Ayahs 85:1–11(سابقہ سورة کے ساتھ ربط)
اس سے پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر انسان کی فطری ترقی کو سامنے رکھ کر کیا تھا۔ کہ اگر انسان فطرت کے مطابق ترقی کی منازل طے کرے گا۔ تو اس کا اگلا قدم قیامت اور بلند ی کی طرف ہوگا۔ اس سورة میں بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت اس کے محاسبے اور جزائے عمل کا ذکر کیا ہے۔ اور نوع انسانی میں بدامنی کے پیش نظر قیامت پر دلیل قائم کی ہے۔ بنی نوع انسان میں بدامنی ظلم اور زیادتی قدرتی تقاضا ہے۔ کہ قیامت واقع ہو۔ اور جزائے عمل کی نوبت آئے۔
حدیث شریف (ب 2 تفسیر ابن کثیر ص 491 ج 4) میں حضرت ابوہریرہ اور بعض دوسرے صحابہ سے منقو ل ہے کہ حضور ﷺ عشاء کی نماز میں سورة بروج سورة والسماء والطارق اور سورة سبح اسم ربک الا علی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
(اصحاب الا خدود کا واقعہ۔ خدود ، خد کی جمع ہے۔ جس کا معنی گڑھا ہے۔ اصحاب الاخدود سے مراد گڑھے والے لوگ ہیں۔ اور یہ ایک تاریخی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ جس سے نوع انسانی میں بدامنی کی بات سمجھ میں آتی ہے۔ اور جزائے عمل پر دلیل قائم ہوتی ہے۔
اس سورة کو چند قسموں سے شروع کیا گیا ہے۔ اور اس کے بعد اصحاب الا خدود کی طرف اشارہ ہے یہ واقعہ مسلم (ب 1 مسلم ص 415 ج 2 ترمذی ص 482 مسند احمد ص 17 ج 6) ترمذی اور مسند احمد میں مذکور ہے۔ بعض دوسری کتب میں بھی واقعہ کی تفصیلات ملتی ہیں۔ مگر وہ صحیح نہیں ہیں۔ اصل واقعہ حدیث کی کتابوں میں ہی ملتا ہے۔
یہ واقعہ حضور ﷺ کی بعثت سے تقریبا 70 قبل (ب 2 معالم النزیل ص 223 ج 4) پیش آیا۔ یمن میں دونواس نامی بادشاہ تھا۔ جو کافر مشرک تھا۔ بعض (ب 3 روح المعانی ص 88 ج 30) کہتے ہیں مجوسی تھا تاہم یہ ایران کے بادشاہ کے زیر اثر تھا۔ اور اس کی حیثیت وائسرائے کی طرح تھی۔ اپنے علاقے میں با اختیار تھا۔ اس کے ہاں ایک جادوگر تھا۔ جسے امور مملکت میں بڑا عمل دخل تھا۔ بادشاہ اس سے مشورہ طلب کرتا تھا اور اس کے مطابق کام انجام دیتا تھا اس زمانے میں اکثر سربراہان مملکت ساحر نجومی یار مل وغیرہ والے لوگوں کی خدمات حاصل کرتے تھے۔ جو اپنے فن کے مطابق حکمرانوں کو مشورہ دیتے تھے۔ جس طرح آج کل فنی مشورے ڈاکٹروں انجنیئروں یا سائنس دانوں سے لیے جاتے ہیں اس زمانے میں جادوگر قسم کے لوگ حکومت کے مشیر ہوتے تھے
شاہ یمن کا ساحر جب بوڑھا ہوگیا۔ تو اس نے بادشاہ سے کہا۔ کہ کوئی قابل اور ذہین لڑکا تلاش کرو۔ جسے میں اپنا فن سکھا دوں۔ جو میرے بعد تمہارے کام آئے۔ چناچہ اس کام کے لیے ایک ہوشیار لڑکا منتخب کرکے ساحر کے حوالے کیا گیا۔ جس نے جادوگر سے تعلیم حاصل کرنی شروع کی۔ اتفاق ایسا ہوا کہ جس راستے پر ہو کر لڑکا ساحر کے پاس جاتا تھا۔ اس راستے میں کسی راہب کا عبادت خانہ تھا۔ وہ راہب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے صحیح دین پر تھا۔ لڑکا اس کے پاس آنے جانے لگا۔ حتی کہ اس کا دین قبول کرلیا۔ راہب نے اس کی تربیت اتنی اچھی کی کہ وہ بچہ صاحب کرامت بن گیا۔ ایک دن ایسا واقعہ پیش آیا کہ کسی موذی جانور نے شارع (راستہ) روک رکھا تھا۔ وہ کوئی خوفناک شیر یا اژدھا تھا۔ جس کی موجود گی میں لوگوں کا اس راستے سے گذرنا محال تھا۔ لوگ سخت پریشان تھے۔ اس لڑکے کو علم ہوا تو اس نے بڑا پتھر ہاتھ میں لے کر دعا کی کہ اے اللہ ! اگر راہب کا دین سچا ہے تو میرے اس پتھر سے یہ موذی جانور ہلاک ہوجائے اور پھر ایسا ہی ہوا۔ اس کے پتھر سے جانور ہلاک ہوگیا اور اس کرامت کی وجہ سے بچہ بڑا مشہور ہوگیا۔ کہ یہ کوئی بڑا علم جانتا ہے۔ اسی دوران ایک اندھا شخص اس لڑکے کے پاس آیا۔ اور اس سے آنکھیں اچھا کرنے کی درخواست کی۔ لڑکے نے کہا کہ اچھا کرنے والی ذات تو وحدہ لا شریک ہے۔ اگر تو اس پر ایمان لے آئے تو میں تیرے حق میں دعا کروں گا۔ اللہ تمہیں بینائی عطا کردے۔ وہ اندھا شخص ایمان لے آیا۔ لڑکے نے دعا کی اور اللہ نے اسے بینا کردیا اس کرامت کے ظاہر ہونے سے وہ اور زیادہ مشہور ہوا۔ اور اس نے اس طریقے سے تبلیغ شروع کردی۔ وہ ہر کسی سے یہی کہتا کہ میری تو کچھ طاقت نہیں کام کرنے والا تو وحدہ لاشریک ہے۔
ہوتے ہوتے یہ خبر بادشاہ تک پہنچی۔ اس نے لڑکے کو بلا کر کہا ، کہ تم اب جادو میں ماہر ہوگئے ہو۔ اور علم حاصل کرلیا ہے۔ پہلے تو لڑکے نے حقیقت حال کو چھپانے کی کوشش کی مگر اصل بات ظاہر ہوگئی۔ لڑکے نے صاف صاف کہہ دیا۔ یہ جادو وغیرہ کچھ نہیں نفع و نقصان کا مالک تو اللہ کی ذات ہے یہ سن کر بادشاہ سخت ناراض ہوا اس راہب اور اس اندھے کو بلا لیا جو لڑکے کی دعا سے بینا ہوگیا تھا۔ پہلے تو انہیں ڈرایا دھمکایا۔ اور پھر ان دونوں کو قتل کردیا۔ لڑکے کے بارے میں حکم دیا۔ کہ اس کو پہاڑ پر لے جاؤ ۔ اگر یہ اپنا دین ترک کردے تو چھوڑ دینا ورنہ پہاڑ کی چوٹی سے نیچے گرا دینا۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ جو کارندے لڑکے کو پہاڑ پر لے گئے وہ خود گر کر ہلاک اور لڑکا صحیح سلامت واپس آگیا اس واقعہ سے بادشاہ کو سخت رنج ہوا۔ اس نے اپنے عمال کو حکم دیا۔ کہ لڑکے کو کشتی میں سوار کرکے گہرے پانی میں لے جاؤ ۔ اور اسے اپنا دین چھوڑنے کی دعوت دو اگر وہ اس پر آمادہ نہ ہو تو غرق کردو۔ اللہ تعالیٰ کی مدد وہاں بھی شامل حال ہوئی اور حکومت کے کارندے خود ڈوب گئے اور لڑکا پھر واپس آگیا۔
اب تو بادشاہ کو سخت تشویش ہوئی۔ لوگ بچے کے یہ حالا ت دیکھ کر دھڑا دھڑ ایمان لا رہے تھے۔ اور بادشاہ کی آتش انتقام مزید بھڑک رہی تھی۔ اس نے کھڈے یا خندق کھدوائے ان میں آگ جلائی اور ہزاروں کی تعداد میں ایمان والوں کو ان بڑے بڑے آگ کے گڑھوں میں پھینک کر زندہ جلا دیا۔ مسلم شریف (ب 1 مسلم ص 415) کی روایت میں آتا ہے۔ کہ ان میں ایک ایماندا عورت بھی لائی گئی۔ جس کی گود میں شیر خوار بچہ تھا آگ کے شعلے دیکھ کر عورت کو تردد پیدا ہوا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس چھوٹے بچے کو قوت گویائی عطاء کی اور وہ کہنے لگا۔ یا امی اصبری انک علی الحق اے ماں صبر کرنا تم حق پر ہو گھبرانا نہیں۔ اگرچہ آگ میں ڈال دی جاؤ ۔
اس صاحب کرامت لڑکے کو ہلاک کرنے کے لیے جب بادشاہ کی کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی۔ تو اس لڑکے نے خود بادشاہ کو تجویز پیش کی کہ اگر تو مجھے ضرور ہی ہلاک کرنا چاہتا ہے۔ تو مجھے کسی اونچی جگر پر کھڑا کرکے مجھ پر تیر چلا ؤ ۔ اور تیر چلا نے والا تبر چلا تے وقت زبان سے یہ الفاظ اداکرئے۔ باسم اللہ رب الغلام ۔ یعنی اس بچے کے رب کے نام پر تیر چلا تا ہوں چناچہ اس تجویز پر لڑکے کو بلند جگہ پر لٹکا کر تیر چلایا گیا جو اسکی کنپٹی پر لگا اور وہ ہلاک ہوگیا۔ اپنے رب کے نام پر قربان ہوگیا۔ یہ نظارہ ہزاروں آدمی دیکھ رہے تھے۔ وہ سب کے سب ایمان لے آئے بادشاہ آتش غیظ و غضب میں بھڑک اٹھا اور اس نے ہزاروں آدمیوں کو آگ کے ان بڑے کھڈوں میں ڈال کر ہلاک کردیا۔ یہ ہے تاریخی واقعہ جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں اشارہ کیا ہے۔
