79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 79:1–14

وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ Open ayah 79:1 in the Quran reader

قسم ہے ان فرشتوں کی جو غوطہ لگا کر (جانوں کو) کھینچنے والے ہیں

وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ Open ayah 79:2 in the Quran reader

قسم ہے ان فرشتوں کی جو گرہ کھولنے والے ہیں

وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ Open ayah 79:3 in the Quran reader

قسم ہے ان فرشتوں کی (جو حکم خداوندی کی تعمیل کے لیے کائنات میں ) تیرتے پھر تے ہیں

فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ Open ayah 79:4 in the Quran reader

قسم ہے ان فرشتوں کی جو سبقت لے جانے والے ہیں

فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاۘ Open ayah 79:5 in the Quran reader

قسم ان فرشتوں کی جو (امرالٰہی سے ) تدبیر کرتے ہیں

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ Open ayah 79:6 in the Quran reader

جس دن کا نپے گی کا نپنے والی (یعنی زمین

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ Open ayah 79:7 in the Quran reader

اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آنے والی (یعنی نفخہ ثانیہ

قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌۙ Open ayah 79:8 in the Quran reader

اس دن بہت سے دل دھڑکنے والے ہوں گے

اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ Open ayah 79:9 in the Quran reader

ان کی آنکھیں پست ہوں گی

یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِؕ Open ayah 79:10 in the Quran reader

یہ کافر لوگ کہتے ہیں کیا ہم پھر الٹے پاؤں لوٹائے جائینگے

ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ Open ayah 79:11 in the Quran reader

کی جب ہم بوسیدہ (بھربھری ) ہڈیاں ہوجائیں گے

قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ Open ayah 79:12 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں ایسا پٹنا تو یقینا نقصان دہ ہوگا

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 79:13 in the Quran reader

پس بیشک وہ تو ایک ہی ڈانٹ ہوگی

فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ Open ayah 79:14 in the Quran reader

