Ayahs 84:1–15(آسمان پھٹ جائے گا)
ارشاد ہوتا ہے۔ اذا السماء انشقت جب آسمان پھٹ جائے گا۔ حضرت علی (کنزالعمال ص 347 تفسیر درمنثورص 329 ج 6 و تفسیر عزیزی فارسی ص 233 پ 30) کا قول ہے کہ سب سے پہلے کہکشاں والے مقام سے آسمان پھٹے گا۔ یہ وہی مقام ہے۔ جہاں بہت دور چھوٹے چھوٹے ستارے اکٹھے نظرآتے ہیں۔ باقی رہی یہ بات کہ آسمان کیوں پھٹے گا۔ وہ اس لیے کہ اس دن عرش الٰہی پر قہری تجلی نازل ہوگی۔ قرآن پاک میں موجود ہے۔ کہ آج حاملین عرش فرشتوں کی تعداد چار ہے۔ قیامت کے دن انکی تعداد آٹھ ہوجائے گی۔ اس دن بڑا ثقل واقع ہوگا۔ بڑا دباؤ پڑیگا۔ جس کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا۔ آسمان کے پھٹنے پر ابتداء میں دریچے دریچے نظر آئیں گے۔ بعد میں پورا آسمان درہم برہم ہوجائے گا۔ یہ سارا سلسلہ ختم ہو کر دوسرا سلسلہ قائم ہوگا ” واذنت لربھا و حقت وہ اپنے رب کی بات سنے گا۔ اور اس کے لیے یہی بات ثابت ہے۔ چونکہ تکوینی طور پر ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ہے۔ اس لیے آسمان بھی اللہ کے حکم سامنے مجبورہوگا ۔ اور اس کے حکم تعمیل میں پھٹ جائے گا۔
(سب سے پہلے حضور ﷺ کی قبر مبارک شق ہوگی)
فرمایا واذا الارض مدت اور جب زمین کو پھیلا دیا جائے گا۔ والقت مافیھا وتخلت اور نکال دے گی جو کچھ اس کے اندر ہے۔ اور خالی ہوجائے گی۔ اس دن اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ہرچیز اگل دے گی۔ اسی لیے فرمایا۔ واذنت لربھا وحقت یعنی وہ سنے گی اپنے رب کی بات۔ اور یہی اس کے لائق ہے۔ کہ وہ اس کی تعمیل کرے۔ زمین کہاں سے پھٹے گی۔ اس کے متعلق خود حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا (مسلم ص 245 ج 2) ۔ انا اول من ینشق عنہ القبر قیامت کے روز سب سے پہلے میری قبر شق ہوگی۔ نیز یہ بھی ارشاد فرمایا (ب 1 ترمذی ص 519) فاکسی الحلۃ من حلل الجنۃ اس وقت جنت سے لا کر مجھے لباس پہنایاجائے گا۔ بخاری شریف (ب 2 بخاری ص 966 ج 2) مسلم ص 384 ج 2 ، ترمذی ص 349) کی حدیث میں ہے کہ حشر کے میدان میں سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنایا جائے گا۔ کیونکہ کافروں نے آپ کو رسیوں سے باندھ کر برہنہ حالت میں آگ میں پھینکا تھا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو یہ اعزاز بخشے گا۔ کہ میدان حشر میں سب سے پہلے آپ کو لباس عطا ہوگا۔ تاہم حضور ﷺ نے اپنے متعلق فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے میری قبر شق ہوگی اور اسی وقت مجھے بہشت کی پوشاک پہنائی جائے گی۔ حشر کا معاملہ تو بعد میں پیش آئے گا۔
(زمین بد ل دی جائیگی)
دوسری روایات (ب 3) میں آتا ہے کہ آپ کی قبر سے برآمد ہونے کے بعد وہاں کے دوسرے لوگ نکلیں گے۔ پھر مکہ اور مدینے کے درمیان کے لوگ قبروں سے نکلیں گے۔ اور پھر باقی جگہوں کے لوگ۔ اور زمین کو اس طرح پھیلا دیا جائے گا۔ جیسے کپڑے کو کھینچ کر تان دیا جاتا ہے۔ زمین اپنے تمام دفینے اور خزائن باہر نکال دے گی۔ اس سے پوچھا جائے گا یہ کیا ہے ارشاد ہوگا۔ قرآن پاک مو جود ہے ” یو م تبدل الا رض غیر الا رض والسموت “ زمین وآسمان دونوں بدل دیے جائیں گے۔ موجودہ زمین کی جگہ دوسری سفید زمین پھیلائی جائے گی۔ اور محاسبہ کا عمل اس دوسری زمین پر پیش آئے گا جس زمین پر انسان کے گناہوں کی آلودگی نہیں ہوگی۔ اب رہی یہ بات کہ تبدیلی زمین کے وقت لوگ کہاں ہوں گے ، تو حدیث شریف (ب 4 ابن ماجہ ص 316 مسند اہ) میں آتا ہے۔ کہ اس درمیانی عرصہ میں تمام لوگ پلصر اط کے ایک کنارے پر ہوں گے۔
