Ayah 78:1(قیامت ایک بڑی خبر)
جب قرآن پاک نازل ہونا شروع ہوا۔ تو حضور ﷺ نے مشرکین مکہ کو دعوت الی التوحید والا یمان دی اس دعوت ایمانی میں قیامت کا بھی ذکر تھا ۔ تو کفارنے طرح کی بیہودہ باتیں کرنی شروع کردیں ۔ اور وقوع قیامت کے عقید ہ پر اعتراضات کئے ۔ کوئی کہتا تھا متی ھذا الوعد یعنی یہ وعد ہ کب پورا ہوگا ۔ قیامت کب آئے گی ۔ دوسراکہتا مد ظن الساعۃ قائمۃ میراگمان نہیں ہے کہ قیامت آئے گی ۔ کوئی کہتا ھذا اساطیر الا ولین یہ تو پہلے لوگوں کے قصے کہا نیاں ہیں ۔ کوئی قیامت نہیں ہے ۔ اور پھر اس پر دلیل قائم کرتےء اذاضللنا فی الا رضء انا لفی خلق جدید یعنی جب ہم زمین میں رل مل جائیں گے ۔ تو دوبارہ کیسے اٹھائے جائیں گے۔ یہ تو عقل و شعور کے خلاف ہے ھیہات ھیہات لما تو عدون یہ عقل سے بعید ہے کہ انسان مرکر دوبارہ زندہ ہو۔
ارشاد ہوتا ہے عم یتساءلون یہ لوگ کس چیز کے متعلق سوال کرتے ہیں ۔ عن النباالعظیم کیا بڑی خبر کے متعلق دریافت کرتے ہیں ۔ نبا کے معنی خبر کے ہیں ۔ نبی کا مادہ بھی نبا سے ہی ہے کہ نبی اللہ کی جانب سے خبردیتا ہے یہاں پر بڑی خبر قیامت کو کہا گیا ہے ۔ دوسری جگہ فرمایا قل ھو نبوء عظیم وانتم عنہ معرضون وہ بہت بڑی خبر ہے مگر تم اس سے اعراض کرنے والے ہو۔ اس کا انکار کرتے ہو۔ بڑی خبری اس لیے کہ وہ اپنے وقوع ، حالات اور نو عیت کے اعتبار سے بڑی خبر ہے۔ قیامت کا واقع ہونا ہر (رح) لحاظ سے ایک بڑی خبر ہے ۔ چناچہ اگلی سورة میں اسے طامۃ الکبری کے نام سے مو سوم کیا گیا ہے۔
گویا کائنا ت میں یہ سب سے بڑا ہنگامہ ہوگا ، جو اینٹ سے اینٹ بجادے گا اور ہر چیز کو درہم برہم کر دے گا حدیث شریف میں آتا ہے (ب 1 ترمذی ص 473 مستدرک حاکم ص 343 ج 2) ھود ۔ الواقعۃ ، والمرسلت ، وعم یتساءلون واذالشمس کورت یعنی مجھے سورة ہود ، واقعہ نبا اذالشمس کورت اور مرسلت نے بوڑھا کردیا ہے ۔ ان سورتوں میں قیامت کی ہولنا کیوں کو بیان کیا گیا ہے ۔ جو میری صحت پر اثر انداز ہوئی ہیں ۔ الغرض وقوع قیامت اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک بڑی خبر ہے ۔ اسی لیے اسے نبا العظیم کہا گیا ہے۔
Ayahs 78:2–5(وقوع قیامت کے متعلق اختلاف )
فرمایا یہ لوگ اس بڑی خبر کے متعلق دریافت کرتے ہیں کہ جس کے متعلق وہ خود اختلاف کر رہے ہیں ۔ الذی ھم فیہ مختلفون ۔ اختلاف کی صورت یہ ہے کہ کوئی تو قیامت کو مانتا ہے اور کوئی اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ مؤمنین ، انبیاء علہیم السلام کے ارشاد کے مطابق وقوع قیامت پر یقین رکھتے ہیں جب کہ کفار اس سے انکاری ہیں ۔ اور طرح طرح کی بیہودہ باتیں کرتے ہیں ۔ کوئی کہتا ہے کہ کسی کو مر کر جی اٹھتے نہیں دیکھا ۔ کوئی کہتا ہے کہ عذاب وثواب کوئی چیز نہیں جسم کا دوبارہ پیدا ہونا محال ہے کیونکہ نئی زنذگی روح کے لیے ہے ۔ جسم کے لیے نہیں ہے ۔
ان تمام شبہات واختلا فات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کلا یعنی ہرگز نہیں یہ حرف روع وزجر کے لیے آتا ہے ۔ یعنی جو کچھ تم سمجھ رہے ہو ایسی بات ہر گز نہیں ہے بلکہ سیعلمون یہ لوگ عنقریب جان لیں گے ۔ تا کیدا پھر فرمایا ثم کلا سیعلمون خبردار عنقریب ان لوگوں کو پتہ چل جائے گا ۔ کہ قیامت ایک حقیقت ہے ۔ اور قطعی طور پر آنے والی ہے اس سے انکار کرنا باطل ہے ۔ اور حماقت کی نشانی ہے۔
Ayah 78:6(زمین گہوارہ ہے زمین )
پہلی سورة میں فرمایا تھا کہ ہم نے زمین کو سمٹنیے والی بنایا ہے ۔ زندوں کو بھی سمیٹتی ہے ۔ اور مردوں کو بھی یہی اپنے اندر پناہ دیتی ہے ۔ اس جگہ فرمایا الم نجعل الا رض مھدا کیا ہم نے زمین کو گہوارے کی طرح نہیں بنایا ۔ انسان زمین پر بالکل اسی طرح آرام کرتے ہیں ۔ جس طرح بچہ گہوارے میں چین و سکون کے ساتھ وقت گذارتا ہے ۔ خدا تعالیٰ نے انسان کے لیے زمین کو مستقر بنایا ہے ۔ تا کہ وہ اپنے تمام کاروبار آسانی کے ساتھ زمین پر انجام دے سکے ۔ زمین میں حیات انسان کے تمام لوازمات پیدا کیے اور اس کی ضروریات کی ساری چیزیں مہیا کیں تو گویا زمین انسان کے لیے بمنزلہ گہوارہ کے ہے۔
Ayah 78:7(پہاڑ کیل ہیں )
فرمایا صرف زمین کو گہوارہ ہی نہیں بنایا بلکہ والجبال اوتادا پہاڑوں کو زمین پر کیل بنا دیا ہے ۔ حدیث شریف (ب 1 ترمذی ص 486) میں آتا ہے کہ زمین میں اضطراب تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر جگہ جگہ وزنی پہاڑ رکھ دیے تاکہ زمین کا توازن درست رہے اور یہ ڈولنے نہ پائے ۔ پہاڑوں کی تخلیق کا مقصدیہ بھی ہوسکتا ہے ۔ کہ میدانی زمین میں چونکہ تمام لوازمات زندگی مہیا نہیں ہوتے لہذا پہاڑ پیدا کردیے ۔ ان پر درخت کثرت سے ہوتے ہیں ۔ پہاڑوں سے چشمے ابلتے ہیں مع دنیات حاصل ہوتی ہیں ۔ جڑی بو ٹیاں ملتی ہیں اور پتھر وغیرہ ملتے ہیں ۔ یہ سب چیزیں انسانی ضروریات کی ہیں مگر عام طور پر میدان میں نہیں ملتیں لہذا اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو پیدا فرمادیا ۔ ان سے ایک طرف ضروریات زندگی میسر آئیں اور دوسری طرف انہوں نے زمین پر کیلوں کا کام دیا تا کہ زمین کا توازن درست رہے۔
Ayahs 78:8–9(خود تخلیق انسانی قیا مت پر دلیل ہے )
پہلی سورة میں فرمایا تھا الم نخلقکم من ماء مھین کیا ہم نے تمہیں حقیر قطرے آب سے پیدا نہیں کیا ؟ اس جگہ قدرت خداوندی کا ذکر کر کے وقوع قیامت پر دلیل قائم کی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق اور علیم کل ہے وہ یقینا قیامت بر پاکر سکتا ہے جس نے انسان کو حقیر قطرہ آپ سے پلٹیاں دے دے کر سمیع وبصیر پیدا کیا ، وہ دوبارہ زندہ کرکے محاسبہ کیوں نہیں کرسکتا ۔
(تخلیق ازواج)
اس کے بعد فرمایا وخلقنکم ازواجا اور ہم نے تمہیں جوڑے جوڑے پیدا کیا ۔ جوڑے سے مراد مرد و زن کا جوڑا بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی دو صنف پیدا کیے ۔ اور اس سے مومن کافر ، نیکی اور بدی کا جوڑا بھی ہو سکتا ہے جسیے ارشاد ہوتا ہے خلقکم فمنکم کا فرومنکم مؤمن ۔ یعنی حکمت خداوندی ہے کوئی ایمان لاتا ہے اور کوئی کفر کرتا ہے ۔ کوئی نیکی کرتا ہے اور کوئی بدی میں مبتلا ہے۔
