Ayahs 81:1–13(نام و کوائف)
اس سورة کا نام سورة تکویر ہے ۔ اس کی پہلی آیت میں کورت کا لفظ آیا ہے جس سے سورة کا نام تکویر ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی انتیس 29 آیات ہیں ۔ یہ سورة ایک 104 سو چار الفاظ اور 5202 پانچ ہزار 2 حروف پر مشتمل ہے
(موضوع اور گذشتہ سورة سے ربط)
اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر اس نسبت سے کیا ہے ۔ کہ کائنات کی ارضی اور سماوی اشیاء پر قیامت کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ سورة کے آخر میں قرآن کریم کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ اور اسکی صداقت وحقانیت کا بیان ہے
سابقہ کئی سورتوں میں قیامت کا ذکر مختلف انداز سے آرہا ہے۔ کہ قیامت کا اثر مختلف چیزوں پر کیا ہوگا۔ سورة عبس میں قیامت کا ذکر اس اعتبار سے تھا کہ انسان پر اس کے خویش و اقارب پر قیامت کا کیا اثر ہوگا ۔ جیسے فرمایا ” اذاجاء ت الصاخۃ “ جب وہ چیخ آئے گی ” یوم یفرالمرء من اخیہ “ اس دن بھائی بھائی سے بھاگے گا۔
حدیث (ب 1 ترمذی ص 481) میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے ۔ من شاء ان ینظر الی یوم القیمۃ کا نہ رء ای عین “ جو شخص قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہے ۔ اسے چاہئیے کہ سورة تکویر پڑھے ۔ اس کے علاوہ سورة ” اذا السماء انشقت “ اور بعض دوسری سورتوں کا بھی ذکر آتا ہے۔ ان سورتوں کو پڑھ کر قیامت کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے ۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حضور ﷺ سے عرض (ب 2 ترمذی ص 473 مستد رک ص 343 ج 2) کیا ۔ کہ حضور ! کیا بات ہے آپ پر بڑھاپا طاری ہورہا ہے ۔ تو آپ نے فرمایا یعنی بڑھاپا فکر کی وجہ سے آرہا ہے۔ قیامت کی فکر سے ۔ ان سورتوں نے مجھے بوڑھا کردیا ۔ کہ ان میں قیامت کا حال پڑھکر مجھے فکر لاحق ہوجاتی ہے ۔ گویا بڑھاپا طاری ہونا غم اور فکر کی وجہ سے ہوتا ہے ۔
عربی کی کہاوت (ب 3 تفسیر عزیزی فارسی ص 70 پارہ 30) ہے کسی شخص نے طبیب سے پوچھا ماشیبتنی “ مجھے کس چیز نے بوڑھا کردیا ہے ؟ طبیب نے جواب دیا قال بلغم یعنی بلغم کی زیادتی نے جب جسم میں بلغم زیادہ ہوجائے اور دوسرے اخلاط کم ہوجائیں تو بال سفید ہوجاتے ہیں۔ ضعف طاری ہوجاتا ہے تو اس شاعر نے حکیم سے کہا فقلت فقلت لہ علی غیر احتشام لقد اخطات فیما قلت بلغم
آپ غلط کہتے ہیں میرا بڑھاپا بلغم کی وجہ سے نہیں بلکہ غم کی وجہ سے آرہا ہے۔ ابن ماجہ (ب 1) کی روایت میں ہے غم نصف الہرم ہے ۔ یعنی آدھا بڑھاپا غم کی وجہ سے آتا ہے۔ اسی لیے حضور ﷺ نے فرمایا کہ ان سورتوں نے مجھے بوڑھا کردیا ہے۔ کیونکہ ان میں قیامت کا ذکر ہے۔ محاسبہ کا ذکر ہے۔ مختلف اقوام کے ساتھ جو سلوک ہوچکا ہے یا آئندہ ہونے والا ہے۔ اس کا ذکر ہے اور اس غم کی وجہ سے بڑھاپا طاری ہورہا ہے۔
(نظام شمسی)
فرمایا اذا الشمس کورت جب سورج کی روشنی کو تہ کردیاجائے گا۔ تکویر کا معنی لپیٹنا ہوتا ہے جس طرح چادر کو لپیٹ دیا جاتا ہے۔ تو اس دن سورج کی روشنی بالکل چھین لی جائے گی۔ سورج سفید ٹکیہ کی مانند رہ جائے گا۔ جس طرح میدہ یا پنیر کی ٹکیہ ہوتی ہے۔ اور بعد میں اس کو درہم برہم کردیاجائے گا۔
جب سے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو پیدا کیا ہے ، سورج کا یہ نظام قائم ہے سورج اتنامشہور اور اہم ہے کہ دنیا کا نظام اسی سیارے کی طرف منسوب ہے۔ ہم اسی نظام شمسی میں رہتے ہیں۔ سورج کا حجم اس قدر ہے کہ ماھرین فلکیات والے بتاتے ہیں کہ سورج کا حجم ، زمین کے حجم سے تیرہ لاکھ گنا بڑا ہے۔ چونکہ زمین سے بہت دور ہے اسی لیے بظاہر چھوٹا نظرآتا ہے۔ سورج زمین سے نو کروڑ تیس لاکھ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔
قرآن پاک میں شعری ستارے کا بھی ذکر ہے۔ فلکیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ سیارہ سورج سے بیس ہزار گنا بڑا ہے۔ عرب کے بعض پرانے مشرک اس ستارے کی پرستش کرتے تھے۔ اس میں خاص قسم کی روحانیت مان کر اس سے حاجتیں طلب کرتے تھے۔
ستاروں کے نام پر مندر بنائے ہوئے ہیں کوئی زہرہ کا مندر ہے کوئی سورج کا مندر ہے پرانے بابلیوں کے ہاں اور مصریوں میں بھی ستارہ پرستی پائی جاتی تھی ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے میں ستارہ پرست زیادہ تعداد میں تھے یہ ستاروں کو معبود مان کر ان سے حاجت روائی کرتے تھے آج کے ستارہ پرست بھی ستاروں میں کرشمہ مانتے ہیں۔
بہرحال سورج بہت بڑا سیارہ ہے۔ قیامت کے دن جب صور پھونکاجائے گا۔ تو اس کی روشنی ختم کردی جائے گی جس طرح چادر لپیٹ دی جاتی ہے۔ سورج ایک ٹکیہ کی مانند رہ جائے گا۔ مگر بعد میں وہ بھی باقی نہیں رہے گی۔ یہ تو سورج کا حال ہوگا۔ زمین تو اس کے مقابلہ میں بہت چھوٹا سیارہ ہے۔ اسی سے انداز ہ لگایا جاسکتا ہے کہ قیامت کے روز زمین کی کیا حالت ہوگی۔
ماہرین فلکیات کی تحقیق کے مطابق کل سات سیارے ہیں جن میں سورج ، چاند ، زحل ، مشتری ، مریخ زہرہ اور عطارد ہیں۔ انہیں سبعہ سیارات کہا جاتا ہے یہ سارا نظام شمسی ہے۔ اور ہم اسی نظام کے ساتھ منسلک ہیں۔ ان میں سے پانچ سیارے (زحل ، مشزی مریخ زہرہ عطارد) خمسہ متحریہ کہلاتے میں (کیونکہ ان کی رفتار باقاعدہ نہیں ہے) یہ تمام بڑے بڑے سیارے ہیں۔ بعض زمین سے بڑے ہیں۔ بعض چاند سے بڑے ہیں۔ مگر سورج کی نسبت باقی سب چھوٹے ہیں اور اس کے ماتحت سمجھے جاتے ہیں۔ بعض سیارے زمین سے چودہ کروڑ میل دور ہیں اور اس کے ماتحت سمجھے جاتے ہیں بعض سیارے زمین سے جو دہ کروڑ میل سے زیادہ دور ہیں اور بعض کے بعد کا کوئی حساب نہیں لگا یاجاسکتا ہے۔
سورج اور چاند مقرر چال سے چل رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی منزل مقرر کی ہے ان پر گامزن ہیں۔ سال میں بارہ منزلیں طے کرتے ہیں۔ کل بارہ برج ہیں سورج ہر ماہ ایک برج میں ہوتا ہے پھر اس کی چال بدل جاتی ہے۔ اسی طرح چاند کی کیفیت ہے مگر ا ن کے علاوہ جو باقی پانچ سیارے ہیں ان کو خمسہ متحیرہ کہتے ہیں۔ ان کی چال یکساں نہیں ہے۔ ان کا مفصل بیان اس سورة کے آخر میں آئے گا۔
(سارا نظام درہم برہم ہوجائیگا)
فرمایا جب قیامت آئے گی تو سورج بےنور کردیا جائے گا۔ اس کی روشنی لپیٹ دی جائے گی بعض روایتوں (ب 1 تفسیر کبیر ص 66 ج 31 وتفسیرروح المعانی ص 50 ج 30 و تفسیر درمنثورص 318 ج 6 بحوالہ ابن ابی حاتم و دلیمی تفسیر بن کثیر ص 475 ج 1) میں آتا ہے کہ سورج اور چاند دونوں کو توڑ پھوڑ کر جہنم میں پھینک دیاجائے گا۔ فرمایا واذا النجوم انکدرت جب یہ بڑے چمکدار ستارے میلے ہوجائیں گے۔ ان کی روشنی سلب ہوجائے گی واذا الجبال سیرت اور جب پہاڑ چلائے جائینگے آج تو پہاڑ بڑے مضبوط نظر آتے ہیں۔ ان میں صرف زلزلے کے وقت تھوڑا بہت تغیر آتا ہے۔ ورنہ وہ تمام حوادثات صحیح سلامت گذر جاتے ہیں۔ قیامت کے روز یہی ناقابل تسخیر پہاڑ اون کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔ پھر فرمایا واذالعشار عطلت اور جب گابھن اونٹنیاں بیکار چھوڑ دی جائیں گی۔ عربوں کے نزدیک اونٹنیاں بہت پسند یدہ مال ہوا کرتا تھا۔ ان کی معیشت اور کاروبار انہی پر منحصر تھا۔ اسے بار برداری اور خوراک کے لیے بھی استعمال کرتے تھے۔ خاص طور پر جب دس ماہ کی گابھن اونٹنی بچہ جننے کے قریب ہو۔ تو بہت بڑی جائید اد سمجھی جاتی تھی۔ اور اس کی حفاظت کی جاتی تھی۔ مگر قیامت کے دن نفسا نفسی کی یہ حالت ہوگی کہ گا بھن اونٹنی جیسے قیمتی مال کی بھی کوئی پروا نہیں کرے گا۔