(رب کے سامنے حاضری ہوگی)
آسمان و زمین کے پھٹ جانے اور زمین کے خالی ہونے کے ذکر کے بعد خطاب کا رخ انسان کی طرف و زمین کے پھٹ جانے اور زمین کے خالی کے ذکر کے بعد خطاط کا رخ انسان کی طرف ہوجاتا ہے یایھا الانسان یعنی اے انسان انک کا دح بیشک تم تکلیف اٹھا نیوالے ہو الی ربک کدحا اپنے رب کی طرف تکلیف اٹھا نا فملقیہ پس اس سے ملنے والے ہو۔ یہ بھی ترقی کی بات ہوگی۔ انسان کو ہر صورت میں مشقت برداشت کرنا ہے ” لقد خلقنا الانسان فی کبد “ بیشک انسان کو ہم نے مشقت میں پیدا کیا ہے۔ کوئی انسان مشقت سے خالی سے خالی نہیں۔ اور پھر یہی مشقت برداشت کرتے کرتے اپنے رب کے حضور پیش ہوجانا ہے۔ اگر انسان نے اپنی اس ترقی کو خراب نہ کیا ، تو آگے خوشحالی نصیب ہوگی۔ اور اگر اسے خراب کردیا تو آگے برا حال ہوگا۔ بہرحال ٹھوکریں کھا کر ، مشقت برداشت کرکے ایک دن اپنے رب کے سامنے پہنچ جانا ہے۔ وہاں کی حاضری لازمی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے (ب 1 تفسیر ابن کثیر ص 488 ج 4) بحوالہ ابوداؤد طیالسی ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور نبی (علیہ السلام) سے کہا یا محمد عش ماشئت فانک میت یعنی اے نبی کریم ! آپ جب تک چاہیں زندہ رہیں مگر ایک دن موت ضرور آنی ہے۔ نیز یہ بھی کہاؤ احبب ماشئت دنیا میں آپ جس سے چاہیں محبت کریں فانک مفارقہ ایک دن جدائی ضرور ہوگی۔ واعمل ماشئت فانک ملاقیہ آپ جو چاہیں عمل کریں۔ اس کا نتیجہ ضرور سامنے آئے گا۔ مطلب یہ کہ انسان تکلیف اٹھا کر مشقت برداشت کرکے ایک دن ضرور اللہ کے ہاں پیش ہوگا۔ اس لیے انسان کو لازم ہے کہ دنیوی زندگی میں اپنے ترقی کے راستے کو خراب نہ کرے۔ اپنی فطرت کو نہ بگاڑے بلکہ اپنی اصل فطرت پر گامزن رہے۔ اور یہ وہی فطرت ہے جو انبیاء علہیم السلام کا راستہ ہے لہذا انسان کو چاہیئے کہ وہ تو حید اور نیکی کے راستہ پر چلتا رہے اور اپنی فطرت کو نہ بگاڑے۔
(آسان حساب)
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچ کر لوگ دو گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے فاما من اوتی کتبہ بیمینہ جسے اپنا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں مل گیا اور ظاہر ہے کہ دائیں ہاتھ میں اعمالنامہ اسے ملے گا جس نے توحید ، ایمان اور نیکی کا راستہ اختیار کیا اور سیدھی فطرت پر ترقی کرتا چلا گیا۔ سورة حاقہ میں بھی بیان آچکا ہے کہ جس کو دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا تو وہ خوشی سے دوسروں کو دکھائے گا کہ یہ دیکھو میرا اعمالنامہ پڑھ لو۔ یہاں فرمایا کہ جس کا اعمالنامہ اسے دائیں ہاتھ مل گیا فسوف یحساسب حسابا یسیرا عنقریب اس سے آسان حساب لیاجائے گا۔ ام المئومنین حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا من نو قش فی الحساب ھلک جس سے حساب میں مناقشہ کیا گیا وہ ہلاک ہوگیا۔ ام المئو منین نے عرض کیا کہ حضور ! حسابا یسیرا کیا ہے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ حساب کتاب کا اللہ کے حضور پیش ہوجانا ہی عرض ہے اور یہی حساب یسیر ہے۔ جس شخص سے پوچھ لیا گیا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا وہ مناقشے میں آ گیا۔ ایسا شخص بچ نہیں سکے گا۔ آسان حساب یہ ہے کہ بس حساب پیش ہوگیا کچھ تعرض نہ فرمایا ، جان بچ گئی۔
