Ayahs 82:1–8(قیامت سب سے بڑا حادثہ ہوگا)
تخلیق کائنات کی ابتداء سے لے کر اب تک جتنے واقعات پیش آچکے ہیں یا آئند ہ پیش آنے والے ہیں۔ ان میں قیامت کا واقعہ سب سے بڑا ہوگا۔ اسی قیامت کو القارعۃ کے لفظ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی ایک حادثہ ہوگا جو کھٹکا دینے والا ہوگا۔ قیامت کا ایک نام واقعہ بھی ہے۔ کہ ایک واقعہ پیش آنے والا ہے۔ جب کوئی چیز اپنے ٹھکانے پر نہیں رہے گی۔ اس طرح اسے الطامۃ الکبری بھی کہا گیا ہے۔ یعنی سب سے زوردار حادثہ یا ہنگامہ تو گویا ان سورتوں میں مختلف اشیاء پر قیامت کے اثرات بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی ہے۔ کہ ہر شخص محاسبے کے لیے تیار رہے۔
(قرآن کریم کے ساتھ ربط)
قرآن کریم کی تعلیم بھی یہی ہے کہ انسان قیامت کے محاسبے سے بچ جائے۔ قرآن پاک تذکرہ اور نصیحت ہے۔ لہذا جو شخص چاہے اس سے فائدہ اٹھالے۔ یہ اس کی اپنی مرضی اور خواہش پر منحصر ہے۔ کہ وہ قرآن پاک کی تعلیمات سے کس حد تک مستفید ہوتا ہے۔ اسی تعلیم کو پیش نظر رکھ کر قیامت کے لیے تیاری کرنی ہوگی۔ اگر وہ اس کلام پاک سے توجہ ہٹائے گا۔ تو بھٹک جائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ نہیں سکے گا ” گرد قرآن گرد “ کے مصداق انسان کو قرآن پاک کے گرد ہی گھومنا چاہئیے۔ جو شخص قرآن کا دامن تھام لے گا ، وہ اس جہان میں عقوبت سے چھوٹ جائے گا۔ اور اس دنیا میں فتنوں سے محفوظ رہے گا۔ ثنائی کا شعر ہے۔ زاں جہاں از عقوبت زیں جہاں از فتن۔
دوسری بات یہ ہے۔ کہ بنی نوع انسان اگر مزید پچاس ہزار یا ایک لاکھ سال بھی آباد رہے۔ مگر پروگرام قرآن پاک سے ہی لینا ہوگا۔ لہذا لازم ہے کہ انسان اپنا رابطہ قرآن پاک کے ساتھ قائم رکھے۔
(آسمان پھٹ جائے گا)
اس سورة میں قیامت کا ذکر جن اشیاء کے حوالے سے کیا جارہا ہے۔ ان میں آسمان سرفہرست ہے۔ فرمایا اذا السماء انفطرت جب آسمان پھٹ جائے گا۔ چونکہ عام انسانوں کی ذہنیت اس قسم کی ہوتی ہے۔ کہ کسی غیرمعمولی واقعہ کو دیکھ کر فورا متوجہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے پر وگرام کی طرف متوجہ کرنے کے لیے اس قسم کے غیر معمولی واقعات کا تذکر ہ فرمایا تاکہ لوگ توجہ کریں غوروفکر کریں۔ اور حقیقت کو سمجھیں ۔ چناچہ آسمان کے پھٹ جانے کا ذکر کیا کہ جب قیامت کا پہلا صورپھونکا جائے۔ کوئی چیز اپنے مستقر پر نہیں ٹھہر سکے گی۔ ہرچیز درہم برہم ہوجائے گی۔ آسمان پھٹ جائے گا جیسا کہ سورة نبا میں آچکا ہے۔ ” وفتحت السماء فکانت ابوابا “ آسمان کھول دیاجائے گا ۔ اور فضا میں دروازے دروازے نظر آئیں گے ۔ اور آسمان سے پرے کی ہرچیز نظر آنے لگے گی ۔ اس دن فرشتے بھی اترپڑیں گے۔ حیرت انگیز منظر ہوگا ، ہرچیز پر دہشت طاری ہوگی اس دن مقربین الٰہی بھی خوفزدہ ہونگے ، حضرت آدم (علیہ السلام) کہیں گے (ب 1 مسلم ص 111 ج 1 ترمذی ص 351) یعنی اللہ تعالیٰ آج اس قدر غصے میں ہیں۔ کہ نہ اس سے پہلے کبھی ہوئے اور نہ آج کے بعد ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کی قہری تجلی نازل ہوگی قیامت کے روز قہری تجلی میں نزول فرمائے گا۔