(ستاروں کی گواہی)
اس تاریخی واقعہ پر اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کی گواہی پیش کی ہے۔ ان میں ستارے سرفہرست ہیں۔ ارشاد ہے۔ والسماء ذات البروج قسم ہے ستاروں والے آسمان کی یہ ستارے دیکھ رہے ہیں کہ کس قدر ظلم ہورہا ہے۔ ستر ہزار انسانوں کو آگ کے گڑہوں میں ڈال دیا گیا۔ (ب 2 روح المعانی ص 89 ج 30 معالم التزیل ص 224 ج 4) یہ ظلم و زیادتی کی انتہا ہے۔ اسی لیے سورة کے دوسرے حصے میں فرمایا۔ کہ اگر تم اس قدر بدامنی اور ظلم کا ارتکاب کروگے۔ تو ” ان بطش ربک لشدید “ تیرے رب کی پکڑ بھی بڑی سخت ہے جب اس کی گرفت میں آگیا۔ تو پھر بچ نہیں سکے گا۔ فرمایا والیوم الموعود اور اس بات پر وعدہ کیا گیا دن بھی گواہ ہے۔ اور وہ قیامت کا دن ہے جس کا وعدہ کیا گیا ہے یہ بدامنی خود گواہ ہے کہ قیامت کا آنا قطعی اور یقینی ہے۔ جزائے عمل ایک دن ضرور واقع ہوگی۔ اور ظالموں کوا پنے کئے کا بھگتان کرنا پڑے گا۔
ذات البروج کا معنی بعض (ب 1 تفسیر ابن کثیر ص 491 ج 4 روح المعانی ص 84 ج 30 مظہری ص 234 ج 10) مفسرین نے برجوں والا آسمان کیا ہے۔ اور اس سے وہ بارہ برج مراد نہیں ہیں جو یونانیوں کی اصطلاح ہے۔ یا ماہرین فلکیات مراد لیتے ہیں۔ عام مفسرین (ب 2 تفسیر کبیرص 114 ج 31 روح المعانی ص 84 ج 30 تفسیر ابن کثیر 491 ج 4) بروج سے ستارے مراد لیتے ہیں۔ یعنی قسم ہے آسمان کی جو ستاروں سے بھرا پڑا ہے یہ ساری ظلم و زیادتی ان کے سامنے ہو رہی ہے۔ یہ اس کے چشم دید گواہ ہیں۔
(شاہد اور مشہود)
اس کے بعد فرمایا شاھد و مشھود اور قسم ہے حاضر ہونے والے کی اور قسم ہے اس کی جس کے پاس حاضری ہوتی ہے۔ حدیث شریف (ب 3 ترمذی ص 481 سنن الکبری بیہقی ص 170 ج 3) میں آتا ہے شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے جو ہر شہر میں آتا ہے۔ اور اہل ایمان کو کہیں دور نہیں جانا پڑتا۔ اور مشہود سے مراد عرفہ کا دن یعنی نویں ذوالحجہ ہے۔ جب دنیا کے کونے کونے سے حج کے لیے آنے والے سعادتمند اس مقام پر حاضر ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے بیشمار فرشتے بھی وہاں حاضر ہوتے ہیں۔
(اصحاب الاخدود کی ہلاکت)
مطلب یہ کہ سب چیزیں اس بات پر گواہ ہیں کہ بدامنی کا نتیجہ خطرناک ہوگا۔ اصحب الاخدود نے ظلم کیا تھا اس کا نتیجہ بھی یہی ہوا۔ قتل اصحب الا خدود یعنی کھڈوں یا کھائیوں والے مارے گئے یا قتل کئے گئے یعنی جن لوگوں نے ایمانداروں کو ناحق آگ کے گڑھوں میں پھینکا تھا وہ بھی اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا میں بھی سزا دی اور آخرت کا عذاب تو ان کے لیے ضروری ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ اصحب الاخدود مارے گئے۔ اور وہ کیا چیز تھی جس میں لوگوں کو ڈالا گیا النارذات الوقود وہ ایندھن والی آگ ہے جس کو جلایا گیا۔ اور ان ظالموں کی حالت یہ تھی۔ کہ اذ ھم علیھا قعود وہ اس بھڑ کتی ہوئی آگ کا مشاہدہ کرنے کے لیے اس پر یعنی اس کے قریب بیٹھے ہوئے تھے۔ وھم علی ما یفعلون بالمئومنین شہود اور وہ اہل ایمان کے ساتھ کی جانے والی زیادتی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ کہ کس طرح ان کو پکڑ پکڑ کر آگ میں جھونکا جا رہا ہے۔ مگر اس ظلم کی وجہ کیا تھی۔ فرمایا وما نقموا منھم اہل ایمان سے کس چیز کا بدلہ لیا جارہا تھا۔ ان کی کیا خرابی تھی انہوں نے کو نسا جرم کیا تھا انہوں نے کسی کو قتل کیا تھا یا کسی کا مال دیا تھا۔ انہوں نے نہیں بدلہ لیا ان سے الا ان یؤمنو باللہ العزیز الحمید مگر محض اس لیے کہ وہ اللہ پر ایمان لائے جو کہ عزیز اور حمید ہے۔ بس یہ جرم تھا ان کا جس کی وجہ سے وہ آگ میں ڈالے گئے۔ یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اشارۃ مکہ والوں کو بھی بات سمجھادی کہ جس طرح اصحب الا خدود اہل ایمان کو برداشت نہیں کرتے تھے۔ اسی طرح اے مکہ والو ! تم بھی اہل ایمان کو برداشت نہیں کرتے پیغمبر آخر الزمان (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو کس چیز کی سزا دے رہے ہو۔ ان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے۔ اس قسم کی کئی آیات حضور ﷺ اور صحابہ کرام کے متعلق موجود ہیں۔
الغرض اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں۔ کہ ان ظالموں نے اہل ایمان سے بدلہ محض ان کے ایمان کا لیا اور کوئی وجہ نہ تھی سوائے اس کے وہ عزیز اور حمید جیسی صفات کے مالک رب العزت پر ایمان لائے الذی لہ ملک السموت والا رض وہی خدا جس کی حکومت تمام آسمانوں اور زمین پر ہے ۔ اور یقین جانو کہ واللہ علی کل شیء شھید اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ ہے۔ ہر کام اس کے سامنے ہورہا ہے۔ مبرچیز اس کے علم میں ہے۔
(ان کے لیے جن ہم کی سزا)
فرمایا الذین فتنوا المؤمنین والمؤمنت جن لوگوں نے ایماندار مردوں اور ایمان دار عورتوں کو فتنے میں ڈالا دین سے گمراہ کرنا چاہا پوری کوشش کی کہ لوگ اس لڑکے کے دین سے پلٹ جائیں۔ اور دو بار ہ کفر کا راستہ اختیار کرلیں ثم لم یتوبوا پھر اس قبیح فعل کے ارتکاب کے بعد تو بہ بھی نہیں کی۔ اپنے اللہ سے معافی بھی نہیں مانگی۔ خدا تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے سخت جلانیوالی سزا مقرر ہے۔ جس طرح دنیا میں ایمان والوں کو زندہ جلا رہے ہیں ، قیامت کے روزہ یہ بھی جن ہم میں آگ کا ایندھن بنیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اپنی خاص رحمت بخشش کی طرف بھی اشارہ فرمادیا۔ کہ اتنے بڑے جرم کے ارتکاب کے بعد بھی اگر یہ لوگ توبہ کرلیں مجھ سے معافی مانگ لیں۔ تو میں معاف کردوں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے حلم اور بردباری کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ کہ اس کی بخشش ہر وقت گنہگاروں کی تلاش میں رہتی ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ اس کا کوئی بندہ جہنم کا شکار بنے بلکہ وہ تو لوگوں کو اس آگ بچاناچاہتا ہے۔ جو دنیا کی آگ سے ستر 70 گنا زیادہ سخت ہے۔
(ایمانداروں کے لیے اجر)