Ayahs 78:10–11(لیل و نہار کے فوائد)
فرمایا وجعلنا نومکم سباتا ہم نے تمہارے لیے نیند کو آرام کا ذریعہ بنایا۔ سات گہرے سکون اور آرام کو کہتے ہیں ۔ سکون انسان کو نیند کے ذریعے میسر آتا ہے تا کہ اس کی تھکاوٹ دور ہوجائے انسان فطری طور پر کمزور ہے جیسا فرمایا خلق الا نسان ضعیفا یعنی انسان مسلسل دو وقت تک کا م نہیں کرسکتا ۔ بلکہ وقفہ وقفہ سے آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے نیند کو پیدا کیا ۔ تاکہ جب انسان کام کاج کرکے تھک جائے تو کچھ دیر کے لیے سو جائے ، آرام کرے ۔ اور پھر تازہ دم ہو کر دوبارہ کام میں لگ جائے ۔
فرمایا وجعلنا الیل لباسا اور ہم نے رات کو انسان کے لیے بمنزلہ لباس کے بنایا جس طرح لباس انسان کو گرمی سردی وغیرہ سے بچاتا ہے ۔ اسی طرح جب رات چھا جاتی ہے ۔ تو سب چیزوں کو اپنے اندر ڈھانپ لیتی ہے۔ اور ہر چیز پرسکون ہوجاتی ہے۔ پرندے درندے اور خاص طور پر انسان رات کو آرام کرتے ہیں لہذارات بطور لباس پیدا کی گئی ہے۔
اطباء کہتے ہیں کہ نیند ضروریہ (ب 1 ستہ ضروریہ وہ چیزیں ہیں جو انسان کے بدن کے حالات کو بدلنے والی اور حفاظت کرنے والی ہیں اور وہ یہ ہیں ۔ ہوا) میں سے ہے۔ اگر انسان کو نیند میسر نہ آئے تو طبیعت اچاٹ ہوجاتی ہے ۔ انسان پاگل ہوجاتا ہے ۔ جنون طاری ہوجاتا ہے ۔ لہذانیند نہایت ضروری ہے اور یہ عام طور پر رات کو ہی میسر آتی ہے ۔ لہذا انسانی زندگی کے لیے دن کی طرح رات بھی ضروری ہے۔ فرمایا وجعلنا النھار معاشا اور دن کو ذریعہ معاش بنایا ۔ جس طرح آرام کے لیے رات ضروری ہے ۔ اسی طرح کا روباریاروزگار کے لیے دن کا ہونا بھی ضروری ہے ۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے دن کو پیدا فرمایا تاکہ لوگ کام کاج کرکے اپنے معاش کا بندوبست کرسکیں۔
عاصم ابن ابی النحل فرماتے (ب 2 کھانے پینے کی چیزیں ) ہیں کہ مومن کے لیے دو قسم کی فکریں بڑی ضروری ہیں لاید للئ مومن منھا ھم المعاش المعاد یعنی مومن قیامت کی فکر اور معاش کی فکر سے کبھی سبکدوش نہیں ہوتا ۔ اسے ہمیشہ اس بات کی فکر رہتی ہے کہ قیامت کے لیے کیا تیاری کی ہے ۔ اپنے اور اہل و عیال کی پیٹ پروری کے لیے کیا کرنا ہے۔ لہذ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ۔ کہ جیسے ہم نے رات کو لباس بنایا اسی طرح دن کو ذریعہ معاش بنایا۔
(ب 3 نیند اور بیداری (4) سکون (5) احتباس اور استفراغ (6) احداث نفسانی یعنی وہ امور جو نفس کو لاحق ہو کر اس میں تغیرات کا باعث بنتے ب 2 حلیتہ الا ولیاء ص 406 ج 10)
Ayahs 78:12–13(کا ئنات کے مختلف عالم )
اور دیکھو ! ہم نے وبنینا فوقکم سبعا شدادا تمہارے اوپر سات سخت آسمان بنائے ۔ کہیں آتا ہے سبع سموت طباقا “ یعنی اوپر نیچے طبقات بنائے ۔ یہاں پر آسمانوں کو شدادکہا گیا ہے۔ حالانکہ آسمان تو شفاف نظر آتے ہیں ۔ شاہ ولی اللہ فرماتے ( ب 2 تفہمات الیہ ص 217 ج 1 تاص 219) ہیں کہ آسمانی کروں کے عناصر بھی زمین کی طرح ہی ہیں مگر وہ لطیف ہیں ۔ زمین میں کثافت اور ظلمت پائی جاتی ہے۔ مگر آسمان لطیف ہیں ۔ اور یہ مسلمہ اصول ہے کہ کسی چیز میں جس قدر مادیت اور ظلمت ہوگی وہ کمزور ہوگی اور دوسری چیز جس قدر لطیف ہوگی ، اسی قدر طاقتور ہوگی ۔ دنیا مادی جہاں ہے یعنی ہے یہ اینٹ اور پتھر والا جہاں کمزور ہے اس سے زیادہ لطیف جہان عالم مثال ہے ۔ زمین میں جو چیز بھی نظر آتی ہے ۔ پہلے عالم مثال میں آکر قائم ہوتی ہے ۔ پھر یہاں آتی ہے ۔ عالم مثال ، اس مادی اور ناسوتی جہاں سے بہت قوی ہے اس سے زیادہ طاقتور جہان عالم ملکوت ہے۔ جو ملا ئ کہ اور ارواح کا جہاں ہے ۔ اس سے زیادہ طاقتور عالم جبروت ہے جس کا تعلق اللہ تعالیٰ کے اسماء اور اس کی صفات سے ہے اور آخر میں عالم لا ہوت ہے اس عالم تک کسی کی رسائی ممکن نہیں ۔
(مادہ اور توانائی )
الغرض حکمائے الٰہی اس طریق پر سوچتے ہیں ۔ وہ بلند ی سے نیچے کی طرف آتے ہیں ۔ سب سے بلند ترایک ذات ہے ۔ جو وجود کی مالک ہے ہے وجود سب چیزوں پر حاوی ہے ۔ اس کے بعد اس کے اسماء اور صفات کا درجہ ہے ۔ ان میں بڑی قوت ہے پھر ملکوت کا درجہ ہے۔ اس میں بھی بڑی طاقت ہے ۔ پھر عالم مثال کا جہان ہے۔ یہ بھی بڑاطاقتور ہے۔ اس کے بعد یہ مادیت کا جہان سے یہاں پر وہ اور سائنس ان یعنی مادی حکما آ کر مل جاتے ہیں سائنس دان مادیت سے شروع کرتے ہیں مادیت کو تلاش کرتے ہیں ۔ عناصر وغیرہ کا مطالعہ کرتے ہیں اور پھر مختلف قسم کے انکشافات کرتے ہیں انہیں آہستہ آہستہ معلوم ہوتا ہے کہ مادے سے طاقتور کوئی چیز بھی موجود ہے۔ اس طرح سائس دان مختلف تجربات کے بعد اس نتیجے پر ہیں کہ مادہ کوئی چیز نہیں ، اصل چیز توانائی ہے یہ ایٹم بم توانائی پر ہی مبنی ہے ۔ یہ کوئی بہت بڑا بم نہیں ۔
اس کے پھٹنے سے اس قدر توانائی خارج ہوتی ہے۔ کہ دس بارہ میل تک کے علاقہ میں اس کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹھہرسکتی اسکو فنا کے گھاٹ اتاردیتی ہے۔ یہ صرف مادی توانائی کا ذکر ہے سائنسدان تو عالم مثال تک بھی نہیں پہنچ سکے ۔ حالا ن کہ حکما اوپر کے تمام جہانوں کے بارے میں مطالعہ رکھتے ہیں۔
بہرحال آسمانوں کو شداد اس (رح) لحاظ سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ بہت طاقتور ہیں ۔ زمین کی نسبت وہ لطیف ہیں ۔ اور زیادہ طاقتور ہیں ۔ جتنا کوئی جہان لطیف ہوگا ، اتنا ہی طاقتور ہوگا ۔ جبرائیل امین (علیہ السلام) ایک لطیف مخلوق ہے ۔ اس کی توانائی کا اندازہ مادی مخلوق نہیں کرسکتی ۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اتنی قوت رکھی ہے کہ چاہے تو ایک پر کے ساتھ ساری دنیا کو ملیامیٹ کر دے ۔ یہ لطیف چیز ہے۔ اس طرح آسمان بھی لطیف ہیں ۔ اس لیے انہیں شداد یعنی طاقتور کہا گیا ہے وجعلنا سراجا وھاجا اور ہم نے ایک چمکتا ہوا چراغ رکھا ہے ۔ اس سے مراد سورج ہے ۔ جو ان آسمانوں میں رکھا ہوا ہے ۔ نہ اس میں پڑول ڈالا جاتا ہے۔ اور نہ ہی کوئی اور ایندھن مگر جب تک اس کو قائم رکھنا منظور خداوندی ہے ، یہ اسی طرح چمکتا دمکتا رہے گا ۔ اور حرارت اور توانائی بہم پہنچاتا رہے گا ۔ جب اللہ تعالیٰ اس نظام کو تبدیل فرمائیں گے ۔ تو یہ سب چیزیں ختم ہوجائیں گی اس قسم کے اشارات اگلی سورتوں میں بکثرت ملتے ہیں۔ مثلا اذالشمس کورت ۔ جب سورج کی روشنی لپیٹ دی جائیگی اور یہ سارانظام درہم برہم کردیا جائے گا۔
