88. Surah Al-Ghaashiya

الغاشيةThe Overwhelming · 26 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 88:1–16

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِؕ Open ayah 88:1 in the Quran reader

کیا آپ کے پاس ڈھانپ لینے والی چیز (قیامت ) کی بات نہیں پہنچی ۔

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌۙ Open ayah 88:2 in the Quran reader

اس دن بہت سے چہرے ذلیل ہوں گے

عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ Open ayah 88:3 in the Quran reader

بڑی محنت (ریاضت ) کرنے والے تھکے ہوئے ہوں گے

تَصْلٰى نَارًا حَامِیَةًۙ Open ayah 88:4 in the Quran reader

بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگے

تُسْقٰى مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَةٍؕ Open ayah 88:5 in the Quran reader

انہیں کھولتے ہوئے چشمے سے پانی پلایاجائے گا

لَیْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍۙ Open ayah 88:6 in the Quran reader

ان کے لیے کھانا نہیں ہوگا مگر کانٹے دارجھاڑ

لَّا یُسْمِنُ وَ لَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍؕ Open ayah 88:7 in the Quran reader

نہ تو وہ جسم کو موٹا کرے گا اور نہ بھوک سے بچائے گا

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌۙ Open ayah 88:8 in the Quran reader

بہت سے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے

لِّسَعْیِهَا رَاضِیَةٌۙ Open ayah 88:9 in the Quran reader

وہ اپنی کوشش پر خوش ہوں گے

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 88:10 in the Quran reader

اونچے درجے کے بہشت میں

لَّا تَسْمَعُ فِیْهَا لَاغِیَةًؕ Open ayah 88:11 in the Quran reader

تم وہاں کسی قسم کی لغوبات نہیں سنو گے

فِیْهَا عَیْنٌ جَارِیَةٌۘ Open ayah 88:12 in the Quran reader

اس میں بہنے والے چشمے ہوں گے

فِیْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌۙ Open ayah 88:13 in the Quran reader

اس میں اونچے تخت ہوں گے

وَّ اَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌۙ Open ayah 88:14 in the Quran reader

اور آبخورے (قرینے سے ) رکھے ہونگے

وَّ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌۙ Open ayah 88:15 in the Quran reader

