Ayahs 86:1–17(طارق کیا ہے )
ارشاد ہوتا ہے والسماء والطارق قسم ہے آسمان کی اور رات کو اندھیرے میں آنے والے کی ۔ پھر خود ہی اس کی تفصیل بیان فرمانی وما ادرک ما الطارق اور آپ کو کیا علم کہ طارق کیا ہے ۔ اس کا جواب بھی خود ہی ارشاد فرمایا النجم الثاقب وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ جو رات کے اندھیرے میں طلوع ہوتا ہے ۔ گویا طارق سے مراد ستارہ ہے جو رات کے وقت طلوع ہوتا ہے ۔ اور اس کی روشنی بھی نظر آتی ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے آسمان اور رات کو آنے والے ستارے کی قسم اٹھا کر یہ بات سمجھائی ہے کہ انسان کے تمام اعمال محفوظ ہیں اور قیامت کا ایک دن آنے والا ہے جب ہر عمل کی جزا مل کر رہیگی۔
(دیگر معانی )
عربی زبان میں طارق رات کے اندھیرے میں آنے والے کو کہتے ہیں ۔ یہ لفظ بعض اوقات مہمان پر بھی بولا جاتا ہے ۔ عرب شاعر (سموال بن عادیا ) کے کلام میں ملتا (دیوان حماسہ ص 14 مطبع قاسمی دیوبند) ہے وما اخمدت دون طارق ولاد منافی النازلین نریل رات رات کو آنے والے مہمان کے ورے ہمارے چولہے کی آگ کبھی نہیں بجھی ۔ بلکہ ہمیشہ جلتی رہتی ہے تاکہ مہمان جس وقت بھی آئے ۔ اس کی مہانی کا سامان تیار ہوسکے ۔ اور مہمانوں نے کبھی ہماری مذمت بھی نہیں کی ۔ کہ ہماری خاطر تواضع میں کمی رہ گئی ہے ۔ تو گویا طارق کا لفظ مہمان پر بھی بولا جاتا ہے ۔
خواب و خیال بھی عام طور پر رات کے وقت آتا ہے۔ لہذا بعض اوقات طارق کا اطلاق خواب و خیال پر بھی ہوتا ہے ۔ کثر شعرء اپنے محبوب کا تصور طارق سے یعنی رات کو آنے والے خیال سے باندھتے ہیں ۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے طارق کی تفسیر خود بیان فرما دی کہ اس سے مراد ستارہ ہے ۔ جو رات کے اندھیرے میں طلوع ہوتا ہے۔
(ما ادرک اور ما یدریک میں فرق)
امام سفیان ثوری امام سفیان بن عینیہ امام شعبی اور شعبہ وغیرہ اور فقہاء میں سے ہیں ۔
چنانچہ ابن عیینہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں جہاں ما ادرک کا لفظ لائے ہیں اس کا مطلب بھی خود ہی بتا دیا ہے ۔ جیسے اس مقام پر خود واضح کردیا کہ طارق سے مراد رات کو آنے والا ستارہ ہے البتہ جہاں ما یدریک کا لفظ آیا ہے ۔ اس کی تفصیل ظاہر نہیں کی مثلا وما یدریک لعل الساعۃ قریب اور آپ کو کیا پتہ شاید کہ قیامت قریب ہے رات کو آنے والے ستارے سے کون سا ستارہ مراد ہے۔ اس میں مختلف اقوال پائے جاتے ہیں ۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے سورج مراد ہے ۔ کہ جب وہ طلوع ہوتا ہے ۔ تو روشنی آجاتی ہے ۔ اندھیرا چھٹ جاتا ہے ۔ بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ سورج نہیں بلکہ زحل یا کوئی اور ستارہ مراد ہے ، جو رات کو نظر آتا ہے ۔ رات کے وقت اس کی روشنی ہوتی ہے مگر طلوع آفتاب کے ساتھ ستارے کی روشنی ختم ہوجاتی ہے ۔ ہاں یہ بات قابل غور ہے کہ ستاروں کی روشنی ختم نہیں ہوتی وہ تو اپنی جگہ قائم ہے مگر سورج کی تیز روشنی کے سامنے وہ نظر نہیں آتی کسی بھی ستارہ کی روشنی زائل نہیں ہوتی بلکہ محفوظ رہتی ہے ۔ اور جب رات کا اندھیرا چھا جاتا ہے ۔ تو پھر نظر آنے لگتی ہے۔
