Ayahs 80:1–16(پس منظر)
اکثرمفسرین کرام (ب 1 روح المعانی ص 39 ج 30 و تفسیر کبیرص 54 ج 31 تفسیر ابن کثیر ص 470 ج 4 دغیرہ ) فرماتے ہیں کہ اس سورة کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تنبیہ فرمائی ہے ۔ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ مکی زندگی میں حضور ﷺ ایک موقع پر صنادید اور سرداران قریش کو اسلام کی باتیں سمجھا رہے تھے ۔ درمنثور (ب 2 درمثورص 314 ج 6 وروح المعانی ص 39 ج 30) والے نے ان کے نام ابوجہل عتبہ ، شیبہ وغیرہ بتائے ہیں ۔ اس دوران حضور ﷺ کا ایک نابینا صحابی حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم ؓ آگیا ۔ وہ قرآن کریم کی تعلیم کرنا چاہتا تھا ۔ چناچہ اس شخص نے حضور ﷺ کو آواز دینی شروع کی کہ اے اللہ کے رسول ! علمنی مما علمک اللہ (ب 3 روح المعانی ص 39 ج 30 درمنثورص 315 ج 6) یعنی جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھایا ہے ۔ اس میں سے مجھے بھی کچھ تعلیم دیں ۔ مگر حضور ﷺ نے اس کی بات کی طرف توجہ نہ فرمائی ۔ کیونکہ اس وقت آپ کا اجہتاد یہ تھا کہ کفار ومشرکین کے لیے تبلیغ کا یہ سنہری موقع ہے اگر بات ان کی سمجھ میں آگئی تو اسلام کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوگی لہذا آپ نے اس نا ینا شخص کی طرف التفات نہ فرمایا۔
دنیا کا ایک عام قانون الناس علی دین ملوکھم ہے ۔ یعنی لوگ اپنے بادشاہوں کے دین پر ہوتے جب بڑے لوگ کسی بات کو تسلیم کرلیتے ہیں تو عام لوگ اسے آسانی مان لیتے ہیں ۔ اس لیے حضور ﷺ کا خیال درست تھا ۔ اسکا تجربہ پہلے بھی ہوچکا تھا۔ حضرت صدیق اکبر ؓ اولین مسلمانوں میں سے ہیں ۔ آپ کی وجہ سے بہت لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ۔ اسی طرح حضرت عمر ؓ اور حضرۃ امیر حمزہ کے اسلام بلا نے کی وجہ سے اسلام کو بڑی تقویت حاصل ہوئی اسی بنا پر حضور علیہ السلانے ان سرادران کی طرف توجہ فرمائی نابینا شخص کو اپنی جماعت کا فرد سمجھتے ہوئے اسے درخور اعتنا نہ سمجھا ۔ وہ شخص باربار آپ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کی کوشش کرتا رہا ۔ لہذا آپ کو یہ چیز ناگوار گزری ۔ چناچہ اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے تنیبہ نازل فرمائی ۔
(انسان کی ظاہری اور باطنی کیفیت )
اس کا منشاء یہ ہے کہ انسان دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ پہلی قسم وہ ہے ۔ جو بظاہر مہذب شائستہ دانا خوشحال عاقل اور تمیز والے ہوتے ہیں مگر وہ لوگ غوروفکر کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں گویا باطنی طور پر وہ نادان اور بیوقوف ہوتے ہیں ۔ لوگوں کی دوسری قسم وہ ہے جس میں ظاہری طور یر لوگ بالکل کچھ نہیں ہوئے عام معمولی خوبصورتی سے بھی محروم ہوتے ہیں ۔ جیسے نابینا ہونا ۔ مال واسبا ب کا فقدان ہونا ، مگر باطنی پر یہ لوگ غور وفکر کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں ۔ علت ومعلول کو سمجھتے ہیں ۔ سبب اور مسبب کو سمجھتے ہیں جانتے ہیں ۔ ان میں نتیجہ اخذ کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے ۔ گویا ان کا باطن ردشمن ہوتا ہے ۔
(حضور (علیہ السلام) سے محبوبانہ خطاب )
یہاں پر اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کے لوگوں کا ذکر فرمایا ہے ۔ حضور ﷺ ان لوگوں کی طرف زیادہ توجہ فرما رہے تھے جو بظاہر مہذب اور شائستہ نظر آتے تھے ۔ مگر باطن میں بیوقوف تھے ۔ اور اس شخص سے توجہ ہٹا رہے تھے جو ظاہر میں تو کوئی خاص شخصیت نہ تھی ۔ مگر باطن میں غور وفکر کا مادہ موجود تھا اس کی باطنی استعداد اور صلاحیت اچھی تھی ۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو عتاب کے پیرایہ میں خطاب فرمایا مگر مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (ب 1 بیان القرآن ص 76 ج 12 طبع مجتبائی دہلی۔ ) فرماتے ہیں کہ یہاں پر عنوان تو عتاب کا ہے ۔ مگر حقیقت میں عتاب نہیں ہے ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے غائب کے صیغے میں نہایت محبوبانہ انداز میں بات شروع کی ہے ۔ اور یہ بات سمجھادی ہے کہ جو لوگ باطل پر مصر ہیں ۔ اگر چہ وہ ظاہر میں مہذب ہیں ۔ آپ ان کی طرف توجہ نہ فرمائیں ۔ بلکہ ان لوگوں کی طرف نظر التفات فرمائیں ۔ جو بظاہر معمولی آدمی ہیں مگر ان کا باطن پاک وصاف ہے ۔ آپ کی توجہ کے یہ لوگ زیادہ مستحق ہیں ۔ اس مضمون کو قرآن پاک میں عام طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ مثلا حضور ﷺ کو خطاب ہے وانذر عشیرتک الا قربین “ آپ اپنے رشتہ داروں کو ڈراؤ میں یا پھر واخفض جناحک للمومین “ آپ مومنوں پر شفقت کے پر پھیلائیں جس طرح پرندہ اپنی شفقت کا پر اپنے بچوں پر پھیلا دیتا ہے تاکہ انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے ۔ اسی طرح آپ بھی مومنین کے سرپرست شفقت دراز کریں ۔
(آغاز کلام )
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا عبس چین بجبیں ہوئے تیوری چڑھائی ، ادھر التفات نہ کیا وتولیٰ اور منہ پھیرلیا اس وجہ سے کہ ان جاءہ الاعمی آپ کے پاس اندھا شخص آیا ۔ حالانکہ اندھے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے بلکہ وہ اور زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔
یہاں تک تو بات غائبانہ انداز میں تھی ۔ اب آگے براہ راست خطاب ہوتا ہے وما یدریک لعلہ یزکی اور آپ کو کیا معلوم شاید کہ وہ پاک ہوجائے ۔ اسے تزکیہ حاصل ہوجائے اویذکر یا نصیحت حاصل کرلے فتنفعہ الذکری اور یہ نصیحت اس کے لیے فائدہ مند ثابت ہو ۔ تزکیہ ابرار اور کاملین کی منزل ہے کہ وہ ہر حالت میں اپنے آپ کو پاک صاف رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ اعلیٰ درجہ ہے ۔ البتہ ابتدائی درجہ نصیحت حاصل کرنے کا ہے ۔ اور وہ بتدر یج نیکی منزل تک پہنچتا ہے تو گویا یہاں پر یہی بات بیان کی جا رہی ہے۔
کہ آپ اس نابینا سے بےالتفاتی نہ برتیں ، ہو سکتا ہے یہی نصیحت حاصل کرنے کے بعد تزکیہ کی منزل تک پہنچ جائے اور درجہ کمال کو پا لے یہی شخص اخلاق عالیہ کا مالک بن سکتا ہے ۔ فرمایا اما من استغنی جو شخص آپ سے استغنی برتتا ہے ۔ جیعا کہ صنادید قریش ہزار سمجھانے کے باوجود نہیں سمجھتے ۔ آپ کو نعوذ باللہ مفتری اور کذاب کہتے ہیں ۔ آپ کو نبی ماننے کے لیے تیار نہیں بیہودہ قسم کے اعتراضات کرتے ہیں ۔ اللہ کی کتاب کو نہیں مانتے ۔ اگر چہ ظاہر ی طور ان کے پاس مال و دولت ہے مہذب اور شائستہ نظر آتے ہیں ۔ مگر آپ سے مستغنی ہیں فانت لہ تصدی اور آپ ایسے شخص کے درپے ہوتے ہیں ۔ وماعلیک الا یزکی حالانکہ یہ آپ کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ ضرور ہی تزکیہ حاصل کرلیں
(حضور (علیہ السلام) کا کام پیغام پہنچادینا ہے )
بعض مفسرین فرماتے (ب 1 روح المعانی ص 41 ج 30) ہیں کہ حضور ﷺ سے اس انداز میں خطاب عتاب نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس افراط سے روکا ہے ۔ جو آپ لوگوں سمجھانے اور تبلیغ کرنے میں رکھتے تھے۔ حتی کہ ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” لعلک باخع نفسک الا یکونو مومنین “ کیا آپ گلا گھونٹ کر ہلاک ہوجائیں گے ۔ اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے ۔ حالانکہ لست ” علیھم بمصیطر “ آپ ان پر بمنزلہ واروغہ کے نہیں ہیں ۔ بلکہ ” انما علیک البلغ “ آپ کا کام تو صرف بات ان تک پہنچا دینا ہے ۔ آپ اپنا فریضہ مکمل طور پر اداکر دیں ۔ احکام ان تک پہنچا دیں ۔ کل آپ سے یہ نہیں سوال ہوگا کہ وہ ایمان کیوں نہیں لائے کسی ہادی یا مبلغ سے صرف یہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اپنے فریضہ پورا کیا ہے یا نہیں ۔ کوئی مانے یا نہ مانے اس کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے ۔ ” فانما علیک البلغ وعلینا الحساب “ کا کام پہنچانا ہے ۔ اور ہمارا کام حساب لینا ہے ۔ چونکہ حضور ﷺ کو بہت اشتیاق تھا کہ لوگ ایمان لے آئیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تبنیہ فرمائی کہ آپ اس معاملہ میں اتنا انہماک نہ فرمائیں ۔ محض اپنا فریضہ ادا کرتے رہیں ۔ اور جو لوگ دین کے ساتھ رغبت رکھتے ہیں ۔ ان کی طرف زیادہ توجہ دیں ۔
