Ayah 89:1(89:1) والفجر واؤ قسمیہ ہے الفجر مقسم بہٖ ۔ الفجر سے کیا مراد ہے اس میں کئی اقوال ہیں :۔
(1) الفجر : سے مراد روز کی فجر مراد ہے (ابن عباس، عکرمہ ؓ
(2) اس سے مراد نماز فجر ہے (عطیہ ؓ
(3) اس سے مراد محرم کے پہلے دن کی فجر مراد ہے۔ اسی سے دنیا کا سال پھوٹتا ہے۔ (قتادہ)
(4) اس سے مراد ماہ ذوالحجہ کی پہلی تاریخ کی فجر ہے کیونکہ اس سے ذوالحجہ کی دس راتیں (ابتدائی عشرہ) متصل ہے۔ (ضحاک)
Ayah 89:2(89:2) ولیال عشر۔ واؤ عاطفہ ہے جس کا عطف الفجر پر ہے لیال عشر موصوف و صفت (عددی) مل کر مقسم بہ۔ واؤ قسم محذوف۔ اور قسم ہے دس راتوں کی۔ اس سے کون سی دس راتیں مراد ہیں۔ ذوالحجہ کی پہلی دس راتیں۔ رمضان کی آخری دس راتیں۔ محرم کی پہلی دس راتیں۔ تینوں قوم ہیں۔
Ayah 89:3(89:3) والشفع والوتر : واؤ عاطفہ جس کا عطف حسب جملہ سابقہ الفجر پر ہے۔ واؤ قسم مقدرہ۔ الشفع۔ الوتر مقسم بہٖ اور قسم ہے الشفع کی۔ اور الوتر کی۔
الشفع والوتر کی تشریح میں صاحب تفسیر ضیاء القرآن لکھتے ہیں :۔ اس کے بعد فرمایا : قسم ہے الشفع کی (یعنی جفت کی) اور الوتر (طاق) کی اس کے مصداق کے بارے میں متعدد اقوال ہیں : ان میں سے مجھے یہ قول پسند ہے کہ شفع سے مراد مخلوق اور وتر سے مراد خالق۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ عطیہ، مجاہد، اور دیگر جلیل القدر علماء تفسیر نے اسی کو ترجیح دی ہے اور اس کی تشریح یوں کی ہے کہ ساری مخلوق دو ، دو ہے۔ کفر و ایمان، خلالت و ہدایت، سعادت و شقاوت، لیل و نہار، زمین و آسمان، بحر و تر، شمس و قمر، جن و انس، مذکر و مؤنث، زندگی اور موت، عزت و ذلت، علم اور جہالت۔ وغیر ہ وغیرہ۔
لیکن اللہ ت اعلیٰ اپنی تمام شانوں اور صفات میں یکتا ہے، اور طاق ہے۔ وہاں زندگی ہے موت نہیں۔ عزت ہے ذلت نہیں ہے۔ علم ہے جہالت نہیں ہے۔ قوت ہے ضعف نہیں ہے۔ اس کی ذات بھی یکتا ہے اور صفات بھی یکتا ہے۔
الشفع کے معنی کسی چیز کو اسی جیسی دوسری چیز کے ساتھ ملا دینے کے ہیں۔ اور جفت چیز کو شفع کہا جاتا ہے۔ الشفاعۃ کے معنی دوسرے کے ساتھ اس کی عدد یا سفارش کرتے ہوئے مل جانے کے ہیں۔ عام طور پر کسی بڑے با عزت آدمی کا اپنے سے کمتر کے ساتھ اس کی مدد کے لئے شامل ہوجانے پر بولا جاتا ہے اور قیامت کے روز سفاعت بھی اسی قبیل سے ہوگی۔
الوتر : یہ ضد ہے الشفع کی۔ الشفع (جفت جو دو پر تقسیم ہوسکے) الوتر (طاق ۔ جو دو پر تقسیم نہ ہوسکے) ۔
فائدہ : الشفع والوتر سے کیا مراد ہے علماء میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ ہر ایک نے اپنی استعداد کے مطابق اپنی تاویل کو دلائل سے ثابت کرنے کی سعی کی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ تمام معانی ہی مراد ہوں۔
Ayah 89:4(89:4) والیل اذا یسر۔ واؤ عاطفہ، واؤ قسمیہ مقدرہ۔ الیل سے مراد جنس شب ہے کوئی رات ہو۔
مجاہد اور عکرمہ کے نزدیک مزدلفہ کی رات مراد ہے۔
اذا : بمعنی اس وقت۔ جس وقت۔ جب۔ ظرف زمان ہے اور قسم کے بعد واقع ہو تو زمانہ حال کے لئے آتا ہے جیسے یہاں اس آیت زیر مطالعہ میں۔
اور جگہ قرآن مجید میں ہے والنجم اذا ھوی (53:1) اور قسم ہے تارے کی جب وہ گرنے لگے۔ ڈھلنے لگے۔
یسر مضارع واحد مذکر غائب ۔ سری (باب ضرب) مصدر سے بمعنی رات کو چلنا۔ شب روی۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے۔ سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی (17:1) پاک ہے وہ ذات جو ایک رات اپنے بندے کو لے گیا مسجد حرام سے مسجد اقصی تک۔
یسر اصل میں یسری تھا۔ ی کو حذف کیا گیا ہے۔
