Ayahs 80:33–42(گذشتہ سے پیوستہ)
اس سورة مبارکہ میں پہلے ایک نابینا شخص کا حال بیان کر کے نبی کریم ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کی توجہ اس بات کی طرف دلائی گئی ۔ کہ کمزروں اور ناداروں کا خیال رکھنا مقدم ہے ۔ کیونکہ وہ ہدایت کے طالب ہیں اور کمال شوق سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ برخلاف اس کے سرمایہ دارحضرات ناشکرگذرای کرتے ہیں ۔ ہدایت کے طالب نہیں ۔ لہذا ان کی طرف زیادہ توجہ نہ دیجائے ۔ یہی لوگ ہیں جو بےپروا اور متکبر ہیں ۔ انہیں تزکیہ حاصل کرنے کا بھی شوق نہیں ہے ۔ پچھلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے متعلق فرمایا ” ھل لک الی ان تزکی “ کیا تیرے اندر اس بات کی رغبت ہے کہ تو پاک ہوجائے ۔ اور تاکہ تیری راہنمائی کروں اور پھر تجھ میں خوف پیدا ہو ۔ اسی لیے گذشتہ درس میں ہم سن چکے ہیں ” قتل الا نسان ما اکفرہ “ انسان ناشکر گذرار ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتا خصوصا قرآن پاک جیسی عظیم نعمت اور پیغمبر خدا (علیہ السلام ) کی ذات جیسی نعمت کا کفران کرتا ہے ۔ اس میں نخوت وتکبر بھر اہوا ہے اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی نہیں کرتا ۔ حالانکہ دنیا میں انسان کا یہ سب سے بڑا فریضہ ہے ۔ سب سے اہم اور مقدم کام ہے ۔ فرمایا ” وربک فکبر “ اپنے رب کی بڑائی بیان کرو۔ مگر ان مشرکین کی حالت یہ ہے کہ ” واذا قیل لھم ارکعوا لا یرکعون “ جب انہیں رکوع کرنے کے لیے کہا جاتا ہے ۔ اپنے رب کی تسبیح بیان کرنے کی تلقین کی جاتی ہے ۔ تو ایسا نہیں کرتے ۔
(قیامت کی آمد)
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے انسان کے اقربا اور رشتہ داروں کا ذکر فرمایا۔ کہ انسانی جماعت اور اعزہ کے اعتبار سے قیامت کے کیا اثرت مرتب ہوتے ہیں ۔ فرمایا فاذاجاءت الصاخۃ ۔ جب آئیگی وہ چیخ صاخہ جیخ یا خوفناک آواز کو کہتے ہیں ۔ اور اس سے مراد قیامت کا صور ہے ” یوم ینفخ فی الصور “ ‘ جب صور پھونکا جائے گا ۔ پہلے صور پر تمام اولی تمام کا ئنات اور انسان فناہو جائیں گے ۔ سارانظام درہم برہم ہوجائے گا ۔ دوسری سورتوں میں نفخہ اولیٰ اور نفخہ ثانیہ کا تفصیل سے ذکر ہے۔ ثم نفخ فیہ اخری “ پھر جب دوسری مرتبہ صور پھونکاجائے گا فاذاھم قیام ینظرون تو انسان کھڑے ہوجائیں گے اور دیکھیں گے ۔ اور حساب کتاب کی منزل کیطرف بڑھیں گے ۔ ددصوروں کے درمیان چالیس دن یا چالیس سال کا وقفہ ہے ۔ چالیس کا لفظ حدیث شریف (ب 1 مسلم ص 406 بخاری ص 711) میں آتا ہے۔
(اقربا سے فرار)