(ستارے بکھر جائیں گے)
فرمایا کہ قیامت کی ایک نشانی یہ بھی ہوگی واذالکواکب انتثرت جب ستارے بکھر جائیں گے۔ ٹوٹ پھوٹ جائیں گے ، گر جائیں گے ، اپنی جگہ پر قائم نہیں رہیں گے۔ واذالبحار فجرت اور جب دریا چلائے جائیں گے۔ آج تو اپنی اپنی جگہ پر یہ رہے ہیں بحرہند اور بحیرہ روم اپنے ٹھکانوں پر ہیں۔ مگر جب قیامت واقع ہوگی سب خلط ملط ہوجائیں گے۔ ایک بن جائیں گے ۔ کوئی اپنی جگہ پر قائم نہیں رہے گا۔ اس کے بعد آگ کی تپش سے سارے بھاپ بن کر اڑ جائیں گے۔ پانی کا ایک قطرہ بھی باقی نہیں رہے گا۔
(قبریں اکھاڑ دی جائیں گی )
فرمایا واذا القبور بعثرت جب قبریں زیروزبر کردی جائیں گی۔ اکھاڑ دی جائیں گی ۔ اور ان میں مدفون لوگوں کو نکالاجائے گا۔ ان پر خوف و دہشت طاری ہوگا۔ پھر جس طرف سے آواز آرہی ہوگی۔ ان کو اس میدان کی طرف چلایا جائے گا۔ اور وہ اس طرح دوڑتے ہوئے جائیں گے جس طرح تیر اپنے نشانے کی طرف جاتا ہے۔ تو ان قبروں کے اکھاڑنے کو حشر اجساد بھی کہتے ہیں۔
(روح اور جسم کا دوبارہ ملاپ)
یونانی اور بعض دیگر پرانے فلاسفروں کا اعتقاد ہے ۔ کہ جسم ایک دفعہ فنا ہوگیا تو ختم ہوگیا۔ یہ دوبارہ زندہ نہیں ہوگا۔ اگر دوبارہ زندگی کا کوئی تصور ہے۔ تو وہ محض روحانی ہو سکتا ہے۔ جسمانی نہیں۔ ان کی یہ بات درست نہیں ہے۔ قبریں اکھاڑ دینے والے الفاظ بتا رہے ہیں کہ قبروں سے روحوں کو نہیں بلکہ اجسام کو اٹھایا جائے گا۔ ہر جسم کا اسی روح کے ساتھ تعلق قائم ہوگا جس کے ساتھ دنیا میں قائم تھا۔ کیونکہ اگر قیامت کے دن دنیا کی نسبت مختلف ارواح و اجسام کو اکٹھا کیا گیا۔ تو یہ سخت زیادتی ہوگی۔ دنیا میں انجام دی گئی نیکی یا بدی کی جزاوسزا صرف اسی صورت میں دی جاسکتی ہے۔ جب کہ قیامت کو انہیں اجسام وارواح کا تعلق قائم ہو جن کا دنیا میں تھا جب یہ کام مکمل ہوجائے گا روح اور جسم کا ملاپ ہوجائے گا۔ علمت نفس ماقدمت واخرت ہر شخص جان لے گا۔ جو کچھ اس نے آگے بھیجا ہے اور جو کچھ پیچھے چھوڑا ہے۔ اس دن انسان حیران و پریشان ہوجائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ” ذلک بماقدمت یدک “ یہ تیرے ہی ہاتھوں کی کمائی ہے۔ نیز یہ کہ ” وان اللہ لیس بظلا م للعبید “ خداوند تعالیٰ کسی پر زیادتی نہیں کرنا۔ یہ سب تیرا اپنا ہی کیا دھرا ہے حدیث شریف (ب 1 مسلم ص 327 ج 1) میں آتا ہے۔ جو کوئی اچھی رسم اپنے پیچھے چھوڑتا ہے۔ جتنے لوگ اس پر عمل کریں گے۔ اس کا صلہ اس کو بھی ملتا ہے۔ اسی طرح جو شخص بری رسم چھوڑے گا۔ اس پر دوسرے لوگ عمل کریں گے تو ہر ایک کے بدلے ایک گناہ اس کو بھی پہنچے گا۔ الغرض جو بھی عمل پیچھے چھوڑا ہے۔ اس کا بدلہ پائے گا۔ اگر حرام مال چھوڑ گیا ہے۔ تو سزا پائے گا اور کوئی نیکی کا کام چھوڑ گیا۔ تو اسکے بدلے جزاء پائے گا۔
(خالق اور مخلوق کا تعلق )