Ayah 89:5(89:5) ہل فی ذلک قسم لذی حجر جملہ استفہام تقریری ہے۔ بمعنی بیشک اور قسم میں تنوین تعظیم کی ہے۔ یعنی بلاشبہ اشیاء مذکورہ کی قسم (عظیم الشان) کا فی ہے۔ کیونکہ جن چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے وہ بہت بڑی ہیں اللہ کی قدرت کی عجوبہ کاری اور حکمت کی ندرت کا ان سے پتہ چلتا ہے۔
ذی حجر۔ مضاف مضاف الیہ (بحالت جر) صاحب عقل، دانا ۔ یہ الحجر سے ہے۔ جس کے معنی سخت پتھر کے ہیں۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے :۔ فہی کا الحجارۃ او اشد قسوۃ۔ (2:74) گویا وہ پتھر ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت۔ الحجر والتحجیر کے معنی ہیں کسی جگہ پر پتھروں سے احاطہ کرنے کے۔ کہا جاتا ہے حجرتہ حجرا فہم محجور۔ اور جس جگہ کے اردگرد پتھروں سے احاطہ کیا گیا ہوا سے حجر کہا جاتا ہے۔ اس لئے حطیم کعبہ اور دیار ثمود کو حجر کہا گیا ہے۔ ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین (15:80) اور (وادی) حجر کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی۔
اور حجر (پتھروں سے احاطہ کرنا) سے حفاظت اور روکنے کے معنی لے کر عقل انسانی کو بھی حجر کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ وہ بھی انسان بےاعتدالیوں سے روکتی ہے۔ مثال کے لئے آیت زیر مطالعہ کو پیش رکھیں۔
فائدہ : ان آیات (89:1-4) کی تفسیر میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔ حتی کہ جفت و طاق کے بارے میں تو 36 اقوال ملتے ہیں۔ بعض روایات میں ان کی تفسیر رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب بھی کی گئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی تفسیر حضور ﷺ سے ثابت نہیں ہے ورنہ ممکن نہ تھا کہ صحابہ اور تابعین اور بعد کے مفسرین میں سے کوئی بھی آپ کی تفسیر کے بعد خود ان آیات کے تعین کرنے کی جرأت کرتا۔ (تفہیم القرآن جلد ششم حاشیہ زیر آیت 89:5) ۔
فائدہ : آیات 1 تا 4 میں مذکور قسموں کا جواب القسم محذوف ہے (1) لتبعثن ثم لتنبؤن بما عملتم (ایسر التفاسیر) (قسم ہے ان چیزوں کی) تم ضرور دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جاؤ گے۔ پھر تم کو تمہارے اعمال سے متنبہ کیا جائے گا۔
(2) جواب قسم مقدر ہے کہ منکروں کو ضرور سزا ہوگی۔ بعض کے نزدیک آیت 14 ۔ ان ربک لبالمرصاد۔ جواب القسم ہے ۔ کما فی الجلالین جس پر آئندہ کلام قرینہ ہے جس میں منکرین سابقین کی تعذیب کا ذکر ہے۔ (بیان القرآن) ۔
Ayah 89:6(89:6) الم تر : ہمزہ استفہامیہ انکاریہ ہے جب نفی پر داخل ہوتا ہے تو اسے اثبات میں بدل دیتا ہے ۔ کیونکہ جب نفی پرد اخل ہوا تو نفی ہوئی اور نفی کی نفی اثبات ہے۔ لم تر نفی جحد بلم کا صیغہ واحد مذکر حاضر (خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے) کیا تو نے (دل کی آنکھوں سے) نہیں دیکھا۔
ای الم تنظر بعینی قلبک کیف فعل ربک ۔۔ الخ (ایسر التفاسیر) کیا آپ نے اپنے دل کی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ یعنی آپ نے ضرور دیکھا ہوگا۔
علامہ سیوطی (رح) اپنی تفسیر الاتقان حصہ اول میں رقمطراز ہیں :۔ جب ہمزہ استفہام ” رأیت “ پر داخل ہوتا ہے تو اس حالت میں رؤیت کا آنکھوں یا دل سے دیکھنے کے معنی میں آنا ممنوع ہوتا ہے اور اس کے معنی اخبرنی (مجھے خبر دو ، مجھے بتاؤ) کے ہوتے ہیں۔
اکثر مفسرین نے اس کا تررجمہ ” کیا آپ نے نہیں دیکھا “ ہی کیا ہے۔
عاد سے مراد قوم عاد یا قبیلہ ہے۔ عاد حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم میں ایک شخص گزرا ہے جس کا سلسلہ نسب تین واسطوں سے حضرت نوح (علیہ السلام) سے جا ملتا ہے۔ اس کی نسل بھی اسی نام سے موسوم ہوئی۔ جو طوفان نوح کے بعد ملک عرب میں پہلی با اقتدار حکمران قوم تھی۔