بعض اوقات حضور ﷺ نماز میں یہ دعا فرماتے (ب 2 مسلم ص 387 ج 2 ، ترمذی ص 481 ، بخاری ص 967 ج 2 مستدرک حاکم ص 57 ج 1) تھے اللھم حاسبنی حسابا یسیرا آگے سورة غاشیہ میں آرہا ہے۔ آخر سورة میں جب آتا ہے ” ثم ان علینا حسابہم ‘ یعنی ان کا حساب لینا ہمارے ذمہ ہے تو حضور ﷺ یہی دعا فرماتے تھے۔ کہ اے اللہ آسان حساب لینا۔
جب اعمالنا مہ دائیں ہاتھ میں مل گیا تو پھر و ینقلب الیٰ اھلہ مسرورا وہ اپنے گھر کی طرف خوش خوش لوٹے گا۔ اس کا گھر تو وہاں جنت ہوگا۔ وہاں سے پلٹ کر وہ جنت میں چلا جائے گا کیونکہ اس نے صحیح فطری ترقی اختیار کی۔ اسے محاسبے میں بھی آسانی پیدا ہوگئی۔ جنت کا ویزا مل گیا۔ دائیں ہاتھ میں اعمالنامہ ملنے کا یہی مطلب تھا۔
(پس پشت اعمالنامے ملنے والا گروہ )
اس کے بعد دوسرے گروہ کا ذکر فرمایا واما من اوتی کتبہ وراء ظھرہ جسے اس کا اعمالنامہ پشت کے پیچھے سے دیا گیا سامنے سے نہیں دیا گیا بلکہ ذلت و رسوائی کے لیے پیٹھ کے پیچھے سے دیا گیا فسوف ید عوا ثبورا پس وہ پکارے گا ہلاکت کو وہ کہے گا۔ کاش موت ہی آجائے جو بالکل فنا کردے اور اس محاسبے سے بچ جائے۔ دوسری جگہ فرمایا کہ ایک ہلاکت کو نہ پکارو تمہارے لیے بہت سی ہلاکتیں ہیں۔ ویصلی سعیرا ایسا شخص جہنم میں داخل ہوگا۔ سعیر کا معنی بھڑکتی ہوئی آگ۔ اور یہ اس وجہ سے کہ انہ کان فی اھلہ مسرورا وہ دنیا کی زندگی میں اپنے گھر میں خوش تھا۔ خواہشات لذات اور برائیوں میں مگن تھا۔ اسے آخرت کی کوئی فکر نہ تھی۔ اس نے اس منزل کے لیے کوئی سامان پیدا نہ کیا۔ فطری ترقی کے لیے کوئی مشقت برداشت نہ کی۔ فطرت کو بگاڑ کر فطری ترقی سے محروم رہا اور آج یہ حال ہوا کہ نامہ اعمال پشت کے پیچھے سے ملا۔
دنیا میں وہ یہی خیال کرتا تھا۔ انہ ظن ان لن یحور کہ وہ رب کے سامنے پلٹ کر نہیں جائے گا۔ وہ فاسدالعقیدہ تھا۔ اس کی سوچ درست نہیں تھی اسے اپنے رب کے ہاں حاضری کا یقین نہیں تھا۔ نہ وہ قیامت پر ایمان رکھتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا بلی کیوں نہیں۔ اسے اللہ کے سامنے ضرور پیش ہونا ہے۔ قیامت برحق ہے۔ محاسبہ کا عمل یقنی ہے۔ یہ سب کچھ ہوگا۔ ان ربہ کان بہ بصیرا دنیا میں اللہ تعالیٰ اسے دیکھنے والا ہے۔ انسان کے ہر عمل پر اس کی نگاہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر نگران ہے ایک دن ضرور اس کی پکڑ میں آئے گا۔
Ayahs 84:16–25(گذشتہ سے پیوستہ)
جیسا کہ گذشتہ درس میں عرض کیا جا چکا ہے اس سورة مبارکہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت ہی کا ذکر کیا ہے۔ مختلف سورتوں میں مختلف انداز سے قیامت کا حال بیان کیا گیا ہے۔ تو ہم اس سورة مبارکہ میں انسان کی فطری ترقی کے اعتبار سے قیامت کے مسئلہ پر روشنی ڈالی گئی ہے ابتداء میں غیر معمولی واقعات مثلاً آسمان کا پھٹ جانا زمین کا شق ہونا وغیرہ کا ذکر تھا۔ اس کے بعد دو گروہوں کا ذکر ہے۔ ایک وہ گروہ جس کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ ملے گا۔ اور دوسرا وہ جس کو پشت کے پیچھے سے دیاجائے گا۔ پھر اس دوسرے گروہ کی بدبختی کے حال کا بھی بیان ہوا اور اشار ۃ یہ بات بھی بتا دی کہ انسان ٹھو کریں کھاتا ہوا بہرحال مشقت برداشت کرتا ہوا اور تکلیفیں اٹھاتا ہوا ایک دن اپنے رب سے ملنے والا ہے۔ اس کی جزائے عمل کا سلسلہ وہیں مکمل ہوگا۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے چند چیزوں کی قسم اٹھا کر یہ بات سمجھائی کہ لترکبن طبقا عن طبق تم ضرور سوار ہوگے ایک طبقے سے دوسرے طبقے تک یا ایک سیڑھی سے دوسری سیڑھی تک یا ایک حال سے دوسرے حال تک چناچہ اس سلسلہ میں اگر انسان نے اپنی فطرت میں بگاڑ نہیں پیدا کیا ، بلکہ اسی فطرت کے مطابق ترقی کرتا گیا۔ تو وہ یقینا اعلی منزل تک پہنچ جائے گا۔ اور اگر انسان فطرت کے خلاف غلط راستے پر چل نکلا۔ تو وہ پستی میں جا گرے گا۔
(شفق کیا ہے)
ظاہر ہے کہ اس موجودہ زمین کا طبقہ تو ختم ہوجائے گا۔ تو اس کے بعد انسان کی منزل کون سی ہوگی۔ یا تو انسان اپنے اعمال صالحہ کی بدولت بلندی کی طرف پرواز کرے گا اور بہشت میں پہنچ جائے گا۔ یا پھر اپنی کو تا ہیوں کے باعث ہلاکت کے گڑھے یعنی جہنم میں جاگرے گا۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے ان چند چیزوں کی قسم اٹھا کر مسئلہ کی وضاحت فرمائی ہے۔ جن چیزوں کو انسان کی موجودہ زندگی یا برزخ کی زندگی یا قیامت کے ساتھ نسبت ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے فلا اقسم بالشفق۔ میں قسم اٹھا تا ہوں شفق کی۔ شفق کا اطلاق سرخی سفیدی دونوں چیزوں پر ہوتا ہے۔ جب سورج غروب ہوتا ہے۔ تو اس کے بعد تھوڑی دیر تک آسمان پر سرخی نمایاں رہتی ہے اس کے بعد مزید دیر تک سفیدی رہتی ہے۔ اور پھر تاریکی چھا جاتی ہے گویا شفق سے مراد وہ سرخی یا سفیدی ہے جو غروب آفتاب کے بعد کچھ عرصہ کے لیے قائم رہتی ہے۔
(غروب شفق اور نماز مغرب)
حدیث (ب 1 مسلم ص 223 ج 1 ص 82 ج 1) میں آتا ہے حضور ﷺ نے فرمایا نماز مغرب کا وقت اس وقت تک ہوتا ہے مالم یغب الشفق جب تک شفق غائب نہ ہوجائے۔ امام شافعی اور امام عظم کے دونوں شاگرد یعنی امام ابو یوسف اور امام محمد کا مسلک (ب 2 ہدایہ ص 82 ج 1) یہ ہے کہ جب سرخی غائب ہوجائے تو نماز مغرب کا وقت ختم ہوجاتا ہے۔ اور عشا کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔ اسی لیے مغرب کی نماز جلدی پڑھنے کا حکم ہے۔ چناچہ فقہائے احناف کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کا فرمان (ب 3 زجاجۃ المصابیح ص 335 ج 1 بحوالہ بزار ہے کہ ہر اذان کے بعد نفل ہوتے ہیں۔ مگر اذان مغرب کے بعد نفل پڑھنا بہتر نہیں۔ اگر چہ پڑھ لینا بھی جائز ہے۔ وجہ یہی ہے کہ وقت کم ہوتا ہے۔ گویا یہ حضرات شفق سے سرخی مراد لیتے ہیں۔ البتہ امام ابوحنیفہ (ب 1 طحادی ص 108 ج ہدایہ ص 82 ج 1) اور بہت سے صحابہ سے بھی منقول ہے کہ شفق سے مراد سفیدی ہے یہ سفیدی مغرب کے بعد تقریبا سوا گھنٹہ تک قائم رہتی ہے۔ اس سفیدی کے اختتا م کے ساتھ نماز مغرب کا وقت بھی ختم ہوجاتا ہے۔ گویا امام صاحب کے نزدیک نماز مغرب کے وقت میں کچھ تو قف ہے۔ تاہم شفق کا اطلاق سرخی اور سفیدی دونوں پر ہوتا ہے۔
(موت کے بعد تین حالتیں۔ پہلی حالت شفق)