اب اللہ تعالیٰ کا خطاب براہ راست انسان کی طرف ہوتا ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کے باطن قیامت کے کیا اثرات ہوں گے ارشاد ہوتا ہے یایھا الانسان ماغرک بربک الکریم اے انسان ! رب کریم کے بارے میں تجھے کس چیزنے دھوکا دیا ہے۔ تیرا رب بڑا کریم ہے۔ اس نے تم پر بڑی مہربانیاں کی ہیں مگر تو اس کے بارے میں دھوکے میں کیوں پڑا ہوا ہے اس کے کرم کا تقاضا تو یہ تھا کہ تو اس کی مہربانی کا شکر یہ ادا کرتا مگر تو دھوکے میں پڑا ہوا ہے۔ سمجھتا ہے کہ تجھ سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔ تیرا وہ رب کریم ہے۔ الذی خلقک جس نے تمہیں پیدا کیا ، تمہیں وجود کی نعمت اور احسن شکل و صورت عطا کی۔ اس کے بغیر کوئی پیدا کرنے والا نہیں ” قل اللہ خالق کل شیء “ وہی ہر شے کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس نے نہ صرف پیدا کیا بلکہ ، فسوک ، تجھے ٹھیک ٹھاک کردیا ، فعدلک ، تمہیں تمام ظاہری اور باطنی قوتوں سے نواز ! تیرے تمام اعضاء کو برابر کیا۔ باقی تمام مخلوق سے ممتاز کیا۔ تمہارے لیے تمام ضروری سامان مہیا کیا۔ پچھلی سورتوں میں بھی گذر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد اسے تمام ظاہری اور باطنی لوازمات مہیا کئے۔ انسانی جسم کے لیے خوراک لباس رہائش کے لیے مکان اور دیگر چیزیں عطا کیں۔ اس طرح انسان کی باطنی قوتوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت ہے سب کچھ مہیا کیا۔ مگر انسان پھر بھی انسان ہے بھٹک جاتا ہے۔ اپنے حقیقی سرپرست اور مالک الملک سے روگردانی کرتا ہے۔ پھر دوسروں کو سرپرست بنا لیتا ہے۔ اور شرک میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ حالانکہ قرآن پاک کی تعلیم یہ ہے۔ کہ حقیقی سرپرست صرف خداوندکریم ہے۔ مسلمان خواہ کتنا امیر کبیر ہو حتی کہ بادشاہ ہو پھر بھی وہ بحیثیت انسان سب کے ساتھ برابر ہے۔ اگر کسی پر اللہ تعالیٰ نے کرم نوازی کی ہے۔ اس میں کوئی کمال رکھا ہے۔ تو اس کی مہربانی ہے۔ ورنہ اس کمال کی وجہ سے مشکل کشا ، حاجت روا یا معبود تو نہیں بن جاتا۔
انسان کے بھٹک جانے کی مثال ایسی ہے۔ جیسے دنیا کا کوئی با اختیار بادشاہ ہو۔ اور اس کا شہزادہ غلط سوسائٹی کا شکار ہو کر گھر سے نکل جائے۔ دوسروں کو دوست اور سرپرست بنا لے پھر زندگی کے کسی موڑ پر گھر واپس پلٹ آئے۔ تو جب وہ باپ کے سامنے پیش ہوگا۔ تو اسے پتہ چلے گا کہ وہ کس طرح بھٹکتا رہا۔ حالانکہ یہاں سب کچھ موجود ہے۔ مال و دولت ، اختیار ، عہدہ ، علم غرض ہر آسائش موجود ہے۔ مگر میں خواہ مخواہ بھٹکتا رہا ان حالات میں بیٹے کو کتنی ندامت اور پشیمانی ہوگی۔ اس مقام پر یہی بات سمجھانا مقصود ہے کہ انسان اپنے حقیقی سرپرست اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جب دوسروں کے ہاں بھٹکتا رہے گا۔ تو قیامت کے دن اسے سخت ندامت اٹھانی پڑے گی۔ اس دن اسے معلوم ہوگا۔ کہ اس نے کتنا نقصان اٹھایا ہے۔