فرمایا واذ الوحوش حشرت اور جب وحشی جانور اکٹھے کئے جائیں گے۔ جنگلی جانور مثلا شیر ریچھ ، بندر ، ہاتھی وغیرہ بھاگ کر آبادیوں کی طرف آئیں گے۔ ان پر دہشت اور خوف کا یہ عالم ہوگا کہ جنگلی درندے انسانی بستیوں میں پناہ ڈھونڈیں گے۔ مگر کوئی کسی کا پرسان حال نہیں ہوگا۔ بعض اوقات سیلاب کے دوران لوگوں نے مشاہدہ کیا ہے کہ سانپ اور انسان ایک ہی چھپر پر پناہ گزیں ہیں۔ کوئی کسی کو کچھ نہیں کہتا۔ ہر کسی کو اپنی جان کی فکر ہے۔ قیامت کے روز انسانوں اور جانوروں کا یہی حال ہوگا۔ کہ سب اکٹھے ہوجائیں گے۔
فرمایا واذا البحار سجرت اور جب دریاؤں یا سمندروں کو گرم کیا جائے گا۔ جھونک دیا جائے گا۔ تسجیر کے دو معنی آتے ہیں۔ یعنی بھر نا یا پر کرنا اور گرم کرنا۔ قیامت کے روز دریا اور سمندر گرم کئے جائیں گے اور وہ بھاپ بن کر اڑ جائیں گے واذا النفوس زوجت اور جب نفسوں کو ملایاجائے گا۔ نکاح کے لیے بھی یہی لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس کے ذریعے ایک مرد اور ایک عورت کو ملا دیا جاتا ہے۔ بعض (ب 2 کنزالعمال ص 345 ج 2 و تفسیر کبیر ص 69 ج 31 ومظہری ص 206 ج 10) فرماتے ہیں کہ اس سے یہ مراد ہے کہ قیامت کے دن روح جسم کو دوبارہ جوڑ دیا جائے گا۔ زیادہ صحیح بات (ب 1 مستد رک حاکم ص 516 ج 2) ہے کہ ہر وضع کے آدمیوں کو اکٹھا کیا جائے گا۔ یعنی نمازی نمازیوں کے ساتھ جائیں گے۔ شرابی شرابیوں کے گروہ میں شامل ہوجائیں گے اور علیٰ ہذا القیاس۔
(زندہ درگور کرنے والوں سے بازپرس )
فرمایا واذا الموء دۃ سئلت اور جب زندہ درگور کی جانے والی بچیوں سے پوچھا جائیگا بای ذنب قتلت کہ انہیں کس گناہ کی پاداش میں قتل کیا گیا عربوں کے بعض قبائل عورتوں کو حقیر سمجھتے تھے۔ لہذا بچی پیدا ہوتے ہی اسے زندہ گاڑ آئے تھے۔ سورة نحل اور بعض دوسری سورتوں میں اس کی تفصیل موجود ہے بچی پیدا ہونے پر بعض لوگ گھر سے ہی بھاگ جاتے تھے۔ وہ ایسی خوشخبری سننا ہی نہیں چاہتے تھے۔ اور بعض شرم کے مارے اتناحفا ہوجاتے تھے کہ اسے زندہ درگور کر آتے تھے۔ اگرچہ تمام عربوں میں یہ رواج نہیں تھا۔ تاہم بعض جاہل لوگ اس قسم کی جہالت کے عادی تھے۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ بچی کی پیدائش کو عار سمجھتے تھے۔ حالا ن کہ یہ انتہائی درجے کی حماقت اور بیوقوفی تھی۔ آخر مرد بھی تو کسی عورت کے بطن سے ہی پیدا ہوا اس کی بیوی بھی تو کسی کی بیٹی ہے۔ جب اپنے ہاں بیٹی پیدا ہوتی تو اسے زندہ درگور محض اس لیے کردیا یہ کسی دوسرے کے گھر جائے گی وہ ہمارا داماد بنے گا جو کہ شرم کی بات ہے۔ یہ سب جہالت اور نادانی کی باتیں ہیں۔ آج بھی بعض لوگ اس قسم کی خلاف عقل باتیں کرتے ہیں۔ کہ بیٹی جوان ہوگی تو جہبز کہاں سے آئے گا۔ اس کی پرورش کا خرچہ کون برداشت کرے گا۔ مشرکین بھی اولاد کو اسی لیے قتل کرتے تھے۔ کہ ان کو کون کھلائے پلائے گا۔ یہ ہمارے آرام میں مخل ہوں گے۔