(تبلیغ کے لیے تقدیم وتاخیر کا اصول )
فرمایا واما من جاءک یسعی جو آپ کے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے۔ وھو یخشی اور وہ ڈرتا بھی ہے ۔ فانت عنہ تلھی آپ اس سے تغافل اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بات درست نہیں ہے ۔ تو یہ درپیش ہے ۔ کہ ایک طرف کافر اور مشرک ہے اور دوسری طرف ایماندار ہے۔ تو تعلیم وتربیت میں مقدم کس کو رکھا جائے ۔ عقل کا فیصلہ تو یہ ہے کہ کافر کو مقدم رکھنا چاہئے کیونکہ وہ کفر میں مبتلا ہے اور اسے کفر سے بچانا بڑی بات ہے برخلاف اس کے کہ ایمان والا تو پہلے ہی موصوف بالا یمان ہے ۔ اگر اس کی تربیت موخر بھی ہوجائے تو کوئی حرج نہیں مگر ایسا نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے کلام پاک میں جو اصول بیان فرمایا ہے ۔ وہ اس کا الٹ ہے ، قرآن پاک چاہتا ہے ۔ کہ کافر و مشرک جو خطرناک بیماری میں مبتلا ہے اس کی بجائے اس شخص پر توجہ دی جائے جو حق کا متلاشی ہے۔
اس کی مثال ایسے ہے کہ کسی ڈاکٹر کے پاس دو مریض آتے ہیں ایک ہیضے جیسے خطرناک بیماری کا مریض ہے جب کہ دوسراصرف زکام میں مبتلا ہے ایسی صورت میں عقل کا تقاضا تو یہ ہے کہ ڈاکٹر ہیضے مریض کی طرف فوری توجہ دے اور زکام والے کو موخرکر دے مگر یہاں پر اللہ تعالیٰ نے یہ اصول بیان فرمایا کہ ہیضے کا مریض اگرچہ مہلک بیماری میں مبتلا ہے۔ مگر وہ علاج کا طالب نہیں ۔ برخلاف اس کے زکام جیسی معمول بیماری کا مریض علاج کا طالب ہے۔ لہذاپہلے اس کی طرف توجہ کی جائے گی ۔
ایک طرف نابینا شخص ہے ۔ جو ہدایت کا طالب ہے اور دوسری طرف کفار ہیں جو مصر علی الکفر ہیں ۔ لہذا ان کی طرف توجہ نہیں کی جائے گی بلکہ اس نابینا آدمی دلجوئی کی جائے گی جو حق کا متلاشی ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ لوگوں کے اسلام لانے کے لیے بہت زیادہ حریص ہونا بھی کوئی ضروری نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس بات سے روک دیا ۔ اور فرمایا کہ اپنا فرض پورا کرو ولا تسئل عن اصحب الجحیم “ آپ سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ جہنم میں کیوں گئے بلکہ یہ تو دوزخیوں سے سوال ہوگا ” ماسلککم فی سقر “ تم جہنم میں کس وجہ سے آئے ۔ اس کی جو اہدہی انہیں خود کرنی ہوگی۔ آپ کا فرض تو یہ ہے ” بلغ ما انزل الیک “ آپ پر جو کچھ نازل ہوا ہے اسے پہنچا دیں ” وان لم تفعل “ اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا ” فما بلغت رسلتہ “ تو آپ نے گویا حق رسالت ادا نہیں کیا ۔ لہذامبلغین کا کام یہ ہے کہ خدا کا پیغام لوگوں تک پہنچا دیں کوئی نہیں مانتا تو اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے۔
اس کی ذمہ داری مبلغ پر نہیں ہے ۔ ہاں اگر پہنچا نے میں کوتاہی کرتا ہے ۔ تو اس کا ذمہ دار ہے۔
(تبلیغ دین کافریضہ )