Ayahs 78:14–16(پانی ایک عظیم نعمت ہے)
فرمایا وانزلنا من المعصرت ماء ثجاجا اور ہم نے آسمان کی طرف سے (نچڑنے والے بادلوں سے ) زور سے بہنے والا پانی اتارا ، جو ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتا ہے ۔ بادل پانی سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں ۔ وہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں تو نچڑتے ہیں ۔ اور جتنا پانی بہنانا مقصود ہوتا ہے بہ جاتا ہیں ۔ وہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں تو نچڑتے ہیں ۔ اور جتنا پانی بہانا مقصود ہوتا ہے بہ جاتا ہے ۔ اور پانی بہانے سے مقصو دیہ ہے لنخرج بہ حبا ونباتا تا کہ اس سے دانے اور سبزہ اگائیں ۔ وجنت الفافا اور گھنے باغ پیدا کریں جو کہ متاعا لکم ولا نعامکم تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے ہیں ۔
Ayah 78:17(فیصلے کا دن )
اے انسان ! اللہ تعالیٰ نے تم کو زمین میں اسی طرح قائم کیا ہے جس طرح کسان زمین میں دانہ بوتا ہے اور پھر فصل پکنے کا انتظار کرتا ہے ۔ تا کہ ایک دن فصل کی کٹائی کرے جس طرح فصل کی کٹائی کا وقت مقرر ہے ۔ اسی طرح ان یومالفصل کان میقاتا انسان کے لیے فیصلہ کا ایک دن مقرر ہے نیکی اور بدی مومن اور کافر جداجدا ہوجائیں گے حالانکہ آج ملے جلے ہیں اس دن ہر چیز اپنے مرکز تک پہنچے گی ۔ یہ فیصلے کا دن ہوگا ۔ اس کے بعد اس دن کی کیفیات بیان کی گئی ہیں ۔ جو اگلے درس میں آئیں گی ۔
Ayah 78:18(گذشتہ سے پیوستہ)
سابقہ درس میں انسان کی پیدائش اور اس کی ضروریات کا ذکر تھا اور پھر یہ کہ ان یوم الفصل کان میقاتا فیصلے کا ایک دن مقرر ہے ۔ ہر نیک وبد کو اس کے اعمال کے مطابق جزا وسزاملے گی اس درس میں اس دن کی بعض تفصیلات ہیں ۔
فرمایا فیصلے کا مقررہ دن ہوگا جس دن یوم ینفخ فی الصور صور میں پھونکا جائے گا ۔ حدیث نفخ صور شریف (ب 1 تر مذی ص 467) میں صور کی تشریح مو جود ہے ۔ صحابہ کرام ؓ نے حضور ﷺ سے دریافت کیا ۔ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ صور کو ایک سینگ کی مانند سمجھو جس کا ایک کنارہ باریک اور دوسراپھیلا ہوا ہوتا ہے۔ اسرافیل (علیہ السلام) فرشتہ کہ صور کے باریک کنارے میں پھونک مارے گا ۔ جو کھلے دہانے سے پھیلے گی ۔ قرآن حکیم سے معلوم ہوتا ہے کہ صوردود فعہ پھونکا جائے گا ۔ پہلی پھونک پر تمام جانداروں پر موت طاری ہوجائے گی ۔ یہ سارانظام درہم برہم ہوجائے گا۔ یہ فنا کا صورہوگا ۔ جب دوسری دفعہ صورپھو نکا جائے گا۔ تو تمام مردے زندہ ہوجائیں گے۔ اور پھر ان کا محاسبہ ہوگا اس کی تفصیلات موجود ہیں۔
حدیث شریف (ب 2 مسلم ص 406 ج 2 وتجاری ص 735 ج 2) میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ پہلے اور دوسرے صور کے درمیان چالیس 40 کی مسافت ہے ۔ صحابہ ؓ نے پو چھا کہ چالیس 40 سال حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا میں نہیں کہہ سکتا ۔ صحابہ ؓ نے پھر پوچھا کہ ! چالیس دن ؟ انہوں نے کہا میں نہیں کہہ سکتا ۔ بہر حال دوصور کے درمیان چالیس 40 دن یا چالیس سال کی مسافت ہوگی ۔ پہلی بارصور پر تمام نظام ملیا میٹ ہوجائے گا ۔ اور دوسری بار صور پر پھر زندہ ہوجائینگے ۔ ایک دوسری حدیث (ب 3 ترمذی ص 466) میں حضور ﷺ کے یہ الفاظ بھی آتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کیف انعم وقدالتقم صاحب القدن القدن وحی جبھتہ واصغی سمعہ ینتظران یومدان ینفخ فینفخ میں کس طرح خوش رہ سکتا ہوں جب کہ صور پھو نکنے والے فرشتے نے صور منہ میں پکڑا ہوا ہے پیشانی جھکائی ہوئی ہے ۔ اور کان لگائے ہوئے منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ پھو نک مارے۔
امام ابن عربی صاحب کشف بزرگوں میں سے گذرے ہیں ان کا بیان 4 ہے۔ کہ وہ صور اتنا بڑا ہے۔ کہ ساتوں زمین اور ساتوں آسمان صور کے دہانے میں پڑے ہوئے ہیں جب اس میں پھونک ماری جائے گی ۔ تو ارض وسما کی تمام چیزیں درہم برہم ہوجائیں گی ۔ یہ امام صاحب کی کشفنی بات ہے ۔ کسی روایت سے ثابت نہیں ۔
(فوج درفوج)
تو فرمایا جس دن صورپھونکا جائے گا فتاتون افواجا تو تم چلے آؤگے فوج درفوج غول کے غول یا جھنڈ کے جھنڈ۔ دوسری آیت میں وضاحت ہے کہ۔ جس طرف سے آواز آرہی ہوگی ۔ لوگ اس طرف ایسے دوڑیں گے ، جیسے تیرنشانے کی طرف جاتا ہے۔
(ب 3 تر مذی ص 466 ۔ 4 عرف شذی ص 469 طبع مکتبہ رحیمیہ دیوبند)
صورپھو نکنے پر مختلف ارواح اپنے اپنے اجسام کے ساتھ بالکل اسی طرح منسلک ہوجائیں گی جس طرح وہ دنیا میں ہوا کرتے تھے جو بھی نیکی یا بدی انہوں نے دنیا کی زندگی میں کی تھی ، وہ ان کے ساتھ ہوگی دوسری جگہ قرآن پاک میں موجود ہے کہ جب انسان دوبارہ زندہ کئے چائیں گے ھم یوزعون الگ الگ کردیا جائے گا ۔ یعنی کافر الگ ہوں گے ، مومن الگ ہونگے ، اطاعت والے علیحدہ ہونگے اور معصیت میں ملوث علیحدہ۔ زانی ، قاتل چور وغیرہ ہر قسم کے لوگ اپنے اپنے گروہ میں شامل ہوں گے ۔ اس طرح خوش عقید ہ گروہ الگ ہوگا اور بداعتقاد لوگ اپنے ٹولہ میں ہوں گے ۔ صابروشاکر اپنے ساتھیوں کے ساتھ اٹھیں گے اور ناشکر گذار اپنے جیسوں کے ہمراہ ہوگے ۔ اس طرح گو یا تمام اقسام کے لوگ گروہ درگروہ آگے جائیں گے ۔ بعض ضیعف روایات (ب 1 تفسیر درمنشورص 307 ج 2 تفسیر عزیز فارسی ص 12 پ 30 روح المعانی ص 12 ج 30) میں آتا ہے کہ اس وقت بعض لوگون کی شکلیں بندروں کی ہوں گی اور بعض کی خنز یروں جیسی ۔ بعض کے ہاتھ پاؤں ٹو ٹے ہوں گے اور بعض کی زبانیں لٹک رہی ہوں گی ۔ گو یا مختلف جرائم میں ملوث لوگ اپنی بد عقید گی ، ابد اعمالی اور بداخلاقی کی بنیاد پر اپنے اپنے گروہوں میں اکٹھے ہوں گے۔
Ayah 78:19(آسمان کا پردہ اٹھ جائے گا )
فرمایا اس دن حالت یہ ہوگی وفتحت السماء آسمانوں کو کھول دیاجائے گا فکانت ابوابا پس وہ دروازے نظر آئیں گے جس طرح دیوار پھٹ جاتی ہے اور دریچے نظر آتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ساتوں آسمانوں سے اوپر جنت اور عرش الٰہی نظر آنے لگیں گے ۔ یعنی آج جو چیزیں آسمان سے پارنظر نہیں آتیں اس دن سب دکھائی دیں گی۔
