Ayahs 83:5–6نام اور کوائف )
اس سورة کا نام سورة تطفیف یا مطففین ہے اس کی پہلی آیت میں مطففین ہے اس کی پہلی آیت میں مطففین کا لفظ ہے اور اسی سے اس کا نام ماخوذ ہے۔ تطفیف کا معنی ناپ تول میں کمی کرنا ہے۔ زمانہ نزول میں اختلاف پایاجاتا ہے۔ بعض (ب 1 روح المعانی ص 67 ج 30 و تفسیر عزیزی فارسی ص 110 پ 30) آیات ہیں۔ یہ سورة مبارکہ ایک سو انہتر 169 الفاظ اور سات سوتیس 730 حروف پر مشتمل ہے۔
(پہلی سورة ربط)
اس سورة کا پچھلی سورتوں کے ساتھ خصو صی ربط ہے۔ زمانہ نزول کے لحاظ سے گذشتہ سورتوں کی طرح یہ بھی مکی سورة ہے۔ اور موضوع کے لحاظ سے جس طرح سورتوں میں قیامت کا ذکر مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے اس میں بھی قیامت کا ذکر ہے۔ سابقہ سورة انفطار میں قیامت کا ذکر اس اعتبار سے تھا کہ جب قیامت واقع ہوگی تو اس کا اثر انسان کے باطن پر کیا ہوگا۔ اس کے بعد انسان کے اعمال کا محاسبہ ہوگا۔ دنیا میں کیا ہوا ہر چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی محفوظ ہوتا ہے۔ یہ عمل ظاہر ہو یا مخفی ، اعلیٰ ہو یا ادنی اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے محافظ قوتیں مقرر کر رکھی ہیں ، جو اس کا ریکارڈ محفوظ رکھتی ہیں اس ضمن میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” وان علیکم الحفظین “ بیشک تمہارے اوپر نگران اور حفاظت کرنے والے مقرر کئے گئے ہیں۔ یہ عزت والے فرشتے ہیں۔ جو تمہارے ہر عمل کو لکھتے ہیں اگر چہ ہر بات اللہ تعالیٰ کے علم اور لوح محفوظ میں محفوظ ہے۔ مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو مقر ر کر رکھا ہے۔ جو محاسبہ کے وقت سارا ریکارڈ پیش کردیں گے۔ اور انسان کے لیے کوئی حجت باقی نہیں رہے گی۔
(موضوع)
اس سورة میں بھی اللہ نے قیامت اور محاسبے کا ذکر فرمایا ہے۔ اور پھر انسانوں کے دو گروہوں یعنی ابرار اور فجار اور ان کے انجام کی تفصیل بیان کی ہے۔ اس مقام پر قیامت کا ذکر تاجروں کی ذہنیت کو پیش نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ اگلی آیتوں میں آرہا ہے کہ اہل جنت کا میابی کے ساتھ تختوں پر بیٹھیں گے اور نہایت آرام دہ زندگی بسر کریں گے۔ اس دنیا میں بھی تاجر لوگ دولت کمانے کے بعد عیش و آرام کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ مگر ان کی اکثریت عیاشی اور فحاشی کے کاموں میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ پھر یہ لوگ شراب نوشی اور دیگر برے کاموں میں پڑجاتے ہیں۔ کھیل تماشے اور دیگر افعال قبیحہ میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ دولت کی وجہ سے ان میں غرور پیدا ہوجاتا ہے۔ ان کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ انہوں نے بڑی دولت کمائی ہے۔ تو گویا اس سورة کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے تاجروں کی ذہنیت کے پیش نظر قیامت کا حال بیان کیا ہے۔
(ڈانڈی مارنے والوں کی مذمت)
ارشاد ہوتا ہے ویل للمطففین ویل کا معنی خرابی یا ہلا کت اور تباہی ہے ۔ بعض (مستد رک حاکم 596 ج 4 ومسنداحمد ص 75 ج 3) احادیث) سے معلوم ہوتا ہے ۔ کہ ویل جہنم کے ایک طبقے کا نام بھی ہے۔ خاص قسم کے لوگوں کو اس میں داخل کیا جائے گا۔ مگر لفظی معنی تباہی اور بربادی ہی ہے۔ جس طرح ویح کا لفظ افسوس کے لیے آتا ہے ویحک افسوس ہے تیرے لیے۔ تو ویل بددعا کے مقام پر استعمال ہوتا ہے جیسے ویل لک تباہی ہے تمہارے لیے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے ویل للمطففین خرابی اور ہلاکت ہے کم کرنے والوں کے لیے یا کم تولنے والوں کے لیے۔ تطفیف کا معنی پیمانے اور پیمائش میں کمی کرنا ہے۔ یعنی ڈنڈی مارنے والے لوگ حقوق العباد کا لحاظ رکھتے ہیں۔ بلکہ کرتے یہ ہیں الذین اذا اکتالوا علی الناس جب وہ لوگوں سے ماپ کرلیتے ہیں یستوفون تو پورا پورا لیتے ہیں۔ یہاں پر علیٰ من کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ کیونکہ یہ حروف ایک دوسرے کے معنوں میں استعمال ہوتے رہتے ہیں ۔ اور استیفاء کا معنی پورا پورا وصول کرنا ، جتنا وصول کرنے کا حق ہے۔ فرمایا ادھر تو یہ حال ہے۔ کہ جب لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں۔ مگر واذا کالوھم جب ان لوگوں کو ماپ کردیتے ہیں او وزنوھم یا تول کردیتے ہیں تو یخسرون گھٹا دیتے ہیں۔ یعنی ماپ اور تول میں دیتے وقت پورا نہیں دیتے بلکہ کم کردیتے ہیں۔ فرمایا ایسے ہی لوگوں کے لیے تباہی اور بربادی ہے۔
یہاں پر تاجروں کی ذہنیت کو سامنے رکھ کر جزائے عمل اور محاسبے کی بات کی گئی ہے یہ حقوق العباد کا معاملہ ہے۔ کسی کا نقصان کرنا ، کسی کا حق دبانا حرام ہے۔ اپنا حق پورا پورا وصول کرلینا اور جب دوسروں کی باری آئے تو ڈنڈی مار جانا یہ قطعی حرام ہے۔ اور ایسی کمائی حرام کی کمائی ہے۔ حدیث قدسی (ب 1 تفسیر عزیزی فارسی 112 پ 30) میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ اے ابن آدم ! جس طرح تم دوسروں سے اپنا حق پورا پورا لینا پسند کرتے ہو۔ اسی طرح ان کو بھی پورا پورا حق ادا کرو۔ جب کوئی عقلمند آدمی سودا طے ہوجانے کے بعد کسی کمی کو برداشت نہیں کرتا تو پھر اسے دیتے وقت بھی اسی اصول پر قائم رہنا چاہئیے۔ فرمایا۔ اے ابن آدم ! جس طرح تم اپنے لیے انصاف پسند کرتے ہو اسی طرح دوسروں کے لیے بھی انصاف ہی چاہو۔ جب تم اپنے ساتھ ظلم و زیادتی کو پسند نہیں کرتے تو دوسروں کے لیے کیسے کرتے ہو۔ تو گویا تطفیف کا معنی کمی کرنا ہے۔
(نماز میں کمی کرنا باعث نقصان ہے)
مؤطا امام مالک (ب 1 مؤطا امام مالک ص 8) میں حدیث مذکور ہے۔ کہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق نے دیکھا۔ کہ ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے۔ مگر رکوع و سجود ٹھیک طرح سے ادا نہیں کررہا ہے۔ آپ نے اسے سخت تنبیہ فرمائی۔ اور فرمایا ہرچیز میں تطفیف یعنی کمی ہوتی ہے۔ تو نے نماز میں تطفیف کیسے کردی ۔ گویا رکوع اور سجود اچھے طریقے سے ادانہ کرنے کو تطفیف سے تعبیر فرمایا۔ یعنی جس طرح تاجر ڈنڈی مار کر دوسرے کا حق کم کرتا ہے۔ اسی طرح تو نے بھی نماز میں تطفیف کردی۔ فرمایا ہرچیز کے لیے وفا یعنی تکمیل ہوتی ہے اور ہر چیز کے لیے تطفیف یعنی کمی ہوتی ہے۔ ایک دوسری حدیث (ب 2 تفسیر درمنثور ص 324 ج 6 بحوالہ ابن ابی شیبہ ، فیض القدیر ص 249 ج 4 بحوالہ بہیقی) میں آتا ہے انما الصلوۃ مکیال نماز ایک پیمانہ ہے۔ جس نے پورا پورا ادا کیا وفی لہ اس کو بدلہ بھی پورا ملے گا۔ اور جس نے کمی کی اس کو بھی ایسے ہی نقصان ہوگا۔ تو گویا نماز وفا اور تطفیف کا پیمانہ ہے۔
