79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 79:37–46

فَاَمَّا مَنْ طَغٰىۙ Open ayah 79:37 in the Quran reader

پس جس شخص نے سرکشی کا راستہ اختیار کیا

وَ اٰثَرَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاۙ Open ayah 79:38 in the Quran reader

اور دنیوی زندگی کو ہی ترجیح دی

فَاِنَّ الْجَحِیْمَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 79:39 in the Quran reader

پس بیشک جہنم ہی ایسے شخص کا ٹھکانا ہوگا

وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ Open ayah 79:40 in the Quran reader

اور جو شخص اس دنیا میں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرگیا اور اس نے اپنے نفس کو خواہشات سے روکے رکھا

فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 79:41 in the Quran reader

پس بیشک جنت ہی ایسے شخص کا ٹھکانا ہوگا

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاؕ Open ayah 79:42 in the Quran reader

یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے می دریافت کرتے ہیں کہ وہ کب قائم ہوگی

فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَاؕ Open ayah 79:43 in the Quran reader

آپ کو اس کے ذکر سے کیا واسطہ

اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَاؕ Open ayah 79:44 in the Quran reader

قیامت کی انتہاء تو تیرے رب کی طرف ہے

اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ یَّخْشٰىهَاؕ Open ayah 79:45 in the Quran reader

بیشک آپ ڈرانے والے ہیں اس شخص کو جو اس قیامت سے خوف کھاتا ہے

كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَهَا لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِیَّةً اَوْ ضُحٰىهَا۠ Open ayah 79:46 in the Quran reader

گویا جس دن وہ لوگ قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے (تو خیال کریں گے) کہ وہ نہیں ٹھہرے دنیا میں مگر ایک دن کا پچھلا پہر یا دوپہرکا وقت