طبرانی شریف (ب 1 کنزالعمال ص 44 اج 7 بحوالہ بزار) کی روایت میں ہے کہ اگر کوئی شخص نماز کے دوران اپنی توجہ ادھر ادھر کرے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ کیا مجھ سے اچھی چیز بھی کوئی ہے۔ جو میری بجائے دوسری طرف توجہ کرتے ہو۔ پھر جب دوسری دفعہ توجہ ہٹاتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ کیا مجھ سے افضل چیز بھی کوئی ہے جس کی طرف دھیان دے رہے ہو۔ اس کے بعد جب تیسری دفعہ کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اور فرماتے ہیں۔ جاؤاب ہماری رحمت تم پر نہیں ہوگی اس لیے فرمایا (ب 2 ترمذی ص 110 وکنزالعمال ص 354 ج 7) الالتفات ھلکۃ نماز میں ادھر ادھر التفات کرنا ہلاکت کا باعث ہے۔ دنیا میں تو انسان اللہ تعالیٰ سے توجہ ہٹاتا رہا۔ مگر قیامت کے روزجب محاسبہ کا وقت آئے گا۔ تو سخت ندامت ہوگی۔ چناچہ انسان کے باطن پر بڑا شدید اثر ہوگا۔
فرمایا اے انسان ! کس چیز نے تجھے اپنے رب سے مغرور کردیا۔ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا۔ تمہیں ٹھیک ٹھاک بنایا ، تمہارے اعضاء درست کئے یہی نہیں بلکہ فی ای صورۃ ماشاء رکبک پھر جس طرح چاہا ، ویسی ہی شکل و صورت بنا دی۔ باقی تمام مخلوق جانور ، چرند ، پرند سب سے ممتاز صورت میں پیدا کیا۔ پھر آپس میں بھی ایسا امتیاز قائم کردیا کہ لاکھوں کروڑوں انسانوں کی الگ الگ پہچان میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ ہر شخص آسانی سے پہچانا جاتا ہے۔ ہر چہرے میں ایسا تفاوت رکھ دیا ہے کہ آپس میں خلط ملط نہیں ہوسکتے۔ سورة ال عمران میں فرمایا یصورکم فی الا رحام کیف یشاء اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو شکم مادر میں انسان کو ایسی صورت بخشتا ہے جیسی چاہتا ہے۔
فرمایا اللہ تعالیٰ کی ان بےپایاں نعمتوں کے باوجود تو کس بات پر مغرور ہو رہا ہے۔ جب محاسبہ کا وقت آئے گا۔ تو سخت ندامت اٹھانی پڑے گی۔ قیامت کا یہی اثر انسان کے باطن پر ہوگا۔
Ayahs 82:9–19(گذشتہ سے پیوستہ)
اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا جو اس نے انسان پر کیے الذی خلقک “ اے انسان تجھے کس چیز نے اپنے رب کے ساتھ مغرور کیا ، حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ، فسوک ، پھر ٹھیک ٹھاک کیا ” فعدلک “ پھر برابر کیا۔ تمام اعضاء اور جوڑوں کو درست کیا۔ ان میں تناسب رکھا۔ عقل ، شعور ، اخلاق ، مزاج تمام قوی مہیا کئے اور پھر جس قسم کی چاہی صورت بخشی۔ ان تمام حقائق کے باوجود تم اپنے رب سے کیوں روگردانی کرتے ہو۔ اور قیامت کا کیوں انکار کرتے ہو۔
(انصاف کا دن)
فرمایا خبردار ! بل تکذبون بالدین بلکہ تم انصاف کو جھٹلاتے ہو۔ تم سمجھتے ہو۔ کہ یہ سلسلہ اسی طرح قائم رہے گا۔ ہرگز نہیں بلکہ غفلت اور نادانی کی وجہ سے انصاف کے دن کا انکار کرتے ہو۔ وہ دن تو آ کر رہے گا۔ اور تمہیں اپنے اعمال کا حساب چکانا ہی ہوگا سورة فاتحہ میں بھی اس دن کا ذکر آیا ہے ” ملک یوم الدین “ انصاف کے دن کا مالک خداوندتعالیٰ ہی ہے۔ دنیا میں مجازی طور پر اس نے کچھ اختیار دے رکھے ہیں۔ جو حاکم ہے۔ جو بادشاہ ہے۔ مگر قیامت کے دن تمام اختیارات سلب ہوجائیں گے۔ اس دن حکم صرف اللہ تعالیٰ کا چلے گا۔ لہذا تم نادانی کی وجہ سے انصاف کے دن کا انکارنہ کرو۔ بلکہ انبیاء (علیہم السلام) اور قرآن پاک کی تعلیم کے مطابق اس دن کے لیے تیاری کرو۔ غفلت کو ترک کردو انصاف کا دن آنے والا ہے۔ اس دن انسان نے نیکی اور بدی جو کچھ بھی کیا ہے۔ سب سامتے آجائے گا۔