(ماپ تول میں کمی باعث نقصان ہے )
ترمذی شریف (ب 3 ترمذی ص 196) کی روایت میں آتا ہے۔ کہ حضور ﷺ بازار تشریف لے گئے اور تاجروں سے خطاب فرمایا تمہیں دوچیزوں کا ذمہ دار بنایا گیا ہے ۔ جن کی وجہ سے تم سے پہلے کئی امتیں تباہ ہوئیں ۔ منجلہ ان کے ایکہ اور مدین والوں کا حال تو قرآن پاک میں موجود ہے۔ حدیث (ب 4 ترمذی ص 196) سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ اس بیماری میں اور بھی کئی امتیں تباہ ہوئیں ۔ عذاب میں مبتلا ہو کر ختم ہوگئیں۔ فرمایا وہ باتیں کیا ہیں۔ المکیال والمیزان وہ ماپ اور تول ہیں ۔ جب ان امتوں نے ماپ اور تول میں کمی کی تو اللہ تعالیٰ ناراض ہوگیا ۔ اور وہ قومیں تباہ ہوئیں۔ اسی لیے پیغمبر خدا (ﷺ) نے فرمایا کہ دیکھو ! کسی کا حق مت ضائع کرو۔ کسی کا مال دھو کے سے ہضم کرنا ماپ تول میں ڈنڈی مارنا حرام ہے۔
(تجارت میں جھوٹ اور شیطان کا دخل )
تجربات سے ثابت ہے کہ تاجروں کی عام ذہنیت یہ ہے کہ خود زیادہ نفع حاصل کیا جائے اور دوسروں کو کم سے کم دیا جائے۔ حدیث شریف (ب 1 ترمذی ص 195) میں آتا ہے۔ کہ تجار ! جب تم تجارت کرتے ہو۔ تو شیطان بھی حاضر ہوتا ہے اور جھوٹ بھی۔ جو کہ روا نہیں۔ تاجر لوگ رقم میں کمی کرتے ہیں۔ فرمایا اپنی تجارت اور کمائی کے ساتھ صدقے کو ملاؤ ۔ محدثین کرام فرماتے ہیں۔ کہ اس کا معنی یہ نہیں ہے۔ کہ جھوٹ بول کر اور شیطان کے پیچھے چل کر تھوڑا سا صدقہ دے دو ، تو بات ٹھیک ہوجائیگی ایسا ہرگز نہیں ، بلکہ اپنی طرف سے پوری کوشش کرو کہ کسی کا حق ضائع نہ ہو۔ کاروبار میں جھوٹ نہ بولا جائے۔ اور کوئی خرابی نہ آئے۔ اس کے باوجود نا دانستہ طور پر اگر کوئی غلطی ہوجائے۔ تو خدا تعالیٰ کے غضب کو ٹھنڈا کرنے کے لیے صدقہ (ب 2 مستدرک حاکم ص 5 ج 2) دو ۔ دوسری طرف جو صحیح تجارت کرنے والے لوگ ہیں۔ حضور ﷺ نے ان کی بہت تعریف فرمائی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں۔ جو دوسروں کا حق ضائع نہیں کرتے چھوٹ نہیں بولتے جھوٹی قسمیں نہیں کھاتے۔ حضور ﷺ نے فرمایا (ب 3 مسلم ص 32 ج 2 نجابخاری ص 280 ج 1) جس نے تجارت میں جھوٹی قسم کھائی اس کی کمائی سے برکت اٹھ گئی۔ سودا تو بیشک چل گیا ، مگر ساری برکت اڑ گئی یہ جھوٹی قسم سودے کو چلا دیتی ہے۔ مگر برکت کو زائل کردیتی ہے۔
(سچے تاجروں کے لیے اجر)
حضور ﷺ نے فرمایا (ب 4 دارمی ص 163 ج 2 ترمذی ص 195) یعنی سچے اور امانتد ار تاجروں کا حشر نبیوں شہیدوں اور صدیقوں کے ساتھ ہوگا۔ یہ لوگ اتنے اونچے درجے پر ہوں گے۔ تجارت کا پیشہ ایک عظیم پیشہ ہے۔ خود انبیاء علہیم السلام تجارت کرتے رہے۔ تاہم اس میں خرابی یہ ہے۔ کہ عام تاجرانہ ذہنیت یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ نفع کماؤ ۔ حلال و حرام کی کوئی تمیز نہیں۔ اس وجہ سے ان کی مذمت کی گئی ہے اس بری ذہنیت کی وجہ سے یہ لوگ دنیا میں تباہ برباد ہوتے ہیں۔ طرح طرح کی خرابیوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اور مصائب کا شکار ہوتے ہیں البتہ جو لوگ اپنی کمائی میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں غربا و مساکین کا خیال رکھتے ہیں۔ وہ بڑی حد تک بچے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو کئی قسم کے حادثات سے محفوظ رکھتا ہے۔ لہذا پورا لینا اور پورا دینا حسن فعل ہے۔
(قیامت کے روز محاسبہ)
فرمایا ماپ تول میں کمی کرنے والے۔ کیا خیال کرتے ہیں کہ ان کا محاسبہ نہیں ہوگا ؟ الا یظن اولئک انھم مبعوثون کہ مرنے کے بعد وہ دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔ اور وہ منزل کب آئے گی۔ لیوم عظیم بڑے دن کو آئے گی۔ بڑا دن قیامت کا دن ہوگا۔ جس دن وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ اور ان کا محاسبہ ہوگا۔ اس روز یوم یقوم الناس لرب العلمین جب لوگ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ وہ رب جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ ابن ابی حاتم کی روایت (ب 1 تفسیر درمنثور ص 324 ج 6 ابن کثیر ص 484 ج 4 بحوالہ ابن حاتم) میں آتا ہے کہ حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ و (علیہ السلام) نے حضرت بشیر غفاری سے فرمایا اے بشیر ! اس وقت کیا کرو گے جب اللہ کے حضور کھڑا ہونا پڑے گا۔ اور دنیا کے شب وروز کے حساب سے تین سو سال رجائیں گے وہ بڑا دن اتنا لمبا ہوگا۔ اس دن بڑی تلخی ہوگی۔ لوگ پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ حضرت بشیر نے عرض کیا حضور ! المستعان باللہ یعنی اللہ تعالیٰ ہی مدد فرمائے ان مشکل گھڑیوں کو آسان فرمادے۔ ورنہ انسان کے بس کی یہ بات نہیں ہے۔ اسی لیے حضور ﷺ نے (ب 2 ترمذی ص 489 درمنثور ص 324 ج 6 ابن کثیر ص 484 ج 4) فرمایا کہ جب بستر پر لیٹو تو اللہ تعالیٰ سے قیامت کی تنگی اور بےچینی سے پناہ مانگو۔ دوسری (ب 3 ابو داؤد ص 338 ج 2) دعا میں آتا ہے اللھم انی اعوذ بک من ضیق الدنیا وضیق یوم القیمۃ اے اللہ میں دنیا کی تنگی سے اور خاص طور پر قیامت کی تنگی سے تیری ذات کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں۔
مسلم شریف (ب 4 مسلم ص 384 ج 2 بخاری ص 967 ج 2) کی روایت میں آتا ہے کہ لوگ کھڑے ہوں گے اور سورج ایک یا دو میل کی مسافت پر ہوگا۔ ایسی تپش ہوگی۔ کہ لوگوں کو پگھلا رہا ہوگا۔ پسینہ کسی کے ٹخنوں تک ہوگا۔ کسی کی کمر تک اور کسی کو پسینہ کی لگام لگائی ہوئی ہوگی پسینے میں یہاں تک پہنچے ہوں گے تو فرمایا ایسے تاجر خود زیادہ نفع حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اور دوسروں کو ان کا جائز حق بھی پورا نہیں دینا چاہتے۔ کیا ان کو یہ خیال نہیں ہے کہ ایک دن وہ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہونگے انہیں اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا ہوگا۔ اس وقت ایسے لوگوں کا کیا حشر ہوگا۔
اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے فجار کا انجام اور ان کی تفصیل اور اسی طرح ابرار کا انجام اور ان کی تفصیل بیان کی ہے۔ اور ضمناً تاجرانہ ذہنیت کے مطابق قیامت کے مسئلہ پر مزید روشنی ڈالی ہے۔