(اعمال محفوظ رہتے ہیں )
انسان دو چیزوں کا مرکب ہے یعنی جسم اور روح ۔ جسم کا تعلق مادی زمین سے ہے ۔ کہ جسم کا مادہ ارضی ہے ۔ حتی کہ نسمہ جو انسان کے ساتھ ابتدا سے ہوتا ہے۔ اس کا مادہ اور خوراک بھی اسی زمین سے حاصل ہوتی ہے۔ دوسری چیز روح کا تعلق عالم بالا سے ہے اسے روح الٰہی ۔ روح سماوی اور قل الروح من امر ربی بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ عالم امر سے آتا ہے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ تخلیق انسانی کے چوتھے چلے میں روح الٰہی انسانی جسم نسمے سے آکر مل جاتی ہے ۔ جس کی وجہ سے انسان میں عقل و شعور اور دیگر قوی پیدا ہوتے ہیں ۔ روح ایک لطیف شے ہے جس کی بدولت انسان میں کمال پیدا ہوتا ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ اور بعض دیگر بزرگ فرماتے ہیں کہ روح کے انیس 19 مرکز ہوتے ہیں اور ہر مرکز دوسرے سے زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ یہ آپس میں مربوط ہوتے ہیں ۔ ایک حجر الحبت ہوتا ہے جس میں تجلی الٰہی کا نموز ہوتا ہے۔ تجلی اعظم کی کشش عالم بالا کی طرف ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب روح جسم سے الگ ہوتی ہے ۔ تو اس کی قوتیں اور اعمال ختم نہیں ہوتے ہیں ۔ بلکہ محفوظ رہتے ہیں ۔ جس طرح ستارے کے غروب ہوجانے کے باوجود اس کی روشنی زائل نہیں ہوتی بلکہ محفوظ رہتی ہے ۔ اسی طرح جسم و روح کی علیحدگی کے باوجود انسان کے اعمال محفوظ رہتے ہیں ۔ اور قیامت کے روز انہیں ظاہر کردیا جائے گا ۔ تو گویا اللہ تعالیٰ نے اس ستارے کو سامنے رکھ کر انسانی جسم وروح کو واضح کیا ہے۔ اور قیامت کے وقوع اور جزائے عمل کے مسئلہ پر روشنی ڈالی ہے۔
حفاظت اعمال کے لیے طریق کار کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے یوں فرمائی ان کل نفس لما علیھا حافظ۔ یعنی ہر نفس کے ساتھ محافظ قوتیں مقرر ہیں ۔ اس مقام پر ان کا لفظ ما کے معنوں میں آیا ہے ۔ اور اگر یہاں ما کا لفظ لگایا جائے تو جملہ یوں بنے گا ما کل نفس الا علیھاحافظ۔ بہرحال مطلب یہی ہے کہ ہر نفس کے ساتھ محافظ طاقتیں موجود ہیں ۔ جو اس کی حفاظت یا نگرانی کر رہی ہیں۔ قرآن پاک میں دوسری جگہ موجود ہے ۔ من بین یدیہ ومن خلفہ یحفظونہ من امر اللہ۔ فرمایا آگے بیچھے آنے والے ملائکہ اللہ کے حکم سے انسانی جسم اور اس کے اعمال کی حفاظت کرتے ہیں۔ وان علیکم لحفظین ۔ کراما کاتبین۔ تمہارے اوپر بزرگ فرشتے مقرر ہیں ۔ جو تمہارے اعمال کی حفاظت کر رہے ہیں۔ انسان کا عقیدہ عمل اخلاق نیز تمام باطنی قوتیں اور ان کا ذرہ ذرہ محفوظ ہے ، ان چیزوں کو ملائکہ نے اپنے رجسٹروں میں درج کرکے محفوظ کرلیا ہے۔ لوح محفوظ میں بھی درج ہیں اور علم الٰہی میں بھی محفوظ ہیں ۔ اس کے علاوہ انسان کے اپنے حافظے میں بہت سی چیزیں محفوظ رہتی ہیں ۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے انسان کے اعمال کی حفاظت کا مکمل بندوبست کر رکھا ہے ۔
کوئی نفس ایسا نہیں جس پر نگران مقرر نہ ہو۔