Ayah 78:20(پہاڑ ریزہ ہوجائیں گے)
فرمایا و سیرت الجبال فکانت ابوابا۔ پہاڑوں کو چلا یا جائے گا اور وہ چمکتے ہوئے ریت کی طرح ہوجائیں گے۔ بالکل سراب کی طرح جو دور سے چمکتا ہوانظر آتا ہے۔ مگر حقیقت کچھ نہیں ہوگی پانی تو ہوتا نہیں۔ محض سراب ہوتا ہے۔
الغرض مضبوطی سے جمے ہوئے یہ پہاڑریزہ ریزہ ہوجائیں گے ۔ جیسے دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے۔ ینسفھا ربی نسفا اور ایک جگہ فرمایا ان پہاڑوں کی حالت کالعھن المنفوش رنگین دھنی ہوئی اون کی مانند ہوگی ۔ پہاڑوں کے ذرات بکھر جائیں گے ۔ بعض پہاڑ سرخ ہیں بعض سیاہ ہیں ۔ تو جب یہ ر یزہ ریزہ ہو کر بکھریں گے تو رنگین دھنی ہوئی اون کی مانند نظر آئیں گے ۔ اس طرح گویا یہ بےحقیقت سی چیزبن کر رہ جائیں گے ۔ ایک اور جگہ انہیں واھیۃ یعنی کمزور کہا گیا ہے۔ اس وقت خوف و دہشت طاری ہوگی ، والملک علیٰ ارجا ئھا فرشتے کناروں پر ہوں گے حاملین عرش کی تعداددگنی ہوجائے جیسا کہ فرمایا ویحمل عرش ربک فوقھم یومئذ ثمنیۃ اس دن عرش الٰہی کو تھا منے والے فرشتوں کی تعد ادچار سے بڑھ کر آٹھ ہوجائے گی عرش الٰہی پر قہری تجلی نازل ہوگی جس سے ثقل بڑھ جائے گا ہرچیز پر خوف طاری ہوگا ۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ پہاڑ جو آج اس قدر مضبوط نظر آتے ہیں ۔ اس دن سراب نظر آئیں گے۔
Ayah 78:21(دوزخ تاک میں ہے)
اس کے بعد فرمایا ان جھنم کانت مرصادا بیشک دوزخ تاک میں ہے ۔ یعنی گنہگاروں ، نافرمانوں اور خدا کی تو حید اور قیامت کے منکر ین کے انتظار میں ہے کہ وہ کب اس کا شکار بنتے ہیں للطغین مابا وہی سرکش لوگ جہنوں نے اطاعت کی بجائے معصیت کا راستہ اختیار کیا ۔ ظلم اور زیادتی کرتے رہے ان کا ٹھکانا یقینا جہنم ہے جہنم اور اس کے فرشتے ایسے لوگوں کا انتظار کر رہے ہیں ۔
فرمایا اس قسم کے بدکردار لوگ لٰبثین فیھا ٹھہریں گے اس دوزخ میں احقابا قرن ہا قرن تک ۔ احقاب حقیب کی جمع ہے بعض مفسرین کرام (ب 1 تفسیر ابن کثیرص 463 ج 2) فرماتے ہیں کہ ایک حقب اسی 80 سال کے برابر ہے۔ حضرت علی ؓ سے حقب کے متعلق دریافت کیا گیا ۔ تو انہوں نے فرمایا (ب 2 درمنثورص 307 ج 2) کہ حقب اسی سال کا ہوتا ہے ۔ ایک سال بارہ مہینہ کا اور ایک مہینہ تیس دن کا ۔ اور ایک دن موجود ہ دنیا کے حساب سے ایک ہزار سال کے برابر ہے۔ اس لحاظ سے قیامت کا ایک حقب اس دنیا کے دو کروڑ چھیاسی لاکھ سال کے برابر ہوگا ۔ اور منکرین کو قرنہاقرن تک وہاں رہنا ہوگا ۔ بعض مفسرین (ب 3 تفسیر ابن کثیر ص 464 ج 4 تفسیر مظہری ص 75 اد 176) فرماتے ہیں کہ احقاب سے مراددائمی رہنا ہے ۔ یعنی کفار ومشرکین ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہیں گے۔ عرب اپنے محاورے میں حقب کا لفظ غیر محدود زمانے کے لیے بولتے ہیں ۔ کتاب الحماسۃ یاربۃ البیت قومی غید صاعندۃ اے گھر کی مالکہ اٹھ کھڑی ہو اس حال میں کہ تو عزت والی ہے صمی الیک رحال القوم والقربا ان مہمانوں کے کجاوے اور ہتھیار اپنے پاس رکھ لے وقلت لما غدوا اوصی قعیدتنا اور میں نے کہا جب انہوں نے صحیح کی (جانے کا وقت) اس حال میں کہ میں اپنے گھر والی کو نصیحت کر رہا تھا ۔ پھر جب صبح کو ان کے رخصت کا وقت آتا ہے کہتا ہے غدی بنیک فلم تلقیھم حقبا ان مہانوں کو کھاناکھلا جو بمنزلہ تیرے بیٹوں کے ہیں پس تو ان سے نہیں ملیگی مدت درارزتک یعنی ان اونٹوں پر سفر کرنے والے مسافر ہیں کوئی جان پہچان والے تو ہیں نہیں فلم تلقیھم حقبا اب ان سے تیری ملاقات احقاب کے بعد یعنی غیر محدود زمانے کے بعد ہی ہوسکتی ۔ تو گویا حقب کا لفظ غیر محدود زمانے پر بولا جاتا ہے ۔ لہذامفسرین فرماتے ہیں کہ جو لوگ اس دنیا سے ایمان کی دولت سے خالی گئے ہیں وہ ابدی طور پر جن ہم میں رہیں گے ۔ ان کی رہائی کی کوئی صورت نہیں ہوگی ۔
( مومنین کا تزکیہ )
البتہ ایسے ایماندار جو دنیوی زندگی میں معصیت میں مبتلا ہوئے اور بغیر توبہ کے رخصت ہوگئے ۔ ان کو بھی سزاتو ملے گی مگر وہ تزکیہ کے لیے ہوگی ۔ ایسے لوگوں کو ان کے گناہوں سے پاک کرنے کے لیے مختلف مدت کی سزا میں دی جائیں گی ۔ کوئی ایک گھڑی بھر دوزخ میں رہے گا ۔ کوئی ایک دن اور کوئی ہزاروں سال ۔ جس نوع کے جرائم انہوں کیے ہوں گے ۔ ان کے مطابق انہیں سزاملے گی۔ مگر آخر کار انہیں دوزخ سے رہائی حاصل ہوجائے گی وہ لوگ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں نہیں رہیں گے ۔ امام ترمذی فرماتے (ب 1 ترمذی ص 378) ہیں کہ اس بارے میں تمام صحابہ ؓ محد ثین کرام اور علماء کا اتفاق ہے کہ اہل تو حید ابدی طور پر جہنم میں نہیں رہیں گے بلکہ حسب حال سزا کاٹ کر جہنم سے آزاد ہوجائیں گے ۔ اس کی پوری تفصیل احادیث میں موجود ہے۔
Ayahs 78:22–26(دوزخیوں کی سزامئیں )
دائمی طور جہنم رسید ہونے والے لیے ایمانوں کے متعلق فرمایا لا یذوقون فیھابرداولا شرابا ایسے لوگوں کو جہنم میں نہ تو ٹھنڈک نصیب ہوگی اور نہ ہی انہیں پینے کے لیے کوئی مشروب مہیا کیا جائے گا۔ الا حیماوغساقا سوائے اس کے کہ ان کے لیے کھولتا ہواپانی ہوگا ۔ اور زخموں سے بہنے والی پیپ ہوگی حمیم اس کھولتے ہوئے پانی کو کہتے ہیں جب وہ بھا پ بننے کے قریب ہوجائے یعنی جس کے بعد حرارت کا مزید درجہ نہ ہو دوزخی اس قسم کے پانی کو پینے کی کوشش کریں گے تو اس کا ایک گھونٹ آنتوں کو کاٹ کر رکھ دے گا پھر اپنی جگہ قائم ہوں گی ۔ دوبارہ پیئیں گے تو پھر وہی حشر ہوگا ۔ جیسا کہ انسانی جلد کے متعلق آتا ہے ۔ کہ دوزخ کی آگ جلد کو جلا کر راکھ کر دیگی مگر وہ بالکل کوئلہ ہو کر تو نہیں رہ جائیگی ، بلکہ جلی ہوئی کھال کی جگہ نئی جلد لے لے گی ۔ اور پھر وہ بھی جل جائے گی ۔ یہ عمل مسلسل جاری رہے گا۔
انہیں پینے کے لیے جو پیپ دی جائے گی ۔ وہ سخت بدبو دار ہوگی ۔ حدیث شریف (ب 1 مسنداحمد ص 28 ج 3) میں آتا ہے کہ دوزخ کی اس پیپ کا ایک ڈول بھر کر دنیا میں پھینک دیا جائے ۔ تو اس کی بدبو سے کوئی چیز کھانے پینے کے قابل نہ رہے ۔ زمین کی نشونما کی طاقت ہی ختم ہوجائے ۔ اور بدبو ناقابل پر داشت ہوجائے ۔