فرمایا برخلاف اس کے ان الذین امنو جو لوگ ایمان لائے۔ اللہ وحدہ لاشریک کی تو حید برخلاف اس کے ان الذین امنو جو لوگ ایمان لائے۔ اللہ وحدہ لا شریک کی تو حید کو قبول کیا۔ قیامت کو تسلیم کیا۔ انبیاء علہیم السلام کی تصدیق کی۔ وعملوالصلحت اور نیک اعمال انجام دیے۔ اللہ کے ہاں نجات کا دار دمدار حکومت تجارت یا دولت پر نہیں بلکہ ایمان نیکی اور تقوے پر ہے۔ لہذا جنہوں نے ایمان کی دولت حاصل کرلی ہے۔ اور پھر اعمال صالحہ یعنی نماز روزہ زکوۃ حج انجام دے رہے ہیں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد پورے کرتے رہے ہیں۔ لھم جنت تجری من تحتھا الا نھر ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ وہاں کی زندگی نہایت آرام دہ ہوگی۔ وہاں پر کسی تکلیف کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اور جو شخص اس جنت تک پہنچ گیا ذلک الفوزالکبیر یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس سے بڑھ کر کوئی کامیابی نہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر راضی ہو کر اسے بہشت میں داخل کردے۔ ایماندار اور اعمال صالحہ اختیار کرنے والے لوگوں کی اللہ تعالیٰ ایسی ہی عزت افزائی فرمائیں گے۔
Ayahs 85:12–22(گذشتہ سے پیوستہ)
اس سورة مبارکہ میں بھی قیامت کا ذکر اس صورت میں ہے کہ اس دنیا میں ظلم و زیادتی کرنا اس امر کا متقاضی ہے۔ کہ قیامت ضرور قائم ہو اس سلسلے میں اصحب الاخدود جیسے واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس میں ظلم کرنے والوں کا انجام بیان کیا گیا ہے۔ مفسرین کرام (ب 1 تفسیر عزیزی ص 150 پ 30 ، معالم التنزیل ص 225 ج 4) فرماتے ہیں کہ ابتداء میں جن چار قسموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ یہ تمام اشیاء اس بات کی گواہ ہیں کہ تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے جب وہ گرفت کرتا ہے۔ تو مجرمین کو ضرور سزا دیتا ہے۔ یمن کے ایک ظالم بادشاہ نے جب اہل ایمان کو آگ کے گڑھوں میں ڈالا تو وہ بھی خدا کے غضب سے نہ بچ سکا۔ اس دنیا میں بھی اس کو سزا ملی اور آخرت میں بھی سخت سزا کا مستحق ٹھہرا۔
مفسرین بیان فرماتے (ب 1 معالم التنزیل ص 224 ج 4 تفسیرابن کثیر 495 ج 4) ہیں کہ خند قوں میں ڈال کر زندہ جلانے کا کوئی ایک خاص واقعہ نہیں بلکہ مختلف ممالک میں ایسے بہت سے واقعات تاریخ میں ملتے ہیں تاہم اصحب الاخدود کا واقعہ وہی ہے جو یمن میں پیش آیا۔ ذونواس نامی ایک ظالم بادشاہ نے ہزاروں اہل ایمان کو آگ کی خند قوں میں گرا کر زندہ جلا دیا۔ اور وہ اہل ایمان بچہ اپنی جان کی قربانی خدا کے نام پر پیش کرکے عام لوگوں کے لیے ایمان کا ذریعہ بن گیا۔
(ظلم کی سزا اس دنیا میں)
شا ہ ولی اللہ محدث دہلوی فتح الرحمن کے حاشیہ (ب 2 فتح الرحمن مع جلالین ص 622 مطبع ہاشمی دہلی موضح القرآن ص تفسیر حینی ، تفسیر یزی ص 158 ج 30) میں لکھتے ہیں اور شاہ عبدالقادردہلوی (ب 3 موضح القرآن ص تفسیر حسینی تفسیر عزیزی ص 158 ج 30) نے بھی اسے نقل کیا ہے۔ کہ بادشاہ کے ظلم کے بدلے میں جب اللہ کا غضب پھیلا کہ بادشاہ اور اس کے امراء کے تمام گھر جلا کر خاکستر کردیے بیشمار لوگ مارے گئے۔ بعض (ب 4 تفسیر ابن کثیر ص 495 ج 4 ومظہری ص 237 ج 10) روایا ت سے معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ آگ سے ڈر کر بھاگ رہا تھا اور آگ اس کا تعاقب کر رہی تھی۔ آخر اس نے پانی میں چھلانگ لگا دی اور اس میں ڈوب کر مرگیا۔ یہ تفسیر ی روایات ہیں کسی صحیح حدیث میں اس کا ذکر نہیں۔ تاہم باعث عبرت بات یہ ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے ظالموں کو اس دنیا میں ہی سزادے دی۔ مگر ضروری نہیں کہ ظالم فوری طور پر گرفت میں آجائے۔ اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں ” واملی لھم “ میں ان کو مہلت دیتا ہوں مگر ” ان کیدی متین “ میری تدبیر ی مضبوط ہے۔ میں جب چاہتا ہوں ظلم کی دراز رسی کو کھنیچ لیتا ہوں۔ میری پکڑ بڑی سخت ہے۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہی پکڑلیا ، ان کے بعض نمونے بھی بتلا دیے۔