(تمام اعمال حاضر کئے جائیں گے)
فرمایا ” علمت نفس ماقدمت واخرت “ اس دن انسان جان لے گا ، جو اس نے آگے بھیجا ہے اور جو پیچھے چھوڑا ہے۔ سب چیزیں حاضر ہوں گی۔ ” ووجدوا ماعملوا حاضرا “ ولا یظلم ربک “ اپنا ہر عمل وہاں موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر زیادتی نہیں کرتا۔ تمہاری یہ خام خیالی ہے۔ کہ مرنے کے بعد انسان کا وجود ختم ہوجائے گا۔ یا اس کے اعمال پیش نہیں ہوں گے ۔ بلکہ حقیقت یہ ہے۔ کہ وان علیکم لحفظین بیشک تمہارے اوپر البتہ حفاظت کرنے والے مقرر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا۔ اسے اچھی شکل و صورت اچھے اعضا ظاہری اور باطنی قوی سے نوازا ہے تو ان اعضاء اور اعمال کی حفاظت کا بندوبست کیا ہے۔ یہ تمام چیزیں فنا نہیں ہوتیں بلکہ کسی نہ کسی صورت میں موجود رہتی ہیں قیامت کے دن وہ پھر اپنی اصلی حالت میں سامنے آجائیں گی۔ تمام انسان اسی جسم اور روح کے ساتھ دوبارہ زندہ ہوں گے۔ ان کا محاسبہ ہوگا اور وہ جزاء وسزا کے مستحق قرارپائیں گے۔
(کراما کاتبین )
انسان کے اعمال کی حفاظت کا کام اللہ تعالیٰ نے دو فرشتوں یعنی کراما کاتبین کے سپرد کیا ہے۔ یہ فرشتے تمہارے اعمال اور اقوال کو محفوظ کر رہے ہیں۔ ہر نیکی بدی لکھی جارہی ہے دوسری آیت میں آتا ہے کہ یہ فرشتے ہر وہ بات لکھتے ہیں۔ ما لکم لا تنطقون جو تم بولتے ہو۔ ” سنکتب ماقالو “ یہود بھی بہت زیادہ گستاخیاں کرتے تھے۔ فرمایا ان کی تمام باتیں ہمارے حکم سے ہمارے فرشتے لکھتے ہیں ۔ محافظ قوتیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر مقرر کی ہیں ۔ وہ تمہارے اقوال وافعال کی نگرانی کرتے ہیں کراما کاتبین یعنی عزت والے لکھنے والے ہیں اور یعلمون ماتفعلون جو کچھ تم کرتے ہو ، وہ جانتے ہیں۔ اور لکھتے ہیں۔
حدیث شریف (ب 1 روح المعانی ص 65 ج 30) میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک انسان کے ساتھ دو فرشتے کراما کاتبین مقرر فرمائے ہیں۔ جو انسان کے دائیں اور بائیں کندھے پر ہوتے ہیں۔ بعض فرماتے (ب 2 تفسیر عزیزی فارسی ص 107 پ 30) ۔ کہ آدمی کے سامنے کے دو دانتوں پر بیٹھے رہتے ہیں۔ مگر کندھوں پر بیٹھنے کی روایت زیادہ معروف ہے۔ الغرض کراما کاتبین وہ عزت اور بزرگی والے ہیں۔ ان کی بزرگی کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ نظر نہیں آتے اگر وہ نظر آنے لگیں تو انسان کوئی کام نہ کرسکے خواہشات کو پورا نہ کرسکے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام فرمادیا ہے کہ فرشتے نظر بھی نہیں آتے مگر اپنا کام برابر کرتے رہتے ہیں۔ ان کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ ہر برے کام کو جاننے اور لکھنے کے باوجود وہ انسان کو دنیا میں رسوا نہیں کرتے۔ جیسا کہ سعدی صاحب نے کہا (ب 3 گلستان ص 241 باب 8 مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان) ہے نعوذ باللہ پناہ بخدا ! اگر خدا کے سوا کوئی غیب دان ہوتا تو کوئی شخص بھی آرام کی زندگی نہ گذار سکتا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ ہے۔ جو ہر عیب دیکھنے کے باوجود پردہ پوشی کرتا ہے۔ مگر ہمسایہ ہے کہ دیکھتا نہیں مگر شور مچا دیتا ہے۔
کراما کاتبین ایک نظام کے تحت اپنے کام میں مصروف ہیں وہ کسی کو رسوا نہیں کرتے۔ بڑی عزت والے ہیں حضور ﷺ (ب 4 تفسیر ابن کثیرص 234 ج 4) نے فرمایا۔ جب کوئی انسان برائی کرتا ہے۔ تو فرشتے لکھنے میں توقف کرتے ہیں۔ شاید یہ شخص توبہ کرلے۔ اللہ تعالیٰ سے معانی مانگ لے۔ اگر وہ استغفار کرلے تو وہ گناہ نہیں لکھتے اور اگر اس پر اصرار کرے تو ایک ہی بڑا عمل لکھا جاتا ہے برخلاف اس کے اگر کوئی نیک عمل کرتا ہے ، تو دس گنا لکھا جاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں موجود ہے ” من جاء بالحسنۃ فلہ عشرامثالھا “ اور اگر کوئی شخص برے کام کا ارادہ کرتا ہے ، مگر فی الواقع وہ کام نہیں کرپاتا تب بھی اس کے حق میں نیکی لکھی جاتی ہے۔ بہرحال انسان کے ہر اچھے یا برے اقوال و افعال کو محفوظ کیا جاتا ہے۔ سورة ق میں فرمایا مایلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید “ انسان جو بھی بات منہ سے نکالتا ہے۔ نگران اس کو محفوظ کرلیتے ہیں۔ اور ایک دن وہ سارا ریکارڈ انسان کے سامنے پیش ہونے والا ہے۔ حدیث شریف (ب 1 نفسیرابن کثیرص 482 ج 4 بحوالہ ابن ابی حاتم تفسیر درمنثور ص 323 ج 6 بحوالہ ابن مردویہ) میں آتا ہے۔ کہ کراماکاتبین کے اس اہم کام کے پیش نظر حضور ﷺ نے فرمایا کراما کاتبین کی عزت کیا کرو وہ ہر حالت میں تمہارے ساتھ ہوتے ہیں ۔ مگر تین حالتیں ایسی ہیں کہ وہ انسان سے علیحدہ ہوجاتے ہیں۔ یعنی بول و براز کے وقت۔ مباشرت کے وقت اور جب کوئی کپڑے اتار کر غسل کرتا ہے۔ ایک دوسری حدیث (ب 2 روح المعانی ص 65 ج 30 بحوالہ بزار) میں ایاکم والتعدی اپنے آپ کو برہنگی سے بچاؤ ۔ کیونکہ ایسا کرنے سے فرشتوں کو تکلیف ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے۔ انسان کے اقوال و افعال کی کوئی بات اس سے پوشیدہ نہیں۔ اس کے باوجود فرشتوں کے ذریعے ریکارڈ مرتب کرنے کی وجہ یہ ہے۔ کہ انسان پر اتمام حجت ہوجائے۔ فرشتوں کے پاس رجسٹروں میں ہرچیز کا اندارج ہوتا ہے۔ جب وقت آئے گا تو وہ سارا ریکارڈ پیش کردیا جائے گا۔ اعمال کو لکھنے اور قیامت کے روز انہیں تولنے کا کام محض لوگوں کے اذہان کو مطمئن کرنے کے لیے ہے۔ جب لکھا ہوا سامنے آئیگا تو یقین آجائے گا۔ اور جب نیک وبد اعمال کا وزن ہوگا ، تو انسان کو اپنے نتیجہ کا علم ہوجائیگا۔
(ابرار اور فجار کا انجام )
