87. Surah Al-A'laa

الأعلىThe Most High · 19 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 87:1–13

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ Open ayah 87:1 in the Quran reader

اپنے رب کے نام کی تسبیح بیان کریں جو بہت بلند ہے

الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰى۪ۙ Open ayah 87:2 in the Quran reader

وہ اللہ تعالیٰ جس نے (ہرچیز کو) پیدا کیا پھر اس کو (کمال ) اعتدال کے ساتھ برابر کیا

وَ الَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدٰى۪ۙ Open ayah 87:3 in the Quran reader

اور وہ ذات جس نے (ہر چیز کا) اندازہ ٹھہر راہنمائی فرمائی

وَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى۪ۙ Open ayah 87:4 in the Quran reader

اور وہ اللہ جس نے (زمین سے) چارا نکالا

فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰىؕ Open ayah 87:5 in the Quran reader

پھر کردیا اس کو خشک سیاہی مائل

سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤىۙ Open ayah 87:6 in the Quran reader

عنقریب ہم آپ کو (اس طور پر) پڑھادیں گے پھر آپ بھولیں گے نہیں

اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا یَخْفٰىؕ Open ayah 87:7 in the Quran reader

سوائے اس چیز کے کہ اللہ تعالیٰ خود اسے (بھلا دینا) چاہے بیشک وہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے ظاہر اور مخفی چیز کو

وَ نُیَسِّرُكَ لِلْیُسْرٰىۚۖ Open ayah 87:8 in the Quran reader

اور ہم بتدریج آپ کو آساتی تک پہنچا دیں گے

فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 87:9 in the Quran reader

آپ نصیحت کریں اگر نصیحت فائدہ کرے

سَیَذَّكَّرُ مَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 87:10 in the Quran reader

وہی شخص جلدی نصیحت قبول کرتا ہے جو ڈرتا ہے

وَ یَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَىۙ Open ayah 87:11 in the Quran reader

اور اس نصیحت سے کنارہ کش رہے گا وہ جو بڑا بدبخت ہے

الَّذِیْ یَصْلَى النَّارَ الْكُبْرٰىۚ Open ayah 87:12 in the Quran reader

وہ بدبخت جو بڑی آگ میں داخل ہوگا

ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰىؕ Open ayah 87:13 in the Quran reader