بعض روایات میں آتا ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے ایک 120 سو بیس فرشتے رکھے ہیں ، جو اس کی حفاظت اور نگرانی کرتے ہیں ۔ کراما کاتبین ان کے علاوہ ہیں یہ بھی انسان کے اعمال کی حفاظت پر مامور ہیں لہذا انسان کی کوئی چیز ضائع نہیں ہوتی ۔ بلکہ من وعن محفوظ رہتی ہے۔
(تخلیق انسانی قیامت پر دلیل ہے)
فرمایا کہ انسان قیامت کا انکار کسی صورت میں نہیں کرسکتا۔ اس کی اپنی تخلیق اس بات پر دلیل ہے ۔ کہ قیامت ضرور ہوگی ، فلینظر الانسان مم خلق۔ انسان کو غور کرنا چاہیئے کہ اسکی تخلیق کس چیز سے ہوئی ہے ۔ پھر خود ہی فرمایا خلق مماء دافق۔ انسان کو اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ دافق فاعل کا صیغہ ہے ۔ اور اس کا معنی ہے ذو دفق یعنی اچھلنے والا ۔ اس فاعل کو مفعول کے معنی پر بھی محمول کیا جاسکتا ہے ۔ اس طرح مدفوق کا معنی ہوگا وہ پانی جو ڈالا گیا یا بہایا گیا ۔ یعنی نوع انسانی کی پیدائش اس قطرہ آب سے ممکن ہوئی ۔ دوسری جگہ مزید وضاحت فرمائی ۔ کہ تمہارے جد امجد کو اللہ نے مٹی سے پیدا فرمایا ” الم نخلقکم من ماء مھین کیا ہم نے تمہیں حقیر قطرہ آب سے پیدا نہیں کیا ؟ جو بذاتہ ناپاک ہوتا ہے پھر اس سے ایسی زندہ اور شاندار ہستی کو پیدا کیا ہے۔
قطرہ آب کی مزید تشریح فرمائی ۔ یخرج من بین الصلب والترائب۔ جو پشت اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں یہاں باپ کی پشت اور ماں کے سینے کی ہڈیاں مراد ہیں صحیح بات یہ ہے کہ انسان کا اعصابی نظام پشت اور سینے کے درمیان ہے۔ صلب اعصاب حرام مغز۔ دماغ سب کا تعلق پشت اور سینے کے درمیانی حصے سے ہے ۔ اطباء کہتے ہیں کہ انسانی غذا ہضم ہو کر جب چوتھے درجے میں پہنچتی ہے تو مادہ تخلیق پیدا ہوتا ہے۔ وہاں سے نکل کر رحم میں جاتا ہے۔ ادھر عورت کے جسم میں بھی اللہ نے ایسے مواد پیدا کئے ہیں جو مرد کے مادہ سے مل کر انسان کی تخلیق کا باعث بنتے ہیں ۔
جس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک حقیر قطرہ آب سے انسان کو پیدا کردیا ہے۔ اسی طرح انہ علی رجعہ لقادر وہ اس کے دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے ۔ پھر عجیب بات ہے کہ انسان اپنی پیدائش کو تو تسلیم کرتا ہے ۔ کہ اس کی تخلیق کس طرح ہوئی ، مگر دوبارہ پیدا ہونے کا قائل نہیں ہوتا سیدھی سی بات ہے کہ جو خداوند کریم انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے وہی اس کو جب چاہے گا دوبارہ کھڑا کردے گا ۔ مگر یوم تبلی السرائر اس دن تمام راز کھول دیے جائیں گے۔
(اعمال تبدیل نہیں کیے جاسکیں گے )
حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ راز کھول دیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تبدیل نہیں ہوسکیں گے۔ پھر راز انسان کے لیے زینت کا باعث بنیں گے اسے خوشی ہوگی ۔ اور بعض راز ایسے ہوں گے کہ ان کا اظہار انسان کے لیے باعث شرم وندامت ہوگا ۔ بڑی رسوائی ہوگی۔ مگر انسان خواہش کے باوجود انہیں تبدیل کرنے پر قادر نہیں ہوگا ۔ مگر وہاں پر انسان کے بس میں نہیں ہوگا۔ فمالہ من قوۃ ولا ناصر۔ نہ انسان خود ایسی کسی طاقت کا مالک ہوگا۔ اور نہ ہی اس سلسلے میں اس کا کوئی مددگار ہوگا ۔ کہ اس کو چھڑا سکے ۔ یا کسی راز کو تبدیل کرسکے۔ جو کچھ انسان اس دنیا میں عمل کر رہا ہے اس کا ذرہ محفوظ ہے۔ اور انسان اس کی جزأ سے ضرور دوچار ہوگا۔