(گذشتہ سے پیوستہ) اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر حکماء کے نظریہ کے مطابق بیان کیا ۔ اور اس ضمن میں ماننے والے اور انکار کرنے والے دونوں گروہوں کے نتائج بھی بیان کردیے ہیں ۔ پہلے منکرین کے حالات بیان ہوئے کہ کہتے ہیں ” ء اذاکنا عظاما نخرۃ “ جب ہم مرکر بوسیدہ ہدیاں ہوجائیں گے۔ تو پھر کیسے زندہ ہوجائیں گے ، اللہ جل شانہ نے دو بار ہ زندگی کی دلیل کے طور پر فرمایاء انتم اشد خلقا ام السماء بنھا “ کیا تمہارے جیسی چھوٹی چیز کا پیدا کرنا مشکل ہے یا آسمان جیسی بڑی چیز کا بنانا ۔ فرمایا اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ۔ اس نے پہلی دفعہ تم کو پیدا کردیا تھا ، تو دوبارہ زندہ کرنا کیسے مشکل ہے ۔ اس نے زمین کو بچھا یا پانی نازل کیا چراگاہیں قائم کیں پہاڑوں کو زمین میں گاڑا۔ جب ان تمام چیزوں کو قائم کردیا تو انسان کو دوبارہ پیدا کر دنیا کون سامشکل کام ہے ۔ جب قیامت کا بڑا ہنگا مہ برپا ہوگا ۔ تو منکرین کو جہنم سامنے نظرآئے گی ۔ اس وقت انہیں جزائے عمل کا حال معلوم ہوگا۔ (انسان کی عقلی حیثیت ) عقلی حیثیت سے دنیا میں انسانوں کے دو گروہ ہیں ۔ ایک گروہ وہ ہے جو اپنی عقل کو صحیح طور پر استعمال کرتا ہے ۔ اور دوسرا وہ جو اس نعمت سے صحیح طور پر فائدہ نہیں اٹھاتا ۔ یہ عقلی ہی ہے جس نے انسانوں کو درجہ کمال عطا کیا ہے۔ عقلی کی وجہ سے ہی انسان مکلف ٹھہرتا ہے ۔ حدیث شریف (ب 1 مشکوۃ ص 430 بحوالہ بہیقی شعب الا یمان ) میں آتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے عقل کو پیدا کیا تو فرمایا آگے آؤ پیچھے ” ہٹو “ عقل نے حکم کی تعمیل کی ۔ تو اللہ جل شانہ نے فرمایا میں تیری وجہ سے ہی مواخذہ کروں گا اور تیری وجہ سے روکوں گا۔ چناچہ قانون کی پابندی عقل کے ساتھ وابستہ ہے ۔ کوئی پاگل شخص کسی قانون کا مکلف نہیں گردانا جاتا ۔ اسی طرح چھوٹے بچے جو عقل کی پختگی تک نہیں پہنچے ہوتے ، وہ مکلف نہیں ہوتے ۔ اسی طرح جانور بھی مکلف نہیں ۔ اگرچہ ان میں شعور موجود ہے ۔ مگر وہ عقل سے خالی ہیں ۔ عقل ہی کو اللہ تعالیٰ نے جوہر کمال قرار دیا ہے اور یہی چیز انسان کو مکلف بناتی ہے۔ دو قسم کے وہ لوگ ہیں جو اپنی عقل کو صحیح طور پر استعمال نہیں کرتے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کفار کی مذمت ان الفاظ میں بیان کی ہے ۔ ” الصم البکم الذین لا یعقلون یعنی یہ لوگ بہرے اور گونگے بایں معنی ہیں کہ عقل سے کام نہیں لیتے بعض (ب 2 ترجمان القرآن ص 316 ج 1 مطبوعہ لاہور) مفسرین نے کہا ہے کہ قرآن میں جہاں فرقان کا لفظ آیا ہے ۔ اس سے مراد جوہر عقل ہے ۔ جیسے سورة آل عمران ک ابتداء میں موجود ہے نزل علیک الکتب بالحق مصدقالما بین یدیہ وانزل التورۃ والانجیل من قبل ھدی للناس وانزل لفرقان جہاں دیگر آسمانی کتابوں کے علاوہ تنزیل فرقان کا جو ذکر ہے مفسرین کے مطابق یہ جوہر عقل ہے ۔ تو جو شخص اس عقل سے درست طور پر کام لیتار ہے گا۔ وہ صراط مستقیم پر ہوگا ۔ وہ راستہ جو انبیاء (علیہم السلام) کا راستہ ہے جس کی تعلیم انبیاء (علیہم السلام) دیتے رہے ۔ لہذایہ انسان کامیاب وکامران ہوگا۔ (عقل اور خواہشات بعض چیزیں ایسی ہیں جن کے ادراک سے عقل قاصر ہے ۔ ایسے مواقع پر عمل کو راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اور یہ راہنمائی انبیاء (علیہم السلام) سے حاصل ہوتی ہے۔ اسی لیے حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی فرماتے (ب 1 تفسیر عزیزی فارسی ص 45 پارہ 30 مطبوعہ بمئی ) ہیں کہ انسان کا کمال اس بات میں ہے کہ اپنی خواہشات کو عقل کے تابع رکھے جیسا کہ آگے آرہا ہے ” ونھی النفس عن الھوی “ یعنی عقلمند وہ شخص ہے جس نے اپنے نفس کو خواہشات سے روکے رکھا ۔ تو گویا خواہشات النفسانی کو عقل کے تابع رکھنا انسان کا درجہ کمال ہے ۔ اگر کوئی شخص اپنی خواہشات کو پابند نہیں کرسکتا تو وہ اس کے لیے خرابی کا باعث ہوگا لہذاخوہشات کو عقل کا تابع اور عقل کو شریعت مطہرہ کا تابع ہونا چاہئے ۔ جو لوگ اس عمل میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔ وہ ہی لوگ ہیں جنہوں نے عقل سے صحیح طور پر کام لیا اور فلاح نصیب ہوئی برخلاف اور جہنم کا راستہ اختیار کرتے ہیں ۔ (سرکش گروہ) اسی مضمون کا خلا صہ بیان کرتے ہوئے فرمایا ” فاما من طغی جس نے سرکشی کا راستہ اختیار کیا ۔ اپنی عقل سلیم کو بروئے کار نہ لائے اور دنیوی زندگی کو ہی ترجیح دی فان الجحیم ھی الماوی تو ایسے لوگوں کا ٹھکا نا جہنم ہی ہوسکتا ہے۔ دنیوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دینے سے مراد یہ ہے کہ اس شخص نے عقلی تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وقوع قیامت اور جزائے عمل کا انکار کیا ۔ اس نے اس فانی دنیا سے اپنا تعلق اس طور پر وابستہ کرلیا کہ آخرت کی منزل کو بالکل فراموش کرگیا ۔ سورة قیامتہ میں یہی بات بیان کی گئی کلا بل تحبون العلجلۃ “ تم جلدی والی زندگی یعنی اس دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہو ” وتذرون الاخرۃ “ اور آخرت کی دائمی زندگی کو فراموش کر رہے ہو۔ سورة دہر میں فرمایا ” ویذرون ورآء ھم یوما ثقیلا “ اور آگے آنے والے بوجھل دن یعنی قیامت کا خیال ہی نہیں کرتے ۔ ایک اور جگہ فرمایا کہ ” یعلمون ظاھرامن الحیوۃ الدنیا “ کفر وشرک کے مرتکب یہ لوگ دنیا کی ظاہری زندگی کو خوب جانتے ہیں وھم عن الا خرۃ ھم غفلون ۔ اور آخرت کی زندگی سے بالکل غافل ہوچکے ہیں ۔ اسی لیے خضور نبی کریم (علیہ السلام) دعا کیا کرتے تھے ۔ ا (رح) للھم لا تجعل الدنیا اکبرھمنا ولا مبلغ علمنا “ ترمذی شریف (ب 1 ترمذی ص 504) کی حدیث میں مذکور اس دعا میں حضو ر ﷺ بارگاہ رب لعزت میں عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار ! اس دنیا کو ہی ہمارا مبلغ علم اور منتہائے مقصود نہ نبادے ۔ بلکہ ہمیں وہ عقل سیلم عطا کر جو آخرت کی فکرکرے۔ آج امریکہ روس ، چین ، بر طانیہ فرانس اور جرمنی جیسے کفار ممالک منتہائے مقصود دنیا کی زندگی ہی تو ہے ۔ وہ سب دنیوی عروج اور دنیا کی ترقی ہی تو چاہتے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ صل کمال دنیا کا کمال ہی ہے۔ اس کے بعد کچھ نہیں ۔ دراصل یہ لوگ عقل سے صحیح طور پر کام نہیں لیتے ورنہ آخرت کا انکار نہ کرتے ۔ اور محض دنیا کو ہی ترجیح نہ دیتے ۔ فرعون کا حال بھی ابتدائے سورتیں آچکا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا ” اذھب الی فرعون انہ طغی “ فرعون کے پاس جائیں وہ سرکشی کا راستہ اختیار کرچکا ہے۔ اس نے عقل سلیم کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ منکرین قیامت کا بیان اس طرح نقل کیا ہے ۔ کہ وہ کہتے ہیں عجل لنا قطنا قبل یوم الحساب “ اے اللہ ! قیامت تک انتظار نہیں کرسکے جو کچھ ہمیں دینا ہے یہیں پر دے دے بعض کے متعلق فرمایا ” فمن الناس من یقول ربنا اتنا فی الدنیا “ کہتے ہیں کہ مولا کریم ! ہمیں دنیا میں ہی عطاکردے اور اللہ تعالیٰ جواب میں فرماتے ہیں ” ومالہ فی الاخرۃ من خلاق “ اور ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں وہ لوگ تو دوسری زندگی کے قائل نہیں ۔ اسے تسلیم نہیں کرتے ۔ اسے بعید از عقل خیالی کرتے ہیں ۔ لہذ اہمیشہ اس دنیا کے متعلق سوچتے رہتے ہیں ۔ اور آخرت کی طرف توجہ نہیں دیتے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی نفسانی خواہشات کو عقل کے تابع نہیں رکھا بلکہ عقل کو خواہشات کے تابع کرلیا ہے ۔ لہذ انہیں لوگوں کے متعلق فرمایا فان الجحیم ھی الماوی جہنم انہیں لوگوں کا ٹھکانا ہے۔ یہ وہی جہنم ہے جس کا ذکر پہلی آیات میں آچکا ہے کہ جب بڑا ہنگامہ برپا ہوگا تو جہنم ایسے لوگوں کے سامنے کردی جائے گی۔ (خوف خدا والا گروہ) اس جہنمی فریق کا حال بیان کرنے کے بعد خوف خدا رکھنے والے گروہ کا ذکر آتا ہے واما من خاف مقام ربہ جو شخص اس دنیا میں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرگیا ۔ اسے معلوم ہے کہ ایک نہ ایک دن اسے اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے ۔ اور اس سے اسکے اعمال کا حساب لیا جائے گا ۔ بازپرس ہوگی ۔ ایساشخص یقینا برائی معصیت ، شرک اور کفر سے اجتناب کرے گا ۔ اور اس نتیجہ یہ ہوگا ۔ ونھی النفس عن الھوی کہ وہ اپنے نفس کو خواہشات سے روکے گا فان الجنۃ ھی الماوی انہیں لوگوں کا ٹھکانا جنت ہے۔ (خواہش نفسانی ) یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ خواہش کیا ہے جس کی مذمت کی گئی ہے۔ اور جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے۔ ” افرئیت من اتخذ الہ ھوا “ کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو ہی معبود بنالیا ہے ۔ جدھر خواہش کہتی ہے ۔ ادھر ہی چلتا ہے ۔ عقلی تقاضے پورے نہیں کرتا ۔ شریعت کی پابندی نہیں کرتا ۔ خوف خدا سے خالی ہے ۔ محاسبے کی پروا نہیں محض خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہے ۔ گویا خواہش اس کا معبود ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت اور دوسری روایتوں (ب 1 تفسیر روح الماتی ص 24 ج 19) میں آتا ہے کہ زمین وآسمان کے درمیان انسان کا سب سے بڑادشمن خواہش ہے۔ اسی کی وجہ انسان گمراہ ہوتا ہے ۔ ایمان وہدایت سے محروم ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے تذکرہ میں فرمایا ” ولا تتبع الھوی فیضلک عن سبیل اللہ “ اے داؤد (علیہ السلام ) آپ اللہ کے خلیفہ ہیں ۔ اس کے نبی ہیں ۔ دیکھنا خواہش کے پیچھے نہ چلنا ، یہ تمہیں اللہ کے راستہ سے گمراہ کردے گی۔ اتباع خواہش کو دوسرے الفاظ میں اتباع شیطان بھی کہہ سکتے ہیں ۔ اہل ایمان کو حکم ہوتا ہے ” یا یھا الناس کلومما فی الارض حلالا طیبا ولا تتبعواخطوت الشیطن “ یعنی اے ایمان والو قانون خداوندی کی پابندی کرتے ہوئے حلال اور پاک چیزیں کھاؤ ۔ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ یہی اتباع ہوی ہے۔ شیطان قانون کی پابندی سے روکتا ہے ۔ اور اس وجہ سے انسان کی تباہی آتی ، شرک بدعت معصیت وغیرہ سب اتباع ہوی ہے ۔ کیونکہ عقلی تقاضوں کو چھوڑ کر ہی انسان ان برائیوں کیطرف مائل ہوتا ہے ۔ اور اتباع شریعت کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔ فرمایا جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونے کا خوف کیا اور نفس کو خواہش سے روکا ، جذبہ اور عقل جنت اسی کے مقدر میں ہے۔ انسان کی طبیعت میں مختلف قسم کے جذبات پیدا ہوتے ہیں ان میں سے جو جذبہ عقل کے خلاف ہوگا وہ ہوی ہے ۔ اور جو جذبہ عقل سے مطابقت رکھتا ہے وہ صحیح ہے تو جس نے رب تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونے سے خوف کھایا اور نفس کو خواہش سے روک کر عقلی تقاضوں کو پورا کیا تو انہیں کے متعلق فرمایا فان الجنۃ ھی الماوی جنت انہیں لوگوں کا ٹھکانا ہے ۔ انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیم کا خاصہ بھی یہ ہے کہ انسان میں خوف خدا پیدا ہوتا ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اسی بات کی دعوت دی تھی ” واھدیک الی ربک فتخشی “ آ میں تجھے تیرے رب کی طرف راہنمائی کروں تاکہ تیرے اندر خوف پیدا ہوجائے ۔ کہ ایک دن تمہیں اللہ کے حضور کھڑا ہو کر اعمال کا حساب دینا جس نے اس بات کو سمجھ لیا اس کا ٹھکانا بہشت میں ہوگا۔ (وقوع قیامت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ) دونوں گروہوں کے نتائج بیان کرنے کے بعد روئے سخن پھر مکذبین کی طرف ہوتا ہے یسئلونک عن الساعۃ یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں ایان مرسھا کہ وہ کب قائم ہوگی ارسلی کا لفظی معنی جہاز کا لنگر انداز ہونا ہے۔ جب جہاز کو کسی جگہ ٹھہرانا مقصود ہوتا ہے ۔ تو اس کے لنگر سمندر میں پھینک دیے جاتے ہیں جس میں وہ رک جاتا ہے ۔ ارسیٰ کے معنی گاڑنے کے بھی ہیں جیسا کہ پہلی آیت میں گذر چکا ہے ” والجال ارسھا “ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو گاڑ دیا ۔ اسی طرح قیامت کے لنگرانداز ہونے یا گاڑے جانے سے مراد اس کا برپا ہوجانا ہے ۔ تو یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کب واقع ہوگی ۔ تو اس سوال کا جواب یہ دیا۔ فیم انت من ذکراھا آپ کو اس کے ذکر سے کیا واسطہ یعنی آپ کو اس کے وقوع کا کیا علم ہوسکتا ہے ۔ الی ربک من تھا قیامت کی انتہاء تو تیرے رب کی طرف ہے ۔ وہی اس کے وقوع کا وقت جانتا ہے ۔ آپ زیادہ سے زیادہ قیامت کی نشانیاں اور اس میں پیش آنے والے واقعات سے خبردار کرسکتے ہیں ۔ مگر اس کے واقع ہونے کے وقت کے متعلق کسی نبی مقرب کو بھی خبردار نہیں کیا گیا۔ ان اللہ عندہ علم الساعۃ “ وقوع قیامت کا علم صرف اللہ کے پاس ہے ۔ اے نبی (علیہ السلام) ! انما انت منذر من یخشھا آپ خوف خدا رکھنے والے لوگوں کو ڈرانے والے ہیں کہ نبی کا کام ڈرا دینا اور آگاہ کردینا ہے ۔ کہ اس قسم کے واقعات پیش آنے والے ہیں سنبھل جاؤ اور اس مشکل وقت کے لیے اس وقت تیاری کرلو۔ اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کے وقت کو خاص مصلحت کی خاطر مخفی رکھا ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ فرمایا ” اکاد اخفیھا “ میں اس کو مخفی رکھتا ہوں “ لتجزی کل نفس بماتسعی “ تا کہ ہر نفس کو اس کے لیے پھل مل سکے ۔ اس کی سعی کا ثمرہ اس کے سامنے آسکے ۔ مولاروم نے خواہش نفسانی کا تجزیہ ان الفاظ میں کیا ہے۔ خلق اطفال اندجز مدد خدانیست بالغ جزرھیدہ از ھوی تمام لوگ بچے ہیں سوائے اس کے کوئی با (رح) لغ نہیں جو خواہشات سے بچا ہوا ہے ۔ جو شخص خواہشات میں پھنسا ہوا ہے ۔ اس کو ڈارانے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ وہ تو دنیوی زندگی میں منہمک ہے ۔ اسے خدا کے سامنے کھڑا ہونے کا خوف ہی نہیں ہے۔ آپ تو اس شخص کو ڈرانے والے ہیں جس کے دل میں خوف خدا موجود ہے ۔ باقی رہا قیامت کے وقت کا بتانا ۔ تو یہ آپ کے فرائض منصبی میں شامل نہیں ۔ آپ ان کے اس قسم کے سوالات سے نہ گھبرائیں ۔ (دنیوی زندگی بالکل مختصر ہے) فرمایا آج تو یہ لوگ قیامت کے واقع ہونے کا وقت پوچھتے ہیں ، مگر جب وہ برپا ہوجائے گی کانھم یوم یرونھا گویا جب وہ قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے تو خیال کریں گے لم یلبثوا کہ ہم نہیں ٹھہرے دنیا میں الا عشیۃ او ضحھا مگر ایک پچھلا سہ پہر یا ایک دوپہر کا وقت گویا اس دن انہیں زندگی اس قدر مختصر محسوس ہوگی کہ وہ سمجھیں گے کہ ہم نے دنیا میں ایک پورادن بھی نہیں گذارای بس دن کا حصہ یعنی جس طرح دوپہر کا کچھ حصہ جلدی سے گذرجاتا ہے پچھلاپہر ہوتا ہے ساٹھ 60 ستر 70 یا سو سالہ زندگی اتنی مختصر معلوم ہوگی ۔ یہ اس وجہ سے ہوگا کہ آخرت کی زندگی ابدی اور لامتناہی ہے اور اس کے مقابلہ میں دنیا کی پوری زندگی دن کے ایک حصہ کے برابر ہے ۔ آج یہ لوگ بڑے بڑے دعوے کرنے ہیں ۔ قیامت کا انکار کرتے ہیں ۔ اس کو قصے کہانیاں بتاتے ہیں ۔ اور وقوع قیامت کو بعید خیال کرتے ہیں ۔ مگر اس دن ان پر حقیقت منکشف ہوگی ۔ اور یہ کف افسوس ملتے رہ جائیں گے ۔