اس زمانے میں تو پہنچانے کا بھی کوئی معقول پروگرام نہیں ہے یہ تبلیغی جماعتیں جو دور دراز علاقوں تک نکل رہی ہیں دین کی بڑی خدمت کر رہی ہیں ۔ ان کے دلوں میں دین کا جذبہ موجزن ہے ۔ خدا کا پیغام اپنوں تک پہنچانا بھی بڑی بات ہے ۔ تاہم یہ کوشش ایک فیصد سے زیادہ نہیں ۔ ننانویں فی صد لوگ اس سے محروم ہی ہیں ۔ مسلمان قوم کی دولت ۔ ان کی سلطنتیں اور ان کا سرمایہ عیاشی فحاشی فیشن اور دیگر واہیات چیزوں پر خرچ ہو رہا ہے ۔ بلڈنگوں کی تعمیر زیب وزینت کے کاموں اور رسم و رواج کی نذر ہو رہا ہے۔ کہیں شادی بیاہ کی رسومات پر روپیہ پانی کی طرح بہایا جارہا ہے کہیں موت کی رسمیں ادا ہورہی ہیں ۔ مگر دین کی تعلیم و اشاعت پر کتنی رقم خرچ ہوتی ہے۔ یہ تو صفر کے برابر ہے۔ نہ سربراہان مملکت اس طرف توجہ دیتے ہیں ۔ اور نہ امرا ر اور تاجر کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں ۔ لے دے کر یہ تبلیغی جماعتیں ہیں جو دنیا بھر میں سرگرم عمل ہیں ۔ عرب ممالک سے لوگ یہاں آتے ہیں۔ یہاں کی جماعتیں سپین ہانگ کانگ اور جاپان تک پہنچتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں پھر سے یہ جذبہ عطا کرے ان کے دلوں کو اس فریضہ کی طرف راغب کرے کہ وہ اپنے مشن کو سمجھ سکیں ۔
(قرآن پاک نصیحت ہے)
فرمایا جو شخص اعراض کرتا ہے کلا خبردار ! ایسا نہیں ہوناچاہئیے کہ آپ اعراض کرنے والے کی طرف زیادہ توجہ دیں اور جو دوڑکر آتا ہے۔ صلاحیت کا مالک ہے ۔ غوروفکر کرنے والا ہے ۔ اس سے آپ توجہ ہٹالیں ۔ ایسا نہیں ہونا چاہئیے ۔ کیونکہ انھا ، قرآن پاک کی یہ آیتیں یا یہ سورة مبارکہ تذکرۃ نصیحت ہے فمن شاء ذکرہ جس کا جی چاہے اس نصیحت کو قبول کرلے کسی کے سر پر یہ نصیحت ٹھونسی نہیں جائیگی ۔ کسی کے دل میں زبردستی نہیں اتاری جائیگی ۔ یہ تو خوشی کا سودا ہے قد تبین الرشد من الغی “ ہدایت بھی واضح ہوگئی ہے اور گمراہی بھی ۔ اپنی خوشی سے ” فمن شاء فلیئومن شاء فلیکفر “ جس کا جی چاہے ایمان لائے جس کا جی چاہے کفر کرے اگر کفر کرے گا تو آگے سزا بھی تیار ہے ۔ مگر اس بارے جبر نہیں ہوگا ۔ کہ جبرا کسی کو ہدایت دیکر مسلمان بنایاجائے یہ بات نہیں ہوگی۔
فرمایا فی صحف مکرمۃ یہ نصیحت بلند عزت والے صحیفوں می لکھی ہوئی ہے۔ لوح محفوظ میں مکتوب ہے ۔ مکرمۃ کے معنی عزت والے صحیفے ۔ قرآن پاک کی ہر سورة صحیفہ ہے مرفوعۃ مطھرۃ بلند ہیں اور پاک ہیں ۔ بلند اس اعتبار سے کہ جو شخص ان پر ایمان لائے گا بلند اخلاق سے موصوف ہوگا ۔ اور پاکیزہ اس وجہ سے کہ ان پر ایمان لانے والا خدا کی وحدانیت علم اور پاکیزہ اخلاق سے روشناس ہوگا ۔ کیونکہ یہ پاکیزہ تعلیم دیتے ہیں ۔ نیز ان کی ایک صفت یہ بھی ہے ۔ بایدی سفرۃ کرام بررۃ ایسے لکھنے والے ہاتھوں میں ہیں جو بزرگ ہیں اور بڑے نیک ہیں ۔ اللہ کریم ملائکہ ان کو لاتے ہیں ۔ اور وہ لکھنے والے ہاتھوں میں ہیں جو بزرگ ہیں اور بڑے نیک ہیں ۔ اللہ کریم کے ملائکہ ان کو لاتے ہیں ۔ اور وہ لکھنے پر مامور ہیں ۔ دنیا میں جن کے پاس یہ قرآن پاک آتا ہے ۔ ان کا بھی فرض ہے ۔ کہ وہ بھی پاک صاف ہو کر اس کو لیں ۔ انہیں چاہئیے کہ وہ خدائی سفیر بن کر اس کی پاکیزہ کتاب کا پیغام دوسروں تک پہنچائیں ۔ یہ کام پاکیزہ اخلاق کے حاملین ہی انجام دے سکتے ہیں ، گندی اغراض اور ناپاک ذہنیت کے لوگ کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ لہذ اجوشخص نور ایمان سے منور ہے ۔ اور خوشی سے اسے قبول کرتا ہے ۔ اس پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے ۔ آپ اس کی طرف زیادہ توجہ دیں اور جو کوئی اعراض کرتا ہے ۔ اس کی طرف متوجہ ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ۔
Ayahs 80:17–32(گذشتہ سے پیوسنہ )
اس سورة مبارکہ کا پہلا حصہ تمہید ہے اس آخر ی حصے کی جو سورة کا اصل موضوع ہے۔ ایک نابینا شخص جو بظاہر محتاج ہے ۔ ظاہری خوبصورتی سے بھی محروم ہے ۔ مگر وہ حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اور غوروفکر کرتا ہے ۔ اسکے تعلق اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو عتاب کے طریق پر فرمایا کہ ایسے شخص سے روگردانی نہیں کرنی چاہئیے ۔ اس کے برخلاف جو ظاہر میں مہذب شائستہ خوشحال ۔ آسودہ حال اور خوبصورت ہیں آپ ان کی طرف زیادہ توجہ فرماتے ہیں ۔ حالانکہ وہ ہدایت کے طالب ہی نہیں ۔ البتہ یہ نابینا شخص طلب گار بن کر آیا ہے اس کے سینے میں جذبہ ہے ، اور نیت بھی درست ہے یہ توجہ کا زیادہ مستحق ہے۔