Ayahs 83:7–17(گذشتہ سے پیوستہ)
اس سورة مبارکہ میں بھی قیامت کا ہی ذکر ہے۔ اس مقام پر تاجرانہ ذہنیت کو سامنے رکھ کر قیامت کے مسئلہ پر کلام کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تاجروں کی مذمت بیان کی ہے جو ماپ تول میں کمی کرکے لوگوں کے حقوق غصب کرتے ہیں۔ اپنا فرض پورا نہیں کرتے۔ اور دوسروں کو ان کا پورا حق ادا نہیں کرتے۔ گویا اپنے لیے انصاف پسند کرتے ہیں۔ اور دوسروں کے لیے ظلم۔ خود زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ دوسروں کو نقصان پہنچا نے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ انہیں لوگوں کے متعلق فرمایا۔ کہ کیا یہ گمان کرتے ہیں کہ دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔ فرمایا یہ ان کی خام خیالی ہے انہیں ایک عظیم دن میں اپنے رب کے حضور کھڑا ہونا ہے۔ اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے نظریہ کی بھی تردید فرمائی۔ کہ کوئی یہ گمان نہ کرے کہ مر کر ضائع ہوجائیں گے۔ اور اعمال کا حساب وکتاب نہیں ہوگا۔ بلکہ جیسا کہ پہلی سورة میں بیان ہوچکا ہے۔ وان علیکم لحفظین بیشک تمہارے اوپر محافظ مقرر ہیں۔ جو کہ کراما کاتبین ہیں۔ تمہارے ہر عمل کو لکھ رہے ہیں ” یعلمون ماتفعلون “ تم جو کچھ بھی کرتے ہو ، وہ اس سے واقف ہیں کوئی بات ان سے مخفی نہیں رہتی۔ لہذا وہ دن یقینا آنے والا ہے۔ جس دن ہر شخص کو اپنے کئے کی سزا یا جزاء سے دوچار ہونا پڑے گا۔
(فجار کا انجام)
فرمایا کلا ہرگز نہیں۔ ان لوگوں کے تمام گمان غلط ہیں۔ ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ اصل بات یہ ہے۔ ان کتب الفجار الفی سجین بیشک فجار کا اعمالنامہ البتہ سجین میں ہے۔ کتاب کا معنی نوشتہ ، یا لکھی ہوئی چیز اور مراد اعمالنامہ ہے۔ فجار کے معنے گنہگار کے ہیں۔ اور یہ دو قسم ہیں۔ مومن بھی فجار کی فہرست میں آجاتے ہیں۔ جب کہ وہ قانون الٰہی کو تسلیم کرتے ہوئے اسے توڑ تے ہیں۔ یہ قانون شکن فاجر ہیں۔ اور جو لوگ سرے سے قانون الٰہی کو مانتے ہی نہیں۔ وہ تو فاجر ہیں ہی۔ تو فرمایا فجار کا اعمالنا مہ سجین میں ہے۔ اب رہا لفظ سجین۔ تو اس کا مادہ سجن ہے اور سجن عربی میں قید خانے کو کہتے ہیں۔ اس میں تنگی۔ ضیق تسفل یا پستی کا معنی پایا جاتا ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں ۔ کہ سجین ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ حدیث شریف ( ؎ 1 درمنثور ص 324 ج 6 معالم التنزیل ص 318 ج 4 مظہری ص 220 ج 10) سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے۔ کہ جب روح جسم سے جدا ہوتی ہے تو سب سے پہلے اس کی حاضری علیین یا سجین میں ہوتی ہے۔ اگر نیک روح ہے۔ تو وہ علیین میں جاتی ہے۔ اور اگر کافر منافق ، فاجر ہے۔ تو روح سجین میں حاضر کی جاتی ہے۔ اس حاضری کے بعد برزخ کے معاملات پیش آتے ہیں۔ تو فرمایا فجار کے اعمالنا مے سجین میں ہیں ۔
اس کے بعد فرمایا وما ادرک ماسجین اور آپ کو کیا معلوم کہ سجین کیا ہے۔ پھر خود ہی بتا یا کتب مرقوم یہ ایک دفتر ہے لکھا ہوا۔ امام بغوی (ب 1 معالم التنزیل ص 218 ج 4) اور امام ابن کثیر (ب 2 تفسیر ابن کثیر ص 485 ج 4) نے کتاب مرقوم کا معنی مہر لگایا ہوا نوشتہ کیا ہے۔ اگر یہ معنی لیا جائے تو یہ اعمالنامے کی صفت ہوگی۔ یعنی فجار کے تمام اعمال جو بھی انہوں نے اپنی پوری زندگی میں انجام دیے۔ انہیں ایک نوشتہ میں درج کرکے مہرلگا دی جاتی ہے۔ اب ان میں کسی کمی بیشی یا خلط ملط یا ضائع ہونے کا امکان باقی نہیں رہتا۔ وہ بالکل محفوظ ہوجاتا ہے۔ اور قیامت کے روز پیش کردیا جائیگا ۔
(مکذبین قیامت)
فجار کے نامہ اعمال کے دفتر کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ویل یومئذللمکذبین ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ یعنی محاسبے اور جزائے عمل کے منکرین کے لیے خرابی ہے اور وہ کون لوگ ہیں۔ الذین یکذبون بیوم الدین جو خاص طور پر انصاف کے دن کی تکذیب کرتے ہیں۔ عام طور پر یہ وہی سرمایہ پرست قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ جو لوگوں کے حقوق غصب کرتے ہیں۔ اور پھر اپنے آپ کو جھوٹی تسلی دینے کے لیے کہتے ہیں کہ قیامت کا اور انصاف کا کوئی دن مقرر نہیں ہے جو کچھ ہے بس اسی دنیا میں ہے۔ لہذا زیادہ سے زیادہ نفع کما لو۔ آگے کچھ نہیں ہے۔ اس کی فکر مت کرو۔ فرمایا حقیقت یہ ہے ومایکذب بہ انصاف کے دن کو نہیں جھٹلاتا الا کل معتد مگر ہر زیادتی کرنے والا اور اثیم گنہگار یعنی قیامت کے دن کو جھٹلا نیوالے وہی لوگ ہیں۔ جو دوسروں پر تعدی ظلم اور زیادتی کرتے ہیں۔ ان کے حقوق کو ضائع کرتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے گنہگار اور پاپی کہلاتے ہیں ۔
(منکرین قیامت)
ایسے لوگوں کی مزید صفات یہ بیان فرمائیں۔ اذاتتلی علیہ ایتنا جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔ قال اساطیر الاولین تو کہتے ہیں۔ کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ حالانکہ ان آیات میں ایک طرف عقیدے کی پاکیزگی کا ذکر ہوتا ہے تو دوسری طرف قیامت کا بیان ہوتا ہے۔ انسان کو اپنی فکر پاک رکھنی چاہئیے۔ ایمان کی فکر کرنی چاہئیے کہ اس کا ذہن روح اور دل پاک رہے۔ شرک اور کفر کی آلودگی سے پاک ہو۔ اور ساتھ یہ تبنیہ بھی ہوتی ہے کہ محاسبے کا ایک دن مقرر ہے۔ قیامت آنے والی ہے۔ ہر شخص کا ہر قول وفعل محفوظ ہے اور وہ اس پر پیش کیا جائے گا۔ جزائے عمل سے کوئی بھی بچ نہیں سکے گا۔ نیز یہ بھی دیکھو کہ تم سے پہلے جن لوگوں نے قیامت کا انکار کیا ، ان کا کیا حشر ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے لوگوں کا یہ حال سمجھانے کے لیے بیان کیا ہے کہ جس طرح وہ لوگ جزائے عمل سے نہ بچ سکے۔ اسی طرح تم بھی بچ نہ سکو گے۔ انہوں نے بھی ہماری آیتوں کا انکار کیا۔ وہ بھی منکرین تو حید تھے۔ کفر اور شرک میں مبتلا تھے۔ تو جس طرح ان لوگوں پر طرح طرح کے عذاب آئے۔ اسی طرح تم پر بھی آسکتے ہیں۔ یہ قرآن پاک محض قصے کہانیاں نہیں ہیں۔ بلکہ یہ تو نصیحت ہے۔ اور پہلے لوگوں کے حالات عبرت کی خاطربیان کیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ” نحن نقص علیک احسن القصص “ ہم آپ کو بہتر ین قصہ سناتے ہیں اور فرمایا ” ان فی ذالک لعبرۃ لاولی الابصار اس میں چشم بینا رکھنے والوں کے لیے عبرت کا سامان ہے۔ کہ نافرمانی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے کس طرح ذلیل و خوار کیا۔ ولعذاب الا خرۃ اکبر “ اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا عذاب ہے۔ یہ تو بعد میں آئے گا۔ ایسے لوگوں کا جو حال ہوا۔ اسی سے عبرت پکڑو۔