پھر اچانک وہ تمام ایک چٹیل میدان میں ہوں گے

(کوائف اور موضوع ) اس سورة کا نام سورة النزعت ہے۔ اور یہ اس کے پہلے لفظ سے لیا گیا ہے۔ اس کے دوسرے نام سبحت اور سبقت بھی ہیں جو اس سورة کی تیسر ی اور چوتھی آیات سے ماخوذ ہیں ۔ تا ہم زیادہ راحج نام نازعت ہی ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھیالیس 46 آیات ہیں ۔ اس کا مضمون پہلی سورة نبا کے ساتھ ملتا جلتا ہے ۔ ان سورتوں میں قیامت کا ہی ذکر ہے اس کے بعد بھی دور تک اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ہی ذکر فرمایا ہے جسکے لیے مختلف طریقے اختیار کئے ہیں ۔ (پہلی سورة کے ساتھ ربط) گذشتہ سورة میں ایک کسان کی ذہنیت کو پیش نظررکھ کر قیامت کا ذکر کیا گیا تھا ان یوم الفصل کان میقاتا زمین میں دانہ بونے کے بعد کسان ایک خاص وقت تک فصل کے پکنے اور اس کے کٹنے کا منتظر رہتا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین میں قائم کرکے فیصلے کا ایک دن مقرر کیا ہے ۔ اور یہ بات بڑے آسان طریقے سے سمجھائی گئی ہے۔ (قانون جذب وکشش) لیکن اس سورة میں حکما دانشوروں کی ذہنیت کے مطابق قیامت کا حال بیان کیا گیا ہے ۔ پہلی سورة کا طرزبیان سید ھا سادھا اور آسان تھا مگر اس سورة میں نہایت دقیق فلسفہ پیش کیا گیا ہے جسے عام آدمی نہیں سمجھ سکتا بلکہ بڑے بڑے فضلاء اور فلاسفروں کے سمجھنے کی بات ہے۔ اس میں قانون جذب وکشش کو پیش کرکے قیامت کا حال بیان کیا گیا ہے۔ قرآن پاک نے قیامت کو طامۃ الکبری کا خطاب دیا ہے جس کا معنی بہت بڑاہنگامہ ہے ۔ اس ضمن میں علم الفلکیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ کائنات میں جتنے بھی سیارے اور ستارے ہیں اور جن میں ہماری یہ زمین بھی شامل ہے ۔ یہ سب قانون جذب وکشش کے تحت اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کر رہے ہیں ۔ اگر جذب وکشش کا یہ مادہ نہ ہوتا یہ آپس میں ٹکرا کر تباہ ہوجائیں اور کائنات کا سارانظام درہم برہم ہوجائے ۔ یہ قانون کشش ہی ہے جو ہر ایک کو کھینچ رہا ہے اور تصادم سے بچائے ہوئے ہے۔ قرآن پاک میں بسا اوقات کسی معمولی واقعہ کو پیش کر کے کوئی اہم بات سمجھائی جاتی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے واقعہ سے قیامت پر استدلال کیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے واقعہ کی طرف اشارہ کرکے قیامت کا حال بیان کیا ہے۔ اس واقعہ کی متعدد جزئیات میں قانون جذب وکشش کا منظر نظر آتا ہے۔ لہذا اس نسب سے یہ واقعہ اس سورة میں بیان کیا گیا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو ایک بڑی نشانی دکھائی یعنی فاراہ الا یۃ الکبری یہ بڑی نشانی عصاء اور ید بیضا ہے ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو بالکل واضح معجزات عطا کئے جیسا کہ فرمایا تسع ایت بینت ید بیضا میں بھی قانون جذب وکشش کام کررہا ہے ہاتھ کو بغل میں دباکرنکالنا اور اس میں سورج جیسی چمک پیدا ہوجانا ۔ یا عصا کو سانپ کی جنس میں تبدیل کر دنیا ایک بالکل بےجان چیز کا خوفناک جاندار چیز میں تبدیل ہوجاتا اسی قانون کی وجہ سے ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا کہ یہاں سے نکل جائیں ۔ راستے میں بحیرہ قلزم پڑتا تھا جسے کرکے صحرائے سینا میں پہنچنا تھا ۔ بنی اسرائیل پریشان تھے کہ سمندر کو کیسے عبور کیا جائیگا موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں تسلی دی اور فرمایا ان معی ربی سیہدین میرارب میرے ساتھ ہے وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا سمندر میں راستہ بن جانا یہ بھی قانون جذب وکشش کا کام ہے ۔ سمندر کے پانی کو کھینچ لیا گیا اور راستہ بن گیا ۔ ایک دو نہیں بلکہ بارہ راستے تیار ہوگئے جہاں سے بنی اسرائیل کے بارہ خاندان سات لاکھ افراد کو لے کر سمندر سے گذر گئے ۔ مقصد یہ کہ اس سارے واقعہ میں جذب وکشش کا قانون کارفرما ہے۔ (قیامت کیوں ضروری ہے) اس مادی دنیا میں ہم روز مرہ دیکھتے ہیں ۔ کہ جب کوئی چیز تہ نشین ہوجاتی ہے۔ تو اسے کھینچ کر باہر نکالا جاتا ہے ۔ زمین کے بیکار پڑے رہنے سے اس کی نشونما کی قوت نیچے بیٹھ جاتی ہے ۔ تو ہل یا ٹریکر چلا کر زمین کو الٹ دیا جاتا ہے اور اس کی قوت روئیدگی کو باہر نکالا جاتا ہے ۔ تا کہ نئی فصل کا شت کی جاسکے ۔ یہاں بھی قانون جذب وکشش ہی کام کرتا ہے کائنات کے نظام کی مثال بھی ایسی ہی ہے روئے زمین پر جب ساری نیکی تہ نشین ہوجائے گی بالکل مٹ جائے گی ، تو قانون جذب وکشش کے تحت کھینچ کر دوبارہ نکا لا جائے گا ۔ یہی قیامت ہے۔ تجربات کے بعد سائنس دان اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ مادی دنیا کی کوئی چیز ضائع نہیں ہوتی ۔ بلکہ کسی نہ کسی صورت میں محفوظ ہوجاتی ہے ۔ اسلام کا قانون بھی یہی ہے کہ کوئی عمل ضائع نہیں ہوتا ۔ نیکی ہو یا بدی ہر چیز محفوظ ہوجاتی ہے۔ جسے قیامت کے روزباہر نکال لیا جائے گا ۔ اس مسئلہ کو اس طریقہ پر بھی سمجھا جاسکتا ہے ۔ کہ جب خیمہ کی طنابیں ڈھیلی پڑجاتی ہیں ۔ تو انہیں کھینچ کر خمیہ کو سید ھا کردیا جاتا ہے ۔ اگر ایسا نہیں کیا جائیگا تو خیمہ گرجائے گا بالکل اس طرح جب اس پوری کائنات کا یہ خیمہ ڈھیلا پڑجائے گا ۔ زلزلے کے جھٹکے آئیں گے ۔ مکانات پہاڑ درخت وغیرہ گرجائیں گے یہ قیامت کا پہلا جھٹکا ہوگا ۔ تمام نظام درہم برہم ہوجائے گا ۔ ہر چیز فنا ہوجائیگی کے تحت ہر چیز کو باہر نکال دیا جائے گا یہ نفخہ ثانیہ ہوگا ۔ الغرض وقوع قیامت کے متعلق دلیل یہ پیش کی ۔ کہ دنیا میں انجام دیا گیا کوئی بھی کام ضائع نہیں جاتا ۔ بظاہر معدوم ہوجاتا ہے ۔ مگر حقیقت میں وہ کسی نہ کسی مقام پر محفوظ ہوتا ہے۔ جسے قیامت کے دن دوبارہ ظاہر کردیا جائے گا ۔ جو کہ کوئی محال کام نہیں ہے ۔ لہذا قیامت ضرور واقع ہوگی ۔ اس دلیل کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے منکرین قیامت کا رد فرمایا ہے۔ (کفار کی جان کئی) امام شاہ ولی اللہ (ب 1 فتح الرحمان ص) اور دیگر مفسرین (ب 2 معالم الثریل ص 210 ج 4 خازن ص 204 ج 7 طبری ص 27 ج 3 وغیرہ ) ان آیات میں آمدہ الفاظ نزعت ۔ نشطت کا معنی فرشتے کرتے ہیں ۔ فرمایا والنزعت غرقا قسم ہے ان فرشتوں کی جو غوطہ لگا کر کھینچے والے ہیں ۔ یعنی انسان کی جان کنی کے وقت اس کی جان کو اس کے جسم سے غوطہ لگا کر کھینچتے ہیں ۔ مسنداحمد (ب 3 مسند احمد ص 364 ج 2 ص 288 ج 4 نسائی ص 260 ج 1) کی حدیث میں آتا ہے کہ بعض بدکار آدمیوں کی جان فرشتے کھینچ کر نکالتے ہیں ۔ جس سے انہیں بڑی تکلیف ہوتی ہے ۔ فرشتے کہتے ہیں نفس خبیث نکلو ۔ تم خبیث بدن کو آبادکئے ہوئے تھے ۔ اب خدا کے غضب کی طرف نکلو ۔ وہ نفس نکلنا نہیں چاہتا مگر فرشتے اسے کھینچ کر نکال لیتے ہیں ۔ کفار ومشرکین کی یہ حالت اس لیے ہوتی ہے کہ ان کی صحیح منزل متعین نہیں ہوتی ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ دنیا کی زندگی ہی سب کچھ ہے اس کے بعد کچھ نہیں ۔ لہذا وہ اخرت کی زندگی کی فکر ہی نہیں کرتے ۔ اور جان کنی کے وقت ان کی یہ حالت ہوتی ہے۔ (مئومنین کی جان کنی ) ایک مومن شخص دنیا کی پوری زندگی میں آخرت کے لیے متفکر رہتا ہے۔ اس لیے وہ سمجھتا ہے کہ آئندہ منزل اچھی ہوگی وہ اللہ تعالیٰ سے ملا قات کو پسند کرتا ہے ۔ اس لیے جان کنی کے وقت اسے تکلیف تو ہوتی ہے مگر وہ حالت نہیں ہوتی جو کفار ہوتی ہے ۔ مومن کو اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر یقین ہوتا ہے ۔ اسے اپنی منزل نظر آنے لگتی ہے ۔ لہذا اسے جان کنی کی معمولی تکلیف ہوتی ہے جیسے کسی کو بخار کی حالت میں معمولی تکلیف ہوتی ہے ۔ یا کوئی چوٹ لگ جائے تو تکلیف ہوتی ہے۔ فرمایا والنشطت نشطا قسم ہے ان فرشتوں کی جو گرہ کھولتے ہیں یعنی فرشتے مومنین کی جان اس طرح آسانی سے نکال لیتے ہیں جس طرح کوئی گرہ آرام سے کھول لی جاتی ہے ۔ پھر امرا الٰہی کی تعمیل میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اور حکم الٰہی کے مطابق اسے علیین یاسجین میں پہنچا دیتے ہیں جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ اگر مرنیوالا مومن ہے تو روح کو علیین میں حاضر کیا جاتا ہے وہاں رجسٹر میں اس کا اندراج ہوتا ہے ۔ اور پھر اسے واپس بھیج دیا جاتا ہے اس طرح اگر مرنے والا کافر ہے۔ تو اسے سجین میں لے جاتا ہے۔ فرمایا والسبحت سبحا قسم ہے ان فرشتوں کی جو حکم خداوندی کی تعمیل کے لیے کائنات میں تیرتے پھر تے ہیں ۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ مومن مرنے والے کی روح فرشتے اس طرح لیجا تے ہیں ۔ جیسے تیرتی ہوئی جارہی ہے ۔ جان کنی کے وقت تھوڑ ی سی تکلیف ضرور ہوئی ۔ مگر اسکے بعد نہایت آرام و سکون کے ساتھ جارہی ہے اور پھر یہیں پر بس نہیں بلکہ اس نیک روح کو لیجانے کے لیے فرشتے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اسی لیے فرمایا فالسبقت سبقا قسم ہے ان فرشتوں کی جو سبقت لے جانے والے ہیں ۔ حدیث (ب 1 نسائی ص 260 ج 1 مطبع نور محمد کراچی ) شریف میں آتا ہے کہ نیک روح کو لے جانے کے لیے فرشتے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اور اسے پاکیزہ لباس میں لے جاتے ہیں ۔ فرمایا فالمدبرات امرا قسم ہے ان فرشتوں کی جوامرالٰہی سے تدبیر کرتے ہیں ۔ فرشتوں کا تدبیر کرنا دراصل اللہ ہی کا تدبیر کرنا ہے ۔ کہ فرشتے اسی کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ مدبر اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اور فرشتے اس کی لطیف مخلوق ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے ، اسی کے مطابق فرشتے اس کی تدبیر کرتے ہیں۔ (تخلیق کائنات اللہ تعالیٰ کی چار صفات پر مبنی ہے) امام شاہ ولی اللہ کی تفسیر (ب 1 حجۃ اللہ البالغہ ص) کے مطابق تخلیق کائنات اللہ تعالیٰ کی چار صفات پر مبنی ہے ۔ پہلی صفت ابداع ہے جو سب سے مقدم ہوتی ہے ۔ اس سے مراد کسی چیز کو بغیر کسی مادے کے پیدا کرنا ہے ۔ جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی صفت بدیع السموت والا رض یعنی آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا بھی ہے۔ اس کا ہم معنی دوسرالفظ فاطر بھی استعمال کیا گیا ہے۔ خدا تعالیٰ اس لحاظ سے بدیع ہے کہ وہ کسی بھی چیز کو بغیر کسی مادے یا آلے کے پیدافرمادیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات اور تجلیات میں کشش پیدا ہوئی اور کائنات کو باہر نکال لیا ۔ یہاں بھی کشش کا قانون کام کر رہا ہے۔ ابدع کو سمجھنا آسان نہیں کیونکہ اس کی مثال اس عالم شہادت میں موجود نہیں ۔ ایسے معاملات کو سمجھنے میں سخت دشواری پیش آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی دوسری صفت خلق ہے ۔ اس سے مراد کسی چیز کو کسی مادے سے پیدا کرنا ہے جیسے کمثل ادم خلقہ من تراب آدم (علیہ السلام) کو مٹی کے مادے سے پید ا فرمایا ۔ پہلے فرمایا تھا ۔ کہ زمین وآسمان کو بغیر کسی مادے کے پیدا کیا ۔ اب کہ مادہ پیدا ہوگیا ۔ تو اس سے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا ۔ اسی طرح جنات کو آگ سے پیدا کیا ۔ اور بعض دوسری چیزوں کو دوسرے مواد سے پیدا کیا ۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی صفت خلق کا ظہور ہے جیسے فرمایا خلق کل شیء ہرچیز کو پیدا کیا ۔ کسی چیز کی تخلیق کے لیے پہلے صفت ابداع آتی ہے۔ اور اس کے صفت خلق کا نمبر سے ۔ تخلیق کے سلسلے میں تیسر ی صفت ، صفت تدبیر ہے ۔ اس کا معنی آگے پیچھے کرنا موت وحیات طاری کرتا عروج وزوال لانا ہے ۔ اسی کو تدبیر کہتے ہیں ۔ یہ صفت خلق کے بعد آئے گی ۔ پہلے نہیں آئے گی۔ شاہ صاحب (ب 2 ہوامع ص تفیمات الہٰہ ص) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی چوتھی صفت تجلی ہے نوع انسانی کے ہر فرد کے قلب پر تجلی الٰہی پڑتی ہے ۔ خواہ وہ خفیف ہی کیوں نہ ہو اس کو تجلی کہا جاتا ہے جیسے فرمایا ثم دنا فتدلیٰ قیامت کے روز جب یہ رازکھلیں گے ، تو وہ تجلی سخت کام کرے گی ۔ اس کی کشش ادھر عالم بالا کی طرف ہوگی ۔ اور انسان کی برائی نے چونکہ اسے مادیت میں ڈبودیا ہے لہذا وہ نیچے جانے کی کوشش کرے گی ، اور اس تگ ودو میں انسان کو سخت تکلیف پہنچے گی۔ (صور اول وثانی) ان تمام صفات کو بروئے کار لانے میں اسی ترتیب کے لحاظ سے قوت صرف ہوگی پہلی صفت ابداع میں سب سے زیادہ قوت صرف ہوگی اور دوسری صفت خلق میں اس سے کم اسی طرح صفت تدبیر میں اس سے کم اور تدلی میں اس سے کم طاقت لگے گی ۔ یہاں بھی قانون جذب وکشش کام کررہا ہے ۔ اسی لیے فرمایا یوم ترجف الراجفۃ جس دن کانپے گی کا نپنے والی یعنی جب پہلا صور پھونکا جائے گا تو یہ زمین کانپ اٹھے گی ۔ اور آسمان کا حال پہلی سورة میں گذر چکا ہے فکانت ابوابا کہ دریچے دریچے بن جائے گا ۔ اسی طرح فرشتوں کا حال بھی بیان ہوچکا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جب یہ کا نپنے والی کا نپے گی تو ہرچیز کو ہلا دے گی کوئی چیز اپنی جگہ قائم نہیں رہے گی۔ فرمایا تتبعھا الرادفۃ اس کے بعد آئے گی پیچھے آنے والی یعنی پھر دوسرا صورپھونکا جائے گا ۔ دوسرے صور پر ہر چیز دوبارہ قائم ہوجائے گی ۔ ہر چیز کو کھینچ کہہ دو بار ہ ظاہر کردیا جائے گا۔ کوئی چیز محفنی نہیں رہے گی ۔ اور ان دوصوروں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا۔ (قیامت کے روز حالت زار) فرمایا قیامت کے دن حالت یہ ہوگی کہ قلوب یومئذواجفۃ اس دن بہت سے دل دھڑ کنے ہوں گے ۔ ان پر خوف طاری ہوگا کہ آج کیا ہونے والا ہے ابصارھا خاشعۃ آنکھیں ذلیل ہوں گی ۔ نگا ہیں پست ہونگی ٹکٹکی باندھے لوگ دیکھیں گے کہ کیا ہورہا ہے۔ جو چیزیں اس دنیا میں نظر نہیں آتیں ، وہ ظاہر ہوجائیں گی اور نظر آنے لگیں گی ۔ فرمایا منکر ین قیامت آج کہتے ہیںء انا لمردودون فی الحافرۃ کیا ہم الٹے پاؤں اٹھا دیے گئے پہلی حالت کی طرف ۔ حافرہ سے مراد پہلی حالت یعنی اس دنیا کی سی حالت ہے۔ یعنی جس طرح اس دنیا میں ہمارا روح وجسم کا رشتہ قائم ہے کیا اسی طرح قیامت کو دوبارہ پلٹا دیے جائیں گے ۔ یہی نہیں بلکہء اذاکنا عظاما نخرۃ کیا جب ہم بوسیدہ اور بھربھری ہڈیاں ہوجائیں گے ۔ یعنی ہماری ہڈیاں اس قدر بوسید ہوجائیں گی کہ ہاتھ میں لینے سے ریزہ ریزہ ہوجائیں گی ۔ قالوا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہماری ایسی حالت قیامت کو ہوگی تو ملک اذ کرۃ خاسرۃ تو ایسا پلٹنا یقینا نقصان دہ ہوگا اگر ایسا ہی ہے پھر تو ہم واقعی مجرم ہوں گے اور پکڑے جائیں گے ۔ مگر ہم اس چیز کو تسلیم نہیں کرتے ہم تو کہتے ہیںء اذاضللنا فی الا رضء انا لفی خلق جدید جب ہم مرکر مٹی میں مل جائیں گے تو کیا ہمیں دوبارہ نئی زندگی ملے گی حالا ن کہ اللہ تعالیٰ نے بار بار قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے ۔ کہ وہ علیم کل اور قادر مطلق ہے۔ اس سے کوئی چیز مخفی نہیں ہوسکتی ۔ وہ قادر مطلق ہو کر دوبارہ کیوں نہیں پیدا کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے حیات بعد الممات کے مسئلہ کو بیشمار طریقوں سے سمجھایا ہے ۔ فرمایا تمہارے سامنے ہر روز قیامت برپا ہوتی ہے۔ اور نئی زندگی ملتی ہے ۔ مگر تم سمجھتے نہیں ۔ زمین میں کھیتی پیدا ہوتی ہے ۔ پک کر ختم ہوجاتی ہے ۔ اور پھر آئند ہ فصل نئی زندگی کے ساتھ ابھرتی ہے ۔ تم ان چیزوں پر کیوں غور نہیں کرتے ۔ اسی طرح بحیثیت مجموعی پوری کائنات وقت مقررہ پر درہم برہم ہوجائے گی اور جب اللہ کا حکم ہوگا ۔ اس کو کھینچ کر دوبارہ باہر نکالا جائے گا فانما ھی زجرۃ واحدۃ مگر قادر ہے اور ہوگا یہ کہ فاذاھم بالساھرۃ اچانک تمام لوگ چٹیل میدان میں ہوگے ساھرۃ کے معنی بالکل ہموار کے ہیں یعنی لا تدری فیھا عوجا ولا امتا اس میں کوئی کجی یا اونچ نہیں ہوگی ۔ پورا میدان بالکل ہموار ہوگا ۔ ہر چیز اس قدر واضح ہوگی کہ ایک طرف نگاہ اٹھائیں گے تو دوسری طرف تک کی چیزیں نظر آئیں گی۔ بعض فرماتے ہیں کہ ساھرۃ سر کے مادے سے ہے ۔ جسکے معنی بیداری کے ہیں ۔ گویا تمام لوگ اچانک بیدارہوجائیں گے ۔ کیونکہ الناس نیام ، آج لوگ سوئے ہوئے ہیں اذاماتو انتبھوا جب مرجاتے ہیں تو بیدا ہوجاتے ہیں ۔ اس وقت آنکھ کھلتی ہے ۔ کہ ہم کیا سمجھ رہے تھے ۔ اور حقیقت کیا ہے آج لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ۔ قیامت کے روز اچانک سارے کے سارے ہوش میں آجائیں گے ۔ بیدار ہوجائیں گے۔
Ayahs 79:15–26