اس مقام پر صاخہ سے مراد پہلا صور ہے ۔ جس سے کائنات درہم برہم ا اور فنا ہوجائے گی۔ اور اس کی وجہ سے چیخ و پکار شروع ہوجائے گی ۔ تمام انسان چیخ و پکار کرتے رہیں گے ۔ فرمایا جس دن کانوں کو بہرہ کردینے والی چیخ آئے گی۔ اس دن کیا حال ہوگا ۔ یوم یفرالمرء من اخیہ اس دن بھاگ گا اپنے بھائی سے ۔ وامہ وابیہ بھاگے گا اپنی ماں سے اور باپ سے وصاحبتہ وبنیہ اور اپنی بیوی اور اولاد سے بھی بھاگے گا ۔ اس خوف سے بھاگے گا رشتہ داروں سے کنی کترائے گا کہ کہیں ضرورت کے وقت مجھ سے کوئی نیکی نہ طلب کرلیں
حضرت عکرمہ نے مفسر قرآن عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت کے حوالے سے بیان کیا ہے (ب 1 تفسیر ابن کثیرص 473 ج 4) ہے کہ قیامت کے روز جب خاوند بیوی سے ملے گا تو کہے گا ۔ تو جانتی ہے کہ دنیا میں میں تیرے ساتھ کتنا اچھا سلوک کرتا تھا اور تمہارے حق میں کتنا بہتر خاوند تھا ۔ بیوی اقرار کرے گی کہ ہاں ایسا ہی تھا ۔ خاوند کہے گا ۔ پھر مجھے ایک نیکی دیدے تاکہ میں کامیابی حاصل کرلوں ۔ بیوی کہے گی بات تو معمولی ہے ۔ اور دنیا میں تو نے مجھ پر احسان بھی بہت کئے مگر مجھے خود ڈر ہے کہ میرے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے ۔ اس لیے آج تمہیں نیکی دینا ممکن نہیں ۔ اسی طرح باپ اور بیٹے کے درمیان گفتگو ہوگی ۔ اور وہ بھی ایک دوسرے سے بھاگیں گے ۔ مبادا کہ دوسرا کوئی نیکی نہ طلب کرے ۔ ہر ایک کو اپنی اپنی فکر ہوگی ۔ مسلم شریف (ب 2 بخاری ص 973 ج 2) کی روایت میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اس دن انبیاء (علیہم السلام ) پر بھی خوف و دہشت طاری ہوگی ۔ وہ بھی نفسی نفسی پکاریں گے۔ اللھم سلم اے اللہ ! آج کے دن بچا لے ۔ بھاگنے کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ کوئی حقوق کا مطالبہ نہ کردے دنیا میں جس کسی کا حق غصب کیا تھا وہ قیامت کے دن اس کا مطالبہ پیش کرے گا۔
اس جگہ اللہ تعالیٰ انسان کے عزیز و ! اقربا کا اسی ترتیب سے ذکر کیا ہے جس ترتیب کے ساتھ دنیا میں ان کا تعلق قائم تھا ۔ سب سے پہلے بھائی کا ذکر کیا یوم یفرالمرء من اخیہ بچپن میں بھائی کے ساتھ کھیلتا ہے ۔ آپس میں دوستی ہوتی ہے ۔ نفع و نقصان میں شریک ہوتے ہیں اور سب سے قربیی تعلق ہوتا ہے اسی لیے سب سے پہلے بھائی کا ذکر کیا ۔ اگر بھائی بھائی پر زیادتی کرتا ہے تو وہ بھاگ کر ماں کے پاس فریاد کرتا ہے۔ ماں اس پر شفقت کرتی ہے اس کو تسلی دیتی ہے۔ اس لیے بھائی کے بعد ماں کا ذکر ہے وامہ فارسی کا مقولہ ہے ہر کہ برادر ندارد ، قوت بازو ۔ ہر کہ مادرندارد ، شفقت ندارد یعنی جس کا بھائی نہیں ہوتا ، اس کی قوت بازو نہیں ہوتی اور جس کی ماں نہیں ہوتی وہ شفقت سے محروم ہوتا ہے ۔ لہذا دوسرے نمبر پر ماں کا ذکر ہے ۔ اگر ماں بھی کسی معاملہ میں فیصلہ نہ کرسکے ۔ تو باپ کے پاس شکایت کی جاتی ہے ۔ کہ میرے ساتھ یہ زیادتی ہوئی ہے بچہ سمجھتا ہے کہ سرپرست ہے وہ شکایت کا ازالہ کرے گا ۔ چناچہ باپ زیادتی کرنے والے کو تبنیہ کرتا ہے تمام بچوں کے درمیان توازن قائم کرتا ہے ۔ لہذا بھائی اور ماں کے بعد تیسرے نمبر پر باپ کا ذکر ہے ۔ وابیہ “ جب انسان سن بلوغت کو پہنچ جاتا ہے ۔ اس پر تمام فرائض عائد ہوجاتے ہیں تو وہ اپنی الگ حیثیت کا مالک بن جاتا ہے پھر اسے بیوی کی ضرورت ہے چناچہ طبعی فلسفہ کے مطابق وہ بیوی کا خاوند بنتا ہے ۔ اس لیے چوتھے درجے میں اللہ تعالیٰ نے بیوی کا ذکر کیا ہے وصاحبتہ خاوند بنتا ہے ۔ اس لیے چوتھے درجے میں اللہ تعالیٰ نے بیوی کا ذکر کیا ہے وصاحبتہ خاوند اور بیوی کے تعلق کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے ” ھن لباس لکم وانتم لباس لھن “ پردہ پوشی عزت اور ناموس کی حفاظت کے لیے تمہاری بیویاں تمہارے لیے بمنزلہ لباس کے ہیں ۔ اور انسانی جذبات کی تسکین کا ذریعہ ہوتی ہیں سورة میں فرمایا ” وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ “ ہم نے میاں بیوی کے درمیان دوستی اور مہربانی کا جذبہ رکھ دیا۔
میاں بیوی کے باہمی تعلقات کا نتیجہ اولاد کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔ اولاد میں سے بیٹے نسبتا زیادہ عزیز ہوتے ہیں کیونکہ بیٹا کسی شخص کا قائمقام ہوتا ہے ۔ اگر کوئی شخص اولا دنرینہ سے محروم ہوتا اسے بڑا فکر ہوتا ہے ۔ اس لیے ہر شخص بیٹے کی خواہش رکھتا ہے ۔ کہ وہ اس کی زندگی کا آخری نچوڑ اور خلاصہ ہوتا ہے ۔ لہذابیوی کے بعد بیٹے کا ذکر فرمایا وبنیہ کہ انسان اپنے بیٹوں سے بھی قیامت کے دن بھاگے گا ۔ پہلے گذر چکا ہے ” وفصیلتہ التی تؤیہ اس دن تمنا کرے گا کہ بیوی ، بٹیا اولاد رشتہ دار اقرباء خاندان سب کو فدیہ میں دیکر جان چھڑالے ۔ مگر ایسا نہیں ہوسکے گا۔
الغرض قیامت برپا ہوجانے کے بعد کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا ۔ سب ایک دوسرے سے بھاگیں گے ۔ سب کو اپنی اپنی فکر ہوگی لکل امدی منھم یومئذ شان یغنیہ ہر ایک ایسی حالت میں مبتلا ہوگا ۔ جو اسے دوسروں سے مستغنی کروے گی ۔ شان کے معنی حالت اور کیفیت کے ہیں ۔ کہ ہر انسان کی یہ کیفیت ہوگی ۔ کہ اپنی فکر میں ہوگا ۔ دیگر دوست دنیا میں جو بڑے بڑے دوستانے سمجھے جاتے ہیں اور جن کی وجہ سے جائز درناجائز کام کیے جاتے ہیں ۔ اس دن ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے وہاں البتہ وہ متقی جن کا دوستانہ محض اللہ کی خاطر تھا ۔ وہ اس دن بھی قائم رہے گا ۔ باقی سب اپنی اپنی فکر میں ہوں گے ۔ کوئی کسی کا پرسان حال نہیں ہوگا۔
(روشن چہرے )
