانا مہیا کیا اور پرورش کا سامان پیدا کیا۔ لفظ ضال کا مفہوم یتیمی میں ٹھکانا دینے کا احسان جتلانے کے بعد دوسرا احسان یہ بتلایا ووجدک ضآ لاً فھدی اور پایا آپ کو ضال ، پس راہنما فرمائی۔ لفظ ضال مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک معنی تو وہی ہے جیسے گمراہ کا فردغیرہ اس کی مثال ” غیر المغضوب علیھم ولا الصالین “ میں موجود ہے یعنی اے اللہ ! ہمیں مغضوب علیہم (یہود) اور ضالین (نصاری) کے راستے سے بچا ۔ اور سیدھے راستے چلا۔ یہ معنی پیغمبر (علیہ السلام) کی ذات والا صفات پر تو ہرگز عاید نہیں ہوتا۔ نبی کی ذات پر کفر ، شرک زندگی کے کسی بھی مرحلے پر محال ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ابتداء سے ہی نبی کی ذات کا محافظ اور نگران ہوتا ہے۔ ضال کا ایک دوسرا معنی حیران اور سرگردان ہے ۔ جو شخص گم ہوجائے اسے بھی ضال کہتے ہیں۔ جیسے الحکمۃ ضالۃ المومن دانائی اور حکمت مومن کی گمشدہ متاع ہے۔ ضال کا ایک اور معنی ناواقف بھی ہے۔ اگر یہ معنی لیا جائے تو آیت کا مفہوم ہوگا اور آپ کو ناواقف پایا اس قسم کا مفہوم بعض دوسری آیات میں بھی پایا جاتا ہے۔ مثلاً ماکنت تدری ما الکتب ولا ایمان ولکن جعلنہ نوراً نھدی بہ من نشآء “ آپ کو پتہ نہیں تھا کہ کتاب کا علم کیا ہے اور ایمان کی تفصیل کیا ہے یہ روشنی تو ہم نے آپ کے دل میں ڈالی۔ آپ کو صحیح عقائد اور صحیح پروگرام معلوم نہیں تھا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتلایا ۔ مقصد یہ کہ آپ کے اندر پروگرام کو اخذ کرنے کی صلاحیت اور جذبہ تو موجود تھا۔ مگر آگے کوئی راستہ معلوم نہیں تھا۔ اس لئے اللہ نے آپ پر مہربانی فرمائی۔ آپ کو سرگردان یا ناواقف پایا تو منزل مقصود تک پہنچا دیا۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ پر کتاب نازل فرمائی ، قانون دیا ، پروگرام بتلایا۔ صحیح فکر اور صحیح فکر اور صحیح عقائد بتلائے۔ اعمال کی صحت کا قانون عنایت کیا۔ آپ کو شریعت دی۔ جس سے آپ ناواقف تھے۔ ” ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر فاتبعھا “ اللہ تعالیٰ نے آپ پر بڑا احسان فرمایا کہ وحی کے ذریعے آپ پر شریعت نازل فرمائی۔ الغرض ! یہاں پر ضال کا معنی گمراہ نہیں بلکہ ناواقف ہے۔ آپ ناواقف تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مہربانی فرما کر منزل مقصود تک پہنچایا۔ وحی نازل فرمائی۔ شریعت کا علم عطا کیا اور قانون کی تمام تفصیلات سے آگاہ کیا۔ وہ علم اور وہ تفصیلات جن کے ذریعے آپ دین کی راہنمائی فرما سکیں۔
Ayahs 93:5–11

وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ Open ayah 93:5 in the Quran reader

اور آپ کا رب عنقریب آپ کو اتنا کچھ عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے

اَلَمْ یَجِدْكَ یَتِیْمًا فَاٰوٰى۪ Open ayah 93:6 in the Quran reader

کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یتیم نہیں پایا تھا پس اس نے جگہ دی

وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪ Open ayah 93:7 in the Quran reader

اور پایا آپ کو ناواقف پس راہنمائی فرمائی

وَ وَجَدَكَ عَآئِلًا فَاَغْنٰىؕ Open ayah 93:8 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو مفلس پایا پس اس نے مستغنی کردیا

فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ Open ayah 93:9 in the Quran reader

پس بہرحال یتیم پر آپ قہر نہ کریں

وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْؕ Open ayah 93:10 in the Quran reader

اور بہرحال سائل تو آپ اس کو مت جھڑکیں

وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠ Open ayah 93:11 in the Quran reader

اور بہر حال اپنے رب کی نعمت کو بیان کرتے رہیں

گزشتہ سے پیوستہ ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھائی کہ چند دن کے لئے وحی کے منقطع ہونے پر مشرکین جو اعتراضات کرتے ہیں ، وہ درست نہیں ہیں۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے اس مقام پر دن اور رات کی قسم کھا کر آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کا پروردگار مکمل طور پر آپ کے ساتھ ہے۔ نہ اس نے آپ کو چھوڑا ہے اور نہ اس نے آپ سے نفرت کا اظہار فرمایا ہے۔ یہاں پر دھوپ کے روشن ہونے سے مراد وحی الٰہی کا نزول ہے جس طرح چاشت کے وقت دن خوب روشن ہوتا ہے اور ہر چیز واضح ہوتی ہے۔ اسی طرح وحی الٰہی کے نزول پر حقائق کا انکشاف ہوتا ہے۔ وحی الٰہی کا منقطع ہونا بھی ترق کی علامت ہے اور اس کا منشاء یہ ہے کہ آپ پہلے سے موجود پروگرام کی تعلیم دیتے رہیں ۔ اور اپنی جماعت کی تربیت فرماتے رہیں۔ انقطاع وحی کے دوران کام معطل نہیں ہوجاتا۔ بلکہ آپ جماعت بندی اور تبلیغ دین کرتے رہیں۔ یہ کام مزید ترقی کا پیش خیمہ ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ آپ کا آخری دور آپ کے پہلے دور کی نسبت بہتر ہوگا۔ آپ ہر لمحہ ترقی کی منزل طے کرتے جائیں۔ یہ ترقی مسلسل جاری رہے گی۔ اس دنیا میں ، عالم برزخ میں بھی اور پھر آخرت میں بھی ترقی کا تسلسل برقرار رہنا چاہئے۔ پھر فرمایا کہ عنقریب اللہ تعالیٰ آپ کو اتنا کچھ عطا کر دے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی دلی خواہش کو پورا کرے گا۔ سابقہ انعام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا اللہ نے آپ کو یتیم نہیں پایا تھا۔ پھر اس حالت میں آپ کی پرورش کس طریقہ پر کی۔ آپ کو ٹھکانہ دیا۔ باپ کا سایہ ولادت سے پہلے اٹھ چکا تھا۔ چھ سال کی عمر میں والدہ بھی وفات پا گئی ۔ پھر اللہ نے قوم کے سردار عبدالمطلب کے دل میں آپ کی محبت ڈال دی۔ جس نے آپ کی پرورش نہایت اچھے طریقے پر کی۔ دو سال کے عرصے بعد دادا بھی فوت ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی پرورش کی خدمت آپ کے چچا ابو طالب سے لی۔ وہ آپ کو سفر و حضر میں ساتھ رکھتا تھ۔ تاکہ خدانخواستہ آپ کو کوئی گزنہ نہ پہنچ جائے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی سے ہوا ایک اور بہت بڑی مہربانی اللہ نے یہ کی کہ حضور ﷺ ناواقف تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو شریعت اور کتاب کا علم دیا اور منزل مقصود تک پہنچایا۔ حضور ﷺ کا استغناء اس کے بعد اگلے احسان کے متعلق فرمایا ووجدک عآئلاً ابتدائی دور میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مفلس پایا فاغنی پس اس نے مستغنی کردیا ، بےپروا کردیا۔ عائل کا معنی ، محتاج ہوتا ہے۔ یعنی آپ کی مالی حالت کمزور تھی۔ عائل کا دوسرا معنی عیالدار بھی ہوتا ہے۔ جس کی کفالت میں اہل و عیال زیادہ ہوں اور ضروریات زندگی بخوبی پوری نہ ہوتی ہوں۔ حضور ﷺ کی ابتدائی زندگی احتیاج کی زندگی تھی بچپن میں آپ دادا اور چچا کے زیر کفالت رہے۔ بعد میں آپ نے تجارت شروع کی تو اللہ نے کافی نفع دیا۔ اس کے بعد آپ مکہ کی ایک نہایت شریف اور مالدار خاتون حضرت خدیجہ کے مال میں مضاربت کرنے لگے اس سلسلہ میں آپ نے سفر بھی اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے تجارت میں بڑا نفع دیا۔ اس خاتون نے حضور ﷺ سے نکاح کرلیا اور اپنا مال و دولت حضور لعیہ السلام کی خواہش کے مطابق صرف کرنے لگی۔ حضرت ابوبکر صدیق نے بھی آپ کی حسب منشا اپنی ساری دولت صرف کردی۔ حضور ﷺ کا اشراد ہے۔ مانفعنی مال احد قط مانفغنی مال ابی بکر یعنی مجھے کسی کے مال نے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا ، جتنا حضرت صدیقف کے مال نے الغرض ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی (علیہ السلام) ! آپ نادار تھے۔ ہم نے آپ کو غنی کردیا۔ غناء قلب اغنیٰ کا عام فہم معنی تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ جیسی بےمثال شخصیت کو وسیع قلب ، عطا فرمایا اور آپ کو وہ اخلاق حسنہ عطا کیا کہ جس کی تعریف اس نے خود فرمائی۔ وانک لعلی خلق عظیمہ “ یعنی آپ عظیم اخلاق کے حامل ہیں۔ دنیا کے سارے خزانے بھی آپ کی قلبی کیفیت اور آپ کے اخلاق سے مطابقت نہیں رکھتے تھے تو غنیٰ کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ حضرت خدیجہ یا حضرت ابوبکر یا خاندان بنو ہاشم کا مال آپ کے حسب منشا خرچ ہوا۔ بلکہ حقیقی غناء یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غنائے قلب عطا کردیا۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے لیس الغنی علی کثرۃ الغرض ولکن الغنی عنی النفس یعنی حقیقی غناء اس ظاہری مال و اسباب سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اصل غنار تو دل کا غناء ہے۔ خواہ ظاہری اسباب کم ہی کیوں نہ ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے دل میں بیحد استغناء پیدا کیا تھا۔ آپ حقیر چیزوں کی طرف قطعی متوجہ نہیں ہوتے۔ قناعت کی فضیلت برخلاف اس کے دنیا کے بڑے بڑے مالداروں پر نگاہ ڈالیے۔ نہایت خسیس کاموں کے مرتکب ہوتے ہیں۔ معملوی سے منافع کی خاطر ایمان تک کو دائو پر لگا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو ایسی چیزوں سے پاک رکھا اور آپ کے قلب مبارک میں اعلیٰ درجے کا استغناء پیدا فرما دیا۔ اسی لئے آپ کا ارشاد ہے۔ حقیقی غنادل کا ہے۔ عام طور پر یہ بھی مشاہدہ میں آتا ہے کہ اکثر امیر لوگ دل کے غریب ہوتے ہیں زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کر کے بھی ان کا دل مطمئن نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے پیچھے اور زیادہ بھاگتے ہیں اور خرچ کرنے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) نے فرمایا جسے قناعت کی دولت نصیب ہوجائے۔ وہ بڑے بڑے دولتمند سے بہتر ہے۔ فرمایا قد افلح من ھدی الی الاسلام ورزق الکفاف وقغ بہ یعنی وہ شخص کامیاب ہوگیا جس نے اسلام قبول کرلیا۔ اگرچہ اس کے پاس گذر اوقات کا سامان بقدر ضرورت ہی ہو۔ یہ قناعت بہت بڑی دولت ہے۔ حرص و لالچ کی مذمت خود قرآن پاک نے بیان کی ہے۔ ” الھکم التکاثر حتی زرتم المقابر “ تمہیں مال و دولت کی کثرت (طلب) نے غفلت میں ڈال دیا ہے۔ یہاں تک کہ تم قبروں میں پہنچ جائو۔ مقصد یہ کہ مال کے مقابلے میں قناعت عظیم نعمت ہے۔ اللہ جل شانہ نے حضور خاتم النبین (علیہ السلام) کو جو استقاء عطا فرمایا تھا وہ سب سے زیادہ تھا۔ یہی حال آپ کے خاندان اور اہل بیت کا تھا۔ ان پر کیسی بھی تکلیف آئی ۔ مگر شکوہ و شکایت کبھی زبان پر نہیں آئی ۔ وہ بھی قناعت کے پکیر تھے اپنے خرچہ میں سے راہ خدا میں دے دیتے۔ امہات المئومنین کا بھی یہی حال تھا۔ حضرت عائشہ کے پاس درہموں کی دو بوریاں بھر کر آئیں۔ آپکی جود و سخاوت اور قناعت و استغناء کا یہ حال تھا کہ شام تک اتنا بھی باقی نہ رکھا کہ روزہ افطار کرلیتیں۔ سارا مال مستحقین میں تقسیم کردیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے اہل بیت اور اہل خاندان کو بڑی قناعت دی تھی۔ ظاہری مال و اسباب کے ساری دنیا کے خزانے بھی آپ کے سامنے آجاتے تو ضروریات پوری نہ ہو سکتی تھیں۔ کیونکہ آپ کا قلب بہت وسیع تھا۔ آپ کا اخلاق بہت بلند تھا ۔ مگر اللہ نے آپ کو بہت بےپروا کردیا تھا۔ اسی لئے سعدی صاحب کہتے ہیں۔ تو نگری بدل است نہ بمال بزرگی بعقل است نہ بہ سال تو نگری دل کے ساتھ ہوتی ہے نہ کہ مال کے ساتھ بزرگی عقل کے ساتھ ہوتی ہے۔ عمر کے ساتھ نہیں کیونکہ بعض اوقات چھوٹی عمر کے لوگ بھی دانائی کی باتیں کرتے ہیں جب کہ عمر رسیدہ حماقت کر بیٹھتے ہیں۔ الغرض یہ اللہ تعالیٰ کے حضور ﷺ پر انعامات تھے کہ آپ یتیم تھے تو اللہ نے ٹھکانا فراہم کیا۔ آپ ناواقف تھے ، اللہ کریم نے کتاب و شریعت کے ذریعے علم دیا آپ محتاج تھے اللہ نے مستغنی بنا دیا۔ ان آیات میں انہیں باتوں کا تذکرہ ہے۔ یتیم کے ساتھ شفقت مذکورہ تین احکام کے مقابلے میں اللہ نے حضور ﷺ کو تین احکام بھی دیئے ہیں آپ کی یتیمی کا تذکرہ کیا تو اس کے ساتھ پہلا حکم یہ ہو رہا ہے۔ فاما الیتیم فلا تقھر یتیم پر قہر نہ کریں۔ آپ نے خود بحیثیت یتیم جان لیا کہ وہ کس قسم کے سلوک کا مستحق ہوتا ہے لہٰذا للہ نے آپ کو اور آپ کی وساطت سے ساری امت کو تعلیم دی کہ یتیم کے ساتھ سختی سے پیش نہیں آتا ، بلکہ ان کے ساتھ شفقت اور ہمدردی کا سلوک کرنا ہے جب کسی یتیم کو دیکھو تو یاد کرو کہ ہمارے حضور نبی کریم ﷺ بھی یتیم تھے آپ نے فرمایا یتیم کے ساتھ مہربانی کیا کرو۔ اس کا اجر یہ ملے گا۔ انا وکافل الیتیم کھاتین میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا قیامت کے دن اکٹھے ہوں گے۔ گویا ایسے شخص کو میرا قرب نصیب ہوگا۔ مسند احمد کی روایت گزشتہ درس میں بیان ہوچکی ہے۔ ایک شخص نے عرض کیا حضور ! میں اپنے دل میں سختی پاتا ہوں۔ آپ نے فرمایا یتیم کے سر پر ہاتھ رکھو اور مسکین کو کھانا کھلایا کرو۔ خدا تمہاری سختی دو کر دے گا۔ یتیموں کے مال کی حفاظت کے متعلق سورة نساء میں آتا ہے۔ ان الذین یا کلون اموال الیتمی ظلماً انما یاکلون فی بطونھم ناراً جو لوگ یتیموں کا مال دھوکے فریب سے کھاتے ہیں ، وہ اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ ڈال رہے ہیں۔ ایسے لوگ عنقریب جہنم کا شکار بنیں گے۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا کہ یتیم کے ساتھ زیادتی نہ کرو ، بلکہ ان کی پرورش کرو یتیم سرپرست سے محروم ہوتا ہے اور مسکین بےکس ہوتا ہے۔ ان کی پرورش کرو اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ تمہاری جماعت مضبوط ہوگی جن لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرو گے۔ وہ تمہاری جماعت میں شامل ہوجائیں گے۔ جو قوم اپنے کمزور طبقوں کا ہاتھ نہیں پکڑتی ان کی پرورش نہیں کرتی۔ وہ ناکامی کا منہ دیکھتی ہے۔ اسی لئے قرآن پاک میں جگہ جگہ ہے ” ات ذا القربی حقہ و المسکین “ اپنے قربات داروں اور مسکین کا حق ادا کرو۔ سائل کے ساتھ حسن سلوک اللہ تعالیٰ نے دوسرا حکم یہ ارشاد فرمایا واما السآئل فلاتنھر سائل کو مت جھڑکو ، سائل سے مراد حقیقی محتاج ہے۔ ان کے متعلق اللہ کا فرمان ہے کہ فی اموالھم حق معلوم لسآئل والمحروم مال داروں کخے مال میں سائل اور محروم کا حق ہے۔ انہیں ان کا حق ادا کرو۔ ان کے فرضی حقوق بھی ہیں اور مسنو نہ اور مستحب بھی۔ ان کے تمام حقوق ادا کرو۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہر سائل اس کا مصداق نہیں ۔ بلکہ وہ حقیقی سائل مراد ہے جو اعانت کا مستحق ہے۔ یہ پیشہ ور بھکاری جو اکڑ کر کھڑا ہوجائے اس کے لئے یہ حکم نہیں ہے ایسے سائل کو ڈانٹ دنیا بھی روا ہے۔ روح المعانی والے مفسر قرآن لکھتے ہیں کہ نہ ڈاٹنے کا حکم اس سائل کے لئے ہے جو نرمی سے سوال کرتا ہے۔ اور واقعی محتاج ہے تم بھی اس سے نرمی سے بات کرو۔ اگر اس کی ضرورت پوری نہیں کرسکتے۔ تو اس سے نرمی سے معاف مانگ ۔ ا۔ کیونکہ قول معروف و مغفرۃ خیر من صدقۃ یتبعھآ اذی ، “ جس صدقے کے بعد تکلیف پہنچائی جائے گیا گالی دی جائے۔ مارا پیٹا جائے یا طعنہ دیا جائے۔ اس صدقے کی بجائے اس سے نرمی کی بات زیادہ بہتر ہے۔ یہ سب سائل کے ساتھ حسن سلوک سے متعلق ہیں۔ انعامات الٰہی کا تذکرہ تین انعامات کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے تیسرا حکم دیا۔ واما بنعمۃ ربک فحدث اپنے رب کی نعمت کو بیان کرو۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو انعام تم پر کیا ہے اس کو بیان کرو۔ اللہ کے احسان کو چھپانا نہیں چاہئے بلکہ ظاہر کرنا چاہئے۔ تاکہ اس کے احسانات کا شکریہ ادا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ پر بیشمار احسان کئے ختم نبوت عطا فرمائی جو کہ بہت بڑا احسان ہے۔ قرآن پاک جیسی عظیم دولت عنایت کی ۔ یہ تحفہ آپ کی وساطت سے ساری امت کو نصیب ہوا۔ غلامی صرف اللہ کی قرآن پاک کی تعلیمات میں دو چیزوں کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اول اللہ کی غلامی اور دوسری تعلیم دین۔ اللہ تعالیٰ کی غلامی اختیار کرنے سے متعلق فرمایا۔ ” یایھا الناس اعبدوا ربکم الذی خلقنکم “ اے لوگو عبادت اللہ کی کرو یعنی غلامی صرف اللہ وحدہ لاشریک کی اختیار کرو۔ اس کے علاوہ کسی دوسرے کی غلامی اختیار نہ کرو۔ چاہے وہ قیصر و کسریٰ ہو ، یا کوئی بادشاہ یا شہنشاہ اللہ ہی کو اپنا کار ساز اور قادر مطلق سمجھو۔ اگر یہ عقیدہ تمہارے دل میں راسخ ہوگیا تو غیر اللہ کی غلامی سے نجات حاصل کرلو گے۔ تمہارے قلب و ذہن میں آزادی کی لہر پیدا ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ کی غلامی ایسا پکیزہ عقیدہ ہے جس کو اختیار کرنے سے کفر و شرک کی نجاست سے بچ جائو گے۔ یہ چھوٹے بڑے سارے کے سارے الل ہہی کے غالم ہیں۔ اس لئے انسان کو انسان کی غلامی کسی صورت میں قبول نہیں کرنی چاہئے۔ لا الہ الا اللہ کا یہی مطلب ہے۔ کوئی انسان دوسرے انسان کو غلام بنائے۔ یہ بدترین خصلت ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ قیصر و کسریٰ نے کسانوں اور دیگر غریب لوگوں کو بیل اور گدھے کی طرح استعمال کیا ایک وقت کا معمولی کھانا کھلا کر چوبیس 24 گھنٹے کام لیا انہیں جانوروں کی طرح استعمال کیا ۔ نہ ان کی اپنی ضرویات پوری کیں اور نہ پورے معاشرے کیضروریات کی طرف توجہ کی۔ غلامی اسی لئے لعنت ہے۔ اس کا نتیجہ یہی ہوتا ہے۔ آج بھی دنیا میں ایسے بادشاہ اور امراء موجود ہیں جو انسانوں کو جانوروں کی طرح غلامی کے شکنے میں جکڑے ہوئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر یقین نہیں رکھتے۔ جو شخص مئوحد ہوگا۔ اللہ کی عبادت اور اس کی غلامی اختیار کرنے والا ہوگا۔ وہ دوسروں کو بھی خدا کی مخلوق سمجھے گا ۔ بحیثیت انسان سب کو برابر خیال کرے گا اور کسی کو غلام بنانے کی کوشش نہیں کرے گا۔ لہٰذا تمام لوگوں کو صرف اللہ ہی کی غلامی اختیار کرنی چاہئے۔ قرآن پاک کے پروگرام کی یہ پہلی بنیادی چیز ہے۔ دین کی تعلیم فرمایا دوسری بنیادی چیز یہ ہے کہ تعلیم حاصل کرو سب سے پہلے کتاب اللہ کی تعلیم حاصل کرو کیونکہ سب سے پہلی آیت جو حضور ﷺ پر نازل ہوئی وہ یہی تھی ۔ اقرا باسم ربک الذق خلق “ اپنے رب کا نام لے کر پڑھئے جس نے پیدا کیا۔ والضحیٰ سے بھی یہی مراد ہے کہ اے لوگو ! جس طرح چاشت کے وقت خوب روشنی ہوتی ہے۔ اسی طرح تعلیم دین بھی روشن اور منور ہے۔ انسان علم کی روشنی میں ترقی کرے گا۔ اس علم کے بغیر کوئی انسان انسان بن ہی نہیں سکتا۔ انسان اپنے آپ کو ، اپنے رب کو اور اپنے فرائض کو دین کی تعلیم کی روشنی میں ہی پہچان سکتا ہے ۔ ہر شخص پر تعلیم فرض عین ہے۔ اس کے بغیر انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں۔ دنیاوی تعلیم تو ایک زائد چیز ہے۔ جسے فضل سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ مگر حقیقی اور بنیادی تعلیم ، کتاب اللہ کی تعلیم ہے۔ سنت رسول کی تعلیم ہے اور تیسرے نمبر پر فریضہ عادلہ ہے۔ تعلیم کے بغیر انسان اور جانور برابر ہیں۔ جانور بھی کھاتا پیتا اور حفتی کرتا ہے۔ انسان بھی ایسا ہی کرتا ہے جس طرح جانور کے بچے پیدا ہوتے ہیں ، اسی طرح انسان کے بھی ہوتے ہیں۔ وہ بھی سردی گرمی سے پناہ ڈھونڈتا ہے یہ بھی بچتا ہے وہ بھی سوتا جاگتا ہے یہ بھی سوتا جاگتا ہے وہ بھی بول و براز کرتا ہے۔ یہ بھی اس امر پر مجبور ہے۔ الغرض بنیادی چیز یہ ہے کہ انسان تعلیم دین کی روشنی میں اپنے فرائض کو پہنچانے کہ اس کے ذمے اللہ تعالیٰ کے کون سے حقوق ہیں اور بنی نوع انسان کے کون سے حقوق ہیں لہذا قرآن پاک کی تعلیم کو دوسروں تک پہنچائو۔ یہ خدا کی نعمت ہے۔ دنیا اسی روشنی میں ترقی کرسکتی ہے اور برائی سے بچ سکتی ہے۔ دشمنان قرآن انگریز کہتے تھے کہ یہ کتاب یعنی قرآن پاک انسان اور تہذیب کی دشمن ہے ان کے ہاں عریانی ، فحاشی اور زنا تہذیب و فیشن میں داخل ہے۔ جس سے قرآن پاک روکتا ہے۔ قرآن پاک کہتا ہے ” ولا تقربوا الزنی “ زنا کے قریب بھی نہ جائو کیونکہ انہ کان فاحثہ یہ تو بےحیائی کی بات ہے۔ “ وسآء سبیلاً “ اور بڑا بڑا راستہ ہے اس سے نسل خراب ہوتی ہے۔ اخلقا کا جنازہ نکلتا ہے۔ دین ضائع ہوتا ہے اور خدا کی ناراضگی کا سبب ہے مگر انگریزوں کے ہاں فیشن میں داخل ہے۔ اس لئے وہ قرآن کی تعلیم کو تہذیب کا دشمن سمجھتا ہے۔ اسی طرح قرآن کہتا ہے۔ ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل “ ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے مت کھائو۔ مگر وہ لوگ تو ہر باطل طریقہ سے حاصل کردہ مال کو جائز سمجھتے ہیں۔ اس لئے قرآن ان کا دشمن ہے۔ نعمت کا اظہار بہرحال قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ حکم دے رہے ہیں کہ اس کو ظاہر کرو ، اس کی تعلیم کو دنیا میں عام کرو۔ علاوہ ازیں اگر اللہ تعالیٰ کوئی مادی نعمت بھی عطا کرے ، تو اس کے اظہار میں بخل نہیں ہونا چاہئے۔ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ آپ نے دریافت کیا ۔ کیا اللہ نے تمہیں مال و وسعت دی ہے۔ عرض کیا ۔ یا رسول اللہ ! اللہ نے مجھے وسعت دی ہے۔ میرے پاس اونٹ ، بھیڑ ، بکریاں ار دیگر جانور ہیں۔ زمین ہے مال و دولت ہے۔ غلام ہیں۔ آپ نے فرمایا اللہ نے تجھے اتنی نعمتوں سے نوازا ہے ۔ مگر اس کا اثر تم پر ظاہر نہیں ہو رہا ہے ۔ تمہاری کپڑوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ تم ایک محتاج آدمی ہو۔ کم از کم تمہارے لباس سے تو اللہ کی نعمت کا اثر ظاہر ہونا چاہئے۔ بعض فرماتے ہیں کہ نیکی کے کام کو ظاہر نہیں کرنا چاہئے۔ حالانکہ وہ بھی اللہ کی نعمت ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسا اظہار ریا کاری میں شمار نہ ہوجائے۔ بعض دوسرے فرماتے ہیں کہ نیکی کو ظاہر کرنا چاہئے۔ تاکہ دوسرے بھی دیکھ کر اس کی اقتدا کرسکیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے عطا کردہ انعام کو دوسروں کے سامنے بیان کرنا تحدیث نعمت میں داخل ہے۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے انعامات کا تذکرہ کرنے کے بعد تین حکم دیے کہ کمزور طبقوں کا خیال رکھو ، یتیم پر قہر نہ کرو۔ سائل کو جھڑکو مت اور اپنے رب کی نعمت کو بیان کرو اور مخلوق کے سامنے ظاہر کر دو ۔