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 79:15 in the Quran reader

کیا آپ تک موسیٰ (علیہ السلام ) کی بات پہنچی ہے

اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىۚ Open ayah 79:16 in the Quran reader

جب پکارا اس کو اس کے رب نے مقدس وادی طوی میں

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘ۖ Open ayah 79:17 in the Quran reader

کہ فرعون کے پاس جاؤکہ وہ سرکشی اختیار کر گیا ہے

فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 79:18 in the Quran reader

اور اسے کہو کیا تجھ میں پاک ہونے کی رغبت ہے

وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ Open ayah 79:19 in the Quran reader

اور میں تمہیں تمہارے رب کی طرف راہ بتلاؤں تاکہ تیرے اندر خوف پیدا ہوجائے

فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:20 in the Quran reader

پس موسیٰ (علیہ السلام) نے ل سے بڑی نشانی (عصا) دکھائی

فَكَذَّبَ وَعَصٰى٘ۖ Open ayah 79:21 in the Quran reader

پس فرعون نے تکذیب کی اور جھٹلا یا

ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى٘ۖ Open ayah 79:22 in the Quran reader

پھر وہ پھرا کوشش کرتا ہوا

فَحَشَرَ فَنَادٰى٘ۖ Open ayah 79:23 in the Quran reader

پس اس نے لوگوں کو اکٹھا کیا اور پکارا

فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ Open ayah 79:24 in the Quran reader

کہنے لگا تمہارابڑارب تو میں ہوں

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 79:25 in the Quran reader

پس پکڑا اس کو اللہ تعالیٰ نے آخر ت اور دنیا کی عبرتناک سزا میں

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰى٢ؕ۠ Open ayah 79:26 in the Quran reader