اس کے بعد قرآن پاک کو تذکرہ یعنی نصیحت کہا گیا ہے ۔ لہذاجو شخص چاہے اس سے نصیحت پکڑے ۔ یہ کتاب عزت والے اوراق میں لکھی ہوئی ہے یہ معزز اور بلند ہے۔ اس میں تغیر و تبدل یا آمیزش کا کوئی امکان نہیں لا یا گیا الباطل من بین یدیہ والا من خلفہ یعنی آگے پیچھے کسی طرف سے بھی اس میں باطل شامل نہیں ہوسکتا ” تنزیل من رب العلمین “ یہ تمام کائنات کے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ پاکیزہ کتاب ہے جو بھی اس کی تلاوت کرتا ہے ، وہ اللہ کی وحدانیت خدا پر ستی ۔ نیکی کامل درجے کے اخلاق اور اعلیٰ درجے کے اخلاق اور اعلیٰ درجے کی تعلیم حاصل کرتا ہے ۔ یہ قرآن پاک بزرگ اور نیک لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہے ۔ اسے عالم بالا سے لانے پر پر ملائکہ مامور ہیں اور اس دنیا میں حضرات صحابہ ؓ مجلہ ان کے حضرت ابوبکر ؓ عثمان ؓ علی ؓ عمر ؓ ہیں جہنوں نے اپنے ہاتھوں سے لکھ کر دوسروں تک پہنچایا ۔ یہ سب لوگ نیک اور بزرگ ہیں ۔ خدائی سفیر ہیں ۔ جب یہ لوگ قرآن پاک کو لے کر آگے بڑھیں گے تو کامیابی حاصل کریں گے۔
(حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم ؓ
یہ نابینا شخص حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم ؓ آنحضرت ﷺ کا موذن (ب 1 تفسیر ابن کثیرص 471 ج 4) تھا آپ سے قرابت داری بھی تھی ۔ یہ ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ کی خالہ کے فرزند تھے (ب 2 روح المعانی ص 39 جلد 30) ۔ ان کی صلاحیت کا یہ عالم تھا ۔ کہ حضور ﷺ سفر پر تشریف لے گئے تو اپنے بعد دودفعہ انہیں مدینہ میں قائم مقام مقرر فرمایا (ب 3 معالم التنزیل ص 212 ج 4 ومعالم التنزیل ص 212 ج 4 روح المعانی ص 39 ج 30۔ اس نابینا شخص کے متعلق حضرت شیخ الا اسلام ؓ تفسیر کبیر ص 54 ج 31) میں لکھتے ہیں کہ آپ زرہ پہنے ہاتھ میں جھنڈا لیے قادسی کی جنگ میں شریک ہوئے ۔ اور اسی معرکہ میں شہید ہوئے باوجود نابینا ہونے کے آپ نے بہادری کے جوہر دکھائے ۔
(غرباء و مساکین اولین متبعین ہیں )
اللہ تعالیٰ کی طرف سے تبنیہ کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کہیں یہ شبہ پیدا ہوجائے ۔ کہ شاید اسلام صرف بڑے لوگوں کا خیال رکھتا ہے ۔ اور غریب و معذور لوگوں کی طرف دھیان نہیں دیتا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس تنبیہ کے ذریعے اس باطل خیال کو بھی رد فرمایا ۔ حالانکہ ابتداء میں اسلام قبول کرنے والے یہی غریب مساکین اور نادار لوگ ہوتے ہی ھم اتباع الرسل (مخاری ص 4 ج 1 مسلم ص 98 ج 2) انبیاء (علیہم السلام) کا پیروکار یہی گروہ ہوتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں موجود ہے وما انا بطارد الذین امنو “ اور یہی بات اللہ تعالیٰ نے حضور صلی علیہ وسلم سے فرمائی ” ولا تطردالذین “ ایسے غریب لوگوں کو مت دھکیلو ” فتطردھم فتکون من الظلمین “ اگر ایسا کرو گے تو ظالم بن جاؤ گے۔ ہر وقت ان پر نگاہ شفقت رکھو ۔ کیا آپ دنیا کی زینت کو چاہتے ہیں ۔ اسکی ہرگز ضرورت نہیں ۔ لہذاجولوگ خدا کی رضا اور اس کی خوشنودی کے طالب ہیں ۔ وہ اگر چہ کمزور و ضعیف ہیں مگر آپ اپنی نگاہ شفقت انہیں کی طرف رکھیں گا یا یہ معاملہ بالکل صاف کردیا کہ اسلام امتیازی سلوک کا روادار نہیں ہے۔ یہی اس کی سب سے بڑی صداقت اور سب سے بڑا کمال ہے۔
(انسان کی طرف سے ناشگر گزاری )