لکھے ہوئے ریکارڈ کے علاوہ قیامت کے دن ہر عمل پر گواہی بھی پیش ہوگی۔ انسان کے اپنے اعضاء اس کے خلاف یا اس کے حق میں گواہی دیں گے۔ اس کے علاوہ باہر کی چیزیں بھی گواہی دیں گی۔ منجملہ ان کے فرشتے بھی شہادت دیں گے کہ اس شخص نے فلاں اچھا یا برا کام انجام دیا تھا۔ تو گویا انسان کا ہر قول اور فعل مکمل طور پر محفوظ ہے۔ یہ سارا انتظام اللہ تعالیٰ نے اس لیے کیا ہے۔ کہ ہر نیک وبد کو اس کے کیے کی جزا یا سزا مل سکے چناچہ فرمایا ان الا برار لفی نعیم یاد رکھو نیک لوگ نعمتوں میں ہوں گے اللہ تعالیٰ نے ایک قانون بتا دیا کہ ہر نیکو کار جسے ایمان کی دولت نصیب ہوگی۔ جس نے اچھے اعمال کئے ہوں گے وہ نعتوں میں ہوگا۔ بعض مفسرین (ب 1) فرماتے ہیں۔ کہ ابرار وہ لوگ ہیں جن کی نگاہ ہر وقت نیکی کی روح پر ہوتی ہے۔ ایک ظاہر ی عمل ہوتا ہے اور ایک اس کی روح ہوتی ہے۔ جیسے ظاہر ی طور پر نماز کی ایک شکل و صورت ہے۔ مگر اس کی ایک روح بھی ہے۔ اور روح یہ ہے کہ کانک تراہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو یعنی عبادت میں حضوری اور اخلاص عبادت کی روح ہے۔ اور ابرار اس پر نگاہ رکھتے ہیں شیخ ابو طالب مکی لکھتے (ب 2) ہیں کہ مقربین وہ ہیں جن کی نگاہ ازل پر لگی ہوئی ہے کہ پتہ نہیں ہمارا شمار کس گروہ میں ہوگا۔ وہ ہر وقت اسی بات کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ کہ پتہ نہیں ہم کامیاب لوگوں میں شامل ہوں گے یا ناکام لوگوں میں۔ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی (ب 3 بخاری ص 978 ج 2) ہے۔ انما الاعمال باالخواتیم یعنی اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے۔ جس کا خاتمہ ہوگیا وہ کامیاب ہوگیا۔ بسا اوقات کوئی شخص ساری عمر اچھے کام کرتا ہے۔ مگر خاتمہ کفر پر ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات ساری عمر برے اعمال کا ارتکاب کرتا رہتا ہے مگر خاتمہ ایمان پر ہوتا ہے۔ اسی لیے ابرار کی نگاہ ہمیشہ خاتمہ پر رہتی ہے۔
فرمایا نیک لوگ نعمتوں میں ہوں گے اور وان الفجار لفی جحیم فجار جہنم میں ہوں گے یصلونھا یوم الدین انصاف والے دن اس میں داخل ہوں گے یعنی جس دن اعمال کی جزا اور سزا کا فیصلہ ہوگا جہنم میں اس دن داخل ہوں گے اور داخل بھی ایسے ہوں گے ۔
وماھم عنھا بغائبین اس سے رہا بھی نہیں ہوسکیں گے بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس میں پڑے رہیں گے۔ اگر کفروشرک کی وجہ سے جہنم رسید ہوئے ہیں تو دائمی طور پر اس میں رہیں گے۔ ان کی رہائی کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ البتہ تزکیہ کی خاطر کچھ عرصہ کے لیے جہنم میں گئے ہیں تو پاک ہونے کے بعد وہاں سے رہا ہوجائیں گے۔ یہاں پر ایسے لوگوں کا ذکر نہیں ہے۔ صرف ان لوگوں کا ذکر ہے۔ جو مشرک کافر یا بد عقیدہ لوگ ہیں۔ ساری عمر برائیاں کرتے رہے اور اسی فاسد عقیدہ پر ان کا خاتمہ ہوا وہ جہنم سے غائب یعنی آزاد نہیں ہوسکیں گے۔
(یوم الدین کی وجہ تسمیہ)