پھر وہ نہ مرے گا اس (آتش دوزخ) میں اور نہ ہی وہ زندہ رہے گا

(پہلی سورة کے ساتھ ربط) پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر انسان کے نفس پر اللہ نے محافظ مقرر کر رکھے ہیں اور اس کے اعمال کی حفاظت ہو رہی ہے ۔ لہذا ایک دن آئے گا ، جب راز کھلیں گے جب ایسا ہوگا ۔ معاملہ بڑا خراب ہوگا ۔ اس دن انسان ندامت اور شرمندگی سے بچنا چاہیں گے اس کا طریقہ بھی اللہ نے اس سورة میں بتا دیا اور وہ یہ ہے جیسا کہ آخری آیات میں آتا ہے ۔ حیوۃ الدنیا اور ترغیب فی الاخرت یعنی دنیا کی طرف سے بےرغبتی اور آخرت کے معاملات کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہیئے ۔ اگر ایسا ہوگیا تو راز کھلنے کے دن انسان شرمندگی سے بچ جائے گا ۔ ورنہ وہاں پر بچنے کی کوئی صورت نہیں ۔ اور رازوں کو کوئی تبدیلی بھی نہیں کرسکتا ۔ جس دنیا میں مثلیں تبدیل کردی جاتی ہیں ۔ اس طرح آخرت میں یہ ممکن نہ ہوگا ہر انسان کے اعمال محفوظ ہیں ۔ وہ پیش ہوں گے ۔ اور ان کے مطابق جزائے عمل واقع ہوگی۔ (تسبیح کا مفہوم ) اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں سبح اسم ربک الاعلی اپنے رب کے نام کی تسبیح بیان کریں ۔ جو سب سے بلند ہے ۔ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے ۔ اور تسبیح کا معنی تنزیہہ ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو تمام ایسی چیزوں سے پاک سمجھا جائے جو اس کی شان کے لائق نہیں ۔ مثلا عیب ونقص کی ہر چیز سے اللہ پاک ہے ۔ اسی طرح تحمید کا معنی یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو کمال تمام صفات کے ساتھ موصوف سمجھے ۔ اس میں تمام صفات کمال پائی جائیں ، مگر نقص وعیب قطعی نہ ہو ، نہ خدا کی ذات میں کوئی شریک ہے اور نہ اس کی صفات میں ۔ نہ اس کی عبادت میں کوئی شریک کیا جاسکتا ہے ۔ اس کے بیوی بچے بھی نہیں ہیں ۔ یہ تو اس کی شان کے لائق نہیں ”۔ فتعلی اللہ عما یشرکون “ خدا تعالیٰ کی ذات ان تمام چیزوں سے بلند وبالا ہے جن کو لوگ اپنی حماقت کی وجہ سے خدا کے ساتھ شریک بناتے ہیں ۔ گویا تسبیح کا معنی تنزیہہ ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو ان تمام چیزوں سے پاک سمجھنا جو اس کی ذات کے لائق نہیں ہیں ۔ اس کی ذات تمام عیوب ونقائض سے پاک ہے۔ (اللہ تعالیٰ کے اسمائے پاک ) بعض حضرات اسم کا معنی ذات کرتے ہیں ۔ کیونکہ اسم ذات کا عنوان ہوتا ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ قرآن وحدیث میں اللہ تعالیٰ کے بہت سے نام مذکور ہیں ۔ صحیح حدیث میں ننانوے اسمائے پاک کا ذکر ہے ۔ ان للہ تعالیٰ تسعۃ وتسعین اسما مائۃ الا واحدا من احصاھا دخل الجنۃ۔ اللہ تعالیٰ کے ننانوے یعنی ایک کم سو 100 نام ہیں جس شخص نے ان کو یاد کیا اور ان کا ورد کرتا رہا ۔ ان پر ایمان رکھا وہ بہشت میں داخل ہوگا ۔ قرآن پاک میں بھی اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنی لہ الاسماء الحسنی “ دوسری جگہ فرمایا ” وللہ الاسماء الحسنی “ اللہ تعالیٰ کے سارے نام ہی بھلے ہیں ، ان میں سے جس نام کے ساتھ چاہو اسے یاد کرو ۔ اللہ رحمان ، رحیم ستار غفار وغیرہ وغیرہ سب اللہ کے نام ہیں ۔ جس طرح خدا کی ذات پاک ہے اسی طرح اس کی صفات بھی پاک ہیں ۔ شاہ عبد العزیز فرماتے ہیں اسم کو ظاہر پر ہی ر کھو اور اللہ کے نام کی تسبیح بھی کرو ۔ اور وہ اس طرح کہ خدا کا جو بھی اسم ہے اس کا غلط مطلب نہ لو ۔ جیسا کہ قرآن پاک میں موجود ہے کہ جو لوگ اسمائے پاک میں الحاد کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو جانتا ہے اگر کسی معنی غلط بیان کیا تو یہ تنزیہہ کے خلاف ہوگا ۔ اسم پاک کا وہی مطلب لینا چاہیئے جو اللہ کی مراد ہے۔ اگر مطلب غلط لیا تو الحاد ہوجائے گا ۔ اور الحاد جس طرح ذات میں برا ہے اسی طرح اسم پاک میں بھی برا ہے۔ مقصد یہ کہ نام اللہ کا ذکر کیا صفت تو اللہ کی کی مگر مطلب غلط لے لیا تو یہی الحاد ہے اور تنزیہہ کے خلاف ہے۔ (انسان کو اللہ کے نام سے بلانا گناہ ہے ) بعض لوگ اللہ تعالیٰ کے اسم پاک کو غیر اللہ پر بولتے ہیں یہ درست نہیں ۔ اس لیے فقہاء کرام اور مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ کا نام لے کر کسی غیر کو بلانا الحاد میں داخل ہے اور گناہ ہے مثلا عبدالغنی کو صرف غنی کہہ دینا یا عبد المجید کی بحائے مجید صاحب کہہ دینا درست نہیں ہے۔ غنی اور مجید تو اللہ تعالیٰ کے نام ہیں کسی انسان کو بلانا ہے تو پورا نام یعنی عبد المجید کہنا چاہیئے ۔ نام کو مخفف کرکے بلانا انگریز کا طریقہ ہے۔ ایسا کرنے والا گہنگار ہوگا ۔ یہ بات سبح اسم ربک الاعلی کے خلاف ہے اور مکروہ تحریمی کے درجے میں آتی ہے لہذا اس سے اجتناب کرنا چاہیئے ۔ (اللہ تعالیٰ کی صفات کاملہ ) الغرض یہاں یہ حکم ہوا ہے کہ اپنے رب کی تسبیح بیان کریں وہ رب جو کہ اعلیٰ ہے ۔ اعلیٰ خدا تعالیٰ کی صفت ہے۔ کہتے ہیں کہ اعلیٰ سے ذات مع جمیع الصفات مراد ہوتی ہے کے ساتھ یاد کرنا کافی ہے۔ ان صفات میں سے اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے خلق کو بیان فرمایا ہے۔ الذی خلق یعنی وہ خدا تعالیٰ جس کا ایک کمال تخلیق ہے ۔ ہر چیز اسی کی پیدا کردہ ہے ۔ کیونکہ ھوالخلق العلیم دنیا کی ہر چیز مخلوق ہے۔ اور خالق صرف وہی ہے۔ اللہ خالق کل شیء نیز یہ بھی ارشاد ہے کہ پیدا کرنا صرف اسی کا کام ہے ۔ ” الا لہ الخلق توحید کا یہ درجہ ایسا ہے جس میں ہر مذہب کے لوگ شامل ہیں ۔ ہنود یہود مشرک وغیرہ سب اس بات کے قائل ہیں کہ خالق خدا کے سوا اور کوئی نہیں۔ اس مقام پر دوسری صفت کمال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو صرف پیدا ہی نہیں کیا بلکہ فسوی اس کے تمام قوی ظاہرہ اور باطنہ کو کمال اعتدال کے ساتھ قائم کیا ہے کہ اس کی کمال درجے کی صنعت اور کاریگر ی کی دلیل ہے۔ امام غزالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء اس کمال درجے پر پیدا فرمائی ہیں کہ اس سے بہتر ممکن ہی نہیں ۔ نہ صرف انسان بلکہ ہر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی کمال صنعت کا شاہکار ہے۔ انسان کی بہتر ین شکل و صورت درخت کے پتے پھل اور پھول ہر چیز اس کی صنعت تسویہ کا ثبوت ہے ۔ فرمایا ھو الذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء “ اللہ کی ذات تو وہ ہے جو شکم مادر میں تمہاری بہترین شکل و صورت پیدا کرتا ہے۔ پھر اس کے تمام اعضاء کو ٹھیک ٹھاک بناتا ہے۔ یہ اس کی صفت تسویہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش سے پہلے والذی قدر اس نے اندازہ ٹھہرایا قبل از پیدائش اس کے لیے تمام چیزیں مقرر کردیں کیونکہ ہر چیز اس کے علم میں موجود ہے اور پھر پیدا کرنے کے بعد یونہی نہیں چھوڑ دیا ۔ کہ انسان کا جدھر دل چاہے چلا جائے ۔ بلکہ فھدی اسے ہدایت بھی دی ۔ اس کی سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کی ۔ اور بتا دیا کہ اس تک پہنچنے کا یہ صحیح راستہ ہے۔ اس پر چلو گے تو درجہ کمال تک پہنچ جاؤ گے ۔ اگر کوئی دوسرا راستہ اختیار کرو گے۔ تو گمراہی کے گڑھے میں جاگرو گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اپنے نام کی تسبیح بیان کرنے کا حکم دیا ۔ اور اس کے ساتھ اپنی بعض صفات کاملہ کا ذکر کیا ۔ کہ اسی ذات نے انسان کو پیدا کیا ۔ پھر برابر کیا ۔ تمام قوی ظاہرہ و باطنہ کو کمال اعتدال کے ساتھ رکھا ۔ اپنے علم ازلی کے ذریعے اس کی تقدیر مقرر کی ۔ اور پھر اس کی ہدایت کے لیے اسے راہ بھی دکھائی ۔ (انسان کے حواس ظاہرہ اور باطنہ ) انسان کے حواس ظاہرہ اور باطنہ وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے انسان علم حاصل کرتا ہے بعض ذرائع ایسے ہیں ۔ جو انسان کے اندر پائے جاتے ہیں ۔ اور بعض ایسے ہیں جو انسان کو باہر سے حاصل ہوتے ہیں ۔ اندرونی ذرائع حواس خمسہ یعنی سننے دیکھنے سونگھنے چکھنے اور ٹٹولنے جیسے ذرائع ہیں جن کے ساتھ انسان علم حاصل کرتا ہے۔ انسان کے اندر حس مشترک بھی ہے ۔ اسی طرح خیال اور عقل وغیرہ ہیں ۔ جن کے ذریعے انسان راہنمائی حاصل کرتا ہے۔ حصول علم کے خارجی ذرائع میں وحی اور الہام ہے۔ اللہ تعالیٰ انبیاء (علیہم السلام) کی معرفت اپنی وحی لوگوں تک پہنچاتا ہے ۔ جو ان کی راہنمائی کرتی ہے۔ (جانور انسان کی خدمت پر مامور ہیں ) صفت تخلیق کا پہلا درجہ انسان کا ہے ۔ کہ یہ اشرف المخلوقات ہے۔ پھر دوسرا درجہ حیوانات کا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی خدمت کے لیے اور نوع انسانی کی مصلحت کو پورا کرنے لیے پیدا کیا ہے۔ جیسا فرمایا ” متاعا لکم ولانعامکم “ یہ چیزیں تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے ہیں اور جانور تمہاری خدمت کے لیے پیدا کیے ہیں سورة نحل میں موجود ہے ۔ کہ دیکھو ! اللہ تعالیٰ نے جانوروں کو پیدا کرکے کس طرح تمہارے ماتحت کردیا ۔ یہ تمہارے بس میں نہ تھا ۔ مگر اللہ نے انہیں تمہارے لیے مسخر کردیا اسی لیے فرمایا کہ گھوڑے یا اونٹ یا خچر وغیرہ کی پیٹھ پر یوں کہو ” سبحن الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین “ خدا کی ذات پاک ہے ۔ جس نے ان کو ہمارے تابع کردیا ۔ ورنہ ایسے جانوروں کو کون مطیع کرسکتا ہے۔ کوئی بھی حیوان گھوڑا ہاتھی اونٹ وغیرہ بگڑ جاٹے تو جان کی فکر پڑجاتی ہے۔ مگر یہ وہی ذات ہے جس نے اسے اپنے سے کمزور تر ہستی کے تابع کردیا ۔ فرمایا والذی اخرج المرعی خدا کی ذات وہ ہے جس نے زمین سے چارا نکالا جہاں پر جانور نظر آئیں سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس خطہ ارضی میں چراگاہ بھی پیدا کی ہے۔ جو ان جانوروں کی خوراک ہے۔ جانور خود تو اپنے لیے چارا پیدا نہیں کرسکتا ، یہ تو وہی مالک الملک ہے جس نے ہر ذی روح کی روزی کا ذمہ لے رکھا ہے ۔ جانوروں کی خوراک کے لیے چارا بھی زمین سے پیدا فرما دیا ہے ۔ اور یہ چارا اسی وقت کارآمد ہے جب تک سرسبز ہے مگر کچھ عرصہ کے بعد یہ خشک ہوجاتا ہے۔ اسی لیے فرمایا فجعلہ غثاء جب پیدا کیا تو یہ چارہ سرسبز و شاداب تھا ۔ پھر کچھ وقت کے بعد اسے خشک بنادیا ۔ احوی پھر وہ سیاہی مائل ہو کر کوڑا کرکٹ بن گیا ۔ پہلے تازہ تھا اور کارآمد تھا اب مرجھا گیا اور کوڑے کا ڈھیر ین گیا۔ (ہدایت کے خارجی ذرائع ) جس طرح اللہ تعالیٰ نے حیوانات کی زندگی کے لیے چارہ پیدا کیا ہے اسی طرح اس نے انسان کی راہنمائی کے لیے خارجی ذرائع بھی پیدا کئے ۔ منجملہ ان کے وحی کا نزول اور آسمانی کتابیں ہیں ۔ جو مختلف ادوار میں انسانوں کی راہنمائی کرتی رہی ہیں ۔ اور پھر آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر (علیہ السلام) پر اپنی آخری کتاب قرآن پاک نازل فرما کر حجت تمام کردی ۔ آخری شریعت نازل فرما کر انسان کے طبعی تقاضوں کی تکمیل کا سامان مہیا کردیا ۔ تاکہ انسان اس سے راہنمائی حاصل کرکے طبعی طور پر ترقی کی منازل طے کرسکے ۔ اور درجہ کمال تک پہنچ سکے ۔ (قرآن پاک تعلیم اللہ کے ذمہ ہے) اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب قرآن پاک نازل فرما کر حضور ﷺ کو تسلی دی کہ اس کتاب کو پڑھنے میں آپ کسی قسم کی فکر نہ کریں بلکہ سنقرئک ہم خود آپ کو اس طور پر پڑھا دیں گے فلا تنسی کہ آپ بھولیں گے نہیں آپ کو قرآن پاک کی ایسی تعلیم دیں گے جو طبعی تقاضوں کو پورا کرے گی ۔ اس کے اصول ضوابط شریعت قانون ہر چیز آپ کو ذہن نشین کرا دیں گے۔ ایک دفعہ یاد کرا دینے کے بعد بھولنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا الا ماشاء اللہ سوائے اس چیز کے کہ اللہ تعالیٰ خود اسے بھلا دینا چاہے۔ اللہ تعالیٰ ایک حکم صادر کرتا ہے تو وہ اس کو واپس بھی لے سکتا ہے لہذا اگر اللہ تعالیٰ چاہے کہ کوئی حکم باقی نہ رہے ۔ تو وہ خود بھلا دے گا ۔ مگر اس کا قانون ہے ما ننسخ من ایۃ او ننسھا نات بخیر منھا۔ جب ہم کسی کو منسوخ کردیتے ہیں تو اس سے بہتر چیز لے آتے ہیں ۔ لہذا اس قانون کے تحت اگر خود اللہ تعالیٰ کسی چیز کی منسوخی چاہیں گے تو اسے بھلا دیں گے ورنہ قرآن پاک کی ہر ہر آیت کا پڑھانا اور یاد رکھوانا ہماری ذمہ داری ہے۔ (اللہ عالم الغیب الشہادۃ ہے) فرمایا یعلم الجھر وما یخفی اللہ تعالیٰ جانتا ہے پکارنے کو اور مخفی چیز کو یعنی جو کام انسان کھلے طور پر کرتا ہے ۔ اللہ اسے بھی جانتا ہے ۔ اور جو کام پوشیدہ رکھتے ہیں ۔ اللہ ان سے بھی واقف ہے ۔ وہ تو انسان کے دل کی نیت کو بھی جانتا ہے ۔ ہر شخص کی استعداد اور صلاحیت تک سے واقف ہے۔ (ہدایت کا طالب ہدایت پالیتا) اس کے بعد فرمایا ونیسرک للیسری ہم آسان کردیں گے آپ کے لیے آسانی یعنی آپ کے مشن کو بتدریج آسان بنادیں گے ۔ پیغمبر کا کام تبلیغ کے ذریعے لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف بلانا ہے ۔ لوگوں کے ہدایت پانے کے دو طریقے ہیں ۔ یا تو وہ پیغمبر (علیہ السلام) کی تبلیغ کا اثر قبول کرتے ہیں یا خود بخود حق کے متلاشی بن کر ہدایت کو پالیتے ہیں ۔ جو لوگ اچھی صلاحیت کے مالک ہوتے ہیں ۔ وہ نبی کی دعوت کو فورا قبول کرلیتے ہیں ۔ مگر یہ ممکن نہیں کہ ہر شخص کو نبی خود خطاب کرے جو لوگ خود حق کے متلاشی ہوتے ہیں وہ ضرور اسے پالیتے ہیں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا یعنی جو لوگ ہماری طرف آنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ہم ان کے لیے ہدایت کے دروازے کھول دیتے ہیں ۔ ایسے لوگوں تک اگر نبی کا خطاب نہ بھی پہنچے تب بھی وہ ہدایت کو تلاش کرلیتے ہیں ۔ (تبلغ میں سراسر نفع ہے۔ ) نبی (علیہ السلام) کو ارشاد فرمایا کہ آپ کرتے رہیں اور اس بات کی فکر نہ کریں کہ کوئی نصیحت فائدہ کرے ۔ عربی زبان والے جانتے ہیں کہ اس جملہ سے مراد ہے ۔ نفعت او لم تنفع یعنی نفع دے یا نہ دے ۔ آپ اپنا کام کرتے رہیں ۔ تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے رہیں ۔ آپ سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ آپ کے مخاطب نے تبلیغ کا فائدہ کیوں نہیں اٹھایا ۔ بلکہ آپ سے صرف یہ سوال ہوگا کہ آپ نے نصیحت کی یا نہیں ۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ مبلغ کو یقین رکھنا چاہیئے کہ کوئی مانے اسے تبلیغ حق کا اجر ضرور ملے گا۔ پھر ان کو بھی یقینا فائدہ پہنچے گا ۔ جو اس دعوت کو قبول کرلیں گے ۔ اگر کوئی نصیحت نہ پکڑے تو اس کی اپنی بد بختی ہے ۔ ورنہ مبلغ کو ضرور فائدہ ہوگا ۔ اس لیے حضور ﷺ کو حکم ہوتا ہے ۔ کہ آپ نصیحت کرتے رہیں ۔ کوئی اس سے فائدہ اٹھائے یا نہ اٹھائے ۔ (خوف خدا کامیابی کا ذریعہ ہے) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا سیذکر من یخشی نصیحت وہ شخص پکڑے گا جو ڈرتا ہے اور ڈرتا وہ ہے جسے خطرے کا احساس ہوتا ہے ۔ اور خطرے کے آنے سے پہلے ہی اس سے بچاؤ کا انتظام کرلیتا ہے ۔ ایسے شخص کو ہی عاقبت اندیش کہتے ہیں قبل ازوقت خطرے کا احساس کرتا ہے ۔ نصیحت وہی پکڑے گا جسے ڈر ہے کہ ایک دن راز کھلیں گے جزائے عمل واقع ہوگی ۔ اور اس سے کوئی نہیں بچ سکے گا۔ (شقی کا انجام) فرمایا ویتجنبھا الاشقی اور اس نصیحت سے الگ وہ رہے گا جو بدبخت ہے ناعاقبت اندیش ہے ۔ اس نے بروقت خطرے کا احساس ہی نہیں کیا ۔ اور اس بچاؤ کی تیاری نہیں کی ۔ وہ لذات اور شہوات میں منہمک رہا ۔ اور نصیحت کی بات کو ٹھٹا مخول سمجھتا رہا ۔ ایسا شخص کمال کی منزل تک نہیں پہنچ سکے گا۔ برخلاف اس کے الذی یصلی النار الکبری یہ بڑی آگ پہنچے گا ۔ جو دوزخ کی آگ ہے اور دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ سخت ہے ۔ اور اس بڑی آگ میں پہنچے گا۔ جو دوزخ کی آگ ہے اور دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ سخت ہے۔ اور اس بڑی میں جاکر اس کی حالت یہ ہوگی ۔ کہ ثم لا یموت فیھا اس آگ میں جل کر اس کی موت بھی واقع نہیں ہوگی ۔ تاکہ اس کا خاتمہ ہوجائے امام ابن جریر فرماتے ہیں ۔ دوزخی کی جان گلے تک آئے گی مگر نکلے گی نہیں اس طرح نہ اس کی موت واقع ہوگی ۔ ولا یحییٰ اور نہ ہی وہ زندہ ہوگا ۔ حقیقت میں اسے زندگی کا لطف خوشی اور سرور حاصل نہیں ہوگا ۔ اس کو آرام و راحت نہیں ملے گا ۔ اس لیے دوزخ کی زندگی اس کے لیے زندگی ہوگی مصائب وآلام کی کٹھن منزل ہوگی ۔ ایسی حالت کو لای موت فیھا ولا یحییٰ کہہ سکتے ہیں ۔ جس میں نہ موت دیا جاسکے ۔ ایسے بدبخت کی یہ حالت ہوگی ۔
Ayahs 87:14–19