جیساکہ پہلی سورتوں میں ذکر آچکا ہے کہ قیامت کے دن دو گروہ بن جائیں گے ۔ ایک گروہ کا یہ حال ہوگا ۔ وجوہ یومئذ مسفرۃ بعض چہرے اس دن روشن ہوں گے ۔ اسفار روشنی کہتے ہیں ۔ ایسے چہروں پر نورانیت کی چمک نمایاں ہوگی ۔ وہ چہرے ضاحکۃ مستبشرۃ ہنسنے والے اور خوشیاں منانے والے ہوں گے ۔ وہ نور ایمان اور توحید سے منور ہوں گے ۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ” تبیض وجوہ “ وہ چہرے سفید ہوں گے یہ تقوی اور خشیت الٰہی والوں کے چہرے ہوں گے ۔ ان لوگوں کے چہرے جنہوں نے دنیا میں تزکیہ حاصل کیا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کیا۔
(سیاہ چہرے )
فرمایا دوسرے گروہ گروہ کی حالت یہ ہوگی ووجوہ یومئذ علیھا غبرۃ کہ ان کے چہروں پر گردو غبار چڑھا ہوا ہوگا جس طرح کوئی سفر میں جاتا ہے ۔ تو اس کا چہرہ گرد آلود ہوجاتا ہے ۔ ان کی یہ حالت ہوگی ۔ یہ لوگ نور ایمان و توحید سے خالی ہوں گے ۔ ان کے چہروں سے نورانیت مفقود ہوگی ۔
حدیث شریف (ب 1 بخاری ص 25 ج 1 مسلم ص 126 ج 1) میں آتا ہے کہ وضو کرنے والے لوگوں کے وضو کے اعضاء قیامت کے دن چمکدار ہوں گے ۔ نورانیت سے بھر پور ہوں گے ۔ پتہ چلے گا کہ حضور ﷺ کے یہ امتی دنیا میں وضوء کر کے نمازیں پڑھتے تھے ۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا ” نور ھم یسعی بین ایدیھم وبایمانھم “ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں ڈوڑتا ہوگا ۔ دائیں طرف نیکی اور اطاعت کی روشنی ہوگی ۔ اور پلصراط پر ان کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی ۔ یہ راستہ نہایت آسانی کے ساتھ طے کرجائیں گے ۔
برخلاف اس کے بعض چہرے گرد آلود ہوں گے تدھقھا قتدۃ ان پر سیاہی چڑھی ہوئی ہوگی ، ان پر کفر غم اور باطل کے اندھیرے نمایاں ہوں گے ۔ دیکھنے والوں کو پتہ چلے گا کہ کہ یہ کون لوگ ہیں ۔ فرمایا اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ یہ فسق وفجور کرنے والے کافر لوگ ہیں ۔ یہ انتہائی درجے کے گنہگار اور پھر گناہ پر اصرار کرنے والے ہیں ۔ یہ وہی لوگ ہیں جو عاجزی نہیں کرتے ۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے تھے اور تزکیہ حاصل نہیں کرتے تھے ۔ یہ متکبر اور مستغنی تھے ۔ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے ۔ خدا کے سامنے اخبات نہیں کرتے تھے ۔ ایمان کی بجائے کفر اور توحید کی بجائے شرک اختیار کرتے تھے ۔ یہی بدکار لوگ ہیں ۔ آخر میں سورة کا اصل موضوع بیان کرنے کے بعد فریقین کا نتیجہ بھی بیان فرمادیا کہ ایمان والوں کے چہرے روشن ، ہنستے والے اور خوش ہوں گے برخلاف اس کے کفر کرنے والوں کے چہرے سیاہ ہوں گے ان پر گردو غبار چڑھا ہوا ہوگا یہ وہی لوگ ہیں جو دنیا میں خدا تعالیٰ کی نافرمانی کرتے تھے ۔ اور جنہوں نے کفر وشرک کا راستہ اختیار کیا۔