دوزخ کی ان سزاؤں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا جزاء وفاقا یہ سزائیں ظلم و زیادتی کی بات نہیں ہوگی ۔ بلکہ کفار ومشرکین اور بدکردار لوگوں کے لیے ان کے اعمال باطلہ کا پورا بدلہ ہوگا ۔
Ayahs 78:27–30(سزا کی وجوہات)
فرمایا یہ سخت سزائیں اس لیے دی جائیں گی کہ انھم کانو لایرجون حسابا دنیا میں رہتے ہوئے وہ آخرت کے حساب کتاب کی توقع ہی نہیں رکھتے تھے ۔ رجا کا معنی توقع بھی ہے اور ڈر بھی ۔ یہاں مراد دونوں معنی لیے جاسکتے ہیں یعنی ان لوگوں کو نہ تو محاسبے کی تو قع تھی نہ ہی یہ اس سے خوف کھاتے تھے ۔ وہ تو وقوع قیامت کے ہی منکر تھے ۔ حساب کتاب تو بعد کی بات ہے۔ وہ قیامت کے متعلق ہی بیہودہ قسم کے سوالات کرتے تھے۔ اور آپس میں اختلافات رکھتے تھے۔ سزا کی دوسری وجہ یہ بیان فرمائی وکذبوابایتنا کذابا کہ یہ لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے ۔ انہوں نے انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کی ۔ قیامت اور محاسبے کی تکذیب کی ۔ کہتے تھے۔ تم جھوٹ کہتے ہو۔ اللہ نے کوئی شریعت نازل نہیں کی ۔ کوئی قیامت نہیں آئے گی لہذا اس تکذیب کی وجہ سے انہیں دوزخ کی سزائیں دی جائیں گی۔
(ہر چیز کا ریکارڈ موجود ہے)
فرمایا کفار ہرچیز کا انکار کرتے ہیں ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وکل شیء احصینہ کتبا ہم نے ہرچیز کو کتاب میں شمار کر رکھا ہے۔ ازل سے لے کر ابد تک کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے ۔ اور لوح محفوظ فرشتوں کے رجسٹروں اور انسانوں کے اعمال ناموں میں محفوظ ہے۔
دوسری جگہ موجود ہے کہ جس دن انسان اپنے سامنے اس رجسٹر کو کھلاپائے گا جس میں اس کا اعمال نامہ درج ہے ۔ تو تعجب سے کہے گا مال ھذالکتب لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرالا احصہا یہ عجیب نوشتہ ہے۔ جس میں ہر چھوٹی بڑی چیز درج ہے۔ انسان یہ دیکھ کر دنگ رہ جائے گا کہ اس نے اپنی زندگی میں جو بھی نیکی یا بد ی کی تھی ۔ سب وہاں موجود ہے۔
(دائمی اور عارضی عذاب )
ایسے لوگوں کے لیے حکم ہوگا ۔ فذوقوا فلن نزید کم الا عذابا ۔ اب اس عذاب کا مزہ چکھو ۔ ہم نہیں زیادہ کریں گے تمہارے لیے مگر عذاب ۔ یہ تمہاری ہی کمائی کا نتیجہ ہے۔ ذلک بماقدمت ید ک یہ تمہارے ہاتھوں کا آگے بھیجا ہوا توشہ ہے ۔ وان اللہ لیس بظلام للعبید اور اللہ تعالے اپنے بندوں کے ساتھ زیادتی نہیں کرتے ۔ بلکہ ذق انک انت العزیز الکریم۔ لہذا اس عذاب کا مزہ دائمی طور پر چکھو تو دنیا میں بڑا غالب اور عزت دار تھا ظاہر ہے کہ یہ حکم کفار ومشرکین کے لیے ہوگا ، جو ایمان کی دولت سے محروم رہے کبائر کے مرتکب ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا ۔ وگرنہ اہل ایمان جو معصیت میں مبتلا ہوئے اور بغیر تو بہ مرگئے ۔ وہ اپنے گناہ کی سزابھگتنے کے بعد دوزخ سے نکل جائیں گے ۔ اور ایمان کی بدولت اللہ کی رحمت میں داخل ہوجائیں گے۔
Ayah 78:31(تذشتہ سے پیوستہ )
اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا حال بیان فرمایا ہے ۔ اور یہ کہ ان یوم الفصل کان میقاتا فیصلے کا ایک دن مقرر ہے ۔ وہ لازما آنے والا ہے ۔ اس دن ہر شخص کو اپنے اعمال کے اعتبار سے جدا کیا جائے گا ۔ نیک وبد اپنے اپنے گروہوں میں علیحدہ علیحدہ ہوں گے ، نیکوکار ، اللہ کی تو حید کو ماننے والے الگ ہوں گے مکذبین اور قیامت پر یقین نہ رکھنے والے الگ ہوں گے مکذبین کا جو حشر قیامت کو ہونے والا ہے ۔ اس کا بیان بھی گذشتہ درس میں ہوچکا ہے ۔ اب اس درس میں متقین کے حالات بیان ہوگے ۔ الغرض اس سورة میں قیامت کا حال کاشتکار کی ذہنیت کے مطابق بیان کیا گیا ہے ، جس طرح کسان زمین کاشت کرنے کے بعد فصل کی کٹائی کا منتظر رہتا ہے اس طرح اللہ نے انسان کو زمین میں قائم کیا ۔ اب قیامت کے مقررہ دن کو اس کا محاسبہ ہوگا ۔
(متقین کیلے انعامات)
قرآن پاک کا ایک عام اسلوب بیان ہے کہ جہاں گنہگاروں کا ذکر کیا ہے ۔ اس کے ساتھ نیکوکاروں کا بھی بیان ہے ۔ جہاں جہنمیوں کی سزاکو بیان کیا ، وہاں جنتیوں کے انعامات کا بھی ذکر کیا گذشتہ سورة میں مکذبین کے متعلق فرمایا ، ویل یومئذ للمکذبین وہاں متقین کے متعلق فرمایا ان المتقین فی ظلل یعنی متقین نعمت کے باغوں چشموں اور سایوں میں ہوں گے۔
اس سورة میں بھی مکذبین کا حال بیان کرنے کے بعد ارشاد ہوتا ہے ۔ ان للمتقین مفازا بیشک متقی لوگوں کے لیے کامیابی ہے۔ مفازا فوز سے ہے جس کا معنی مراد کو پہنچنا یعنی کا میابی حاصل کرنا ہے۔ اب کامیابی کیا ہے۔ ہماری دنیوی زندگی کے لحاظ سے لوازمات زندگی کے حصول کا نام کامیابی ہے ۔ انسان کے ذہن میں کا میا بی کا نقشہ اس قسم کا آسکتا ہے کہ جسمانی طور پر تندرستی ہو۔ روحانی طور پر راحت آرام و سکون ہو ۔ اہل وعیا ل ، مال و دولت خوراک لباس غرض کہ ضروریات کی تمام اشیاء میسر ہوں ، یہی کامیابی ہے ۔ کسی قسم کا رنج وغم نہ کوئی جسمانی تکلیف ہو ، اور نہ روحانی تکلیف ہو۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدافرما کر جنت میں داخل کیا تو فرمایا الا تجوع فیھا ولا تعری تمہیں نہ یہاں بھوک کا خطرہ ہوگا نہ پیاس کا۔ لباس نصیب ہوگا د ھوپ اور گرمی کا احساس نہ ہوگا ۔ بہترین محل بھی نصیب ہوگا ۔ یہی کا میابی ہے۔ بہشت میں پہنچنے والے ہر انسان کی کا میابی کا جو تصور قرآن پاک نے پیش کیا ہے ۔ وہ اس قسم کا ہے جس طرح اس دنیا میں کوئی بادشاہ ہوتا ہے ۔ حکومت مال و دولت محلات نو کرچاکر یہ تمام چیزیں ایک بادشاہ کو حاصل ہوتی ہیں۔ وہ ایک خود مختار حکمران ہوتا ہے ۔ جو نظام حکومت چلاتا ہے ۔ اسی طرح حضور ﷺ نے ایک عام جنتی کے متعلق فرمایا (ب 1) کہ اس کے ایک ہزار خادم ہوں گے ، جو اس کے ہر حکم کی تعمیل کے لیے کمربستہ ہوں گے ۔ بعض روایات (ب 1 ترمذی ص 368) میں اسی 80000 ہزار خدام کا ذکر بھی آتا ہے ۔ عالیشان محل میسر ہوگا ۔ باغات ہوں گے اور پھر پہننے کے لیے ولباسھم فیھا حریر “ ریشم کا لباس میسر ہوگا۔ باریک موٹا ، سفید رنگین جس قسم کا کپڑاچا ہے گا ، اسے حاصل ہوگا۔