بیشک یہ واقعہ عبر تناک ہے اس کے لیے جس میں خوف پایا جاتا ہے

(گذشتہ سے پیوستہ ) اس سورة مبارکہ میں حکما کے نقطہ نظر سے وقوع قیامت پر دلیل قائم کی گئی ہے ۔ کفار ومشرکین کہتے تھے کہ کیا مرنے کے بعد ہم پھر پہلی حالت پر لوٹائے جائیں گے ۔ یعنی اسی طرح جسم وروح کے ساتھ زندہ ہوجائیں گے جیسا کہ دنیوی زندگی میں تھے ۔ حالانکہ ہم مر کر عظاما نخرۃ بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اگر ایسا ہوا تو یہ بہت افسوس ناک بات ہوگی ۔ وہ لوگ بعث بعد الممات کو بالکل ناممکن خیال کرتے تھے۔ اس حصہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا تذکرہ بیان فرمایا ۔ اس واقعہ سے ایک طرف آپ کو تسلی دلانا مقصود ہے تو دوسری طرف قیامت کا مسئلہ بھی سمجھا دیا ۔ فرعون بھی قیامت کا انکار کرتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے اشارۃ بتا دیا کہ اس کا حشر کیا ہوا کفار کو بتایا کہ تم بھی فرعون کی طرح انکار کرتے ہو۔ اس کے حشر کی طرف دیکھو اور اسی پر اپنے حشر کو تصور کرو ۔ اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور جزائے عمل پر ایمان لے آؤ ۔ سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے طریقے دوبارہ زندگی پر دلیل قائم کی ۔ فرمایا کو نواحجارۃ او حدیدا پتھر یا لوہا بن جاؤ تو بھی ہم دوبارہ زندہ کردیں گے ۔ اللہ تعالیٰ اس پر بھی قادر ہے ۔ ہڈیوں میں دوبارہ زندگی ڈال دینا تو زیادہ بعید نہیں ۔ ان میں تو پہلے بھی زندگی موجود تھی ۔ اب ان کو دوبارہ زندہ کردینا کیونکر محال ہے۔ اگر تم پتھر اور لوہا بھی بن جاؤتو بھی اللہ تعالیٰ دوبارہ زندگی دے دیں گے کیونکہ ان اللہ علی کل شی قدیر۔ (موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ ) یہاں پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ اشارۃ بیان فرمایا ہے ھل اتک حدیث موسیٰ کیا آپ کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) کی بات نہیں پہنچی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ وہ نبوت سے سرفراز فرمائے جا رہے ہیں ۔ قرآن پاک سورة قصص میں یہ واقعہ موجود ہے کہ وہ تو اپنی والدہ اور بڑے بھائی سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے ۔ آپ کا مولد اور منشا مصر تھا ۔ آپ وہیں جوان ہوئے اور وہیں قبطی کا واقعہ پیش آیا ۔ دو شخص آپس میں جھگڑ رہے تھے موسیٰ (علیہ السلام) نے مظلوم کو ظلم سے بچانے کے لیے ظالم کو ایک مکہ رسید کردیا جسے وہ برداشت نہ کرسکا اور مرگیا فرعون اور اس کی قوم کو اس بات پر سخت غصہ تھا کہ ان کا ایک افسر مارا گیا ۔ حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا اسے جان سے مارڈالنے کا بالکل ارادہ نہ تھا ۔ وہ تو اسے محض تبنیہ کرنا چاہتے تھے ۔ کہ وہ کیوں ظلم کر رہا ہے ۔ بہر حال موسیٰ (علیہ السلام) اپنے اس فعل کی وجہ سے فرعون کی عمل داری سے نکل کر مدین چلے گئے ۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی خدمت میں پہنچا دیا ۔ بعض روایات (ب 1 تفسیر ابن کثیر ص 384 ج 3) میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے بھتیجے کا ذکر ہے تاہم مشہور یہی ہے۔ کہ آپ شعیب (علیہ السلام) کے پاس پہنچ گئے ۔ آپ نے وہاں دس سال تک قیام کیا اور شعیب (علیہ السلام) کی بیٹی سے نکاح ہوا۔ مصر کا واقعہ پرانا ہوچکا تھا ۔ ظاہر ہے کہ فرعون اور اس کے حواری اس حادثہ کو بھول چکے ہوں گے ۔ ادھر موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی والدہ اور بھائی ہارون (علیہ السلام) سے ملاقات کا شوق تھا۔ چناچہ آپ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے اجازت لی اور اپنی بیوی کے ہمراہ مصر کی طرف چل دیے ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے کچھ خادم بھی ساتھ بھیج دیے ۔ فقہاء کرام کہتے ہیں (ب 1) کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کا نکاح ہوگیا تو اب شعیب (علیہ السلام) ان کی بیوی کو روکنے کے مجاز نہ تھے ۔ لہذاموسیٰ (علیہ السلام) اسے حسب منشاء ہمراہ لے جاسکتے تھے چناچہ ایسا ہی ہوا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر واپسی کے لیے شام کا راستہ اختیار نہ کیا کیونکہ شام والے فرعون کے دوست تھے ۔ اور خطرہ تھا کہ کہیں وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو نقصان نہ پہنچائیں ۔ چناچہ آپ نے ایک دوسراراستہ اختیار کیا جو کوہ طور کے قریب سے گذرتا تھا ۔ آپ شارع عام پر سفر نہیں کر رہے تھے بلکہ بچ بچا کر پہاڑی اور صحرائی راستے پر جا رہے تھے ۔ ذی قعدہ کا مہینہ تھا آپ کی بیوی حاملہ تھی اسے دردزہ شروع ہوگیا ۔ سردی کا موسم تھا ۔ اس زمانے میں آگ جلانے کے لیے لوگ اپنے پاس چقماق رکھتے تھے جس کے ٹکرانے سے تنکوں وغیرہ یا کپڑے میں آگ لگ جاتی ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی آگ کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ چقماق کو استعمال کیا مگر آگ پیدانہ ہوسکی ۔ موسم سرما کی اندھیری رات میں بکریاں بھی گم ہوگئیں (ب 2 تفسیر عزیز ی فارسی ص 34 ج 30) آگ میسر نہ آئی اور اس طرح آپ کو راستے میں سخت دشواری پیش آئی ۔ (حجاب ناری) اس مقام پر اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو اس جگہ پیش آیا ہوایوں کہ اذنادی ربہ بالوادالمقدس طوی جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اس مقدس وادی میں پکارا اس وادی کا نام طوی ہے ۔ جہاں سے آواز آئی تھی ۔ اور وہ آواز اس حجاب ناری سے آرہی تھی جو آگ کی شکل میں ظاہر ہوا تھا ۔ مگر وہ آگ اس دنیا والی آگ نہیں تھی جو جلاڈالے بلکہ اس کی وجہ سے درختوں کے پتے اور زیادہ روشن اور سرسبز ہوتے تھے۔ الغرض موسیٰ (علیہ السلام) نے گھاس تنکوں کا گٹھابنایا۔ تاکہ وہاں سے آگ حاصل کرسکیں ۔ جب اس مقام پر پہنچے تو آوازآئی انی انا ربک فاخلع نعلیک اے موسیٰ (علیہ السلام) میں اللہ تعالیٰ ہوں ۔ آپ اس مقدس وادی میں ہیں ۔ اپنے جوتے اتاردیں ۔ (جوتے اتارنے کی حکمت) مقدس مقام پر جوتے اتار دینا ادب کے عین مطابق ہے جس مقام پر جس قدرتجلیات الٰہی پڑتی ہیں وہ مقام اسی قدر مقدس ہے ۔ مسجد حرام تجلیات ربانی کا سب سے بڑامرکز ہے ، لہذاوہ مقدس ترین جگہ ہے۔ اس کا مرتبہ سب سے بلند ہے۔ اسی طرح عام مساجد تجلیات الٰہی پڑنے کی وجہ سے مقدس ہیں ۔ لہذا ان مقامات پر جوتوں سمیت جانا خلاف ادب ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی جگہوں پر جوتے اتار دینے حکم ہے جوتے اتارنے کی ایک خاص حکمت یہ بھی ہے کہ کے کسی حصہ کا اس مقدس مقام کے ساتھ تلبس ہوجائے ۔ (عطائے نبوت ) الغرض وادی طوی کا یہ مقدس مقام تھا۔ جہاں موسیٰ (علیہ السلام) آگ حاصل کرنے کیلئے پہنچے ۔ رحمت خداوندی جوش میں آئی ۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوگئی حالا ن کہ گئے وہ آگ لینے کے لیے تھے ۔ فرمایا کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو یکدم نبوت حاصل ہوگئی ، اسی طرح قیامت بھی یکدم برپا ہوجائے گی ۔ قرآن پاک نے قیامت کے برپا ہوجانے کا بارہا ذکر کیا ہے تو گویا جس طرح اچانک قیامت آجائے گی اسی طرح بوسید ہ ہڈیوں میں دوبارہ زندگی پیدا ہوجائے گی ۔ یہ کوئی ایسی عجیب بات نہیں ہے جو سمجھ میں نہ آسکے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کے بہت سے پہلو ہیں مگر یہاں پر صرف اس قدر بیان مقصود ہے ۔ کہ آپ کو اچانک نبوت حاصل ہوگئی ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ قیامت بھی اچانک ہی برپا کردیں گے ۔ مکے والے توحید اور جزائے عمل کا اسی طرح انکار کرتے تھے جس طرح فرعون اور اس کے حواری کرتے تھے تو کیا یہ لوگ کامیاب ہوگئے ؟ ہرگز نہیں فرعون سب سے بڑاسرکش تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے کس طرح ذلیل کیا اور اسے کیسی عبرتناک سزاملی ۔ کیا عرب والے فرعون سے زیادہ دولت اقتدار اور قوت والے ہیں ۔ لہذا اس دور کے مشرکین اور کفار اور مجودہ دور کے لوگوں کو غور کرنا چاہیئے کہ جب سب سے بڑے سرکش کا یہ حشر ہوا ۔ تو باقی لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کیسے بچ سکتے ہیں ۔ (وعظ کا حکم ) موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطافرما کر حکم دیا اذھب الی فرعون انہ طغی فرعون کے پاس جاؤ کہ وہ سرکشی اختیار کرچکا ہے۔ طغی کا معنی طغیانی ، سرکشی یا حد سے پڑھنا ہے ۔ فرعون حد سے تجاوز کرچکا تھا یعنی انہ کان علیا من المسرفین وہ بڑے اونچے درجے کا مسرف تھا ۔ الغرض موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس جاؤ فقل ھل لک الی ان تزکی اور اسے کہو کیا تم میں پاک ہونے کی رغبت ہے۔ یہاں تزکی کا لفظ آیا ہے ۔ تزکیہ سے مراد اندرونی اور بیرونی پاکیزگی ہے۔ فرعون کو توجہ دلانا مقصود ہے کہ حق کو قبول کرنے کا کوئی مادہ تم میں ہے ۔ اگر کوئی ایسی بات تم میں موجود ہے تو آؤ واھدیک الی ربک میں تمہیں تمہارے رب کی طرف راہ بتلاؤں ۔ اس کا نتیجہ ہوگا فتخشی تا ہ تیرے اندر خوف پیدا ہوجائے ۔ (تزکیہ ) تزکیہ پیغمبروں کے فرائض منصبی میں سے ہے ۔ جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے ۔ یتلو اعلیھم ایتک ویعلمھم الکب والحکمۃ ویزکیھم تو گویا دیگر فرائض کے پیغمبر لوگوں کو پاک کرتا ہے اسی لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو ارشاد ہوا کہ فرعون کا تزکیہ کرو اسے کہو کہ کیا تمہیں پاک ہونے کا شوق ہے ۔ تزکیہ سے مراد یہ ہے کہ انسان بڑی صفات کو ترک کردے اور اس کے اندر اچھی صفات پیدا ہوجائیں ۔ تزکیہ کا پہلا حکم یہ ہے کہ انسان کفر شرک اور نفاق جیسی بری صفات سے پاک ہوجائے اگر یہ باتیں کسی شخص میں موجود ہوں تو وہ پاک نہیں کہلا سکتا کیونکہ انما المشرکون نجس مشرکین ناپاک ہیں ۔ ایک دفعہ مشرکوں کا ایک دفعہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے مسجد میں خیمہ لگا کر ان کو ٹھہرایا ۔ صحابہ نے عرض کیا ۔ حضور ! یہ تو مشرک لوگ ہیں ۔ آپ نے ان کو مسجد کے صحن میں اتار دیا ہے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا (ب 1 طحادی ص 17 ج 1) انما انجاسھم علیٰ انفسھم یعنی ان کی گند کی انہی کے نفسوں میں پڑی ہوئی ہے۔ ان کے دل و دماغ میں رچی ہوئی ہے۔ لہذاسب سے پہلے اس گندگی سے پاک ہونا ضروری ہے۔ سورة اعلیٰ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی تو فرمایا قد افلح من تزکی وہ کامیاب ہوگیا جس نے اپنے آپ کو پاک کرلیا ۔ یعنی کفر شرک نفاق اور دیگر گندے عقیدوں سے پاک ہوگیا۔ شاہ عبدالعزیز فرماتے ہیں (تفسیر عزیزی فارسی ص 211 ج 29 ص 184 پ 30) ۔ کہ سب سے پہلے گندے عقیدے سے پاکیزگی ضروری ہے ۔ اس کے بعد جسم کی پاکیزگی مال کی پاکیزگی اور جگہ کی پاکیزگی ہے وذکر اسم ربہصلی اللہ کا ذکر کیا اور نماز پڑھی ۔ اگر مذکورہ بالا اشیار میں سے کوئی بھی ناپاک ہوگی تو نہ نماز ہوگی اور نہ کوئی اور عبادت لہذاپاکیز گی شرط اولین ہے۔ مال کے تزکیہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا خذ من اموالھم صدقۃ تطھرھم وتذکیھم “ اے نبی (علیہ السلام) ! ان لوگوں کے مالوں میں سے زکوۃ وصول کرکے ان کے ظاہرو باطن کو پاک فرمادیں ۔ تو گویا مال کی پاکیزگی سے بھی یہی مراد ہے کہ مال ظاہری طور پر بھی پاک ہو جائز طریقے سے حاصل کیا ہو ۔ اور اسے جائز طریقے پر خرچ کیا جائے باطنی طور پر کفر ، شرک اور گندے عقیدے سے بھی انسان پاک ہو۔ شرک گندی چیز ہے اسی لیے فرمایا فاجتنبوا الرجس من الا وثان بتوں کی گندگی سے اجتناب کرو۔ ان کو چھوڑدو ۔ سورة مدثر میں بھی فرمایا ” والرجز فاھجر “ ہر قسم کی گندگی جس میں شرک اور بدعت بھی شامل ہے۔ اس کو چھوڑدوتمہارے اندر رذائل کی بجائے فضائل پیدا ہوں گے تو تزکیہ ہوگا ۔ اور اسی کی بدولت ایمان ، صداقت ، اخلاص ۔ صبروشکرجیسی نعمتیں میسر ہوں گی ۔ شرک و بدعت میں ڈوبے ہوئے لوگ تزکیہ کی حقیقت کو کیا سمجھیں گے۔ ایک بزرگ نے بتلایا کہ وہ ایک مسجد میں گئے تو محراب میں یاغوث المدد کا کتبہ لگا ہوا تھا۔ اب غور کریں کہ مسجد میں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنائی جاتی ہیں وہاں ایسے شرکیہ کلمات اویزاں ہوں ۔ تو دوسری جگہوں کا کیا حال ہوگا ۔ قبروں کی حالت دیکھ لیں ۔ وہاں کیا ہور ہا ہے۔ غیر اللہ کی نذرو نیاز ہو رہی ہے ۔ لوگ پیرپرستی کی لعنت میں گرفتار ہیں ۔ حالانکہ پیر تو ۔۔۔ ہدایت کے لیے ہوتے ہیں ۔ مگر انہوں نے پیر کی بات کو خدا اور رسول کی بات سے بڑھا دیا ۔ یہ بھی نہ دیکھا کہ حضرت صاحب قرآن وسنت کی بات بتلا رہے ہیں یا شیطان کی نمائندگی کرکے کفر ، شرک اور بدعت کی تعلیم دے رہے ہیں ۔ او۔ ان کے ایمان پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں ۔ الغرض یہ سب چیزیں گندگی ہیں ۔ اس نجاست سے نہ مسجدیں محفوظ ہیں اور نہ قبرستان۔ اسی لیے منافقوں کے متعلق فرمایا فاعرضواعنھم انھم رجس “ آپ ان کو چھوڑ دیں کہ یہ نفاق کی گندگی میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ کفر وشرک میں مبتلا ہیں ۔ جو کہ حددرجے کی گندگی ہے۔ ارشاد خداوندی ہے یوم لا ینفع مال ولا بنون الا من اتی اللہ بقلب سلیم قیامت کے دن کسی کا مال واولاد کام نہیں آئے گا البتہ فائدہ اس کو حاصل ہوگا ۔ جو قلب سلیم لے کر اللہ کی بارگاہ میں پہنچا بزرگان دین (ب 1) فرماتے ہیں ۔ کہ قلب کا حامل وہ شخص ہے جو کفر وشرک اور بدعات سے پاک ہوگا جس کا دل ہر قسم کی برائیوں اور بداخلاقیوں سے مبرا ہوگا ۔ جو شخص شرک کے پلندے لے کر اللہ کے ہاں پہنچے گا اس کو خدا کی رحمت حاصل نہیں ہوگی ، بلکہ وہ لعنت میں گرفتار ہوگا ۔ اسی لیے فرمایا کہ کامیابی کے لیے تزکیہ ضروری ہے۔ (صراط مستقیم کی طرف راہنمائی ) الغرض اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ فرعون کے پاس جاؤاور کہو کہ کیا تیرے اندر کوئی رغبت ہے کہ تو ہر قسم کی گندگیوں سے پاک ہوجائے ۔ اگر ایسا ہے ۔ تو پھر میں تیری راہنمائی کروں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اپنے باپ سے یہی کہا تھا کہ تو گمراہی پر ہے میری بات مان ، میں تجھے ہدایت کا راستہ بتاؤں اھدک صراطاسویا “ حالا ن کہ باپ تھا مگر اسے بھی بحیثیت پیغمبر کہا تھا فا تبعنی میرا اتباع کرو ۔ ہر نبی کا یہی رہا ہے کہ یقوم اتبعون “ اے میری قوم ! میرا اتباع کرو تا کہ تمہاری راہنمائی کروں اور تاکہ تم متقی بن جاؤ تمہارا تزکیہ ہوجائے گویا نبی کا اتباع فرض ہے۔ اس کے بغیر کا میابی نہیں ہو سکتی ۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے متعلق بھی ارشاد فرمایا ” انک لتھدی الی صراط مستقیم بلاشبہ آپ صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کر رہے ہیں۔ وہی صراط مستقیم جس پر چل کر آدمی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے۔ (خوف خدا) موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی فرعون سے یہی بات کہی ہر نبی اپنے اتباع کی دعوت دیتا ہے تاکہ امتی راہنمائی ہو ۔ فتخشی اور اس میں خوف خدا پیدا ہو ۔ پہلی سورتوں میں بھی گذر چکا ہے ۔ کہ اس دنیا میں انسان کا سب سے اہم فریضہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کا اظہار کرے ۔ اور جو لوگ ایسا نہیں کرتے ان کی مذمت ان الفاظ میں بیان ہوئی ” واذ اقیل لھم ارکعولا یرکعون “ یعنی جب انہیں رکوع کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ رکوع نہیں کرتے ۔ اسی سورة مدثر کی ابتدائی آیت میں ہے ۔ قم فانذر وربک فکبر اٹھو ! اور لوگوں کو ڈارا۔ کہ وہ رب کی عظمت بیان کریں ۔ اس کے سامنے عاجز کا اظہار کریں یہی اخبات ہے۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی یہی حکم ہوا کہ فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس جا کر حق کی تبلیغ کرو۔ اور اس کا طریقہ یہ بتایا فقولا لہ قولا لینا “ یعنی اس کے ساتھ نرمی سے بات کرنا کیونکہ تبلیغ مقصود ہو وہاں نرمی اور سہولت سے بات کرو ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ طریقہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہا السلام) کو سمجھا دیا ۔ (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات ) عصا اور ید بیضا ۔ نبی کی نبوت کے لیے معجزہ علت نہیں ہوتا البتہ اسکی صداقت کی علامت ہوتا ہے جو اس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ ظاہر فرمادیتا ہے ۔ عام مخلوق ایسی چیز پیش کرنے سے عاجز ہوتی ہے ۔ تو یہی نشانیاں لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے پاس گئے فاراہ الایۃ الکبری پس اسے بڑی نشانی یعنی عصادکھایا جو سانپ کی شکل میں تبدیل ہوگیا تھا۔ دوسری سورتوں میں اس کی تفصیل موجود ہے ۔ (فرعون کی طرف سے تکذیب ) پھر کیا ہوا فکذب وعصی فرعون نے تکذیب کی جھٹلایا اور نافرمانی کی۔ اتباع کرنے کی بجائے الٹا افتراء باندھا سورة مومن میں ہے ” فقالوا سحر کذاب “ سب نے جھٹلایا ۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی تذلیل کی۔ ثم ادبر پھر وہ پھر یسعی سعی کرتا ہواکو شش کرتا ہوا۔ اپنے حواریوں کو جمع کیا ۔ فحشر فنادی اور انہیں پکارا اور کہنے لگا ” فلناتینک بسحر “ موسیٰ (علیہ السلام) جادو کررہا ہے۔ ہم اس کا توڑ کریں گے ۔ چناچہ سورة طہ میں اللہ تعالیٰ نے تفصیل بیان فرمائی کہ پھر اس نے تمام جادوگروں کو جمع کیا ، مگر وہ جادوگر بھی مسلمان ہوگئے ۔ اور فرعون کو سوائے رسوائی کے کچھ حاصل نہ ہوا۔ (فرعون کا دعوے خدائی ) الغرض اپنے حواریوں کو اکٹھا کرکے کہنے لا فقال انا ربکم الا علی تمہارا بڑا رب تو میں ہوں ماعلمت لکم من الہ غیری میرے علاوہ تمہارا کوئی اور معبود نہیں ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) خواہ مخواہ اللہ کی توحید کی دعوت دے رہا ہے کہیں کہا ۔ یہ مصر کی بادشاہی میری ہے نہریں چل رہی ہیں ڈیم بنے ہوئے ہیں میں جو چاہوں کروں ۔ میں ہی تمہارا بڑا رب ہوں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان ہو کر اتنا بڑاد عوی کرتا ہے یہ کس کی طرف بلاتا ہے۔ کس کی عبادت کی دعوت دیتا ہے کس کو الہ کہتا ہے وہ تو میں ہوں۔ نمردونے بھی وہی بات کی تھی جو فرعون نے کی وہ کہتا تھا ” انا احی وامیت “ میں زندہ کرتا اور مارتا ہوں ۔ چناچہ بےگناہ کو مروا دیا اور گنہگار کو چھوڑ دیا ۔ مگر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے طلوع آفتاب کی دلیل پیش کی تو نمرود ذلیل و خوار ہو کر رہ گیا۔ (منصور کا نعرہ انا الحق ) شیح ابن عربی (ب 1 تفسیر حینی ص 934) اور دوسرے بزرگان دین فرماتے ہیں کہ منصور متنازعہ فیہ شخصیت ہے ، اکثریت کی رائے یہ ہے کہ وہ اچھا آدمی تھا ۔ غلطی سے انا الحق کا نعرہ لگا دیا ۔ جس طرح ظرف کم ہو تو چھلک جاتا ہے ۔ اسی طرح منصور بھی چھلک گیا تھا ۔ لہذا اسے سزائے موت دی گئی ۔ فرعون نے بھی یہی بات کی تھی ۔ تو اسے اللہ کی طرف سے سرکش ، کافر اور ذلیل کہا گیا ۔ مگر منصور نے اناالحق کا نعرہ لگایا ۔ تو اسے نیک ، ولی یا مقرب سمجھا جاتا ہے ۔ بزرگان دین فرماتے ہیں کہ دونوں کا نقطہ نظر الگ الگ تھا ۔ جب منصورنے انا الحق کہا تھا تو وہ خودفنا ہوچکا تھا ۔ اس نے اپنے آپ کو نہیں دیکھا تھا بلکہ اسے خدا ہی نظرآیا تھا ۔ لہذا اس کا مرتہ بلند ہوگیا ۔ برخلاف اس کے فرعون نے اپنے آپ کو دیکھا اور دعوے خدائی کردیا ۔ اس نے کہا جدھر دیکھتا ہوں ادھر میں ہی میں ہوں ۔ لہذا ذلیل و خوار ہوا۔ الغرض نعرہ دونوں کا ایک تھا ۔ مگر نظریہ جداجدا تھا۔ منصور نے اپنے آپ کو فانی تصور کیا تو مقرب ہوگیا ۔ اور فرعون نے اپنے کو باقی تصور کیا تو ذلیل ہو کر رہ گیا۔ (فرعون کا انجام ) فرعون کے اس باطل دعویٰ کا نتیجہ یہ ہوا کہ فا خذہ اللہ پس پکڑا اس کو اللہ تعالیٰ نے نکال الا خرۃ آخرت کی عبرتناک سزا میں والاولی اور دنیا کی عبر تناک سزا میں بھی گویا اس کو دنیا اور آخرت دونوں مقامات پر عبرتناک سزاملی ۔ سزا بھی ایسی جو ہمیشہ یادگار رہے گی ۔ آخرت میں تودائمی سزا کا مستحق ہوگا ہی ۔ جہنم میں اپنے حواریوں سمیت داخل ہوگا ۔ دنیا میں بھی جو اس کا حشر ہوا وہ سب کے سامنے ہے ۔ وہ چھ لاکھ بنی اسرائیل کو ہلاک کرنے کے لیے نکلا تھا۔ مگر بمعہ اپنی بارہ لاکھ فوج اور بڑے بڑے سرواروں اور رشتہ داروں میں سے ایک بھی نہ بچا۔ سب ہلاک ہوگئے ۔ فرعون کی لاش کو اس حالت میں باہر پھینک دیا کہ اس نے ذرہ پہنی ہوئی تھی ۔ اور تھوڑی سی ناک کٹی ہوئی تھی ۔ ان فی ذلک لعبرۃ بیشک یہ واقعہ عبرتناک ہے ۔ آج بھی جو لوگ فرعون جیسی سرکش کے مرتکب ہوں گے ۔ توحید کا انکار کریں گے ۔ قیامت اور جزائے عمل کی تکذیب کریں گے ، ان کا حشر بھی فرعون کی طرح ہوگا ۔ اور اس میں لوگوں کے لیے مقام عبرت ہے اور یہ عبرت ان لوگوں کے لیے ہے ۔ لمن یخشی جن میں خوف اور عاجزی پائی جاتی ہے ۔ جن لوگوں کے دل میں خوف وعاجزی نہیں ۔ اخبات وخشوع کا مادہ نہیں محاسیہ اور جزائے عمل کی فکر انہیں عبرت حاصل نہیں ہوسکتی وہ تو اسے قصہ کہانی ہی سمجھتے ہیں۔ اور کہتے ہیں ” اساطیر الاولین “ یہ پہلے لوگوں کے واقعات ہیں ۔ لہذا کفر وشرک کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیئے ۔ یہ تباہی اور بربادی کا راستہ ہے ۔ ایمان اور ہدایت کا راستہ اختیار کرنا چاہیئے کہ اسی پر چل کر ہی کامیابی نصیب ہوسکتی ہے۔
Ayahs 79:27–36

ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ Open ayah 79:27 in the Quran reader

کیا تم (یعنی انسان جیسی چھوٹی چیز ) کو پیدا کرنا مشکل ہے یا آسمان (جیسی بڑی چیز) کو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بنایا ہے

رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَاۙ Open ayah 79:28 in the Quran reader

اس کی بلندی بہت رکھی پھر اس کو برابر کردیا

وَ اَغْطَشَ لَیْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪ Open ayah 79:29 in the Quran reader

اور اس کی رات کو تاریک بنایا اور اس کی دوپہرکو نکالا

وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ Open ayah 79:30 in the Quran reader

اور زمین اور اس کے بعد زمین کو بچھایا

اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪ Open ayah 79:31 in the Quran reader

اس سے پانی نکالا اور چارہ

وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ Open ayah 79:32 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو زمین گاڑ دیا

مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 79:33 in the Quran reader

یہ تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے ہیں

فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:34 in the Quran reader

پس جب یہ بڑا ہنگامہ واقع ہوگا

یَوْمَ یَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰىۙ Open ayah 79:35 in the Quran reader

اس دن انسان یاد کرے گا جو کوشش اس نے کی ہے

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰى Open ayah 79:36 in the Quran reader

(اس دن) دوزخ کو ظاہر کردیا جائے گا ہر دیکھنے والے کے لیے

(بعث بعد الموت ) اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا ہے ۔ اور منکر ین قیامت کا رد فرمایا ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہء انا لمردودون فی الحافرۃ کیا ہم الٹے پاؤں پہلی حالت پر لوٹائے جائیں گے یعنی کیا ہمیں دنیا والی ویسی ہی زندگی مل جائے گی ۔ جو جسم اور روح سے مرکب ہوتی ہے ۔ حالانکہ ہماری یہ حالت ہوچکی ہوگی ” کنا عظاما نخرۃ کہ بوسیدہ ہڈیاں ہوچکے ہونگے۔ تو ان حالات میں دوبارہ لوٹنا تو بڑا خسارے کا سود اہوگا ۔ حالا ن کہ مشرکین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ انسانوں اور باقی مخلوق سب کو اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے ۔ جب انہیں انسان کی پہلی دفعہ پیدائش کا انکار نہیں ہے۔ آسمان کے پیدا کرنے کا بھی انکار نہیں کرتے تو پھر انسان کی دوبارہ پیدائش پر کیوں معترض ہیں ۔ کیا کسی چیز کو پہلی دفعہ پیدا کرنا مشکل ہوتا ہے یا دوسری فعہ ۔ کسی چیز کا اعادہ کرنا تو نسبتا آسان ہوتا ہے ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کام اسکے لیے قطعا دشوار نہیں ہے ۔ بلکہ ” ھواھون علیہ “ یہ تو اس کے لیے نہایت آسان کا م ہے۔ (آسمان کی تخلیق ) اسی بات کو سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بطور دلیل پیش کیا ۔ فرمایا ءانتم اشد خلقا ام السماء انسان جیسی چھوٹی سی چیز کو پیدا کرنا مشکل ہے یا آسمان جیسی بڑی چیز کو اللہ تعالیٰ نے تو آسمان جیسی بڑی شے کو پیدا فرمایا ۔ تو انسان اسکے مقابلے میں کیا چیز ہے۔ اس مقام پر آسمان کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ اس کے متعلقات بھی بیان فرمائے ۔ فرمایا بنٰھا اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بنایا رفع سمکھا اس کی بلند ی بہت رکھی فسوھا اس کو برابر کیا کہ اس میں کوئی اونچ نیچ یا ناہمواری نظر نہیں آتی ۔ جیسا کہ سورة ملک میں ذکر ہے۔ فارجع البصر ھل تری من فطور “ اپنی نگاہیں بار بار اٹھا کر دیکھو ، کیا آسمان میں کوئی تفاوت کوئی خرابی یا کوئی نظر آتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی اس چھت میں کوئی دراڑ ہے ؟ یا اس کا پلستر کہیں سے ٹوٹا ہوا ہے ؟ بالکل نہیں یہ آسمان اپنی تخلیق کے روز سے لے کر آج تک اسی طرح مکمل ہے ۔ اس میں موجودباقی اشیا اسی طرح اپنا اپنا کام کررہی ہیں ۔ (رات دن کی آمد) آسمان کے باقی متعلقات کا ذکر فرمایا واغطش لیلھا اور اسکی رات کو تاریک بنایا واخرج ضحھا اور اسکی دوپہر کو نکالا ۔ کیونکہ رات اور دن کا آنا آسمان کے ساتھ وابستہ ہے۔ لیل ونہار آسمانی کرّوں کی حرکت سے ہی پیدا ہوتے ہیں ۔ سورج کا تعلق آسمان کے ساتھ ہے۔ جب سورج غروب ہوتا ہے ۔ تو رات آجاتی ہے ۔ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو دن کی آمد ہوتی ہے ۔ یہ ہمارے مشاہدے کی چیزیں ہیں جن سے انکار کی مجال نہیں ۔ دن اور رات کا تبدیل ہونا ایک انقلاب ہے ۔ جیسا کہ فرمایا یقلب اللہ الیل والنھار “ اللہ تعالیٰ ہی رات اور دن کو پلٹیاں دیتا ہے۔ یہ خود وجود میں نہیں آتے اسی طرح جعل الیل والنھار خلفۃ رات اور دن کو آگے پیچھے آنے والا بنایا ۔ اللہ جل شانہ نے رات اور دن کی آمد کو بھی قیامت کے لیے بطور دلیل بیان کیا ہے جس طرح روز وشب انقلاب کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اسی طرح قیامت کا برپا ہوجانا بھی ایک انقلاب ہے ۔ اسی درس کی ایک اگلی آیت میں الطامۃ الکبری کا بیان ہے ۔ اس میں یہی بات سمجھائی گئی ہے۔ کہ وقوع قیامت ایک بڑانقلاب ہے ۔ اس کائنات میں موجود تمام اشیا کی قوتیں مخفی ہوجائیں گی انقلاب آجائے گا تو قیامت کا مسئلہ حکماء کے نظریے کے پیش نظر قانون جذب وکشش کے اصول پر بیان کیا گیا ہے۔ یہ مسئلہ ابتدائے سورة میں والنزعت غرقا سے شروع کیا ۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات بیان فرمائے جن میں یہی قانون کار فرما ہے ۔ کبھی سمندر کے پانی کو کھینچ کر راستہ بنادیا ، کبھی لاٹھی سانپ میں تبدیل ہوگئی کبھی ہاتھ میں ایسی چمک پیدا ہوگئی جو سورج کا مقابلہ کرسکے ۔ گویا تمام معجزات میں قانون جذب وکشش ہی کام کر رہا ہے ۔ جو اس سورة میں بنیادی قانون بیان کیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو ظاہر کیا ۔ اس کائنات میں سب سے اعلیٰ مخلوق انسان ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے حیوانات کا ذکر فرمایا جو انسان کے خدام ہیں ۔ (زمین کی تخلیق ) تو اس مقام پر اللہ تعالیٰ انسانی مخلوق کو یہ بتلا رہے ہیں کہ یہ تم مانتے ہو کہ آسمان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ۔ اور پھر رات اور دن کو پیدا کرنے والی ذات بھی وہی ہے ، اس کے بعد فرمایا والا رض بعد ذلک دحھا یعنی اس کے بعد زمین کو بچھا یا سورة دخان میں موجود ہے کہ زمین کا مادہ آسمان کی تخلیق سے پہلے پیدا کیا مگر اس کا بچھانا تخلیق آسمان کے بعد ہے ۔ زمین کا اس طریقہ پر بچھانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ یہ اسی بچھانے کی وجہ سے ہے کہ اس پر موجود ہرچیز اپنے اپنے معمول پر قائم ہے ۔ سمندر کے پانی کو زمین ساتھ اس طرح وابستہ کردیا کہ خلاصہ کائنات انسان اس سے اچھے طریقہ سے مستفید ہوسکے ۔ زمین کو اس عمد ہ طریقے سنے بچھایا۔ گذشتہ سورة میں زمین کو گہوارہ کالقب دیا گیا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو ایسے احسن طریقے سے پیدا کیا ہے ۔ کہ انسان اس پر اسی طرح آرام کرتا ہے ۔ جس طرح بچہ گہوارے میں سکون حاصل کرتا ہے ۔ تو گویا اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس طور پر پیدا کیا کہ وہ تمام امور اپنی منشاہ انجام دیتا ہے ۔ اور زمین کی ساخت اور ترتیب اس میں پوری ممدومعاون ہوتی ہے۔ (پانی کی فراہمی ) زمین کی تخلیق کے بعد نوع انسانی کی سب سے اہم ضرورت کا ذکر فرمایا ” اخرج منھا ماءھا یعنی پانی بھی زمین سے ہی نکالا پانی جیسی عظیم نعمت کہیں چشموں کی صورت میں زمین سے برآمد ہوئی ۔ کہیں بارش برسائی اور پانی بہہ نکلا کہیں زمین میں نہریں چلادیں ۔ کہیں اسی زمین پر پانی کے بڑے بڑے ذخیرے جھیلوں کی صورت میں قائم کردیے اور پھر اس پانی کی بدولت ومرعھا چراگاہیں پیدا کردیں یہ درخت گھاس پھونس چھاڑیاں وغیرہ اللہ تعالیٰ نے سب اپنی حکمت سے بنائے ہیں۔ اور یہی نہیں بلکہ والجبال ارسھا پہاڑوں کو زمین میں گاڑدیا ۔ بالکل اسی طرح جس طرح کیل ٹھونک دی جاتی ہے۔ اس کی وجہ دوسری جگہ یوں بیان فرمائی ۔ ان تمیدبکم تا کہ زمین ڈولنے نہ پائے مضطرب نہ ہوجائے ۔ لہذاپہاڑوں کو اس پر گاڑدیا ۔ (انسان مضبوط ترین مخلوق ہے ) ترمذی کی حدیث شریف (ب 1 ترمذی ص 486) میں آتا ہے کہ زمین میں اضطراب کی کیفیت پیدا ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اس پر پہاڑقائم کردیے فرشتوں نے متعجب ہو کر عرض کیا اے مولاکریم ! تیری مخلوق میں پہاڑوں سے سخت چیز بھی کوئی ہے۔ عربوں کے نزدیک پہاڑ مضبوط ترین چیز تصور کیے جاتے تھے ۔ اسی لیے وہ کہا کرتے تھے کہ انسان کو اپنے عقیدے میں پہاڑ جیسا مضبوط ہونا چاہئیے ۔ اسی طرح انسان کا عہدوپیمان بھی مضبوط ہونا چاہئے ۔ فرشتوں کے سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا پہاڑوں سے مضبوط چیز لوہا ہے جو پہاڑوں کو بھی کاٹ دیتا ہے ۔ فرشتوں نے پھر عرض کیا ۔ یا اللہ ! کیا لوہے سے مضبوط بھی کوئی مخلوق موجود ہے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے جواب دیا ۔ لوہے سے سخت چیزآگ ہے ۔ جو لوہے کو بھی پگھلا دیتی ہے۔ فرشتوں نے پھر سوال کیا کہ آگ سے سخت چیز بھی تیری مخلوق میں ہے ۔ تو اللہ نے جواب دیا ۔ ہاں آگ سے سخت چیز پانی ہے جو آگ کو بجھا دیتا ہے فرشتوں نے پھر پوچھا کہ کیا پانی سے سخت چیز بھی کوئی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا پانی سے سخت چیز ہوا ہے جب ہوا کے طوفان چلتے ہیں تو پانی کو بھی اڑا کرلے جاتے ہیں ۔ فرشتوں نے پھر عرض کیا ۔ کہ اے مالک الملک ! کیا ہوا سے سخت مخلوق بھی ہے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا انسان ہے اور پھر انسانوں میں مومن ہے جو دائیں ہاتھ سے صدقہ کرتا ہے مگر بائیں ہاتھ کو خبر نہیں ہوتی ۔ یہ اس کی مضبوطی کی نشانی ہے ۔ یہ انسان کے ایمان کا کمال ہے کہ اللہ کی راہ میں اس طرح پوشیدہ طور پر خرچ کرتا ہے ۔ (جانور انسان کی خدمت پر مامور ہیں ) فرمایا آسمان اور زمین کے درمیان جتنی بھی اشیاء ہیں متاعالکم یہ تمہارے فائدے کے لیے ہیں ولا نعامکم اور تمہارے جانوروں کے لیے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہاری خدمت کے لیے پیدا کیا ہے ۔ اسی لیے فرمایا (ب 2 سورة زخرف آیت 13 ، 14 ، البوداؤدص 350 ، ترمذی ص 497 ، مسند احمد ص 97 ج 1) ہمارے بس میں نہ تھا کہ ان کو مسخر کرسکتے ۔ یہ جنگلی ہاتھی یہ مست اونٹ اور ان تیز طرار گھوڑوں کو اپنے اختیار میں کرلینا ۔ ان سے کام لینا ۔ ان کو سواری کے طور پر استعمال کرنا ۔ ان سے باربرداری کا کام لینایہ سب تیری مہربانی سے ہی ممکن ہے ۔ تو نے ہی ان جانوروں کے ذہن میں یہ بات ڈال دی کہ وہ انسان کی خدمت کے لیے پیداکئے گئے ہیں ۔ یہی جانور بگڑ جاتے ہیں تو انسان کی جان محفوظ نہیں رہتی ۔ ہاتھی انسان کی پاؤں تلے روند کر مار ڈالتا ہے ۔ تیز رفتار گھوڑا گرا کر ہڈی پسلی ایک کردیتا ہے ۔ مگر عام حالات میں ایک تین سال کا بچہ اونٹ کی مہار پکڑ کر جدھر چاہے لیے پھرتا ہے ۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے کمال حکمت کا کرشمہ ہے۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں اور انسان تمام مخلوقات کا خلاصہ ہے۔ (قیامت سے سب بڑاہنگامہ) اللہ تعالیٰ نے ان تمام اشیاء کو بطور انقلابات بیان فرمایا کہ دن اور رات کا تغیروتبدل زمین واسمان کی تخلیق ، پہاڑوں کا گاڑاجانا ۔ چراگاہوں کی موجود گی اور پھر جانوروں کی تسخیر یہ سب انقلاب اور سب سے بڑا ہنگامہ فاذاجاءت الطامۃ الکبری جب یہ بڑا ہنگامہ واقع ہوگا ۔ تو اس سے کوئی چیز نہیں بچ سکے گی ۔ ہر چیز اس کی لپیٹ میں آجائے گی ۔ طامۃ اس چیز کو کہتے ہیں ۔ جو باقی سب چیزوں پر چھا جائے جس طرح سیلاب آجاتا ہے ۔ اور اس سے کوئی چیز محفوظ نہیں رہتی ۔ طوفان نوح آیا تھا تو پہاڑ بھی اس کی زد میں آگئے تھے ۔ ایسا سیلاب آبادیوں کو نیست ونابود کردیتا ہے۔ درختوں کو اکھاڑدیتا ہے ۔ ہر چیز کو تباہ برباد کردیتا ہے ۔ اسی طرح قیامت بھی ایک بہت بڑاہنگا مہ اور انقلاب ہوگا جس سے کوئی چیز محفوظ نہیں رہے گی۔ وہ سب پر غالب آجائے گا تو گویا جب طامۃ الکبری برپا ہوگا تو وہ ایتٹ سے اینٹ بجادے گا ۔ کوئی چیز اپنی جگہ پر قائم نہیں رہے گی ۔ نہ زمین موجود رہے گی ۔ نہ آسمان اپنی جگہ پر قائم رہے گا ۔ ہرچیز درہم برہم ہوجائے گی۔ فرمایا یوم یتذکر الانسان ماسعی اس دن انسان یاد کرے گا جو کوشش اس نے کی ہے ۔ اس کا ہر کارنامہ اس کے سامنے موجود ہوگا ۔ اس وقت بڑا خطرہ ہوگا کیونکہ وبرزت الجحیم لمن یری اس دن دوزخ کو ظاہر کردیا جائے گا ۔ ہر شخص اسے اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔ دوزخ کو دوزخیوں کے قریب کردیا جائے گا۔ اور بالآخر محاسبہ کے بعد وہ اس میں پہنچ جائیں گے۔ تو فرمایا آج یہ لوگ قیامت اور حشر ونشر کا انکار کر رہے ہیں ۔ مگر اس دن یہ حال ہوگا کہ اپنی سعی اپنے کرائے کو دیکھ کر پریشان ہوجائیں گے۔ کیونکہ جہنم بھی ان کے سامنے موجود ہوگی اور انہیں اپنا انجام نظر آتا ہوگا ۔ اس وقت دنیا میں دو ہی گروہ ہیں فمنکم کافر ومنکم مومن “ یا مومن ہیں یا کافر۔ سورة کی آخری آیتوں میں دونوں گروہوں کے انجام کا ذکر آئے گا۔