جب قیامت برپا ہوگی۔ تو قتل ناحق کے متعلق بازپرس ہوگی۔ عام قانون بھی یہی ہے کہ قتل کے مقدمہ میں مدعی خود حکومت ہوتی ہے۔ لہذا اس دن خود اللہ تعالیٰ پوچھیں گے۔ کہ ان بےگناہ بچیوں کو کیوں قتل کیا گیا۔ طبرانی (ب 2 روح المعانی ص 53 ج 30 بحوالہ طبرانی ودرمنثورص 320 ج 6) کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ کے ایک صحابی صعصہ بن ناجیہ تھے۔ تابعین میں حضرت علی ؓ کے شاگرد (مہشور شاعر) فرزدق کے دادا تھے انہوں تے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ جاہلیت کے زمانے میں میں نے تین سو ساٹھ بچیوں کی جان بچائی۔ مشرکین ان کو زندہ درگور کرنا چاہتے تھے۔ مگر میں نے ہر بچی کے عوض دوگابھن اونٹنیاں اور ایک اونٹ دے کر ان کی جان بچائی۔ حضور ! یہ فرمائیں کہ اس عمل کا مجھے کوئی فائد ہ ہوگا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا یہ کم فائدہ ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے اسلام کی توفیق بخشی۔ تو نے یہ نیکی کا کام کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے تجھے یہ صلہ دیا۔ الغرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا۔ تو زندہ درگور ہونے والی بچیوں سے پوچھا جائے گا۔ کہ تمہیں کس جرم میں قتل کیا گیا۔
(ہرچیز واضح نظرآئے گی)
فرمایا واذا الصحف نشرت جب اعمالنامے کھول دیے جائیں گے دوسری جگہ آتا ہے کتبا یلقاہ منشورا یعنی اعمالنامہ سامنے ہوگا۔ اس کے بعد فرمایا اذالسماء کشطت ” جب آسمان کی کھال اتاردی جائے گی۔ مطلب یہ کہ جس طرح اوپر سے کھال اتاردی جائے تو پیچھے گوشت پوست نظر آنے لگتا ہے۔ اس طرح قیامت کے روز جب آسمان کی کھال اتاردی جائے گی۔ تو اوپر کی تمام چیزیں نظر آنے لگیں گی۔ سورة نبا میں ذکر آچکا ہے۔ وفتحت السماء فکانت ابوابا “ آسمان کھول دیا جائے گا۔ تو دریچے دریچے نظر آئیں گے۔ ان دروازوں سے عالم بالا کی سب چیزیں نظر آنے لگیں گی۔ مگر بعد میں سب چیزوں کو درہم برہم کردیا جائے گا۔ یہ آسمان تبدیل کردیا جائے گا۔ پھر دوسرازمین وآسمان قائم ہوگا اور حساب وکتاب ہوگا۔
واذالجحیم سعرت جب جہنم کو بھڑکا دیاجائے گا۔ گرم کردیا جائے گا۔ پچھلی سورة میں گذر چکا ہے کہ جہنم کو حشر کے میدان کے قریب کردیا جائے گا۔ مجرمین اسے دیکھیں گے تو انہیں یقین آجائے گا۔ کہ وہ اس میں جانے والے ہیں فرمایا واذ الجنۃ ازلفت اور جب جنت کو قریب کرد یا جائے گا یعنی جنت بھی نظر آنے لگے گی۔ مراد یہ کہ تمام نظام تبدیل کردیا جائے گا۔ اور کائنات کی ہرچیز قیامت اثرانداز ہوگی۔ یہ ایسا اثر ہوگا جو آج انسان کی سمجھ میں نہیں آسکتا پھر اس وقت کیا ہوگا علمت نفس ما احضرت جا ن لے گا ہر نفس جو اس نے حاضر کیا۔ انسان نے اس دنیا میں جو بھی نیکی یا بدی کی ہوگی سب اس کے سامنے ہوگی۔ اسے پتہ چل جائے گا کہ اس نے اس دنیا کی زندگی میں کیا کمایا اور کیا کھویا۔ اس کے ہر فعل کا نتیجہ اس کے سامنے آنے والا ہے۔
Ayahs 81:14–18(گذشتہ سے پیوستہ)
سورۃ کے پہلے درس میں قیامت کا ذکر تھا ۔ اس درس میں قرآن کریم کا ذکر ہے ۔ قرآن پاک کی صداقت ، اس کی حقانیت اس کا منزل من اللہ ہونا اس کو لانے والے فرشتے اور خود نبی (علیہ السلام) کی حیثیت کا بیان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیامت اور قرآن پاک آپس میں مریوط ہیں ۔ اسی لیے دونوں کا اکٹھا ذکر ہے۔ قیامت کا ذکر اس لحاظ سے ہے۔ کہ اس کا اثر کائنات کی مختلف اشیاء پر کیا ہوگا ۔ چناچہ اس سلسلہ میں نظام شمسی کے سب سے بڑے کرے سورج کا ذکر ہے۔ کہ اس کی روشنی ختم ہوا جائے گی۔ اس کے بعد باقی سیاروں کا ذکر ہے۔ سورج اور چاند کے متعلق فرمایا کہ یہ دوسیارے ایک خاص نظام کے تحت مقررہ راستے پر چل رہے ہیں۔ اور انہی کی وجہ سے دن اور رات کا نظام قائم ہے۔ قرآن پاک نے اسے جعل الیل والنھار خلفۃ کہا ہے۔ یعنی رات اور دن ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے ہیں۔ گویا سورج اور چاند کی حرکت اس قدر باقاعدہ ہے۔ کہ اس میں ذرا بھر بھی فرق نہیں آتا۔
(خمسہ متحیرہ)