Ayah 89:7(89:7) ارم ذات العماد۔ یہ عاد کا عطف بیان ہے اور اس کی وضاحے کرتا ہے یعنی وہ عاد جو قبیلہ ارم ستونوں والوں سے تھا۔
ارم کے متعلق لغات القرآن میں ہے :۔ اس کی تفسیر میں مفسرین کا اختلاف ہے لیکن زیادہ قرین صحت یہی ہے کہ یہ ایک قبیلہ کا نام ہے جو جد قبیلہ ارم بن سام بن نوح (علیہ السلام) کے نام پر رکھا گیا ہے ۔ عرب بائدہ میں سے عاد اولی اسی قبیلہ میں سے شمار کیا جاتا ہے چناچہ قرآن عظیم میں بعاد ارم ذات العماد میں عاد سے مراد عاد اولیٰ اور ارم سے ان کا قبیلہ مراد ہے۔
ارم۔ یا تو تانیث اور علمیت کی بنا پر غیر منصرف ہے یا علمیت اور عجمیت کی وجہ سے لہٰذا منصوب ہے۔
ذات العماد مضاف مضاف الیہ ۔ ستونوں والے۔ عماد جمع ہے عمادۃ کی بمعنی ستون۔
علامہ احمد فیومی المصباح میں لکھتے ہیں :۔ عماد وہ چیز ہے کہ جس کا سہارا لیا جائے۔ اس کی جمع عمد (بفیحین) ہے۔ امام راغب بھی یہی معنی لکھتے ہیں۔ چناچہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ فی عمد ممددۃ (104:9) (اس کے شعلے) لمبے لمبے ستونوں کی صورت میں ہونگے۔
آیات 6-7 کا ترجمہ ہوگا :۔ (اے مخاطب) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے قوم عاد سے یعنی قوم ارم ستونوں والی سے کیا کیا۔
تاج العروس میں ہے :۔ آیت شریفہ ارم ذات العماد میں بعض نے ” ذات العماد “ کے معنی درازقامت بیان کئے ہیں۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد مستونوں والی بلند عمارت والے ہیں۔ اور اس کی جمع عمید ہے۔
Ayah 89:8(89:8) التی لم یخلق مثلہا فی البلاد : یہ جملہ عاد کی صفت ہے یا ارم کی صفت ہے۔ چونکہ عاد سے قبیلہ عاد اور ارم سے قبیلہ ارم مراد ہے اس کی رعایت سے التی بصیغہ تانیث لایا گیا ہے۔
لم یخلق مضارع مجہول نفی جحد بلم۔ نہیں پیدا کیا گیا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب قبیلہ عاد اور ارم کے لئے ہے۔
البلاد : بلد کی جمع بمعنی شہر یا ملک۔ جس (قبیلہ) کی مثل (دنیا کے) ملکوں میں پیدا نہیں کیا گیا۔
Ayah 89:9(89:9) وثمود : واؤ عاطفہ، ثمود کا عطف عاد پر ہے۔ کیونکہ ایک قبیلہ کا نام ہے اس لئے تعریف اور تانیث کی وجہ سے غیر منصرف ہے لہٰذا منصوب آیا ہے۔
الذین جانوا الصخر بالواد۔ یہ ثمود کی صفت ہے اور (کیا کیا تیرے رب نے) ثمود کے ساتھ جو وادیوں میں پتھروں کو تراشتے تھے۔ ثمود حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کا نام ہے۔ فن سنگ تراشی اور تعمیر عمارات میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔ حضرت صالح کی اونٹنی کا واقعہ ان ہی کے ساتھ پیش آیا تھا۔
الذین اسم موصول ۔ جمع مذکر۔ جو۔ جو لوگ۔ وہ سب لوگ۔ وہ سب مرد۔ الذی کی جمع ہے۔ باقی جملہ اس کا صلہ ہے اور سارا جملہ ثمود کی صفت ہے۔
جابوا ماضی جمع مذکر غائب جوب (باب نصر) مصدر سے۔ انہوں نے تراشا وہ تراشتے تھے۔
الصخر : صخرۃ کی جمع ۔ سخت پتھر۔ الواد۔ اسم مفرد۔ الاودیۃ جمع اصل میں الوادی تھا۔ دو پہاڑوں کے درمیان کا میدان قتادہ کے نزدیک شقام کی ایک وادی (وادی القریٰ ) مراد ہے جو کہ میدنہ کے قریب بجانب شام ہے۔ یا وہ پہاڑی وادی مراد ہے جہاں وہ لوگ پتھروں کو تراش کر مکان نما غار بنا کر رہتے تھے۔
Ayah 89:10(89:10) و فرعون ذی الاوتاد۔ واؤ عاطفہ۔ فرعون بوجہ علت و عجمیت غیر منصرف ہے اور اس کا عطف بھی عاد پر ہے۔ ای الم ترکیف فعل ربک بعاد و فرعون ذی الاوتاد۔ (اے مخاطب) کیا تو نے دیکھا تمہارے رب نے (قوم) عاد سے کیا کیا۔ اور فرعون ذی الاوتاد سے کیا کیا۔
ذی الاوتاد مضاف مضاف الیہ مل کر فرعون کی صفت ہیں۔ چونکہ فرعون بوجہ معطوف عاد محل جر ہے اس کی صفت اعراب میں اس کے مطابق ہوگی۔ لہٰذا ذی بمعنی والا۔ صاحب ، بحالت جر ہے۔