(ان کے دل زنگ آلود ہیں)
فرمایا یہ تعد ی کرنے والے گہنگار کس طرح روز جزا کا انکار کرتے ہیں کلا یہ قصے کہانیاں ہرگز نہیں ہیں بلکہ عبرت آموز باتیں ہیں یہ تو حقائق ہیں اور بصیرت کی باتیں ہیں۔ اصل خرابی ان منکرین میں ہے۔ اور وہ یہ کہ ان کے دل زنگ آلود ہوگئے ہیں ماکانویکسبون جو کچھ انہوں نے کمایا۔ اس وجہ سے یہ لوگ تکذیب کرتے ہیں۔ کہ دلوں پر زنگ چڑھا جانے کی وجہ سے ان کی صلاحیت ہی خراب ہوگئی ہے۔ یہ حق بات کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے اور کہتے ہیں ۔ کوئی قیامت نہیں ہے۔ کوئی محاسبہ نہیں ہے۔
حدیث شریف (ب 1 ترمذی ص 481 ابن ماجہ ص 313 مستدرک حاکم ص 5 ج 1) میں آتا ہے۔ کہ حضور ﷺ نے فرمایا۔ کہ انسان جب پہلی مرتبہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ پڑجاتا ہے۔ اگر توبہ کرے تو وہ داغ دھل جاتا ہے۔ اور دل صاف ہوجاتا ہے۔ اور اگر تو بہ نہ کرے معافی نہ مانگے اور دوسرے گناہ کا ارتکاب کرے تو سیاہ نقطہ بڑھ جاتا ہے۔ اس طریقہ سے جوں جوں کوئی شخص گناہوں کا ارتکاب کرتا رہتا ہے۔ اس کا دل سیاہ ہوتا رہتا ہے اسی کو اللہ تعالیٰ نے بل ران علی قلوبھم سے تعبیر کیا ہے۔ کہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے اسی چیز کو اللہ تعالیٰ نے ختم اللہ علی قلوبھم میں بیان کیا ہے۔ کہ ان کے دلوں پر مہریں لگ گئیں ہیں۔
دوسری حدیث شریف (ب 2 ترمذی ص 45 مسنداحمد ص 183 ج 1) سے معلوم ہوتا ہے کہ واعظ اللہ فی کل قلب مؤمن یعنی ہر مومن کے دل میں اللہ کا واعظ ہوتا ہے۔ یہ زندہ ضمیر بھی ابتداء میں انسان کو برائی سے منع کرتا ہے مگر جوں جوں وہ گناہوں میں ملوث ہوتا رہتا ہے۔ وہ ضمیر مردہ ہوجاتا ہے جس طرح نمی والی جگہ پر پڑا رہنے سے لوہے سے لوہے کو زنگ لگ جاتا ہے۔ اسی طرح بار بار گناہ کرنے کی وجہ سے انسان کا دل سیاہ ہوجاتا ہے۔ اس پر گناہوں کا زنگ چڑھ جاتا ہے۔ اور پھر اسے نیکی اور بدی میں تمیز نہیں رہتی۔
(دیدار الٰہی سے محرومی)
فرمایا کلا خبردار۔ یہ لفظ روع (منع کرنے) کے لیے ہوتا ہے۔ اس میں زجر اور تنبیہ کے معنی پائے جاتے ہیں۔ فرمایا ایسا ہرگز نہیں۔ جو یہ سمجھ رہے ہیں بلکہ انھم بیشک یہ لوگ عن ربھم یومئذ لمحجوبون اس دن اپنے رب سے حجاب میں رکھے جائیں گے اور یہ سب سے بڑے سزا ہوگی۔ امام شافعی فرماتے (ب 3 تفسیر ابن کثیر ص 485 ج 4 معالم التنزیل ص 219 ج 4 روح المعانی ص 73 ج 30) ہیں۔ کہ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان والوں کو خدا تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوگا۔ کفار اور منکرین اس محروم رہیں گے۔ بعض روایات (ب 4) میں آتا ہے کہ کافر لوگ تمنا کریں گے کاش ہم اپنے مالک کو ایک نگاہ دیکھ لیتے مگر ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوگی۔ فرمایا ثم انھم لصالو الجحیم پھر یہ لوگ جہنم میں داخل ہوں گے جو کہ تمام مصائب و تکالیف کا گھر ہے۔ ثم یقول پھر ان سے کہاجائے گا ھذا الذی کنتم بہ تکذبون یہی ہے وہ حسین کا تم انکار کرتے تھے۔ کہتے تھے کوئی دوزخ نہیں ہے یہ سب مولویوں کے ڈھکونسلے ہیں طرح کی باتیں بناتے تھے۔ قیامت اور جزائے عمل کی تکذیب کرتے تھے۔ قرآن پاک میں دوسری جگہ موجود ہے۔ فاصبروا ولا تصبروا صبر کرو یا بےصبری تمہارا ٹھکانا یہی ہے کیونکہ تم اسے جھٹلاتے تھے۔
یہاں پر فجار کا حال بیان ہوا ہے اب آئندہ آیات میں دوسرے گروہ یعنی ابرار کا ذکر ہوگا۔
Ayahs 83:18–28(گذشتہ سے پیوستہ )
جیسا کہ گذشتہ درسوں میں بیان ہوچکا ہے۔ اس سورة میں اللہ رب العزت نے تاجروں کی ذہنیت کے پیش نظر قیامت کا حال بیان فرمایا ہے ۔ ان کی طرف سے ماپ تول میں کمی دبیشی کو مذموم قراردیا ہے اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کے تمام اعمال کا ذخیرہ محفوظ ہے۔ انہیں اس بڑے دن کا انتظار کرنا چاہیے۔ جس دن سب لوگ اللہ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اور انہیں اپنا محاسبہ پیش کرنا ہوگا۔ فرمایا فجار کے اعمالنامے سجین میں درج ہیں۔ وہ جہنم میں داخل کئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے دیدار سے محروم ہوں گے جو کہ سب سے بڑی سزا ہے۔
(جزائے عمل یقینی ہے)
قرآن پاک کا یہ عام اسلوب ہے۔ کہ جہاں ترہیب کا بیان ہے۔ اس کے ساتھ ترغیب بھی دی گئی ہے۔ فجار کے مقابلے میں ابرار کا ذکر ہے۔ اور مفسدین یا فاسقین کے ساتھ ساتھ مؤمنین اور متقین کا ذکر بھی ہے۔ گویا جزائے عمل کو ہر مقام پر پیش نظر رکھا گیا ہے۔ یعنی دنیا میں جس کسی کا جیسا عمل ہوگا۔ ویسی ہی اس کو جزاملے گی۔ سورة دہر میں بھی ہر دو گروہوں یعنی ابرار اور فجار کا انجام بیان کیا گیا تھا۔ اور اس مقام پر بھی ان دو گروہوں کا تذکرہ ہے۔ پھر ان کے آخری انجام کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ جزائے عمل ہر حالت میں پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ قیامت یقیناً آئے گی۔ جس طرح انسان کو اپنی پیدائش میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں ہے۔ اسی طرح جزائے عمل بھی قطعی اور یقینی ہے۔
(ابرار کے نامہ ہائے اعمال علیین میں ہیں)
ہرگز نہیں۔ یعنی یہ لوگ قیامت اور جزائے عمل کی تکذیب کر رہے ہیں۔ ایسی بات نہیں ہے۔ یہ محض ان کی خام خیالی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ان کتب الا ابرار لفی علیین بیشک نیکو کاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہے۔ وما ادرک ماعلیون اور آپ کو کیا معلوم کہ علیین کیا ہے کتب مرقوم ایک دفتر ہے مہر کیا ہوا یشھدہ المقربون جہاں پر مقرب فرشتے حاضری دیتے ہیں۔ کتاب کا لفظی معنی لکھی ہوئی چیز یا نوشتہ ہے۔ مگر یہاں اعمال مراد ہے۔ قرآن پاک کے بعض دوسرے مقامات پر بھی اعمالنامے کو کتاب کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے ” کتبا یلقہ منشورا “ یعنی قیامت کے دن انسان اپنی کتاب یا اعمالنامے کو اپنے سامنے کھلا ہوا پائے گا۔ ارشاد ہوگا۔ ” اقداکتبک اپنا اعمالنامہ خود پڑھ لو۔ آج تمہارا نفس ؟ تمہارے محاسبے کے لیے کافی ہے۔ کسی بیرونی شہادت کی ضرورت نہیں۔