البتہ کے علاوہ جو باقی پانچ سیارے زحل مشتری مریخ زہرہ اور عطارد ہیں ان کا نظام کچھ عجیب سا ہے۔ یہ غیر منظم ہیں۔ ماہرین فلکیات انہیں خمسہ متحیرہ یعنی پانچ حیران کن سیارے کہتے ہیں۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے ان سیاروں کا ذکر کرکے قیامت کے ساتھ ان کا ربط بھی بیان فرما دیا ہے۔
فرمایا فلا اقسم بالخنس پس میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹ جانے والوں کی البوار “ ان کی جو سیدھے چلتے ہیں الکنس ان ستاروں کی جو رک جاتے ہیں خنس کا معنی پیچھے ہٹ جانا خناس اسی سے مشتق ہے۔ قرآن پاک میں ہے من شر الوسواس الخناس “ پناہ مانگتا ہوں پیچھے ہٹ جانے والوں یعنی شیاطین کے باربار وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے ۔ الجوار جاریہ سے ہے۔ یعنی جو سید ہے چلتے ہیں ۔ الکنس یعنی وہ سیارے جو ایک جگہ دبک جاتے ہیں ۔ رک جاتے ہیں ۔ ٹھہرجاتے ہیں ۔ کنس سے کناسہ ہے جو کہ جانور کی خواب گاہ کو کہا جاتا ہے۔ جب خرگوش یا دیگر جانور اپنی خواب گاہ میں آکر چھپ جاتے ہیں ، آرام کرتے ہیں تو ان پر کنس کا لفظ بولا جاتا ہے تو ان سیاروں سے وہی پانچ سیارے مراد ہیں ۔ جو کہ حیران کن چال چلنے کی وجہ سے خمسہ متحیر ہ کہلا تے ہیں ۔ ان کا نظام شمسی نظام سے مختلف ہے ۔ حضرت علی ؓ سے منقول (ب 1 روح المعانی ص 58 ج 30 بحوالہ ابن عساکر وابن ابی حاتم و کنزالعمال ص 346 ج 2) ہے۔ کہ ان پانچ سیاروں کی چال بےڈھب ہے ۔ عام طور پر ان کی چال مغرب سے مشرق کی جانب ہوتی ہے۔ چلتے چلتے جب یہ سورج کے قریب آتے ہیں۔ تو رک جاتے ہیں نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں ۔ اس کے بعد ان کی چال مشرق سے مغرب کی جانب شروع ہوجاتی ہے ۔ تو گویا یہ سیارے کبھی سید ہے چلتے ہیں ۔ کبھی رک جاتے ہیں کبھی پیچھے ہٹ جاتے ہیں ۔ ان کا اپنا ایک نظام ہے ۔
(رات اور دن کا تغیر وتبدل )
فرمایا والیل اذاعسعس اور قسم ہے رات کی جب وہ پھیل جاتی ہے ۔ سب چیزوں پر تاریکی چھاجاتی ہے۔ عسعس کا لفظ متضاد معانی پر بولا جاتا ہے۔ اس سے مراد رات کا ہٹ جان ابھی ہے۔ اور رات کا چھا جانا بھی ہے۔ اس مقام پر چھا جانے کا مفہوم زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے والصبح اور قسم ہے صبح کی اذا تنفس جب وہ سانس لیتی ہے۔ جس طرح مچھلی پانی میں سانس لیتی ہے۔ تو پانی کی پھوار اوپر نکلتی ہے۔ اسی طرح جب سورج طلوع ہونے کے قریب ہوتا ہے۔ تو اس کی شعاعیں کناروں پر پھیل جاتی ہیں اور پھر پوری روشنی نمودارہوتی ہے صبح کے سانس لینے کا یہی مطلب ہے۔ الغرض صبح وشام کی آمد ایک نظام کے تحت ہے۔ سورج اور چاند کی حرکت مقررہ راستوں پر جاری ہیں۔ البتہ خمسہ متحیرہ غیرمنظم طریقے سے مصروف عمل ہیں۔ کبھی یہ سید ہے چلتے ہیں۔ کبھی رک جاتے ہیں۔ کبھی الٹے چلتے ہیں اور بعض اوقات کئی کئی دن تک غائب رہتے ہیں نظر نہیں آتے ۔
(ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں )
اس بحث سے معلوم ہوا کہ کائنات میں دو قسم کے نظام چل رہے ہیں۔ ایک نظام سورج اور چاند کا منظم نظام ہے۔ جس سے رات اور دن پیدا ہوتے ہیں۔ اور دوسرانظام خمسہ متحیرہ کا غیر متظم نظام ہے۔ گویا سورج اور چاند والا نظام آتا ہے۔ اور آسانی کے ساتھ سمجھ میں آرہا ہے۔ دوسرا نظام نظروں سے اوجھل ہے۔ اسی لیے اسے سمجھنے کیلیئے ماہرین کے غوروفکر کی ضرورت ہے اسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں۔ عام آدمی کی سمجھ سے بالا ہے۔ ان دو نظاموں کے ذکر سے سمجھانا یہ مقصود ہے۔ کہ جہاں صرف یہی نہیں جو نظر آتا ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی کائنات لا محدود ہے۔