ایک بات تو پہلے بتادی کہ قیامت کا اثر انسان کے باطن پر کیا ہوگا۔ یعنی ” علمت نفس ماقدمت واخرت “ جب ساری نیکی بدی سامنے ہوگی ، تو مان لے گا کہ میں دنیا میں کیا کچھ کرکے آیا ہوں۔ پھر جب خدا کی جانب سے محاسبہ ہوگا۔ کہ تمہیں کس چیز نے مغرور کیا تو سخت ندامت ہوگی۔ اس کے بعد انصاف کا وقت آئے گا تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ وما ادرک ما یوم الدین آپ کو کس نے بتلایا کہ یوم الدین کیا چیز ہے اور قیامت کو یوم الدین کیوں کہتے ہیں پھر تا کیدا فرمایا ثم ما ادرک ما یوم الدین پھر بتلائیں کہ یوم الدین کیا چیز ہے۔ مخاطب کو متوجہ کرنے کے لیے یہ ایک طریقہ ہے۔ کہ بات دہرائی جائے۔ تاکہ مخاطب اچھی طرح متوجہ ہوجائے پھر اس سوال کا جواب بھی خود ہی ارشاد فرمایا یوم لاتملک نفس لنفس شیئا یہ وہ دن ہوگا کہ جس دن کوئی نفس دوسرے کے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوگا۔ اس دن ہر کوئی اسقدر بےبسی کے عالم میں ہوگا۔ کہ کلام کرنے کی طاقت بھی نہیں ہوگی۔ اس دن بولنے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔ کوئی کسی کے کام نہیں آسکے گا۔ تمام ظاہر ی اور باطنی چیزیں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوں گی۔ اس دنیا میں جو اختیار ات مجازی طور پر بھی دے دیے گئے ہیں۔ وہ سب سب ہوجائیں گے اور حکومت صرف اللہ کی ہوگی۔
(حقیقی مالک ذات خداوندی ہے)
ابو بکر واسطی فرماتے ہیں۔ کہ حقیقی حکومت دنیا اور آخرت میں اللہ ہی کی ہے۔ حقیقی سرپرست اور مالک وہی ذات ہے۔ تمام انبیاء علہیم السلام اسی بات کی تعلیم دیتے رہے۔ مگر لوگ اپنی بدبختی کی وجہ سے دوسروں کو حاکم ماننے لگتے ہیں۔ اور شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اگر انسان اپنی حیثیت کو پہچان لے ، اپنی پیدائش ، اعضاء اور قوی پر ہی غور کرلے تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اپنا سرپرست نہ بنائے۔ انسان کا کوئی کام اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کوئی نہیں کرسکتا نہ اس کی مشکل کشائی ہوسکتی ہے اور نہ حاجت روائی۔ قیامت کو معلوم ہوگا۔ کہ دنیا کی زندگی تو محض امتحان تھا۔ حقیقی مالک تو وہاں بھی خدا تھا اور یہاں بھی وہی ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ پوچھے گا لمن الملک الیوم آج بادشاہی کس کی ہے ، مگر کوئی جواب نہیں دے سکے گا۔
اللہ تعالیٰ خود فرمائیں گے۔ للہ الواحد القھار آج حکومت اللہ ہی کے لیے ہے۔ جو واحد ہے اور قہار ہے۔ تمام قوتوں کا مالک وہی ہے۔ اس دن انسان بالکل بےبس ہوگا۔ اور وہ دن ایسا ہوگا۔ یوم لا تملک نفس لنفس شیئا۔ جس دن کوئی نفس کسی چیز کا مالک نہیں ہوگا والامر یومئذللہ اور تمام ظاہری اور باطنی معاملہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہوگا۔ اس لیے قیامت کے دن کو یوم الدین یا انصاف کا دن کہتے ہیں۔ کہ اس روز ہر ایک کو اپنے کردار اور اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ یہ قطعی اور یقینی ہے۔