لفظ علیین کا مادہ علو ہے اور اس کا معنی بلند ی ہے۔ علی بلند کو کہتے ہیں۔ جیسے فی جنۃ عالیۃ یعنی بلند بہشت گویا اس میں بلندی کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اسی قرآن و سنت سے بالتصریح ثابت ہے۔ کہ جنت آسمانوں سے اوپر ہے۔ سورة نجم میں واقعہ معراج میں آتا ہے عند سدرۃ المنتھی آپ سدرۃ المنتہی کے پاس پہنچ گئے عندھا جنۃ الماوی اور جنت وہاں ہے ۔ گویا ساتوں آسمانوں کو عبور کرکے جنت کا مقام آتا ہے۔
الغرض ! فرمایا نیکوکاروں کے اعمالنامے علیین میں ہیں۔ بعض مفسرین (ب 1 روح المعانی ص 74 ج 30) فرماتے ہیں۔ کہ علیین ایک بہت بڑا دفتر ہے۔ جہاں تمام ابرار کے اعمال نامے رجسڑوں میں درج ہوتے ہیں۔ حدیث (ب 2 مسند احمد ص 287 ج 4) پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ جب نیک آدمی کی روح جسم سے الگ ہوتی ہے تو اللہ کے حکم سے فرشتے اس روح کو علیین کے مقام پر لے جاتے ہیں ۔
(فرشتے نیک روح کے ہمرکاب ہوتے ہیں )
بعض مرفوع روایات (ب 3 مسنداحمد ص 287 ج 4 درمنثور ص 326 ھ 6 روح المعانی ص 74 ج 30) سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کسی نیک شخص کی روح کو فرشتے لے کرچلتے ہیں۔ تو اس کے ساتھ فرشتوں کی ایک اچھی منتخب جماعت ہولیتی ہے۔ ہر آسمان سے گذرتے وقت اس آسمان کے مقرب فرشتے بھی شامل ہوجاتے اور اس طرح یہ پوری جماعت علیین میں پہنچتی ہے جہاں متوفی کا اعمال نامہ درج ہوتا ہے۔ یشھدہ المقربون اس مقام پر مقرب حاضر ہوتے ہیں حضرت شاہ ولی اللہ اس کی تفصیل اس طرح بیان کرتے (ب 4 حجۃ اللہ ص 15 16 ج 1) ہیں کہ علیین میں موجود ملاء اعلیٰ کی جماعت تین قسم کے لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ پہلی قسم درجہ اول کے ملائکہ ہیں۔ جو سب سے افضل ہیں جبرائیل میکائیل (علہیما السلام) وغیرہ اس کے بعد درجہ دوم کے ملائکہ ہوتے ہیں جو ان سے کم تر ہوتے ہیں۔ اور تیسری قسم افاضل الادمیین کی ہے۔ یعنی انسانوں میں سے جو بڑی فضیلت والے ہوتے ہیں۔ ان کی روحیں بھی وہاں موجود ہوتی ہیں۔ ان تینوں کی مشترکہ روشنی کی مثال ایسی ہے جیسے کسی مقام پر بہت سی بتیاں اکٹھی روشن کردی گئی ہوں۔ یا جیسے کسی کمرے میں دس بیس بلب اکھٹے روشن کردیے جائیں تو ان کی روشنی خوب پھیل جاتی ہے۔ یہ روشنی جس مقام تک پہنچتی ہے اس کو علیین کہتے تو ان کی روشنی خوب پھیل جاتی ہے۔ یہ روشنی جس مقام تک پہنچتی ہے اس کو علیین کہتے ہیں۔ شاہ صاحب فرماتے (ب 5 ہوامع شرح حزب البحرص 5) ہیں کہ ملاء اعلیٰ کی تینوں کے اکٹھا ہونے سے جو روحانیت پیدا ہوتی ہے۔ اس حصے کو علیین کہا جاتا ہے یہیں پر حاضری ہوتی ہے۔
بعض (ب 1) فرماتے ہیں۔ کہ مقربین کی ارواح مستقر تو علیین ہی ہے۔ مگر ان کا تعلق برزخ کے ساتھ بھی قائم رہتا ہے۔ اور یہ عین ممکن ہے۔ کہ ایک چیز کا تعلق بیک وقت دو مقامات سے ہو۔ بالکل اسی طرح جس طرح جبرائیل (علیہ السلام) کا اصل مستقر تو عرش کے قریب ہے۔ کہ وہ چار حاملین عرش فرشتوں میں سے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اللہ کے حکم سے وحی لے کر زمین پر بھی آتے ہی ہیں اس طرح ان کا تعلق مختلف مقامات سے ہوسکتا ہے۔
(روح کا تعلق علیین اور برزخ کے ساتھ)
بعض (ب 2 در منثورص 327 ج 6) احادیث میں آتا ہے۔ کہ جب کسی مقرب کی حاضری علیین میں ہوئی ہے۔ تو وہاں کے مقرب ملائکہ کہتے ہیں کہ ہم اس کا نامہ اعمال دیکھنا چاہتے ہیں۔ چناچہ وہ اعمالنامہ دیکھتے ہیں۔ اس میں نیکیوں کا اندراج ہوتا ہے۔ اس کے بعد کوئی سوال و جواب ہوتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ارشاد ہوتا ہے۔ صدق عبدی یعنی میرے بندے نے سچ کہا۔ لہذا اسے واپس لوٹا دو ۔ چناچہ حاضری کے بعد اسے واپس لوٹا دیا جاتا ہے۔ اس طرح گویا اس کا تعلق برزخ سے قائم ہوجاتا ہے۔ اگرچہ مستقر کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے۔ مگر یہ بات یقینی ہے کہ اس کا تعلق برزخ اور قبر کے ساتھ ضرور ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے انسان جسم کے ساتھ راحت یا سزا محسوس کرتا ہے۔ یا کم از کم اتنا تعلق ضرور ہوتا ہے۔ جس کی بنا پر حدیث شریف میں مذکور باتیں پوری ہوسکیں۔ اسی اہلسنت والجاعۃ کا یہ متفق علہیا مسئلہ ہے۔ کہ عذاب قبر برحق ہے۔ اس کا اشارہ قرآن پاک کی آیات اور احادیث (3 بخاری ص 183 ج 1 مسلم ص 386 ج 2) صحیحہ سے بخوبی ملتا ہے۔ عذاب قبر کے متعلق بھی علماء حق کا مسلک یہ ہے کہ یہ روح اور جسم دونوں کو ہوتا ہے۔ جب کوئی سزا ملتی ہے تو جسم اور روح دونوں محسوس کرتے ہیں۔ خواہ جسم سالم موجود ہو یا اس کا کچھ حصہ باقی رہ گیا ہو۔ اور یہ سلسلہ جسم کے بالکل گل سڑجانے کے بعد بھی قائم رہتا ہے۔
صحیح حدیث (ب 4 میں حضور السلام کا ارشاد گرامی ہے۔ کہ مرنے کے بعد اکثر انسانوں کے جسم گل جاتے ہیں۔ اور یہ مشاہدہ میں بھی آتا ہے۔ کہ مردے کو دفن کرنے کے کچھ عرصہ بعد اس کا جسم گل سڑجاتا ہے۔ مگر دمچی کی ہڈی کا ایک حصہ محفوظ رہتا ہے۔ وہ حصہ کس شکل میں محفوظ ہوتا ہے۔ یہ بات ہماری سمجھ سے بالا ہے۔ نہ ہی اس جہاں کی باتوں کو عقل سے قیاس کیا جاسکتا ہے۔ ہم اس جہاں میں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ دل و دماغ اور عقل سے سوچتے سمجھتے ہیں۔ مگر اس جہاں میں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ دل و دماغ اور عقل سے سوچتے سمجھتے ہیں۔ مگر اس جہاں کی چیزوں کو اس جہاں پر قیاس نہیں کرسکتے۔ تاہم بات یقینی ہے کہ عالم برزخ میں روح اور جسم دونوں کو راحت ہوتی ہے۔ یا دونوں کو سزا ہوئی ہے۔
بہرحال علیین میں اعمالنا مے محفوظ ہوتے ہیں۔ مرنے کے بعد وہاں حاضر ی ہوتی ہے وہاں ایک رجسڑ ہے۔ وہ ایک دفتر ہے۔ جس میں ہر شخص کی نیکیاں درج ہوتی ہیں۔ مقربین ملاء اعلیٰ کی جماعت وہاں حاضر ہوتی ہے۔ اللہ کے حکم سے دوسرے مقربین وہاں جاتے ہیں دوسرے ملائکہ نیک آدمی کی روح کا استقبال کرتے ہیں۔ وہاں پر حاضری ہوتی ہے۔ اور پھر ان کو اللہ کے حکم سے لوٹا دیا جاتا ہے۔ یہ گویا اللہ تعالیٰ نے ابرار کا حال بیان فرمایا۔
(جنت میں داخلہ ایمان پر موقوف ہے)