ابتداء ا میں اللہ تعالیٰ نے معذور اور ضعیف اشخاص سے بات کو شروع کیا ۔ اب اس مقام پر ان لوگوں کا شکوہ بیان کیا ہے ۔ جو بظاہر دولت مند اور آسودہ حال ہیں ۔ مگر باطن میں نادان ہیں فرمایا قتل الا نسان ما اکفرہ انسان مارا جائے یہ کس قدر ناشکرگزار ہے ۔ یہاں انسان سے مراد کافر اور مشرک ہے قتل مجہول کا صیغہ ہے ۔ بددعا زجر وتوبیخ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ جب لفظ قتل استعمال کیا جاتا ہے ۔ تو اس کا مطلب ہوتا ہے خدا کرے یہ ماراجائے تباہ وبرباد ہو۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تو بددعا کرنے کی ضرورت نہیں وہ تو مالک ہے جب چاہے ہلاک کردے یہ محض ڈانٹ ڈپٹ ہے ۔ کہ ایسا شخص تباہ کرنے کے لائق ہے کہ کس قدر ناشکر گذار ہے ما اکفرہ فعل تعجب ہے کہ کتنا ناشکر گزار ہے ۔ کفر وشرک پر مصر ہے ۔ قرآن پاک جیسی پاکیزہ کتاب سے روگردانی کرتا ہے ۔ جو انسان کو اس کے فرائض سے آگاہ کرتی ہے ۔ اسے توحید اور ایمان کی دولت سے مالا مال کرتی ہے ۔ اخلاق عالیہ کی تعلیم دیتی ہے ۔ انسان کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا چاہئیے ۔ قرآن پاک ایک بہت بڑی روحانی نعمت ہے ۔ مادی نعمتوں کا ذکر آگے آرہا ہے ۔ جو ہر ایک کو حاصل ہے ۔ لہذا انسان کو شکر گذاربننا چاہئیے ۔ کفران نعمت نہیں کرنا چاہئیے ۔
(تخلیق انسانی )
فرمایا ! انسان کو غور کرنا چاہیے ۔ من ای شیء خلقہ کہ اللہ تعالیٰ اسے کس چیز سے پیدا کیا ہے ۔ ذرا اپنی تخلیق پر غور تو کرے اپنی ہستی کا جائزہ تولے ۔ فرمایا اگر شرم وحیاء کی وجہ سے خود نہیں بتا سکتا تو ہم خود بتلاتے ہیں من نطفۃ انسان کو حقیر قطرہ آب سے پیدا کیا وہ قطرہ جو پیشاب کے راستے سے خارج ہوتا ہے ۔ اور خون اور گندگی سے ملا ہوا ہوتا ہے۔ دوسری جگہ فرمایا ” نخلقکم من ماء مھین “ کیا ہم نے تمہیں حقیر قطرہ آب سے پیدا نہیں کیا۔ جو ناپاک اور نجس ہوتا ہے ۔ جو کپڑے سے لگ جائے تو نفرت پیدا ہوتی ہے ۔ اس کو صاف کرنا پڑتا ہے ۔ جو قسم سے لگ جائے تو اس کا دھونا فرض ہوجاتا ہے ۔ کیا انسان کو ایسے حقیر قطرہ آب سے پیدا نہیں کیا ؟ اور پھر دیکھو خلقہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو حقیر آب سے پیدا کرکے کس طرح درجہ کمال تک پہنچایا اور فقدرہ اس کا ایک اندازہ ٹھہرایا کہ اس کے مختلف اعضاء اس طرح ہونے چاہئیں اور اس کو کائنات کی خوبصورت ترین مخلوق بنادیا ۔ جیسے سورُۃ التین میں فرمایا لقد خلقا الا نسان فی احسن تقویم یعنی اللہ تعالیٰ نے انسانی دھانچہ نہایت احسن طریقے پر بنایا۔ اس کے قوی اور اعضاء کمال درجے کے اعتدال پر پیدافرمائے الذی خلقک فسوک فعدلک جس نے تمام اعضاء وقوی کو تمام خوبیوں کے ساتھ ٹھیک ٹھیک بنایا فی ای صورۃ ماشاء رکبک اور جس صورت میں چاہامرکب کردیا ۔ جیسی صورت اللہ نے پسند فرمائی ویسی ہی بنادی ۔ الحکیم “ اللہ تعالیٰ کی ذات لیے مثال اور وحدہ لاشریک ہے ۔ جو شکم مادر میں قطرئہ آب پر تمہاری تصویر بناتا ہے ۔ اس کے علاوہ کوئی خالق ومعبود نہیں ۔ کوئی پیدا کرنے والا نہیں ۔ کوئی حاجت روا اور مشکل کشا نہیں ۔ تم میسح ابن مریم (علیہ السلام ) کو خدا بنائے بیٹھے ہوشرم وحیا کرنی چاہئیے ۔
(راہ ہدایت)
انسان کو پیدا کرنے کے بعد فرمایا ثم السبیل یسرہ پھر اس کے لیے راستہ آسان کیا شکم مادر سے باہر آنے کا راستہ بھی اور دنیا میں چلنے کے لیے بھی انسان کے لیے راستہ واضح کیا ۔ یہ راستہ خواہ سفر کا راستہ ہو۔ یا تجارت علم کا راستہ ہو یا سیاست کا سب راستے اللہ نے آسان بنا دیے خاص طور پر دین اور ایمان کا راستہ اللہ تعالیٰ نے واضح کردیا کہ اس راستہ پر چل کرمنزل مراد کو پہنچ جاؤگے۔ اسی لیے فرمایا ” وھدینہ النجدین “ ہم نے انسان کی راہنمائی دو بڑی گھاٹیوں کی طرف کی ۔ یہ بڑی گھاٹیاں خیروشر کی گھاٹیاں ہیں ۔ ایمان اور کفر کی گھاٹیاں ہیں ۔ ہدایت اور ضلالت کی گھاٹیاں ہیں ۔ جن کو ہم نے واضح کردیا ۔ اللہ تعالیٰ نے کس قدر احسان فرمایا۔
(موت اور تدفین )