اسے سمجھنے کے لیے انسان کو اپنی نگا ہ مزید اونچا کرنے کی ضرورت ہے۔ غوروفکر کی ضرورت ہے کہ یہ دونوں نظام بھی کسی تیسرے ان سے اوپر والے نظام کے تحت چل رہے ہیں ۔
(حظیرۃ القدس)
شاہ ولی اللہ (رح) کی اصطلاح میں اس تیسرے نظام کو حظیرۃ القدس کا نظام کہا گیا ہے۔ کائنات کا شمس وقمر والا نظام ہو یا خمسہ متحیرہ کا غیر منظم نظام ہو۔ یہ حظیرۃ القدس والے نظام کے تحت چل رہے ہیں آج یہ نظام شمسی نظر آرہا ہے۔ مگر جب قیامت بر پا ہوگی۔ تو اللہ تعالیٰ کی تجلی کا نظام ظاہر ہوگا۔ اتنی بڑی تجلی ظاہر ہوگی۔ جس کی وجہ سے سورج بالکل تاریک ہو کر رہ جائے گا۔ نظام شمسی ختم ہوجائے گا اور حظیرہ القدس والا نظام کار فرما ہوجائے گا۔ قرآن کریم کا نزول بھی اسی نظام کے تحت ہوا ہے۔
(جبرائیل (علیہ السلام) کی طاقت )
قرآن پاک کے متعلق فرمایا انہ لقول رسول کریم بڑی عزت والے قاصد کا کلام ہے قرآن تو حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا کلام ہے ۔ مگر اس مقام پر اسے لانے والے جبرائیل (علیہ السلام) کو قرآن پاک لانے کی وجہ سے اس کے ساتھ خاص تعلق ہے ۔ اور جبرائیل کیا چیز ہے ذی قوۃ بڑی طاقت کا مالک ہے ایک موقع (ب 1 تفسیر روح المعانی ص 59 ج 30 وتفسیردرمنثور ص 321 ج 6 بحوالہ ابن عساکر ) پر حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری قوت کا ذکر کیا ہے ذرا بتاؤ کہ تمہاری طاقت کتنی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس قدر طاقت عطاکی ہے جس کا اندازہ قوم لوط کی تباہی سے کیا جاسکتا ہے بحر میت کے قریب شرق اردن میں چھ بڑے بڑے شہر تھے۔ جن کی محمبوعی آبادی چار لاکھ نفوس سے زیادہ تھی (ب 2 تضیرابن کثیر ص 259 ج 4) زمین تھی باغات تھے مگر جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ، میں نے اپنے پر کے ایک ذرا سے کنارے سے پورے علاقہ کو اٹھا کر اتنی بلندی پر لے گیا کہ کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آسمان پر سنائی دینے لگیں پھر میں نے ان کو زمین پر پٹخ دیا بحیرہ مردار کی آج تک یہ حالت ہے کہ اس کے پانی میں کوئی جانور زندہ نہیں رہ سکتا۔ الغرض ! جبرائیل (علیہ السلام) بڑی طاقت کے مالک ہیں۔ نیز وہ عند ذی العرش مکین عرش کے مالک یعنی خدا تعالیٰ کے نزدیک صاحب مرتبہ ہے۔ وہ مطاع ہے وہاں پر اس کی بات مانی جاتی ہے۔ کیونکہ وہ سردار ہے۔ دوسرے فرشتے اور ملاء اعلی کی جماعت اس کے ماتحت ہے۔ ثم ، وہاں پر ، امین ، امانتدار ہے۔ یہ جبرائیل (علیہ السلام) کی تعریف بیان کی گئی ہے۔ وہ قرآن کریم کو حظیرۃ القدس سے لانے والا ہے ۔
فرمایا تمارے صاحب جن پر قرآن نازل ہوا ہے ۔ (نعوذبا اللہ) کوئی دیوانے نہیں ہیں۔ مشرک اور کافر حضور ﷺ کے متعلق کہتے تھے ” انک لمجنون “ آپ دیوانے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس بیہودہ بات کی تردید فرمائی۔ سورة ” ن “ اور بعض دیگر سورتوں میں آچکا ہے۔ کہ آپ کو دیوانہ کہنا اتہام ہے۔ اس میں کوئی حقیقت نہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اعلیٰ درجے کی استعداد اور صلاحیت بخشی ہے۔ ایسی صلاحیت جو ساری کائنات میں کسی کے حصے میں نہیں آئی ۔
Ayahs 81:19–29(جبرائیل (علیہ السلام) اپنی اصلی صورت میں)