اس کے بعد ان انعامات کا ذکر ہے جو ابرار کو ملنے والے ہیں۔ اس کے متعلق فرمایا ان الابرار لفی نعیم سن لو ! بیشک ابرار لوگ نعمتوں میں ہوں گے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ انعامات میں ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ اس مقام پر پہنچنا ہی کامیابی کی نشانی ہے جیسا فرمایا ” فمن زحزح عن النار و ادخل الجنۃ فقد فاز “ یعنی جو شخص بہشت میں داخل کردیا گیا۔ وہ کامیاب ہوگیا ۔ وہ فائزالمرام ہوگیا۔ وہاں پر اپنے اعمال کے مطابق بیشمار نعمتیں میسر ہوں گی۔ جنت کا دخول ایمان پر منحصر ہے۔ حدیث (ب 1 ابوداؤدص 88 ج 2 مسند احمد ص 233 ج 5 مسنداحمد ص 242 ج 5) شریف میں آتا ہے۔ من کان آخر کلا مہ لا الہ الا اللہ دنیا میں جس شخص کی آخری بات لا الہ الا اللہ ہوگی وہ جنت میں داخل ہوجائے۔ یہ بھی فرمایا (ب 2 مسند احمد 242 ج 5) مفتاح الجنۃ لا الہ الا للہ یعنی جنت کے دروازے کی چابی لا الہ الا اللہ ہے۔ گویا اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ جنت کا دروازہ ایمان اور توحید کامل سے کھلے گا۔ جو شخص شرک کفر نفاق ارتداد شک اور الحاد میں ڈوبا ہوا ہوگا۔ اس کے لیے جنت کا درواز ہ کیسے کھلے گا۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد موجود ہے۔ ان الذین کذبوا با یتنا واستکبروا عنھا لاتفتح لھم ابواب السماء ولا ید خلون الجنۃ حتی یلج الجمل فی سم الخیاط “ یعنی اونٹ سوئی کے ناکے میں گذر سکتا ہے مگر کافر کے لیے جنت کا دروازہ نہیں کھل سکتا۔ جنت کا داخلہ اس قدر محال ہے۔ ا س کو تعلیق بالمحال کہتے ہیں۔ بلاشبہ جنت کا داخلہ ایمان پر موقوف ہے۔
(ابرار کے لیے انعامات)
جنت میں داخلے کے بعد وہاں کے درجات اعمال کی بدولت نصیب ہوں گے۔ حضور ﷺ (ب 1 ترمذی ص 362 مستدرک حاکم ص 80 ج 1 مسنداحمد ص 241 ج 5) نے فرمایا جنت کے سو درجے ہیں۔ ہر درجہ دوسرے سے اتنا جتنا زمین سے آسمان۔ اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کے لیے اعلیٰ درجے رکھے ہیں ” ولکل درجت مما عملوا “۔ اہل ایمان کے لیے ویسے ہی درجات ہوں گے جیسے ان کے اعمال ہوں گے اسی لیے فرمایا ان الابرار نعیم یعنی ابرار لوگ نعمتوں میں ہوں گے۔ اور علی الارائک ینظرون تختوں پر بیٹھ کر نظارے دیکھیں گے۔ اریکہ تخت کو کہتے ہیں۔ صوفے سیٹ لگے ہوئے ہوں گے اور ابرار لوگ ان پر آرام سے بیٹھے اللہ کی نعمتوں کا نظارہ کرتے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس منظر کو اس طرح بیان فرمایا۔
آج کی دنیا میں ہم دیکھتے ہیں۔ کہ تاجر اور سرمایہ دار ماپ تول میں کمی بیشی کرکے یا دیگر حرام طریقوں سے دولت کماتے ہیں اور پھر فرصت کے اوقات میں ہوٹلوں اور کلبوں میں جاتے ہیں۔ وہاں پر آرام سے بیٹھے ہیں۔ شراب نوشی کرتے ہیں۔ ڈانس سے دل بہلا تے ہیں۔ گپیں ہانکتے ہیں۔ دوستوں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ حرام کی کمائی حرام کے راستے اڑاتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ ہم عیش و عشرت کرکے کا میاب ہوگئے ہیں۔ ہم اس دنیا کے لوازمات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ حالا ن کہ یہ سب چیزیں وبال جان بن جائیں گی۔ کامیابی کا نظارہ کرنا ہے تو اہل بہشت کو دیکھو۔ تختوں پر براجماں ہوں گے۔ تعرف فی وجوھہم نضرۃ النعیم۔ ان کے چہروں سے نعمتوں کی تروتازگی عیاں ہوگی۔ نورانیت اور چمک دمک ہوگی۔ انہیں پینے کے لیے یسقون من رحیق مختوم شراب پیش کی جائے گی جس پر مہر لگی ہوئی ہوگی اور مہر کس چیز کی ہوگی ختمہ مسک کستوری کی ہوگی۔ اس مہر سے کستوری کی خوشبو آئے گی۔ دوسری جگہ فرمایا پانی دودھ شہد اور شراب طہور کی نہریں جاری ہوں گی۔ یہ نہریں تو عام مؤمنین کے لیے ہوں گی۔ انہیں حسب منشاء استعمال کریں گے۔ مگر ابرار کے لیے جو سربمہر شراب ہوگی۔ اس کا سرور کچھ اور ہی ہوگا۔
(نیکی کی طرف رغبت)
اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے۔ وفی ذلک اس بات میں فلیتنافس المتنا فسون چاہئیے کہ رغبت کرنے والے رغبت کریں۔ ہر انسان کو دنیا میں کوشش کرنی چاہئیے۔ کہ فکر اور عقیدہ پاک ہو۔ اعمال اور اخلاق پاکیزہ ہوں۔ تا کہ آئندہ ابدی زندگی میں یہ نعمتیں میسر آسکیں۔ اور شراب طہور نصیب ہو۔ حقیقی کا میابی یہی ہے۔ اسے حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے حدیث شریف (ب 1 ترمذی ص 353) میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ان سلعۃ اللہ غالیۃ سنو ! اللہ کا سودا بڑا مہنگا ہے۔ اور خدا کا سودا بہشت ہے۔ ان اللہ اشتری من المومنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ایمان والوں کے مال اور جانیں خرید لی ہیں۔ اور اس کے بدلے اللہ تعالیٰ انہیں جنت عطاکرے گا جب جان اور مال اللہ کے راستے پر لگائے گا جہاد کرے گا۔ اللہ کے احکام کی تعمیل کرے گا۔ حقوق اداکرے گا۔ فرائض انجام دے گا۔ انصاف کا دامن پکڑے گا۔ کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ ہر قسم کی پاکیزگی اختیار کرے گا۔ تو اس کو کامیابی نصیب ہوگی۔ یہ ہے خدا کا سود اجو کہ بڑا مہنگا ہے۔ کہ اس میں جان اور مال کھپانا پڑتا ہے۔
یہی بات اللہ تعالیٰ نے توراۃ انجیل اور قرآن میں فرمائی ہے۔ کہ خدا کا سودا خریدنا ہے تو جان اس میں لگاؤ ۔ مال خرچ کرو۔ اگر وہ مال شیطان کے راستے پر لگایا ہے۔ تو آگے کامیابی کی تو تع نہ رکھنا۔ یہ فیصلہ ہوچکا ہے۔ اس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ رغبت ایسی چیز میں رکھنی چاہیئے۔ جو دائمی ابدی ہے اور جس کی کوئی مثال اور نمونہ آج موجود نہیں۔ دنیا کی نعمتیں بطور مثال ہی بیان کی گئی ہیں۔ ورنہ یہ پھل یہ نعمتیں بہشت کی نعمتوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ یہ تو صرف نام کی مشابہت ہے تاکہ انسان ان کی کیفیت کو کسی حد تک سمجھ سکے۔ ان کی اصل حقیقت تو وہاں پہنچ کر ہی سمجھ میں آئے گی۔
اس دنیا میں یہ طریقہ ہے ۔ کہ جب کوئی مشروب استعمال کرتے ہیں۔ تو خوشبو کے لیے اس میں کیوڑا وغیرہ ملا دیا جاتا ہے۔ جس سے اس کا سرور دو بالا ہوجاتا ہے۔ اسی طرح بہشت میں جو مشروب حاصل ہوگا۔ ومزاجہ من تسنیم اس میں تسنیم کی ملاوٹ ہوگی۔ اور تسنیم کیا ہے۔ عینا یشرب بھا المقربون ایک چشمہ ہے جس سے مقرب لوگ سیراب ہوں گے۔ تاہم عام ابرار کو بھی اس میں سے کچھ حصہ ملا کردیا جائے گا۔