زیب وزینت کی اشیاء میں سے سونے کے کنگنوں کا ذکر آتا ہے کہ جنتیوں کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ دوسری جگہ لئولئوا “ کا ذکر ہے کہ گلے میں پہننے کے لیے بیش قمیت موتیوں کے ہار ہوں گے ۔ سورة اعراف میں اس طرح بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے دنیا میں بھی زینت کا سامان مباح فرمایا ہے ۔ مگر قیامت کو تو خالصۃ یوم القیمۃ خالص انہیں کو نصیب ہوگا ۔ برخلاف اس کے کفار زینت کے لواز مات سے محروم ہوں گے ۔ ان کے لیے دکھوں اور تکا لیف کے انبار ہوں گے اور درد ناک عذاب ہوگا۔
(تقویٰ کا مفہوم)
متقی سے مراد وہ شخص ہے جو کفر وشرک سے اجتناب کرتا ہے ۔ معاصی سے بچتا ہے۔
اور دنیوی زندگی نہایت احتیاط کے ساتھ بسر کرتا ہے ۔ لفظ تقوی کے متعلق حضرت عمر ؓ اور حضرت ابی بن کعب ؓ کا مکالمہ موجودہ (ب 2 تفسیر ابن کثیرص 40 ج 1) ہے ۔ حضرت عمر ؓ نے دریافت کیا کہ تقوی کس کو کہتے ہیں تو حضرت ابی بن کعب ؓ نے جواب میں کہا اما سلکت طریقا ذاشوک کیا آپ کو کبھی ایسے راستے پر چلنے کا اتفاق نہیں ہوا جو خاردار ہو ؟ جس پر کانٹے بچھے ہوئے ہوں ۔ حضرت عمر ؓ نے کہا ، بارہا ایسا ہوا ہے میں ایسے راستوں سے گذرا ہوں حضرت ابی ؓ نے پھر پوچھا تو ایسے راستے پر آپ نے کیا کیا ۔ انہوں نے کہا شمدت واجتھدت میں اپنے دامن کو سمیٹ لیا ۔ اور بڑی احتیاط کے ساتھ وہاں سے گذرا۔ کہ کہیں میرے کپڑے کانٹوں میں الجھ جائیں ۔ تو ابی بن کعب ؓ کہنے لگے فذلک التقوی ہوئے ہیں۔ اب برائیوں سے بچ کر نکل جانا ہی تقویٰ ہے ۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک (ب 3 ترمذی ص 367 مسلم بخاری ص 960 ج 2) ہے حفت الجنۃُ بلمکارہ وحفت النار بالشھوت یعنی جنت کو مشکلات کی باڑ کے ساتھ گھیر لیا گیا ہے۔ اور دوزخ کو شہوات کی باڑ سے جو شخص ان شہوات سے بچ کر نکل گیا ، وہی متقی ہے اور جو ان شہوات میں الجھ گیا وہ پھنس گیا۔
متقی عقیدے اور عمل دونوں کے اعتبار سے ہوتا ہے ۔ تقوی ایک ایسی صفت ہے جو مومن کے لیے لازم ہے اسی لیے قرآن پاک میں جگہ جگہ حکم ہے ” یایھا الذین امنواتقوا اللہ اے ایمان والو ! اپنے اندرتقوی کی صفت پیدا کرو ۔ دل میں خوف خدا پیدا کرو ۔ کہیں فرمایا ۔ ھدی للمتقین “ ایک دوسری جگہ ارشاد ہے ” واتقون یاولی الا لباب “ اے عقل والو ! تقوی اختیار کرو ۔ روزہ کے بیان میں فرمایا کہ روزے تم پر اس لیے فرض کئے گئے ہیں ۔ لعلکم تتقون “ تا کہ تم متقی بن جاؤ ۔ اور اس کا فائد ہ یہ ہوگا کہ شرعی احکام کو آسانی کے ساتھ انجام دے سکوگے ۔
حضور نبی کریم صلی علیہ وسلم کے ایک صحابی سفر پر جا رہے تھے ۔ عرض کیا حضور ! زودنی مجھے کچھ توشہ عطافرمائیے ۔ توشہ سے مراد وہ نصیحت ہے جو سفر میں کام آئے حضور ﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا (ب 1 ترمذی ص 497) زودک اللہ التقوی اللہ تعالیٰ تقوی کا توشہ عطا فرمائے اور جہاں تو جائے بہتری کا پائے اس کے لیے آپ نے یہ دعا فرمائی ۔ الغرض متقین وہ لوگ ہیں جو شرک کفر اور معاصی سے بچتے ہیں ۔ مشرک اور منافق کبھی متقی نہیں ہوسکتا ۔ اس طرح کبیرہ گناہ کرنے والا جب تک تائب نہ ہو ، متقی نہیں ہو سکتا ۔ تقوی کی برکت سے مومن کے لیے شریعت پر کاربند ہونا آسان ہوجاتا ہے۔
Ayahs 78:32–33(باغ اور ہم عمر عورتیں )
متقیوں کے انعامات کے متعلق فرمایا حدائق واعنابا ان کے لیے باغ اور انگوروں کے گچھے ہوں گے ۔ حدائق حدیقۃ کی جمع ہے۔ اور یہ اس باغ کو کہتے ہیں جسکے ارد گرد چار دیواری ہو یا کوٹھی ہو۔ وہ ایسے باغ کو عربی زبان میں ریاض یا بستان کہا جاتا ہے۔
باغ اور انگور تو رہنے سہنے اور کھانے پینے کا سامان ہے ۔ مگر ذہنی آرام سکون کے لیے فرمایا وکواعب اترابا نوجوان ہم عمر عورتیں ہوں گی دوسری جگہ فرمایا زوجنھم بحورعین ایک مقام پر ارشاد ہے ولھم فیھا ازواج مطھرۃ ان کے لیے پاکیزہ عورتیں ہوں گی جو ظاہر اور باطن ہر لحاظ سے پاکیزہ ہوں گی ۔ شکل و صورت میں بھی نہایت اعلیٰ ہوں گی۔ اور اخلاق کے بھی بلند مرتبہ پر فائز ہوں گی ۔ ان کی خوبصورتی کا یہ حال ہوگا کہ جنتی عورت کا ایک دوپٹہ خیرمن الدنیا ومافیھا دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہوگا ۔ ترمذی شریف (ب 1 بخاری ص 392) کی روایت میں حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جنت کی عورت کے دوپٹہ کی قیمت ساری دنیا اور مافیہا ادا نہیں کرسکتے ۔ سورة واقعہ میں عربا کا لفظ ہے ۔ جس کا معنی ہے محبت کرنے والی عورت ، ہوسکتا ہے کہ عورت خوبصورت ضرور ہو مگر خادند سے متنفر ہو۔ فرمایا ایسا نہیں ہوگا بلکہ جنتی مردوں کو محبت کرنے والی عورتیں نصیب ہوں گی اور ہم عمر ہوں گی۔ بعض اوقات عمر کے تفاوت کی وجہ سے بھی طبیعت میں تکدیر پیدا ہوجاتا ہے ۔ فرمایا ایسی کوئی بات نہیں ہوگی مردوزن سب ہم عمر ہوں گے ۔ نیز حضور ﷺ نے فرمایا (ب 2 مسلم ص 380 ج 2) لا یفنی شبابہ ان کی جوانی کبھی ضائع نہیں گی ؟ ہمیشہ نوجوان رہیں گے۔ ان کا لباس بھی کبھی بوسیدہ نہیں ہوگا ۔
Ayah 78:34(شراب طہور )
فرمایا وکاسا دھاقا جنتیوں کے لیے لبریز پیالے ہوں گے جن سے وہ سرور حاصل کریں گے ۔ انہیں شراب طہور سے نوازا جائے گا ۔ اس دنیا والی گندی نشہ آور قے آور گالیاں بکنے اور دنگا فساد کرانے والی شراب نہیں ہوگی ۔ بلکہ ایسی عمدہ شراب حاصل ہوگی ، جس سے سرور حاصل ہوگا ۔ ان لوگوں نے دنیا میں سختیاں برداشت کیں ، صبر وشکر کا دامن تھا مانیوی نعمتوں سے محروم رہے ، اس کے بدلے میں انہیں شراب طہور کے جام نصیب ہوں گے ۔ دھاق بھرے ہوئے پیالے کو کہتے ہیں جو انہیں حاصل ہوں گے۔
Ayah 78:35(وہاں لغویات نہیں ہونگی )
فرمایا یسمعون فیھا لغواولا کذابا جنتی جنت میں کوئی لغو یا جھوٹی بات نہیں سنیں گے۔ وہاں کوئی بہیودہ بات چیت نہیں ہوگی بلکہ ہر طرف خیروبرکت کی باتیں ہوں گی جیسا کہ سورة واقعہ میں الا قیلا سلما سلما “ جس طرف جائیں گے فرشتے سلام کریں گے ، کوئی گالی گلوچ تمسخرواستہزایاذلت ورسوائی والی بات نہیں سنی جائے گی ۔ نہ کوئی جھوٹی بات ہوگی ۔ جنت ان بری چیزوں سے مکمل طور پر پاک ہوگی ۔ یہ جنت والوں کے انعامات ہوں گے ۔