(قبر میں لڑکے کی حالت)
صاحب کرامت لڑکے کی شہادت کے بعد جو واقعہ پیش آیا اس کا کچھ حصہ ترمذی شریف (ب 5 ترمذی ص 482) میں موجود ہے۔ یہ واقعہ حضور ﷺ سے صرف ستر 70 سال قبل کا ہے (ب 6 معالم التنزیل ص 223 ج 4 مظہری ص 237 ج 10) اس لیے عرب اسے جانتے تھے۔ حضرت عمر کے زمانے میں کسی ضرورت کے تحت اس جگہ کو کھود گیا (ب 1 ترمذی ص 483) جہاں وہ بچہ دفن تھا۔ دیکھنے والے کہتے ہیں۔ کہ خدا کی قدرت سے وہ لڑکا اپنے مقام پر صحیح سلامت بیٹھا تھا ۔ اور اس کا ہاتھ اس کی کنپٹی پر تھا۔ جہاں اسے تیر لگا تھا۔ جب لوگ اس کا ہاتھ زخمی جگہ سے ہٹاتے تو اس کے زخم سے خون جاری ہوجاتا۔ اور جب اس کا ہاتھ چھوڑ دیتے۔ تو ہاتھ خود بخود اسی جگہ پر واپس چلاجاتا۔ بعض (ب 2 مظہری ص 237 ج 10 معالم التنزیل ص 223 ج 4) نے ذکر کیا ہے۔ کہ لڑکے کے ہاتھ میں انگوٹھی تھی ۔ جس پر یہ الفاظ کندہ تھے ربی اللہ یعنی میرارب اللہ ہے۔ یمن کے عامل نے اس واقعہ کی اطلاع خلیفہ وقت حضرت عمر کو بجھوائی تو آپ نے جوابا بھیجا کہ اس لڑکے کو فوراً اسی جگہ پر دفن کردو ، جہاں وہ پہلے تھا۔ چناچہ ایسے ہی کیا گیا کہتے (ب 3 تفسیر ابن کثیر ص 494 ج 4 ومظہری ص 237 ج 10) کہ اس لڑکے کا نام عبداللہ بن تامر تھا۔
(سخت پکڑ کا مفہوم)
مذکورہ واقعہ میں ظالمین کا بیان کرنے کے بعد فرمایا ان بطش ربک لشدید تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ مفسرین کرام (ب 4 تفسیر عزیزی فارسی ص 161 پ 3) بطش شدید کا مفہوم اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ بسا اوقات مجرمین اس دنیا میں سزا سے بچ جاتے ہیں۔ خواہ وہ کسی بھی ذریعے سے ہو۔ کسی کی منت سماجت کی جائے۔ سفارش پہنچ جائے۔ یا کسی اور وجہ سے مجرم بچ سکتا ہے۔ مگر احکم الحکمین کی پکڑ اس لحاظ سے سخت ہے کہ اس کے ہاں ایسا کوئی طریقہ کار آمد نہیں ہوسکتا۔ نہ وہاں منت خوشامد کام آسکتی ہے ، نہ سفارش بچا سکتی ہے۔ نہ کوئی فدیہ کام آسکتا ہے۔ بلکہ اسے ہر حالت میں مقرر سزا بھگتنی پڑے گی۔ دوسری بات یہ ہے کہ دنیوی سزا زیادہ سے زیادہ سزائے موت ہو سکتی ہے۔ ایک دفعہ موت واقع ہوگئی سزا مکمل ہوگئی۔ اس کے بعد اور کوئی سزا نہیں دی جاسکتی۔ فرعون کے جادوگروں نے یہی کہا تھا۔ کہ ہمیں قتل کی دہمکیاں دے رہے ہو۔ اس سے زیادہ اور کر بھی کیا سکتے ہو۔ ” انما تقضی ھذہ لحیوۃ الدنیا “ ہماری اس دنیوی زندگی کو ہی ختم کردوگے۔ اس زندگی کے بعد کسی کو مزید سزا دینے کی دسترس نہیں ہے۔ کیونکہ موت کے بعد کوئی کسی کو زندہ نہیں کرسکتا ، معدوم کو لوٹا نہیں سکتا لہذا موت کے بعد سزا کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ مگر اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے۔ جو مردہ کو دوبارہ زندہ کردے اور معدوم کو لوٹا دے۔ لہذا وہ سزا بھی باربار دے سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل دوزخ کی سزا کا قانون قرآن پاک میں فرمادیا۔ ” کلما نضجت جلود ھم بدلنھم جلودا غیرھا لیذوقوالعذاب “ جب مجرمین کے جسم کی کھالیں دوزخ کی آگ میں جل جائیں گی ہم ان کی جگہ دوسری کھالیں تبدیل کردیں گے۔ جسم کے جلے ہوئے عناصر دوبارہ پیدا ہوجائیں گے۔ اس طرح ان کو باربار سزاملتی رہے گی۔ اس لحاظ سے بھی خدا کی پکڑ بڑی سخت ہے۔