جیسے کہ پہلے بیان ہوا جبرائیل (علیہ السلام) کا تعلق قرآن پاک کے واسطہ سے نظام بالا کے ساتھ ہے۔ چناچہ ارشاد ربانی ہے۔ ولقد راہ بالا فق المبین یعنی نبی (علیہ السلام) نے جبرائیل (علیہ السلام) کو کھلے کنارے پر دیکھا ہے۔ حدیث (ب 1 بخاری ص 3 ج 1 ومسلم ص 10 ج 1) شریف میں آتا ہے کہ ابتدائے نبوت کے زمانہ میں حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو اپنی اصل شکل میں دیکھا تھا جبرائیل (علیہ السلام) کرسی پر بیٹھے تھے اور آسمانی فضا بھی بھری ہوئی آپ نے مشاہدہ کیا تو دہشت طاری ہوگئی تشریف لائے اور فرمایا مجھ پر کمبل ڈال دو پھر آپ نے سارا واقعہ بیان کیا۔ اس کے بعد آپ نے دوسری مرتبہ جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا۔ اس کا ذکر سورة نجم میں موجود ہے ” ولقد راہ نزلۃ اخری “ مگر کس مقام پر ، معراج کے موقع پر حظیر ۃ القدس میں ” سد رۃ المنتھی “ سد رۃ المنتہی کے قریب ” عندھا جنۃ الماوی “ جہاں بہشت بھی پاس ہی ہے۔ فرمایا مشاہدے میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ” مازاغ البصروماطغی “ نبی (علیہ السلام) نے جو کچھ مشاہدہ فرمایا صاف صاف واضح طور پر تھا۔ الغرض فرمایا جبرائیل (علیہ السلام) کو قرآن پاک لانے کی بنا پر حظیرۃ القدس کے نظام سے تعلق ہے۔
( حضور ﷺ اور قرآن پاک)
فرمایا تمہارا صاحب یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کسی کاہن کی طرح نہیں ہے۔ جو جنات سے خبر معلوم کرکے اس میں جھوٹ ملاتے ہیں۔ اور پھر فیس لے کر دوسروں کو حال بتاتے ہیں۔ خود بھی راستے سے بھٹکتے ہیں اور دوسروں کو کبھی گمراہ کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے بلکہ حضور ﷺ کو جب کوئی غیب کی خبر معلوم ہوتی ہے تو وہ اس کو ظاہر کرنے میں بخل نہیں کرتے نہ کو تی معاوضہ طلب کرتے ہیں۔ بلکہ ٹھیک ٹھیک دوسروں تک پہنچا دیتے ہیں۔ آپ کا قرآن پاک کے ساتھ اتصال ہے اور یہ ایسی کتاب ہے۔ وما ھو بقول شیطان رجیم یہ شیطان مردود کی بات نہیں ہے۔ مشرک لوگ حضور ﷺ پر الزام لگا تے تھے کہ آپ جنات سے کلا م سیکھتے ہیں اور آگے بطور قرآن پیش کرتے ہیں ۔ یا جیسے عیسائی الزام لگا تے تھے۔ کہ آپ نے یہ کلام کسی راہب سے سیکھا ہے۔ فرمایا یہ شیطان کا کلام نہیں ہے۔ کیونکہ شیطان ہمیشہ برائی کی بات کرتا ہے۔ مگر قرآن پاک نہایت پاکیزہ تعلیم پیش کرتا ہے۔ اخلاق عالیہ توحید الٰہی عبادات ربانی ، اور اعلیٰ وارفع قوانین پیش کرتا ہے۔ بھلا ایسی چیز شیطان کیسے پیش کرسکتا ہے۔ یہ تو محض ان کا الزام ہے۔
(دعوت فکر)
فرمایا اس تمام تر حقیقت حال کے واضح ہوجانے کے بعد فاین تذھبون تم کدھر جا رہے ہو ذرا غوروفکر کرو۔ کیسی الٹی باتیں کر رہے ہو۔ قرآن پاک اصلیت یہ ہے کہ یہ تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے۔ یاد دہانی ہے نعمت ہے اور منزل من اللہ ہے۔ اس کو لانے والا وہ فرشتہ ہے جس کی صفات سن چکے جس ذات پاک پر نازل ہوا۔ اس کی تعریف بھی معلوم ہوگئی اور خود قرآن پاک کی حقیقت سے بھی تم آگا ہ ہوگئے یہاں پر اشارۃ یہ بات سمجھا دی کہ حقیقی ترقی قرآن پاک ہی کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے۔ اس کے بغیر کائنات کے کسی حصے میں ترقی کا کوئی امکان نہیں سائنس ٹیکنا لوجی صنعت وحرفت میں موجود ہ مادی ترقی کے باوجود نسل انسانی جب تک قرآن پاک نہیں اپنائے گی۔ گدھے کا گدھا رہے گی۔ لوگ حقیقی انسانیت سے محروم رہیں گے۔ فرمایا جو کوئی تم میں سے سید ھا ہونا چاہیے لمن شاء منکم ان یستقیم اسے چاہئیے کہ وہ قرآن پاک کا دامن پکڑے کیونکہ یہ یاد دہانی ہے۔ ترقی کا پاسپورٹ ہے۔ اسی کے ذریعے حفیقی ترقی کی منازل طے کی جاسکتی ہیں لہذا جو شخص راہ راست پر آنا چاہتا ہے۔ اسے قرآن پاک سے وابستہ ہونا پڑے گا۔ اس کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں۔
(قیامت اور قرآن پاک کا باہمی ربط )