جس طرح غروب آفتاب پر شفق پیدا ہوتی ہے اسی طرح جب انسانی زندگی کا سورج غروب ہوتا ہے تو تین قسم کی حالتیں پیش آتی ہیں۔ انسان کی موت کے فورا بعد شفق کی حالت پیش آتی ہے۔ اور شفق کا وقفہ ساتھ ملتا ہے جب تک سرخی یا سفیدی قائم رہتی ہے وہ حصہ دن کے حکم میں ہی آتا ہے اسی طرح مرنے کے بعد کچھ عرصہ تک میت کو دنیا کے حالات کے ساتھ مناسبت رہتی ہے۔ دنیا کے ساتھ اس کا تعلق۔ جلدی منقطع نہیں ہوتا۔ جس طرح کچھ عرصہ کے لیے شفق کو دن کے ساتھ مناسبت ہوتی ہے۔ اسی طرح مرنے والے کی نسبت اس دنیا کے ساتھ قائم رہتی ہے۔ اسی لیے حدیث شریف (ب 2 طحادی ص 108 ج 1 ہدایہ ص 82 ج 1) میں آتا ہے۔ کہ جب کسی نیک شخص کو دفن کیا جاتا ہے۔ اور سوال و جواب کی نوبت آتی ہے تو وہ آنکھیں ملتا ہوا اٹھتا ہے۔ اسے ایسا محسوس ہوتا ہے۔ جیسے سورج غروب ہورہا ہے۔ وہ فرشتوں کو کہتا ہے۔ دعونی اصلی ذرا مجھے مہلت دے دو ، میں نماز پڑھ لوں۔ نماز کا وقت جارہا ہے۔ گویا کچھ عرصہ کے لیے ایک سال یا چالیس دن کے عرصہ تک مرنے والے کا رخ اس جہاں کی طرف رہتا ہے۔ اس لیے فقہاء کرام (ب 3) کرام فرماتے ہیں۔ کہ ایسی حالت میں نے والے کے لیے دعا ، استغفار یا ایصال ثواب بہت مفید ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کا رخ ادھر ہوتا ہے لہذا جہاں تک ممکن ہو اسے فائدہ پہنچانا چاہیئے۔ اس کے لیے بخشش کی دعا کرنی چاہیئے غرباء و مساکین کو کچھ دیکر ایصال ثواب کرنا چاہیئے۔
(دوسری حالت رات)
شفق کا وقت گذرتا ہے تو رات کی تاریکی چھا جاتی ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے شفق کے بعد رات کی قسم کھائی والیل وما وسق اسی طرح میت پر دوسرا دور عالم برزخ کا آتا ہے پہلے شفق والے عرصہ میں دنیا کی طرف رخ زیادہ تھا اب رات ہوگئی اور اس کا تعلق دنیا سے کٹ کر برزخ کے ساتھ قائم ہوگیا ہے۔ شاہ ولی اللہ (ب 1 تفسیر عزیزی ص 140 پ 30) فرماتے ہیں کہ یہ ایسا عرصہ ہوتا ہے۔ دنیا میں کئے گئے تمام اعمال اس کے سامنے ہوتے ہیں۔ اور وہ ان کا تجزیہ کرتا ہے۔ وہاں اس کو راحت اور دکھ بھی پہنچتا ہے۔ چناچہ جب وہ اپنے اعمال کا مطالعہ مکمل کرلے گا۔ اور سمجھ لے گا کہ میرے اعمال یہی ہیں ان کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ اسی دن حشر برپا ہوجائے گا۔
(تیسر ی حالت بدر)
اور حشر کی مثال ایسی ہے جیسے فرمایا والقمر اذا اتسق اور قسم ہے چاند کی جب وہ پورا ہوجائے۔ شروع ماہ میں ہلال تھا پھر بتدریج بڑھتے چودھویں تاریخ کو مکمل ہوجاتا ہے۔ اور بدر کہلاتا ہے۔ فرمایا مرنے والے انسان کی تیسر ی حالت کی مثال یہی ہے۔ جس طرح چاند پورا ہوجاتا ہے۔ اسی طرح انسان بھی باقی منازل طے کرکے تیسرے مرحلے پر حشر میں پہنچ جاتا ہے اور اس کا محاسبہ شروع ہوجاتا ہے۔ گویا مرنے کے بعد انسان پر یکے بعد دیگرے تین حالات گذرتے ہیں۔
(زندگی کے مختلف ادوار)
فرمایا اسی طرح لترکبن طبقا عن طبق تم ایک سیڑھی سے دوسری سیڑھی پر چڑھوگے۔ یا ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہوگے۔ جس طرح اس دنیا کی زندگی کے مختلف ادوار سے گذرے اس طرح مرنے کے بعد کئی منازل طے کرنا ہوں گی۔ ان کی پیدائش اور اسکی مختلف کیفیات خود قرآن پاک نے بیان فرمائیں۔ ابتداء میں لم یکن شیئا مذکورا انسان کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا اسے رحم مادر میں قطرئہ آب کی شکل میں داخل کیا۔ پھر چالیس دن تک اس میں تغیرات وارد ہوئے۔ ان میں تبدیلی آئی۔ چالیس دن کے بعد وہ گوشت میں تبدیل ہوا مزید چالیس دن کے بعد ہڈیاں وغیرہ بن گئیں اور اس کے بعد روح الٰہی کا تعلق قائم ہوگیا۔ انسان کی غذا ماں کے خون سے مل رہی ہے۔ پھر جب شکم مادر سے باہر آتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ دو سال تک اس کی روزی ماں کی چھاتیوں میں مقرر کردیتا ہے۔ پھر بچپن کا زمانہ آتا ہے۔ کھیل کود میں مشغول ہوتا ہے۔ پھر شعور کا زمانہ آیا ، انسان تعلیم وتربیت میں جکڑا اب اسے ذمہ داری کا احساس ہوتا ہے۔ پھر عالم شباب میں پہنچتا ہے۔ شادی ہوتی ہے۔ بال بچے ہوتے ہیں اب مکان کی فکر ہے اولاد کی پرورش کی ذمہ داری ہے۔ اس کے بعد بڑھاپا طاری ہوجاتا ہے۔ طرح کے امراض لاحق ہونے لگتے ہیں۔ انسان ضیعف ہوجاتا ہے اور آخر ایک دن قبر میں پہنچ جاتا ہے۔ تو گویا انسان اس دنیوی زندگی میں اتنے مراحل طے کرتا ہے۔ اسے اتنے طبقات (حالات) پر سے گذرنا پڑتا ہے۔
(انسان کی آخری منزل )
جس طرح انسان اس زندگی میں کئی طبقات عبور کرکے موت سے ہمکنار ہوتا ہے۔ اسی طرح موت کے بعد کئی سیڑھیوں پر گذر کر اپنی آخری منزل تک پہنچے گا۔ جیسا کہ پہلے پہلے بیان ہوچکا انسان مرنے کے بعد شفق رات اور بدر کی منازل طے کرکے اپنی آخری منزل بہشت تک پہنچے گا لوگ قبر کو آخری منزل قرار دے دیتے ہیں۔ قبر پر کتبہ لگا دیا جاتا ہے۔ یہ فلاں شخص کی آخری آرام گاہ ہے۔ حالا ن کہ قبر کی زندگی تو انتظار گاہ کی زندگی ہے۔ انسان کا ویٹنگ روم ہے۔ ابھی تو اسے برزخ اور حشر کی منازل طے کرکے آخری منزل بہشت تک پہنچنا ہے۔ اگر اس کے اعمال اچھے ہیں۔ فطرت کے مطابق ترقی کی ہے۔ تو لا محالہ اپنی منزل تک پہنچنا ہے۔ اگر اس کے اعمال اچھے ہیں۔ فطرت کے مطابق ترقی کی ہے۔ تو لا محالہ اپنی آخری آرامگاہ جنت میں جائے گا۔ اور اگر اس زندگی کو لہو ولعب میں ضائع کردیا ہے ، کفر وشرک کی گندگی سے آلودہ رہا ہے تو اسے ناقابل برداشت حالات کا سامنا کرنا ہوگا۔ اس کی آخری منزل جہنم ہوگی۔ لترکبن طبقا عن طبق میں یہی بات سمجھائی گئی ہے۔
(انسان سے شکوہ)
اللہ تعالیٰ کی تمام تر نعمتوں اور ہدایت کے باوجود انسان راہ راست پر نہیں آتا تو اللہ تعالیٰ شکوہ کرتے ہیں۔ فما لھم لا یؤمنون ان لوگوں کو کیا ہے۔ کہ وہ ایمان نہیں لاتے ، حالانکہ فطرت کا تقاضا ہے۔ کہ انسان توحید اور ایمان کے ساتھ متلبس ہو کر ترقی کی راہ چلتا رہے۔ اور اپنے اصل ٹھکا نے پر پہنچ جائے۔ مگر یہ لوگ کفر و شرک کی نجاست سے کیوں آلودہ ہیں۔ یہ لوگ کیوں دہریت اور الحاد میں پڑتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔
برخلاف اس کے ان کی حالت یہ ہے۔ واذقرئ علیھم القران لا یسجدون السجدۃ جب ان کے سامنے قرآن پڑھاجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی نہیں کرتے۔ قرآن کریم تو صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ یہ تو ترقی کا پروگرام پیش کرتا ہے۔ مگر یہ لوگ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے لا یسجدون کا لفظی ترجمہ ہے۔ سجدہ نہیں کرتے۔ مگر اس مقام پر مراد عاجزی ہی ہے۔ یعنی یہ لوگ تلاوت قرآن کے وقت عاجزی نہیں کرتے۔ حالانکہ انہیں اپنے خدا کے حضور عاجزی کا اظہار کرنا چاہیئے۔
(سجدہ تلاوت واجب ہے)