اور تکیئے صف بہ صف لگے ہوں گے

وَّ زَرَابِیُّ مَبْثُوْثَةٌؕ Open ayah 88:16 in the Quran reader

اور نہایت عمدہ قسم کے قالین جگہ جگہ پھیلائے ہوں گے

(نام اور کوائف ) اس سورة کا نام سورة الغاشیۃ ہے۔ اس کی پہلی آیت میں غاشیہ کا لفظ مذکور ہے ۔ اسی سے سورة کا نام ماخوذ ہے ۔ یہ سورة بھی مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھبیس 26 آیات ہیں ۔ یہ سورة بانوے 92 الفاظ اور تین سو اکیاسی 181 حروف پر مشتمل ہے۔ (موضوع) سابقہ سورتوں کی طرح اس سورة میں قیامت ہی کا ذکر ہے۔ گذشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے دو گروہوں کا ذکر کیا تھا ۔ ایک وہ گروہ جس کے دل میں خدا کا حوف موجود ہے ۔ وہ تو قرآن کریم کی نصیحت کو حاصل کرے گا ۔ اور دوسرا گروہ وہ ہے جو بدبخت ہے۔ وہ قرآن پاک کی نصیحت سے کنارہ کش رہے گا ۔ ان دو گروہوں کے ذکر کے بعد اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے جزائے عمل کا ذکر فرمایا ہے اور ان دونوں کے آخرت کے حال کو بیان فرمایا ہے۔ اس کے بعد وقوع قیامت کے بارے میں دلائل ذکر فرمائے ہیں ۔ جہنیں دیکھ کر قیامت برپا ہونے کا یقین آتا ہے۔ (فضائل سورة ) حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ سورة مبارکہ کو جمعہ اور عیدین کی نمازوں کی دوسری رکعت میں اکثر تلاوت فرماتے تھے ۔ پہلی رکعت میں سورة اعلی اور دوسری میں یہ سورة ۔ حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ اگر جمعہ اور عید اکٹھے آجاتے تو بھی حضور ﷺ یہی دو سورتیں تلاوت فرماتے پہلی سورة کے متعلق مسند احمد کی حدیث گذر چکی ہے کہ حضور ﷺ سورة سبح اسم ربک الاعلی کو بہت محبوب رکھتے تھے اسی طرح یہ سورة بھی آپ کثرت سے تلاوت فرماتے تھے۔ حضرت معاذ بن جبل نے عشاء کی نماز میں سورة بقرۃ تلاوت کی تو ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے شکایت کی۔ آپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا تم فتنہ پیدا کرنا چاہتے ہو۔ بقرہ جیسی لمبی سورة کی بجائے سبح اسم ربک الاعلی اور اس جیسی دوسری سورتیں کیوں نہیں پڑھ لیتے ۔ یہ کاروباری لوگ ہیں کسان کاشتکار زمیندار ہیں ۔ دن کے کام کاج سے تھکے ماندے آتے ہیں ۔ انہیں لمبی سورتوں کے ذریعے مشقت میں نہ ڈالو۔ (قیامت ایک عظیم انقلاب ہوگا) قیامت بہت بڑا انقلاب ہوگا ۔ ایسا انقلاب جو اس دنیا کے انسانوں کے تصور میں آج نہیں آسکتا ۔ اس انقلاب سے ہر چیز متاثر ہوگی ۔ پہلی سورتوں میں ذکر آچکا ہے ۔ کہ دنیا کی مختلف اشیاء پر اس کا اثر کس طریقے سے ہوگا ۔ زمین وآسمان اور خارجی دنیا پر اس کا اثر کیا ہوگا بیان ہوچکا ہے۔ انسان کے باطن پر کیا اثر ہوگا ۔ انسانوں کی برادری کے اعتبار سے اس عظیم انقلاب کے کیا اثرات مرتب ہوں گے ۔ ” یفر المرء من اخیہ وامہ وابیہ “ وغیرہ اس سورة کی ابتداء میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی الفاظ سے انقلاب قیامت کا ذکر کیا ہے۔ ھل اتک حدیث الغاشیۃ الغرض کائنات کی کوئی چیز ایسی نہیں ہوگی ، جو اس انقلاب سے متاثر نہ ہو۔ جس طرح قیامت کے ذریعے اللہ انقلاب عظیم پیدا کرے گا ۔ اسی طرح اس دنیا میں بھی خداوند کریم قرآن کریم کے ذریعے بنی نوع انسان میں عظیم انقلاب پیدا کیا ہے۔ (قیامت ہر چیز پر چھا جائیگی ) ارشاد ہوتا ہے ھل اتک حدیث الغاشیۃ کیا آپ کے پاس ڈھانپ لینے والی چیز کی بات پہنچی ہے ؟ غاشیہ سے مراد ڈھانپ لینے یا چھپا لینے والی چیز قیامت ہے۔ وہ ہر چیز پر چھا جائے گی کوئی چیز اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہے گی ۔ اسی چیز کو کہیں ” طامۃ الکبری “ (عظیم ہنگامہ) اور کہیں ” القارعۃ “ (کھٹکھٹا دینے والی) کہا ہے اس جگہ الغاشیۃ فرمایا یعنی یہ ہر چیز کو ڈھانپ لینے والی ہے ۔ ہر چیز پر غالب آجائیگی ۔ ابن ابی حاتم کی روایت میں آتا ہے ۔ اسے امام ابن کثیر نے بھی نقل کیا ہے ۔ حضور ﷺ کہیں سے گذر رہے تھے ۔ کوئی مسلمان عورت ھل اتک حدیث الغاشیۃ تلاوت کر رہی تھی۔ حضور ﷺ رک گئے اور فرمایا قد جاءنی ہاں میرے پاس اس کی خبر پہنچی ہے ۔ یہ آپ نے آیت کے جواب میں فرمایا ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے وحی اور قرآن کریم کے ذریعے آپ کو قیامت کی آمد کی خبر دے دی تھی۔ (ذلیل چہرے ) وہ ڈھانپ لینے والی چیز جس کی خبر پہنچ چکی ہے اس کا اثر یہ ہوگا کہ وجوہ یومئذ خاشعۃ اس دن بہت سے چہرے ذلیل ہوں گے ۔ خاشعۃ کا معنی دب جانا پست ہوجانا ہے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وخشعت الاصوات للرحمن اس دن آوازیں پست ہوجائیں گی کسی سے آواز بھی بلند نہیں ہوسکے گی ۔ خشوع کا معنی عاجزی ہوتا ہے ۔ یہاں مراد ذلیل ہونا ہے بعض اوقات چہرے سے مراد سارا وجود ہوتا ہے ۔ کبھی ایک عضو کا ذکر کرکے ذات مراد لی جاتی ہے ۔ عربی زبان میں دائیاں ہاتھ بول کر سارا وجود مراد ہوتا ہے ۔ جیسے ما ملکت ایمانکم “ وہ غلام جن کے مالک تمہارے داہنے ہاتھ ہیں ۔ چہرہ ایک ایسا عضو ہے ۔ جس پر خوشی یا غم کے اثرات بہت زیادہ نمایاں ہوتے ہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مختلف مقامات پر فرمایا بعض چہرے سیاہ ہوں گے بعض سفید ہوں گے اور ان پر خوشی چھائی ہوئی ہوگی ۔ بعض مسکرانے والے چہرے ہوں گے ۔ اسی طرح فرمایا ۔ اس دن بہت سے چہرے خاشعۃ یعنی ذلیل ہوں گے ۔ وہ چہرے عاملۃ محنت کرنے والے ہوں گے اور ناصبۃ تھکے ہوئے ہوں گے ۔ نصب کا معنی تھک جانا ہے ۔ جیسے کام کاج کرکے انسان تھک جاتا ہے ۔ بہشت کے متعلق فرمایا اس میں تھکاوٹ والی کوئی چیز نہیں ہوگی ۔ اسی طرح وہاں پہنچنے والے انسانوں کو بھی کوئی تھکاوٹ نہیں ہوگی ۔ وہ بالکل تروتازہ رہیں گے۔ البتہ ان تھکے ماندے کام کرنے والے چہروں کی جزاء کیا ہوگی تصلی نارا حامیۃ ایسے لوگ بھڑکنے والی آگ میں داخل ہوں گے ۔ حامیۃ بھڑکنے والی یا جوش مارنے والی کو کہتے ہیں ۔ (بعض عبادت گذار بھی جہنم میں جائینگے ) امام ابن کثیر نے بیان کیا ہے کہ ابو عمران جونی کہتے ہیں ۔ حضرت عمر شام کے سفر کے دوران ایک گرجے کے قریب سے گذرے ۔ آپ نے اس گرجے کے پادری کو آواز دے کر باہر بلایا جب حضرت عمر نے پادری کو دیکھا تو رونے لگے ۔ لوگوں نے رونے کی وجہ پوچھی ، تو انہوں نے فرمایا کہ اس پادری کو دیکھ کر مجھے قرآن پاک کی یہ آیات یاد آگئیں ۔ عاملۃ ناصبۃ تصلی نارا حامیۃ یعنی اس دن بڑی محنت اور ریاضت کرنے والے تھکے ہوئے لوگ ہوں گے۔ مگر جہنم میں جائیں گے ان کے چہروں سے ظاہر ہوگا کہ بڑے عبادت گزار اور مرتاض ۔ (ریاضت کرنے والے) ہیں بڑی چلہ کشی کرتے تھے ۔ مگر فکر صحیح نہیں تھی ۔ ایمان کی دولت سے محروم تھے ۔ لہذا دوزخ میں جائیں گے ۔ ان میں ہندؤوں کے بڑے بڑے جوگی عیسا ئیوں کے پادری بدھ بھگشو سکھ خالصہ کسی کی ریاضت کام نہیں آئے گی ۔ سید ہے جہنم میں جائیں گے ۔ پہلی سورة میں آچکا ہے ” قد افلح من تزکی “ فلاح تو وہ پائیں گے جہنوں نے تزکیہ حاصل کرلیا ۔ جنہوں نے اپنے باطن کو کفروشرک سے پاک نہیں کیا ۔ جن کا عقیدہ صحیح نہیں ہے ۔ بڑی سے بڑی عبادت بھی ان کو جہنم میں لے جائے گی ۔ عبادت بھی وقت ٹھکانے لگے گی ۔ جب ایمان کی دولت نصیب ہوگی ۔ کیونکہ پہلا نمبر ایمان کا ہے۔ ان الذین امنوا کے بعد اعمال کا درجہ آتا ہے عملوا الصلحت اگر ایمان نہیں تو اعمال کس کام کے۔ سب ضائع جائیں گے ۔ کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ (ان کا مشروب کھولتا ہوا پانی ہوگا) الغرض حضرت عمر اس پادری کو دیکھ کر اس لیے روئے ۔ کہ اس قسم کے عبادت گذار بھی دوزخ میں جائیں گے ۔ اور پھر ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا ۔ فرمایا تسقی من عین انیۃ انہیں پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا۔ ایسے پانی کو کون پی سکتا ہے جو گرم ہو کر کھولنے لگے ۔ دوسری جگہ سورة قتال میں فرمایا کہ دوزخی لوگ پیاس کی شدت سے مجبور ہو کر اس پانی کا ایک گھونٹ پیئیں گے تو وہ آنتوں کو جلادے گا ۔ اور کاٹ کر پھینک دے گا ۔ اس قدر سخت پانی ہوگا ۔ جو اہل دوزخ کو پینا ہوگا۔ (بدترین کھانا) پینے کا تو یہ حال ہوگا۔ کھانے کے متعلق فرمایا لیس لھم طعام ان کے لیے کھانا نہیں ہوگا الا من ضریع مگر کانٹے دارجھاڑ ، ضریع کو عربی زبان میں شبرق بھی بولتے ہیں ۔ جب یہ سرسبز ہوتا ہے تو شبرق کہلاتا ہے ۔ جب خشک ہوجاتا ہے تو ضریع کہلاتا ہے جب تازہ ہو تو اونٹ کھالیتے ہیں ۔ مگر جہنم کی ضریع بہت کڑوی اور تلخ ہوگی یہ کانٹے دار بوٹی دوزخیون کو کھانے کے لیے دی جائے گی۔ کوئی انسان ایسا نہیں جو بھوک سے بےنیاز ہو۔ جب دوزخ والوں پر بھوک کا غلبہ ہوگا تو انہیں یہ کھانا پیش کیا جائے گا۔ حدیث شریف میں ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے اور یہ ٹیک من الجوع بھوک کیوجہ سے تھی ۔ آپ بھوک سے نڈھال ہو رہے تھے۔ اتنے میں کوئی شخص کجھوریں لے کر حاضر ہوا اور آپ کو پیش کیں ۔ آپ نے وہ کجھوریں تناول فرمائیں ۔ پیٹ پر پتھر باندھنے کے کئی واقعات احادیث میں ملتے ہیں۔ جب صحابہ کرام بھوک سے نڈھال ہوجاتے تھے ۔ اتنی کمزوری واقع ہوجاتی تھی کہ کھڑا ہونا محال ہوجاتا تھا ۔ اس وقت توازن قائم کرنے کے لیے پیٹ پر پتھر باندھنا پڑتا تھا ۔ اس واقعہ میں بھی حضور ﷺ کی یہی حالت تھی ۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا کسی آدم کے بیٹے کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی پشت کو سیدھا رکھ سکیں ۔ بہت زیادہ کھانا بھی مناسب نہیں مناسب یہ ہے کہ اتنا ہی کھایا جائے جتنا جسم و روح کے تعلق کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے تاکہ اپنے رب کی عبادت کرسکے ۔ اب کھانا دو مقصد کے لیے کھایا جاتا ہے ۔ بہلا مقصد تو بھوک سے نجات حاصل کرنا ہے اور دوسرا مقصد جسم کو موٹا تازہ کرنا ہے ۔ اچھے اچھے کھانے کھا کر جسم میں تروتازگی پیدا کرنا ہے مگر فرمایا دوخیوں کا کھانا یہ دونوں مقصد پورے نہیں کرسکے گا۔ لا یسمن ولا یغنی من جوع نہ تو وہ جسم کی پرورش کرے گا اور نہ ہی بھوک سے نجات دلائے گا ۔ وہاں تو کھانا بھی عذاب ہوگا ۔ ان شجرت الزقوم طعام الاثیم دوزخیوں کا کھانا تھوہر کا درخت ہوگا جس کا مزہ اس قدر کڑوا اور بدبودار ہوگا کہ اگر اس کا ایک ڈول بھر کر دنیا میں پھینک دیاجائے تو دنیا کی کوئی چیز کھانے پینے کے قابل نہ رہے۔ اس مقام پر جو ذریع کا ذکر کیا گیا وہ اسی قسم کی چیز ہوگی جو نہ بھوک کو مٹائے گی اور نہ جسم کو مفید ہوگی ۔ یہ ان لوگوں کا حال ہوگا جہنوں نے ایمان قبول نہیں کیا اور اپنی فکر پاک نہیں کیا ۔ (تروتاذہ چہرے) ذلیل چہروں کے مقابلہ میں اگلی آیت میں تروتازہ چہروں کا ذکر ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے وجوہ یومئذ ناعمۃ بہت سے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے ۔ ناعمہ کے معنی بارونق تروتازہ لسعیھا راضیۃ وہ اپنی کوشش پر خوش ہوں گے ۔ وہ کتنے سعادت مند ہوں گے کہ ان کی دنیا میں کی گئی کوشش ٹھکانے لگی ۔ کیونکہ انہوں نے ایمان کی شرط کو قبول کیا اور عقیدے کی صحت کے ساتھ اعمال صالحہ انجام دیے یہ شرط پوری کردی تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے انی لا اضیع عمل عامل منکم جو صحیح طریقے پر کام کرے گا ۔ اللہ اس کے کام کو کبھی ضائع نہیں کرے گا ۔ اس کا عمل ٹھکانے لگے گا۔ ابودرداء کی روایت میں آتا ہے فرماتے ہیں کاش مجھے معلوم ہوجائے کہ میری یہ دو رکعت نماز اللہ کی بارگاہ میں مقبو ل ہوچکی ہے ۔ تو یہ چیز میرے لیے دنیا وما فیہا سے بہتر ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں انما یتقبل اللہ من المتقین یعنی اللہ تعالیٰ متقیول کے اعمال کو قبول فرماتا ہے ۔ اور متقی کا پہلا درجہ یہ ہے کہ کفر شرک اور فاسد عقیدے سے بچے ۔ پھر معصیت اور برائیوں سے پرہیز کرے جس شخص میں تقوی نہیں ہے ۔ کفروشرک سے پرہیز نہیں کرتا اس کا عقیدہ بھی گندا ہے ۔ تو اس کے اعمال کیسے مقبول ہوں گے ۔ کامیاب لوگ وہی ہوں گے جن کے چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے اور وہ اپنی کوشش پر خوش ہوں گے۔ کہ انہیں ان کی محنت کا پھل مل گیا ۔ (ان کے لیے جنت کے اعلیٰ مقام ہوں گے) فرمایا ایسے لوگوں کو صلہ یہ ملے گا۔ فی جنۃ عالیہ کہ اونچے درجے کے بہشتوں میں مقام ملے گا ۔ بہشت تو ویسے ہی اونچی ہے ۔ جنت کا ادنی درجہ بھی ساتوں آسمانوں سے اوپر ہے ۔ اور سب سے اوپر جنت الفردوس ہے ۔ اور اس کے اوپر عرش الٰہی کا سایہ ہے ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ بہشت کے سو درجے ہیں ۔ اور ہر درجہ دوسرے درجے سے اتنا بلند ہے جتنا زمین آسمان سے ، اسی لیے جنت کے مائۃ درجت ، سو درجے ہوں گے ۔ اور جنت ایسی پاکیزہ جگہ ہے لا تسمع فیھا لاغیۃ تم وہاں کسی قسم کی لغو اور بہیودہ بات نہیں سنو گے لا لغو فیھا ولا تاثیم وہاں نہ کوئی گناہ کی بات ہوگی نہ گالی گلوچ نہ بکواس اور نہ کوئی اذیت دینے والی چیز ۔ وہاں پر پاکیزہ باتیں پاکیزہ چیزیں ہوں گے ۔ اس کے علاوہ فیھا عین جاریۃ اس میں بہنے والے چشمے ہوں گے ۔ امام بغوی فرماتے ہیں کہ وہ چشمے اس قسم کے ہوں گے کہ جنتی جس طرف چاہے گا اسی طرف بہنے لگیں گے ۔ مگر آپس میں خلط ملط نہیں ہوں گے ۔ اس دنیا میں تو پانی اپنی سطح ہموار رکھتا ہے ۔ نچلی طرف بہہ نکلتا ہے ۔ مگر جنت میں ایسا کوئی قانون نہیں ہوگا ۔ جنتی جس طرف اشارہ کرے گا چشمہ جاری ہوجائے گا۔ جنت میں اور کیا ہوگا فیھا سرور مرفوعۃ اس میں اونچے درجے کے تخت ہونگے جن پر جنتی لوگ آرام کریں گے واکواب موضوعۃ آبخورے یا گلاس سامنے رکھے ہونگے اکواب کو ب کی جمع ہے ۔ جسے کپ کہتے ہیں۔ جو گول ہو اور اس کے ساتھ ٹونٹی نہ ہو۔ پینے کے لیے ایسے اکواب موجود ہوں گے جن میں وہ لوگ شراب طہور پئیں گے ۔ اور پانی پیئیں گے۔ وہاں اور کیا ہوگا ونمارق مصفوفۃ صف رکھے ہوئے تکیے ہوں گے نہایت عالیشان تکیے ہوں گے۔ جنتی جہاں جی چاہے بیٹھ سکے گا ۔ ایسے آرام دہ تکیے ہر جگہ موجود ہوں گے ۔ کہیں اٹھا کر لیجانے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ وزرابی مبثوثۃ اور نہایت عمدہ قسم کے قالین ہوں گے جگہ جگہ پھیلائے ہوئے ۔ جس جگہ کوئی آرام کرنا چاہے گا وہیں پر قالین موجود ہوں گے ۔ اٹھا کر کسی دوسری جگہ لیجانے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ ذرابی ذربی کی جمع ہے ۔ جسے آجکل کی زبان میں قالین کہہ سکتے ہیں ۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے جنتیوں کے انعامات کا تھوڑا سا نمونہ بیان فرمایا ہے ۔ دوسرے مقامات پر اور بہت سی چیزوں کا ذکر ہے ۔ کہیں فرمایا وزوجنھم بحور عین کہیں اعلی و فاخرہ لباس کا بیان ہے ۔ کہیں فرمایا جنت میں جانے والا ہر شخص بادشاہ ہوگا ایسا بادشاہ کہ اس دنیا کے بادشاہ اس کے ہزارویں حصے تک بھی نہیں پہنچ سکتے ۔ حالانکہ انہیں ہر چیز میسر ہوتی ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا جنت میں پہنچنے والا ادنی سے ادنی انسان بھی ایسا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اسے اس دنیا سے دس گناہ وسیع رقبہ عطا کرے گا۔ ہر نعمت اس کو وہاں میسر ہوگی ۔ یہ اللہ کا فرمان ہے فمن زحزح عن النار جو آگ سے بچا لیا گیا وادخل الجنۃ اور جنت میں داخل کردیا گیا فقد فاز وہ کامیاب ہوگیا ۔ حضور ﷺ نے فرمایا ان سلعۃ اللہ غالیۃ اللہ کا سودا بڑا مہنگا ہے اس میں فکر کو پاک کرنا پڑتا ہے۔ اعمال صالحہ کرنا پڑتے ہیں ۔ اگر یہ چیزیں پائی جائیں گی تو اللہ تعالیٰ بہشت عطا کرے گا۔ اور پھر وہاں انعام واکرام کی بارش ہوگی ۔
Ayahs 88:17–26

اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَیْفَ خُلِقَتْٙ Open ayah 88:17 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف دیکھتے کہ وہ کس طرح پیدا کیے گئے ہیں

وَ اِلَى السَّمَآءِ كَیْفَ رُفِعَتْٙ Open ayah 88:18 in the Quran reader

اور آسمان کی طرف کی کہ وہ لوگ کیسا بلند کیا گیا ہے

وَ اِلَى الْجِبَالِ كَیْفَ نُصِبَتْٙ Open ayah 88:19 in the Quran reader

اور پہاڑوں کی طرف کہ انہیں کس طرح نصب کیا گیا ہے

وَ اِلَى الْاَرْضِ كَیْفَ سُطِحَتْٙ Open ayah 88:20 in the Quran reader

اور زمین کی طرف کہ اسے کس طرح بچھا یا گیا ہے

فَذَكِّرْ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌؕ Open ayah 88:21 in the Quran reader

پس آپ ان کو نصیحت کریں بیشک آپ نصیحت کرنے والے ہیں

لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍۙ Open ayah 88:22 in the Quran reader

آپ ان پر داروغہ نہیں ہیں

اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَ كَفَرَۙ Open ayah 88:23 in the Quran reader

مگر جس نے روگردانی کی اور کفر کا راستہ اختیار کیا

فَیُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَؕ Open ayah 88:24 in the Quran reader