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 87:14 in the Quran reader

تحقیق کامیاب ہوگیا وہ شخص جس نے تزکیہ حاصل کرلیا

وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ Open ayah 87:15 in the Quran reader

اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر اس نے نماز بھی پڑھی

بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا٘ۖ Open ayah 87:16 in the Quran reader

بلکہ تم دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دیتے ہو

وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىؕ Open ayah 87:17 in the Quran reader

حالا ن کہ آخرت کی زندگی بہتر اور دیرپا ہے

اِنَّ هٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰىۙ Open ayah 87:18 in the Quran reader

بیشک یہ (قرآنی پروگرام ) پہلے (آسمانی) صحیفوں میں بھی ہے

صُحُفِ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى۠ Open ayah 87:19 in the Quran reader

صحیفے ابراہیم اور موسیٰ (علہیم السلام) کے

(گذشتہ سے پیوستہ ) سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کا ذکر ہوا اور اس کی صفات کمال کا بیان ہوا۔ اس کے بعد انسان کی طبعی ضرورت ہدایت اور اس کے حصول کے ذرائع کا تذکرہ ہوا اللہ تعالیٰ نے مثال کے ذریعہ سمجھایا کہ جس طرح جانوروں کے لیے اللہ نے چارے کا بندوبست کیا ہے ۔ اسی طرح نوع انسانی کے لیے ہدایت کا انتظام بھی کردیا ہے ۔ اس کے بعد حضور نبی اکرم ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ ہم آپ کو کتاب یعنی قرآن پاک اس طرح پڑھا دیں گے کہ آپ بھولیں گے نہیں ۔ البتہ جو چیز اللہ تعالیٰ خود بھلا دینا چاہیں گے وہ آپ کی یاداشت سے خارج کردی جائیگی اور آپ کو حکم ہوا ۔ کہ آپ تبلیغ کا حق ادا کرتے رہیں ۔ لوگوں کو نصیحت کرتے رہیں خواہ یہ نصیحت فوری طور پر کسی کو فائدہ دے یا نہ دے ۔ اس نصیحت سے وہی شخص مستفید ہوگا جس کے دل میں خوف خدا ہوگا۔ وہ شخص عاقبت اندیش کہلانے کا مستحق ہوگا ۔ اور ناعاقبت اندیش اور خوف خدا سے خالی انسان جہنم کی بڑی آگ میں داخل ہوگا ۔ وہاں نہ تو اسے راحت نصیب ہوگی ۔ کہ اسے زندگی کا نام دے سکیں ۔ اور نہ موت ہی اسے آئے گی۔ جس سے اس کا خاتمہ ہو کر عذاب سے خلاصی ہوجائے ۔ (فلاح کے تین اصول) انسان کی فلاح کے لیے اللہ تعالیٰ نے تین واضح اصول بتلائے ہیں ۔ یہ ایسے اصول ہیں جن کی بدولت ہدایت نصیب ہوتی ہے اور جو انسان کی طبعی ضروریات میں سے ہیں ۔ فرمایا قد افلح تحقیق فلاح پا گیا ، کامیاب ہوگیا ہدایت پا گیا وہ شخص من تزکی جس نے تزکیہ حاصل کرلیا ۔ ہدایت یافتگی کا یہ پہلا اصول ہے کہ انسان پاکیزگی حاصل کرلے ۔ دوسرا بنیادی اصول یہ وذکر اسم ربہ کہ جس نے اپنے رب کا ذکر کیا ۔ اس کے نام کو یاد کیا ۔ اور کامیابی کا تیسرا اصول فرمایا فصلی اس نے نماز پڑھی ۔ فلاح کے یہ تین اصول بیان فرمادیے اور وہ ہیں ۔ تزکیہ ذکر الٰہی اور نماز جو شخص یہ تین چیزیں حاصل کرلے گا اللہ تعالیٰ نے اسے کامیابی کی بشارت دی ہے۔ (شریعت کے چار بنیادی اصول ) حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ چار بنیادی اصول ایسے ہیں جو کسی شریعت میں منسوخ نہیں ہوئے ۔ یہ دائمی اصول ۔ پہلی شریعتوں میں بھی موجود تھے اور شریعت محمدیہ میں بھی شامل ہیں ۔ منجملہ ان کے اول طہارت یعنی پاکیزگی ہے اور اس میں ظاہری باطنی ہر قسم کی پاکیزگی شامل ہے۔ دوسرا اصول اخبات ہے جسے خشوع یا اللہ تعالیٰ کے سامنے اظہار عاجزی کہتے ہیں ۔ تیسرا اصول سماحت یعنی خود غرضی اور خبیث (اور خسیس ) چیزوں سے بچنا ہے۔ شریعت کا چوتھا اصول عدالت جسے عدل و انصاف کہا جاتا ہے ۔ ہر پیغمبر نے ان چار اصولوں کی تعلیم دی ہے ۔ اور تمام آسمانی شریعتیں ان چار اصولوں کی تفصیل ہے۔ (باطن کی پاکیزگی) طہارت یا پاکیزگی کے دو بڑے حصے ہیں ۔ یعنی ظاہری اور باطنی پاکیزگی سب سے پہلے باطنی طہارت کی ضرورت ہے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ قد افلح من تزکی کا مطلب یہ ہے ۔ کہ فلاح پا گیا وہ شخص جس نے تزکیہ حاصل کیا ، یعنی اپنے باطن کو کفر شرک تفاق اور فاسد عقیدوں سے پاک کرلیا یہ طہارت کی منزل ہے۔ جس شخص کے دل میں کوئی بھی فاسد عقیدہ کسی کونے میں موجود ہو اسے فلاح نصیب نہیں ہوسکتی ۔ جب تک کسی شخص کے اندر فاسد عقیدہ کسی کونے میں موجود ہو اسے فلاح نصیب نہیں ہوسکتی ۔ جب تک کسی شخص کے اندر فاسد مواد موجود ہے نہ اسکی عبادت مقبول ہے اور نہ اس پر خدا راضی ہوگا ۔ کیونکہ باطن ناپاک ہے۔ اور پاکیزگی کامیابی کے لیے شرط اولین ہے۔ جو شخص ناپاک دل و دماغ کے ساتھ اللہ کے حضور پیش ہوگا اللہ تعالیٰ اس کی کوئی عبادت قبول نہیں کرے گا۔ اس نے منافقوں کے متعلق صاف فرمایا انھم رجس یہ ناپاک ہیں وماوھم جھنم اور ان کا ٹھکانا دوزخ میں ہے اسی طرح مشرکوں کے متعلق فرمایا انما المشرکون نجس یہ بھی ناپاک ہیں ۔ مطلب یہ کہ جب تک عقیدہ درست نہیں ہوگا باطنی طہارت نہیں ہوگی ۔ کامیابی نہیں ہوگی ۔ پھر عقیدے کی پاکیزگی کے ساتھ اخلاق کی پاکیزگی بھی ضروری ہے ۔ کیونکہ اخلاق کا مرکز دل ہے برا ارادہ کھوٹی نیت حسد بغض کینہ وغیرہ اخلاقی بیماریاں ہیں اور ان کا تعلق بھی باطن سے ہے لہذا کامیابی کے حصول کے لیے ان چیزوں سے پاک ہونا بھی ضروری ہے۔ (ظاہر کی پاکیزگی ) ظاہری پاکیزگی میں جسم کی پاکیزگی کو اولیت حاصل ہے فقہ اور حدیث کی کتابوں میں آپ پڑھتے ہیں خون پیب بول وبراز وغیرہ ایسی چیزیں ہیں کہ جسم پر لگی ہوں تو جسم ناپاک ہے اس کی صفائی ضروری ہے ۔ حدث یعنی ہوا خارج ہوجانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ۔ نماز نہیں پڑھ سکتا ۔ طہارت کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ جسم کی بہت بڑی ناپاکی جنابت کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ اگرچہ ظاہری طور پر کوئی گندگی نظر نہیں آتی مگر اس سے سارا جسم نجس ہوجاتا ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا جنابت کا غسل اچھی طرح کیا کرو ۔ کوئی ایک بال بھی خشک نہیں چاہیئے کیونکہ تحت کل شعرۃ جنابۃ ہر بال کے نیچے جنابت ہوتی ہے۔ اچھی طرح طہارت کرو ان کنتم جنبا فاطھروا ، مبالغے کا صیغہ اللہ نے فرمایا کہ خوب اچھی طرح طہارت کرو۔ اسی طرح حیض ونفاس والی عورت کو بھی حکم ہے ۔ فاذا تطھرن وہ بھی پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے اچھے طریقے سے غسل کریں ۔ جب تک وہ اس طریقے سے پاک نہ ہوجائیں ۔ ان سے مقاربت جائز نہیں ۔ جسم کی پاکیزگی کے علاوہ لباس کی پاکیزگی بھی ضروری ہے ۔ اگر لباس ناپاک ہو تو بھی عبادت مقبول نہیں ۔ سورة مدثر میں واضح حکم ہے ” وثیابک فطھر “ ہر قسم کی ظاہری حسی نجاست سے پاکیزگی حاصل کرو۔ گویا ظاہری طہارت کے دو درجے ہوگئے۔ درجہ اول جسم کی پاکیزگی اور درجہ دوم لباس کی پاکیزگی کا ہے ۔ تیسرے درجے میں انسانی جسم کے غیر ضروری بالوں کی صفائی ہے۔ جس میں بغل کے بال اور زیرناف بال آتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ناخن کی صفائی ہے۔ اور اگر کہیں میل کچیل جسم پر پائے تو اس کی صفائی بھی اسی درجے میں آتی ہے ۔ صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ہمارے لیے تحدید فرمائی کہ ہم غیر طبعی بالوں کو چالیس دن سے زیادہ نہ رہنے دیں ۔ اگر بلا عذر چالیس 40 دن سے زیادہ ہوگئے تو وہ مکروہ تحریمی کی حالت میں مبتلا ہوگیا ۔ ایسا شخص گنہگار ہوگا ۔ اور اس کی نماز بھی مکروہ ہوگی ۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ گرم ممالک میں اس سے بھی جلد صفائی کرنی چاہیئے ۔ کیونکہ ایسے مقامات پر پسینہ آتا ہے اور میل کچیل جلدی جمع ہوجاتا ہے بہرحال چالیس 40 دن سے آگے لیجانا مکروہ تحریمی ہے۔ (مال کی پاکیزگی) طہارت کے ضمن میں مال کی پاکیزگی بھی ضروری ہے۔ مال کی پاکیزگی اس کے فرائض اور مستحبات ادا کرنے سے ہوتی ہے۔ زکوۃ ادا کرو یہ فرض ہے ۔ اس کے علاوہ صدقہ فطر اور قربانی ہے ان مدات میں خرچ کرو ایسا کرو گے تو بقیہ مال پاک ہوگا ۔ ورنہ نہیں ۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے ۔ جس مال میں زکوۃ کی ملاوٹ ہو وہ سارا مال ناپاک ہوتا ہے ۔ اسی طرح ابوداؤد شریف کی روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زکوۃ اس لیے فرض کی تاکہ باقی ماندہ مال تمہارے لیے پاک ہوجائے۔ اگر ناپاک مال استعمال کیا جائے گا تو جذبات بھی ناپاک پیدا ہونگے ناپاک خون پیدا ہوگا اور پھر عبادت بھی مقبول نہیں ہوگی ۔ لہذا اپنے مال کو حرام کی آمیزش سے پاک کرنا چاہیئے ۔ رشوت اور سود کی ملاوٹ سے اجتناب کرو ۔ نیز ناپاک چیزوں کی تجارت سے اپنے سرمایہ کو ناپاک نہ بناؤ ۔ حرام چیزوں میں مردار یا اس کی چربی شراب خنزیر وغیرہ ہیں ۔ ان کی تجارت میں رقم نہ لگاؤ ورنہ سارا مال ناپاک ہوجائے گا۔ یہ تمام چیزیں تزکیہ کے ضمن میں آتی ہیں ۔ اس لیے کامیابی حاصل کرنے کے لیے تزکیہ کو اختیار کرو۔ (نماز کی شرائط ) شیخ الاسلام اور دیگر مفسرین کرام فرماتے ہیں ، نماز کی کئی شرائط ہیں جن میں جسم کی پاکیزگی کپڑوں کی پاکیزگی مکان کی پاکیزگی تعین قبلہ اور تکبیر تحریمہ ہیں ۔ ان شرائط کو پورا کیے بغیر نماز ادا نہیں ہوتی مال کی پاکیزگی اور ظاہر و باطن کی پاکیزگی بھی تزکیہ کے حصے ہیں ۔ لہذا عبادت کے لیے ہر قسم کی طہارت ضروری ہے۔ نماز میں داخل ہوتے وقت تکبیر تحریمہ یعنی اللہ اکبر کہنا بھی شرط ہے۔ اگر تکبیر تحریمہ نہیں کہی ویسے ہی خاموش کھڑا ہوگیا تو نماز بھی نہیں ہوگی بعض فقہاء تکبیر تحریمہ کو نماز کا رکن کہتے ہیں ۔ مگر امام ابوحنیفہ اس کو شرائط میں داخل کرتے ہیں ۔ اور شرط کے بغیر مشروط کی تکمیل نہیں ہوتی ۔ لہذا تکبیر تحریمہ بھی نماز کے شرائط میں سے ہے۔ (نماز تمام عبادات کی جڑ ہے ) رب کا نام لینا ۔ اللہ کا ذکر کرنا اللہ تعالیٰ کی محبت کی نشانی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ انسان کے تعلق اور لگاؤ کو ظاہر کرتا ہے ۔ اس لیے بندہ اپنے رب کا نام لیتا ہے اس کو یاد کرتا ہے۔ اور نماز پڑھتا ہے اور انہی چیزوں کی وجہ سے فرائض میں نماز سب سے اہم ہے ۔ شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ نماز ام العبادات المقربہ ہے ۔ یعنی تمام عبادات کی جڑ ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد موجود ہے فان تابوا واقاموا الصلوۃ واتو الزکوۃ فاخوانکم فی الدین “ اگر کفار ومشرکین اور شرک سے توبہ کرلیں نماز شروع کردیں زکوۃ ادا کرنے لگیں ۔ تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں ۔ ان کے ساتھ حالت جنگ ختم ہوگئی ۔ گویا نماز اور جماعت المسلمین میں شمولیت کی نشانیاں ہیں ۔ جو شخص ان عبادات پر کاربند ہے ۔ اسے اپنی ہی جماعت کا رکن سمجھو۔ اور جو نماز نہیں پڑھتا زکوۃ ادا نہیں کرتا وہ مسلمانوں کی پارٹی کا ممبر نہیں ہے ۔ مقصد یہ کہ زکوۃ اور نماز اتنی اعلیٰ درجے کی عبادات ہیں کہ جماعت میں شمولیت کے لیے نہیں ہے۔ مقصد یہ کہ زکوۃ اور نماز اتنی اعلیٰ درجے کی عبادات ہیں کہ جماعت میں شمولیت کے لیے بمنزلہ شرط ہیں ۔ تو فرمایا وہ شخص کامیاب ہوگیا جس نے نماز ادا کی اور نماز کے مقصد کو سمجھ گیا ” وانھا لکبیرۃ الا علی الخشعین “ یہ نماز بوجھل ہے ۔ بڑا مشکل کام معلوم ہوتا ہے۔ مگر ان لوگوں کے لیے بڑی آسان چیز ہے۔ جن کے دل میں خوف خدا آگیا ہے ۔ نماز ایک پر سرور عبادت ہے۔ جس میں خدا تعالیٰ کا ذکر ہے ، اس کے سامنے عاجزی اور مناجات ہے ۔ خدا کے قرب کا ذریعہ ہے۔ اس میں قیام رکوع اور سجدہ ہے ۔ قرآن پاک تلاوت ہے۔ یہ تمام چیزیں انسان کو اللہ سے قریب کرنے والی ہیں ۔ برخلاف اس کے منافق کے لیے نماز بڑی ہی بوجھل عبادت ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا نمازیں منافق پر بڑی بوجھل ہیں ۔ یعنی فجر اور عشاء کی نمازیں ۔ عشاء کا وقت سونے کا وقت یا گپ شپ لگانے کا وقت ایسا ہوتا ہے ۔ جس میں نیند کا غلبہ ہوتا ہے ۔ اور منافق نماز کی خاطر بیدار نہیں ہوسکتا۔ (دنیا اور آخرت کی زندگی میں تقابل ) کامیابی کے تین بنیادی اصول یعنی تزکیہ ذکر الٰہی اور نماز کے بیان کے بعد فرمایا کہ لوگوں کی حالت یہ ہے بل توثرون الحیوۃ الدنیا تم دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دیتے ہو۔ جو شخص ان تین اصولوں پر کار بند نہیں اس کا رخ خطیرۃ القدس کی طرف نہیں ہے۔ اسے آخرت کی کوئی فکر نہیں ۔ وہ دنیا کے لیے کماتا ہے۔ اور اسی میں انہماک رکھتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ والاخرۃ خیر وابقی آخرت کی زندگی بہتر اور دیرپا ہے ۔ اس کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کی کوئی حیثیت نہیں ۔ ایک بہتر اور باقی رہنے والی چیز کو فانی دنیا کی خاطر چھوڑ حد درجے کی حماقت اور بیوقوفی ہے۔ سورة دہر میں اسی مضمون کو اس طرح بیان فرمایا ان ھولاء یحبون العاجلۃ ویذرون وراءھم یوما ثقیلا۔ یہ لوگ دنیا کی زندگی کو محبوب رکھتے ہیں ۔ اور بوجھل دن کی فکر ہی نہیں کرتے ۔ مگر وہ دن تو آنے والا ہے۔ جب تمام اعمال سامنے آئیں گے ۔ محاسبہ ہوگا اور پھر جزائے عمل واقع ہوگی۔ (آسمانی صحیفے ) آخری آیات میں یہ بات واضح کی گئی ہے ۔ کہ ان ھذا یعنی اس سورة میں جو پروگرام نصیحت اور اصول بتائے گئے ہیں لفی الصحف الاولی یہ پہلے آسمانی صحیفوں میں بھی مذکور ہیں ۔ وہی صحیفے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئے ۔ صحف ابراھیم وموسی امت محمدیہ کا ہر مئومن اپنے آپ کو ملت ابراہیمی سے منسلک کرتا ہے ۔ حضور ﷺ ملت ابراہیمی کرنے والے ہیں ۔ آپ کوئی نیا دین لے کر نہیں آئے اسی لیے حکم ہے ” فاتبعوا ملۃ ابرھیم حنیفا “ ان احکام سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں کی نشاندھی ہوتی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفے بھی انہیں اصولوں کے حامل ہیں ۔ آجکل کی بائیبل کے پہلے باب پیدائش کو ابراہیم (علیہ السلام) کا صحیفہ کیا جاتا ہے ۔ باقی خروج تک چار باب موسیٰ (علیہ السلام) کی توراۃ کہلاتے ہیں ۔ اگرچہ یہودیوں نے اس میں تغیر وتبدل کردیا ہے ۔ مگر یہ وہی صحیفے ہیں جن کا ذکر قرآن پاک نے اس سورة مبارکہ میں کیا ہے ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر تقریبا دس صحیفے نازل ہوئے ۔ اور توراۃ کے علاوہ دس صحیفے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر بھی نازل ہوئے ۔ یہ سب تفسیری اور تاریخی روایتوں سے ماخوذ ہے۔ الغرض نصیحت کی یہ تمام باتیں پہلے صیحفوں میں بھی مذکور ہیں ۔ اور قرآن پاک بھی انہیں کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ وہی پرانا دین ہے ۔ سارے نبی تعلیم دیتے رہے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت شاہ ولی اللہ نے فرمایا کہ طہارت کا اصول تمام انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیم کا حصہ رہا ہے۔ یہ اصول کسی شریعت میں منسوخ نہیں ہوا۔ ہماری شریعت کا بھی ایک محکم اصول ہے۔ جس پر عمل کرنا ضروری ہے ۔ اور یہ فلاح و کامیابی کا ضامن ہے۔