قرآن پاک میں چودہ مقامات ایسے ہیں کہ جب یہ آیات تلاوت کی جائیں۔ تو پڑھنے اور سننے والوں سب پر سجدہ کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ یہ امام ابوحنیفہ کا مسلک (ب 1 جامع صغیر ص 16 میزان الکبری ص 177 ج 1 ہدایہ ص 163 ج 1) ہے۔ البتہ امام مالک اور امام شافعی اسے سنت موکدہ قرار دیتے (ب 2 میزان الکبری ص 177 ج 1 روح المعانی ص 83 ج 30) ہیں۔ امام صاحب کی دلیل زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ ایسے مقامات پر سجدہ نہ کرنے پر اللہ تعالیٰ نے سخت ملامت کی ہے لہذا اس وعید کے پیش نظر اس حکم کی ضرور تعمیل کرنی چاہیئے۔
(سجدہ اور شیطان)
حدیث شریف (ب 3 مسلم ص 61 ج 1 ابن ماجہ ص 73) میں آتا ہے۔ جب ابن آدم سجدہ کرتا ہے۔ تو شیطان الگ کھڑا ہو کر اپنے سر پر مٹی ڈالتا ہے۔ اور کہتا ہے۔ کہ آدم کے بیٹے کو حکم دیا گیا تو وہ سجدہ کرکے کامیاب ہوگیا اس کو قرب الٰہی حاصل ہوگیا۔ مگر افسوس ! کہ مجھے سجدہ کا حکم تو وہ سجدہ کرکے کا میاب ہوگیا اس کو قرب الٰہی حاصل ہوگیا۔ مگر افسوس ! کہ مجھے سجدہ کا حکم ہوا تو میں نے انکار کردیا لہذا میرے مقدر میں تباہی ہے۔ شیطان یہ بات حسرت اور حسد کی بناء پر کہتا ہے۔ مگر توبہ کرنے کے لیے پھر بھی تیار نہیں ہوتا۔ کیونکہ ابلیس کی توبہ کا تو مسئلہ ہی ختم ہوچکا ہے کہ قیامت کے دن سجدہ کا امتحان ہوگا۔ لوگوں کو کہاجائے کہ خدا تعالیٰ کے سامنے سجدہ کرو۔ پس جس نے دنیا میں عاجزی انکساری اور نیاز مندی کے ساتھ سجدہ کیا ہوگا۔ وہ وہاں بھی سجدہ کرے گا۔ اور جس کو دنیا میں سجدے کی توفیق نہیں ملی وہ زندگی بھر اکڑ کر چلتا رہا یا جس نے ریا کاری اور نفاق کا سجدہ کیا ، اس کی پشت تختے کی طرح سخت ہوجائے گی وہ قیامت کے روز سجدہ نہیں کرسکے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے دنیا میں تجھے تندرستی دی ، کمر بھی ٹھیک ٹھاک کی مگر تم نے سجدہ نہ کیا لہذا آج تو سجدہ نہیں کرسکے گا۔ آج تیری ناکامی کا دن ہے۔
سورۃ مرسلت میں رکوع کا ذکر بھی آچکا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو رکوع کرنے کا حکم بھی دیتا ہے۔ مگر بعض لوگ ایسے بھی ہیں۔ واذا قیل لھم ارکعوا لا یرکعون “ کہ جب انہیں رکوع کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ تو نہیں کرتے۔ رکوع کے ذریعے پشت کو ٹیڑھا کرنے کا مقصد یہ ہے۔ کہ انسان جھک گیا اور کہہ رہا ہے کہ اے پروردگار ! تو جو بھی ذمہ داری مجھ پر ڈالے گا۔ میں پوری کروں گا۔ مگر کتنے افسوس کا مقام ہے کہ انسان اپنا وعدہ پورا نہیں کرتا۔ نتیجہ یہ ہے ” ویل یو مئذ للمکذبین “ اس دن جھٹلا نے والوں کے لیے تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
(سجدہ تلاوت فی الفور ضروری نہیں )
حضرت ابوہریرہ کی روایت (ب 1 مسلم ص 215 ج 1) میں ہے۔ حضرت ابورافع کہتے ہیں۔ کہ حضرت ابوہریرہ نے یہ آیت پڑھی تو سجدہ کیا۔ میرے دریافت کرنے پر انہوں نے بتایا۔ کہ میں نے حضرت ابو القاسم صلی علیہ وسلم کے پیچھے یہ آیت سنی۔ آپ نے پڑھی اور سجدہ کیا۔ لہذا میں بھی مرتے دم تک اس مقام پر سجدہ کرتا رہوں گا۔ اس روایت سے بھی ثابت ہوا کہ سجدہ کی آیت پڑھنے پر پڑھنے اور سننے والوں سب پر سجدہ واجب ہوجاتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ کوئی شخص قصدًا سنے تو جھبی سجدہ واجب ہوگا۔ بلکہ اگر بغیر قصد کے بھی ایسی آیت سن لی۔ تو سجدہ ضروری ہوگیا۔ ہاں اگر کوئی تلا وت کے وقت سجدہ کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس کا وضو نہیں یا کوئی اور عذر ہے تو سجدہ تلاوت فی الفور واجب نہیں بلکہ بعد میں بھی ادا ہوسکتا ہے۔ حضرت عمر (ب 2 طحاوی ص 244 ج 1) نے ایک مرتبہ یہ آیت منبر پر پڑھی تو سجدہ کیا۔ مگر ایک دوسرے موقع پر پڑھی تو سجدہ نہ کیا مسئلہ یہ سمجھانا مقصود تھا۔ کہ سجدہ تلاوت فی الفور ضروری نہیں۔ یہ پڑھنے سننے والے کے ذمے واجب ہوگیا۔ آپ کسی وقت بھی ادا کرسکتے ہیں۔ بہرحال ہے یہ ضروری۔
