89. Surah Al-Fajr

الفجرThe Dawn · 30 ayahsسراج البیان

Ayahs 89:1–14

وَ الْفَجْرِۙ Open ayah 89:1 in the Quran reader

قسم ہے (عید قربان کی) (ف 1) فجر کی

وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ Open ayah 89:2 in the Quran reader

اور ذی الحجہ کی پہلی دس راتوں کی

وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ Open ayah 89:3 in the Quran reader

اور جفت (یوم ترویہ او یوم عرفہ) اور طاق (یوم عیدالاضحی) کی

وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِۚ Open ayah 89:4 in the Quran reader

اور رات کی جب گزرنے لگے (حاجی) میدان مزدلفہ میں

هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍؕ Open ayah 89:5 in the Quran reader

کیا ان چیزوں میں عقل مندوں کے لئے پوری قسم ہے

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ Open ayah 89:6 in the Quran reader

کیا تونے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کیساتھ کیا کیا

اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۪ۙ Open ayah 89:7 in the Quran reader

(یعنی) عاد اور ارم ستونوں والے کے ساتھ

الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:8 in the Quran reader

وہ ارم کہ ان کی مانند شہروں میں پیدا نہیں ہوئے

وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۪ۙ Open ayah 89:9 in the Quran reader

اور ثمود کے ساتھ کیا (کیا کیا) جنہوں نے وادی میں پتھر تراشے

وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۪ۙ Open ayah 89:10 in the Quran reader

اور فرعون میخوں والے کے ساتھ کیا کیا

الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:11 in the Quran reader

یہ سب وہ تھے جنہوں نے شہروں میں سر اٹھایا

فَاَكْثَرُوْا فِیْهَا الْفَسَادَ۪ۙ Open ayah 89:12 in the Quran reader

پھر ان میں بہت فساد مچایا

فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ Open ayah 89:13 in the Quran reader

پھر تیرے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا چلایا

اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ Open ayah 89:14 in the Quran reader

بیشک تیرا رب گھات میں ہے

سورة الفجر 1: اس سورت میں قسموں کے انداز میں شواہد کو پیش فرمایا ہے اور دلائل کا ذکر کیا ہے ۔ اسی واسطے فرمایا ہے ۔ ھل فی ذلک قسم لذی حجر ۔ کہ اس میں عقلمندوں اور غوروفکر کرنے والوں کے لئے ایک بین دلیل ہے ۔ اس لئے مقام اور موقع کے لحاظ سے زیادہ موزوں یہ ہے کہ یہاں الفجر سے مراد فجر قیامت ہو اور دس راتوں سے مراد وہ دس راتیں ہوں جن میں نافرمان قوموں پر عذاب بھیجا گیا اور الشفع والوتر حسوما اور الیل اذیسر ۔ غرض ہر وہ رات ہے جو معذب قوموں پر آتی ہے ۔ اس نہج سے یہ دعوی ان ربک لبا لمرصاد بالکل درست اور صحیح ثابت ہوگا ۔ یعنی ان معذب قوموں کی تاریخ پڑھو اور ان کے حالات کا مطالعہ کرو ۔ تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جب بھی انہوں نے اللہ کے احکام کی نافرمانی کی ۔ اس کا غضب ان پر نازل ہوا اور ان کو صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا ۔ حل لغات :۔ قسم ۔ لوٹنا ۔ رجوع کرنا ذات العھاد ۔ بالاقد ذی الاوتاد ۔ میخوں والا ۔ صاحب حشم وجاہ ۔
Ayahs 89:15–29

فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِؕ Open ayah 89:15 in the Quran reader

سو جو انسان ہے (اس کا حال یہ ہے کہ) اس کا رب آزماتا اور اس کو عزت اور نعمت دیتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے ربے مجھے (ف 1) بزرگی دی

وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِۚ Open ayah 89:16 in the Quran reader

اور جو اسے آزمائے اور اس کا رزق اس پر تنگ کرے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کیا

كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 89:17 in the Quran reader

ہرگز نہیں بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے

وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِۙ Open ayah 89:18 in the Quran reader

اور ایک دوسرے کو فقیر کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتے

وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ Open ayah 89:19 in the Quran reader

اور تم مردے کا سامان سمیٹ سمیٹ کر کھاجاتے ہو

وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ Open ayah 89:20 in the Quran reader

اور مال سے بڑی محبت رکھتے ہو

كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ Open ayah 89:21 in the Quran reader

ہرگز نہیں جب زمین ریزہ ریزہ توڑی جائے گی

وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ Open ayah 89:22 in the Quran reader

اور تیرا رب آئے گا اور فرشتے قطار قطار آئیں گے

وَ جِایْٓءَ یَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ یَوْمَئِذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 89:23 in the Quran reader

اور اس دن دوزخ لائی جائے گی ۔ اس دن آدمی نصیحت پکڑے گا اور اسے نصیحت پکڑنا کہاں ملے گا

یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ Open ayah 89:24 in the Quran reader

کہے گا کاش کہ میں اپنی زندگی کے لئے کچھ آگے بھیجتا

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ Open ayah 89:25 in the Quran reader

پھر اس دن اللہ کے عذاب کے برابر کوئی عذاب نہ کریگا

وَّ لَا یُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 89:26 in the Quran reader

اور جیسا وہ زنجیروں میں جکڑے گا ایسا کوئی نہ جکڑے گا

یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُۗۖ Open ayah 89:27 in the Quran reader

اسے تسلی پانے والی جان !

ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ Open ayah 89:28 in the Quran reader

اپنے رب کی طرف لوٹ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی

فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ Open ayah 89:29 in the Quran reader

پھر میرے بندوں میں داخل ہو

انسانی تنگ ظرفی 1: قرآن حکیم کی خصوصیت ہے کہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں انسانی نفسیات تک پر بحث کی گئی ہے اور بتایا ہے کہ اس کی لغزش اور گمراہی کے منابع کون کون ہیں ۔ فرمایا کہ انسان کا دل اتنا چھوٹا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس کو مال و دولت سے نوازتے ہیں تو پھر یہ آپے میں نہیں سماتا ۔ تبخیر اور غرور می ڈوب جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھ پر میرے رب کا بڑا فضل ہے اور جب مال و دولت کو چھین لیتا ہے اور تنگی اور عسرت سے بسر ہونے لگتی ہے تو بےقرار ہوکر کہہ اٹھتا ہے کہ خدا نے میری بڑی توہین کی ہے ۔ گویا مال و دولت کے وقت اس نے اس کا صحیح استعمال کیا تھا ۔ اور اب چھن جانے پر اس درجہ متاسف ہے ۔ حالانکہ جب اس کے پاس سرمایہ تھا ۔ اس وقت یہ نفس کی ضروریات کو پورا کرتا تھا ۔ مگر مسکینوں اور حاجت مندوں کو کھانا کھلانے کی توفیق اسے کبھی مرحمت نہیں ہوئی ۔ بلکہ اس حرص وآز کی کیفیت یہ تھی کہ جو پاتا اور جہاں پاتا کھاجاتا ۔ اور اس میں جائز وناجائز کی کوئی تمیز روا نہ رکھتا اور دولت کا تو اسے عشق تھا ۔ حالانکہ یہ چاہیے تھا کہ دولت کے وقت حد سے زیادہ خوش نہ ہوتا اور اس کو اللہ کی امانت سمجھ کر مستحقین میں صرف کرتا اور جب اللہ تعالیٰ دولت سے محروم کردیتے ۔ اس وقت صبر اور شکر سے کام لیتا اور قناعت اختیار کرتا ۔ واضح رہے کہ اسلامی نقطہ نگاہ سے مال و دولت کی محبت اگر اندازے کے مطابق ہو تو ممنوع نہیں ۔ بلکہ بعض حالات میں ضروری ہے ۔ اگر اندازے سے زیادہ ہو اور بےجا غرور اور خواہشات نفس کی تکمیل کے جذبات پیدا کردے تو ناجائز اور ممنوع ہے ۔ فی نفسہٖ یہ چیز نہ بری ہے اور نہ اچھی ۔ اس کا اچھا استعمال محمود ہے اور برا استعمال مذموم ۔ فرمایا کہ منکرین یہاں سیم وزر کے انباروں پر نازوکبر کا اظہار کررہے ہیں ۔ مگر انہیں معلوم نہیں کہ قیامت کے دن جب فرشتے اس کے حضور میں صف بستہ کھڑے ہوں گے ۔ اس وقت ان کو احساس ہوگا کہ اے کاش دنیا میں ہم نے یہاں کے لئے کچھ بھیجا ہوتا ۔ حل لغات :۔ فقدرعلیہ رزقہ ۔ روزی کو اس پر تنگ کردیتا ہے اکلالما ۔ یعنی سارے کا سارا کھاجاتے ہو ۔ لم کے معنی جمع کرنے کے ہیں ۔ شئی ملموم ای مجموع ۔
Ayah 89:30

وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠ Open ayah 89:30 in the Quran reader

اور میرے بہشت (ف 1) میں داخل ہو

ف 1: وہاں نصیحت اور عبرت بالکل بےکار اور عبث ہوگی کہ وہ مقام مقام احتساب ہے ، مقام تذکیر وعمل نہیں ۔ اس کے بعد اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کی روح دنیا میں بھی بلندرہتی ہے اور طمع اور آلودگیوں سے ملوث نہیں ہوتی ۔ اور باوجود اس کے کہ افلاس اور معصیت کے طوفان اٹھتے ہیں ۔ مگر ان کا نفس اطمینان کے جس نشیمن پر متمکن ہوتا ہے ، وہاں سے نیچے نہیں اترتا ۔ ان مطمئن نفوس کو کہا جائے گا کہ جاؤ تمہارے لئے مقام رضا و خوشنودی ہے ۔ تم میرے بندوں میں داخل ہوجاؤ اور میری جنت میں رہو بسو ۔ فادخلی فی عبدی سے غرض یہ ہے کہ انسان بلند ترین مقامات پر پہنچنے کے بعد بھی دائرہ عبودیت سے نہیں نکلتا اور روحانیت کے انتہائی ارتقاء میں بھی اس کا چاکر اور غلام ہی رہتا ہے ۔