یہ خاص قسم کی شراب ہوگی۔ دنیا کی شراب پر اس کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ اس بات کو قرآن میں بار بار واضح کیا گیا ہے۔ اس دنیا کی شراب نوشی سے بسا اوقات سرگرانی اور مخبوط الحوسی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ مگر بہشت کی شراب میں لطف و سرور ہوگا۔ اس میں بد مزاجی کی کوئی بات نہیں ہوگی نہ اس کے استعمال سے کسی قسم کی تکلیف کا کوئی خطرہ ہوگا یہ بھی علیٰ قدر المراتب ہوگی۔ مقربین کے لیے خصوصی شراب ہوگی ، مگر اس میں سے کچھ حصہ ابرار کو بھی ملا کردیاجائے گا۔ وہ بھی اس سے محروم نہیں رہیں گے۔ اگر چہ یہ ان کی مکمل خوراک نہیں ہوگی۔ دنیا میں جیسی جیسی تکلیفیں اور دکھ اٹھائے ہیں۔ اللہ کی محبت میں جو مقام پیدا کیا ہے۔ اس کے اثرات ظاہر ہوں گے۔ اور اسی کے مطابق جنت میں مقام حاصل ہوگا۔ تو یہاں گویا ابرار کے لیے تیار کی گئی نعمتوں کا تھوڑا سا حال بیان کردیا گیا ہے۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ابرار کا مختصر سا حال بیان فرمایا ہے۔ اور قیامت کے برحق ہونے کے متعلق دو طریقوں سے مسئلہ سمجھایا ہے۔ آخری آیات میں پھر منکرین تو حید وایمان اور منکرین قیامت کا رد ہے۔ ان آیات میں اللہ نے بعض دوسری برائیوں اور ان کے انجام کا حال بیان فرمایا ہے۔
Ayahs 83:29–36(گذشتہ سے پیوستہ اس سورة مبارکہ میں قیامت ہی کا ذکر ہے اس میں تاجروں کی ذہنیت کے پیش نظر قیامت کا مسئلہ سمجھایا گیا ہے۔ ابرار اور۔ فجار کے انجام کا بھی ذکر ہے۔ کہ آئندہ زندگی میں ان کے ساتھ کیا معاملات پیش آنے والے ہیں۔ اب ان آخری آیات میں کفار اور مشرکین کے اس برے سلوک کا ذکر ہے جو وہ اہل ایمان سے روا رکھتے تھے۔
(ایمانداروں کے ساتھ استہزاء)
ارشاد دباری تعالیٰ ہے ان الذین اجرمو جو لوگ مجرم یعنی گہنگار ہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ کانو من الذین آمنو یضحکون یہ ایمانداروں پر ہنستے ہیں۔ کفار و مشرکین عام طور پر یہی طریقہ اختیار کرتے ہیں پہلے ادوار میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا حال اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ کہ اس قوم کے بڑے آسودہ حال لوگ کمزور ایمانداروں سے تمسخر اور ٹھٹھا کرتے تھے یہ بات قرآن پاک میں موجود ہے۔ اہل مکہ بھی مسلمانوں کے ساتھ یہی سلوک کرتے تھے۔ وہی اہل مکہ جو کفروشرک میں ڈوبے ہوئے تھے۔ لوگوں کے حقوق غصب کرتے تھے۔ جیسا کہ شروع سورة میں موجود ہے۔ کہ جب لیتے تھے تو پورا ماپ لیتے تھے۔ مگر دیتے وقت ان کے حقوق میں کمی کرتے ہیں۔ یہی لوگ مجرم ہیں۔ اور ان میں خاص طور پر وہ ہیں جن کا عقیدہ باطل ہے اور جن کی فکر فاسد ہے۔
(مجرمین کون ہیں)
اللہ تعالیٰ نے مجرمین کا حال اور ان کا انجام مختلف سورتوں میں بیان فرمایا ہے۔ جہاں متقین اور صالحین کا حال بیان کیا ہے۔ وہاں مجرمین کو بھی بےنقاب کیا ہے۔ اور جرائم میں شرک سے بڑھ کر کونسا جرم ہوسکتا ہے۔ خود اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” ان الشرک لظلم عظیم “ یہ بہت بڑا ظلم ہے۔ دوسری جگہ فرمایا ” الکفرون ھم الظلمون “ دنیا میں سب سے بڑا ظالم کافر ہے جو خدا کے دین اور اس کی شریعت کا منکر ہے۔ یہ لوگ اس دین کا انکار کرتے ہیں جو دین اللہ تعالیٰ نے انسان کی بہتری کے لیے نازل فرمایا۔ مجرمین میں وہ لوگ بھی شامل ہیں۔ جو قانون کو مانتے ہوئے اس کے خلاف چلتے ہیں۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے جن مجرمین کا ذکر کیا ہے۔ ان سے وہ لوگ مراد ہیں جو کفر اور شرک میں مبتلا ہیں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ضائع کرتے ہیں۔ کلام کا سیاق وسباق بتا رہا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں۔ جو دین داروں کے ساتھ ٹھٹا کرتے تھے۔ مکہ کے یہ روسا غریب مسلمانوں پر ہنستے تھے۔
(ضعفا پر طعن )
فرمایا واذامروا بھم جب یہ آسودہ حال لوگ غریب دینداروں کے قریب سے گذرتے تھے۔ یتغامزون تو آپس میں آنکھوں سے اشارے کرتے تھے۔ جیسے کہہ رہے ہوں دیکھو یا یہ پھٹے پرانے لباس والے جنت کے والی جا رہے ہیں۔ نہ ان کے پاس کھانے پینے کا سامان ہے۔ نہ ان کے پاس سواریاں ہیں۔ مالی حالت نہایت کمزور ہے۔ اور دعوی یہ ہے کہ ہم کامیاب ہیں نحن ا کثر اموالا واولادا “ ‘ ہم ان سے مال و اولاد میں زیادہ ہیں۔ ہم کو سزا دینے والا کون ہے۔ اور معترضین آسودہ حال لوگ ہی تھے۔ دوسری جگہ فرمایا ” ویل لکل ھمزۃ لمزۃ “ یہ پشت پیچھے عیب جوئی کرنے والے اور سامنے طعنہ دینے والے ان کو کس چیز کا گھمنڈ ہے ” الذی جمع مالا و عددہ “ یہ مال و دولت کی وجہ سے شخی بگھار تے ہیں اور اپنے آپ کو بہتر سمجھتے ہیں۔ کمزور اور غریب اہل ایمان کی ہنسی اڑاتے ہیں۔ ان کی شکلوں پر اعتراض ان کے لباس پر اعتراض ان کی وضع قطع پر اعتراض ان کی نمازوں پر اعتراض اس طرح یہ امیر لوگ غریب ایمان والوں کا مذاق اڑاتے تھے ان کی تذلیل کرتے تھے۔
(کسی کو حقیر نہیں جاننا چاہیئے)
یہ اس زمانے کے کفار کا حال ہے۔ اس دور میں جدید تعلیم یافتہ لوگوں کا وطیرہ بھی یہی ہے۔ یہ لوگ بھی علماء اور صلحاء کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ سرسید کی پارٹی کے لوگ جو دین سے بےبہرہ اور جدید علوم سے فیض یاب لوگ ہیں۔ وہ بھی ایسا ہی کرتے ہیں یہ ایک وبا ہے۔ جو مومن کہلانے والے مسلمانوں میں پھیل رہی ہے۔ حالانکہ یہ لوگ برائے نام مسلمان ہیں۔ ہر ایماندار اپنے ایمان کی وجہ سے قابل قدر ہے۔ اس کا احترام ضروری ہے۔ اور کسی مؤمن کو حقیر نہیں جاننا چاہیئے ۔ بشرطیکہ مؤمن ہو۔