پس اللہ تعالیٰ اس کو بڑی سزادے گا

اِنَّ اِلَیْنَاۤ اِیَابَهُمْۙ Open ayah 88:25 in the Quran reader

بیشک ان لوگوں نے ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَهُمْ۠ Open ayah 88:26 in the Quran reader

پھر ان لوگوں کا حساب کتاب لینا بھی ہمارے ذمے

(گذشتہ پیوستہ) اب ان آیات میں قدرت کے چند دلائل پیش کئے ہیں کہ اگر ان کو سامنے رکھا جائے تو قیامت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ جس طرح مالک الملک نے چیزیں پیدا کی ہیں ۔ اسی طرح وہ اس بات پر قادر ہے کہ انسان کو دوبارہ پیدا کرکے اس سے حساب کتاب لے ۔ جب انسان ان اشیاء پر کوئی تعجب نہیں کرتا تو پھر وہ وقوع قیامت اور بعث بعد الموت پر کیوں ہے ۔ ان آیات میں اللہ نے ان چار چیزوں کو بطور دلیل پیش کیا ہے ۔ جن سے قرآن پاک کے اولین مخاطبین قوم عرب بخوبی واقف تھے ۔ دوسرے مقامات پر اور بھی بہت سے دلائل قدرت مذکور ہیں ۔ مگر اس مقام پر پیش آمدہ صرف چار کا ذکر ہے ۔ (اونٹ اور اسکی خصوصیات ) عربوں کا اونٹوں کے ساتھ گہرا تعلق ہے ۔ اس پر سواری کرتے تھے ۔ اس کی اون کے کپڑے پہنتے تھے ۔ اور اس کا گوشت بھی کھاتے تھے ۔ خاص طور پر دور دراز کے سفر میں اونٹ ہی سواری کا کام دیتے تھے ۔ عرب کے لق ودق صحرا میں اونٹ وہی کام دیتا تھا جو سمندر میں کشتی ۔ اللہ تعالیٰ نے اونٹ کو عجیب و غریب خصوصیات کا حامل پیدا کیا ہے ۔ جسم کے لحاظ سے بہت بڑا جانور ہے مگر ہاتھی اس سے بھی بڑا ہے ۔ بڑا طاقتور ہے ۔ مگر گینڈا اس سے بھی زیادہ طاقتور ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اونٹ کا ذکر اس لیے فرمایا کہ عرب میں صرف اونٹ ہی پایا جاتا ہے ۔ ہاتھی ، گینڈا وغیرہ وہاں نہیں ہوتا ۔ تاہم اونٹ میں اللہ تعالیٰ نے کمال صفات پیدا فرمائی ہیں یہ قدیم زمانے سے انسان کا خدمت گذار ہے ۔ بیحد محنتی اور ثابت قدم ہے ۔ خلقت کے اعتبار سے عجیب و غریب ہے ۔ لمبی ٹانگیں لمبی گردن دراز جسم کلانی ، غرض ہر چیز حیرت انگیز ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں ۔ کہ پہلی آیت فی جنۃ عالیۃ یعنی جنتی لوگ اونچے باغوں میں ہوں گے ۔ اور اونچے تختوں پر بیھٹیں گے اور اونچی جگہ پر چڑھنا دشوار ہوتا ہے ۔ تو ان آیات کی مناسبت اونٹ سے ہے ۔ کہ جس طرح وہ بلند مقامات ہیں اسی طرح اونٹ بھی بلند قامت جانور ہے اس لیے فرمایا افلا ینظرون الی الابل کیا تم اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کتنا اونچا جانور پیدا کیا ہے ۔ اس پر سواری کرنا مشکل تھا ۔ مگر اس میں اللہ تعالیٰ نے ایسی خاصیت رکھی ہے ۔ کہ سواری کے لیے گھٹنے ٹیک بیٹھ جاتا ہے ۔ تاکہ سوار اس پر سوار ہوسکے اس پر سامان لادا جاسکے اس کے بعد وہ اٹھ کر منزل کی طرف روانہ ہوجاتا ہے اگر اس میں بوقت ضرورت بیٹھنے کی صلاحیت نہ ہوتی سیڑھی کے بغیر سواری ممکن نہ تھی ۔ تو فرمایا جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے اونٹ پر سوار ہونا آسان کردیا اسی طرح وہ جنت کے اونچے تختوں پر بیٹھنا بھی آسان فرمادے گا ۔ اسی لیے فرمایا کیا یہ لوگ اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ نے کیف خلقت کیسا جانور پیدا کیا ۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اونٹ میں سات خصوصیات رکھی ہیں۔ جسم تو بلاشبہ بڑا اور حیرت انگیز ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ جانور بڑا صابر جانور ہے ۔ بھوک اور پیاس کافی عرصہ تک برداشت کرسکتا ہے ۔ پانی نہ ملے تو دس دن تک پرواہ نہیں کرتا ۔ بڑا لمبا سفر کرسکتا ہے۔ بوجھ بہت زیادہ اٹھا سکتا ہے ۔ ہمارے جب اس علاقے میں جیپ سفر کرسکتا ہے ۔ بوجھ بہت زیادہ اٹھا سکتا ہے ۔ ہمارے یہاں جب اس علاقے میں جیپ نہیں چلتی تھی تو بارہ من بوجھ لاد کر بالا کوٹ سے 20 بیس دن میں گلگت پہنچ جاتے تھے ۔ اتنا محنتی اور جفاکش جانور ہے ۔ عرب میں بڑے بڑے ریگستان ہیں ۔ وادی دہنا میں آٹھ آٹھ سو ، نو نو سو میل تک ریگستان پھیلے ہوئے ہیں ۔ اس کے علاوہ پہاڑ ہیں راستے دشوار گذرا ہیں مگر یہ اونٹ ہے ۔ جو ان راستوں کو عبور کرجاتا ہے۔ وفادار اس قدر ہے ۔ کہ چھوٹا سا بچہ بھی نکیل پکڑ کر جدہر چاہے لے جائے ۔ کہتے ہیں ۔ یہ بڑا باغیرت جانور ہے حتی الامکان اپنے ارادے سے اپنی ماں یا بہن کے ساتھ جفت نہیں ہوتا ۔ اور چلتے وقت اپنا رخ اکثر قبلہ کی طرف رکھتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں عجیب خصوصیات رکھی ہیں ۔ خوراک کے معاملے میں بالکل سادہ ہے ۔ ہر قسم کا کانٹے دار جھاڑ کھا لیتا ہے۔ دوسرے جانور کڑوا یا کانٹے دار جھاڑ نہیں کھاتے ، مگر یہ بلاچون وچرا پیٹ بھر لیتا ہے پچھلی آیت میں جس ضریع یعنی کانٹے دار کڑوی جھاڑ ی کا ذکر آیا ہے وہ بھی کھا لیتا ہے ۔ شاہ صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر اونٹ کا مثانہ نکال کر کسی عاشق کے ہاتھ پر باندھ دیا جائے تو اس کا عشق زائل ہوجاتا ہے ۔ یہ اس جانور کی مختلف خصوصیات ہیں ۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے اونٹ کا حال بیان فرمایا کیا یہ اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے۔ خدا کی کیسی قدرت کاملہ ہے ۔ کیسا عجیب و غریب وفادار محنتی جفا کش صابر اور خدمت گار جانور ہے ۔ اس کی رفتار بھی بڑی تیز ہے جب حدی پڑھی جاتی ہے تو اس کی رفتار میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ اور یہ لکعہ ابراروں کی طرح چلتا جاتا ہے بزرگان دین فرماتے ہیں ۔ سی نے محنت جفاکشی اور سادگی سیکھنی ہو تو اونٹ سے سیکھے۔ برخواں افلا ینظر تا قدرت مابینی ۔۔۔۔۔ یک رہ بشتر مبنگر تا صنع خدا بینی در خار خوری قانع دربار کشی راضی۔۔۔۔ ایں وصف اگر جوئی در اہل صفا بینی یہ ایسا جانور ہے کہ کانٹے کھا کر راضی ہوجاتا ہے ۔ بوجھ جتنا بھی ڈالو اٹھا کرلے جاتا ہے بھوک پیاس برداشت کرکے لمبا سفر طے کرلیتا ہے ۔ فرمایا اہل صفا بھی ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ جو ریاضت کرتے ہیں ۔ اور مشقت برداشت کرتے ہیں ۔ فرمایا افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت کیا ان لوگوں نے اونٹ کی طرف نہیں دیکھا کہ وہ کس طرح پیدا کیا گیا ہے ۔ اس کی ہمیئت اور خاصیت دیگر جانوروں کی نسبت عجیب و غریب ہے۔ (آسمان پہاڑ اور زمین ) دوسری دلیل یہ فرمائی والی السماء کیف رفعت کیا ان لوگوں نے کبھی آسمان کی طرف غور نہیں کیا کہ اللہ نے اسے کیسا بلند کیا ۔ اتنی بڑی وضع اور ہمئیت کے آسمان کو بغیر ستون کے کھڑا کیا اور جب تک خدا کو یہ نظام قائم رکھنا منظور ہے۔ اس وقت تک قائم رہے گا۔ نہ اس کی چھت کا پلستر کبھی خراب ہوتا ہے اور نہ رنگ زائل ہوتا ہے۔ اسے کسی دوسری چیز کا سہارا بھی میسر نہیں ۔ بغیر عمد ترونھا اسے تم بغیر ستون کے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو۔ اور اس کی بلندی کی یہ کیفیت ہے ۔ کہ رفع سمکھا فسوھا اس کے درمیان اللہ نے عجیب و غریب قسم کا نظام قائم کیا ہے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بھی بطور دلیل پیش کیا۔ پھر فرمایا والی الجبال کیف نصبت کیا انہوں نے کبھی پہاڑوں کی طرف نہیں دیکھا ۔ کہ انہیں زمین میں کس طرح نصب کردیا ۔ کہ ان میں جنبش تک نہیں ہوتی ، مگر جب اللہ تعالیٰ چاہے تو زلزلہ کی صورت میں انہیں جھنجوڑتا ہے ۔ پہاڑوں میں اللہ تعالیٰ نے انواع اقسام کی چیزیں پیدا کیں ہیں ۔ جن سے انسان اور جانور فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ عرب لوگ پہاڑوں سے اچھی طرح واقف تھے ۔ صبح وشام ان سے واسطہ تھا ۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو تیسری دلیل کے طور پر پیش کیا ۔ کہ یہ لوگ اگر پہاڑوں کی مضبوطی اور ان سے وابستہ طرح طرح کے فوائد کو ہی دیکھ لیں تو بعث الموت کا انکار نہ کریں ۔ چوتھی دلیل یہ فرمائی والی الارض کیف سطحت یہ لوگ زمین کو ہی دیکھ لیں کہ اللہ نے اسے کس طرح بچھا دیا ہے ۔ انسان کی تمام تر ضروریات زمین سے پیدا ہوتی ہیں خوراک لباس مکان سڑکیں راستے ان پر چلنا پھرنا سب زمین سے متعلق ہیں ۔ زمین ویسے تو گول کروی شکل کی ہے مگر جسم بڑا ہونے کی وجہ سے کرویت محسوس نہیں ہوتی بلکہ ہموار سطح محسوس ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کی ہمیت ہی اس طرح بنائی ہے کہ اس کے متعلقہ تمام کام آسان کردیے گیے ہیں ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ خدا کی قدرت کی نشانی ہے کہ وہ ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے ۔ جس کا انکار منکرین قیامت نہیں کرسکتے ۔ وہ خدا جو اتنی وسیع مضبوط اور کارآمد چیزیں پیدا کرسکتا ہے ۔ کیا وہ انسان کو دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا ۔ یا حساب کتاب نہیں لے سکتا ؟ کیوں نہیں وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (سبق آموز دلائل ) ان دلائل پر غور کرنے کے بعد ایک صاحب عقل شخص بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس نے ایسی عجیب و غریب چیزیں پیدا کی ہیں ، وہ بلاشبہ بعث بعد الموت پر بھی قادر ہے جس نے ایسی عجیب و غریب چیزیں پیدا کی ہیں ، وہ بلاشبہ بعث بعد الموت پر بھی قادر ہے یہ تو ایک عام فہم وادراک کی بات ہے ۔ مگر ایک دوسرے لحاظ سے یہ اشیاء انسان کے لیے نہایت سبق آموز ہیں ۔ اے لوگو ! اگر کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہو تو اونٹ کی طرح سادگی اختیار کرو اس جیسی محنت کرو اور اپنے اندر جفا کشی پیدا کرو۔ تزول الجبال الراسیات وقلبنا ۔۔۔ علی العھد لا یلوی ولا یتغیر۔۔ پہاڑ اتنے مضبوط ہونے کے باوجود اپنی جگہ سے ٹل سکتے ہیں ۔ مگر ہمارے عہد وپیماں کبھی نہیں ٹوٹ سکتے ۔ کیونکہ یہ پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط ہیں ۔ لہذا پہاڑوں کی طرح راسخ ہونا چاہیئے ۔ علامہ اقبال مرحوم کہتے ہیں۔ بخود خزیدہ ومحکم چو کو ہساراں زی ۔۔۔ چوخس مزی کہ ہوا تیز وشعلہ بیباک است پہاڑ کی طرح مستقل مزاج بن کر زندگی کذار ، نہ تنکے کی طرح کمزور جسے تیز ہوا اڑا لے جائے یا شعلہ جلا ڈالے ۔ اگر مضبوط اور مستقل مزاج رہوگے اپنے ایمان اور نیکی پر قائم رہوگے تو کامیابی حاصل ہوگی ۔ وگرنہ ڈانواں ڈول انسان کی کوئی حیثیت نہیں ۔ جو دن میں تین تین عقیدے بدلتا ہے ۔ یہ پہاڑ تمہارے لیے مستقل مزاجی کی علامت ہیں۔ زمین کے متعلق فرمایا کہ دیکھ ! ہم نے کس طرح اسے پھیلا دیا ۔ زمین اس قدر عاجز ہے کہ لوگ اسے ٹھوکریں مارتے ہیں ، اس کو کھودتے ہیں ۔ اس پر چلتے ہیں کاروبار کرتے ہیں ۔ مگر اس میں اس قدر انکسار ہے کہ ہر زحمت برداشت کرتی ہے ۔ مگر کبھی کسی کے خلاف شکایت تک نہیں کرتی ۔ اتنی جسیم ہونے کے باوجود اس قدر منکسر المزاج ہے ۔ لہذا اگر عاجزی اور انکساری سیکھنا ہو تو زمین سے سیکھنا چاہیئے ۔ الغرض قدرت کے یہ دلائل ایک دوسرے زاویہ نگاہ سے بھی نہایت اہم ہیں ۔ کہ انسان کو دنیا کی زندگی میں ان سے کیا سبق حاصل کرنا چاہیئے ۔ سادگی بلند مقصدی مستقل مزاجی اور انکساری وہ زریں اصول زندگی ہیں جو ہمیں ان دلائل قدرت سے حاصل ہوتے ہیں ۔ پچھلی سورة میں بیان ہوچکا ہے قد افلح من تزکی تزکیہ کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا عقیدہ پاک ہو۔ کفر وشرک کی آمیزش سے بری ہو خوش اخلاقی ہو ۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق درست ہو۔ وذکر اسم ربہ کے مطابق انسان اپنے رب کے نام کو زبان بنالے ۔ جو خدا کو یاد کرتا ہے۔ اس کی توجہ خطیرۃ القدس کی طرف رہتی ہے اور جب کوئی آدمی زبان سے سبحان اللہ کہتا ہے ۔ تو اس کا تصور خاص ہوجاتا ہے۔ جب یہ چیزیں ہوں گی تو دنیا میں عدل و انصاف کا دور دورا ہوگا۔ دنیا میں اسلامی معاشرہ قائم ہوگا ۔ حضرت عمربن عبدالعزیز نے جمعہ کے خطبہ میں (اس آیت کو) شامل کرلیا تھا۔ تفسیر مولانا سندھی ان اللہ یامر بالعدل والاحسان ان سورتوں میں مختصر طور پر یہ پروگرام آگیا ہے ۔ اگلی سورتوں میں بھی آرہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور بنی نوع انسان کے تعلق کی درستگی فلاح کی ضامن ہے۔ تزکیہ اختیار کرنے کی تلقین سورة مدثر میں بھی کی گئی ۔ گندگی سے پرہیز کی تعلیم والرجز فاھجر میں دی گئی ۔ فرمایا ہر قسم کی گندگی ظاہری باطنی جسمانی روحانی سب سے بچتے رہو۔ خدمت انسانی کا جو پروگرام قرآن پاک نے پیش کیا ہے ۔ اس کو کہاں تلاش کریں نہ انفرادی طور پر ملتا ہے ۔ اور نہ اجتماعی طور پر ۔ انسانیت کی خدمت کا فرض سب سے زیادہ حکومت پر عائد ہوتا ہے۔ مگر حکومتیں کیا کرتی ہیں ۔ ان کے سامنے قرآن پاک کے بلند مقصد والا پروگرام کہاں ہے ۔ ان کی توجہ تو سامان تعیش ۔ سامان خوردو نوش کوٹھی اور بنگلے کی طرف رہتی ہے ۔ قرآن پاک کا پروگرام کس کے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دلائل قدرت کے ساتھ سمجھایا ہے کہ تمہارے سامنے سادگی مستقل مزاجی بلند ہمتی اور عاجزی و انکساری کی مثالیں موجود ہیں انہیں دیکھ کر نصیحت پکڑو کہ انسان اور مومن کو کس قسم کا طرز زندگی اختیار کرنا چاہیئے ۔ (افکار کی پاکیزگی) اللہ تعالیٰ نے ہمیں پاکیزگی کی تعلیم دی ہے۔ افکار کی پاکیزگی اس کا ایک اہم جزو ہے آج دنیا گندے افکار سے بھری ہوئی ہے ۔ دہریت فحاشی عریانی اشتراکیت امریکیت اور برطانویت سب گندے افکار ہیں ۔ جو انسان کی روحانیت پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ اور اسے اس بلندی سے گرانا چاہتے ہیں جس پر قرآن انہیں پہنچانا چاہتا ہے ۔ کیا سینما دیکھ کر اخلاق سے گرے ہوئے اخبار پڑھ کر برہنہ تصویروں والے رسالے دیکھ کر ریڈیو اور ٹیلیوثرن پر گانے سن کر اور گانے والیاں دیکھ کر کسی کے افکار پاک رہ سکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں یہ سب گندگی اور نجاست ہے ۔ اخلاق اور روحانی نجاست ہے۔ (عقیدے کی پاکیزگی) دوسری طرف عقیدے کے معاملے میں دیکھ لیں ۔ ہر طرف شرک بدعت قبر پرستی اور رسوم باطلہ کا دور دورا ہے ۔ یہ سب گندگی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے فاجتنبوا الرجس من الاوثان بت پرستی کی غلاظت سے بچو۔ یہ بت پرستی معنوی گندگی اور نجاست ہے ۔ تم سمجھتے ہو کہ بزرگوں کی تعظیم کر رہے ہو۔ تم تو گندگی میں پھنسے ہوئے ہو۔ مزاروں پر چادریں چڑھاتے ہو ، قبروں کو چومتے ہو ان سے مرادیں مانگتے ہو۔ یہ شرک نجاست ہے۔ پاکیزگی کے سراسر خلاف ہے قبروں پر میلے لگانا انہیں عرس کا نام دینا جھنڈیاں لگانا نعرے بازی کرنا کیا یہی حضور ﷺ کی تعظیم ہے جو تم کر رہے ہو۔ تم تو شب وروز نبی کریم ﷺ کی مخالفت کر رہے ہو ہر بات میں سنت کی مخالفت کرتے ہو۔ حلال و حرام کی تمیز سے بےنیاز ہوگئے ہو۔ سود اور رشوت کھاتے ہو۔ تجارت میں حرام کی کمائی کرتے ہو۔ تمہارے اندر پاکیزگی کیسے آئے گی ۔ اگر پاکیزگی اختیار کرنا چاہتے ہو تو ظاہر و باطن کو پاک کرو۔ مال کو پاک کرو۔ دل کو پاک رکھو اور افکار میں پاکیزگی اختیار کرو۔ (ڈیوٹی کی پابندی ) ڈیوٹی میں کوتاہی آج کل کا معمول بن چکا ہے کسی طرف دیکھ لیں ۔ ہر شعبہ زندگی میں اپنے فرائض سے اغماض پایا جاتا ہے ۔ کوئی شخص اپنی ڈیوٹی پابندی کے ساتھ ادا کرنے پر تیار نہیں پولیس والے ہوں یا فوج والے یا کوئی دوسرے ملازمین فرائض سے غافل ہیں ۔ ان حالات میں پاکیزگی اور استقلال کہاں سے آئے گا۔ اللہ کے کوئی خاص بندے ہی ہیں ۔ جنہیں اس زمانے میں ڈیوٹی کا پاس ہو۔ ہمارے شیخ حضرت مولانا اعزاز علی صاحب جہنوں نے پنتالیس 45 برس تک دار العلوم دیوبند میں تعلیم دی ان کی بیوی فوت ہوگئی ۔ عصر کے وقت دفن کر آئے مولانا مغرب کے بعد شمائل شریف کا درس دیتے تھے ۔ کتاب بغل میں لی اور درس گاہ میں پہنچ گئے ۔ لوگوں نے کافی کہا سنا حتی کہ منت خوشامد بھی کی مگر آپ نے فرمایا کہ میں تو اپنی ڈیوٹی ادا کروں گا۔ حدیث کی تعلیم سے زیادہ بڑھ کر کون سا کام ہوسکتا ہے۔ ( حضور ﷺ نصیحت کرنیوالے ہیں ) سورۃ کے آخری حصے میں ارشاد ہوتا ہے ۔ کہ اے نبی (علیہ السلام) فذکر آپ ان لوگوں کو نصیحت کریں کیونکہ انما انت مذکر آپ نصیحت کرنے والے ہیں اور لست علیھم بمصیطر آپ ان کافروں پر داروغہ نہیں ہیں ۔ کہ انہیں پکڑ لائیں اور مسلمان بنالیں ۔ آپ کا یہ کام نہیں ہے ۔ ” علیک الا البلغ آپ کا کام تو اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے ۔ ہاں یہ بات ضرور ہے الا من تولی وکفر جو روگردانی کرے گا ۔ اور کفر کا راستہ اختیار کرے گا ۔ فیعذبہ اللہ العذاب الاکبر اللہ اس کو بڑی سزا دے گا ۔ اور وہ بڑی سزا کیا ہے ۔ اللہ نے پہلی سورة میں بتا دی یصلی النار الکبری جو نصیحت سے اعراض کرے گا ۔ وہ دوزخ کی بڑی آگ میں داخل ہوگا ایسی آگ جو اس دنیا کی آگ سے انہتر 79 گنا تیز ہوگی۔ آپ کا کام نہ سزا دینا ہے ۔ نہ کسی پر زجر کرنا ہے ۔ آپ مذکر ہیں ۔ انہیں سمجھا دیں کہ کوتاہی نہ کریں ۔ کیونکہ ان الینا ایابھم ان لوگوں نے ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ۔ دوسری جگہ فرمایا والی اللہ ترجع الامور ہر چیز اللہ کی طرف ہی لوٹ کر جانے والی ہے۔ انسان کو بھی وہیں جانا ہے ۔ پھر جب وہاں پہنچ جائے گا ۔ تو ثم ان علینا حسابھم ان لوگوں کا حساب کتاب لینا بھی ہمارے ذمہ ہے ۔ ہم خود ان سے پوچھ لیں گے کہ دنیا میں کیا کچھ کر کے آئے ہو۔ اس آیت کی تلاوت پر حضور ﷺ نے یہ دعا لکھائی اللھم حاسبنی حسابا یسیرا ۔ اے اللہ ہم سے آسان حساب لے ۔ آسان حساب کی تفسیر پہلے آچکی ہے ۔ کہ حساب صرف پیش کردیا جائے ۔ حضور ﷺ نے خود فرمایا کہ آسان حساب عرض ہے۔ جس کے ساتھ مناقشہ کیا گیا اور جس سے یہ پوچھ لیا گیا ۔ کہ تم نے یہ کام کیوں کیا ۔ بس وہ ہلاک ہوگیا ۔ وہ بچ نہیں سکتا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ۔ تم نے فلاں وقت یہ کام کیا بندہ اقرار کرے گا۔ اللہ فرمائے گا ۔ جاؤ یہ آسان حساب ہے۔ سورۃ اعلی کی تلاوت میں اگر سبح اسم ربک الاعلی پڑھ کر وقف کیا جائے تو سبحان ربی الاعلی کہنا چاہیئے ۔ خواہ نماز پڑھ رہا ہو یا نماز سے باہر ہو۔ شاہ عبدالعزیز فرماتے ہیں کہ نماز میں یہ تسبیح آہستہ کہنی چاہیئے ۔ اور اگر وقف نہیں کیا مسلسل پڑھ لیا تو یہ تسبیح پڑھنے کی ضرورت نہیں ۔ اسی طرح اس سورة مبارکہ میں جب ان علینا حسابھم تلاوت کیا جائے خواہ نماز میں ہو یا باہر ہو اللھم حاسبنی حسابا یسیرا آہستہ آواز میں کہنا چاہیئے ۔