اوتاد۔ جمع ہے وتد کی بمعنی میخیں۔ ذی الاوتاد بمعنی میخوں والا۔ کی تفسیر میں مفسرین کے متعدد اقوال ہیں :۔
(1) اوتاد۔ لشکروں کو کہتے ہیں۔ کیونکہ حکومت و سلطنت کی یہی میخ ہوتی ہیں۔ یہی ابن عباس کا قول ہے۔
(2) یہ کہ اس قدر گھوڑے اور خمیے تھے کہ بیشمار میخیں ساتھ چلا کرتی تھیں گھوڑے باندھنے کے لئے اور خمیے گاڑنے کے لئے۔
(3) یہ کہ وہ موذی (فرعون) ایمان والوں کو چومیخا کرتا تھا اس لئے میخیں رکھ چھوڑی تھیں۔
مجاہد اور مقاتل بن حبان نے کہا کہ آدمی کو زمین پر چت لٹا کر ہاتھ پاؤں سیدھے کرکے ان میں میخیں ٹھونک دیتا تھا۔
Ayah 89:11(89:11) الذین طغوا فی البلاد : الذین۔ اسم موصول جمع مذکر۔ جنہوں نے ۔ ان سب نے۔ (یعنی عاد وثمود و فرعون نے)
طغوا۔ ماضی جمع مذکر غائب طغیان (باب نصر، سمع) مصدر سے بمعنی انہوں نے سرکشی کی۔ وہ حد سے گزر گئے۔ جنہوں نے ملکوں میں سرکشی کی حد کردی۔ یہ جملہ عاد وثمود اور فرعون کی صفت ہے۔
Ayah 89:12(89:12) فاکثروا فیہا الفساد :عاطفہ ہے۔ اور انہوں نے ان ملکوں میں بڑا ہی فساد مچا رکھا تھا۔
Ayah 89:13(89:13) فصب علیہم ربک سوط عذاب :سببیہ۔ بسبب ان کی اس سرکشی کے۔
صب : ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ صب مصدر۔ لازم اور متعدی دونوں طرح مستعمل ہے۔
پہلی صورت میں بہانے کے معنی ہوں گے ۔ اور اس کا فعل باب نصر سے آئے گا۔ دوسری صورت میں بہنے کے معنی ہوں گے۔ اور فعل باب ضرب سے آئے گا۔ قرآن مجید میں یہ متعدی ہی استعمال ہوا ہے۔ اس نے اوپر سے بہایا۔ اس نے اوپر سے ڈالا۔
سوط عذاب میں صفت کی اضافت موصوف کی جانب ہے۔ اصل میں عذاب سوط تھا۔ سوط کا اصل لغوی معنی ہے مخلوط کردینا۔ کوڑے میں مختلف بل مخلوط ہوتے ہیں۔ اسی لئے اس کو سوط کہتے ہیں آخرت کے عذاب کے مقابلہ میں دنیا کا عذاب ایسا ہے جیسے تلوار کے مقابلہ میں کوڑا۔ اسی لئے دنیوی عذاب کو کوڑے سے تشبیہ دی۔
ترجمہ :۔ پس آپ کے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ یعنی طرح طرح کا عذاب ان پر نازل کیا۔
Ayah 89:14(89:14) ان ربک لبالمرصاد : بعض کے نزدیک یہ ان قسموں کا جو آیات 1 تا 4 میں مذکور ہیں جواب ہے۔ اس صورت میں درمیانی کلام کلام معترضہ ہوگی۔
ترجمہ ہوگا :۔ قسم ہے (ان چیزوں کی یا امور کی جو آیات 1 تا 4 میں مذکور ہیں کہ) بیشک تیرا رب گھاٹ لگائے ہوئے ہے۔
صاحب تفہیم القرآن اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔
ظالموں اور مفسدوں کی حرکات پر نگاہ رکھنے کے لئے گھات لگائے ہوئے ہونے کے الفاظ تمثیلی اور استعارے کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ گھات اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی شخص کسی کے انتظار میں اس غرض سے چھپا بیٹھا ہوتا ہے کہ جب وہ زد پر آئے تو اسی وقت اس پر حملہ کر دے۔ وہ جس کے انتظار میں بیٹھا ہوتا ہے اسے کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ اس کی خبر لینے کے لئے کون کہاں چھپا پوا ہے انجام سے غافل، بےفکری کے ساتھ وہ اس مقام سے گزرتا ہے اور شکار ہوجاتا ہے۔
یہی صورت حال اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں ان ظالموں کی ہے جو دنیا میں فساد کا طوفان برپا کئے رکھتے ہیں۔ انہیں اس کا کوئی احساس ہی نہیں ہوتا کہ خدا بھی کوئی ہے جو ان کی حرکات کو دیکھ رہا ہے وہ پوری بےخوفی کے ساتھ روز بروز زیادہ سے زیادہ شرارتیں کرتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ حد آجاتی ہے جس سے آگے اللہ تعالیٰ انہیں بڑھنے نہیں دینا چاہتا اسی وقت ان پر اچانک اس کے عذاب کا کوڑا برس جاتا ہے۔