اب یہ بات واضح ہوگئی کہ قرآن پاک نظام بالا سے آیا ہے۔ اور قیامت اس نظام کے ظہور کا نام ہے۔ گویا قرآن اور قیامت دونوں کا تعلق نظام بالا سے ہے۔ اس لحاظ سے یہ دونوں آپس میں مربوط ہیں۔ اب رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات مختصہ قدیم ہیں ، مگر قرآن پاک پیغمبر (علیہ السلام) کی ذات پر زمانہ آخر میں نازل ہوا ، تو اس لحاظ سے صفات الہیہ اور قرآن میں اس طرح تطبیق ہوگی۔ اس مسئلہ کو شاہ ولی اللہ (حجۃ اللہ البالغہ ص 23 ، 24 ج 1) نے اس طرح سمجھایا ہے کہ جس طرح قدرت ، علم ، مشیت ، ارادہ وغیرہ اللہ کی صفات ہیں اسی طرح خدا کا کلام بھی اس کی صفت ہے۔ اور جس طرح دوسری صفات ازلی ہیں اسی طرح اس کا کلام بھی ازلی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اللہ کا کلام ذات خداوندی سے تجلی کی صورت میں حظیرۃ القدس میں نازل ہوتا ہے۔ وہاں پر ملاء اعلیٰ کی جماعت اور ان کے سردار جبرائیل (علیہ السلام) ہیں تو یہ تجلی جبرائیل (علیہ السلام) کے قلب پر منقش ہوجاتی ہے پھر اس مادی دنیا میں جب منصب نبوت کے لیے کوئی ہستی منتخب کرلی جاتی ہے۔ تو جبرائیل (علیہ السلام) حکم الٰہی سے اللہ تعالیٰ کے کلام کی اس تجلی کو اپنے خاص الفاظ اور معانی کے ساتھ لاکر نزلہ علی قلبک کے مصداق پیغمبر (علیہ السلام) کے قلب مبارک پر نازل کرتے ہیں۔ یہ فرشتے اور پیغمبر کا ربط بھی ہوگیا ۔
(قرآن پاک حقیقی ترقی کا ذریعہ ہے)
یہ بات بیان ہوچکی کہ صراط کے حصول کے لیے قرآن پاک سے وابستگی ضروری ہے۔ اور سیدھا راستہ اسی کے حصے میں آئے گا لمن شاء جو اسے حاصل کرنا چاہے گا۔ آگے فرمایا وماتشاءون الا ان یشاء اللہ یعنی تم ٹھیک نہیں چل سکتے۔ مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر تم صحیح راستے پر نہیں چل سکتے۔ یہاں بھی اسی کے محتاج ہو۔ اس دنیا میں قرآن پاک کی تعلیمات سے وہی شخص اٹھائے گا۔ جس میں اسے اور عمل پیرا ہونے کی استعداد اور صلاحیت ہوگی۔ اور یہ صلاحیت بھی خدا تعالیٰ کی عطاء کردہ ہے۔ لہذا قرآن پاک کی تعلیم سے مستفید ہونا بھی رضائے الٰہی پر موقوف ہے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کے دل و دماغ میں وہ صلاحیت ہی پیدا نہیں کی یا ان کی پے درپے نافرمانیوں کی وجہ سے ختم اللہ علی قلوبھم اللہ نے ان کے دلوں پر مہرلگا دی ہے تو ایسے لوگ فائد ہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ وماتشاء ون الا ان یشاء اللہ رب العلمین کا یہی مطلب ہے۔ یعنی تم نہیں چاہتے مگر یہ کہ اللہ چاہے جو تمام جہانوں کا رب ہے ۔ وہ جس میں صلاحیت رکھتا ہے وہ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ قرآن پاک واضح طور پر خبردار کرتا ہے کہ قیامت آنے والی ہے اس کے لیے تیاری کرلو۔ اس لحاظ سے قیامت اور قرآن پاک کا اتصال ہے ۔ اور اس لحاظ سے بھی کہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے۔ اس کے بعد کوئی کتاب نہیں۔ صرف قیامت ہی آتی ہے۔ درمیان میں نہ کوئی نبی ہے اور نہ کوئی اور پروگرام ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا (ب 1 مسلم ص 406 ج 2 بخاری ص 963 ج 2) کہ میرے بعد قیامت ہی آئے گی۔
(خلا صہ سورة )
اس سورة مبارکہ کے پہلے حصہ میں قیامت کا بیان اس لحاظ سے ہے۔ کہ کائنات کی مختلف اشیاء پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ انسان نے جو کچھ اس دنیا میں کمایا قیامت کے روز اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا۔ سورة کے دوسرے حصے میں نظام شمسی اور خمسہ متحیر ہ کا ذکر ہے۔ اور یہ سمجھا یا گیا ہے کہ ان دونوں نظاموں کا تعلق حظیرۃ القدس کے بالائی نظام سے ہے۔ پھر فرمایا کہ قرآن پاک بھی اس بالائی نظام سے آیا ہے۔ لہذا قرآن کریم اور قیامت آپس میں مربوط ہیں۔