فرمایا پھر کیا ہو اثم اماتہ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ انسان پر موت طاری ہوجاتی ہے ۔ جیسا فرمایا کل نفس ذائقۃ الموت “ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے ”۔ ولکن یواخذھم الی اجل مسمی “ موت کے لیے وقت بھی مقرر ہے ۔ موت آنے کے بعد فرمایا کو اپنے نادوس (مجوس کا قبرستان) میں چھوڑ دیتے ہیں کہ پرندے اس کو نوچتے ہیں ۔ اور مردے کی بےقدری ہوتی ہے۔ اسی لیے فقہاکرام نے مردے کی تدفین کو واجب قراردیا ہے ۔
(ب 1 البدائع الصنا ئع ص 318 ج 1) ہندو لوگ اور چینی باشندے مردے کو جلاتے ہیں ۔ مسلمان جب نئے ہندوستان میں آئے ۔ اور انہوں نے مردوں کو دفن کیا ۔ تو ان پر طرح طرح کے اعتراضات کئے گئے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور حضرت مولا نامحمد قاسم نانوتوی نے اس قسم کے اعتراضات کے باقاعدہ جواب دیے کہتے ہیں کہ کوئی برہمن مسلمانوں کی عبادات کو بغور دیکھتا رہا ۔ آخر اس نے ایک عالم دین سے پوچھا کہ آپ کی باقی ساری باتیں تو اچھی ہیں مگر مردے کی تدفین سے زمین متعفن ہوجاتی ۔ آپ کی یہ بات اچھی نہیں ہے ۔ اس عالم نے برہمن کو سمجھا یا کہ انسان دو چیزوں سے مرکب ہے ۔ یعنی جسم اور روح جیسم کا مادہ مٹی ہے ۔ اور اس میں عناصر اربعہ ہیں ۔ جب کہ روح ایک لطیف چیز ہے ۔ جو عالم بالا سے آتی ہے ۔ اسے ہند و اور عیسائی بھی مانتے ہیں ۔ بلکہ دنیا کی اکثر اقوام اس بات کو تسلیم کرتی ہیں ۔ اب روح انسانی جسم کی مربی یعنی تربیت کرنے والی ہے ۔ اور بمنزلہ باپ کے ہے ۔ تو پنڈت جی ! ذرا یہ تو بتاؤکہ جب کوئی شخص سفر پر روانہ ہوتا ہے ۔ تو اپنے بیٹے کو اس کی ماں کے سپرد کرتا ہے ۔ یا اس عورت کے جو صرف کھا ناپکاتی ہے ۔ ہندو نے جواب دیا ۔ ظاہر ہے کہ ماں کے سپرد کرنا ہی بہتر ہے ۔ تو اس عالم دین نے فرمایا کہ انسان کے لیے مٹی یا زمین بمنزلہ حقیقی ماں کے ہے ۔ اور آگ کا کام صرف کھانا پکانا ہے اور یہ ہرچیز کو جلا کر رکھ دیتی ہے ۔ چونکہ روح بمنزلہ باپ کے ہے ۔ اس لیے جب یہ جسم سے جدا ہونے لگتی ہے تو اسے اس مردہ (جسم ) کو زمین یعنی حقیقی ماں کے سپردکرناچاہئیے یا آگ کے جو صرف کھا ناپکاتی ہے ۔ بلکہ جلاڈالتی ہے ۔ تو اس طرح اس برہمن کو ماننا پڑا کہ مسلمانوں کا دفن کرنے کا طریقہ ہی بہتر ہے۔
(ب 1 انتصارالا سلام ص 44 کتب خانہ اعزازدیوبند ) دیا سرسوتی نے مولانا نانوتوی سامنے اعتراض پیش کیا تھا کہ مسلمان مردے کو دفن کر کے زمین کو خراب کرتے ہیں ۔ تو آپ نے بہت سے جوابات دیے ، منجملہ ان کے ایک یہ بھی تھا ۔ کہ مردے سے کا اگر کوئی فضلہ ہو تو اس کے پیٹ کے اندر ہی ہوتا ہے ۔ اور ظاہر میں اس کو نہلادھلاکر اور کفن پہنا کردفن کیا جاتا ہے ۔ مگر تم ہر وقت بول وبراز کرتے ہو جس سے بدبو اٹھتی ہے ۔ تعفن پیدا ہوتا ہے ۔ ہوا بھی خراب ہوتی ہے ۔ اس لیے ہندودں کو چاہئیے کہ اپنا بول وبراز کپڑے میں لپیٹ کر رکھیں اور پھر اسے جلائیں تا کہ زمین گندی نہ ہو (ب 2 انتصارالا اسلام ص 42) ظاہر ہے کہ مردہ دفن کرنے کی نسبت بول وبراز زمین پر پھینکنے سے زمین زیادہ گندی ہوتی ہے ۔ جب اس سے زمین اور فضاخراب نہیں ہوتی تو باعزت طریقے سے مردہ دفن کرنے سے زمین کیسے خراب ہوگی ۔
بہرحال مردے کو جلانا اچھا نہیں ۔ آدم (علیہ السلام) سے لے کر تمام شرائع میں مردوں کو دفن کرنے کا ہی حکم ہے ۔ اور اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے ۔ کہ دفن کے کچھ عرصہ بعد مردے کا جسم بکھرنے لگتا ہے تو اس کے تمام عناصر اپنے اپنے مرکز کی طرف چلے جاتے ہیں ۔ ہوائی حصہ ہو ا میں چلاجاتا ہے ۔ خاکی عنصر خاک میں مل جاتا ہے ۔ آبی حصہ پانی میں شامل ہوجاتا ہے۔ اور آتشی حصہ آگ میں چلا جاتا ہے ۔ تو یہ فطری عمل درست ہے ۔ کیا سب کو جلاکر کا ستیاناس کردینا بہتر ہے ۔ عقل اسے تسلیم نہیں کرتی ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر دفن کرنے سے بدبو اہوتی ہے تو جلانے سے اس سے بھی دیادہ تعفن پیدا ہوتا ہے۔ ہوا گندی ہوجاتی ہے ۔ مرگھٹوں کے اردگر دسخت بدبو پھیل جاتی ہے ۔ لہذا یہ بیوقوفی کا اعتراض ہے کہ مسلمان مردوں کو دفن کیوں کرتے ہیں ۔