المرصاد۔ ظرف مکان۔ مفرد، جمع مراصد۔ گھات لگانے کی جگہ۔ ان ربک لبالمرصاد۔ بیشک تیرا رب گھات میں ہے۔ مطلب یہ کہ جس طرح گھات لگا کر مخفی مقام پر بیٹھنے والے سے ادھر سے گزرنے والا دشمن بچ کر نکل نہیں سکتا۔ اور گھات لگانے والے سے دشمن مخفی نہیں رہ سکتا ۔ اسی طرح درپردہ اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندوں کے تمام اعمال سے واقف اور باخبر ہے اس سے بچ کر۔ چھپ کر کوئی شخص راہ زندگی طے نہیں کرسکتا۔ لبالمرصاد میں لام تاکید کے لئے ہے۔
Ayah 89:15(89:15) فاما الانسان اذا ما ابتلہ ربہ :حرف عطف ہے اما حرف شرط سے۔ اور اکثر حالات میں تفصیل کے لئے آتا ہے۔ اور کبھی تاکید کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور یہاں تاکید کے لئے مستعمل ہے۔
اور جو انسان ہے، لیکن انسان ایسا ہے۔ مگر انسان ہے کہ ۔۔
اذا شرطیہ اور ما زائدہ ہے۔
ابتلہ : ابتلی، ماضی واحد مذکر غائب۔ ابتلاء (افتعال) مصدر۔ بمعنی آزمانا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ الانسان کے لئے ہے۔ لیکن انسان ایسا ہے کہ اس کا پروردگار اس کو آزماتا ہے۔
فاکرمہبمعنی پھر۔ پس اکرمہ : اکرم ماضی واحد مذکر غائب اکرام (افعال) مصدر سے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب انسان کے لئے ہے۔ پھر اس کو (آزمائش کے لئے) عزت بخشتا ہے۔
ونعم اور اس کی نعمت عطا کرتا ہے۔
فیقول ربی اکرمن :جواب شرط کے لئے ہے۔ اکرم ماضی واحد مذکر غائب۔ ن وقایہ، ی ضمیر واحد متکلم محذوف۔ تو کہتا ہے کہ اس نے مجھے عزت بخشی (کیونکہ وہ برے اعمال پر خوش ہے) ۔
Ayah 89:16(89:16) واما اذا ما ابتلہ۔ اور جب وہ اس کو (اور طرح) آزماتا ہے۔
فقدر علیہ رزقہ۔ اور اس پر روزی تنگ کردیتا ہے قدر ماضی واحد مذکر غائب قدر (باب نصر، ضرب) مصدر سے ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم (محذوف) اس نے میری اہانت کی۔ اس نے مجھے ذلیل کیا۔
فائدہ : انسان کا یہ حال ہے کہ وہ رات دن حصول دنیا اور اس کی لذات و شہوات میں مشغول ہے۔ اگر دنیا میں دولت و راحت مل گئی تو کہنے لگا میرا خدا مجھ سے خوش ہے جب ہی تو اس نے مجھے عزت دی ہے اور جو تنگ دستی یا تکلیف پیش آگئی تو کہنے لگا کہ خدا ناراض ہے جبھی تو اس نے مجھے ذلیل کر رکھا ہے۔
گویا خادند تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کا عزت و اکرام حصول دولت اور راحت دنیا پر منحصر جانا۔ اور اس کی ناراضگی اور توہین کو دنیاوہ فقر و فاقہ اور تکالیف پر مضمول کیا۔
یہ اس کا خیال باطل ہے کیونکہ دنیا کی راحت و نعمت اور اسی طرح افلاس و فقر، بیماری و خواری اس کی آزمائش ہے کہ نعمت و راحت پاکر کیسی شکر گزاری ووفاداری کرتے ہیں اور مصیبت میں کیونکر صبر کرتے ہیں ۔ (تفسیر حقانی)
Ayah 89:17(89:17) کلا۔ حرف ردع وزجر (ذانٹ ، جھڑک) اور کسی کام سے روکنے کے لئے آتا ہے) ہرگز نہیں َ یعنی جیسا کہ انسان نعمت و راحت اور تنگ دستی و تکلیف کا معیار عزت افزائی و توہین خیال کرتا ہے ایسا نہیں ہے۔
بل لا تکرمون الیتیم : بل حرف اضراب ہے ماقبل کے ابطال اور مابعد کی تصحیح کے لئے آیا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ بات یوں نہیں کہ فقیر رکھ کر اللہ تمہاری بےعزتی کرتا ہے بلکہ اس نے تو تم کو مال عطا فرما کر تم کو نوازا ہے مگر تم یتیم کو نہیں نوازتے اس کی پاسداری نہیں کرتے نہ اس سے محبت کرتے ہو نہ اس پر خرچ کرتے ہو۔
ترجمہ :۔ بلکہ (بات یہ ہے کہ) تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔
فائدہ : تکرمون (آیۃ 17) تحاضون (آیۃ 18) تاکلون (آیۃ 19) اور یحبون (آیۃ 20) میں جمع حاضر کے صیغے آئے ہیں اور ان کی ضمیریں انسان کی طرف راجع ہیں کیونکہ جنس انسان مراد ہے ایک انسان مراد نہیں ہے۔ لیکن لفظ انسان مفرد ہے اس لئے ابتلہ ، اکرمہ، نعمہ، یقول (آیۃ 15) کی مفرد ضمیریں بھی اسی کی طرف راجع کی گئی ہیں۔
Ayah 89:18(89:18) ولا تحضون علی طعام المسکین۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے لا تحضون مضارع منفی کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ محاضۃ (مفاعلۃ) مصدر سے تم باہم ایک دوسرے کو رغبت نہیں دلاتے ہو۔ (اس کا مفعول محذوف ہے) ۔
علی طعام المسکین : مسکین کو کھانا کھلانے کی۔
Ayah 89:19(89:19) التراث۔ میراث، مردے کا مال۔ اصل میں وراث تھا۔ واؤ کو ت سے بدل لیا گیا ہے۔
اکلا مفعول مطلق تاکید کے لئے لایا گیا ہے یہ موصوف ہے اور لما اس کی صفت ہے اور میراث کا سارا مال چٹم کر جاتے ہو۔
علامہ قرطبی فرماتے ہیں :۔ وکان اہل الشرک لا یورثون النساء ولا الصبیان بل یاکلون میراثہم مع میراثھم۔ یعنی مشرکین بچوں اور عورتوں کو ورثہ میں سے کچھ نہ دیتے تھے بلکہ ان کے حصے کو بھی اپنے حصہ کے ساتھ ملا کر ہڑپ کر جاتے تھے۔
لما۔ جمعا۔ اصل اللمم فی کلام العرب الجمع ۔ یقال لممت الشیء المہ لما اذا جمعتہ۔ ترجمہ : لما کا معنی ہے جمع کرنا۔ کلام عرب میں لمم کا مادہ اسی مفہوم پر دلالت کرتا ہے ۔ جب تو کسی چیز کو جمع کرے گا اور سمیٹ لے گا تو تو کہے گا لمت الشیء المہ لما۔ (تفسیر ضیاء القرآن)
لما مصدر ہے۔ لم یلم لما (باب نصر) اپنا اور دوسروں کا حصہ کھا لینا۔
Ayah 89:20(89:20) وتحبون المال حبا جما۔ اس کا عطف بھی جملہ مذکورہ بالا پر ہے۔ حبا۔ مفعول مطلق۔ فعل کی تاکید میں لایا گیا ہے۔ موصوف۔ جما اس کی صفت بیحد۔ بہت جی بھر کر۔ مصدر ہے۔ ہر شے کی کثرت اور زیادتی کے لئے آتا ہے۔ اور تم دولت سے بیحد محبت کرتے ہو۔
Ayah 89:21(89:21) کلا اذا دکت الارض دکا دکا : کلا حرف ردع اور زجر ہے۔ ہرگز نہیں۔ یہ مذکورہ حرکتوں سے باز داشت ہے۔
مقاتل نے کہا (یہ نفی ہے یعنی) جو حکم ان کو دیا گیا ہے یہ اس کی تعمیل نہیں کریں گے یا بعد والے کلام کی تحقیق کیلئے ہے۔ یعنی جس وعید عذاب اور ان کے حسرت و افسوس کا بیان بعد والی آیات میں کیا گیا ہے اس سے شک کو دور کرنے کیلئے لفظ کلا استعمال کیا گیا ہے۔
اذا۔ ظرف امزن۔ جب۔ دکت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب۔ دک (باب نصر) مصدر سے۔ دک بمعنی ریزہ ریزہ کرنا۔ ڈھا کر برابر کرنا۔ کوٹ کوٹ کر برابر کرنا۔
دک اصل میں نرم اور ہموار زمین کو کہتے ہیں اور چونکہ نرم اور ہموار زمین ریزہ ریزہ ہوتی ہے۔ اسی لئے اسی مناسبت سے اس کے مصدر کے معنی مقرر ہوئے۔
دکا مصدر منصوب فعل کی تاکید کے لئے لایا گیا ہے دوسری بار دکا مزید تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔
ترجمہ :۔ جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔
Ayah 89:22(89:22) وجاء ربک والملک صفا صفا : واؤ عاطفہ جاء کا عطف دکت پر ہے۔ صفا صفا الملک سے حال ہے۔ الملک میں الف لام جنسی ہے یعنی ملائکہ۔
ترجمہ :۔ اور جب تیرا پروردگار جلوہ افروز ہوگا اور فرشتے قطار اندر قطار حاضر ہوں گے۔
صفا یہ اصل میں صف یصف (باب نصر) کا مصدر ہے جس کے معنی قطار باندھنے کے آتے ہیں۔ اور خود قطار کے معنی میں بھی بطور اسم مستعمل ہے صف بمعنی اسم فاعل صاف (قطار باندھنے والا) بھی آتا ہے۔ جیسے وانا لنحن الصافون (37:165) اور ہم جو ہیں سو ہم ہی ہیں قطار باندھنے والے۔
Ayah 89:23(89:23) وجاء یومئذ بجھنم : واؤ عاطفہ، جای ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ مجیء (باب ضرب) مصدر سے۔ اذ مضاف الیہ۔ اس دن۔ اس جملہ کا عطف بھی دکت پر ہے۔ اور اس دن جہنم کو سامنے لایا جائے گا۔