(کفار کے لیے عذاب الیم)
فرمایا الذین کفروا یکذبون بلکہ کافر ہیں وہ جھٹلا تے ہیں تکذیب کرتے ہیں نہ توحید کو مانتے ہیں نہ قیامت پر ایمان ہے۔ واللہ اعلم بما یوعون اور اللہ ہی جانتا ہے ، جو کچھ وہ جمع کر رہے ہیں جو برے عقیدے ان کے دلوں میں ہیں۔ اور جو اعمال سیئہ اور حسنہ انہوں نے جمع کیے۔ اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی حلال و حرام کمائی سے خوب واقف ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں۔ جو قرآن پاک جیسی بلند پایہ نعمت کو سن کر عاجزی نہیں کرتے۔ اس کا اقرار کرنے کی بجائے انکار کرتے ہیں۔ اور برائیوں کو سمیٹ رہے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا فبشرھم بعذاب الیم انہیں عذاب الیم کی خوشخبری سنا دیجئے۔ جو کہ محض تباہی ہے۔ اور یہ نتیجہ ہے اس روش کا جو تم اختیار کئے ہوئے ہو۔
(اہل ایمان کے لیے اجر عظیم)
فرمایا برخلاف اس کے الا الذین امنو جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے دلوں میں نور توحید کو سمیٹا خدا کی وحدانیت انبیاء علہیم السلام اور قیامت اور تمام احکام شرعیہ کو تسلیم کیا۔ کفر شرک نفاق اور بدعقید گی سے اپنے آپ کو بچایا وعملوالصلحت اور نیک اعمال انجام دے۔ حضرت مجدد صاحب فرماتے (ب 1 مکتوبات ص ج) ہیں۔ ایمان کے بعد جن اعمال کا دارومدار ہے۔ منجملہ ان کے نماز روزہ حج اور زکوۃ بنیادی اعمال ہیں۔ ان اعمال پر کار بند رہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے بخشش کا وعدہ فرمایا ہے۔ باقی تمام اعمال صالحہ صدقہ خیرات وغیرہ مذکورہ بنیادی اعمال کے تحت آجاتے ہیں۔ حتی کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ سے حضور ﷺ نے فرمایا (ب 2 مسلم ص 329 ج 2) لا تحقرن من العرف شیئا نیکی کی چھوٹی سی چھوٹی چیز کو بھی حقیر نہ سمجھو۔ اس کی قدر و قیمت اعمال تلنے کے وقت ہوگی۔ ایک ایک نیکی حاصل کرنے کے لیے لوگ دوڑتے پھریں گے۔ مگر کہیں میسر نہیں آئے گی۔ انسان اپنے اہل و اولاد رشتہ داروں دوستوں سے کہے گا خدا کے لیے ایک نیکی دیدو تو میرا کام بن جائے گا۔ مگر وہ کہیں گے کہ جاؤ اپنا کام کرو ہمارا اپنا معاملہ پھنسا ہوا ہے۔ ہم تجھے کہاں سے نیکی دے دیں اسی لیے فرمایا کہ کسی نیکی کو حقیر نہ جانو۔ یہ وقت پر بڑے کام آنے والی چیز ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا (ب 3 ترمذی ص 289) اپنے بھائی کے ساتھ ہنس مکھ چہرے سے بات ہی کرلو۔ تو یہ بھی نیکی ہے۔ راستہ سے پتھر یا کانٹا ہی ہٹا دو کہ کسی کو تکلیف نہ پہنچے یہ معمولی سی نیکی بھی قیامت کے روز بڑا فائدہ پہنچائے گی۔ اسی لیے فرمایا جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے لھم اجر غیرممنون ان کے لیے نہ ختم ہونے والا اجر وثواب ہے غیرممنون کا معنی غیرمنقطع یا ہمیشہ رہنے والا ہے۔