دنیا میں جو سزا ملتی ہے۔ اس کا اثر بعض اوقات جسموں تک محدود ہوتا ہے۔ انسانی ذہن اس سے متاثر نہیں ہوتے۔ جیسا کہ مولانا ابو الکلام آزاد غبار خاطر (ب 1 غبارخاطرص 90) میں لکھتے ہیں۔ کہ جب کبھی مجھے سزا کے طور پر تنہائی کی کوٹھڑی میں کردیا جاتا ہے۔ اس کا اثر میرے ذہن تک نہیں پہنچتا۔ بلکہ میرا دل و دماغ ہمیشہ تروتازہ رہتا ہے۔ میں دماغی طور پر خوب ورک (کام) کرتا ہوں مطالعہ کرتا ہوں کتاب لکھتا ہوں اپنے دماغ کو مصروف رکھتا ہوں۔ اس طرح جسمانی سزا کا اثر میرے زہن پر نہیں ہوتا۔ مگر آخرت کی سزا کا معاملہ مختلف ہوگا۔ وہاں پر جسم کے ساتھ دماغ کو بھی قید کردیا جائے گا۔ سزا کا اثر اس پر بھی برابر ہوگا۔ کوئی شخص چاہے کہ دماغ کو کسی دوسری طرف لگادے اللہ کی سزا میں ایساممکن نہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ تیرے رب کی گرفت بڑی سخت ہے۔
(اللہ تعالیٰ کی صفات کاملہ)
اور اس رب تعالیٰ کی صفت یہ ہے انہ ھو بیدئ ویعید یعنی وہ وہی ذات ہے جس نے تمہیں ابتداء میں پیدا کیا۔ اس بات کو تم بھی تسلیم کرتے ہو۔ لہذا وہ دوبارہ لوٹا کر مجرموں کو سزا بھی ضرور دے گا۔ اور یہ بھی کہ اس کی گرفت بھی بڑی سخت ہے ، جب وہ مجرم کو پکڑتا ہے تو سزا دیے بغیر نہیں چھوڑتا اس کی سزا سے کوئی بچ بھی نہیں سکتا۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ وھو الغفور الودود وہ غفور ہے کہ جرم کے ارتکاب کے بعد اگر اس سے معافی مانگ لی جائے۔ تو وہ معاف بھی کردیتا ہے۔ اور ودود اس لحاظ سے ہے کہ وہ اپنی مخلوق سے محبت کرتا ہے نفرت نہیں کرتا۔ اس کو اپنے بندوں کے ساتھ ماں سے زیادہ محبت ہے مگر یہ انسان ہیں جو اپنی صلاحیت کو ضائع کرکے مجرم باغی اور متکبر بن کر اس کے غضب کو دعوت دیتے ہیں۔ ورنہ وہ تو غفور بھی ہے اور ودود بھی ہے۔
اور وہ خدا ذوالعرش المجید بڑی بزرگی والا۔ عرش کا مالک ہے۔ جو تمام کائنات پر محیط ہے ۔ اور جس پر اس کی تجلی ہر وقت پڑتی رہتی ہے۔ اس سے تمام کائنات رنگین ہوتی ہے اور اس کے اثرات پھیلتے ہیں۔ تم تو دنیا کے ان چھوٹے چھوٹے بےحقیقت تختوں پر بیٹھ کر گھمنڈ کرنے لگتے ہو۔ مگر رب تعالیٰ تو بڑے تخت کا مالک ہے۔ تو کیا تم خیال کرتے ہو کہ خدا کا مقابلہ کرلیں گے یا اس کی گرفت سے بچ جائیں گے یہ ناممکن ہے۔
اور پھر اس وحدہ لاشریک کے اختیارات اس قدر وسیع ہیں کہ فعال لمایرید وہ اپنے ارادے سے جو چاہے کرے اس کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں۔ فعال مبالغے کا صیغہ ہے۔ یعنی بہت زیادہ کرنے والا جو جاہتا ہے کرتا ہے۔ تمام چیزیں اس کے ارادے میں ہوتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ جو کچھ بھی کرتا ہے کمال حکمت کے ساتھ کرتا ہے مگر کسی پر ظلم و زیادتی نہیں کرتا۔ اس کا اعلان ہے ” وما اللہ یرید ظلما للعباد “ اس کی بادشاہی میں ظلم کبھی نہیں ہوتا ” وماربک بظلا م للعبید “ بہرحال وہ عرش عظیم کا مالک ہے اس کی گرفت سے کوئی مجرم بھاگ نہیں سکتا۔
(سابقہ متکبرین کا انجام)