Ayah 78:36(جنتیوں کے مدارج)
جزاء من ربک یہ بدلہ ہوگا تیرے رب کی طرف سے متقین کے لیے عطاء حسابا حساب سے دیا ہوا ، یعنی جیسا کسی کا عمل ہوگا اس کے مطابق اسے بدلہ دیا جائے گا ۔ دوسری جگہ فرمایا ولکل درجت مما عملوا ہر انسان کا درجہ اس کے عمل کے مطابق ہوگا جس اخلاق وکردارکا کوئی مالک ہوگا ۔ اس کے مطابق اسے درجات حاصل ہوں گے ۔ شہداء کا درجہ اسی لیے بلند ہے ۔ کہ انہوں نے بڑابلند کام انجام دیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا (ب 1 بخاری ص 1104 ج 2 ، ترمذی ص 362) جنت میں سو درجے ہیں اور ہر درجے کا دوسرے سے فاصلہ اس قدر ہے ، جتنا زمین سے آسمان کا ۔ تو گویا جزاء من ربک عطاء حسابا جنتیوں کو اپنے رب کی طرف سے انعامات ملیں گے ، درجات حاصل ہوں گے ۔ جو ان کے اعمال کے مطابق ہوں گے۔
Ayah 78:37(رب رحمن رحیم )
فرمایا رب وہ ہے جو رب السموت والا رض آسمانوں اور زمین کا رب ہے ۔ وما بینھما اور ہر اس چیز کا رب ہے ۔ جو آسمان و زمین کے درمیان موجود ہے ۔ رب اور مربی کوئی مختلف ہستیاں نہیں ہیں ۔ بلکہ زمین آسمان اور فضاء میں پائی جانے والی ہر چیز کا خالق بھی وہ ہے اور ہر چیز کو درجہ کمال تک پہنچا نے والا یعنی مربی بھی وہی الرحمن نہایت ہی مہربان ہے۔ یہ اسکی صفت رحمن کی وجہ سے ہی متقین کو اعلیٰ مقام حاصل ہوں گے یہ اسی کی مہربانی کا کرشمہ ہے۔ اسی لیے اسکی صفات رحمن اور رحیم ہیں ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم “ میں اللہ ذاتی نام ہے اور رحمن ورحیم صفاتی نام ہیں ۔ ان اسمار کی تفسیر مفسرین کرام (ب 2 تفسیر معالم التنزیل ص 8 ج 1) یوں کرتے ہیں ۔ کہ رحمن الدنیا ورحیم الاخدۃ لفظ رحمن میں عمومیت پائی جاتی ہے ۔ یعنی باری تعالیٰ دنیا میں ہر ایک پر مہربان ہے نیک وبد مومن دکافرہر ایک کو دنیوی انعامات سے نواز رہا ہے اور رحیم سے مراد آخرت کی مہربانی ہے ۔ جو صرف مومنین کو حاصل ہوگی ۔ کفار اس سے محروم رہیں گے ۔ کیونکہ وہ جرائے عمل کا موقع ہوگا۔
فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات ہر شئے کی مالک ومختار سے لہذالا یملکون منہ خطابا اس کی مخلوق میں سے کوئی اس کے سامنے بات کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ۔ کسی کو یہ ہمیت نہیں ہوگی ۔ کہ وہ ازخود اپنے پروردگار کے سامنے بات کرسکے ۔ کسی کی مجال نہیں جو دم مارسکے ۔ ہر چھوٹا بڑا اس کے سامنے عاجر بندہ کی حیثیت میں پیش ہوگا ۔ ملا ئ کہ ۔ مقربین شہداء صالحین ، مومنین سب کے سب عاجز ہوگے ۔ اس کے سامنے بات کر نیکی کوئی کوئی جرأت نہیں کرسکے گا ۔
Ayahs 78:38–39(لقط روح کی تشریح )
روز قیامت کی مزید تشریح بیان کی گئی ہے ۔ یوم یقوم الروح والملئکۃ صفا جس دن روح اور فرشتے قطار میں کھڑے ہوں گے ۔ قیامت کا دوسرا بگل بج جائے گا۔ انسان فوج در فوج آئیں گیں۔ ملائکہ صف درصف کھڑے ہوں گے اور روح بھی حاضر ہوگی ۔ روح کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں۔ قرآن پاک کو بھی لفظ روح سے تعبیر کیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے وکذلک اوحینا الیک روحا من امرنا اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح کو امر کیا ۔ قیامت والے دن روح یعنی قرآن پاک سفارشی بن کر آئے گا ان لوگوں کے لیے جو دنیا میں اس کو مانتے تھے اور اسکی تلاوت کرتے تھے ۔ روح سے مراد جبرائیل امین (علیہ السلام) بھی ہیں ۔ جیسا کہ سورة قدر میں ہے۔ تنزل الملئکۃ والروح فیھا یعنی اس رات میں فرشتے اور جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوتے ہیں ۔ تو گویا جبرائیل علیہ اسلام اس دن موجود ہوں گے ۔ اور سب کے فیصلے کئے جائیں گے ۔
(روح اعظم)
حضرت شاہ ولی اللہ کی حکمت اور فلسفے میں روح سے مراد روح انسانی ہے ۔ وہ فرماتے (ب 1 حجتہ اللہ البالغہ ص 36 ج 1 طبع لاہور) ہیں کہ روح انسانی بھی حاضر ہوگی ، اس کو روح اعظم بھی کہا جاتا ہے ۔ بعض احادیث میں اس روح کے بارے میں آتا ہے کہ اس کی ہزار زبانیں ہیں ۔ شاہ صاحب کی حکمت میں مبتلا کیا جاتا ہے کہ یہ روح اعظم عرش الٰہی کے نیچے موجود ہے ۔ روح اعظم اور اس کا معنی یہ ہے کہ انسانوں کی جتنی روحیں ہیں وہ اس روح اعظم کا عکس ہیں ۔ ہر روح انسانی کا تعلق روح اعظم کے واسطہ سے تجلی اعظم کے ساتھ ہوتا ہے ۔ عرش عظیم پر جو تجلی اعظم پڑتی ہے ۔ اس سے ساراعرش رنگین ہوجاتا ہے ۔ اس کا اثر کائنات پر پڑتا ہے ۔ تو اس طرح ہر انسان کا تعلق تجلی اعظم کے ساتھ قائم ہوجاتا ہے۔ یہ انسانیت کا سب سے کمال درجہ ہے۔ جو شخص اس دنیا میں اس روح سے قریب ہوگا فلاح پائے گا ۔ اور جتنا اس سے بعد ہوگا ۔ درجہ کمال سے دور ہوتا جائے گا ۔ اس روح اعظم کی مثال مکمل انسان کی طرح ہے ۔ جس طرح ایک عام انسان کے آنکھ کان ناک یعنی حواس ہوتے ہیں اسی طرح روح اعظم کے حواس موجود ہوگی ۔ اور اگر روح سے مراد روح انسانی یا جبرائیل امین (علیہ السلام) ہیں تو وہ بھی وہاں موجود ہوں گے۔
(اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارش کا معیار )
مگر حالت یہ ہوگی کہ لا یتکلمون وہاں کوئی بات نہیں کرسکے گا الا من اذن لہ الرحمن سوائے اس کے کہ جسے رحمن نے اجازت دی ہو۔ وقال صوابا اور اس بات بھی ٹھیک کی ہو ۔ درست بات سے مراد یہ ہے کہ کلمہ توحید پر ایمان رکھنے والا ہو۔ جس نے زبان سے لا الہ الا اللہ کہا اور اس پر یقین رکھا ہو ایسے شخص کو وہاں بولنے کی اجازت ہوگی اور سفارش کرنے کا اختیار ایسے شخص کو ہی حاصل ہوگا۔