یومئذ اس دن ۔ یہ ما قبل کے یومئذ سے بدل ہے۔
یتذکر الانسان : یتذکر مضارع واحد مذکر غائب تذکر (تفعل) مصدر وہ نصیحت پکڑتا ہے۔ اس کے چند ایک تراجم حسن ذیل ہیں :۔
(1) اس دن انسان سمجھے گا۔ (تفسیر حقانی)
(2) اس دن انسان کو سمجھ آئے گا۔ (ضیاء القرآن)
(3) اس روز انسان کو مسجھ آوے گی۔ (بیان القرآن)
(4) اس روز انسان کو سمجھ آئے گی۔ (تفہیم القرآن)
(5) ای یتذکر معاصیہ او یتعظ لانہ یعلم قبحھا فیندم علیہا یعنی اسنان اپنے گناہوں کو یاد کرے گا یا نصیحت قبول کرے گا۔ کیونکہ وہ ان گناہوں کی قباحت سے متنبہ ہوجائے گا اور ان پر ندامت محسوس کرے گا۔ (بیضاوی)
(6) ای یتعظ الکافر ویتوب : یعنی کافر نصیحت پکڑے گا اور توبہ کرے گا۔ (الخازن)
(7) یتوب : توبہ کرے گا۔ (رازی)
مطلب یہ کہ : قیامت کے دن انسان اپنے گناہوں سے توبہ کرے گا جو اس نے دنیا میں کئے ہوں گے اور نادم ہوگا۔ کیونکہ اس کو معلوم ہوجائے گا کہ انبیاء اللہ نے اسے جو خبر دی تھی وہ برحق تھی اور اس کی اپنی سرکشی اور نامفرمانی سراسر گمراہی۔ وہ اپنے کئے پر توبہ کرنا چاہے گا لیکن بےفائدہ۔
الانسان سے مراد یہاں وہی کافر انسان ہے جو دنیوی سکھ میں ربی اکرمن اور دکھ میں ربی اکرمن کہا کرتا تھا۔ (آیات 15 - 16) ۔ وانی لہ الذکری۔ جملہ فاعل یتذکر سے حال ہے انی۔ کیسے۔ کیونکر اسم ظرف ہے۔ زمان و مکان دونوں کے لئے آتا ہے۔ ظرف زمان ہو تو متیٰ (کب) کے معنی دیتا ہے اور اگر ظرف مکان ہو تو این (کہاں، جہاں) کے معنی دیتا ہے۔ اور اگر استفہامیہ ہو تو کیف (کیسے، کیونکر) کے معنی دیتا ہے جیسے کہ آیت ہذا میں ہے۔
جملہ استفہام انکاری ہے۔ یعنی اس بعد از وقت ندامت سے اور توبہ سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ توبہ کی شرط تو ایمان بالغیب ہے قیامت کے ظہور کے بعد تو غیب نہ رہا سامنے دیکھ کر تو ہر ایک کو ہی ماننا پڑیگا۔
الذکری : ذکر یذکر (باب نصر) کا مصدر ہے کثرت ذکر کے لئے۔ ذکری بولا جاتا ہے۔ یہ ذکر سے زیادہ بلیغ ہے نصیحت کرنا۔ ذکر کرنا۔ یاد ۔ پند، موعظت، (اب نصیحت پکڑنے یا توبہ کرنے کا کیا فائدہ۔
Ayah 89:24(89:24) یقول یلیتنی قد مت لحیاتی۔ یہ یتذکر کی تفسیر ہے۔ کافر انسان دنیا میں اپنے کفر اور سرکشی پر قیامت کے روز ندامت اور حسرت محسوس کرتے ہوئے کیا کہے گا۔
یلیتنی ۔۔ لحیاتی مقولہ مفعول ہے یقول کا۔ یعنی وہ یہ کہے گا۔ یاء حرف ندا ہے۔ اے۔
لیت حرف مشبہ بالفعل ہے اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے۔ تمنا کے لئے مستعمل ہے کاش ! نی اسم۔ اے کاش ! میں ۔۔
قدمت۔ ماضی واحد متکلم تقدیم (تفعیل) مصدر سے۔ میں نے آگے بھیجا۔ میں آگے بھیجتا۔
حیاتی : مضاف مضاف الیہ۔ میری زندگی۔ میری حیات۔
ترجمہ ہوگا :۔ اے کاش ! میں اپنی اس زندگی کے لئے (کچھ) آگے بھیجتا۔
بعض نے لام کو بمعنی فی لیا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اے کاش میں اپنی (دنیاوی) زندگی میں اعمال صالحہ کرکے پہلے ہی (اس لازوال زندگی کے لئے) آگے بھیجتا۔
Ayahs 89:25–26(89:25-26) فیومئذ لایعذب عذابہ احد ۔ ولا یوثق وثاقۃ احد۔ سو اس دن نہ کوئی اس کے عذاب کی طرح کا (کسی کو) عذاب دے گا اور نہ کوئی اس کے جکڑنے کی طرح (کسی کو) جکڑے گا۔
یومئذ : اس روز۔ لا یعذب اور لا یوثق کا ظرف زمان ہے۔ لا یعذب مضارع منفی صیغہ واحد مذکر غائب۔ اور لایوثق مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ ایثاق (افعال) مصدر۔ وہ نہیں جکڑتا ہے۔ وہ نہیں جکڑے گا۔
عذابہ اور وثاقہ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔
تفسیر ایسر التفاسیر میں لکھا ہے : ۔ ای لا یعذب مثل عذاب اللہ احد فی قوتہ وشدتہ ولا یوثق احد مثل وثاق اللہ عزوجل۔ یعنی قوت اور شدت میں اللہ کے عذاب کی طرح کوئی عذاب نہیں دے گا۔ اور نہ کوئی اللہ عزوجل کی جکڑ کی مانند جکڑے گا۔
Ayah 89:27(89:27) یایھا النفس المطمئنۃ : اس جگہ یقال محذوف ہے، یہ جملہ مستانفہ ہے۔ گویا ایک فرضی سوال کا جواب ہے۔ سوال پیدا ہوسکتا تھا۔ کہ کافر کی حالت تو مندرجہ بالا آیات سے واضح ہوگئی۔ مگر مومن کی کیا حالت ہوگی ؟ جواب ہے کہ اس سے کہا جائیگا یایتھا ۔۔ (تفسیر مظہری) ۔
یاء حرف نداء ہے ای (مذکر) ایۃ (مؤنث) بمعنی اے۔ بحالت ندا۔ منادی معرف باللام کو حرف ندا سے ملاتا ہے۔
ھا حرف تنبیہ ہے جو ای اور ایۃ اور ان کے بعد کے اسم معرف باللام کے درمیان فصل کے لئے مستعمل ہوتا ہے۔ مذکر صیغہ کی صورت میں اس کی شکل یایھا الرجل ہوگی اور مؤنث کی صورت میں یایتھا النفس (آیت زیر مطالعہ) ہوگی ! نفس جی۔ شخص، (مؤنث آتا ہے) موصوف ہے۔
المطمئنۃ : اطمینان (افعیلال) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث قطعی سکون پانے والا۔ طمانیت اور اطمینان ۔ وہ سکون اور ٹھہراؤ جو مشقت اور کوفت کے بعد حاصل ہو ایمان کے بعد ایک مرتبہ سکون قلب کا آتا ہے جس کے حصول کے بعد کوئی شبہ اور وسوسہ ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جس کو صوفیاء کی اصطلاح کے مطابق اگر عین الیقین کا درجہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
علماء نے اس کے کئی معانی بیان کئے ہیں :۔
(1) اللہ کے رب ہونے کا یقین رکھنے والا۔ (مجاہد)
(2) ایمان اور یقین رکھنے والا۔ (حسن بصری)
(3) اللہ کے حکم پر راضی۔ (عطیہ)
(4) اللہ کے عذاب سے محفوظ۔ (کلبی)
(5) اللہ کی یاد سے سکون پانے والا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے :۔ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (13:28) اور سن رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں۔ یایتھا النفس المطمئنۃ : اے نفس مطمئنہ۔
Ayah 89:28(89:28) ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ : ارجعی فعل امر واحد مؤنث حاضر رجوع (باب ضرب) مصدر سے۔ تو واپس آ۔ اپنے رب کی طرف۔ رضیۃ : یہ ارجعی کے فاعل سے حال ہے۔ رضی سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث۔ راضی، خوش۔
مرضیۃ : رضی سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مؤنث۔ پسند کی ہوئی۔ راضی کی ہوئی۔ خوش کی ہوئی۔ یعنی تو اللہ کی دادودہش و عنایات پر خوش ہونے والی۔ اور اللہ کی طرف سے وادودہش سے خوش کی ہوئی۔ یہ بھی ارجعی کے فاعل سے حال ہے۔
Ayah 89:29(89:29) فادخلی فی عبدی :سببیہ ہے کیونکہ اطمینان نفس اور نفس راضیۃ مرضیۃ ہونا ہی خالص عبدیت کے حسول اور باطل الوہیت نفسانی کی رسی سے گلو خلاصی اور شیطان وسوسوں سے نجات مل جانے کا سبب ہے۔
ادخلی۔ فعل امر واحد مؤنث حاضر۔ دخول (باب نصر) مصدر سے۔ تو داخل ہوجا۔
فی عبدی : میرے بندوں میں۔ (اے نفس مطمئنہ) تو داخل ہوجا میرے بندوں میں یہ وہی نیک بندے تھے جن میں داخل ہونے کی دعا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کی تھی۔ عرض کیا تھا۔ وادخلنی برحمتک فی عبادک الصلحین (27:19) اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھی ان ہی کے ساتھ شامل ہونے کے لئے عرض کیا تھا۔ توفنی مسلما والحقنی بالصلحین (12:101) ۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 89:30(89:30) وادخلی جنتی۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اور میری جنت میں داخل ہوجا۔