فرمایا ھل اتک حدیث الجنود کیا تمہارے پاس ان لشکروں کی بات نہیں آئی جو بڑے عظیم طاقتور اور سازوسامان سے لیس تھے۔ مثلا فرعون ہی کو لے لیجئے۔ جب اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کا تعاقب کیا۔ تو اس کے ساتھ بارہ لاکھ کا مسلح لشکر (ب 1) تھا۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ کہ وہ اس طرح ذلت کی موت مریں گے۔ فرعون وثمود فرعون کے علاوہ قوم ثمود میں بڑے بڑے انجنیئر اور کار یگر تھے۔ تبوک سے لے کر واد ی قری تک ان کے سترہ 1700 سو بڑے بڑے شہر آباد تھے۔ ان شہروں میں پتھروں کو تراش کر بڑی بڑی عمارتیں بنائی گئی تھیں۔ ان کے کھنڈرات آج بھی لوگ تبوک میں جا کر دیکھتے ہیں۔ ہزاروں سال کے بعد بھی ان عمارتوں کے نقش ونگار دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ اتنی عالیشان عمارتیں تھیں۔ زندگی کی تمام سہولتیں ان کو حاصل تھیں۔ مگر ان کا کیا حشر ہوا۔ جب زلزلہ آیا تو جیسا کہ سورة اعراف میں مذکور ہے۔ ” فاصبحوفی دارھم جثمین “ تو وہ اوندھے منہ گھٹنے زمین پر ٹیک کر ذلیل ہو کر ہلاک ہوگئے۔
(کفار مکہ کے لیے وعید)
فرمایا بل الذین کفروا جو لوگ کفر کرنے والے ہیں اہل مکہ میں سے ابو جہل اور اسکی پارٹی انہیں لوگوں میں شامل تھی۔ ان کے متعلق فرمایا فی تکذیب وہ تکذیب میں لگے ہوئے ہیں ، خدا کی وحدانیت جزائے عمل اور قیامت کو جھٹلا تے ہیں۔ پہلے کفار کا بھی یہی شیوہ تھا اور آج بھی یہ اسی مرض میں مبتلا ہیں۔ مگر یادرکھو واللہ من ورا ئھم محیط اللہ تعالیٰ پیچھے سے گھیر نے والا ہے ۔ ہر طرف سے احاطہ کرنے والا ہے۔ یہ بچ کر کہاں جائیں گے اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی حکمت کے ساتھ مہلت دے رکھی ہے۔ مگر انہ بکل شیء محیط ‘ اللہ ہر چیز کو گھیرنے والا ہے۔ ہر شخص اللہ کے احاطہ میں پھنسا ہوا ہے کوئی مجرم بھاگ کر نہیں جاسکتا۔
(حفاظت قرآن)
منجلہ دیگر اشیاء کے کفار قرآن پاک کو بھی جھٹلا تے ہیں۔ بدبخت کہتے ہیں کہ یہ شاعری کہانت یا سحر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایسا ہرگز نہیں بل ھو قرآن بلکہ یہ تو وہ قانون ہے جو سب سے زیادہ پڑھاجاتا ہے۔ یہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ دوسری جگہ فرمایا کہ قرآن پاک کی حفاظت کا اللہ نے ایسا انتظام فرما دیا کہ اسے لوگوں کے سینوں میں محفوظ کردیا ہے۔ اسے نہ آگ جلا سکتی ہے اور نہ پانی دھوسکتا ہے (ب 1 مسلم ص 385 ج 2) بلکہ ” فی صدورالذین اوتوالعلم “ اسے اللہ تعالیٰ نے سینوں میں محفوظ کردیا ہے اور اس کی صفت مجید ہے بڑی بزرگی والی کتاب ہے۔ اس کے تمام قوانین انسانی ترقی کا ذریعہ ہیں۔ یہ انسان کی بلندی اور پاکیزگی کا ضامن ہے۔ کیونکہ فی صحف مکرمۃ فوعۃ مطھرۃ “ اس کی ہر سورة پاکیزہ صحیفہ ہے۔ قرآن پاک ایک سو چودہ (114 صحیفوں پر مشتمل ہے۔ اور سورة ایک پاکیزہ صحیفہ ہے اس کو لانے والے بزرگ فرشتے ہیں۔ لہذا اس کے حاملین کو بھی ایسا ہی پاکیز ہ ہونا چاہیئے فرمایا اس قرآن پاک میں کسی قسم کا تغیروتبدل بھی ممکن نہیں کیونکہ فی لوح محفوظ یہ لوح محفوظ میں درج ہے۔ یہ وہیں سے آیا ہے۔ اس کی حفاظت کی گارنٹی بھی اللہ نے دی۔ ” انا نحن نزلنا الذکروانا لہ لحفظون “ ہم نے ہی اس کو اتارا اور ہمیں اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ اس میں کسی کمی بیشی کا امکان نہیں۔