(بعث الموت)
موت طاری کرنے اور قبر میں دفن کرنے کے بعد فرمایا ثم اذاشاء انشرہ جب اللہ تعالیٰ چاہے گا۔ دوبارہ زندہ کرکے کھڑا کردے گا۔ تاکہ اس دنیوی زندگی کا حساب کتاب لیا جائے مگر حالت یہ ہے کلا خبردار الما یقض ما امرہ اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ، انسان نے اس کو پورا نہیں کیا ۔ اسے چاہیئے تھا۔ کہ خدا کی وحدانیت کو مانتا ، اس کی کتاب پر ایمان لاتا ۔ اپنے فرائض صحیح طور پر ادا کرتا ۔ مگر افسوس انسان نے ایسا نہیں کیا۔ اسے چاہیے تھا کہ خدا کی نعمتوں کی قدر کرتا اور اللہ کا شکر ادا کرتا ۔ وہ اپنی پیدائش پر ہی غور کرتا تو اسے معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت تامہ سے انسان کو کس کمال تک پہنچایا۔
(خوراک کی بہم رسانی )
پھر فرمایا ۔ اگر انسان کو اپنی تخلیق کی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی ۔ تو اپنے طعام کی طرف ہی دیکھ لے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال قدرت سے انسان کی خوراک کا کیسا بندوبست کیا ۔ فلینظرالانسان الی طعامہ انسان کو چاہئیے کہ اپنے کھانے کی طرف ہی دیکھ لے ۔ کہ کوئی فرد واحد اپنے لیے خوراک مہیا نہیں کرسکتا ۔ خوراک کی بہم رسانی کے لیے بےشمارقوتیں مصروف کار ہوتی ہیں ۔ تب جا کر انسان کو ایک لقمہ خوراک یا ایک گلاس پانی میسر آتا ہے ۔ شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں (ب 1 البدورالباز غہ ص 66 مبطوعہ بجنور (یوپی) اگر انسان کو کہا جائے کہ اسباب کے دائرے میں رہ کر ذرا اپنے لیے روٹی تیار کرلو۔ تو وہ صبح سے شام تک کام کرنے کے باوجود روٹی مہیا نہ کرسکے ۔ باقی ضروریات تو اس کے علاوہ ہیں ۔ کوئی شخص ہل چلائے ۔ بیچ ڈالے فصل پکنے اس کی حفاظت کرے ، پانی لگائے ، وقت پر فصل کاٹے ۔ غلہ کو پیس کر آٹا تیار کرے ۔ پھر روٹی پکانے کے آلات مہیا کرے ۔ تو یہ اس قدرکٹھن کام ہے۔ کہ کوئی شخص خود اپنے لیے روٹی بہم پہنچانے پر قادر نہیں ہے۔ چہ جائیکہ وہ اپنے لیے اسی طرح کپڑامہیاکرے ، سواری اور دیگر ضروریات کا انتظام کرلے۔
یہ تو قدرت نے ایسا انتظام کردیا کہ مختلف قوتیں اپنے اپنے مقام پر کام کررہی ہیں ، کوئی فصل اگاتا ہے ۔ کوئی آٹا پیستا ہے ۔ کوئی آلات مہیا کرتا ہے۔ کوئی روٹی پکاتا ہے ۔ اور کوئی کھاتا ہے ۔ تو اس طرح گویا سارے اسباب مل کر انسان کی خوراک کا ذریعہ بنتے ہیں ۔ اسی لیے فرمایا کہ انسان ذرا اپنے طعام کی طرف ہی دیکھے کہ انا صببنا الماء صبا بیشک ہم نے بہایا پانی کو بہانا ثم شققنا الارض شقا پھر پھاڑا زمین کو پھاڑنا ورنہ اتنا نرم ونازک پودا زمین سے باہر نہ آسکتا ۔ فانبتنافیھاحبا پھر اس میں ہم نے اناج اگایا وعنبا اور انگور وقضبا اور تر کاریاں جنہیں کچا بھی کھایا جاتا ہے ۔ جیسے گاجر مولی وغیرہ وزیتونا اور زیتون ونخلا اور کجھوریں وحدآئق غلبا اور گھنے باغات وفاکھۃ اور پھل وابا اور چارا۔ یعنی یہ تمام چیزیں ہم نے زمین سے پیدا کیں ۔ جو کہ متاعالکم ولا نعامکم ، تمہارے لیے اور تمہارے موشیوں کے لیے سامان زیست ہیں
فرمایا انسان کو اللہ تعالیٰ کا شکر اداکرناچاہئیے ۔ اور کفران نعمت نہیں کرنی چاہیئے ۔ سب سے پہلے اسے اپنی تخلیق پر غور کرنا ہوگا ۔ کہ اسے موت دے دی اور پھر وہ قیامت کے روز دوبارہ زندہ ہوگا ۔ فرمایا ۔ انسان اپنی خوراک کی طرف ہی دیکھ لے ۔ تو اسے سمجھ آجائے گی ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے کن کن ذرائع سے اس کے لیے خوراک اور دوسری ضروریات مہیا کیں ۔