حضرت جنید بغدادی کے زمانے کا مشہور واقعہ (ب 1 الذھد الفاتح ص 23 للامام محمد بن محمد بن یوسف الجذری ص 833ھ طبع مصر) ہے۔ کہ ایک پولیس والا مرگیا۔ بڑا ظالم شخص تھا۔ زندگی میں لوگوں پر بہت ظلم کیا کرتا تھا۔ لوگ اس کا جنازہ حضرت جنید بغدادی کی مسجد میں اٹھا لائے۔ کہ حضرت اس کا جنازہ پڑھا دیجئے۔ مگر آپ نے صاف انکار کردیا۔ کہ میں ایسے ظالم کا جنازہ پڑھنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ لوگ میت اٹھا کرلے گئے۔ جنازہ پڑھا اور دفن کردیا۔ رات کو آپ خواب میں دیکھتے ہیں کہ وہی پولیس والا نہایت عالیشان مکان میں مقیم ہے۔ میں نے پوچھا تمہارا کیا حال ہے۔ لوگ تمہارے ساتھ کیسا سلوک ہوا۔ اللہ نے تمہارے ساتھ کیسا معاملہ کیا۔ تو اس نے کہا اللہ نے مجھے معاف کردیا۔ میرے گناہ معاف کردیے۔ دریافت کیا کس بنا یر کہنے لگا۔ کہ تم نے مجھے حقیر جانا میرا جنازہ پڑھنے سے انکار کردیا مگر خدا تعالیٰ مجھے معاف کردیا۔ اگرچہ خواب کے واقعہ پر حجت قائم نہیں کی جاسکتی۔ مگر اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ کسی کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیئے۔ خاص طور پر ایمان والے کو خواہ وہ کیسی ہی کم تر حالت میں ہو۔ اسی لیے حضور ﷺ نے فرمایا (ب 1 ترمذی ص 495) کہ اگر تم صحت مند ہو۔ خوشحال ہو اور کسی تکلیف زدہ آدمی کو دیکھو۔ تو یوں کہوں۔ کہ اے اللہ ! تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ کہ تو نے مجھے عافیت دی اس چیز سے جس میں یہ مبتلا ہے۔ مگر یہ بات اس مصیبت زدہ کے سامنے مت کہو تاکہ اس کو اذیت نہ پہنچے۔
مکے کے سرداران ابو جہل عتبہ شیبہ وغیرہ حضرت بلال صہیب جیسے ناداں اور کمزور مسلمانوں کو ذلیل و حقیر سمجھتے تھے۔ ان کی مجلس میں بیٹھنا بھی گوارا نہ کرتے تھے۔ قرآن پاک میں صاف موجود ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر (علیہ السلام) کو فرمایا ” ولا تعد عینک عنھم ترید زینۃ الحیوۃ الدنیا آپ اپنی نگا ہ شفقت ان غرباء سے بالکل نہ ہٹائیں۔ کیا آپ دنیا کی زینت کا ارادہ کرتے ہیں۔ ہم نے ان کو دنیا کا مال و دولت اس لیے دیا ہے لنفتنھم فیہ “ تاکہ ان کی آزمائش کریں مگر یہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ مال و دولت انہیں عیش و آرام کے لیے دیا گیا ہے ۔ کیونکہ وہ اللہ کے ہاں مقبول لوگ ہیں۔ فرمایا ایسا نہیں ہے۔ بلکہ یہ آزمائش ہے۔ اصل چیز تو ایمان اور نیکی ہے۔ اللہ کے ہاں مقبولیت کے لیے ان چیزوں کو دیکھا جائے گا۔ نہ مال و دولت کو۔
فرمایا یہ مجرم اور گنہگار لوگ ایمان والوں پر ہنستے تھے۔ اور جب ان کے پاس سے گذرتے تھے تو اشارے کرتے تھے۔ دیکھو ! یہ حوروں کے خاوند جا رہے ہیں یہ جنت کے والی جا رہے ہیں۔ ان کی حالت دیکھو۔ اور ان کی صورتیں دیکھو۔ اس طرح کی باتیں کرتے تھے۔ حضور ﷺ کا فرمان (ب 2 ترمذی ص 293) ہے دیکھو اپنے بھائی سے مزاح بھی نہ کرو۔ جس سے اس کی تحقیر ہوتی ہو۔ اگر چہ مزاح مباح ہے مگر تحقیر مقصود ہو تو جائز نہیں۔ آنکھ سے اشارہ کرنا بھی ممنوع ہے۔
(مجرمین بمقابلہ مئومنین)
مجرمین کی دوسری صفت یہ بیان کی۔ کہ واذا انقلبوا الی اھلھم جب یہ لوگ اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں۔ انقلبو فکھین تو باتیں بناتے ہوئے پلٹتے ہیں۔ فکاھۃ کے معنی خوش طبعی کرنا یا گپیں مارنا۔ یہ لوگ طرح طرح کی باتیں بناتے ہوئے اور خوش طبعی کرتے ہوئے گھروں کو جاتے ہیں کہ ان کے پاس تو سب کچھ موجود ہے۔ مگر مئومنین کے پاس کچھ نہیں۔ ان کا مذاق اڑاتے ہیں واذا راو ھم جب یہ لوگ ایمان والوں کو دیکھتے ہیں قالوا ان ھوء لاء لضالون تو کہتے ہیں یہ تو گمراہ لوگ ہیں۔ جو جنت کی تیاری کر رہے ہیں۔ ہماری طرح مال و دولت نہیں سمیٹتے۔ حالانکہ کمال یہی ہے کہ مال و دولت جمع کرو۔ اور عیش و آرام کی زندگی بسر کرو۔ مگر یہ تو بہکے ہوئے لوگ ہیں جو دنیوی آسائشوں سے بےنیاز ہوئے بیٹھے ہیں۔ حلال و حرام کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں ۔ قیامت کے محاسبے کا غم کھائے بیٹھے ہیں۔ اور یہ کہ خدا کے ہاں عدل و انصاف ہوگا۔
اس کے برخلاف ایک مؤمن حلال و حرام میں تمیز کرتا ہے۔ جو دولت کماتا ہے۔ اس کو جائز طریقے پر خرچ بھی کرتا ہے۔ خدا کی عبادت کرتا ہے۔ مگر یہ مترف اور سرمایہ دار لوگ نیکوکاروں کو حقیر سمجھتے ہیں۔ ان کو آخرت کی بات اچھی نہیں لگتی۔ مومنین کو دیکھتے ہیں۔ تو کہتے ہیں کہ یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں۔ خواہ مخواہ عبادت و ریاضت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اپنے آپ کو کھپا رہے ہیں۔ اپنا آبائی دین اور دنیا کی عیش و عشرت کو چھوڑ رکھا ہے۔ ان کی یہ طرز ٹھیک نہیں ہے۔ یہ گمراہ لوگ ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے جوابا فرمایا وما ارسلوا علیھم حفظین وہ نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے۔ کیا یہ بڑے بڑے سرمایہ داران عررب ایمانداروں کے محافظ ہیں۔ ان پر انسپکٹر لگے ہوئے ہیں۔ جو ان کے طرز عمل کو غلط بتا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ بہکے ہوئے ہیں۔ خدا نے ان کو ایسا ہرگز مقرر نہیں فرمایا۔ ان کو اپنی فکر کرنی چاہیئے۔ کہ ان کا اپنا انجام کیا ہونے والا ہے۔ مگر یہ لوگ غرباء پر طعن کرتے ہیں ۔ اور ان کو بیوقوف کہتے ہیں۔
(قیامت کے روز ایماندار کافروں پر ہنسیں گے)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر ایسا ہے تو فالیوم ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ جس دن الذین امنو جو لوگ آج اللہ کی وحدانیت اور قیامت پر ایمان لائے ہیں من الکفار یضحکون وہ کافروں پر ہنسیں گے۔ کیونکہ یہ ایک اصول ہے جو کسی پر ہنستا ہے اس پر ہنساجاتا ہے ۔ جس طرح کافر دنیا میں مسلمانوں پر ہنستے تھے اس آنے والے قیامت کے دن مومن کافر پر ہنسیں گے۔ یہ مئومنین علی الا رائک ینظرون تختوں یا بنچوں پر بیٹھ کر دائیں بائیں نظارہ کرتے ہوں گے۔ لطف اندوز ہوں گے۔ اس دن مومن لوگ کافروں کو کہیں گے۔ کہ تم نے دنیا کی فانی چیزوں میں پھنس کر اپنے ایمان کو برباد کیا اور اب آخرت کو بھی برباد کیا۔ لہذا آج ان فانی نعمتوں کا لطف اٹھاؤ ۔ تم نے دائمی نعمتوں کے بدلے دنیا کی فانی نعمتوں کو پسند کیا ایمان سے محروم رہے۔ کفروشرک کی رسموں کو پورا کرتے رہے۔ تم لوگ اپنی فکر کرنے کی بجائے کمزور مسلمانوں پر ہنستے تھے۔ ا ن کو بیوقوف اور گمراہ کہتے ۔ اپنی بدباطنی کا آج لطف اٹھاؤ ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ثوب الکفار ماکانوا یفعلون کیا کافروں کو بدلہ دیا جائے گا اس کا جو وہ دنیا میں کیا کرتے تھے اس وقت انہیں کہا جائے گا کیا تمہیں بدلہ ملا ، یا نہیں۔ تم نے اپنی کرتوتوں کا انجام دیکھ لیا یا نہیں۔ تم دنیا میں شرکیہ اور کفریہ کام کرتے تھے۔ استہزاء اور تحقیر کرتے تھے آج اس کا بدلہ اور مزہ چکھ لیا تم نے۔ یقینا ان کا انجام ان کے سامنے ہوگا۔ اور اپنے کیے کا بدلہ ان کو مل کر رہے گا۔