(ہدایت کے لیے انسانی ستعداد)
فرمایا والسماء ذات الرجع۔ قسم ہے بار بار رجوع کرنے والے آسمان کی جیسا آسمان سے بار بار بارش برستی ہے ۔ والارض ذات الصدع۔ اور قسم ہے بار بار پھٹنے والی زمین کی ۔ گویا آسمان اور زمین کی شہادت پیش کی جارہی ہے کہ تمہارے مشاہدے کی بات ہے ۔ کہ آسمان سے بار بار مینہ برستا ہے ۔ اور پھر زمین بار بار پھٹتی ہے ۔ تاکہ اس میں سے اناج سبزیاں اور پھل وغیرہ پیدا ہوں ۔ تو جس طرح اللہ تعالیٰ نے زمین کی آبادی کا یہ سامان پیدا کر رکھا ہے۔ اسی طرح وہ وحی الٰہی بھی اوپر سے نازل فرماتا ہے۔ آسمان سے کتاب الٰہی زمین پر نازل ہوتی ہے اور انسان اپنی اپنی استعداد کے مطابق اس سے فیض یاب ہوتے ہیں ۔ جس طرح بعض اچھی قسم کی زمین بارش سے سیراب ہو کر زیادہ پیداوار دیتی ہے۔ اسی طرح بعض انسانوں کے قلوب کی استعداد زیادہ ہوتی ہے۔ اور وہ وحی الٰہی سے زیادہ ہدایت حاصل کرلیتے ہیں ۔ برخلاف اس کے زمین کے بعض حصے بنجر ہوتے ہیں ۔ ان پر بارش کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ وہ کوئی پیداوار نہیں دے سکتے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” لا یخرج الا نکدا وہاں سوائے گھاس پھونس کے کچھ نہیں ہوتا۔ اسی طرح بعض قلوب انسانی استعداد سے خالی ہوتے ہیں ۔ اور وہ وحی الٰہی سے کچھ فائدہ نہیں اٹھاسکتے ۔
(قرآن قول فیصل ہے)
زمین وآسمان اور اس کی مذکورہ کیفیات کو گواہ بنا کر فرمایا انہ لقول فصل۔ یہ قرآن پاک فیصلہ کن بات ہے۔ وما ھو بالھذل اور یہ کوئی ہنسی مذاق نہیں ہے۔ یہ حقیقت کو بیان کر رہا ہے۔ کہ بعث بعد الموت قطعی طور پر واقع ہوگی ۔ اس میں شک وشبہ والی کوئی بات نہیں ۔ مگر یہ لوگ قرآن پاک کی تعلیمات کو غلط ثابت کرنے کے لیے انھم یکیدون کیدا۔ بڑے بڑے داؤ پیچ آزما رہے ہیں کہ کسی طرح قرآن پاک کے پروگرام کو مٹادیں مگر واکید کیدا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں بھی تدبیر کرتا ہوں ۔ قرآن پاک میرا نازل کردہ ہے۔ اس کی اشاعت کا ذمہ دار میں ہوں ۔ اس کے خلاف تمام شکوک و شبہات کو دور کرتا ہوں ۔ اور اس طرح انسانوں پر حجت تمام کرتا ہوں ۔ تاکہ کل کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ماجاءنا من بشیر و نذیر تمہارے پاس خوشخبری دینے اور ڈرانے والے آچکے ہیں ۔ حجت تمام ہوچکی ہے۔ نوع انسانی کی ہدایت کا سامان مکمل کردیا گیا ہے۔ لہذا اے نبی کریم فمھل الکفرین آپ کافروں کو ذرا ڈھیل دے دیں ۔ ان سے زیادہ تعرض نہ کریں ۔ بلکہ ٹھیک طرح سے بات سمجھا دیں ۔ امھلھم رویدا انہیں تھوڑی سی مہلت دے دیں ۔ تھوڑا وقت گذرنے دیں انہیں عنقریب پتہ چل جائے گا۔ کہ تدبیر کی کارگر ہوئی ۔ اور یہ کہ قرآن کا بتایا ہوا سارا پروگرام درست ہے اور جزائے عمل قطعی اور یقینی ہے۔