دوسری جگہ فرمایا لا یشفعون الا لمن ارتضی ملائکہ ، انبیاء مقربین بھی سفارش نہیں کرسکیں گے مگر جن کے بارے میں اللہ راضی ہوگا کہ اں اس کے متعلق سفارش کی جائے اور اللہ تعالیٰ راضی اس سے ہوگا جس نے ٹھیک بات کی ہوگی ۔ جس کے دل میں ایمان اور توحید موجود ہوگا ۔ کسی کافر منافق یاد ہریے کے متعلق کوئی سفارش نہیں ہوسکے گی کیونکہ قال صوابا کے تحت اس نے ٹھیک بات ہی نہیں کی ۔ ا (رح) لغرض کوئی بھی سفارش اللہ کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکے گی ۔ حتی کہ حضور نبی کریم ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے سب سے مقرب ہیں وہ بھی اللہ کی اجازت سے ہی سفارش کریں گے۔ بخاری اور مسلم شریف کی روایت میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے (ب 1 ترمذی ، مسلم ص 109 ج 1 بخاری ص 1102 ج 2) خدا ساجد یعنی میں خدا تعالیٰ کے سامنے سجدہ ربز ہوجاؤں گا ۔ میرا اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے محمد ! اپناسراٹھا ؤ ۔ اب سوال کرو ، تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔
یہ تو نبی آخرالزمان (علیہ السلام) کے متعلق ہے کہ وہ بھی بلا اجازت الٰہی سفارش نہیں کریں گے دوسرے انبیاء علہیم السلام کے متعلق فرمایا (ب 2 بخاری ص 973 ج 2 ہسلم ص 101 ج 1) کہ اس دن ایک وقت ایسا آئے گا کہ ہر نبی کہے گا۔
رب سلم رب سلم اے پروردگار آج بچالے ۔ لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے کہ آپ خلیل اللہ ہیں ، ہماری سفارش کریں تو وہ فرمائین گے اذھبو الی غیری کسی دوسرے کے پاس جاؤ ۔ میرایہ مقام نہیں ہے کلیم اللہ کے پاس جاؤ مجھ سے جو لغزش ہوگئی تھی اس کے متعلق بازپرس ہوجائے گی میں کیا کروں ۔ ہر ایک پر خوف طاری ہوگا ۔ الغرض اس دن سفارش اذن الٰہی کے بغیر نہیں ہوسکے گی اور اسی کے بارے میں ہوگی ، جس کا اعتقاددرست ہوگا اس کے بغیر کسی کی سفارش نہیں ہوگی۔
(سفارش کا مشرکانہ عقیدہ )
مشرکین کا عقیدہ یہ ہے کہ بڑے بڑے ٹھاکر اور معبود جن کی وہ پرستش کرتے ہیں جن کے نام کی نیاز دیتے ہیں وہ ہر حالت میں سفارش کرکے بچالیں گے ان کے عقید لے کے مطابق خدا تعالیٰ راضی ہو یا ناراض ، یہ معبود ان ہر حالت میں سفارش کرکے انہیں بچالیں گے ۔ اس قسم کے لوگ اللہ تعالیٰ کی ذات کو دنیوی بادشاہوں پر قیاس کرتے ہیں کہ جس طرح اس دنیا میں بادشاہ اپنے وزراء وغیرہ کی سفارش ماننے پر مجبور ہوتا ہے نعوذ باللہ اس طرح اللہ تعالیٰ بھی سفارش ماننے پر مجبور ہوتا ہے حالانکہ بادشاہ کو خطرہ ہوتا ہے کہ اگر اپنے مقربین کی سفارش نہیں مانے گا تو وہ بگڑجائیں گے آخر ٹینشن شروع کردیں گے اور حکومت کا تختہ الٹ دیں گے مگر اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق اس قسم کا گمان بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ امام رازی (ب 1 تفسیر کبیر ص ج) فرماتے ہیں کہ مشرکین جبری سفارش کے قائل ہیں ۔ حالا ن کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ولا تنفعھا شفاعۃ ۔ ولا یوخذمنھا عدل اس دن نہ فدیہ ہوگا نہ سفارش ہوگی ۔ خاص طور پر جبری سفارش تو قطعی طور پر نہیں ہوگی ۔ ہاں جس کے حق میں اللہ تعالیٰ اجازت دیں گے۔ اور اس نے بات بھی ٹھیک کی ہو ، اس کے حق میں سفارش ہوگی۔
فرمایا ذلک الیوم الحق یہ دن حق ہے فمن شاء اتخذ ربہ مابا پس جو چاہے اپنے رب کی طرف ٹھکانا پکڑے اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا ہے نیک وبد جونسا راستہ چاہو اختیار کرلو انا انذرنکم عذابا قریبا ہم نے تمہیں قریب آنے والے عذاب سے ڈرایا ہے۔ خبردار کردیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعے حجت پوری کردی ہے وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا ہم رسول بھیجے بغیر کسی کو عذاب میں مبتلا نہیں کریں گے ۔ قیامت کا دن وہ دن ہوگا یو م ینظرالمرء جس دن دیکھے گا آدمی ما قدمت یدہ جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے۔ دوسری جگہ سورة مزمل میں فرمایا وماتقدموالا نفسکم من خیر تجدوہ عند اللہ جو بھی تم نے آگے بھیجا ہے وہ اللہ کے ہاں موجود پاؤ گے۔ اس کا حساب کتاب ہوگا۔ اور پھر اس کے مطابق جزا سزا ہوگی۔
Ayah 78:40(کفار کی آخری حسرت)
اس دن کفار کی حالت یہ ہوگی ویقول الکافر یلتنی کنت ترابا کافر یوں کہے گا کاش میں مٹی ہوتا ۔ تاکہ میرا حساب کتاب نہ ہوتا ۔ حدیث شریف میں آتا ہے (ب 1 درمنثور ص 310 ج 2 ترمذی ص 348) ۔ کہ روز قیامت اللہ تعالیٰ جانوروں کو بھی انصاف دلائیں گے ۔ جس جانور نے دنیا میں کسی دوسرے جانور پر زیادتی کی ہوگی۔ اسے اس کا بدلہ دلایا جائے گا۔ اور پھر ان سے کہا جائے گا کونوا ترابا “ مٹی ہوجاؤ ۔ پھر ان کی ضرورت نہیں رہے گی ، ان کو فنا کردیا جائے گا ۔ جانوروں کی پیدائش کا مقصد دنیا میں انسانوں کی خدمت گذاری ہے ۔ قیامت کے بعد ان کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
اسی طرح کافر قیامت کے روزجب اپنا اعمال نامہ سامنے پائیں گے تو تمنا کریں گے ۔ کہ کاش ہم مٹی ہوتے تا کہ آج حساب کتاب سے بچ جاتے ۔ اس کا دوسرامعنی یہ بھی ہے ۔ کہ کفار کہیں گے کاش ہم عاجز ی کرنے والے ہوتے ہم نے دنیا میں تکبر نہ کیا ہوتا پچھلی سورة میں ذکر آچکا ہے کہ اس دنیا میں انسان کا سب سے اہم فریضہ خدا تعالیٰ کے سامنے عاجزی کرنا ہے۔ اللہ کے حضور خشوع کرنا ہے۔ اگر دنیا میں ایسا نہیں کیا ۔ تو قیامت کے روز تمنا کرے گا کا ش میں نے عاجزی کی ہوتی ۔ غرور وتکبر سے بچ گیا ہوتا ۔ تو آج یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا ۔
امام زمخشری کہتے (ب 2 تفسیر عزیزی فارسی ص 22 ج 30 تفسیر کثاف ص 692 ج 4) ہیں کہ بعض واعظین نے یہاں پر کافر سے مرادشیطان لیا ہے یعنی شیطان کہے گا۔ کاش میں نے تکبر نہ کیا ہوتا ۔ آدم (علیہ السلام) کے ساتھ سب سے پہلے شیطان ہی نے کشمکش کی تھی۔ لہذا اس دن شیطان دیکھے گا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور اس کی اولاد عاجزی کی بنا پر انعام واکرام سے سرفراز ہو رہے ہیں ۔ تو تمنا کرے گا ۔ یلتنی کنت ترابا کاش میں مٹی ہوتا یعنی میں خاکی ہوتا میرے اندر بھی اخبات پیدا ہوتا ۔ نہ ناری ہوتا اور نہ غرور وتکبر میں مبتلا ہوتا شیطان نے مٹی کو حیصتر جانا تھا اور کہا تھا خلقتنی من نار وخلقتہ من طین اس روز حسرت کرلے گا کہ کاش میں ناری کی بجائے خاکی ہوتا ۔ مگر اس دن کسی کافر یا مشرک یا شیطان کی حسرت پوری نہیں ہوگی ۔ جزائے عمل کا وقت ہوگا۔ اور ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کا پوراپورابدلہ دیاجائے گا۔